عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, December 8,2019 | 1441, رَبيع الثاني 10
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2016-07 IqtidhaUssiratIlmustaqeem آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
حدود قائم کرنے میں، کمزور اور طاقتور کی تفریق
:عنوان

. اصول :کیٹیگری
شيخ الاسلام امام ابن تيمية :مصنف

فصل39

417

 
Rectangular Callout: اقتِضَاءُ الصِّرَاطِ المُستَقِیم

 حدود قائم کرنے میں، کمزور اور طاقتور کی تفریق

ہماری نئی تالیف

اسی ضمن میں نبیﷺ کی یہ تنبیہ آتی ہے کہ:  ہم پچھلی امتوں کا وہ وتیرہ اختیار نہ کریں  جو اُن کے ہاں خدا کی حدیں قائم کرنے میں روا رکھا جاتا۔ یعنی اونچے گھرانوں کےلیے الگ دستور اور نچلے طبقوں کےلیے الگ۔ آپﷺ کی تعلیم تھی: سب کے مابین برابری رکھو۔ گو بہت سے سیاسیات و سماجیات کے ماہرین یہ خیال کرتے ہیں کہ سربراہانِ مملکت کو قانون سے چھوٹ حاصل ہونی چاہئے۔

صحیحین میں حضرت عائشہ﷞ سے روایت ہے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی تو اسامہ﷜ رسول اللہﷺ کے پاس اُس کےلیے سفارش کر بیٹھے۔ تب آپﷺ نے غضبناک ہو کر فرمایا:

يا أسامة أتشفع في حد من حدود الله ؟ ! إنما هلك بنو إسرائيل أنهم كانوا: إذا سرق فيهم الشريف تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف أقاموا عليه الحد، والذي نفسي بيده لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها

اے اسامہ! کیا تم اللہ کی حدوں میں سے ایک حد کے اندر سفارش کر رہے ہو؟ بنی اسرائیل اسی لیے تو ہلاک ہوئے تھے کہ جب کوئی اونچا آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد جاری کر دیتے۔ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمدؐ بھی چوری کر لیتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹتا۔[1]

بنی مخزوم قریش میں چوٹی کے خانوادوں میں سے ایک تھا۔ ان پر یہ بہت گراں تھا کہ اس خاندان کی ایک شریف زادی ہاتھ کٹوا بیٹھے۔ اس پر سفارش آئی تو نبیﷺ نے امتوں کی بربادی سے متعلق ایک قانون بیان فرما دیا: بنی اسرائیل کی ہلاکت کا ایک باقاعدہ سبب ہی یہ تھا کہ اونچی کلاس کے لوگوں کو یاں مخصوص طور پر سزاؤں سے معافی حاصل رہتی۔ چنانچہ اس مسئلہ کی سنگینی یوں بیان فرمائی کہ یہاں تو  آپؐ کی اپنی صاحبزادی بھی (معاذاللہ) کوئی ایسا جرم کر لیں تو انہیں کوئی استثناء نہ ملے کجا یہ کہ کوئی اور عورت۔

یہی مضمون ہمیں صحیحین کی اس روایت میں ملتا ہے، جوکہ حضرت براء بن عازب﷜ سے مروی ہے:

مر على النبي صلى الله عليه وسلم بيهودي، محمَّم مجلود، فدعاهم، فقال: "هكذا تجدون حد الزاني في كتابكم ؟" قالوا: نعم. فدعا رجلا من علمائهم قال: "أنشدك بالله الذي أنزل التوراة على موسى، أهكذا تجدون حد الزاني في كتابكم ؟" قال: لا، ولولا أنك نشدتني بهذا لم أخبرك، نجده: الرجم، ولكنه كثر في أشرافنا، فكنا إذا أخذنا الشريف تركناه، وإذا أخذنا الضعيف أقمنا عليه الحد، فقلنا: تعالوا فلنجتمع على شيء نقيمه على الشريف والوضيع، فجعلنا التحميم والجلد مكان الرجم فقال صلى الله عليه وسلم: "اللهم إني أول من أحيا أمرك، إذ أماتوه". فأمر به فرجم، فأنزل الله تعالى: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ} إلى قوله: {إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ}.

يقول: ائتوا محمدا فإن أمركم بالتحميم والجلد فخذوه، وإن أفتاكم بالرجم فاحذروا، فأنزل الله تعالى: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (المائدة: 44). وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (المائدة: 45). وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (المائدة: 43)} في الكفار كلها ".

نبیﷺ کے پاس سے ایک یہودی کو لے کر گزرا گیا، جس کا منہ کالا کر رکھا اور اسے کوڑے مارے گئے تھے۔ آپﷺ نے ان کو طلب فرمایا اور پوچھا: کیا زانی کی ایسی ہی حد تم اپنی کتاب میں پاتے ہو؟ کہنے لگے: جی۔ تب آپﷺ نے ان کے علماء میں سے ایک شخص کو بلایا اور فرمایا: دیکھو میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے توراۃ موسیٰؑ پر اتاری، کیا زانی کی ایسی ہی حد تم اپنی کتاب میں پاتے ہو؟ وہ بولا: نہیں۔ آپ نے مجھے وہ قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ کو ہرگز مطلع نہ کرتا۔ پاتے تو ہم رجم (سنگسار کرنا) ہی ہیں۔ مگر یہ (جرم) ہماری اونچی کلاس میں عام ہو گیا تو ایک اونچے آدمی کے گرفتار ہونے پر ہم اسے چھوڑ دیتے اور کوئی کمزور پکڑا جاتا تو اس پر حد قائم کرتے۔ تب ہم نے کہا: آؤ کسی ایسی شےء پر اتفاق کر لیں جسے اونچے اور کمزور دونوں پر نافذ کر سکیں۔ تب ہم نے رجم کی جگہ منہ کالا کرنا اور کوڑے مقرر کر لیے۔ تب نبیﷺ نے فرمایا: ’’اے اللہ میں وہ پہلا شخص ہوں جو تیرے دستور کو زندہ کرتا ہے جبکہ وہ اسے موت کی نیند سلا چکے‘‘۔  تب آپﷺ نے حکم دیا اور اسے سنگسار کر دیا گیا۔ تب اللہ نے یہ آیات اتاریں: يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ سے إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ تک۔

إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا’’ کہتے ہیں یہ حکم تمہیں ملے تو مانو اور یہ نہ ملے تو بچو‘‘ کی تفسیر میں) حضرت حذیفہ﷜ کہتے ہیں: مراد یہ کہ محمدؐ کے پاس جاؤ۔ اگر وہ بھی منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کا ہی فرمائیں تو اسے اختیار کر لو۔ اور اگر رجم کا فتویٰ دیں تو بچ نکلو۔ تب اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں: وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (المائدة: 44) ’’جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے کے مطابق فیصلے نہ کریں بس وہی کافر ہیں‘‘۔ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (المائدة: 45) ’’جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے کے مطابق فیصلے نہ کریں بس وہی ظالم ہیں‘‘۔ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (المائدة: 43) ’’جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے کے مطابق فیصلے نہ کریں بس وہی فاسق ہیں‘‘۔ یہ سب (آیتیں) کافروں پر ہی ہیں۔

 (کتاب کا صفحہ 471 تا 490)

 

 



[1]    ہیومن اسٹ الحاد آج اذہان پر جس طرح چھایا ہے، یہاں اس کی کچھ نشان دہی ضروری ہے۔

اوپر کی حدیث، نیز پورے مضمون میں ’’قانون کی حکمرانی‘‘ بھی بےشک بیان ہوئی ہے (بشرطیکہ ’’قانون‘‘ خدا کا نازل کردہ ہو)... مگر آج ایک بڑی تعداد اس حدیث کو محض قانون کی حکمرانی پر چسپاں کرنے لگی ہے اگرچہ وہ قانون خدا کی نازل کردہ کسی بھی بالاتر سند بغیر پاس کیوں نہ ہوا ہو؛ اور اگرچہ وہ قانون کسی وقت خدا کے نازل کردہ سے صاف متصادم کیوں نہ ہو۔  جاہلی صحافت اس حدیث سے ایک خاص ’دستوری سپرٹ‘ تو خوب ثابت کرتی ہے لیکن پروردگار کے نازل کردہ کو حتمی حیثیت دینے کی سپرٹ جو اِس حدیث کے ایک ایک لفظ سے پھوٹ رہی ہے، اسے صاف گول کر جاتی ہے۔  یہ حضرات بےشک چرچل اور ابراہیم لنکن سے جیسے مرضی اقتباسات دیں، لیکن ان سے ہماری درخواست ہو گی، محمدﷺ کے آسمانی پیراڈائم سے پھوٹ کر آنے والے کلمات کو اپنے ہیومن اسٹ پیراڈائم میں جڑنے سے احتراز فرمائیں؛ کیونکہ اِس مضمون کا آپﷺ کا جو بھی بیان ہے وہ کسی بھی اور بات سے پہلے دراصل اللہ مالک الملک کی تعظیم ہے۔ یہ حدیث جس کا حوالہ جس کا حوالہ یہاں کا ہر چینل دینے بیٹھا ہوتا ہے، اِس کے پہلے جملے پر ہی یہ حضرات کسی وقت غور فرما لیں: يا أسامة أتشفع في حد من حدود الله؟ ’’اے اسامہ! کیا تم اللہ کی حدوں میں سے ایک حد کے اندر سفارش کرنےلگے‘‘؟

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز