عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, September 19,2019 | 1441, مُحَرَّم 19
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-11 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
لہو لہو فلسطین
:عنوان

. احوال :کیٹیگری
عبد اللہ منصور :مصنف

لہو لہو فلسطین

                                                 تحریر : عبد اللہ منصور

فلسطین مسلمانوں کے دِلوں کی دھڑکن ہے۔ مسجدِ اقصیٰ خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی کے بعد تیسری مقدس مسجد ہے جس کی فضیلت قرآنِ مجید میں آئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی معراج بھی اسی مسجد سے ہوئی اور یہ مسجد مسلمانوں کا پہلا قبلہ بھی تھی۔ اس کی اس حیثیت کی وجہ سے مسلمان ہمیشہ سے اس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں۔اب یہ مسجد اسرائیلیوں کے کنٹرول میں ہے جو اسے گرا کر اس کی جگہ اپنا عبادت خانہ بنانا چاہتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے 1949 میں ایک گرین آرمسٹس لائن کھینچ کر فلسطینی اور اسرائیلی ریاست کی حدیں تجویز کی تھیں۔ اس گرین آرمسٹس لائن میں بیت المقدس، جسے انگریزی میں یروشلم کہا جاتا ہے، ایک نیوٹرل ایریا تھا جسےاقوامِ متحدہ کے کنٹرول میں رہنا تھا  ۔ اس وقت تک فلسطین کے یہ علاقے اردن اور مصر کے قبضے میں تھے لیکن 1967 میں اسرائیل نے مصر اور اردن پر حملہ کرکے پورے فلسطین کو مقبوضہ بنا لیا۔ اب بھی اقوامِ متحدہ ان تمام علاقوں کو مقبوضہ (occupied) سمجھتی ہے اور اسرائیل کو تب تک ایک قابض قوت سمجھتی ہے جب تک وہ 1949 کی گرین آرمسٹس لائن پر واپس نہ آجائے جسے اسرائیل ، امریکہ ،روس اور  یورپی ممالک نے تسلیم کررکھا تھا۔ 1967 میں اسرائیل نے حملہ کرکے جہاں باقی فلسطین پر قبضہ کرلیا وہاں بیت المقدس کو بھی مقبوضہ بنا لیا۔ مسجدِ اقصیٰ اسی بیت المقدس میں ہے۔ تب سے اسرائیل مختلف بہانوں سے بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھیننے کی سازشیں کررہا ہے۔  پہلے تو اس نے بیت المقدس کو تقسیم کیا۔ شہر کا 75٪ حصہ مغربی بیت المقدس بنا ڈالا جہاں یہودیوں کو مسلمانوں کے مکانات خالی کرکے لابسایا گیا لیکن اب بھی شہر کے اس حصے میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد رہ رہی ہے جسے مختلف بہانوں سے یہاں سے بے دخل کیا جارہا ہے۔ شہر  کا مشرقی حصہ مسلمانوں کو دیا گیا جو شہر کا مشکل سے 25٪ بنتا ہے۔ پھر اس مشرقی حصے کو  چاروں طرف سے کنکریٹ کی ایک دیوار کھڑی کرکے بند کردیا گیااور فلسطینی اس میں محصور ہو کر رہ گئے۔ مشرقی حصے سے ہزاروں لوگوں کو روزانہ اسکولوں، ہسپتالوں، دفتروں کو جانے کے لیے اس دیوار میں بنائے دروازوں سے تلاشی دے کر جانا  اور آناپڑتا ہےاور اس کے لیے پہلے گھنٹوں لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ جس وقت اسرائیلیوں کا جی چاہتا ہے وہ کسی بہانے گیٹ بند کردیتے ہیں۔ اسی طرح مسجدِ اقصیٰ جو شہر کے مغربی حصے میں ہے اس میں جمعہ پڑھنے پر بھی مسلمانوں پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔عموماً 18 سال سے 40 سال کی عمر کے فلسطینیوں پر  مسجد میں داخلے پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور رمضان میں اس طرح کی پابندیوں میں شدت آجاتی ہے۔ پھر اسی پر بس نہیں! ہر چند ہفتوں میں مذہبی انتہا پسند یہودیوں کو گروہ مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی کے لیے اندر داخل ہو جاتا ہے اور بجائے انہیں روکنے کے اسرائیلی فوج ان کی حفاظت کے بہانے اندر داخل ہو کر مسجدِ اقصیٰ میں موجود مسلمانوں پر تشدد کرتی ہے،  آنسوگیس داغ کر مسجد کی بے حرمتی کرتی ہے اور  نمازیوں کو عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کی تمیز کیے بغیر ڈنڈوں سے پیٹتی ہے۔ یہ سب اقوامِ متحدہ کے قوانین اور قراردادوں کے منافی ہے لیکن بین الاقوامی 'برادری' کے کان پر احتجاجات کے باوجود جوں تک نہیں رینگتی۔

مسجدِ اقصیٰ محض مسجد ہی نہیں ہے بلکہ اس میں ایک دارالعلوم اور ایک اسکول بھی قائم ہے۔ ان میں پڑھنے والے بچوں کو  آئے روز روک دیا جاتا ہے۔ مسجدِ اقصیٰ کو یہودیوں  کے ہاتھوں گرائے جانے کا خطرہ ہر دم رہتا ہے۔1969 میں یہودیوں نے مسجدِ اقصیٰ کو آگ لگادی۔ اس آگ کے نتیجے میں اس کا 800 سال قدیم منبر جل گیا جسےنورالدین زنگی نے بنوایا تھا اور صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کرکے مسجدِ اقصیٰ میں رکھوایا تھا۔ اس کے بعد مسجدِ اقصیٰ کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے آثارِ قدیمہ کی دریافت کے بہانے اسرائیلی حکومت ہر سال کئی کروڑ ڈالر کے فنڈ approve کرتی ہے جن سے مسجد کے ارد گرد سرنگیں کھودی جاتی ہیں۔ ایسے بہت سے منصوبوں تک سیاحوں اور بین الاقوامی ماہرینِ آثارِ قدیمہ (Archeologists)کو رسائی نہیں دی جاتی۔ ایسی کئی سرنگیں بیت المقدس کے رہائشیوں نے دریافت کی ہیں اور انٹرنیشنل میڈیا آؤٹ لیٹس پر ان کے بارے میں خبریں آتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔یہ سب کچھ اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ یہودیوں کے حق میں کوئی تاریخی ثبوت نکال لایا جاسکے اور تاکہ زلزلے کی صورت میں مسجد گر جائے۔  بہت سے مذہبی یہودیوں کا خیال ہے کہ مسجدِ اقصیٰ  کے گر جانے کے بعد ان کے مسیحا کا ظہور ہوگا۔ اس لیے وہ مسجدِ اقصیٰ کو گرانے کے لیے آئے روز مختلف منصوبے عمل میں لاتے رہتے ہیں۔

فلسطینیوں کی جدوجہد میں حالیہ تیزی  اس وجہ سے آئی ہے کیونکہ اسرائیلی حکومت مسجدِ اقصیٰ کے بارے میں بڑے فیصلے کرنے کا ارادہ کررہی تھی۔ اسرائیلی حکومت مغربی بیت المقدس کو مکمل طور پر ایک یہودی شہر بنانا اور مسجدِ اقصیٰ کو تقسیم کرنا چاہ رہی ہے ۔اس لیے بیت المقدس میں جابجا گلیوں کو بند کیا جارہا ہے ۔ نمازیوں  کا داخلہ روکا جارہا ہے اور مسجدِ اقصیٰ میں نوجوانوں کے داخلے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ اس منصوبے کی وجہ سے بہت سے فلسطینی جن میں لڑکیاں اور خواتین بھی شامل ہیں، مسجدِ اقصیٰ میں رباط (جم کر بیٹھ گئے) ہیں۔ اسرائیلی فوج نے مسجدِ اقصیٰ میں گھس کر ان مرابطین کو مارا پیٹا اور گرفتار کیا تا کہ مسجدِاقصیٰ میں کسی قسم کی مزاحمت کرنے والا کوئی فلسطینی باقی نہ رہ سکے۔ مسجدِ اقصیٰ پر اسرائیلی یلغار نے نتن یاہو کے ان عزائم کو اور بھی زیادہ واضح کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم اس بار مسجدِاقصیٰ کو تقسیم کرنا اور مسلمانوں سے چھیننا چاہتا ہے۔ اس بےحرمتی اور قتل و غارت گری پر احتجاج کرنے والوں پر اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے سیدھی گولیاں چلانے کی اجازت دے دی ہے۔ مسجدِ اقصیٰ کا مسئلہ تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور یہ ہمارا دینی فرض ہے کہ ہم مصیبت کے اس وقت میں اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کیلئے اگر کچھ نہیں کرسکتے تو کم از کم آواز ضرور بلند کریں۔

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت!
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
ڈیل آف دی سینچری… مسئلۂ فلسطین کے ساتھ ٹرمپ کی زورآزمائی
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
ڈیل آف سنچری ، فلسطین اور امریکہ
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز