عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, July 21,2019 | 1440, ذوالقعدة 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
PamphHumanism آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ہیومن ازم کیلئے ’اسلامی‘ بنیادوں کی فراہمی! (فصل 5 فتنۂ ہیومن ازم)
:عنوان

کوئی ’قدامت پسندوں‘ کی ضد میں آکر، کوئی ناموری کےلیے، کوئی شہرت اور کیمروں کی تاب نہ لاتے ہوئے، اور کوئی کسی اور سبب سے۔ یہ لوگ اسلامی مقدسات کی اس دیوار کو، جو اِنکے راستے میں حائل اور اِنکی اھواء کےلیے ایک رکاوٹ ہے، ایک ایک اینٹ کرکے گراتے چلے جائیں گے

. باطلفكرى وسماجى مذاہب :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

ہیومن ازم کیلئے ’اسلامی‘ بنیادوں کی فراہمی!

فصل 5۔ فتنۂ ہیومن ازم

اوپر کی گفتگو میں ’اسلام‘ کے نام پر ہونے والی بعض ’جدید تحقیقات‘ کی جانب بھی کچھ اشارہ ہوچکا ہے۔ سعودی عرب کے ایک عالم شیخ سلیمان بن صالح الخراشی اسلامی دنیا میں پائے جانے والے حالیہ ’جدت پسند‘ رجحانات کی بابت لکھتے ہیں:

اندیشہ ہے کہ اِس خوفناک راستے پر چل کھڑے ہونے والے سبھی طبقے رفتہ رفتہ اپنے اسلامی ثوابت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ کوئی کفار کو خوش کرنے کےلیے، کوئی ’قدامت پسندوں‘ کی ضد میں آکر، کوئی ناموری کمانے کےلیے، کوئی شہرت اور کیمروں کی تاب نہ لاتے ہوئے، اور کوئی کسی اور سبب سے۔ یہ لوگ اسلامی مقدسات کی اس دیوار کو، جو اِن کے راستے میں حائل اور اِن کی اھواء کےلیے ایک رکاوٹ ہے، ایک ایک اینٹ کرکے گراتے چلے جائیں گے۔

اِس راستے کا پہلا قدم بالعموم ’’غیر اسلامی مذاہب کے ساتھ رواداری‘‘ کے نام پر اٹھایا جاتا ہے۔ ’’رواداری‘‘ بس ایک ڈھیلے ڈھالے انداز میں؛ اسی کی دعوت اور اسی کی تاکید! پھر اگلے قدم پر کافروں اور مسلمانوں کو ’بھائی بھائی‘ ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ اس سے اگلے قدم پر ولاء اور براء ایسے اسلامی اصولوں میں تشکیک پیدا کر ادی جاتی ہے۔  اس سےاگلے قدم پر یہود، نصاریٰ اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ’’کافر‘‘ ہونے میں تشکیک پیدا کرائی جاتی ہے۔ آخر میں سیدھا سیدھا ’’انسانیت‘‘ کے مذہب کا پرچار شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ کسی کسی کے ہاں اس کفر کا آخری اسٹیشن آ جاتا ہے، یعنی ’’وحدتِ ادیان‘‘... اور اس سے بھی بڑھ کر ’’وحدت الوجود‘‘۔ العیاذ باللہ

ایک اور عالم شیخ عبد العزیز الجلیل لکھتے ہیں:

بعض اسلامی طبقوں کے ہاتھوں اس وقت ’’ہیومن ازم‘‘ کی جو ترویج عمل میں آرہی ہے، اور جوکہ انسانوں کے مابین ’’عقیدہ‘‘ کے پیدا کردہ فاصلوں کو منہدم کردینے سے عبارت ہے... یہ گمراہ کن دعوت عالم اسلام میں مندرجہ ذیل اہداف کو یقینی بنانے کا ذریعہ بن رہی ہے:

1.     عقیدۂ توحید کا تیاپانچہ۔ کیونکہ توحید جس بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے وہ ہے اہل توحید کے ساتھ مل کر ایک جتھہ اور قوت بننا (الولاء) اور اہل شرک سے براءت اور بیزاری اختیار کرنا (البراء)۔  اس کا خودبخود یہ نتیجہ ہوگا کہ خدا کے ساتھ ’’کفر‘‘ ہوجانا کوئی بڑی بات نہ رہے۔ خدا کے ساتھ کفر اور شرک کرنے والا شخص  طبیعت کو بہت زیادہ کھٹکنے والا نہ رہے۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ایک مسلم موحد اور ایک کافر ملحد آدمی کی نظر میں ایک برابر ہوجائیں۔

2.     اِس ’’ہیومن ازم‘‘ کی بنیاد پر تمام مسلم ممالک کے تعلیمی نصابوں اور ابلاغی پالیسیوں پر ایک نظرثانی۔ ان نصابوں اور میڈیا پالیسیوں سے ہر اُس چیز کو نکال باہر کیا جائے گا جو کافر کے ساتھ مسلمان کی کسی تاریخی عداوت کو زندہ کرے، یا خدا کے کلمہ کو بلند کرنے کےلیے کافر کے خلاف کسی مجاہدہ یا کسی کشمکش کا داعیہ بنے۔ بلکہ بہت سے مسلمان ملکوں میں ایسا بالفعل ہوچکا ہے، اور اس عمل کے بہت سے مراحل سر کرلیے گئے ہیں۔

3.     مسلمان ممالک میں مندروں اور گرجوں کی تعمیر کی ایک زوردار تحریک، خصوصاً جزیرۂ عرب کے اندر جہاں کسی دوسرے دین کا وجود ہی ممنوع ہے۔

4.     یہیں سے یہود (اور ہنود) کے ساتھ ’تعلقات کو معمول پر لانے‘ کا راستہ صاف کرلیا جائے گا۔ سرزمینِ فلسطین پر یہودی ریاست کا قیام بھی ’جائز‘ کرلیا جائیگا۔

5.     یہاں سے؛ جہالت سے اٹے ہوئے مسلم ممالک اور معاشروں میں مشنری ورک (عیسائیت سازی) کےلیے دروازے چوپٹ کھول دیے جائیں گے۔

6.     یہاں پہنچیں گے تو ’’دین بدلنے‘‘ کی آزادی کے مطالبے شروع ہوجائیں گے۔ ’آزادیِ فکر‘ ، ’آزادیِ رائے‘ خودبخود ’’آزادیِ تبدیلیِ دین‘‘ میں ڈھل جائے گی اور ’انسان‘ کے اِس ’’حق‘‘ کےلیے اٹھنے والی آوازیں آسمان کو پہنچنے لگیں گی۔  صرف یہودی، نصرانی یا ہندو ہونے ہی کی نہیں ملحد اور دہریہ ہونے کی آزادی طلب کی جائے گی۔ طرح طرح سے دین کا ٹھٹھہ اور مذاق اڑانے کی گنجائش نکالی جائےگی۔ مسلم نوجوان کے سامنے ایک طرف فحاشی ، برہنہ پن اور شہوات کی آندھیاں نفسیات دانی کی مہارتوں کو کام میں لاتے ہوے اعلیٰ ترین ’سائنٹفک بنیادوں‘ پر چلائی جائیں گی اور پھر اس باؤلاپن کو انتہا پر پہنچا کر لبرل اور سیکولر شبہات اٹھاتے ہوئے ہمارے نوجوانوں کو سیدھا سیدھا الحاد کی دعوت دی جائے گی۔ چنانچہ ایک طرف یہ نسل الحاد میں لت پت ہوگی تو دوسری طرف ننگےپن کی غلاظتوں میں۔

7.     ’آزادی‘ اور ’انسان پرستی‘ کی انہی آندھیوں کو اٹھانے کے دوران اُن ٹھیٹ فکر جماعتوں کو گردن زدنی بھی بنادیا جائے گا جو ’’اصولِ سلف‘‘ کی بات کریں، جو ’’توحید‘‘ کی بنیاد پر ’’ولاء اور براء‘‘ کی بات کریں۔ ’’میڈیا مہارتوں‘‘ کو کام میں لاتے ہوئے ان راسخ العقیدہ لوگوں کے ایسے ایسے القاب نشر کیے جائیں گے، ان کے ایسے ایسے خاکے بنائے جائیں گےکہ یہ ساری ’’انسانیت‘‘ کے دشمن نظر آئیں۔ دوسری طرف ’’انسانیت کے ان دشمنوں‘‘ کو مارنے کےلیے جو بارود بردار منصوبے عمل میں ہوں گے ان کےلیے ہر طرف سے تالیاں بجوائی جارہی ہوں گی۔ غرض اس ’’اتباعِ سلف‘‘ کے راستے کے خلاف اندھا اعلانِ جنگ ہوگا (خواہ وہ کتنے ہی پرامن کیوں نہ ہوں)، کسی کو اس سے ڈرا کر ہٹایا جائے تو کسی کو ورغلا کر، کسی کو جیلوں میں ٹھونس کر اور کسی کو واقعتاً راستے سے ہٹا کر۔

8.    سب سے بڑھ کر حیرت کی بات اِس پوری تصویر میں یہاں کے بعض اسلامی طبقوں کا اس ’’ہیومن اسٹ‘‘ ایجنڈا کی جانب میلان اختیار کرلینا ہے۔ ہمارے بہت بڑے بڑے اسلامی نام اس وقت اس ایجنڈا کےلیے مبارکبادوں اور آشیربادوں میں لگے ہوئے ہیں، کیا ہماری سادگی اور لاعلمی اس نوبت کو آچکی ہے یا ہماری مصلحت پسندی ہمیں اس مقام تک لا چکی ہے؟ اسلامی قیادتیں اِن آنے والی حقیقتوں سے لاعلم ہیں تو معاملہ تشویش ناک ہے۔ اور اگر جانتے بوجھتے ہوئے ایسا ہورہا ہے پھر تو معاملہ آشوب ناک ہے۔

مسلمان کی لغت سے ’’کافر‘‘ کا لفظ نکلوا کر ’’غیرمسلم‘‘ کا لفظ ڈلوانے کی تحریک آج ’اسلامی‘ دلائل سے لیس ہو کر نہ صرف ہمارے عوامی ماحول بلکہ ہمارے اسلامی حلقوں میں بھی سرگرم ہوچکی ہے۔ اچھے اچھے دیندار اِس طوفان کی نذر ہورہے ہیں۔ ان جدید ’فتاویٰ‘ کی رُو سے آج نہ ’’کافر‘‘   کا لفظ یہود ونصاریٰ اور ہندؤں پر چسپاں ہوسکتا ہے اور نہ ’’کافر‘‘ اور ’’مشرک‘‘ والے احکام ہی کسی صورت یہود و نصاریٰ اور ہندؤں پر لاگو ہوسکتے ہیں۔  یہود ونصاریٰ اور ہندؤں کو کافر کہنے یا ان پر ’کافروں‘ والے احکام لاگو کرنے پر  تو ان جدت پسندوں کے مابین تقریباً اتفاق ہے۔ بس چند گتھیاں سلجھانا ابھی باقی ہے: ’’کافر‘‘ کا لفظ تو اب اسلامی لغت سے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے خارج کہئے؛ البتہ ’غیر مسلم‘ کے احکام کیا مسلمان والے ہوں گے یا کافر والے؟ معاملہ صرف یہاں پھنسا ہوا ہے! ’غیرمسلم‘ چونکہ ایک کیٹگری ہی دین کے اندر نئی ہے، لہٰذا اس پر ’اجتہاد‘ جاری ہےکہ کن معاملات میں ان کو ’ماضی کے‘ کافر کے ساتھ ملحق کیا جائے[1]  اور کن معاملات میں ’حال کے‘ مسلمان کے ساتھ! نیز اس ’ملحق‘ کرنے کی حدود اور قیود کیا ہوں؟ ہے یہ سراسر ’اجتہادی مسئلہ‘؛ لہٰذا اس میں ’آراء‘ متعدد ہوسکتی ہیں؛ بلکہ ہوسکتا ہے ایک ہی شخص اور ایک ہی دبستان کی ’آراء‘ بدلتی چلی جائیں؛ ’ہیومن ازم‘ کے ہر نئے اسٹیشن پر اذہان میں کچھ نئے در وا ہوں اور نئے سے نئے احکام سامنے آتے چلے جائیں!

اپنے تاریخی ثوابت پر کھڑے ہونا اِس ملتِ بیضاء کیلئے آج ایک حقیقی چیلنج بن چکا ہے۔

حضرات! یہ بات علمائے عقیدہ کے ہاں بےحد واضح ہے کہ محمد پر ایمان نہ لانا ہی محمد کے ساتھ کفر کرلینا ہے؛محمد کے ساتھ کفر کا مرتکب ہونے کےلیے کسی کا ’خصوصی انکار‘ کرنا یا ’خصوصی طور جھٹلانا‘ سرے سے ضروری نہیں۔[2]  حق یہ ہے کہ ان ہیومن اسٹ آندھیوں کے ہاتھوں ہمارے گھر کی ہر ہر چیز درہم برہم ہونے جارہی ہے۔ 



[1]    مثال کے طور پر ’’المورد‘‘ جس کی ’تحقیق‘ بڑے عرصے سے اس نقطے پر پہنچی ہوئی ہے کہ آج کے ہندوؤں کو مشرک کہنا خلافِ شریعت ہے... یہ لوگ اب اس ’اجتہاد‘ کے کنارے آ کھڑے ہیں کہ ’غیر مسلم‘ ہندوؤں کو شریعت کے کن ابواب میں کافروں والے احکام دیے جائیں اور کن ابواب میں مسلمانوں والےاحکام۔  (البتہ ہے یہ ایک اجتہاد؛ جس میں آپ اِس طرف کو بھی جاسکتے ہیں اور اُس طرف کو بھی!)۔  چنانچہ المورد سے الحاق شدہ ایک اجتہاد یہ آچکا ہے کہ ہندوؤں کو چونکہ ہم مشرک ہی نہیں کہہ سکتے لہٰذا مسلمان عورت کا ایک ہندو مرد سے نکاح بالکل جائز ہے! ان کے ویب سائٹ کی تصویر جس میں یہ ’اجتہاد‘ ہوا ہےہم نے اس ویب لنک پر دی ہوئی ہے:

http://eeqaz.co/?p=5548    نیز    http://eeqaz.co/?p=5551 

[2]   یعنی کفرِ اعراض، جس کی کچھ وضاحت اوپر ایک حاشیہ میں ہوئی۔ مسئلہ کیتفصیل ہمارے زیرِتالیف رسالہ ’’کفر کی اقسام‘‘ میں آئے گی، ان شاء اللہ۔

فہرست موضوعات

مقدمہ:فتنۂ ہیومن ازم

ڈھا دے مسجد، ڈھا دے مندر

مذاہب حاضر کیے جائیں

ادیان کی ریفارم

بتانِ رنگ و خوں میں ایک اور اضافہ: ’مذہب‘!

ہیومن ازم کےلیے ’اسلامی‘ بنیادوں کی فراہمی

کفر کو گھناؤنی چیز بنا کر بھی پیش مت کرو!

مـنــشـــــــــــــوراتِ ايقــــــــــــــــــــاظ

پوسٹ بکس نمبر  10262 لاہور   matbooateqaz@gmail.com       

http://www.eeqaz.org/

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
ثقافت- خواتين
ثقافت-
Featured-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
Featured-
احوال-
ادارہ
کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال بل جب ٹرمپ نے اق۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز