عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 15,2019 | 1441, رَبيع الأوّل 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2016-07 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
’مستورات‘ ایک سماجی جبر.. سوشیالوجسٹ کی وحی
:عنوان

آخر وہ سوشیالوجی کا ایک پروفیسر یا انتھروپالوجی کا ایک مصنف ہے اور باہر اسکی’گرل فرینڈ‘اسکا انتظار کر رہی ہےاور اسکا شام کا نائٹ کلب لیٹ ہورہا ہے!’بیوی‘ انتظار کررہی ہوتی یا’نماز‘لیٹ ہو رہی ہوتی تو چلیے آپ اسکو بائسڈ کہہ بھی لیتے!یہاں ’تعصب‘ کا کیا سوال!؟

. باطلفكرى وسماجى مذاہب :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

مستورات‘ ایک سماجی جبر.. سوشیالوجسٹ کی وحی

احوال و تعلیقات

حیا دار رویے، حیا دار ملبوسات... سماج کا جبر! خواہ ’بعد ازاں‘ عورت اپنی مرضی سے ہی وہ کام کیوں نہ کرنے لگی ہو! ہے وہ اپنی حقیقت میں جبر؛ خواہ اس حجاب وغیرہ پر عمل عورت کے ہاں اب رضاکارانہ کیوں نہ ہونے لگا ہو؛ یا حتیٰ کہ عورت وہ کام کتنا ہی بہ اصرار کیوں نہ کرنے لگی ہو... مگر ہم سوشیالوجسٹ آپ کو بتاتے ہیں دراصل یہ ایک سماجی جبر کا نتیجہ ہے!

لبرلزم اور ماڈرن انتھروپالوجی کا ایک اہم مقدمہ۔

البتہ اس کا اطلاق ’حجاب‘ اور ’جسم ڈھانپنے‘ کے تصور پر ہو گا۔ اس کا اطلاق ’’حیاء‘‘ اور ’’اخلاق‘‘ نامی اشیاء پر ہوگا۔

ظاہر ہے اس کا اطلاق ہزاروں تماش بین مردوں کے سامنے ایک جوان لڑکی کے ’کیٹ واک‘ کرنے پر نہیں ہو گا۔ ہزاروں بےرحم دیدے پھاڑپھاڑ دیکھنے والے بھنبھناتے نفوس کے آگے ایک اشتہا انگیز تھال کی طرح لڑکی کا ’پیش‘ ہونا اور بیک وقت ہزاروں لُچوں کےلیے تفریح و تماشا کا ایک ’آبجیکٹ‘ بن کر پہاڑ سے بھاری قدم اٹھاتے ہوئے پورا ریمپ گزر کر دکھانا اور وہ بھی اٹھلا اٹھلا کر، یہ تو عورت میں ’طبعی طور پر پائی جانے‘ والی ایک چیز ہے... اس کو بھی ایک خاص قسم کے ’سماج‘ کے جبر کے کھاتے میں ڈالنا، یہ تو آپ کی نری غلط فہمی ہے۔ بلکہ آپ کی سوچ کا اس طرف کو چلے جانا بذاتِ خود ’سماج کا جبر‘ معلوم ہوتا ہے، جس سے اب آپ کو آزاد کرانا ضروری ہے!

یعنی ’فطرت‘ کا تصور یہاں بھی ختم نہیں ہوا۔ صرف اِس خانے میں فٹ ہونے والی ’’چیز‘‘ بدلی گئی ہے۔

چیزیں یہاں بھی ابھی تک دو ہیں: ایک فطرت۔ اور ایک سماج کا جبر۔

ضروری نہیں ہر چیز جو یہاں آپ کو نظر آتی ہے ’سماج کا جبر‘ ہو؛ کوئی کوئی چیز ’فطرتاً‘ بھی انسان میں ہوتی ہے! ضروری نہیں ہر چیز ’فطرتاً‘ ہو؛ کوئی کوئی چیز سماج کا جبر بھی ہوتی ہے!

فطرت‘ تو ہوتی ہے آپ سے آپ۔ اس کی تو نہ کوئی تفسیر ممکن ہے نہ اس کے معاملے میں ’سماج کا جبر‘ فرض کرنے کی کوئی ضرورت؛ وہ انسان کے اپنے وجود کا حصہ باور ہوتی ہے۔

اور ’سماج کا جبر‘ وہ چیز جو باہر سے آپ پر مسلط کی گئی ہوتی ہے؛ اس کو فطرت نہیں کہا جا سکتا۔

البتہ سارا مسئلہ اس بات کا تعین کرنے میں ہے کہ کیا چیز انسان میں ’طبعی طور پر‘ ہے اور کیا چیز باہر ’سماج کا اثر‘... یہ ’تعین‘ کرنے کےلیے آپ کا کوئی عقیدہ ہونا ضروری ہے؛ خواہ انبیاء پر ایمان اور خواہ انبیاء کے ساتھ کفر؛ دونوں ہی عقیدہ ہیں؛ مگر پہلی چیز کو ’عقیدہ‘ کہہ کر بائسڈنیس biasedness  قرار دے دیا جائے گا اور دوسری چیز کو کسی بھی ’عقیدے‘  dogma   سے بالاتر ہونا...!

سارا مسئلہ اِس کرسی پر جج بن کر بیٹھنے میں ہے۔ انبیاء کو اِس کرسی پر بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔ انبیاء کے معاندین کو ہے!

یعنی اس بات کا تعین کرنے کےلیے کہ کونسی چیز ’انسان میں خودبخود‘ ہے اور کونسی چیز ’باہر سے مسلط‘ ہوئی ہے... یہ تعین کرنے کےلیے یہاں جو جج بیٹھا ہو گا اس کی بابت یہ فرض کرنا ضروری ہے، اور اس کو خود بھی یہ دعویٰ کرنا ہو گا، کہ اس پر تو کسی قسم کے ’سماج کا جبر‘ نہیں اور کوئی انتھروپالوجی اس کے خیالات کو جنم دینے یا اس کے احساسات و جذبات پر اثرانداز ہونے والی نہیں ہوئی! وہ تو بس اُدھر پیدا ہوا اور اِدھر فیصلے کی کرسی پر آ بیٹھا! وہ تو کسی قسم کے ’سماجی رویے ‘ social behavior اور کسی قسم کی اھواء inclination کا پروردہ یا کسی سماجی نزاع سے متاثر ہی نہیں ہے۔ وہ تو خالص سٹیل کا بنا ہوا ہے اور کسی بھی قسم کے نظریاتی اور سماجی عوامل کو پاس پھٹکنے نہ دینے کے باعث معروضیت objectivity کا دعویدار ہو سکتا ہے۔ اور کیونکہ وہ کسی نزاع کا حصہ نہیں؛ نہ کسی سے بغض نہ کسی سے پرخاش نہ کسی فکر کے خلاف رد عمل اور نہ کسی فکر سے متاثر؛ بس غیرجانبدارِ محض! لہٰذا کیونکہ اب یہ تو فرشتوں کی طرح سوچ سکتا ہے لہذا آبجیکٹی ویٹی objectivity کی ٹھیکیداری بس اِسی کو زیب دیتی ہے!

پھر یہ ایک given حقیقت ہے؛ اور آپ کو اس کا یہ دعویٰ لازماً تسلیم ہی کرنا ہوگا؛ آخر وہ اس وقت سوشیالوجی کا پروفیسر یا انتھروپالوجی کا ایک مصنف ہے اور باہر اس کی ’گرل فرینڈ‘ اس کا انتظار کر رہی ہے اور اُس کا شام کا نائٹ کلب لیٹ ہو رہا ہے! ’بیوی‘ انتظار کر رہی ہوتی یا ’نماز‘ لیٹ ہو رہی ہوتی تو چلیے آپ اس کو بائسڈ biased کہہ بھی لیتے! سوشیالوجی کے اِس مصنف اور انتھروپالوجی کے اِس مدرّس کی ’غیرجانبداری‘ یا اس کے ’کسی بھی نظریے یا رویے سے متاثر نہ ہونے‘ یا ’کسی بھی سماجی نزاع کا حصہ نہ ہونے‘ پر آپ کے دل میں اگر شک بھی گزر گیا تو آپ ایک تنگ نظر اور متعصب آدمی ہیں جو چیزوں کو ایک خاص رنگ میں دیکھنے کا عادی ہے!

چنانچہ اصل مسئلہ اِس جج پر ’ایمان بالغیب‘ لانا ہے۔ باقی باتیں تو وہی ہیں: ایک چیز انسان کی فطرت ہے جیسے لچرپن اور ہزاروں تماش بینوں کے سامنے خوشبوؤں کے بھبھکے اڑاتی ایک بیس بائیس سالہ لڑکی کا اپنے جسم کو تھال میں رکھ پیش کرتے ہوئے کیٹ واک کرنا۔ اور ایک چیز ہے سماج کا جبر جیسے حجاب، شرم اور حیاء کا تصور!

چیزیں اب بھی دو ہی ہیں۔

بس اتنا ہے کہ انبیاء نے ان کو اس طرح بتایا تھا کہ حیاء انسان کی فطرت ہے اور لچرپن اس پر شیاطین کا مسلط کردہ۔

انبیاء کے منکرین نے صرف اس کو الٹ دیا ہے اور ان کا کہنا ہے: لچرپن انسان کی فطرت ہے اور حیاء و اخلاق اس پر کچھ پاکیزگی پسند عناصر کا مسلط کردہ۔

پس خانے اب بھی دو ہی رہے۔ مسئلہ ان دونوں کو ’لوکیٹ‘ locate کرنے کا ہے کہ کونسی بات کس خانے میں رکھیں۔ جس بات کو آپ ’فطرت‘ کہہ دیں اس کے حق میں آپ بار بار بولیں گے بھی۔ البتہ اس بار بار بولنے اور ہر ہر سطح پر اس کی سرپرستی کرنے کو آپ ’سماجی جبر‘ بھی نہیں گے!!! اور خود اپنے اِس رویے کو آپ ’دھونس‘ بھی نہیں کہیں گے؛ بلکہ یہ ’حق پرستی‘ ہے! اب چونکہ یہ بات اصولاً آپ کو بھی تسلیم ہے؛ لہٰذا اِن حوالوں سے ہم انبیاء کو ماننے والے بھی اصولاً ’جبر‘ کے الزام سے بری ہوئے۔ اصل بات صرف ایک رہ گئی اور وہ یہ کہ اِس جج کے منصب پر کون بیٹھا ہے؟ جو اِس منصب پر جا بیٹھا وہ ’’حقیقت‘‘ کا تعین کرنے کا مجاز ٹھہرا اور اس کی یہ حیثیت given ہے!

یہ ہے اِس ماڈرن سوشیالوجسٹ کے مقدمہ کی مختصر حقیقت؛ جس کو ’چونکہ، چنانچہ، مگر اور اگرچہ‘ کے کچھ غیرمعمولی تاؤ دے کر ایک ’علمی حقیقت‘ ٹھہرا دیا گیا ہے۔

میں آپ سے ایک عرض کروں... یہ سوشیالوجسٹ یہاں ایک اتنے بڑے منصب کا دعویدار ہے اور ’حقیقت‘ کا ایک ایسا منہ پھٹ ٹھیکیدار ہے کہ وہ پرانے مذاہب جن کو یہ محض دھکا اور خرافات کہتا ہے، اِس کے مقابلے پر ایک بہت چھوٹی دھونس ہو گی۔ سب سے بڑا لٹھ مار انسانی تاریخ میں یہ ہے؛ محض اِس لیے کہ اِس کے ہاتھ میں آج یونیورسٹیاں اور تعلیم کا ڈائس ہے!

اور بلاشبہ یہ ایک قوی دلیل ہے! بلکہ اصل دلیل ہی یہ ہے۔ اِس ’دلیل‘ سے انبیاء کو انسانی زندگی سے بےدخل کرنا کچھ ایسا نیا بھی نہیں ہے:

وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَـٰذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِن تَحْتِي ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ  أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ هَـٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ  فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ  فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ                                (الزخرف: 51۔54)

فرعون لگا اپنی قوم میں پکارنے: اے میری قوم! مصر کی فرماں روائیِ مطلق کیا مجھ کو سزاوار نہیں؛ آخر یہ نہریں میرے ہی نیچے تو بہتی ہیں۔ تو کیا تم دیکھ نہیں سکتے؟ کیا (اس منصب کےلیے) میں بہتر ہوں یا بھلا یہ شخص جو ذلیل ہے اور بات صاف کرتا معلوم نہیں ہوتا؟ (بھلا یہ کچھ ہوتا تو) اس پر کیوں نہ (آسمان سے) سونے کے کنگن آ گرتے یا اس کے ساتھ فرشتے ہی آکر (دکھاتے) جو اس کے پاس رہتے۔ تب فرعون نے اپنی قوم کو کم عقل کرلیا تو وہ اس کے کہے پر چل پڑے۔ بیشک وہ تھے ہی بدکار لوگ۔

پس یہ ہے اصل منطق۔ سٹیٹس کو۔ خصوصاً فکری intellectual status quo ۔

مختصراً... ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کی بجائے فی الحال آپ یوں کہہ لیجیے: جس کی یونیورسٹیاں اس کی دانش... university is might !

*****

یہاں جو مضمون بیان کرنا مطلوب تھا ہمارا وہ مقدمہ تو مکمل ہوا۔

البتہ یہاں سے آپ کو ہمارا ایک اور مقدمہ بھی بآسانی سمجھ آسکتا ہے اور وہ ہے: اس بات کی فرضیت کہ دینِ آسمانی کے پاس معاشرے کو اپنے علمی اقتدار کے زیرنگیں رکھنے کا انتظام ہو۔ ورنہ یہ کسی کے علمی اقتدار کے زیرنگیں ہو گا۔ اسی بات کا ایک سادہ ترجمہ: اسلام کے پاس خود اپنی دولت (ریاست) ہونے کی فرضیت؛ جہاں ایک عام آدمی پر کوئی بیرونی مصدرِ دانش مسلط نہ ہو اور ’’حقیقتوں کے تعین‘‘ میں واحد حوالہ آسمانی وحی ہو۔ (کسی نہ کسی مصدرِ دانش اور تصورِ اَقدار کو تو لازماً مسلط impose ہونا ہے؛ ورنہ اس کو ’معاشرہ‘ کہیں گے ہی نہیں؛ معاشرہ ظاہر ہے محض کسی ’انتظامی‘ بندوبست ہونے کا نام نہیں)۔ حقیقت یہ ہے کہ تفہیمِ دین کے نام پر المورد کے جاری کردہ ’قوانین‘ میں سے کسی بھی قانون سے یہ ایک بڑا قانون ہے: دینِ آسمانی کے معاشرہ پر حاکم ہونے کی فرضیت اور آدمی کو محض انفرادی طور پر کافر ہونے کی اجازت۔ معاشرے پر حاوی ’دانش‘ prevailing epistemology  کی صورت میں دراصل آپ معاشرے کو ایمان پڑھا رہے ہوتے ہیں یا معاشرہ آپ کو الحاد پڑھا رہا ہوتا ہے؛ تیسری کوئی صورت نہیں ہے۔ بالکل نہیں ہے۔ اسلام کے پاس دولت (ریاست) ہونے کی فرضیت کی یہ ایک ایسی واضح برہان ہے کہ نصف النہار کا آفتاب اس کے مقابلے پر کم ہو گا۔ قرآنی آیت حتىٰ لا تکونَ فتنۃٌ میں ’’فتنہ‘‘ کی تفسیر اگر آپ ’’جبر‘‘ بھی لینا چاہیں، جس پر مدرسۂ وحید الدین خان کا پورا ڈسکورس کھڑا ہے، تو بھی اِس ’’جبر‘‘ کو محض کسی ڈنڈے اور لاٹھی کے اندر دیکھنا البتہ تعلیم و ابلاغ کے ایک دیوہیکل انتظام کی صورت میں اِس ’’جبر‘‘ کو نہ دیکھ پانا کوتاہ نظری کی حد ہے۔

’’خلافت‘‘، خواہ اس کی عملی صورت جو بھی ہو (اور یہ تو بالکل ہی ضروری نہیں کہ وہ حزب التحریر والی ہو! بنیادی طور پر ہماری مراد ’’خلافت‘‘ یا ’’دولت‘‘ وغیرہ ایسے الفاظ سے ہوتی ہے معاشرے پر دینِ آسمانی کا اقتدار؛ خواہ اس کی انتظامی صورت جو بھی ہو)... اِس ’’خلافت‘‘ کے ریشنال rationale میں یہ بات ’حدود و تعزیرات یا اسلام کے معاشی احکام وغیرہ کو لاگو کرنے کی ضرورت‘ والی دلیل سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور آج اِس ریشنال کو نمایاں کرنا حد سے بڑھ کر ضروری؛ کہ ایک چیز کے بدترین عواقب (خود سماجیات ہی میں شیاطین کا ایک بھرپور فکری تصرف؛ بلکہ ایک باقاعدہ ’’مرجع‘‘ reference کی حیثیت اختیار کر لینا) آپ اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگے۔

حق یہ ہے کہ اسلام کے پاس ایک دولت ہونے کی فرضیت ہزارہا جہت سے ثابت ہوتی ہے؛ اور یہ بات ضروریاتِ دین میں آتی ہے۔ اِس کا انکار ایک مکابرہ ہے اور اُسی معرفی جبر epistemological coercion  کا نتیجہ جو کوئی صدی بھر کی ’اینلائٹنمنٹ‘ enlightenment  سے آپ کے ذہنوں پر عمل پزیر ہوا ہے؛ اور جس کے نتیجے میں ایک دوسری سطح پر آپ کا نوجوان اب اس بات کو given  ماننے پر آمادہ ہو چلا ہے کہ حیاء اور اخلاق وغیرہ اِس ’ہیومن بیئنگ‘ human being  پر محض باہر سے مسلط ہوجانے والی چیزیں رہی ہیں یعنی سماجی جبر! ...

اِس آخری پوائنٹ سے متعلقہ کچھ مباحث ہمارے ان مضامین میں واضح کیے گئے ہیں:

§        ’’جماعۃ‘‘ کا ’’نظم‘‘ پر مقدم ہونا     http://eeqaz.co/201503_jamat_imarat/

§        انتظامی جبر اور تشکیلی جبر کا فرق    http://eeqaz.co/201503_fard_maljaomawa/ 

§        ریاست ایک جبر یا دھونس؟    http://eeqaz.co/201503_riyasat_jabar/ 

§        علیکم بالجماعۃ    http://eeqaz.co/201503_alaikumbljamat/

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ!
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز