عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Wednesday, December 12,2018 | 1440, رَبيع الثاني 4
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-09 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
اسلام میں غلام اور لونڈی رکھنے کا جواز
:عنوان

. متفرق :کیٹیگری
ذيشان وڑائچ :مصنف

اسلام میں لونڈی اور غلام رکھنے کا جواز

ذیشان وڑائچ

موجود دور کے اخلاقی معیار مذہب بیزار تہذیب جدید کی بنیاد پر بنے ہوئے ہیں۔ یہی اس وقت دنیا میں نافذ ہیں اور میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے سےہمارے ذہن میں راسخ کئے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بعض اسلامی احکامات اور تاریخی واقعات کو بالکل غلط اور غیر اخلاقی پیش کیا جانا آسان ہوگیا ہے۔ ان احکامات میں سے ایک مسئلہ غلامی کے جواز پر ہے۔ یہاں پر مختصر طریقے سے غلامی کے جواز کی منطقی اور اخلاقی وجوہات پر کچھ معروضات پیش کی جارہی ہیں تا کہ ہمارے نوجوان سیکولروں اور ملحدوں کی طرف سے کئے گئے اعتراضات پر کسی قسم کے ذہنی انتشار میں مبتلا نہ ہوں۔

اس موضوع پر چار بنیادی سوالات ایک عام آدمی کے ذہن میں ہوسکتے ہیں

۱۔ اسلام کے ابتدائی دور میں غلامی کا کیا اخلاقی جواز تھا؟

۲۔ لونڈی سے مباشرت کا کیا اخلاقی جواز ہے؟

۳۔ آج کے دور میں غلامی کا کیا جواز ہے؟

۴۔ اسلام نے غلامی کو مکمل طور پر ختم کیوں نہیں کیا جبکہ امریکہ نے کیا؟

*****

۱۔ اسلام کے ابتدائی دور میں غلامی کا کیا اخلاقی جواز تھا؟

 اسلام کے ابتدائی دور میں غلامی تھی اور غلام پائے جاتے تھے۔ اسلام نے اس کو شروع نہیں کیا۔ لیکن اسلام نے اس پر اس اعتبار سے پابندی لگادی کہ صرف جنگی قیدیوں کو غلام بنایا جاسکے۔

تو یہاں پر اگر کسی قسم کا اعتراض ہو تو صرف اس اعتبار سے ہوسکتا ہے کہ جنگی قیدیوں کو کیوں غلام بنایا جائے؟

اب بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کہیں پر جنگ ہو اور اسلام کے اعتبار سے وہ جنگ جائز ہو تو قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟

اس بارے میں مندرجہ ذیل امکانات ہیں:

‌أ.          قیدیوں کو قتل کردیا جائے۔ اسلام میں یہ منع ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ خاص قیدیوں کو کسی مصلحت کی وجہ سے قتل کیا جائے۔ لیکن عمومی اعتبار سے قیدیوں کو قتل کرنا جائز نہیں ہے۔

‌ب.   قیدیوں سے فدیہ (تاوان) لے کر رہا کردیا جائے۔ یہ کرنا جائز ہے۔ اگر اس بات کا خدشہ ہو کہ یہ قیدی رہا ہو کر پھر دوبارہ جمع ہوکر مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں گے تو پھر یہ ایک غلط حکمت علمی ہوگی جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی جان و مال خطرے میں پڑ جائے گی۔

‌ج.     انہیں قیدیوں کے تبادلے میں رہا کردیا جائے۔ یہ بھی جائز ہے اور ایک طرح سے دوسری کیٹگری کی ہی توسیع ہے۔

‌د.        انہیں احسان کر کے یوں ہی رہا کردیا جائے۔ یا تو ذمی بنا کر مسلم معاشرے کا ایک فرد بنادیا جائے یا اپنے علاقے میں جانے کی اجازت دی جائے۔ یہاں پر وہی خدشہ ہے کہ جو کہ ہم نے کیٹگری "ب" میں بیان کیا۔ اس صورت میں ایک اور خدشہ یہ تھا کہ اگر کفار کو یہ معلوم ہوجائے کہ مسلمان جنگی قیدیوں کو یوں ہی رہا کرتے ہیں تو وہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے معاملے اور زیادہ جری اور بے خوف ہوجاتے۔ یہ مسلمانوں کو اور زیادہ خطرے میں ڈالنے والی بات ہوجاتی۔

‌ه.      انہیں غلام بناکر اسلامی معاشرے کے تیسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے۔ غلاموں کو انفرادی ملکیت میں دے کر ان کے مالک کو اختیار دیا جائے کہ مکاتبہ کر کے یا احسان کر کے انہیں رہا کردیا جائے۔ یا پھر مالک کو یہ بھی اختیار ہو کہ انہیں غلام ہی بنا کر رکھے یا دوسروں کو بیچ دے۔ اس سے ان کی آزادی چھین لی جاتی ہے، لیکن دھیرے دھیرے دب کر یہ اسلامی معاشرتی ڈھانچے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

‌و.       انہیں ساری عمر قیدی بنا کر رکھا جائے۔ اس طرح انسانوں کی ایک بڑی تعداد بے کار اور ان پروڈکٹیو unproductive  ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگ مسلم معاشرے پر ایک معاشی بوجھ بن جاتے۔ ایک انسان کو پورے معاشرے سے کاٹنا ایک غیر انسانی سلوک ہے۔

قرآنی احکامات کے مطابق پہلا اور آخری آپشن اختیار نہیں کیا جاسکتا یعنی عمومی طور پر قتل کرنا یا عمر قید کرنا جائز نہیں ہے۔ اسلامی شوریٰ کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ باقی امکانات میں جو بھی ممکنہ صورت ہو اسے اختیار کرے۔

اس پوری صورت حال میں ایک بات ذہن میں رکھنی ہے کہ اوپر مذکورہ لوگ وہ مجرم ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی اور اگر وہ جیت جاتے تو اس بات کا پورا امکان تھا کہ مسلمان قیدیوں کو قتل کرتے یا انہیں غلام بناتے۔

مسلمانوں کی شوریٰ ان تمام امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرسکتی ہے کہ ب،ج،د،ھ میں جو بھی چاہے صورت اختیار کرے۔

اب ان مذکورہ امکانات کو دیکھ کر کوئی ہمیں بتائے کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنانا کیوں غلط ہے۔

یہاں پر ایک اور بات پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ سورہ نور کی آیت میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ اگر کوئی غلام مکاتبت (معاہدۂ آزادی) کی درخواست کرے تو اس قبول کیا جائے اور اس کے لئے شرط صرف یہ ہے کہ تم ان کے اندر بھلائی پاؤ۔ اس بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا  یہ (غلام کی یہ درخواست قبول کرنے کا) حکم وجوب کے درجے کا ہے یا استحباب کے درجے کا۔ اس پر مستزاد یہ کہ آگے کلام پاک یہ بھی کہتا ہے کہ خود اپنے مال سے اِس معاملہ میں ان کی مدد کی جائے۔ اور ویسے بھی گردنوں کا چھڑانا باقاعدہ  شرعی اور اخلاقی احکامات کا باقاعدہ حصہ ہے۔ سورہ توبہ آیت ۶۰ میں جو زکوٰۃ کے مصارف بیان کیے گیے ہیں ان میں  ایک باقاعدہ مد غلاموں کو آزاد کرنے کی ہے۔ ان اعتبارات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غلامی کی جو بھی شکل اسلام میں اختیار کی گئی ہے اس کی حیثیت عملاً عارضی ہی ہے۔ جبکہ غلامی کے خلاف آج کا پیدا  ہونے والا ردعمل حقیقتاً مغرب کی اختیار کردہ غلامی ہے جس پر ہم چوتھے نکتے کے جواب میں کچھ عرض کریں گے۔

ویسے اس میں ایک انتہائی حیرت انگیز چیز بھی ہے۔ جن لوگوں کو غلامی پر اعتراض ہے ان لوگوں کو عمر قید پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ گویا کہ ان کو لگتا کہ کسی کو چار بائی چار کے کمرے میں پوری زندگی پابندرکھنا غلامی نہیں بلکہ آزادی ہے۔ ہے نا حیرت کی بات؟؟ حالانکہ ایک اسلامی معاشرہ ایک غلام کو باقاعدہ فیملی لائف گزارنے کا ماحول فراہم کرتا ہے۔

*****

۲۔ لونڈی سے مباشرت کا اخلاقی جواز کیا ہے۔

ہم اس بحث کو دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:

‌أ.                       لونڈی سے مباشرت کا اخلاقی جواز۔ قرون اولی کے دور میں

‌ب.                 لونڈی سے مباشرت کا اخلاقی جواز۔ موجودہ دور میں

فی الحال قرون اولی والی بحث کرتے ہیں۔ موجودہ دور سے متعلق بحث تیسرے نکتے پر بحث کرنے کے بعد کریں گے۔

یہ معاملہ تھوڑا بہت حساس ہے یا موجودہ دور کے ذہن کی تربیت کچھ ایسی ہوئی ہے کہ یہ حساس بن گیا ہے ورنہ پہلے یہ سرے سے کوئی اعتراض نہیں تھا۔

چونکہ معاملہ جنسی ملاپ سے متعلق ہے اس لئے کچھ باتیں کھل کر کرنا ضروری ہے اور نہ کرنے کی صورت میں بہت ساروں کے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات تشنہ رہ جائیں گے۔

صحیح تجزیہ کرنے کے لئے پہلے اس نکتہ پر بحث کرتے ہیں کہ مختلف تہذیبوں میں عورت اور مرد کے جنسی ملاپ کے کیا کیا اخلاقی جوازات رہے ہیں اور لونڈی سے جنسی ملاپ ان اخلاقی جوازات کے تناظر میں کیا حیثیت رکھتی ہے۔

جنسی ملاپ کے ویسے تو بہت سارے شرائط یا جوازات ہوسکتے ہیں، لیکن دو چیزیں بالکل ہی بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

۱۔ شادی یا نکاح۔

۲۔ آپسی رضامندی

۱۔ شادی یا نکاح

 جنسی ملاپ کے لئے معاشرتی، قانونی اور مذہبی منظوری کے لئے جو لفظ عام طور مشہور ہے وہ نکاح یا شادی ہے۔ ایک مرد اور عورت جب شادی کرتے ہیں تو گویا کہ وہ پورے معاشرے میں اعلان کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے میاں بیوی ہیں اور ان کے جنسی ملاپ کے حق کو پورا معاشرہ، میاں بیوی کے رشتہ دار، حکومت اور مذہب تسلیم کرتا ہے۔ اور عورت کا جو بچہ ہوگا اس کے بارے میں تسلیم کیا جائے گا کہ وہ اس کے میاں کا بچہ ہے اور اس بچے کی کفالت کی ذمہ داری اس کے میاں کی ہوگی۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس پر تقریباً دنیا کی تمام تہذیوں میں اتفاق رائے پایا جاتا تھا۔ یعنی یہ اتفاق پہلے پایا جاتا تھا۔ آج کے دور میں مغربی تہذیب نے اس کے معنی مکمل طور پر بدل دیے ہیں۔

آج کے مغرب میں جنسی ملاپ کے لئے معاشرتی اور مذہبی منظوری ضروری نہیں ہے۔ اور قانون کی طرف سے سرے سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ مغرب میں شادی کے بغیر بھی جنسی ملاپ کو جائز سمجھا جاتا ہے، شادی کا مطلب وہاں پر یہ ہوتا ہے کہ جو شخص شادی کرلے وہ صرف اپنے پارٹنر کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرسکتا ہے، اسے کسی اور کے ساتھ جنسی ملاپ کی اجازت نہیں ہے۔ اور شادی شدہ نہ ہونے کی صورت میں اسے جس سے چاہے جنسی ملاپ کی آزادی ہوتی ہے۔

پرانی تہذیبوں میں، آج کے مشرق میں اور خاص طور پر اسلام کے معاملے میں صورت اس کے برعکس ہے۔ یہاں پر جنسی ملاپ بغیر شادی کے جائز ہی نہیں ہے۔ شادی کے بعد اسے جنسی ملاپ کا لائسنس مل سکتا ہے لیکن صرف اس کے ساتھ جس سے نکاح ہوا ہے۔

اس اعتبار سے شادی کا مطلب ہی مغرب اور اسلام میں الگ ہے۔

اسلام میں شادی کے ذریعے ایک پابندی ہٹا کر جنسی ملاپ کی آزادی دی جاتی ہے۔ اور یہ آزادی صرف ان کے درمیان ہوگی جو آپس میں شادی شدہ ہیں۔ یعنی مکمل پابندی سے ایک یا زیادہ سے زیادہ چار کی پابندی لاگو ہوتی ہے۔

مغرب میں شادی سے پہلے ہر قسم کی جنسی آزادی ہوتی ہے، لیکن شادی کے ذریعے اس کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ صرف ایک سے جنسی ملاپ قائم کرے۔ یعنی لامحدود سے ایک کی پابندی ڈالی جاتی ہے۔

ہم نے شادی کے بارے میں جو تشریح کی تھی اس میں بنیادی طور پر تین اداروں کا ذکر کیا تھا۔ معاشرہ، حکومت اور مذہب۔ عام طور پر شادی کے بارے میں ان تینوں ادارں کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی ان کے درمیان تنازعہ ہوتا ہے۔ مثلاً لڑکی کی شادی کی عمر پر یہ تینوں ادارے متفق نہیں ہوتے۔ کزن میریج پریہ تینوں ادارے خاص طور پر مذہب اور حکومت متفق نہیں ہوتے۔ بھارت میں ایک کونسپٹ ہوتا ہے جسے گوتر کہتے ہیں جو کہ وہاں پر خاندانوں کی تقسیم کا ایک نظام ہے۔ بھارتی قانون ایک ہی گوتر کے لڑکا لڑکی کے درمیان شادی کی اجازت دیتا ہے لیکن معاشرہ اسے قبول نہیں کرتا۔ ایک دین کو ماننے والے فرد یا معاشرے کے لئے خدا کا حکم اور اس کی اجازت فائنل آتھارٹی ہوتی ہے۔ یعنی، معاشرہ جو چاہے کرے یا حکومت جیسا چاہے زبردستی قانون نافذ کرے، بہرحال اگر یہ شادی خدا کے حکم کے مطابق ہے تو پھر جنسی تعلق کا اخلاقی جواز موجود ہے ورنہ نہیں۔ یہاں خواہ مخواہ کے تنازعوں سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومتی قانون اسلام کے مطابق بنایا جائے تاکہ اسلام پر بھی عمل ہو اور قانون کی بھی مخالفت نہ ہو۔

اب لونڈی سے مباشرت کا معاملہ لیں۔ جب اسلام لونڈی اور آقا کے درمیان جنسی ملاپ کی منظوری دے رہا ہے اور جب اس پر قرآن واضح ہے۔ تو پھر اعتراض کی بنیاد کیا ہے؟ جس طرح میاں بیوی کے درمیان جنسی ملاپ کا اخلاقی جواز موجود ہے بالکل ہی اسی طرح لونڈی اور آقا کے درمیان اخلاقی جواز موجود ہے۔

تاریخی اعتبار سے تو حکومت اور معاشرہ بھی اس کو منظور کر رہا تھا اور مذہب تو کر ہی رہا ہے۔ اس لئے اس پر اعتراض کی بنیاد پوری طرح سے ڈھ جاتی ہے۔

۲۔ آپسی رضامندی

اب رہ جاتا ہے رضامندی والا اعتراض۔ مغربی معاشرے میں کسی بھی چیز کے صحیح یا غلط ہونے میں رضامندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس رضامندی کے نظریے کو مغرب میں کونسنٹ (Consent) کہتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر واضح ہوگیا پرانی تہذیبوں میں اور آج کی مشرقی تہذیبوں میں اور خصوصاً اسلام میں جنسی ملاپ کے اخلاقی جواز کے لئے نکاح یا شادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن آج کے مغربی معاشرے یا جن علاقوں میں مغربی تہذیب کو پوری طرح قبول کیا گیا ہے وہاں پر جنسی ملاپ کے جواز کے لئے شادی کے بجائے کونسنٹ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس معاملے میں شادی کی سرے سے کوئی اہمیت نہیں ہے۔

لونڈی سے جنسی ملاپ کو اس فرق کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہئے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اسلام کو اپنے اصول کے لئے ایک مغرب کے عقیدے کو کیوں تسلیم کرنے کی ضرورت ہے؟

اس معاملےمیں ایک اور بنیادی سوال ذہن میں آتا ہے۔ نکاح کے معاملے میں باقاعدہ ایجاب و قبول ہوتا ہے۔ لیکن لونڈی بنانے کے معاملے میں یہ نہیں ہوتا۔ میرا خیال ہے کہ لونڈی کے معاملے میں بھی یہ ہوتا ہے۔

ایک عورت دو طرح سے لونڈی بن سکتی ہے:

۱۔  ایک یہ کہ وہ باقاعدہ جنگ میں حصہ لے رہی ہو اور جنگ کے دوران مسلمانوں کی قیدی بن گئی۔ جب وہ جنگ میں حصہ لے رہی تھی تو اسے پتہ تھا کہ اگر وہ قید ہوگی تو لونڈی بنائے جانے کا پورا امکان ہے۔ اور اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اگر مسلمانوں کو شکست ہوئی اور مسلمان عورتوں کو قید کیا گیا تو اس بات کی بہت کچھ گنجائش ہے کہ مسلمان عورتوں کو بھی لونڈی بنایا جائے۔ وہ جب جنگ میں حصہ لے رہی تھی تو وہ اس پوری انڈرسٹینڈنگ کے ساتھ میں فوج کا حصہ بنی۔ اگر اس کو پکڑے جانے کی صورت میں لونڈی نہیں بننا تھا تو اس کے پاس پورا آپشن موجود تھا کہ وہ لونڈی نہ بنے یعنی جنگ میں حصہ نہ لے۔ جب لونڈی بننے کے ایک پورے پراسس کا حصہ خود اپنی مرضی سے بن چکی ہے تو پھر یہ کہنا ہے کہ اس کی مرضی نہیں تھی کا کیا مطلب ہے؟

2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جنگ میں پورا قبیلہ ملوث تھا اور جنگ کے نتیجے میں پورا قبیلہ بکھر گیا اور عورتوں اور بچوں کا نگران کوئی نہیں رہا۔ اُس دور میں ایسی صورت حال میں عورت کے پاس کوئی چوائس ہوتی ہی نہ تھی۔ اگر ان عورتوں کو نظر انداز کر کے چھوڑ دیا جاتا تو اس بات کا امکان تھا کہ انہیں کوئی اور قبیلہ غلام اور لونڈی بنالیتا یا پھر بصورت مجبوری وہ عورتیں خود طوائف بن کر زندگی گزار لیتی۔ اور پھر جب وہ خود لونڈی بن گئی اور انہیں پتہ ہے کہ ملکیت میں آنے کے بعد ان کا کوئی اختیار نہیں ہے تو جس معاشرتی جبر میں وہ رہتی ہے وہاں پر کونسنٹ خود سے پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کی مزید تفصیل آگے آئے گی۔

یہاں پر ہم واضح کریں کہ کونسنٹ ایک قانونی اصطلاح ہے۔ اس سلسلے میں ایک اورلفظ جو قابل غور ہے وہ  ہے "آمادگی"۔ جنسی معاملے میں کونسنٹ  اور آمادگی کی پوری حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہم یہاں پر کچھ مثالیں پیش کرتے ہیں جس سے پتہ چلے گا کہ لونڈی کے معاملے میں کونسنٹ ایک غیر اہم مسئلہ ہے۔

‌أ.          مغربی یا مشرقی معاشرے میں ایک عورت اپنی معاشی ضرورت پوری کرنے کے لئے طوائف کا پیشہ اختیار کرتی ہے۔ اس نے اپنی خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری کی وجہ سے طوائف کے پیشے کو اختیار کیا۔ وہ ہر روز ایک نئے مرد کے ساتھ سوتی ہے اور اس کا مقصد جنسی لذت حاصل کرنا نہیں بلکہ مرد کو خوش کر کے پیسے کمانا ہوتا ہے۔ کیا یہاں پر کونسنٹ پایا جاتا ہے؟

‌ب.   ایک جوان عورت زیادہ عمر والے مالدار مرد سے شادی کرتی ہے۔ مقصد اس مرد کے پیسے سے فائدہ اُٹھانا ہے۔ اس عورت کو اس مرد سے جنسی تعلق قائم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن اس مرد کی جنسی خواہش پوری نہ کرنے کی صورت میں جو مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے اس کے پیش نظر وہ مجبوری میں اس کے ہر جنسی مطالبہ کو پوری کرتی ہے۔ کیا یہاں پر کونسنٹ پایا جاتا ہے؟

‌ج.     مشرقی معاشرے میں کچھ خاص حالات کی وجہ سے ایک لڑکے اور لڑکی کی شادی ہوجاتی ہے۔ لڑکی کو لڑکے سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہے۔ لیکن چونکہ شادی ہوچکی ہے اور طلاق کی صورت میں کئی قسم کی سماجی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں اس لئے وہ لڑکی اپنے ناپسندیدہ شوہر کے جنسی مطالبات کو مجبوری میں تسلیم کر لیتی ہے اور اس کے بچوں کی ماں بھی بن جاتی ہے۔ کیا یہاں پر کونسنٹ پایا جاتا ہے؟

‌د.        ایک مغربی معاشرے میں لڑکا لڑکی کی دوستی ہوجاتی ہے جس کو بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کہا جاتا ہے۔ لڑکی صرف دوستی رکھنا چاہتی ہے اور ابھی جنسی تعلق کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ لیکن لڑکا جنسی تعلق کا مطالبہ کر رہا ہے۔ انکار کی صورت میں بریک اپ یعنی دوستی ٹوٹنے کا پورا امکان ہے۔ نتیجتاً لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کے مطالبے کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ کیا یہاں پر کونسنٹ پایا جاتا ہے؟

‌ه.      ایک بیوی ہے جو کہ اپنے شوہر سے محبت بھی کرتی ہے اور اس کی خواہشات کا احترام کرتی ہے اور اس سے جنسی تعلق قائم کرنا پسند بھی کرتی ہے۔ لیکن مرد کی جنسی طلب عورت سے زیادہ ہے۔ اس لئے کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد جنسی ملاپ کا مطالبہ کرتا ہے لیکن عورت کا "موڈ" نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود عورت صرف اپنے شوہر کی خاطر اس کے مطالبے کو تسلیم کر لیتی ہے۔ کیا یہاں پر کونسنٹ پایا جاتا ہے؟

‌و.       ایک مسلمان دین دار عورت اپنے شوہر کے جنسی مطالبے کو صرف اس وجہ سے تسلیم کرتی ہے کیوں کہ بلاوجہ شوہر کو انکار کرنے کی صورت میں فرشتے اس پر لعنت کریں گے۔ کیا یہاں پر کونسنٹ پایا جاتا ہے؟

ان تمام مثالوں میں آپ دیکھتے ہیں کہ کونسنٹ کتنی غیر حقیقی اور غیر متعین شئے ہے۔ لیکن ایک چیز ان تمام مثالوں میں پائی جاتی ہے وہ آمادگی ہے۔ میں نے ہر سوال کے آخر میں ایک سوال پوچھا ہے کہ آیا یہاں پر کونسٹ پایا جاتا ہے یا نہیں۔ میرے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔

لیکن ان مثالوں میں آمادگی ضروری  پائی جاتی ہے۔  آپ دیکھتے ہیں کہ معاشی ضرورت، سماجی مجبوری، نفسیاتی دباؤ اور مذہبی اصول ایک عورت کے اندر خود سے آمادگی پیدا کرتے ہیں۔ آمادگی فی نفسہ اندر سے پیدا ہونے والی چیز نہیں ہے۔ بلکہ یہ انسان کا بیرون ہے جو آمادگی پیدا کرتا ہے۔ جب ایک عورت لونڈی بنتی ہے اور جب اس کو خود معاشرتی اور سیاسی حالات کا پتہ ہوتا ہے تو اس کے حالات خود اس کے اندر آمادگی پیدا کر لیتے ہیں۔

اصولی طورپر دو وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر یہاں پر کونسنٹ کا معاملہ اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ مغرب کا عقیدہ ہے کہ ہر انسان آزاد ہے۔ اس لئے لونڈی سے جسمانی تعلق قائم کرنا اس کی آزادی چھیننے کے برابر ہے۔  ہم اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ کسی کے لونڈی یا غلام  ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ آزاد نہیں ہے۔ اور اس فرد کے لونڈی یا غلام بننے کی باقاعدہ اخلاقی وجہ موجود ہے۔ اس لئے ایک غلام اور لونڈی کے معاملے میں آزادی کی بنیاد پر اعتراض کھڑا کرنا بالکل ہی ایک متناقض بات ہے۔

اس معاملے میں حساسیت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی عورت کے ساتھ اس کی مرضی کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے وہ عورت شدید قسم کی ذہنی اور جسمانی تکلیف سے گذرتی ہے۔ یہاں پر کونسنٹ اور آمادگی کو ملادیا جاتا ہے۔ اوپر دی گئی مثالوں سےیہ واضح ہوجاتا ہے کہ اگر حالات کے جبر کی وجہ سےعورت اس عمل کے لئے آمادہ ہوجائے قطع نظر اس سے کہ آپ اس آمادگی کو قانونی طور پر کونسنٹ سمجھیں یا نہ سمجھیں،  عورت کو ایسی کسی تکلیف سے گذرنا نہیں پڑتا اور مغرب میں ایسی آمادگی کے ساتھ جسمانی تعلقات صراحتاً جائز سمجھے جاتے ہیں۔

اب ذرا صورت حال دیکھیں۔ ایک عورت ہے جو کہ کسی صورت حال کی وجہ سے لونڈی بن گئی۔ اسے پتہ ہے کہ وہ آزاد نہیں ہے۔ اسے پتہ ہے کہ جس معاشرے میں وہ رہ رہی ہے وہاں پر آقا کا اپنی لونڈی سے مباشرت کرنا قابل قبول ہے۔ اور اسے یہ بھی پتہ ہے کہ مزاحمت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اور اسے یہ بھی پتہ ہے کہ آقا کا اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی صورت میں وہ اپنے آقا کی بیوی کا شیئر حاصل کر رہی ہے اور بچہ ہونے کی صورت میں اسے بیچا نہیں جاسکتا۔

اور ذرا سیاسی پس منظر بھی ملاحظ فرمائیں کہ اس عورت کو یہ بھی پتہ ہے کہ جس ماحول میں وہ رہ رہی ہے وہاں پر جنگی قیدیوں کو غلام اور لونڈی بنانا قابل قبول ہے اور اگر اس کی اپنی سائڈ والے جییتے تو اس کا اپنا شوہر بھی ایک آدھ لونڈی گھر لے آتا۔

اس پورے منظر کو سامنے رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر کونسنٹ کا مسئلہ پیدا ہی کہاں ہوتا ہے؟

اعتراض کرنے والے عام طور پر یہ دعوی کرتے ہیں کہ لونڈی کے ساتھ جنسی تعلق دراصل ریپ (Rape)   ہے۔ یہاں پر مناسب ہے کہ اس اصطلاح کو صحیح تناظر میں سمجھا جائے۔ ہمارے ذہن میں ریپ کے لفظ سے جو تصور پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک کمزور عورت ایک یا ایک سے یا زیادہ مردوں کے شکنجے میں پھنسی ہوئی تڑپ رہی ہے اور وہ مرد اس پر جنسی زیادتی کر رہےہیں جبکہ وہ عورت ان کے شکنجے سے آزاد ہونے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے جس کی وجہ سے وہ شدید قسم کی جسمانی اور ذہنی تکلیف میں مبتلا ہے۔حقیقت یہ ہے کی ایسا قطعی نہیں ہوتا۔ حالات اور معاشرہ اس کے اندر خود سے آمادگی پیدا کرتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح اوپر کی مثالوں میں یہ آمادگی  پیدا ہوجاتی ہے۔ریپ مغرب کے عمرانیاتی ، مابعد الطبیعاتی اور قانونی تناظر میں پیدا شدہ ایک لفظ ہے جس پر بحث کرنے کے لئے الگ سے ایک مضمون کی ضرورت ہے۔ اس کو ایک قطعی دوسرے سیاق میں استعمال کرنا بذات خود ایک بد دیانتی ہے۔

*****

۳۔ آج کے دور میں غلامی کا جواز کیا ہے؟

اصولی طور پر قانون تو ایک ہی ہے چاہے وہ پہلے والا دور ہو یا آج کا دور۔ لیکن عملی صورت حال اس سے مختلف ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہو کہ لونڈی یا غلام بنانا دین کا کوئی باقاعدہ حکم نہیں ہے۔ مسلمان حکمرانوں کو باہم مشورے سے اس بات کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہیں تو اس چیز کو اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر ایسی کوئی صورت حال پیدا نہیں ہوتی جب کسی خاص موقعے پر قیدیوں کو غلام اور لونڈی بنانا ضروری ہوجاتا ہے تو پھر یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے واضح کیا گیا کہ اس بات کا فیصلہ حکمران قوتین پہلے بھی مسلمانوں کے مجموعی فائدے اور نقصان کی بنیاد پر کرتی تھیں۔ اگر آج کے دور میں کسی جنگ میں کافر قیدی ہاتھ آئیں تو بھی بہت زیادہ امکان یہی ہے کہ مسلمان حکمران ان کو غلام نہیں بنائیں گے خاص طور پر ایسی صورت میں جبکہ مسلمان قیدیوں کو غلام بنائے جانے کا امکان نہ ہو۔

اقوام متحدہ کا ایک قانون ہے جسے جنیوا کنونشن کہتے ہے۔ یہ فوجی قیدیوں، شہری قیدیوں اور جنگی زخمیوں کے ساتھ سلوک کرنے کے کچھ اصول ہیں جن کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔ یہ گویا کہ تمام ممبر ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔ جب ایک مسلم ملک اس معاہدے پر دستخظ کرچکا ہے اور جب اس معاہدے کی بنا پر اس کے اپنے قیدیوں کو بھی فائدہ ہورہا ہے تو ایسے میں اس کے لئے جائز نہیں ہوگا کہ وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے۔ اس لئے اُس ملک کے لئے عملاً یہ ناجائز ہوگا کہ وہ قیدیوں کو غلام بنائے اگرچہ اسلام کا قانون اپنی جگہ پر جوں کا توں رہے گا۔

ایسی جنگ جس میں باقاعدہ کسی ملک کی فوجیں شرکت نہیں کرتیں بلکہ غیر منظم فوجیں ہوں جنہیں آج کل دہشت گرد کہا جاتا ہے تو ان پر جنیوا کنونشن لاگو نہیں ہوتا۔ اس لئے وہ فوجیں جن پر جنیوا کنونشن لاگو نہیں ہوتا اگر وہ کسی مخالف ملک کے جنگی قیدیوں کو غلام بنالیں تو اس میں کوئی اخلاقی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔ عملاً تو صورت حال یہ ہے کہ دنیا کا مہذب ترین ملک جنہیں دہشت قرار دیتا ہے اس کے لئے وہ کسی بھی قانون و ضابطے کو نہیں مانتا۔ اس  لئےان جنگجوؤں سے کسی قانون کا مقابلہ کرنا بذات خود غیر اخلاقی چیز ہے۔

اس بارے میں ایک اور چیز کا خیال رکھنا ہوگا۔ جب جنگی قیدیوں کو غلام اور لونڈی بنایا جاتا ہے تو مسلم معاشرہ انہیں اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سچ مچ آج کے مسلم معاشرے اس ابلاغی دور میں غلام اور لونڈیوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں اس سے بہت سارے خاندانی مسائل پیدا ہوجائیں؟ اگر مسلم حکمران اس قسم کا کوئی خدشہ محسوس کریں تو انہیں غلام بنانے سے احتراز کرنے کا پورا حق ہے۔

ان باتوں سے تو یہ واضح ہوگیا ہے کہ قانونی اجازت ہونے کے باوجود اس پر عمل فی الحال معطل رہے گا اور اس قانون کو معطل رکھنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔

ہوسکتا ہے کل کو عالمی حالات ایسے پلٹ جائیں کہ مسلم حکمران محسوس کریں کہ غلام بنانا اس وقت مناسب ترین آپشن ہے تو اس پر عمل بھی ہوسکتا ہے۔

یہیں سے اس سوال کا بھی جواب ملتا ہے کہ آج کے دور میں لونڈی سے مباشرت کی کیا گنجائش ہے۔ غلام اور لونڈی کا رکھنا کوئی دین کا باقاعدہ حکم نہیں ہے۔ بلکہ ایک اجازت ہے جس پر جبھی عمل ہوسکتا ہے جب اس دور کی سیاست اور معاشرت اس عمل سے مناسبت رکھتی ہو۔ اور اگر کبھی ایسا دور آیا کہ جب غلام رکھنے کا عمل اس دور کی سیاست اور معاشرت سے مناسبت رکھے تو پھر یہ ماحول اس لونڈی کے اندر بھی رضامندی پیدا کردیتا ہے۔

*****

۴۔ اسلام نے غلامی کو مکمل طور پر ختم کیوں نہیں کیا جبکہ امریکہ نے کیا۔

بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اسلام نے اس غلامی کو ختم کردیا تھا جس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچتا تھا اور صرف اس غلامی کے جواز کو باقی رکھا تھا جس کا اخلاقی جواز بنتا تھا جیسا کہ پہلے پؤائنٹ میں لکھا جاچکا ہے۔ امریکہ میں جو غلام تھے ان کی غلامی کا سرے سے کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا تھا اور اس بارے میں امریکہ یا پورا مغرب اپنی بنائی ہوئی غلامی کے جواز دینے کے موڈ میں بالکل نہیں ہے۔ افریقیوں پر حملہ صرف غلام بنانے کی نیت سے ہی ہوتا تھا اور ان کو جانوروں کی طرح پکڑ کر پنجرے میں ڈال کر جہازوں میں بٹھا کر باقاعدہ غلامی کے لئے ہی لے جایا جاتا تھا۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا،  اخلاقی احکامات، زکوۃ اور مکاتبت کا  ایک پورا معاشرتی نظام تھا جس کی وجہ سے مسلم معاشرے میں غلام کی غلامی کی حیثیت عارضی ہی ہوتی تھی الا یہ کہ اس غلام کی آزادی سے مسلمان کوئی خطرہ محسوس کریں۔ یہ باقاعدہ ایک عملی نظام تھا جس کی وجہ سے بنے ہوئے غلام جو کہ مسلم معاشرے میں جذب ہوچکے ہوتے تھے آزاد ہوتے رہتے تھے۔ مغرب میں ایسا کوئی نظام تھا نہیں۔

غلامی پر اعتراض کرنے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاشرتی مظہر کو صرف قانون کے دائرے میں دیکھتے ہیں۔ اخلاقی اور ترغیبی احکامات شاید ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ یا مذہب کو نہ ماننے کی وجہ سے ان کے ہاں کسی خیر اور بھلائی والے عمل کو کرنے کا واحد ذریعہ قانونی بندش ہی ہوتی ہے۔ جب وہ اسلام کے کسی حکم کا مغرب سے تقابل کرتے ہیں تو ان کے نزدیک صرف قانونی مسئلہ ہی ہوتا ہے جبکہ اسلام صرف قانون کا نام نہیں بلکہ اس کا پورا ترغیبی اور اخلاقی نظام ہوتا ہے جس کی جڑیں عقیدہ آخرت میں گڑی ہوتی ہیں۔

اگر اسلام نے تمام غلاموں کو بیک وقت آزاد کرنے کا حکم دیا ہوتا تو بہت سارے معاشرتی اور معاشی مسائل پیدا ہوجاتے۔ امریکہ میں جب یک جنبش قلم غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم نافذ ہوا تو آج تک اس کا جھٹکا امریکہ میں محسوس ہو رہا ہے۔ اس یکدم سے آزاد کرنے کے عمل کی وجہ سے آج بھی امریکہ کی جیلیں کالوں سے بھری ہوئی ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنے کے بعد معاشرے کے لئے آسان نہیں ہوتا کہ اتنی بڑی تعداد میں آزاد انسانوں کی اخلاقی تربیت کے لئے کوئی انتظام کر سکے۔ اس کی وجہ سے آج بھی امریکہ میں کالے زیادہ غریب اور زیادہ مجرم ہیں۔ مسلمانوں میں جو غلاموں کو آزاد کرنے کا نظام بنا اس کی وجہ سے ایک نسل کے بعد غلام اور آزاد کا فرق ہی مٹ گیا۔

الغرض امریکہ کا غلاموں کو آزاد کرنا مکمل طور پر ایک دوسرا ہی پہلو رکھتا ہے جو کہ ان کے تاریخی مجرمانہ کردار کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔ اسلام نے غلامی کی جو اجازت باقی رکھی اس کے لئے اسلام کے پاس اخلاقی جواز موجود ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
پطرس کے "کتے" کے بعد!
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
انٹرویو ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس
متفرق-
عائشہ جاوید
انٹرویو ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس ترجمہ: سلیمان واثق نظرثانی: عائشہ جاوید سوڈانی نژاد ایک عالم ج۔۔۔
السلام علیکم اپریل 2014
متفرق-
عائشہ جاوید
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ قارئین کرام !مسلم دنیا اس وقت مصائب وآلام کی جن تند و تیز لہروں۔۔۔
’جدید بیانیہ‘ کے رد پر ایقاظ کا خصوصی شمارہ
متفرق-
ادارہ
السلام علیکم قارئین کرام! مارچ+اپریل 2015 کا ایقاظ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اِس خصوصی اشاعت میں دو شمارے یکجا ۔۔۔
ناموس رسالت اور ہمارے دیسی لبرلز دانشورانہ منافقت یا منافقانہ دانشوری؟
متفرق-
ابو زید
ناموس رسالت اور ہمارے دیسی لبرلز دانشورانہ منافقت یا منافقانہ دانشوری؟   ابوزید abuz۔۔۔
جہاد کا قائم مقام.. پاکستان بھارت کا میچ!
متفرق-
ادارہ
جہاد کا قائم مقام.. پاکستان بھارت کا میچ! عامرہ احسان کرکٹ کا میدان..... پاکستان بھارت کا میچ..... فضا نعرہ۔۔۔
السلام عليكم شمارہ 1999
متفرق-
ادارہ
دعا ہے آپ ايمان اور صحت كى بہترين حالت ميں زندگى بسر كررہے ہوں ! قارئين كرام! ہر وہ چيز جو چھپ كر لوگوں۔۔۔
ویلنٹائن پر ایک انگریزی جریدے کا ’پول‘
متفرق-
حامد كمال الدين
’ویلنٹائن‘ وغیرہ اشیاء چند عشرے پیشتر یہاں کسی نگاہِ غلط انداز کے قابل بھی شاید نہیں تھیں۔ ان کا خالی ذکر ہو۔۔۔
قدروں کا نوحہ
ثقافت- معاشرہ
متفرق-
محمد قطب
محمد قطبؒ اخلاق باختگی کا ایک طوفان کچھ زخموں کو ہرا کر جاتا ہے، گو یہ سال بھر مندمل نہیں ہوتے۔ ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز