عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Wednesday, December 12,2018 | 1440, رَبيع الثاني 4
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-09 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
جدت پسند: مرزا قادیانی کو ایک ’مسلم گروہ کا امام‘ منوانے کی کوشش! دنیوی اور اخروی احکام کے خلط سے ’دلیل‘ پکڑنا
:عنوان

. باطلفرقے . ایقاظ ٹائم لائن :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

جدت پسند حضرات کی پریشانی:

مرزا قادیانی کو ایک ’مسلم گروہ کا امام‘ منوانا!

دنیوی اور اخروی احکام کے خلط سے دلیل پکڑنا!

مدیر ایقاظ

کچھ اصحاب نے ہمیں  توجہ دلائی کہ سوشل میڈیا پر ایک بحث گرم ہے جس میں کچھ جدت پسند حضرات امت سے اپنے تفرد اور شذوذ کی راہ پر چلتے ہوئے.. آنجہانی مرزا قادیانی کو ’ایک مسلم گروہ کا امام‘ منوانے پر تلے ہوئے ہیں..

سوشل میڈیا پر چلنے والی ان بحثوں کے حوالے سے جو چیزیں ہمیں موصول ہوئیں، ان میں کئی فاضل اصحاب (بطور خاص قابل ذکر: جناب زاہد صدیق مغل) نے ان جدت پسند حضرات کو بڑے اچھےاچھے جواب دے رکھے ہیں ۔ اِن جوابات کو یہاں دہرانا تحصیلِ حاصل ہو گا۔  صرف ایک اشکال ہے جس کی بابت ، واقعتاً ضروری معلوم ہوا، کچھ بات کر دی جائے۔ اور وہ ہے دنیوی و اخروی احکام کا خلط۔

قادیانیوں کی تکفیر پر اہل اسلام نے جو ایک معروف موقف اپنا رکھا ہے اور مشرق تا مغرب پچھلی ایک صدی سے اس پر مسلمانوں میں کامل یکسوئی پائی گئی ہے، ’نئے‘ کے شوقین حضرات اس پر اعتراضات کی تلاش جاری رکھیں گے (خصوصاً جبکہ کچھ ’عالمی تقاضے‘ بھی یہ بند توڑنے کےلیے مسلسل زور مار رہے ہوں؛ اور کچھ ابلاغی فورَم اس پر نئے سے نئے ’دلائل‘ کےلیے منہ کھولے بیٹھے ہوں)۔ دوسری جانب ہمارے متبع سنت طبقوں کی طرف سے ان کو حسب توفیق جواب دیے جاتے رہیں گے۔ یہ سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔ اس میں کوئی بات نئی نہیں۔ ہاں کسی کسی وقت کوئی نئی موشگافی سامنے آتی ہے تو اس پر کوئی تنبیہ ضروری ہو جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک  نکتہ وری اب یہ ہوئی ہے کہ: اس بات کا علم چونکہ اللہ کے پاس ہے کہ کون درحقیقت کافر ہے اور کون کافر نہیں ہے، لہٰذا ہم انسانوں کا حق ہی نہیں ہے کہ روئے زمین پر بسنے والے کسی انسان کو کافر کہیں خواہ خدا کی جانب سے بتایا ہوا کفر کا کوئی وصف اس پر کیسا ہی منطبق ہو۔ یہ معاملے آخرت میں کھلیں گے۔ دنیا میں خدا صرف انبیاء کے ذریعے انبیاء کے دور کے کچھ لوگوں کو کافر قرار دیتا ہے۔ وہ کچھ معیَّن لوگ ہوتے ہیں۔ اب انبیاء کے بعد کسی کو کافر کہنا دنیا میں آپ کےلیے ممکن ہی نہیں کیونکہ وحی کا سلسلہ منقطع ہے! اس اشکال پر ہم کچھ مختصر گفتگو کریں گے۔ تفصیل میں جانا فی الوقت ہمارے لیے ممکن نہ ہوگا۔

ان حضرات کا یہ اشکال قابل توجہ ہوتا اگر یہ ثابت فرما دیتے کہ عہد نبوت میں جن جن کو کافر سمجھا گیا وہ محض کوئی ظاہر پر لگایا جانے والا حکم نہ تھا (ظاہر پر حکم: جس کے لگانے میں انسانی غلطی کا پورا امکان ہوتا ہے) بلکہ قطعی طور پر وہ ایک باطنی و اخروی حکم ہوتا تھا (جو صرف اللہ تعالیٰ ہی لگا سکتا ہے، اور جس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں) جس کی اللہ نے بذریعہ پیغمبر لوگوں کو خبر دے دی ہوتی تھی!

یعنی... یہ شبہہ درخورِ اعتناء ہوتا  اگر عہدنبوت میں:

§     انسانوں کی طرف سے لگائے جانے والے دنیوی احکام

§     اور اللہ کے ہاں جا کر سامنے آنے والے اخروی  فیصلے

دونوں لازم و ملزوم ہوتے؛ اور ان میں کوئی فرق آنے کا امکان قطعی معدوم مانا گیا ہوتا۔

حالانکہ... ایسا عہدِنبوت میں بھی نہیں تھا۔

عہدنبوت میں بھی... دنیا میں لگنے والے ظاہری احکام اُن باطنی احکام کو لازم نہیں تھے جو آخرت میں جا کر سامنے آنے والے ہیں۔

مختصراً اس شبہہ کو ہم کہیں گے: دنیوی اور اخروی احکام کے مابین خلط۔

ذیل میں اس کی کچھ وضاحت کی جاتی ہے۔

*****

سب سے پہلے، یہ اصول ہی کہاں آیا ہے کہ ایک ایسا شخص جس سے کفر ظاہر ہوا، اگر وہ نبی کے زمانے میں پایا گیا اور اُسے کفر سے متصف پاتے ہوئے مسلمانوں نے دنیا میں اُسے کافر قرار دیا تو ضرور بضرور وہ اللہ کے ہاں  بھی کافر ہی نکلے گا؟ آخر یہ بات لازم ہی کہاں سے اور کس اصول کی رُو سے ہوئی؟

آخر اس میں کیا شرعی یا عقلی مانع ہے کہ نبی کے دور میں پایا جانے والا وہ شخص جس سے ہم ظاہر میں کفر دیکھ رہے ہیں، اللہ کے ہاں کافر نہ ہو... ماسوائے فرعون، یا ابو لہب، یا مقتولین بدر ایسے کچھ خاص مُعَیَّن لوگ جنہیں وحی نے بالتعیین کافر ٹھہرایا ہو؟ بقیہ کفار کے معاملہ میں خود نبی کے عہد میں بھی ایک شخص کے ظاہر کو دیکھ کر ہی ایک دنیوی حکم لگایا جا رہا ہو، جبکہ باطنی و اخروی حکم  خود نبی کے عہد میں بھی اللہ پر ہی چھوڑا جا رہا ہو... اور تب (عہدِنبوت میں) بھی کوئی شخص اگر اسے ’فی الحقیقت کافر‘ یا ’یومِ آخرت کے حساب سے کافر‘ یا ’بالیقین دوزخی‘ کہہ رہا ہو تو وہ اللہ کے کام کو اپنے ہاتھ میں ہی لے رہا ہو؟ اس میں کیا شرعی یا عقلی مانع ہے؟

عہدِنبوت میں بھی یقیناً ممکن ہے کہ...  کچھ لوگ بظاہر اہل کفر اور درباطن اہل ایمان ہوں، عین جس طرح یہ ممکن ہے کہ کچھ بظاہر اہل ایمان لوگ درباطن اہل کفر ہوں؟ موسیٰ﷣ کے مدمقابل آلِ فرعون کا کیا حکم رہا ہے؟ لیکن انہی آلِ فرعون کے مابین، بلکہ فرعون کا ایک مقرب درباری، ایک ایسا مومن ہو سکتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے جبکہ دنیا اسے کفارِ آل فرعون ہی میں باور کیے آ رہی ہے تاوقتیکہ ایسا ایک آدمی (جو ظاہر کے لحاظ سے اہل کفر میں شمار ہوتا تھا) آخر اپنے ایمان کا اظہار ہی کر دیتا ہے اور (خود عہدنبوت ہی کے لوگوں کو) تب جا کر معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو وہ اہل کفر شمار کرتے تھے وہ تو بڑی دیر سے مسلمان چلا آتا ہے: وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ۔

پس اصول اگر یہ ہے کہ کافر صرف اسے کہا جا سکتا ہے جس کی بابت اللہ نے خبر دی ہو کہ وہ کافر ہے... تو پھر اس بات کی دلیل چاہئے کہ خود نبی کے عہد میں جن جن کو کافر سمجھا گیا وہ حقیقی اور اخروی اعتبار سے بھی کافر ہی تھے... اور اہل ایمان کے ہاتھوں کسی انسان پر لگایا گیا دنیوی حکم لازماً وہی تھا جو اُس کی بابت آخرت میں جا کر سامنے آئے گا۔ کیا یہ لوگ اس بات کی دلیل دے سکتے ہیں؟

پس... جیساکہ آگے چل کر ہم کچھ اہل علم کے اقتباسات دیں گے، ائمۂ سنت نے عہدِنبوت ہی کے کفار کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے:

1. ایک  وہ جن کا کافر ہونا وحی کے ذریعے بیان ہوا مگر ازراہِ تعیین نہیں بلکہ ازراہِ وصف۔ عہدِنبوت کے عام کافروں کا معاملہ یہی تھا۔ از راہِ وصف سے مراد: یعنی کچھ واضح قاعدے جن کی رُو سے وہ کافر قرار پاتے ہوں۔ مثال کے طور پر وحی کے ذریعے یہ بتایا جانا کہ: وہ لوگ جو نبی کو نہیں مانتے، کافر ہیں۔ یا جو کتابِ آسمانی کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ یا جو بتوں کو پوجتے ہیں۔یا  جو اللہ کےلیے بیٹا تجویز کرتے ہیں۔ یا جو آخرت کو نہیں مانتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ البتہ صرف قواعد بتانے پر اکتفا کیا گیا۔ صحابہؓ کو، یہاں تک کہ خود رسول اللہﷺ کو، ان قواعد کی رُو سے، اُن لوگوں کے ظاہر پر حکم لگانا تھا۔ ظاہر پر صحابہؓ کا وہ حکم لگانا محض ایک دنیوی ضرورت کے تحت تھا۔ ظاہر پر لگائے جانے والے ایسے کسی حکم میں انسان ہونے کے ناطے غلطی کا امکان تھا۔ یعنی یہ امکان تھا کہ خدا کے ہاں اس معیّن شخص کا جو حکم ہے اور انسانوں کے ہاں اس کا جو حکم ہے، وہ دونوں کہیں پر مختلف بھی ہوں، ایک نہ ہوں۔

یہ چیز یعنی ایک معلوم وصف کی بنیاد پر کسی کے ظاہر پر محض دنیوی احکام کی حد تک حکم لگانا اور اس کا حقیقی و اخروی حکم اللہ پر چھوڑ دینا، اور دنیوی و اخروی حکم کو لازماً ایک سا identical  نہ جاننا، بلکہ اس بات کا امکان ماننا کہ ہم انسانوں نےظاہری وصف کی بنیا دپر جو حکم لگایا ضروری نہیں اس شخص کی بابت آخرت میں بھی خدا کا عین یہی فیصلہ نکلے، بلکہ ہو سکتا ہے اُس شخص کی بابت خدا کوئی ایسی بات جانتا ہو جو ہمیں اُس شخص کی بابت معلوم نہیں، جس کی بنا پر خدا کے ہاں اُس کا معاملہ ہمارے دنیوی فیصلے کے برعکس نکلے... یہ چیز چونکہ کچھ معلوم اوصاف کی بنیاد پر تھی، جبکہ اُن معلوم اوصاف کی بنیاد پر لگایا گیا  حکم ایک انسانی حکم ہی  ہوتا تھا (باوجودیکہ دورِنبوت تھا)، لہٰذا (وحی کے ذریعے سے معلوم ہونے والے) اوصاف کی بنیاد پر، انسانوں کے ہاتھوں دنیوی احکام لگائے جانا فقہاء کے ہاں عہدنبوت کے بعد بھی برقرار رہا۔ یہاں؛ نبوت نے جو بتانا تھا بتا دیا اور وہ قیامت تک کارآمد ہے۔ یعنی اوصاف و قواعد۔ ہاں یہ ضروری تھا، اور ہے، کہ یہ اوصاف و قواعد جن کی بنیاد پر حکم لگے نبوت کے ذریعے انسانوں کو بتائے گئے ہوں۔ اپنے پاس سے کچھ ایسے اوصاف وضع کرلینا جو انسانوں پر حکم لگانے کی بنیاد بنیں، صاف ظلم ہوگا، جیسا کہ کچھ لوگ محض اپنے ظن و تخمین سے لوگوں کے کفر و ایمان کے فیصلے کرتے ہیں اور اپنے کسی غصے یا ردعمل کو ’شرعی فتویٰ‘ میں ڈھال دیتے ہیں۔ البتہ ان (نبوت کے بیان کردہ) اوصاف و قواعد کی بنیاد پر حکم لگانا دورِنبوت میں بھی ایک انسانی عمل تھا۔ یہ تھی کفار کی عمومی قسم۔

2.  دوسرے وہ لوگ جن کا بالتعیین کافر اور دوزخی ہونا  بذریعہ وحی صحابہؓ کو  بتایا گیا۔ جیسے ابوجہل و ابو لہب اور مقتولینِ بدر وغیرہ۔ یا اس سے پہلے فرعون یا ابلیس وغیرہ۔ صرف یہ ہے وہ صنف جن کی بابت خدا نے اپنا اخروی فیصلہ ہمیں دنیا میں ہی بتا دیا۔ ہاں اس انداز میں کسی کو کافر اور دوزخی ٹھہرانے کا حق کسی کو نہیں۔ یہ تو خدا ہی کسی کی بابت وحی کر کے بتائے تو بتائے۔ مگر آپ جانتے ہیں ایسے کافر جن کا خدا کے علم میں کافر اور دوزخی ہونا بالتعیین ہمیں (بذریعہ وحی) بتایا گیا ہو، یا ایسے مومن جن کا خدا کے علم میں مومن اور جنتی ہونا بالتعیین ہمیں (بذریعہ وحی) بتایا گیا ہو، گنتی کے کچھ لوگ ہیں۔ باقی لوگوں کا معاملہ یقینی طور پر خدا ہی کے سپرد ہے۔ اور ہم ان پر حکم لگانے کے معاملہ میں دنیوی احکام تک ہی محدود رہیں گے۔

محققین اہل سنت اس معاملہ میں بہت واضح ہیں:

ü       کفر کی سزا بےشک دائمی جہنم ہے، مگر شریعت کے بتائے ہوئے کسی معلوم وصف کی بنیاد پر ایک ظاہری دنیوی حکم میں جن لوگوں کو ہم نے کافر قرار دیا اور بےشک کسی وقت ان سے جنگ کی، وہ ہمارے ہاتھ سے مرے یا ہم اُن کے ہاتھ سے... پھر بھی ہم ان میں سے کسی کے بالتعیین جہنم میں جانے کی صراحت نہیں کرتے، سوائے ان چند لوگوں کے جنہیں وحی نے ہی بالتعیین جہنمی قرار دیا ہو مانند فرعون، ابو لہب و ابوجہل وغیرہ۔

ü       دوسری جانب، ایمان کی جزاء بےشک جنت ہے، مگر ظاہری دنیوی حکم میں جن لوگوں کو ہم نے مومن قرار دیا، خواہ ان سے کیسے ہی اعلیٰ اعمال ہم نے کیوں نہ دیکھ لیے ہوں... پھر بھی ہم ان میں سے کسی کے بالتعیین جنت میں جانے کی صراحت نہیں کرتے، سوائے ان چند لوگوں کے جنہیں وحی نے ہی بالتعیین جنتی قرار دیا ہو مانند ابو بکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و علیؓ وغیرہ۔

پس بلاشبہ کسی کو جہنم میں بھیجنا یا کسی کو جنت میں بھیجنا خدا کا فیصلہ ہے۔ ہم نہ خدا کا وہ فیصلہ اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور نہ یہ۔

ہمارا حکم لگانا ہر دو فریق پر دنیوی احکام کی حد تک ہوتا ہے اور ظاہر پر بنا کرتا ہے۔

ہم کہتے ہیں: خود صحابہؓ بھی  __  معدودےچند لوگوں کو چھوڑ کر جن کی بابت خدا کا فیصلہ اُنہیں وحی کے ذریعے بتایا گیا مانند فرعون، ابو جہل و ابو لہب وغیرہ (اہل دوزخ) یا ابوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و علیؓ وغیرہ (اہل جنت) ...  ان معدودےچند لوگوں کو چھوڑ کر __   خود صحابہؓ بھی لوگوں کو اہل ایمان یا اہل کفر گننے میں ظاہر پر ہی حکم لگاتے تھے، جس کا خدا کے فیصلہ کے ساتھ یکساں  identical  ہونا ضروری نہیں۔

*****

یہاں اب ہم ائمۂ سنت کے کچھ اقتباسات دیں گے، جن سے ہماری بیان کردہ تاصیل واضح ہوگی:

ابن تیمیہؒ:

ومنشأ الاشتباه في هذه المسألة اشتباه أحكام الكفر في الدنيا بأحكام الكفر في الآخرة، فإن أولاد الكفار لما كانوا يجري عليهم أحكام الكفر في أمور الدنيا، مثل ثبوت الولاية عليهم لآبائهم، وحضانة آبائهم لهم، وتمكين آبائهم من تعليمهم وتأديبهم، والموارثة بينهم وبين آبائهم، واسترقاقهم إذا كان آبائهم محاربين، وغير ذلك - صار يظن من يظن أنهم كفار في نفس الأمر، كالذي تكلم بالكفر وعمل به. ومن هنا قال من قال: إن هذا الحديث - هو قوله: «كل مولود يولد على الفطرة» كان قبل أن تنزل الأحكام، كما ذكره أبوعبيد، عن محمد بن الحسن، فأما إذا عرف أن كونهم ولدوا عى الفطرة لا ينافي أن يكونوا تبعاً، لآبائهم في أحكام الدنيا زالت الشبهة.

وقد يكون في بلاد الكفر من هو مؤمن في الباطن يكتم إيمانه من لا يعلم المسلمون حاله، إذا قاتلوا الكفار، فيقتلونه ولا يغسل ولا يصلى عليه ويدفن مع المشركين، وهو في الآخرة من المؤمنين أهل الجنة، كما أن المنافقين تجري عليهم في الدنيا أحكام المسلمين وهم في الآخرة في الدرك الأسفل من النار، فحكم الدار الآخرة غير حكام الدار الدنيا.       (دَرءُ تَعارُضِ العقلِ مع النقل ج 8 ص 431)

یہ اشتباہ جہاں سے پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ: یہاں دنیا سے متعلقہ احکامِ کفر کو آخرت سے متعلقہ احکامِ کفر سے خلط کیا جاتا ہے۔ چنانچہ کفار کے بچوں پر چونکہ دنیوی معاملات میں (اہل) کفر کے احکام ہی لاگو ہوتے ہیں، مثلاً ان بچوں پر ان کے (کافر) باپوں ہی کا ولی بنا رہنا، ان کی پرورش کا حق انہی (کافروں) کے پاس رہنا، ان کو تعلیم اور تربیت دینے کا حق انہی (کافر ماں باپ)  کو حاصل ہونا، ان کا اور ان کے ماں باپ کا ایک دوسرے کی وراثت لینا، ان کے باپوں کے حربی ہونے کی صورت میں ان کو غلام بنایا جانا، وغیرہ وغیرہ... تو یہاں سے کچھ گمان کرنے والوں کو گمان ہوا کہ یہ بچے حقیقتِ واقعہ کے لحاظ سے کافر ہیں، اور یہ اُسی طرح ہیں جیسے کوئی (عاقل بالغ بقائمی ہوش و حواس) کفر کا قائل و فاعل ہو! یہاں سے بعض کہنے والے یہ کہہ بیٹھے کہ یہ حدیث (کُلُّ مَولُودٍ یُولَدُ عَلَى الۡفِطۡرَۃِ) احکام نازل ہونے سے پہلے تھی (اب منسوخ ہے)! جیسا کہ ابو عبید نے محمد بن الحسن کے حوالے سے ذکر کیا۔ پس  جب یہ معلوم ہو گیا کہ بچوں کا فطرت پر پیدا ہونا اس بات کے منافی نہیں کہ وہ احکامِ دنیا میں اپنے ماں باپ سے ملحق ہوں، تو یہ شبہہ باقی نہیں رہ جاتا۔

یہ بالکل ممکن ہے کہ کفرستان میں کوئی شخص درباطن مومن ہو جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے ہو درحالیکہ مسلمان کفار سے قتال کرتے وقت اس شخص کے حال سے واقف نہ ہوں، اور اسے قتل کر دیں، تب نہ اس کو غسل دیا جائے، نہ اس کا جنازہ پڑھا جائے، اور وہ مشرکوں ہی کے ساتھ دفن کر دیا جائے، جبکہ آخرت کے لحاظ سے وہ مومنین اہل جنت میں ہو۔ بالکل اسی طرح جس طرح منافقین پر دنیا میں مسلمانوں والے احکام لاگو ہوتے ہیں جبکہ آخرت کے لحاظ سے وہ جہنم کے درکِ اسفل میں ہیں۔ پس دارِ آخرت کے احکام اور ہیں اور دارِ دنیا کے احکام اور۔

(ابن تیمیہؒ: درءُ تعارضِ العقل مع النقل)

ابن قیمؒ:

أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يُجْرِ أَحْكَامَ الدُّنْيَا عَلَى عِلْمِهِ فِي عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا أَجْرَاهَا عَلَى الْأَسْبَابِ الَّتِي نَصَبَهَا أَدِلَّةً عَلَيْهَا وَإِنْ عَلِمَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَنَّهُمْ مُبْطِلُونَ فِيهَا مُظْهِرُونَ لِخِلَافِ مَا يُبْطِنُونَ، وَإِذَا أَطْلَعَ اللَّهُ رَسُولَهُ عَلَى ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ مُنَاقِضًا لِحُكْمِهِ الَّذِي شَرَعَهُ وَرَتَّبَهُ عَلَى تِلْكَ الْأَسْبَابِ كَمَا رَتَّبَ عَلَى الْمُتَكَلِّمِ بِالشَّهَادَتَيْنِ حُكْمَهُ وَأَطْلَعَ رَسُولَهُ وَعِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى أَحْوَالِ كَثِيرٍ مِنْ الْمُنَافِقِينَ وَأَنَّهُمْ لَمْ يُطَابِقْ قَوْلُهُمْ اعْتِقَادَهُمْ.

وَهَذَا كَمَا أَجْرَى حُكْمَهُ عَلَى الْمُتَلَاعِنَيْنِ ظَاهِرًا ثُمَّ أَطْلَعَ رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ عَلَى حَالِ الْمَرْأَةِ بِشَبَهِ الْوَلَدِ لِمَنْ رُمِيَتْ بِهِ، وَكَمَا قَالَ: «إنَّمَا أَقْضِي بِنَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْت لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ» . (إعلام الموقعین ج 3 ص 103)۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر دنیوی احکام اپنے علم کی بنیاد پر لاگو نہیں کروائے۔ بلکہ ان اسباب کی بنیاد پر لاگو کروائے، جنہیں اللہ نے ان احکام پر علامت کے طور پر مقرر فرما دیا، چاہے اللہ کے علم میں یہ بات ہو بھی کہ اس معاملہ میں وہ نادرست ہیں یعنی جو وہ باطن میں ہیں ظاہر میں وہ اس کے برعکس ہیں۔ اب اگر اللہ تعالیٰ ان (کی حقیقت) پر (کسی وقت) اپنے رسول کو مطلع فرما بھی دے تو اس کا یہ (مطلع فرمانا) اُس کے اُس حکم سے متعارض نہ ہوگا جو اس نے شرع میں لاگو فرما رکھا ہے اور جسے اُس نے ان (ظاہری) اسباب پر مترتب ٹھہرایا ہے۔ عین جس طرح اللہ تعالیٰ نے شہادتین کو زبان سے بول دینے والے پر اپنا (ظاہری) حکم مترتب ٹھہرایا جبکہ اپنے رسول کو (اور رسول کے ذریعے) اپنے مومن بندوں کو  بہت سے منافقین کی حقیقت حال سے بھی مطلع فرما دیا اور (انہیں یہ معلوم کروا دیا) کہ ان (منافقین) کا قول و قرار ان کے اعتقاد سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ ویسا ہی ہے کہ اللہ رب العزت نے لعان کرنے والے فریقین کے ظاہر پر (دنیوی) حکم لگا دیا، پھر اپنے رسول اور مومنوں کو اُس آدمی سے بچے کی مشابہت کی بابت جس کے ساتھ عورت پر الزام لگا تھا، عورت کی حقیقتِ حال سے مطلع فرما دیا۔ نیز جیسا کہ آپﷺ کے اِس فرمان میں آیا کہ: میں تو فیصلہ کرتا ہوں اُس چیز کے مطابق جو میں (گواہوں وغیرہ سے) سنوں۔ پس جس شخص کو میں اپنے فیصلہ میں اُس کے بھائی کا کچھ حق دے ڈالوں تو درحقیقت میں اسے دوزخ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں۔                     (ابن قیمؒ:  اعلام الموقعین)

والله يقضى بين عباده يوم القيامة بحكمه وعدله، ولا يعذب إلا من قامت عليه حجته بالرسل، فهذا مقطوع به فى جملة الخلق. وأما كون زيد بعينه وعمرو بعينه قامت عليه الحجة أم لا، فذلك مما لا يمكن الدخول بين الله وبين عباده فيه، بل الواجب على العبد أن يعتقد أن كل من دان بدين غير دين الإسلام فهو كافر، وأن الله سبحانه وتعالى لا يعذب أحداً إلا بعد قيام الحجة عليه بالرسول.

هذا فى الجملة والتعيين موكول إلى علم الله [عز وجل] وحكمه هذا فى أحكام الثواب والعقاب. وأما فى أحكام الدنيا [فهى جارية مع ظاهر الأمر فأطفال الكفار ومجانينهم كفار فى أحكام الدنيا] لهم حكمُ أوليائهم. وبهذا التفصيل يزول الإشكال فى المسألة. (طریق الہجرتین ج 1 ص 413)۔

اللہ روزِ قیامت اپنے بندوں کے مابین فیصلہ فرمائے  گا خاص اپنے حکم اور عدل کی رُو سے۔ (تب) وہ نہ عذاب دے گا مگر صرف اُسی شخص کو جس پر رسولوں کے ذریعے حجت قائم ہوئی ہو۔ یہ چیز جملہ مخلوقات کی بابت قطعی ہے۔ رہ گیا یہ کہ آیا زید پر بطور ایک معیّن شخص یا عمر و پر بطور ایک معیّن شخص حجت قائم ہوئی تھی یا نہیں، تو یہ ایسی بات ہے جس میں خدا اور اس کے بندوں کے مابین دخل دینا (کسی کےلیے) ممکن نہیں۔ بلکہ اس معاملہ میں بندے پر یہ اعتقاد رکھنا واجب ہے کہ ہر وہ شخص جو دینِ اسلام کے ماسوا کسی دین پر ہے وہ (ہمارے دنیوی احکام میں) کافر ہے، البتہ جہاں تک اللہ  تعالیٰ کا معاملہ ہے تو وہ عذاب نہ دے گا تا وقتیکہ (اُس کے علم کی رُو سے) کسی پر رسول کے ذریعہ سے حجت قائم نہ ہو چکی ہو۔

یہ فی الجملۃ ہے۔ رہ گئی تعیین تو وہ اللہ عز و جل کے علم پر چھوڑی جانے والی ہے۔ آدمی کا یہ (معیّن) حکم ثواب اور عذاب کے معاملہ میں ہے۔ رہ گئے دنیوی احکام، سو وہ امورِ ظاہرہ پر لاگو ہوں گے۔ اب مثلاً کفار کے (کمسن) بچے  اور ان کے پاگل لوگ دنیوی احکام میں کافر ہی (شمار) ہوتے ہیں۔ (دنیوی معاملات میں) ان کا وہی حکم ہوگا جو ان کے گھر والوں کا۔ یہ تفصیل کر دی جانے سے  اس مسئلہ میں پایا جانے والا اشکال زائل ہو جاتا ہے۔                           (ابن قیمؒ: طریق الہجرتین)

شاطبیؒ:

فَإِنَّ أَصْلَ الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ مَقْطُوعٌ بِهِ فِي الْأَحْكَامِ خُصُوصًا، وَبِالنِّسْبَةِ إِلَى الِاعْتِقَادِ فِي الْغَيْرِ عُمُومًا أَيْضًا، فَإِنَّ سَيِّدَ الْبَشَرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ إِعْلَامِهِ بِالْوَحْيِ يُجْرِي الْأُمُورَ عَلَى ظَوَاهِرِهَا فِي الْمُنَافِقِينَ وَغَيْرِهِمْ، وَإِنْ عَلِمَ بَوَاطِنَ أَحْوَالِهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ بِمُخْرِجِهِ عَنْ جَرَيَانِ الظَّوَاهِرِ عَلَى مَا جَرَتْ عَلَيْهِ. (الموافقات ج 2 ص 467)۔

چنانچہ یہ قاعدہ کہ حکم ظاہر کی بنیاد پر لگے گا، احکام میں بالخصوص اور کسی دوسرے آدمی سے متعلق موقف رکھنے میں بالعموم قطعی ہے۔ خود سیدالبشرﷺ باوجود اس کے کہ آپؐ کو وحی کے ذریعے خبر دی جاتی تھی، منافقین و دیگر کے معاملہ میں امور کو ان کے ظواھر پر ہی لاگو فرماتے، خواہ  آپﷺ اُن کی اصل حقیقتِ حال سے واقف ہی کیوں نہ ہوں۔ اِس (نبیﷺ کو کچھ معیّن لوگوں کے متعلق وحی کے ذریعے خبر ہونے) سے یہ قاعدہ نہ ٹوٹتا کہ معاملات پر حکم اُن کے ظواہر کو دیکھ کر ہی لگایا جائے۔     (شاطبیؒ: الموافقات) 

ابن حجرؒ:

وَكُلُّهُمْ أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ أَحْكَامَ الدُّنْيَا عَلَى الظَّاهِرِ وَاللَّهُ يَتَوَلَّى السَّرَائِرَ وَقَدْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُسَامَةَ هَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ (فتح الباری ج 12 ص 273)۔

سب کا اتفاق ہے کہ دنیوی احکام ظاہر پر ہی لاگو ہوں گےجبکہ درونِ باطن امور (پر حکم لگانا) اللہ کا کام ہے۔ جبکہ رسول اللہﷺ نے اسامہؓ کو فرمایا تھا: کیا تو نے اس کا دل چیر کر نہ دیکھ لیا؟                                        (ابن حجرؒ: فتح الباری)

*****

بنا بریں... قادیانیوں کو __ ان کے معلوم کفریہ اوصاف کی بنیاد پر __  ہمارا کافر قرار دینا ’خدا کے فیصلوں کو اپنے ہاتھ میں لینا‘ ہرگز نہیں۔نہ یہ دین میں کوئی نئی بات ہے۔ پچھلے چودہ سو سال سے امت کا یہی دستور ہے: اسلام کے معلوم عقائد کا انکار کرنے والوں کو، خواہ وہ توحید سے متعلق ہوں یا رسالت یا آخرت سے متعلق، دنیوی احکام میں مسلم (محمدﷺ کی لائی ہوئی حقیقتوں کو ماننے والا) تسلیم نہیں کیا جاتا بلکہ کافر (محمدﷺ کی لائی ہوئی حقیقتوں کو نہ ماننے والا) قرار دے دیا جاتا ہے اور یہاں اس کو وہ سماجی سٹیٹس حاصل نہیں رہتا جو سوسائٹی میں مسلمین (محمدﷺ کی لائی حقیقتوں کو ماننے والوں) کو حاصل ہوتا ہے۔ مرتد کی اصل حقیقت بس یہی ہے۔ (اس کو سزا وغیرہ دینا یا نہ دینا ایک الگ بحث ہے)۔ البتہ سماجی سطح پر ان دونوں کا حکم ایک کرنا }کافر (محمدﷺ کی لائی ہوئی حقیقتوں کو نہ ماننے والے) اور مسلم (محمدﷺ کی لائی ہوئی حقیقتوں کو ماننے والے)  ہر دو کو دنیوی احکام میں ایک جیسا کرنا{ صاف الحاد ہے۔ یہ اسلام کی فصیل کو منہدم کر دینے کے مترادف ہے۔ ختمِ نبوت ایسے ایک معلوم اسلامی عقیدہ کو نہ ماننے والے کو ہم اپنے دنیوی احکام میں کافر ہی قرار دیں گے اور اس کےلیے ’’مسلم‘‘ کا کوئی سٹیٹس ہرگز تسلیم نہ کریں گے۔ ایسا ایک باطل عقیدہ رکھنے والے کی بابت یہ اعتقاد بھی رکھیں گے کہ اگر وہ درباطن بھی اسی کا معتقد ہوا(جس کو جانچنا ہمارا بس ہے نہ ہمارا دائرۂ کار) تو اصولاً وہ خدا کے ہاں جا کر بھی کافر والی سزا پانے والا ہے۔ تاہم وہ اخروی فیصلہ خدا کے کرنے کا ہےجس سے ہمیں اپنے دنیوی احکام میں بہرحال کچھ سروکار نہیں۔ نہ ہی ہمارے یہ دنیوی بشری احکام اخروی خدائی احکام کو آپ سے آپ مستلزم ہیں۔  ایسے ایک واضح مسئلہ پر جو چودہ سو سال سے اس امت کے ہاں متنازع نہیں، یہ حضرات آج اپنی اس نام نہاد ’تحقیق‘ کی گرد نہ اٹھائیں۔ اِس امت کی بنیادوں کو ہلانے والے لبرل ہی فی الحال ہمارے لیے کافی ہیں۔ یہ حضرات ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے تو کم از کم لبرل ایجنڈا کے دست و بازو نہ بنیں۔ اللہ ان کو جزائےخیر دے۔

ولا تفسدوا فی الأرض بعد إصلاحھا، ذلکم خیر لکم

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز