عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-10 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
یزید پر لعنت اور نہ یزید سے محبت
:عنوان

امام احمد نے جواب دیا: بیٹے! کیا کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یزید سےمحبت کا روادار ہو سکتا ہے؟ ایک انتہا یہ کہ یزید کافر تھا یا یہ منافق تھا۔ دوسری انتہا: یزید 1 صالح شخص تھا امامِ عادل تھا

. بازيافتتاريخ :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

یزید پر لعنت اور نہ یزید سے محبت

ماخوذ از فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫

ویسے تو ان نزاعات میں جتنی لمبی چاہیں بات کر لیں، یہ کبھی ختم ہونے میں نہ آئے گی۔ تاہم امت کے کچھ محققین ایسے ہیں جو نہ صرف اعتدال میں کمال ہیں، بلکہ اہل سنت کے مواقف کو جاننے اور نقل کرنے میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ ایسے ہی چنیدہ ناموں میں سے ایک ہیں۔ ائمہ کے مواقف کا استقصاء کرنے میں اس شخصیت کا جواب نہیں۔ مسئلۂ زیربحث پر افراط اور تفریط سے نکلنے کےلیے آئیے مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ سے ایک فصل پڑھیں۔

یزید کے معاملے میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہیں: دو انتہائیں، اور تیسری راہِ وسط۔

دو انتہاؤں میں سے:

1.                ایک کا کہنا ہے کہ یزید کافر تھا۔ منافق تھا۔ اسی نے نواسۂ رسول کے قتل کی تمام تر سعی کی، جس سے اس کا مقصد بھی رسول اللہ  سے اپنا بدلہ نکالنا تھا اور اپنے آباءو اجداد کا انتقام لینا اور اپنے نانا عتبہ اور نانا کے بھائی شیبہ اور ماموں ولید بن عتبہ وغیرہ کے خون کا حساب بے باق کرنا کہ جن کو نبی نے بدر کے روز علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حمزہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی تلواروں سے قتل کرایا تھا۔ اِس فریق کا کہنا ہے کہ یزید نے در اصل بدر کے بدلے چکائے تھے اور جاہلیت کے حسابات بے باک کئے تھے۔ اس فریق نے یزید کی زبان سے یہ شعر بھی کہلوائے ہیں:

لما بدت تلک الحمول وأشرفت             تلک الرؤوس علی ربیٰ جیرونٖ

نعق الغراب، فقلت نح أو لا تنح  فلقد قضیت من النبی دیونی

جس وقت وہ رخت ہائے سفر سامنے آئے اور وہ (نیزوں پر گاڑے ہوئے) سر جیرون کی چوٹیوں پر سے نظر آنے لگے، تب کوا نوحہ کرنے لگا۔ میں نے کہا نوحہ کر یا نہ کر، میں نے تو نبی () کے ساتھ اپنے قرض چکا لئے!

اس فریق کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس موقعہ پر یزید مستی میں آ کر ابن الزبعری کے یہ اشعار بھی گانے لگا جو زبعری نے اُحد میں مسلمانوں کو پچھاڑنے کے موقعہ پر گائے تھے:

لیت أشیاخی ببدر شھدوا         جزع الخزرج من وقع الأسل

قد قتلنا الکثیر من أشیاخھم               وعدلناہ ببدر فاعتدل

کاش میرے بڑے جو بدر میں مارے گئے آج دیکھ لیتے کہ کس طرح ہمارے نیزوں کی ضربوں سے خزرج کے لوگ تڑپتے پھر رہے ہیں۔ ہاں تو آج ہم نے اُن کے بڑوں کی ایک کثیر تعداد موت کے گھاٹ اتار ڈالی، اور ادلے کا بدلہ کر ڈالا۔ تو آج جاکر معاملہ برابر برابر ہوا۔

یہ فریق اسی طرح کی اور بہت سی باتیں بیان کرتا ہے۔

ایسی باتیں زبان پر لانا رافضہ کےلیے تو ویسے ہی بہت آسان ہے، جو کہ اس سے پہلے ابو بکرؓ اور عمرؓ اور عثمانؓ کی تکفیر کر چکے ہوتے ہیں۔ اور ایسوں کےلیے ظاہر ہے یزید کی تکفیر کرنا کیا مسئلہ ہے؟!

2.                 دوسری انتہا پر چلے جانے والوں کا گمان ہے کہ یزید ایک صالح شخص تھا۔ امامِ عادل تھا۔ بلکہ ان ننھے صحابہ میں سے تھا جو رسول اللہ  کے دور میں پیدا ہوئے تھے اور یہ کہ پیدائش کے بعد اس کو رسول اللہ  کے پاس لایا گیا، آنحضورﷺ نے اس کو گود میں اٹھایا اور برکت کی دعا دی! بلکہ ان میں سے بعض تو اس قدر آگے گئے کہ یزید کو ابو بکرؓ اور عمرؓ پر فضیلت دی۔ کچھ تو اس کو نبی کہنے سے نہیں چوکے۔ یہ شیخ عدی یا حسن مقتول سے بھی ایک جھوٹا قول منسوب کرتے ہیں کہ: ستر ولی ایسے ہوئے جن کے چہرے موت کے وقت قبلہ سے پھیر کر دوسری طرف کر دیے گئے، اس لئے کہ (افضلیت) یزید کی بابت توقف کیا کرتے تھے!

عدویہ اور اکراد کے غالی طبقوں اور ان جیسے کچھ دیگر طوائف کا یہی مذہب ہے۔ یہ درست ہے کہ شیخ عدی بنی امیہ میں سے تھے۔ ایک صالح فاضل شخص تھے۔ مگر یہ بات کہیں پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی کہ شیخ عدی نے لوگوں کو سوائے اسی سنت راستے کے کسی اور چیز کی دعوت دی ہو جو کہ سبھی (اہلسنت) کی دعوت رہی ہے، مثلاً (ان کے دور کے بزرگ) شیخ ابو الفرج مقدسی۔ شیخ عدی کا وہی عقیدہ رہا ہے جو شیخ ابو الفرج مقدسی کا تھا، یعنی خالص سنت۔ لیکن ان لوگوں نے شیخ عدی کی نسبت سے سنت کے ساتھ اور بہت سی چیزیں شامل کر دیں، کہیں موضوع احادیث اور کہیں اللہ کی صفات میں تشبیہ۔ کہیں شیخ عدی اور یزید کے معاملہ میں غلو۔ کہیں پر روافض کی مذمت کی بابت شدید انداز کا غلو، یہاں تک کہ عقیدہ اختیار کر لینا کہ رافضی توبہ بھی کر لے تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی! وغیرہ وغیرہ۔

اوپر جو دونوں انتہائیں بیان ہوئیں، ظاہر ہے وہ کسی بھی انسان کے نزدیک جو ذرہ بھر عقل کا مالک ہے اور دورِ سلف سے اور اس وقت کے امور سے ذرہ بھر واقف ہے اس پر ان دونوں انتہاؤں کا باطل ہونا آپ سے آپ واضح ہے۔ یہی وجہ ہے سنت پر پائے جانے والے معروف اہل علم میں سے کسی ایک کی بھی ان ہر دو انتہاؤں میں سے کسی ایک سے کوئی نسبت نہیں رہی۔ نیز سب عقلاءجو رائے رکھنے میں معتبر ہیں اور تاریخی روایات کھنگالنے میں تجربہ رکھتے ہیں ایسی کسی انتہا کی طرف نہیں گئے۔

تیسرا قول (جو کہ صحیح ہے اور وسط کی راہ ہے) یہ ہے کہ: یزید مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔ اس کی نیکیاں بھی ہیں، بدیاں بھی۔ یہ (دورِ نبوت میں نہیں) بلکہ خلافت عثمانؓ کے عہد میں پیدا ہوا۔ کافر نہیں تھا۔ مگر اس کے سبب سے قتل حسین رضی اللہ عنہ ایسا واقعہ رونما ہوا، اہل حرہ کے ساتھ بھی اس نے جو کیا وہ معروف ہے، یزید نہ صحابی ہے اور نہ اللہ کے نیک اولیاءمیں سے ہے۔ یہی قول اہل سنت و جماعت میں سے عام اہل عقل و اہل علم کا اختیار کردہ ہے۔

اس کے بعد یہ (یعنی تیسرا فریق) آگے مزید تین سمتوں میں تقسیم ہوا:

                I.            ایک طبقہ یزید پر لعنت کرنے کا قائل ہوا۔

            II.            ایک فریق یزید کے ساتھ محبت رکھنے کا قائل ہوا۔

       III.            اور ایک فریق (جوکہ وسط کی راہ ہے) نہ اس کو دشنام دینے کا قائل ہے اور نہ اس سے محبت رکھنے کا روادار۔ یہ تیسرا قول ہی امام احمدؒ سے منصوص ہے۔ اسی پر امام احمدؒ کے تلامذہ و اصحاب میں سے اہل اعتدال پائے گئے اور اسی پر دوسرے مذاہب کے اعتدال والے طبقے رہے ہیں۔

امام احمدؒ کے بیٹے صالح بن احمد روایت کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: کچھ لوگوں کا مذہب ہے کہ وہ یزید سے محبت رکھیں گے۔ والد صاحب (امام احمد) نے جواب دیا: بیٹے! کیا کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یزید سے محبت کا روادار ہو سکتا ہے؟ میں نے عرض کی: ابا جان! تو پھر آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے؟ والد صاحب (امام احمد) نے جواب دیا: بیٹے! تو نے اپنے باپ کو کسی کو بھی لعنت کرتے ہوئے کب دیکھا ہے؟

مہنا روایت کرتے ہیں: میں نے امام احمد سے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کی بابت پوچھا تو امام احمدؒ نے جواب دیا: وہی تو ہے جس نے اہل مدینہ کا حشر کیا ۔ میں نے عرض کی: اس نے اہل مدینہ کے ساتھ کیا کیا؟ فرمایا: لوٹ مار مچائی۔ میں نے پوچھا تو کیا اس سے حدیث روایت کی جائے گی؟ فرمایا: اس سے ہرگز حدیث روایت نہیں کی جائے گی۔ قاضی ابو یعلی نے (امام احمد سے) یہ روایت اسی طرح بیان کی ہے۔

امام ابو محمد مقدسیؒ سے جب یزید کی بابت دریافت کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: جو چیز مجھے (سلف سے) پہنچی ہے وہ یہی ہے کہ: نہ اس پر دشنام اور نہ اس کے ساتھ محبت۔

یزید اور اس جیسے دیگر لوگوں کی بابت یہی قول سب سے زیادہ عدل اور صحت پر مبنی قول ہے۔

جہاں تک یزید پر دشنام اور لعنت بھیجنے سے اجتناب کا معاملہ ہے تو وہ اس بنا پر کہ (ان اہل علم کے نزدیک) اس کا کوئی ایسا فسق ثابت نہیں ہوا جو اس پر لعنت کا متقاضی ہو۔ یا پھر اس بنا پر کہ ایک فاسق شخص کو متعین کر کے اس پر لعنت نہیں کی جائے گی، کوئی عالم اس کی "تحریم" کا قائل ہونے کے باعث اس سے احتراز کرے گا تو کوئی عالم اس کی "تنزیہ" کا قائل ہونے کے باعث۔ کیونکہ صحیح بخاری میں بروایت عمرؓ حمار نامی ایک شخص کے قصہ میں آتا ہے، جس کو شراب خوری کے مقدمہ میں بار بار لایا جاتا اور کوڑے لگتے، کہ جب ایک صحابی نے اس پر لعنت کی تو نبی نے اس کو منع کرتے ہوئے فرمایا: "اس پر لعنت مت کرو، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے"۔ علاوہ ازیں ایک متفق علیہ حدیث میں نبی نے فرمایا: لعن المؤمن کقتلہ "مومن پر لعنت کرنا بھی ایسا ہی جیسا کہ اس کو قتل کرنا"۔ جبکہ ہم جانتے ہیں نبی نے ایک عمومی معنیٰ میں شراب اور شراب خور ہر دو پر لعنت فرمائی ہے۔ جبکہ اس مذکورہ بالا حدیث میں جس لعنت سے ممانعت ہوئی وہ کسی شخص کو متعین کر کے لعنت کرنے سے متعلق ہے۔ اس کا معاملہ ان نصوص جیسا ہی ہے جن میں شریعت نے یتیموں کا مال کھانے والے شخص یا زانی یا چور کو کوئی وعید سنائی ہے۔ پھر بھی ہم کسی شخص پر جو ایسے کسی جرم میں ملوث پایا گیا ہو، اس کو متعین کر کے یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وہ اہل جہنم میں سے ہے۔ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ایک نص کا اقتضاءکسی دوسری نص کے اقتضاءکے ساتھ متعارض ہونے کے باعث ٹل جائے۔ مثلاً کسی کا توبہ کر لینا۔ ایسی نیکیاں کر لینا جو برائیوں کو مٹا ڈالیں۔ یا مصائب جو آدمی کےلیے کفارہ بن جائیں۔ یا کوئی شفاعت جو خدا کے ہاں قبول ٹھہرے۔ وغیرہ وغیرہ۔

یزید پر لعنت کے قائل اہل علم میں سے ایک تعداد ایسی ہے جو اس لعنت کو مباح جانتے ہوئے اس بات کی قائل ہے کہ کوئی شخص اگر یزید پر لعنت نہیں کرتا تو وہ ایسا ہی ہے کہ کوئی آدمی کسی مباح فضول گوئی کو ترک کر کے رہے۔ نہ کہ اس باب سے کہ اس پر لعنت کرنا مکروہ ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ یزید کے ساتھ محبت نہیں رکھی جائے گی، تو وہ اس بنا پر کہ محبتِ خاصہ تو رکھی جاتی ہے نبیوں کے ساتھ، صدیقین کے ساتھ، شہداءکے ساتھ اور صالحین کے ساتھ۔ جبکہ یزید ان چاروں اصناف میں نہیں آتا۔ نیز رسول اللہ نے فرما رکھا ہے: المرءمع من أحب "آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس کی محبت ہو" اب جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے کبھی یہ اختیار نہیں کرے گا کہ وہ یزید کے ساتھ ہو یا اس جیسے دیگر بادشاہوں کے ساتھ ہو جو عادل نہیں ہیں۔

اہل علم کا یہ موقف کہ یزید کے ساتھ محبت نہیں رکھی جائے گی، دو بنیادوں پر قائم ہے:

پہلی یہ کہ: یزید سے کوئی ایسے صالح اعمال صادر نہیں ہوئے جو اس کے ساتھ محبت کا موجب ہوں۔ لہٰذا وہ جبراً مسلط کئے گئے بادشاہوں ایسا ایک بادشاہ رہ جاتا ہے۔ اِس نوع کے اشخاص سے محبت کرنا شریعت کا تقاضا نہیں ہے۔

دوسری یہ کہ: یزید سے ایسے اعمال سرزد ہوئے جو اس کو ظالم اور فاسق ٹھہرانے والے ہیں، خصوصاً قتل حسین رضی اللہ عنہ اور واقعۂ اہل حرہ۔

٭٭٭٭٭

اہل علم میں سے وہ بزرگ جنہوں نے یزید پر لعنت کی ہے، مانند ابو الفرج بن الجوزی اور کیا ہراسی { ابو الحسن علی بن محمد بن علی طبری، بہ لقب عماد الدین، شافعی فقیہ، جن کا تعلق طبرستان سے تھا، بغداد کے مدرسہ نظامیہ میں تدریس کے منصب پر فائز رہے، پیدائش 354ھ، وفات بغداد میں 405ھ۔ } وغیرہ، تو اس کی ان کے نزدیک تین بنیادیں ہو سکتی ہیں:

o   یا تو یہ بنیاد یہ اختیار کرتے ہوئے کہ یزید سے ایسے افعال صادر ہوئے ہیں جو اس پر لعنت کو مباح ٹھہراتے ہیں۔

o   یا پھر وہ اس بات کے قائل ہیں کہ یزید فاسق ہے اور ہر فاسق پر لعنت جائز ہے۔

o   اور یا وہ اس بات کے قائل ہیں کہ ایک بدی کرنے والے شخص پر لعنت کرنا جائز ہے اگر چہ اس پر فاسق ہونے کا حکم نہ بھی لگایا گیا ہو، جیسا کہ اہل صفین کی بابت آتا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر قنوت کرتے رہے تھے؛ چنانچہ علیؓ اور ان کے اصحاب اہل شام میں سے کچھ لوگوں کو متعین ٹھہرا کر ان پر لعن کرتے رہے تھے، اسی طرح اہل شام بھی فریق دیگر کے لوگوں پر لعن کرتے رہے تھے۔ حالانکہ (یہ ایک علمی مسئلہ ہے کہ) تاویل سائغ رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ قتال میں ملوث ہو جانے والے مسلمان خواہ وہ عادل ہوں یا باغی، ان میں سے کسی کو فاسق نہیں ٹھہرایا جاتا۔ یا پھر ایک آدمی کے کچھ نہایت سنگین گناہوں کے باعث اس پر لعنت کر دی جاتی ہے اگرچہ آدمی سب کے سب فاسق لوگوں پر لعنت نہ بھی کرنے والا ہو، جیسا کہ رسول اللہ  نے اہل معاصی میں سے کچھ انواع پر لعنت فرمائی یا نافرمانوں میں سے کچھ خاص نافرمانوں پر لعنت فرمائی اگرچہ آپ نے سب اہل معاصی اور سب نافرمانوں پر لعنت نہ بھی فرمائی ہو۔

تو یہ تین بنیادیں ہوئیں ان علماءکے نزدیک جو یزید پر لعنت کے قائل ہوئے ہیں۔

٭٭٭٭٭

رہا اہل علم کا دوسرا فریق جوکہ یزید کے ساتھ محبت رکھنے کا قائل ہوا ہے مانند غزالیؒ اور دستیؒ وغیرہ، تو یہ رائے رکھنے کے معاملہ میں اس فریق کی یہ دو بنیادیں ہیں:

پہلی یہ کہ: یزید مسلمان ہے۔ عہدِ صحابہؓ میں امت کا ولی امر رہا ہے اور صحابہؓ میں سے جو لوگ اس کے عہد تک رہ گئے تھے وہ اس کی امارت میں رہے ہیں۔ نیز اس کے اندر اچھے خصائل بھی تھے۔ رہ گیا واقعۂ حرہ اور دیگر امور جن کی بنیاد پہ یزید پر نکیر ہوتی ہے تو ان معاملات میں وہ تاویل رکھتا تھا۔ چنانچہ اس فریق کا قول ہے کہ یزید مجتہد مخطی ٹھہرتا ہے۔ اس فریق کا کہنا ہے کہ خود اہل حرہ ہی نے بیعت توڑنے میں پہل کی تھی اور اس پر عبد اللہ بن عمرؓ نے اُن پر نکیر بھی کی تھی۔ رہ گیا قتلِ حسینؓ تو یزید نے اس کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ وہ اس پر راضی ہوا تھا، بلکہ اس کی جانب سے اِس پر اظہار درد ہوا تھا، جن لوگوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا یزید نے ان کی مذمت کی تھی، نیز حسین رضی اللہ عنہ کا سر بھی یزید کے پاس نہیں لایا گیا بلکہ ابن زیاد کے پاس لایا گیا تھا۔

دوسری یہ کہ: صحیح بخاری کی حدیث سے بروایت عبد اللہ بن عمرؓ ثابت ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا تھا: أول جیش یغزو القسطنطینیة مغفور لہ "وہ پہلا لشکر جو قسطنطنیہ پر یورش کرے گا، بخشا جائے گا"۔ جبکہ وہ پہلا لشکر جس نے قسطنطنیہ پر یورش کی، اس کا امیر یزید تھا۔

٭٭٭٭٭

مبنی بر تحقیق بات البتہ یہی ہے کہ: ہر دو فریق کے قول میں اجتہادِ سائغ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اعمال بد کرنے والوں پر (معین کر کے) لعنت کرنے کا مسئلہ (کوئی متفق علیہ مسئلہ نہیں بلکہ) اس کے اندر اجتہاد کی گنجائش پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ایسے شخص کی محبت کا مسئلہ ہے جس کے ہاں حسنات اور سیئات ہر دو پائی گئی ہوں۔ بلکہ ہمارے ہاں یہ کوئی امرِ محال نہیں کہ ایک ہی شخص میں ستائش اور مذمت ہر دو کے اسباب جمع ہوں۔ ثواب اور عذاب ہر دو کے موجبات جمع ہوں۔ کسی حوالے سے ایک آدمی کی نمازِ جنازہ پڑھ لینا اور اس کےلیے دعائے خیر کر دینا بھی جائز ہو اور کسی دوسرے حوالے سے اس کو لعنت اور سب و شتم کا محل بھی ٹھہرایا جائے۔

در اصل اہل سنت کے ہاں قاعدہ یہ ہے (اور بالاتفاق ہے) کہ اہل ملت میں سے جو فساق ہیں اگر وہ دوزخ میں چلے جائیں یا دوزخ میں جانے کے سزاوار قرار پائیں تو بھی وہ کبھی نہ کبھی جنت میں داخل ہونے والے ہیں۔ چنانچہ ایک ہی شخص کے معاملہ میں ثواب اور عذاب ہر دو مجتمع ہو سکتے ہیں اور ان دو باتوں کے اندر کوئی تعارض نہیں۔ البتہ خوارج اور معتزلہ اس اصول کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص ثواب کا مستحق ہے وہ عذاب کا سزاوار نہیں اور جو عذاب کا سزاوار ہے وہ ثواب کا حقدار نہیں ہو سکتا۔ عقیدہ کا یہ ایک مشہور مسئلہ ہے اور اس کا مفصل بیان کسی اور مقام پر ہی ہو سکتا ہے۔

٭٭٭٭٭

رہ گیا مسئلہ دعائے خیر اور دعائے بد کا، تو اس کی تفصیل جنائز کے باب میں ہے۔ چنانچہ یہ ایک معلوم بات ہے کہ مسلمانوں کے فوت شدگان کا، خواہ کوئی نیکوکار ہو یا بدکار، جنازہ تو پڑھا جاتا ہے(جو کہ دعائے استغفار ہی ہوتی ہے)۔ البتہ ایک فاجر بدکار پر لعنت بھی کی جاتی ہے، کوئی اس کو متعین کر کے لعنت کر دیتا ہے تو کوئی اس کی نوع پر (یعنی "اس جیسوں" پر لعنت کر دیتا ہے)۔ گو اول الذکر زیادہ اعتدال پر مبنی ہے۔ یہی جواب میں نے (ابن تیمیہؒ نے) مغل بادشاہ بولائی خان کے سپہ سالار کے روبرو دیا، جب مغل لشکر بغداد پر چڑھائی کےلیے پیش قدمی کرتے ہوئے دمشق آگئے تھے، تب میرے اور اس کے مابین گفتگو کے کچھ دور چلے تھے۔ اس نے مجھ سے جو سوالات پوچھے ان میں یہ بھی تھا کہ: تم لوگ یزید کی بابت کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: نہ ہم اس کو دشنام دینے والے ہیں اور نہ اس سے محبت کرنے والے۔ کیونکہ وہ کوئی صالح انسان نہیں تھا جس سے ہم محبت کریں۔ البتہ مسلمانوں میں سے ہم کسی شخص کو متعین کرکے دشنام بھی نہیں دیتے۔ مغل بادشاہ بولا: کیا تم اس پر لعنت نہیں کرتے؟ کیا وہ ظالم نہیں تھا؟ کیا وہ حسینؓ کا قاتل نہیں؟ میں نے جواب دیا: ہمارے سامنے جب کسی ظالم کا ذکر ہو، جیسے حجاج بن یوسف یا اس جیسے دیگر، تو اس موقعہ پر ہم ویسے ہی الفاظ بولنا مناسب جانتے ہیں جیسے قرآن میں مذکور ہوئے: أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ (ہود: 18) یعنی "خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت"۔ البتہ ہم کسی شخص کو متعین کر کے لعنت نہیں بھیجتے۔ اگرچہ علماءمیں سے ایک جماعت یزید پر لعنت کرتی ہے، اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے اندر اجتہادات کا اختلاف ہو سکتا ہے۔ تاہم پہلا قول ہمیں زیادہ پسند ہے اور ہمارے نزدیک بہتر نظر آتا ہے۔ ہاں جس کسی نے حسینؓ کو قتل کیا ہے اس پر لعنت ہو اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی۔ نہ اللہ اس سے کوئی تاوان قبول کرنے والا ہے اور نہ کوئی معاوضہ۔

مغل افسر بولا: تو کیا تم اہل بیت سے محبت نہیں کرتے؟ میں نے جواب دیا: اہل بیت کی محبت ہمارے نزدیک فرض ہے۔ واجب ہے۔ اور ثواب کا موجب ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں صحیح مسلم کی حدیث بروایت زید بن ارقم پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے کہ: رسول اللہ نے مکہ اور مدینہ کے مابین خم نامی ایک کنویں (غدیر) پر ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: "اے لوگو! میں تم میں دو امانتیں چھوڑے جا رہا ہوں، کتاب اللہ، آپ نے کتاب اللہ کا ذکر کیا اور اس پر نہایت زور دیا، پھر کہا: اور میرا کنبہ میرے اہل بیت، میں تمہیں اپنے اہل بیت کی بابت اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کی بابت اللہ کی یاد دلاتا ہوں"۔ میں نے سپہ سالا سے کہا: اور ہم روزانہ نماز کے اندر یہ کہتے ہیں: اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم انک حمید مجید، وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی آل ابراھیم انک حمید مجید۔ سپہ سالار بولا: تو پھر اہل بیت سے بغض کرنے والے کون ہیں؟ میں نے جواب دیا: جو اہل بیت سے بغض رکھے اس پر لعنت ہو اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی، اللہ نہ اس سے کوئی تاوان قبول کرے اور نہ کوئی معاوضہ۔

تب میں نے وہاں بیٹھے ہوئے مغل وزیر سے پوچھا کہ اس سپہ سالار نے ہم سے یزید کی بابت سوال کیوں کیا، جبکہ یہ تاتاری ہے؟ تو اس نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے اس کو کہا تھا کہ اہل دمشق نواصب ہیں۔ تب میں نے آواز اونچی کر کے کہا: جس شخص نے یہ کہا ہے جھوٹا ہے، اور جو شخص اس بات کا قائل ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اللہ کی قسم اہل دمشق میں کوئی نواصب نہیں، میں نے ان میں کوئی ایک بھی ناصبی نہیں دیکھا، اور اگر کوئی شخص دمشق میں کھڑا ہو کر علی رضی اللہ عنہ کی عیب جوئی کرے تو سب مسلمان اس پر پل پڑیں۔ ہاں پہلے کسی زمانے میں ایسا تھا جب بنو امیہ اس ملک کے والی ہوا کرتے تھے اور بنو امیہ میں سے بعض نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دشمنی اور آپؓ پر تبرا کرنے کا انداز اختیار کیا تھا۔ آج البتہ دمشق کے اندر ان میں سے کوئی باقی نہیں۔

(ماخوذ از مجموع فتاویٰ امام ابن تیمیہ جلد 4 ص 481 تا 488) اصل عربی عبارت کا ویب لنک:

http://shamela.ws/browse.php/book-7289#page-1803

(اردو استفادہ: حامد کمال الدین)

 

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
سن ہجری کے آغاز پر لکھی گئی ایک خوبصورت تحریر
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
وہ کتنا سایہ دار شجر تھا
بازيافت- سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
وہ کتنا سایہ دار شجر تھا   مہتاب عزیز   کیا ہی زندہ انسان تھا جو آج ہم میں نہ رہا۔ اس سفید ریش بوڑھ۔۔۔
سنگم
بازيافت- سلف و مشاہير
عبد اللہ منصور
سنگم   عبداللہ منصور کوٹ مٹھن سے ذرا پرے پانچ دریاؤں کا سنگم ،پنج ند واقع ہے۔ وادیوں، گلزاروں، میدانوں ۔۔۔
اسلام کی ’اجارہ دار‘ قومیں
بازيافت- تُراث
حامد كمال الدين
اسلام کی ’اجارہ دار‘ قومیں مسلم روہنگیا پر شرق تا غرب دل تڑپتے دیکھے تو وہ احساسات پھر عود کر۔۔۔
عشرذوالحج.. موحدین کے ’’قومی دن‘‘
اصول- عبادت
بازيافت- تُراث
حامد كمال الدين
عشرذوالحج.. موحدین کے ’’قومی دن‘‘ یہ کچھ خاص دن اُس کی بڑائی کرنے کے... کچھ مبارک ایام..۔۔۔
حُنَفَاء کا حج و قربانی.. اور ’انتھروپالوجسٹوں‘ کا شرک
بازيافت- تُراث
ثقافت- علوم طبعى وسماجى
اصول- عبادت
حامد كمال الدين
حُنَفَاء کا حج و قربانی.. اور ’انتھروپالوجسٹوں‘ کا شرک ’کھنڈر پرستی‘ کی ایک عالمی تحریک جس کا ۔۔۔
مطالعہ تاریخ چند مبادیات
بازيافت- تاريخ
ڈاكٹر محمد عبدہ
مطالعہ تاریخ چند مبادیات ڈاکٹرمحمد عبدہ. ترجمہ: محمد زکریا تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری کے سامن۔۔۔
اولمپکس۔ تاریخی و مذہبی پس منظر
بازيافت- تاريخ
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اولمپکس تاریخی و مذہبی پس منظرتحریر: حامد کمال الدین قدیم دنیا کے سات عجوبے اگر آپ کے مطالعہ سے گزرے ہوں، ی۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز