عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, August 20,2019 | 1440, ذوالحجة 18
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-04 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
فقہاء نے مستشرقین کا زمانہ نہیں پایا تھا!
:عنوان

. ایقاظ ٹائم لائن :کیٹیگری
ادارہ :مصنف

Text Box: 144

 


فقہاء نے مستشرقین کا زمانہ نہیں پایا تھا!

المورد کے اصحاب خلافت کے موضوع پر فقہاء کو اپنا ہم خیال سمجھ بیٹھے۔ کہتے ہیں:

جن ملکوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، وہ اپنی ایک ریاست ہائے متحدہ قائم کرلیں۔ یہ ہم میں سے ہر شخص کا خواب ہوسکتا ہے اور ہم اسکو شرمندہ تعبیر کرنے کی جدوجہد بھی کرسکتے ہیں، لیکن اس خیال کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ یہ اسلامی شریعت کا کوئی حکم ہے جس کی خلاف ورزی سے مسلمان گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہرگز نہیں، نہ خلافت کوئی دینی اصطلاح ہے اور نہ عالمی سطح پر اس کا قیام اسلام کا کوئی حکم ہے۔ پہلی صدی ہجری کے بعد ہی ، جب مسلمانوں کے جلیل القدر فقہا ان کے درمیان موجود تھے، ان کی دو سلطنتیں ، دولت عباسیہ بغداد اور دولت امویہ اندلس کے نام پر قائم ہوچکی تھیں اور کئی صدیوں تک قائم رہیں، مگر ان میں سے کسی نے اسے اسلامی شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا، اس لئے کہ اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم قرآن و حدیث میں موجود ہی نہیں ہے۔

(’’اسلام اور ریاست:: ایک جوابی بیانیہ‘‘۔ روزنامہ جنگ 22 جنوری 2015۔http://goo.gl/0yWPD0 )

خط کشیدہ الفاظ فقہائے اسلام کی بابت ایک دعوىٰ ہے۔ کیا واقعتاً فقہاء میں سے ’’کسی نے‘‘ اسے اسلامی شریعت کے ’’کسی حکم‘‘ کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا؟ معلوم ہوتا ہے ’’مسلم وحدت‘‘ کے مسئلہ پر فقہاء کی آراء مضمون نگار کی نظر سے نہیں گزریں۔ ورنہ زیادہ سے زیادہ وہ اپنی اِس بات کو فقہاء کے ہاں پائی جانے والی ایک ’’شاذ رائے‘‘ کہتے، جیساکہ الماوردی﷫ نے اس کے ’’شاذ رائے‘‘ ہونے کی باقاعدہ صراحت فرمائی ہے (الماوردی کی عبارت آگے آ رہی ہے)۔ البتہ یہ بیان دے ڈالنا کہ ’فقہاء میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا‘ کتبِ فقہ  پر مطلع طبقے کے یہاں تعجب سے سنا جا ئے گا۔ یہاں ہم فقہاء کے کچھ بیانات آپ کے سامنے رکھیں گے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا، فقہاء کی بابت کیا گیا یہ دعویٰ کس قدر غیرحقیقی ہے۔

تو پھر آئیے دیکھتے ہیں، مؤلفینِ فقہاء ’’اسلامی قلمرو کے انقسام‘‘ پر  اپنے قبیلے کے مواقف کیونکر نقل کرتے ہیں۔ واضح رہے، یہاں ہم ان فقہاء کے اقوال دیں گے جو اس ’’انقسامِ خلافت‘‘ ہی کے ادوار میں پائے گئے۔ یعنی یہ معاملہ بطورِ واقعہ بھی ان کی نظر میں ہی تھا اور وہ کسی سہانے دور میں بیٹھے ہوئے یہ باتیں نہیں کر رہے تھے۔ دیکھئے یہ فقہاء اِس موضوع پر کیا کہتے ہیں:

سیاسۃ شرعیہ پر قلم اٹھانے والا ایک بڑا نام الماوردی﷫ (چوتھی صدی ہجری کے فقیہ؛ اپنے وقت کے قاضی القضاۃ)  لکھتے ہیں:

وذهب الجمهور إلى أن إقامة إمامين في عصر واحد لا يجوز شرعا لما روي عن النبي أنه قال : إذا بويع أميران فاقتلوا أحدهما  (أدب الدنيا والدين ص136)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/YQKAEQ 

جمہور کا مذہب رہا ہے: ایک زمانے میں دو اماموں کا مقرر ہونا شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ نبیﷺ سے مروی ہے: ’’جب دو امیروں کی بیعت ہو جائے تو ان میں سے ایک کو قتل کردو‘‘۔

ماوردی کی مندرجہ بالا نقل غور فرما لیجئے: جمہور کا مذہب۔ اس کے مخالف قول، ماوردی کے نزدیک، ’’غیرجمہور‘‘ نہیں بلکہ ’’شاذ قول‘‘ ہے۔

ماوردی﷫ امت میں ’’ایک وقت میں مسلمانوں کے دو ملک یا دو امیر‘‘ ہونے کے جواز کو ایک شاذ قول قرار دیتے، اور امت میں ایک ہی امارت کو ضروری ٹھہراتے ہوئے:

وإذا عقدت الإمامة لإمامين في بلدين لم تنعقد إمامتهما، لأنه لا يجوز أن يكون للأمة إمامان في وقت واحد وإن شذ قوم فجوزوه      (الأحكام السلطانية ص29)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/M3Tbt1 

اگر دو مختلف ملکوں میں دو امیروں کو امامت سونپی جائے تو ان دونوں کی امامت منعقد نہ ہوگی۔ کیونکہ ایک وقت میں امت کے دو امام جائز نہیں، اگرچہ بعض لوگوں لوگوں نے شذوذ کی راہ چلتے ہوئے اسے جائز کہا ہے۔

یہ جمہور فقہاء، جن کا الماوردی ودیگر مؤلفین کے بیان میں ذکر ہوا، اس قدر زیادہ ہیں کہ نووی﷫ (ساتویں صدی ہجری) اس کو ’’علماء کا متفقہ قول‘‘ ہی قرار دینے تک چلے جاتے ہیں۔ تاہم نوویؒ کی تقریر دینے سے پیشتر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ صحیحین کی وہ روایت نقل کر دی جائے جس کے تحت (شرح مسلم) میں نوویؒ فقہاء کا یہ اتفاق نقل کرتے ہیں۔ کیونکہ خود یہ حدیث بھی اس باب میں معانی کا ایک سمندر ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي، قال: کَانَتۡ بَنِو إسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ؛ كُلَّمَا َهَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ وَتَكْثُرُ. قاالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ، فَالْأَوَّلِ. وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا استرعاهمْ                        (متفق علیہ، واللفظ لمسلم http://goo.gl/sYrcmm)

ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کے معاملاتِ سیاست انبیاء چلاتے رہے، جیسے ہی کوئی نبی دنیا سے جاتا اس کا جانشین نبی ہوتا۔ اب یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ہاں خلفاء ہوں گے اور بہت زیادہ ہوں گے۔ لوگوں نے عرض کی: تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: جس کی بیعت پہلے ہوجائے اُسی کی بیعت نبھاتے چلے جانا۔ تم ان کو ان کا حق دیتے رہنا؛ کیونکہ اللہ نے جو کچھ ان کی رعیت میں دیا اُس کی بابت اُن سے وہ خود سوال کرنے والا ہے‘‘۔

حدیث بالا کی شرح میں نووی﷫ فرماتے ہیں:

وَاتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُعْقَدَ لِخَلِيفَتَيْنِ فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ سَوَاءٌ اتَّسَعَتْ دَارُ الْإِسْلَامِ أَمْ لَا وَقَالَ إِمَامُ الْحَرَمَيْنِ فِي كِتَابِهِ الْإِرْشَادِ قَالَ أصحابنا لا يجوز عقدها لشخصين قَالَ وَعِنْدِي أَنَّهُ لَا يَجُوزُ عَقْدُهَا لِاثْنَيْنِ فِي صُقْعٍ وَاحِدٍ وَهَذَا مُجْمَعٌ عَلَيْهِ قَالَ فَإِنْ بَعُدَ مَا بَيْنَ الْإِمَامَيْنِ وَتَخَلَّلَتْ بَيْنَهُمَا شُسُوعٌ فَلِلِاحْتِمَالِ فِيهِ مَجَالٌ قَالَ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْقَوَاطِعِ وَحَكَى الْمَازِرِيُّ هَذَا الْقَوْلَ عَنْ بَعْضِ الْمُتَأَخِّرِينَ مِنْ أَهْلِ الْأَصْلِ وَأَرَادَ بِهِ إِمَامَ الْحَرَمَيْنِ وَهُوَ قَوْلٌ فَاسِدٌ مُخَالِفٌ لِمَا عَلَيْهِ السَّلَفُ وَالْخَلَفُ وَلِظَوَاهِرِ إِطْلَاقِ الْأَحَادِيثِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ         (شرح مسلم، حدیث رقم 1442)

حوالہ کا ویب لنک:  http://goo.gl/nNJSrc

علماء کا اتفاق ہے، ایک زمانے میں دو خلیفے نہیں ہو سکتے خواہ دار الاسلام کا رقبہ بہت وسیع ہو یا نہ ہو۔ امام الحرمین (جوینی) نے اپنی کتاب الارشاد میں ذکر کیا کہ ہمارے (شافعیہ) کے اصحاب کا یہی مذہب ہے کہ امارت (بیک وقت) دو شخصوں کےلیے منعقد نہیں ہو سکتی۔ لیکن جوینی کا اپنا کہنا ہے کہ میرے نزدیک کسی ایک خطے میں دو آدمیوں کی امارت تو منعقد نہیں ہوسکتی اور اس پر تو اجماع ہے، البتہ اگر دو امیروں کے مابین مسافت بہت زیادہ ہو اور ان دونوں کے بیچ میں بہت سے علاقے پڑتے ہوں تو یہاں احتمالات کی گنجائش ہے اور (اس صورت میں) یہ قطعیات میں نہیں آتا۔ مازری نے یہی قول کسی متاخر سے نقل کیا ہے۔ اس متاخر سے مازری کی مراد امام الحرمین (جوینی) ہی ہیں۔ مگر یہ قول فاسد ہے؛ سلف تا خلف جو مذہب رہا ہے یہ اس سے متصادم ہے۔ نیز یہ احادیث کے ظواہر سے متصادم ہے۔ واللہ اعلم

ابن حزم﷫ کا دعوائے اجماع: جس کے ’’اجماع‘‘ ہونے سے آپ بےشک اتفاق نہ کریں، مگر اس سے آپ کو یہ ضرور اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس قول پر فقہاء کی کتنی بڑی تعداد ہے، جس کے متعلق ہمارے فاضل مضمون نگار کا خیال ہے ’فقہاء میں سے کسی نے اسے شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہی قرار نہیں دیا‘۔ ابن حزم:

واتفقوا أنه لا يجوز أن يكون على المسلمين في وقت واحد في جميع الدنيا إمامان، لا متفقان ولا مفترقان، ولا في مكانين ولا في مكان واحد

(مراتب الإجماع، مؤلفہ ابن حزم ص 124)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/ljmDcY 

نیز اس پر اجماع ہوا ہے کہ: مسلمانوں پر ایک وقت میں پوری دنیا کے اندر دو امام ہونا ناجائز ہے؛ خواہ وہ امام اکٹھے ہوں یا متفرق۔ یہ نہ دو الگ الگ جگہوں میں جائز ہے اور نہ ایک جگہ میں۔

ابن حزمؒ (پانچویں صدی ہجری) کے مندرجہ بالا بیان پر ابن تیمیہ﷫ (ساتویں صدی ہجری) اتنا سا استدراک کرتے ہیں کہ  اس سے اختلاف کرنے والے بعض اہل کلام ضرور ہیں۔ نیز (احکامِ ضرورت کے تحت) ہردو مملکت کے احکامات پر عملدرآمد ہوگا۔ البتہ جہاں تک ہردو فرماں روا کی حکومت کو ’’جائز‘‘ ماننے کا تعلق ہے تو اس کو غلط کہنے پر امت کا اتفاق ہے:

النزاع في ذلك معروف بين المتكلمين في هذه المسألة كأهل الكلام والنظر، فمذهب الكرامية وغيرهم جواز ذلك، وأن عليًا كان إمامًا ومعاوية كان إمامًا، وأما أئمة الفقهاء فمذهبهم أن كلاً منهم ينفذ حكمه في أهل ولايته كما ينفذ حكم الإمام الواحد، وأما جواز العقد لهما فهذا لا يفعل مع اتفاق الأمة

(نقد مراتب الإجماع، مؤلفہ ابن تیمیہ ص 298)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/lROiOW 

اس پر اہل کلام وفلسفہ ایسے متکلمین اختلاف معروف ہے۔ کرامیہ وغیرہ فرقے اس کے جواز کے قائل ہیں، اور یہ کہ علیؓ بھی امام تھے اور معاویہؓ بھی امام تھے۔ البتہ جہاں تک ائمہ فقہاء (اہلسنت) کا تعلق ہے تو ان کا مذہب ہے کہ ہردو امیر کا حکم اپنی اپنی قلمرو میں اسی طرح نافذ ہوگا جس طرح ایک امام کا ہوتا ہے۔ ہاں جہاں تک اس کو جائز کہنے کا تعلق ہے تو امت کا اتفاق ہے کہ دونوں کو بیک وقت امارت سونپنا صحیح نہیں۔

روئےزمین پر مسلمانوں کا ایک امیر ضروری قرار دینے پر مذاہبِ اربعہ:

ساداتِ حنفیہ﷭:

مَا افْتَرَقَ فِيهِ الْإِمَامَةُ الْعُظْمَى وَالْقَضَاءُ

يُشْتَرَطُ فِي الْإِمَامِ أَنْ يَكُونَ قُرَشِيًّا بِخِلَافِ الْقَاضِي، وَلَا يَجُوزُ تَعَدُّدُهُ فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ وَجَازَ تَعَدُّدُ الْقَاضِي، وَلَوْ فِي مِصْرٍ وَاحِدٍ.

(الأشباہ والنظائر لابن نجیم ج1 ص 325)

حوالہ ویب لنک:  http://goo.gl/AdNKiy 

فَإِذَا اجْتَمَعَ عَدَدٌ مِنْ الْمَوْصُوفِينَ فَالْإِمَامُ مَنْ انْعَقَدَ لَهُ الْبَيْعَةُ مِنْ أَكْثَرِ الْخَلْقِ، وَالْمُخَالِفُ لِأَكْثَرِ الْخَلْقِ بَاغٍ يَجِبُ رَدُّهُ إلَى انْقِيَادِ الْمُحَقِّ

(غمز عيون البصائر، للحموی ج 4 ص 111)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/FXUkZa 

کن چیزوں میں امامتِ عظمیٰ قضاء سے مختلف ہے:

امام کا قریش سے ہونا شرط ہے برخلاف قاضی کے۔ نیز امام ایک زمانے میں متعدد ہونا جائز نہیں جبکہ قاضی متعدد ہونا جائز ہے، خواہ ایک ہی شہر میں کئی قاضی ہوں۔

اگر امام بننے کی صفات کے متعدد حاملین بیک وقت سامنے آئیں تو ان میں امام وہ ہوگا جسے اکثر مخلوق نے بیعت دی ہو۔ اکثر مخلوق کی بیعت (سے بننے والے امام) کے مقابلے پر امام بننے والا باغی ہوگا اور اس کو حق کی تابعداری پر واپس لانا واجب ہوگا۔

ساداتِ مالکیہ﷭:

(تَنْبِيهٌ) أَشْعَرَ مَا ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ مِنْ جَوَازِ تَعَدُّدِ الْقَاضِي بِمَنْعِ تَعَدُّدِ الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ وَهُوَ كَذَلِكَ وَلَوْ تَبَاعَدَتْ الْأَقْطَارُ جِدًّا لِإِمْكَانِ النِّيَابَةِ وَقِيلَ بِالْجَوَازِ إذَا كَانَ لَا يُمْكِنُ النِّيَابَةُ لِتَبَاعُدِ الْأَقْطَارِ   (حاشية الدسوقي ج 4 ص 134)

حوالہ ویب لنک:  http://goo.gl/gsy8MG 

نوٹ: مصنف نے متن میں جو بیان کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ: قاضی کا متعدد ہونا جائز اور امام کا متعدد ہونا منع ہے۔ اور ہے بھی ایسا؛ اگرچہ خطے بہت بہت دور کیوں نہ ہوں کیونکہ (دور کے خطے میں) امام کی نیابت ہوسکتی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ اُس صورت میں جائز ہے جب خطوں کے مابین اتنا بُعد ہو کہ نیابت ممکن ہی نہ رہے۔

ساداتِ شافعیہ﷭:

(وَلَا يَجُوزُ عَقْدُهَا لِإِمَامَيْنِ) فَأَكْثَرَ، وَلَوْ بِأَقَالِيمَ (وَلَوْ تَبَاعَدَتْ الْأَقَالِيمُ) لِمَا فِي ذَلِكَ مِنْ اخْتِلَافِ الرَّأْيِ، وَتَفَرُّقِ الشَّمْلِ (فَإِنْ عُقِدَتَا) أَيْ الْإِمَامَتَانِ لِاثْنَيْنِ (مَعًا بَطَلَتَا أَوْ مُرَتَّبًا انْعَقَدَتْ لِلسَّابِقِ) كَمَا فِي النِّكَاحِ عَلَى امْرَأَةٍ (وَيُعَزَّرُ الْآخَرُونَ) أَيْ الثَّانِي وَمُبَايِعُوهُ (إنْ عَلِمُوا) بَيْعَةَ السَّابِقِ لِارْتِكَابِهِمْ مُحَرَّمًا.

 (أسنى المطالب في شرح روض الطالب ج 4 ص 110)

حوالہ ویب لنک:  http://goo.gl/9dn0n6

دو یا دو سے زیادہ اماموں کےلیے امارت کا انعقاد جائز نہیں، چاہے خطے الگ الگ کیوں نہ ہوں۔ چاہے خطے دور دور کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ اس میں آراء کے بٹ جانے اور شیرازہ بکھر جانے کا اندیشہ واضح ہے۔ اگر دو امامتیں دو اشخاص کےلیے ایک ہی وقت میں منعقد کردی گئی ہوں تو وہ دونوں باطل ہوں گی۔ اور اگر آگے پیچھے منعقد ہوئیں تو جس کی پہلے ہوئی اس کی منعقد ہو جائے گی۔ جس طرح کہ (مختلف ولیوں کے ہاتھوں) عورت کے ایک سے زیادہ نکاح کا معاملہ ہوتا ہے۔ جبکہ بعد والے اور اس کی بیعت کرنے والوں کو سزا دی جائے گی بشرطیکہ ان کو پہلے والے کی بیعت کا علم ہوگیا ہو اس لیے کہ ایک حرام کے مرتکب ہوئے۔

ساداتِ حنابلہ﷭:

( ويتجه ) أنه ( لا يجوز تعدد الإمام ) لما قد يترتب عليه من التنافر المفضي إلى التنازع والشقاق ووقوع الاختلاف في بعض الأطراف، وهو مناف لاستقامة الحال، يؤيد هذا قولهم : " وإن تنازع في الإمامة كفؤان أقرع بينهما إذ لو جاز التعدد لما احتيج إلى القرعة.

 (مطالب أولي النهى ج 6 ص 263)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/jqBi9S 

اس کی توجیہ یوں ہے کہ: متعدد امام ہونا جائز نہیں۔ اس لیے کہ اس سے باہمی منافرت پیدا ہوتی ہے جوکہ باہمی نزاع اور جدائی کا باعث بننے والی ہے اور (امت کے) اطراف کے مابین اختلاف لے آنے کا موجب۔ جبکہ یہ چیز راست روی کے منافی ہے۔ اس کی تائید فقہاء کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ اگر امامت کے اہل دو اشخاص میں تنازعہ ہو جائے تو ان دونوں کے مابین قرعہ ڈالا جائے گا۔ ظاہر ہے اگر تعدد جائز ہوتا تو قرعہ کی ضرورت نہ ہوتی۔

ابن تیمیہ﷫ کی تقریر:

والسنة أن يكون للمسلمين إمام واحد والباقون نوابه, فإذا فرض أن الأمة خرجت عن ذلك لمعصية من بعضها أو عجز من الباقين أو غير ذلك فكان لها عدة أئمة, لكان يجب على كل إمام أن يقيم الحدود, ويستوفي الحقوق..)

 (مجموع فتاوى ابن تیمیۃ ج 34 ص 175، 176)

حوالہ ویب لنک:  http://goo.gl/ZZJEvW

سنت (دستور) یہی ہے کہ جملہ مسلمانوں کا ایک امام ہو اور باقی اس کے نائب ہوں۔ ہاں اگر کسی وقت امت اس دستور سے ہٹ جائے خواہ اِس وجہ سے کہ امت کے کچھ لوگ معصیت کی راہ چل پڑے ہیں اور باقی لوگ بےبس ہوگئے ہیں یا کسی اور وجہ سے امت کے ہاں متعدد امام ہوگئے ہیں، تو یہاں ہر امام پر واحب ہوگا کہ وہ حدود قائم کرے اور حقوق کو یقینی بنائے۔

فقہاء کے درج بالا اقوال میں آپ دیکھتے ہیں: احکامِ ضرورت بھی ایک ساتھ ذکر ہوگئے اور احکامِ اصلی بھی۔ یہی توازن شاید آج ہمارے لوگوں کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بدترین سے بدترین حالات میں بھی احکامِ اصلی پر ہی مصر رہنا ایک یوٹوپیا (غیرحقیقت پسندانہ) روش کو جنم دیتا ہے؛ جوکہ لامحالہ انتہاپسندی کی صورت دھارتا ہے۔ اِسی کو ہم ’’غلو‘‘ یا ’’افراط‘‘ کہتے ہیں۔ غیر علماء طبقہ میں یہ روش بھی اِس وقت عروج پر ہے۔ دوسری طرف احکامِ اصلی کو سرے سے گول کر جانا ’’جفا‘‘ کا راستہ ہے جسے ہم ’’تفریط‘‘ کہتے ہیں؛ اور جس پر ہمیں صاحبِ مضمون دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ امت بیچاری ان دو انتہاؤں کے بیچ کٹی پھٹی جاتی ہے۔[i]  ہر انتہاپسند طبقہ، خواہ وہ اِفراط کی راہ چل رہا ہو یا تفریط کی، اپنا ’بیانیہ‘ narrative  ہی جاری کردینے پر مُصر ہے!

فاضل مضمون نگار نے خوب کیا جو یہاں فقہاء کا ذکر ضروری جانا۔ اس سے فقہاء کا موقف سامنے آنے میں بھی مدد ملی اور فقہاء کے مواقف پر خود ان کا مطلع ہونا بھی۔ ورنہ نیریٹو narrative   جاری کرنے کےلیے ’’فقہاء‘‘ کی کیا ضرورت تھی!



[i]   آئندہ فصل میں ’’خلافت کے موضوع پر افراط اور تفریط‘‘ کے حوالہ سے کچھ گفتگو کی گئی ہے۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
سید قطب کی تحریریں فقہی کھپت کےلیے نہیں
تنقیحات-
ایقاظ ٹائم لائن-
حامد كمال الدين
سید قطب کی تحریریں فقہی کھپت کےلیے نہیں عرصہ ہوا، ہمارے ایک فیس بک پوسٹر میں استاذ سید قطبؒ کے لیے مصر کے مع۔۔۔
شیخ ابن بازؒ کی گواہی بابت سید قطبؒ
ایقاظ ٹائم لائن-
حامد كمال الدين
شیخ ابن بازؒ کی گواہی بابت سید قطبؒ ایقاظ ڈیسک یہ صاحب[1]  خود اپنا واقعہ سنا رہے ہیں کہ یہ طلبِ عل۔۔۔
معجزے کی سائنسی تشریح
ایقاظ ٹائم لائن-
ذيشان وڑائچ
معجزے کی سائنسی تشریح!              &nbs۔۔۔
جدت پسند: مرزا قادیانی کو ایک ’مسلم گروہ کا امام‘ منوانے کی کوشش! دنیوی اور اخروی احکام کے خلط سے ’دلیل‘ پکڑنا
ایقاظ ٹائم لائن-
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
جدت پسند حضرات کی پریشانی: مرزا قادیانی کو ایک ’مسلم گروہ کا امام‘ منوانا! دنیوی اور اخروی احکام کے۔۔۔
طارق جمیل نے کیا برا کیا ہے؟
ایقاظ ٹائم لائن-
ادارہ
طارق جمیل نے کیا برا کیا ہے؟ مدیر ایقاظ اِس مضمون سے متعلق یہ واضح کر دیا جائے: ہمارا مقصد معاشرت۔۔۔
حوثی زیدی نہیں ہیں
ایقاظ ٹائم لائن-
شیخ ناصر القفاری
حوثی زیدی نہیں ہیں تحریر: ناصر بن عبد اللہ القفاری اردو استفادہ: عبد اللہ آدم بعض لوگ ۔۔۔
مسلم ملکوں میں تخریب کاری، استعماری قوتوں کا ایک ہتھکنڈا
ایقاظ ٹائم لائن-
ادارہ
مسلم ملکوں میں تخریب کاری استعماری قوتوں کا ایک ہتھکنڈا ایقاظ کے فائل سے یہ بات اظہر من الشمس ہ۔۔۔
’اَعراب‘ والا دین یا ’ہجرت و نصرت‘ والا؟
ایقاظ ٹائم لائن-
ادارہ
’اَعراب والا‘ دین... یا ’ہجرت و نصرت‘ والا؟  عَنْ بُرَيدَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: كَانَ رَسُو۔۔۔
ایمان، ہجرت اور جہاد والا دین
ایقاظ ٹائم لائن-
ادارہ
               ایمان، ہجرت اور جہاد والادین إ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز