عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, February 22,2020 | 1441, جُمادى الآخرة 27
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-11 IqtidhaUssiratIlmustaqeem آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ابتدائیہ: ابن تیمیہؒ کی تالیف اقْتِضَاءُ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيْم
:عنوان

گناہ، ملت حق والوں سےبھی سرزد ہوتےہیں۔عبادتیں، باطل ملتوں کےلوگ بھی کرتےہیں۔اسکےباوجود؛ ایک ملت وہ جسکےگناہوں تک کی بخشش ممکن۔جبکہ دوسری ملت وہ جسکی نیکیاں تک رد ہوجانا آخرت میں یقینی۔یہ ہےاس کتاب کا مرکزی نقطہ

. اصولعقيدہ . راہنمائى :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

ابتدائیہ

ابن تیمیہؒ کی تالیف

اقْتِضَاءُ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيْم

کتاب کا پورا نام:

اقتِضَاءُ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیْمِ مُخَالَفَةَ أصْحَابِ الْجَحِیْمِ

جس کا لفظی ترجمہ بنے گا:

’’تقاضا کرنا صراط مستقیم کا، کہ خلاف کریں دوزخی ملتوں کے‘‘۔

سورۃ فاتحہ کا ایک مرکزی مضمون۔ اللہ کی حمد، تعظیم، توحید اور استعانت کے بعد جو ایک مدعا عبادت گزار کی زبان پر آتا ہے وہ ہے: صراطِ مستقیم کی ہدایت پانا۔ مگر بات ’’صراطِ مستقیم‘‘ کی دعاء پر ختم نہیں کروا دی جاتی۔ اِس کی نشاندہی کا مضمون بھی عین اسی مقام پر سرے لگوایا جاتا ہے۔ باقاعدہ دو جہت سے:

1)      صراط کی ایک پہچان: صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ

2)      عین اسی صراط کی دوسری پہچان: غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلا الضَّالِّیْنَ

یعنی بات مجرد abstract   یا تصوراتی conceptual   تو رہنے ہی نہیں دی گئی۔ بلکہ ’’صراطِ مستقیم‘‘ ایک مجسم concrete   واقعاتی  factual   صورت میں آپ کے سامنے لادھرا گیا۔ اپنی دو عملی جہتوں  two practical dimensions  کے ساتھ۔

چنانچہ.. اُن ملتوں کا تو ذکر ہی کیا جو کسی آسمانی ہدایت پر چلنے کی سرے سے دعویدار نہیں (کیونکہ ’’ہدایت‘‘ ہے ہی خدا کا دکھایا ہوا راستہ)؛ ہاں  جن لوگوں کا دعویٰ آسمانی ہدایت پر ہونے کا ہے، آپ کے سامنے وہ یہ دو مجسم کردار   ہیں:

1)      ایک ’’أنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ‘‘۔ جس کی تفسیر ہوئی: مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ (النساء: 69) یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔

یہ جو راستہ چلے وہی صراطِ مستقیم ہے۔ اِن کے قدموں کے پیچھے قدم رکھتے چلے جانا ہی راہِ راست پانا ہے: ایک مجسم concrete  واقعاتی factual   معنیٰ میں صراطِ مستقیم۔ ]نہ کہ نکتوں کی بُنتی اور محض غوروخوض سے دریافت ہوتا جانے والا صراطِ مستقیم جو روز اپنی ایک نئی تفسیر سے آشنا کرایا جائے اور ہر تھوڑے تھوڑے زمانے بعد اس کا ٹیڑھ نکالنے والے ظہور فرمائیں! ہر نیا آنے والا یہاں ایسےایسے انکشاف کرے کہ اِس (نکتہ ور) کے آنے سے صراطِ مستقیم ایک بالکل نئے  رخ پر سمجھ آنا شروع ہو اور پچھلے اس میں خبط مارتے دکھائی دیں![ انبیاء کا سلسلہ محمدﷺ پر اختتام کو پہنچا البتہ آپؐ کے صحابہ﷢ یقینی طور پرصدیقین وشہداء کی جماعت ہیں اور نصوص کی پیروی میں ان کا چلا ہوا راستہ جو وہ ہادیِ برحقﷺ سے براہِ راست تعلیم اور تربیت پا کر چلے (وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ)[1] اور آگے چلا کر گئے، ایک مجسم concrete    حقیقی factual  معنیٰ میں صراطِ مستقیم ہے۔[i]

2)      دوسرا کردار: ’’الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ‘‘ جس کی تفسیر ہوئی: یہود۔ اور ’’الضَّالِّیْنَ‘‘ جس کی تفسیر ہوئی: نصاریٰ۔[2]

یہ جو راستہ چلے وہ صراطِ مستقیم سے انحراف ہے اور آسمان پر ایک کھلا بہتان؛ لہٰذا صراطِ مستقیم کا راہی ہونے کےلیے ضروری ٹھہرا کہ ان (مغضوب علیہم و ضالین) کی راہ سے آپ کی بیزاری رہے۔ یہ آسمانی راستے پر ہونے کے دعویدار ہیں مگر آسمان کی جانب سے ان سے صاف اظہارِ بیزاری کر دیا گیا؛ تاوقتیکہ یہ آخری آسمانی ہدایت کا اتباع نہ کر لیں۔ پس ان کی راہ سے قدم قدم پر پناہ مانگنی ہے اور ان کے نشاناتِ قدم سے پل پل چوکنا رہنا ہے۔

یہ ہوا صراطِ مستقیم؛ ایجابی و سلبی ہر دو جہت سے۔

اور اِس سبق کا اعادہ ہر ہر رکعت میں۔

یہی ایک مدعا ہر ہر نماز میں، کئی کئی بار!

بلکہ نماز ہی یہ ہے۔ صراطِ مستقیم کا سرا تھامنا اور اِس راستے پر رہتے ہوئے خدا کی عبادت کا دم بھرنا۔ مدعا بس یہ، جس سے آگے پیچھے حمد اور تسبیح ہے!

*****

غرض ابن تیمیہؒ کی تالیف اقتِضَاءُ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیْمِ سورۃ فاتحہ کے اِسی اختتامی مضمون سے بحث کرتی ہے، یعنی ’’راستے کے مباحث‘‘، ایک مجسم concrete   واقعاتی factual   صورت میں۔ دو علیحدہ علیحدہ راستے۔ دو آمنےسامنے کے صفحات۔ دو الگ الگ جماعتیں:

1) ایک جانب ’’أنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ‘‘، اور

2)  دوسری جانب  مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ اور ضَّالِّیْنَ۔

ایک کی اتباع۔ اور دوسرے سے بیزاری۔ ایک کا راستہ پانے کی دعائیں اور التجائیں۔ اور دوسرے کی راہ پر قدم جا پڑنے سے خدا کی پناہ؛ آخری حد تک ہوشیار اور چوکنا۔

یہ ہے ہدایت یافتہ ہونا۔  یہ ہے صراطِ مستقیم کی عملی نشاندہی۔ اِس کا نام ہے ملت۔ یعنی ایک پختہ، روشن، ممیّز راستہ۔

’’ملت‘‘ کا کوئی معنیٰ ہی نہیں جب تک وہ ایجابی اور سلبی ہر دو جہت سے ممیّز distinct    نہ ہو جائے۔

ظاہر ہے ایسا نہیں ہے کہ یہود و نصاریٰ  یا دیگر باطل ملتوں کے پیروکار خدا کی کوئی کم عبادت کرتے ہیں؛ اور خاص اِسی باعث خدا ان سے ناراض ہے! اور نہ ایسا ہے کہ ملتِ حق کے لوگ خدا کی عبادت کرنے میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں برتتے؛ اور بس اِس سبب خدا ان سے خوش رہتا ہے! قصور اور گناہ ملتِ حق والوں سے بھی سرزد ہوتے ہیں۔ جبکہ خدا کی جستجو میں بڑی بڑی عبادتیں اور ریاضتیں باطل ملتوں کے لوگ بھی کر تے ہیں۔  اس کے باوجود؛ ایک ملت وہ جس کے گناہوں/قصوروں کی (سزا کے ساتھ، یا سزا کے بھی بالکل بغیر) معافی کی امید رہتی ہے۔ جبکہ دوسری ملت وہ جس کی نیکیاں تک ردّ ہو جانا قطعی:

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ.                                                                                                           (آل عمران: 32)

اے نبی فرما دو: اگر تم خدا سے محبت کرنے والے ہو تو پیروکار ہو جاؤ میرے۔ تب اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے قصور معاف فرمائے گا؛ اور اللہ تو ہے ہی غفورٌ رحیم۔

قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ           (آل عمران: 33)

اے نبی فرما دو: اطاعت اختیار کر لو اللہ کی اور اِس رسول کی۔ پھر اگر وہ پھر جائیں تو اللہ ایسے کافروں کو دوست رکھنے والا نہیں۔

پس یہ ہوا ’’ملتوں‘‘ کا مسئلہ۔  اعمال کی نوبت اِس کے بعد۔ پہلے آپ کو ایک روٹ پر چڑھ آنا ہوتا ہے اور اس کے ماسوا راہوں سے صاف بیزاری کر دینا ہوتی ہے۔ ہاں جب اس راستے پر چڑھ آتے ہیں تو پھر خواہ آپ آہستہ چلیں یا تیز، یا کسی وقت لڑکھڑا جائیں یا گِر کیوں نہ پڑیں، جب تک اس صحیح راستے میں ہیں جو باطل سے الگ ہو آیا ہے اور آپ کو خدا کی جانب یکسو کرا چکا  ہے، آپ برابر خدا کو پانے کی آس رکھتے ہیں اور گناہگار سے گناہگار حالت میں بھی خدا کی رحمت اور مغفرت کے امیدوار:

وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ. الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ                                                                                                  (الاعراف: 156، 157)

اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے۔ پس میں اپنی وہ رحمت نام کردوں گا ان لوگوں کے جو ڈر جانے، زکات دینے اور میری آیات پر ایمان رکھنے والے ہوں گے۔ جو پیروی اختیار کرنے والے ہوں گے (میرے)  اس پیغمبر، نبی امیؐ کی؛ کہ جس کا ذکر  وہ لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ (نبیؐ) جو انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ پس وہ جو اِسؐ پر ایمان لائیں اور اِسؐ کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اِسؐ کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔

یہ وجہ ہے کہ توحید اور رسالت کے بغیر اعمال اگر پہاڑ بھی ہوں تو وہ دھول کی طرح اڑا دیے جائیں گے۔ البتہ توحید اور رسالت کے ساتھ گناہوں کے پہاڑ بھی ہوں تو معاف ہونے کی آس ہے۔ اعمال کی تہہ میں یہی حقیقت بار بار دیکھی جاتی ہے۔ جتنی جان آپ کے اِس اعتقاد میں ہو گی اعمال کی قبولیت اُسی کے بقدر بڑھے گی۔  یہ قوتِ یقین، یہ دلجمعی، یہ وثوق اور یہ یکسوئی ہی اصل خداپرستی اور عبادت کی روح ہے؛ اور اِسی کا نام حنیفیت۔

’’ملتوں کا فرق‘‘ پس سب سے پہلا اور سب سے بنیادی سبق ٹھہرا۔ مکی و مدنی قرآن کا ایک بڑا حصہ شروع تا آخر اسی ایک بنیاد کو پختہ کراتا چلا جاتا ہے۔

"ملتوں کا فرق".. ابن تیمیہؒ کی اقتِضَاءُ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیْمِ مُخَالَفَةَ أصْحَابِ الْجَحِیْمِ کا یہی اصل موضوع ہے۔ یہاں ہم اس کے چیدہ چیدہ مقامات کا مطالعہ کریں گے۔



[1]    صحابہ﷢ کےلیے آسمان سے اترنے والی سند certificate   کہ انہوں نے کسی اور سے نہیں بلکہ باقاعدہ نبیﷺ سے قرآن پڑھا اور سمجھا ہے: (وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ)۔ بلکہ صرف کتاب نہیں، حکمت کی  تعلیم بھی آپﷺ سے براہِ راست پائی ہے۔ نیز کتاب اور حکمت کو عقول میں بٹھانے کےلیے نفوس کو جو ایک مخصوص ساخت دینا اور قلوب کی زمین کو جس مخصوص طور پر تیار کرنا ضروری ہوتا ہے، یعنی تزکیہ، صحابہ﷢ پر وہ عمل بھی رسول اللہﷺ کے اپنے دستِ مبارک سے اور آسمانی وحی کی راہنمائی میں ہوا۔

صحابہ﷢ کےلیے قرآن میں نازل ہونے والی آسمانی اَسناد certificates   اور بھی ہیں، جن میں سے ایک: }وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (البقرۃ: 143) ’’اسی طرح ہم نے تمہیں چنیدہ جماعت بنایا تاکہ تم ہو جاؤ لوگوں پر شہداء اور رسولؐ تم پر شہید‘‘{۔

غرض صحابہ﷢ کا آسمانی ہدایت کو علماً و عملاً لے چکے ہونا اور من و عن اُسے آگے انسانوں کو پہنچا کر گئے ہونا، بےشمار آسمانی نصوص سے ثابت ہے۔ یہاں سے اہل سنت کا یہ معلوم اصول ثابت ہوا کہ آسمانی ہدایت کو سمجھ چکے اور اس پر عمل پیرا ہو چکے ہونے میں صحابہ﷢ تمام انسانوں کےلیے معیار ہیں۔ یہاں ’’مقتدیٰ‘‘ کے طور معیار: نبیﷺ ہوئے.. تو ’’مقتدِی‘‘ کے طور پر معیار: صحابہؓ۔ اور یہ سند صحابہ﷢ کو نصوص میں جا بجا ملی ہے۔ ان اَسناد کو چیلنج کرنے والا ٹولہ کہیں خوارج کہلایا تو کہیں روافض۔ دونوں اسلامی تاریخ کے بدترین کردار۔

[2]    ’’غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلا الضَّالِّیْنَ‘‘ کی ماثور تفسیر۔ مسند احمد ودیگر کتبِ احادیث میں بھی مذکور۔ خود قرآنِ مجید میں اِس مضمون کے اشارے جابجا ہیں۔ اس کی تفصیل کتاب میں آئے گی۔



[i]    صحابہؓ کا مدرسہ جو تفسیرِ دین میں اپنے باقاعدہ اصول و معیارات رکھتا ہے اور جس کی سب سے بڑی پہچان ہے: اس کا تسلسل۔ ’’صراط‘‘ کی یہ جہت (أنعمتَ علیھم) ہماری کتاب ’’فہمِ دین کا مصدر‘‘ میں زیربحت آئی ہے۔   جبکہ اس کی دوسری جہت (غیر المغضوب علیھم ولا الضالین) اِس کتاب میں۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
کوٹ پینٹ پہننے کا شرعی حکم
راہنمائى-
حامد كمال الدين
کوٹ پینٹ پہننے کا شرعی حکم سوال: بہت سے مسلم ملکوں میں سوٹ کا رواج ہے، یعنی کوٹ پینٹ۔ جبکہ ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
ادارہ
محمد قطب
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز