عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, August 20,2019 | 1440, ذوالحجة 18
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
یہ نظام پہلے بھی شرک تھا، آج بھی شرک ہے
:عنوان

:کیٹیگری
ادارہ :مصنف

Download in PDF Format

 
بہ سلسلہ تعارف: ہماری نئی تالیف:
”یہ وہی انگریزی نظام ہے مگر اب یہ ’اسلامی‘ بھی ہے!“
یہ نظام 
پہلے بھی شرک تھا، آج بھی شرک ہے
ادارہ

   
 
اس نظامِ شرک کو مسترد کرنا ہمارے پیش نظر صرف اس لئے ہے کہ یہ ہمارے دین کے اصل الاصول سے متصادم ہے۔۔۔۔
حکم دینا اور قانون صادر کرنا ہمارے دین کی رو سے صرف اور صرف اللہ احکم الحاکمین کا حق ہے:
وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا  (الکہف:26 )
”اور وہ اپنے فیصلہ میں کسی کو شریک نہیں کرتا“
انسانوں کو اس کے احکامات ’پاس‘ نہیں کرنے بلکہ نہایت عاجزی سے اس کی اطاعت اور اس کے احکامات کی فرمانبرداری کرنی ہے۔ وہ جو حرام ٹھہرا دے وہ حرام ہے۔ شرعاً بھی حرام ہے اور قانوناً بھی۔ کیونکہ اسلام میں شریعت ہی قانون ہے۔۔ اور کسی بھی اضافی شرط کے بغیر قانون ہے۔ شریعت انسانوں کے ہاتھوں پاس ہو کر قانون کا درجہ نہیں پاتی بلکہ جب یہ خدا کے ہاں سے نازل ہوتی ہے تو اس کو یہ سب درجات اور مراتب خدا کی طرف سے حاصل ہوتے ہیں۔ رسول پر اگرکچھ اترتا ہے تو وہ اسی لیے اترتا ہے کہ غیر مشروط طور پر اس کی اطاعت ہو:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِِ (النساء: 64)
اور نہیں بھیجتے ہم کوئی بھی رسول مگر اس لئے کہ اطاعت ہو اس کی، اللہ کے حکم سے“
نہایت واضح ہو، رسول پر جو اترتا ہے وہ محض ’مذہبی جائز و ناجائز‘ نہیں ہوتا۔ اسلام میں ’مذہبی جائز وناجائز‘ اور ’قانونی جائز وناجائز‘ الگ الگ ہوتے ہی نہیں۔ اسلام میں ’مذہبی جائز و ناجائز‘ اور ’قانونی جائز و ناجائز‘ کو الگ الگ کرنا دو خدؤں کو ماننا ہے ایک وہ خدا جس سے ’مذہبی جائز و ناجائز‘ لئے جائیں اور ایک وہ خدا جس سے ’قانونی جائز و ناجائز‘ لئے جائیں۔
یہ ’مذہب‘ اور ’قانون‘ کی تقسیم واضح طور پر شرک ہے۔ یہ کلیسا کا دین ہو تو ہو ”اسلام“ نہیں۔ ’مذہب‘ خدا کے ہاں سے آئے گا اور ’قانون‘ اسمبلیاں پاس کریں گی، یہی تو شرک ہے۔ وہ ذات جس نے محمد ﷺ کو ھدیٰ اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے صرف اس لئے بھیجا ہے کہ محمد ﷺ جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ دین (مذہب +قانون+تہذیب) کی سب صورتوں پر غالب و برتر مانا جائے اور دین اپنے اس کلی معنیٰ میں سارے کا سارا ایک خدائے وحدہ لاشریک کیلئے ہو جائے۔ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّه  !!!
البتہ اس نظام کی رو سے اللہ احکم الحاکمین جس چیز کو حرام ٹھہرا دے وہ شرعاً تو حرام ہو گی مگر قانوناً حرام نہیں۔ قانوناً حرام وہ اس وقت ہو گی جب عوامی نمائندے اکثریت رائے سے اسے حرام ٹھہرا دیں اور اگر عوامی نمائندوں کی اکثریت اسے حرام نہ ٹھہرائے تو وہ شرعاً ناجائز ہو گا اور قانوناً جائز۔ دوسرے لفظوں میں ۔۔۔۔ خدا کا فرمایا ہوا کچھ بھی ہو قانون نہیں۔ اس نظام کی رو سے دین کی کوئی بات خواہ کتنی بھی قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت کیوں نہ ہو اس کا خدا کے ہاں سے نازل ہواہونا اس کے ’قانون‘ ہونے کیلئے کافی نہیں۔٭ کوئی چیز خالق کے اپنے کلام یا اس کے رسول کی سنت متواترہ تک میں، خواہ کتنی ہی صراحت سے حرام کیوں نہ کر دی گئی ہو، وہ قانوناً جائز ہے جب تک کہ نمائندگانِ خلق کی اکثریت اسے ناجائز نہ ٹھہرا دے۔ خدا کے ٹھہرائے ہوئے کسی واضح اور قطعی حرام کوحرام ٹھہرانے میں اب عوامی نمائندے پچاس سال لگائیں یا سو سال یا کبھی بھی اس کو حرام نہ ٹھہرائیں یہ عوامی نمائندوں پر ہے البتہ خدا کی اتاری ہوئی ایک بات قانون نہ مانی جائے گی جب تک اسمبلیاں خداکی اتاری ہوئی اس بات کو ’پاس‘ نہ کر دیں!
یہ بہت ہی بڑی جرأت ہے جو احکم الحاکمین رب العالمین کے سامنے یہ مشرکانہ نظام انسانوں سے کرواتا ہے۔ اس نظام کا یہ شرک ہی ہمیں اس بات سے مانع ہے کہ ہم اسکو اپنی اجتماعی زندگی میں قبول کریں اور کبھی ایک لمحے کیلئے بھی اسکو درست مان لیں۔ جو شخص بھی اپنے رب کے مقام سے واقف ہے اور اس نظام کی حقیقت جانتا ہے وہ اس نظام کے درست ہونے کی شہادت دینا اپنے لئے کفر جانے گا چاہے یہ نظام دنیا میں اس کیلئے یا اسکی قوم کیلئے دودھ اور شہد کی نہریں بہا لانے کا شرطیہ سبب کیوں نہ ہو۔ کجا معاملہ یہ ہو کہ یہ ہماری دنیا اورآخرت دونوں کو بیک وقت اجاڑنے کا سبب ہو اور استعماری قوتوں کے ہاتھوں ہمارے دینی اور دنیاوی استحصال کا ایک مؤکد ذریعہ!
یہ حقیقت ہے کہ: غیر اللہ کا اختیار اس نظام کے اندر ختم نہیں ہو گیا ہے، ہمارے اس کتابچہ کا اصل مرکزی مضمون ہے۔۔۔۔
رہ گیا وہ فلسفہ کہ ’جمہوریت‘ کو اگر محض ایک انتظامی طریق کار کے طور پر لیا جائے نہ کہ ’حاکمیتِ جمہور‘ کی بنیاد پر، یعنی حکم اور قانون کے باب میں اول و آخر خدائے رب العالمین کی شریعت ہی ملک کا دستور ہو اور اللہ اور اس کے رسول کا فرمایا ہوا ہی حرفِ آخر، البتہ اس شریعت کو لاگو کرنے والے ’اولی الامر‘ کے چناؤ کی حد تک عوامی نمائندگی کا کوئی طریق کار اپنا لیا جائے۔۔۔۔ تو اس سے قطع نظر کہ اہل کفر کے ہاں مستعمل الفاظ اور اصطلاحات پھر بھی قابل اعتراض ہی رہیں گے، اور اس مجوزہ فلسفہ کی تفصیلات کو بھی فی الحال ایک طرف رکھتے ہوئے، اِس کے مضمون پر یقینا بات ہو سکتی ہے۔ اس فلسفہ سے کسی مسلمان کو اختلاف ہو گا تو بھی وہ ’کفر و اسلام‘ کا اختلاف نہیں ہوگا، جبکہ نظامِ موجودہ کے ساتھ ہمارا اختلاف بہر حال ’کفر و اسلام‘ والا اختلاف ہی ہے۔ اس معاملہ میں تنگ نظری کے ہم بہرحال مؤید نہیں۔ رب العالمین کی شریعت، کسی بھی اضافی شرط (Additional Qualification)کی پابند ہوئے بغیر، اگر ہر آئین سے بالاتر آئین اور ہر قانون سے بالاتر قانون مان لی جاتی ہے تو اس نظام کو کفر کہنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہ رہے گی۔
البتہ اس رائے کے حاملین کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے اِس مجوزہ فلسفہ میں اپنا سنجیدہ اور سچا ہونا پہلے اس طرح ثابت کریں کہ وہ اِس حالیہ نظام کو تو پورے زور کے ساتھ مسترد کر دیں جوکہ خدائے رب العالمین کی شریعت کو ہر دستور سے بالاتر دستور بہرحال نہیں ٹھہراتا اور جوکہ رب العالمین کی شریعت کو ’قانون‘ کا رتبہ پانے کیلئے ”اکثریتِ نمائندگانِ جمہور کی منظوری“ ہی کا حاجتمند ٹھہراتا ہے اور جوکہ جمہوریت میں پائے جانے والے کفر کا اصل لب لباب ہے۔
(اشاعت اول: جون 2009)
 
٭ یہاں تک کہ __ بسا اوقات __ دین کا ایک بنیادی مسلّمہ آئین کے باب ’بنیادی حقوق‘ کے ساتھ ہی متصادم قرار دیا جائے گا اور اس پر عمل پیرا ہونا، از روئے آئین، جرم۔ اسکی کچھ تفصیل کیلئے دیکھئے کتاب کا صفحہ 33، 32۔
 
 
Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز