عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, December 7,2019 | 1441, رَبيع الثاني 9
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2016-07 IqtidhaUssiratIlmustaqeem آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
اختلاف و تفرقہ
:عنوان

. اصول :کیٹیگری
شيخ الاسلام امام ابن تيمية :مصنف

404

 
فصل35

Rectangular Callout: اقتِضَاءُ الصِّرَاطِ المُستَقِیم

 اختلاف و تفرقہ

ہماری نئی تالیف

قرآن مجید میں نبی آخر الزمانﷺ کی امت کو اہل کتاب کے اس مہلک رویے سے یوں متنبہ کیا گیا:

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ                                                                     (آل عمران: 105)

تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔

قرآن مجید میں ’’اختلاف‘‘ دو انداز کا ذکر ہوا ہے:

قرآن میں مذکور اختلاف کی پہلی قسم:

) جس میں اختلاف کرنے والے دونوں ہی فریق مذموم ہوتے ہیں (

یہ قرآن مجید کے اِس مقام پر مذکور ہوا:

وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ.  إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ ۚ                                (ہود: 118۔119)

وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے۔ مگر جن پر تمہارے رب نے رحم کیا۔

یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت سے اِس اختلاف سے بچ گئے۔ باقی سب اس اختلاف اور سر پھٹول ہی میں رہیں گے اور ان کا معاملہ کبھی سرے نہ لگے گا۔ یعنی یہ وہ اختلاف ہوا جس میں اختلاف کے سب فریق ہی مذموم ہیں۔ یہ وہ اختلاف نہیں جس میں ایک فریق صحیح اور ایک فریق غلط ہو۔ بلکہ سب کے سب غلط ہوتے ہیں۔

اس (اختلافِ مذموم) کی وجہ:

ö         کسی وقت فسادِ نیت۔ یعنی نفوس میں پایا جانے والا بغی و حسد۔ ایک دوسرے پر بالاتر ہونے اور دوسرے کو مات دینے کا جذبہ،

ö         تو کسی وقت ہردو فریق کا اس معاملے کی حقیقت سے جاہل ہونا جس میں وہ باہم اختلاف کر رہے ہوتے ہیں،

ö         یا اُس دلیل سے جاہل ہونا جس کی جانب معاملے کا ایک فریق دوسرے کی راہ نمائی کر سکے۔

ö         یا ہر دو فریق کا اس بات سے جاہل ہونا کہ (اس مسئلہ میں) دوسرے کے پاس بھی کچھ حق ہے۔

اِس اختلاف کی عملاً دو صورتیں ہیں: (أ) اختلافِ تنوع میں فساد اٹھانا اور (ب) اختلافِ تضاد میں پڑنا۔ ذیل میں ان دونوں کی کچھ تفصیل کی جاتی ہے:

أ۔          اختلافِ تنوع میں فساد اٹھانا:

یعنی

ö         کسی وقت ہر دو فریق ہی کا قول یا فعل حق ہوتا ہے، مگر وہ پھر بھی جھگڑتے ہیں۔ یہاں ان کا قابل مذمت ہونا ’اختلاف‘ کر لینے کے باعث نہیں بلکہ ’’اختلاف میں فساد اٹھانے‘‘ کے باعث ہے۔ اِس (اختلافِ تنوع) کی مثال: جیسے قرآن مجید کی متعدد قراءتیں۔ یا اذان کی یا اقامت کی ایک سے زیادہ صورتیں جو نبیﷺ سے ماثور ہیں۔ یہ سب کی سب شریعت میں وارد ہیں۔ ایسے مسائل میں یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز دوسری سے افضل ہو، تاہم ایسا نہیں کہ ان میں ایک حق ہو اور دوسرا باطل۔ ان امور میں لڑائی بھڑائی کرنے والے ہر دو فریق غلط ہوں گے۔

ö         یا ہردو فریق کے مابین صرف تعبیر کا فرق ہوگا۔ جیسے ایک ہی حقیقت کو مختلف تعریفاتdefinitions   سے بیان کرنا؛ جبکہ مضمون کے اعتبار سے بات ایک ہی ہو۔ ان میں لڑائی بھڑائی ہونا ظلم اور جہالت ہے۔

ö         یا کسی وقت معنیٰ میں کچھ فرق ہو بھی تو وہ اس درجہ کا نہیں کہ ایک دوسرے کی نفی ہوتی ہو۔ لیکن اس پر نزاع اس طرح ہو رہا ہوتا ہے گویا ہردو معنیٰ کے مابین ایک صاف نفی اور تصادم ہے۔

ö         یا کسی وقت یوں ہوتا ہے کہ کسی نے اپنی محنت اور سرگرمی کےلیے نیکی کا کوئی ایک شعبہ اختیار کرلیا تو کسی نے دوسرا۔ لیکن دونوں ایک دوسرے کو غلط اور زیادتی کرنے والا باور کرنے لگے؛ اور بس اسی پر نزاع اٹھ کھڑا ہوا۔

یہ چیز جسے ہم نے اختلافِ تنوع کہا ہے، برائی اس کے ہو جانے میں نہیں۔ بلکہ برائی ہے اس پر فساد اٹھانے اور ایک دوسرے کو غلط یا گمراہ ٹھہرانے میں۔ خوب یاد رکھو: امت میں ہونے والا وہ اکثر اختلاف جو ایک بڑے بغض و عداوت، خونریزی اور ایک دوسرے کا جان مال آبرو مباح کر لینے کا سبب بنا رہا، وہ اختلاف کی یہی قسم ہے۔

ب۔        اختلافِ تضاد میں پڑنا:   

اختلافِ تضاد یعنی جہاں ایک قول یا ایک فعل واقعتاً دوسرے کے منافی ہوتا ہے۔ اس کا معاملہ سنگین تر ہے۔ لیکن اکثر جھگڑنے والوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ دونوں طرف کچھ باطل ہے تو کچھ حق بھی ہے۔ تاہم ایک فریق دوسرے کو مطلق غلط ٹھہرانے پر ہی زور لگا رہا ہوتا ہے۔ یوں یہ اُس کا رد کرنے میں کچھ غلط ہوتا ہے؛ اور وہ اِس کا رد کرنے میں کچھ غلط ہوتا ہے۔ اس مصیبت سے بعض اہل سنت طبقے تک چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ (کچھ اہل سنت طبقے بھی کسی کسی وقت اختلاف کی اِس صورت میں جا گرتے ہیں)۔ تقدیر یا صفاتِ خداوندی یا صحابہؓ سے متعلقہ مسائل میں بسا اوقات یہ مخالف کی غلط بات کا بھی رد کر رہے ہوتے ہیں اور صحیح بات کا بھی۔ فقہ کے مسائل میں بعض فقہاء کے ساتھ بھی ایسا ہو جاتا ہے کہ مخالف کی غلط بات کے ساتھ ساتھ اس کی ٹھیک بات بھی رد کر گئے۔ رہ گئے اہل بدعت تو ان کا حق کو رد کرنا تو بالکل ہی ظاہر ہے۔

قرآن میں مذکور اختلاف کی دوسری قسم:

(جس میں اختلاف کا ایک فریق قابل ستائش رہتا ہے اور دوسرا قابلِ مذمت)

 یہ اس قبیل کا اختلاف ہے جو اہل ایمان و اہل کفر یا اہل سنت و اہل بدعت کے مابین ہوتا ہے۔ اور حق ہے۔ اختلاف کی یہ نوع قرآن میں یوں مذکور ہوئی:

وَلَـٰكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ                     (البقرۃ: 253)

مگر انہوں نے اختلاف کیا، یعنی کچھ ان میں ایمان پر رہے اور کچھ کفر کر گئے۔

اس اختلاف میں البتہ:

ö         ایک فریق اہل حق ہو گا۔ یہ ہیں:

o       انبیاء کے پیروکار، حواريون و اصحاب﷢ کی راہ پر قائم رہنے والے لوگ۔

ö         جبکہ دوسرا فریق اہل باطل۔ یہ دو سطحوں پر ہیں:

o       امت کے باہر: انبیاء کا دامن تھامنے سے انکاری۔ وقت کے نبی پر ایمان نہ رکھنے والے کافر اور مشرک۔

o       اور امت کے اندر: حواریون و اصحاب﷢ کی راہ سے ہٹ کر راہیں نکالنے والے۔

’’اہل اختلاف‘‘ یا ’’اہلِ فرقہ‘‘ کا لفظ اِس سیاق میں اِسی مؤخر الذکر طبقہ پر بولا جاتا ہے (یعنی اہل اسلام کے مقابلے پر بات ہو تو ’’اہل اختلاف‘‘ ہوں گے: کفار و مشرکین۔ اور اہل سنت و جماعت کے مقابلے پر بات ہو تو ’’اہل اختلاف‘‘ ہوں گے: اہل بدعت)۔ جبکہ اِس اختلاف کا وہ فریق جو (بیرونی سطح پر) انبیاء اور (اندرونی سطح پر) حواریوں واصحابؓ کے راستے پر رہا وہ: ’’اہل الجماعۃ‘‘۔

خود رسول اللہﷺ نے پیش گوئی فرمائی کہ ایسے بَہتّر اہل تفرقہ خود آپؐ کی امت میں پیدا ہو جائیں گے۔ جبکہ اِس تفرقہ سے بچ رہنے والی صرف ایک جماعت ؛اور اس کی نشانی یہ کہ یہ عین اُس راستے پر برقرار رہے گی جس پر دین کے معاملہ میں رسول اللہﷺ اور اصحاب﷢ پائے گئے۔

چنانچہ اس اختلاف کا ایک ہی فریق مذموم ہو گا (اسلام کے مقابلے پر اہل کفر۔ یا پھر سنت کے مقابلے پر اہل بدعت)۔ ان کا اختلاف موجبِ ہلاکت ہو گا۔ جبکہ دوسرا فریق (کفر کے مقابلے پر اہل اسلام۔ یا پھر بدعت کے مقابلے پر اہل سنت) اِس اختلاف کے حوالے سے قابلِ ستائش ہوں گے۔ اِن کا اختلاف موجبِ نجات ہو گا۔

اِس مبحث کے آخر میں ابن تیمیہؒ کہتے ہیں:

اختلاف کی یہ تمام مذموم صورتیں سورۃ التوبۃ کی اس آیت کے تحت درج ہوں گی: وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُوا ’’ ویسی ہی بحثوں میں تم (اِس امت کے منافقین) بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ (پچھلے لوگ) پڑے تھے‘‘۔ اس آیت پر پیچھے ہم قدرے تفصیل سے بات کر آئے ہیں۔

واضح رہے، اوپر جو تفصیل ہوئی وہ ’’دین میں اختلاف‘‘ سے متعلق ؛ جوکہ اختلاف کی سنگین تر صورت ہے۔ جبکہ نبیﷺ نے ’’دنیا میں اختلاف‘‘ کی بھی پیش گوئی فرمائی۔ یعنی محض دنیوی محرکات کے تحت اِس امت کے مختلف قوموں، قبیلوں اور جماعتوں کا ایک دوسرے کے شمشیر بکف ہو جانا۔ اِس سے نبیﷺ نے شدید طور پر متنبہ فرمایا اور اپنے ایک ایک امتی کی جان و مال کی حرمت پر نصوص بیان فرمائیں۔

 (کتاب کا صفحہ 471 تا 490)

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز