عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, July 21,2019 | 1440, ذوالقعدة 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-04 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
اسلامی ریاست کا تصور غیرمسلموں پر ظلم!
:عنوان

. باطلفكرى وسماجى مذاہب :کیٹیگری
ادارہ :مصنف

اسلامی ریاست کا تصور غیرمسلموں پر ظلم!


’’قراردادِ مقاصد‘‘ کے زیرعنوان... اسلامیانِ پاکستان نے اپنے اس تاریخی عہد کو آئینی زبان میں قلمبند کیا کہ: زمین کے اِس گوشے میں پائے جانے والے جو کچھ وسائل اور اختیارات ہیں وہ اُس مالکِ کائنات کی عبادت اور ماتحتی میں دیے جاتے ہیں جس نے محمدﷺ کو دستورِحق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور کرۂ ارض کے ایک ایک شخص اور ایک ایک ملک کےلیے قیامت تک آپﷺ کو ہادی اور مطاع ٹھہرایا ہے۔

اس قرارداد کی عبارت میں بہت سی کمیاں یا غلطیاں ہوں گی، جن کی بابت ہم بھی وقتاً فوقتاً کچھ معروضات رکھتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعے عملاً اسلام کو کچھ نہ دیا گیا ہو اور محض یہ ایک رسمی کارروائی کا نام رہ گیا ہو۔ نیز ایک قومی عہد کو سامنے لانے کے اِس طریقِ کار پر بہت کچھ ملاحظات رکھے جا سکتے ہیں۔مگر ان سب باتوں پر گفتگو کا اور مقام ہے۔ یہاں ایک طبقہ اب ایسا سامنے آیا ہے جو اس بات کو ہی اصولاً خلافِ شرع ٹھہراتا ہے کہ اِس خطۂ زمین کے ریاستی معاملات میں شرعِ محمدی کو دستور ٹھہرا دیا جائے۔ اس کے خیال میں یہ یہاں رہنے والے غیرمسلموں کے ساتھ زیادتی ہے، خواہ مسلمان یہاں بھاری اکثریت ہی میں کیوں نہ ہوں، اور خواہ ان غیرمسلموں کے شخصی حقوق کو کتنا ہی محفوظ کیوں نہ کر دیا گیا ہو۔ ان کے نزدیک ’قومی ریاست‘ کا دستور اس سے شدید متاثر ہوجاتا ہے۔ اور اس ظلم کے معاملہ میں ہمیں خدا کے آگے جوابدہ ہونے سے ڈر جانا چاہئے۔  فرماتے ہیں:

ہر شخص جانتا ہے کہ اِس کے لیے نہ کوئی فرمان آسمان سے نازل ہوا ہے کہ جزیرہ نمائے عرب کی طرح یہ صرف مسلمانوں کا ملک ہے، نہ مسلمانوں نے اِس کو فتح کر کے اِس میں رہنے والے غیرمسلموں کو اپنا محکوم بنا لیا ہے اور نہ وہ اُن کے ساتھ کسی معاہدے کے نتیجے میں اِس ریاست کے شہری بنے ہیں۔ وہ صدیوں سے اِسی سرزمین کے باشندے ہیں، جس طرح مسلمان اِس کے باشندے ہیں اور ریاست جس طرح مسلمانوں کی ہے، اُسی طرح اُن کی بھی ہے۔ ہندوستان کی تقسیم اِس اصول پر نہیں ہوئی تھی کہ ایک حصے کے مالک مسلمان اور دوسرے کے ہندو ہیں اور دوسرے مذاہب کے لوگ اُن کے محکوم بنا دئیے گئے ہیں، بلکہ اِس اصول پر ہوئی تھی کہ برطانوی ہند کے جن حصوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، اُنھیں الگ ملک بنا دیا جائے گا اور ہندوستان کی ریاستوں کے حکمران آزاد ہوں گے کہ چاہیں تو اپنی آزادی برقرار رکھیں اور چاہیں تو ہندوستان اور پاکستان میں سے کسی کے ساتھ الحاق کر لیں، اِس سے قطع نظر کہ اُن کی رعایا میں اکثریت مسلمانوں کی ہے یا ہندوؤں کی یا کسی دوسرے مذہبی فرقے کی۔ اِس طرح کی ریاست کو اگر اکثریت کے زور پر مسلمان یا مسیحی یا ہندو بنانے کی کوشش کی جائے گی تو یہ محض تحکم اور استبداد ہو گا، جس کی تائید کوئی ایسا شخص نہیں کر سکتا جس کو اُس کے پروردگار نے حکم دیا ہو کہ وہ ہر حال میں قائم بالقسط رہے گا اور حق کی گواہی دے گا، اگرچہ یہ گواہی اُس کے اپنوں کے خلاف ہی پڑ رہی ہو۔ ریاست پاکستان میں رہنے والے غیرمسلموں کے حق میں یہ گواہی اب ضروری ہے کہ تاریخ کے صفحات پر ثبت کر دی جائے۔

(’’ریاست اور حکومت‘‘۔ روزنامہ جنگ 22 فروری 2015۔  http://goo.gl/fYiX6s)

قراردادِ مقاصد میں کس کا ’حق‘ غصب ہوا؟

ہمارا جواب ان حضرات کےلیے یہ ہے:

اس سے پہلے کہ آپ ایک ’’غصب‘‘ کا سوال اٹھائیں آپ کو وہ ’’حق‘‘ ثابت کر لینا چاہئے جسے کسی ہندو یا عیسائی یا سکھ  کو نہ دے کر آپ کے خیال میں ہم ظلم کربیٹھے۔ ’’ریاستی عمل‘‘ میں محمدﷺ پر ایمان نہ رکھنے والے ایک شخص کو برابر کا حصہ دار نہ رکھنا اُس کے جس ’حق‘ کا غصب ہے اور وہ ’حق‘ جہاں سے واجب ہوا،اس کا تعین پہلے ضروری ہے۔

دورِحاضر میں جس چیز کو آپ ’’ریاست‘‘ کہتے ہیں وہ بنیادی طور پر زمین کے وسائل اور اختیارات میں تصرف کرنے کا نام ہے۔ یعنی یہآپ اپنی ذات میں ایک جبر ہے۔ بےشک یہ ایک ناگزیر جبر ہے۔ عمرانی ضرورت ہے۔  مگر انسانی اموال و ارواح میں یہ تصرف کسی دلیل کا بھی محتاج ہے۔ بغیر دلیل یہ دھونس اور ظلم ہوگا؛ اور دلیل ہو تو یہی جبر عدل کہلائے گا۔ ہمارے اسلامی تصور میں: انسانی اموال و ارواح کےلیے قانون اور ضابطے بنانے کا ’حق‘ رکھنا درحقیقت ایک انسان کو خدا بنا دیتا ہے؛ خواہ یہ ’’انسان‘‘ فرد ہو یا جماعت۔ ہاں وہ اپنی ذاتی اشیاء میں جیسے مرضی تصرف کرے، کوئی اسے اس حق سے محروم کرنے والا نہیں۔ مگر خدا کے بندوں کےلیے ہی وہ حق اور ناحق کے پیمانے صادر کرنے لگے؛ ان کے باہمی حقوق وفرائض کا تعین خاص اپنی نظر اور صوابدید سے کرے، خدا کے بندوں کےلیے زمین پر رہنے کے قانون اور ضابطے بنائے اور ان کےلیے سزائیں تجویز کرے... یہ اگر کسی کا ’حق‘ ہے تو اس پر ہمارے ان بھائیوں کو دلیل لانا ہوگی۔ آخر کہیں تو آیا ہو گا کہ خدا نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو کسی پر یہ حق دے رکھا ہوا ہے! یہ ’’جبر‘‘ اپنے حق ہونے کےلیے لامحالہ کسی سند کا محتاج رہے گا۔ اگر تو یہ خدا کے وضع کردہ دائرہ کا پابند ہے، (جوکہ اُس کی شریعت سے ہی معلوم ہو سکتا ہے) تو اس کے آگے ہمارا سر یقیناً خم ہے۔ ورنہ یہ پوچھنے کا حق ہمیں ہے کہ انسانی زندگیوں میں تصرف کرنے کا ’حق‘ تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے۔[1] 

پس ’’ریاست‘‘ کے نام سے ایک چیز پر ہمارے ماڈرنسٹ جب ہمیں کسی کا ’حق‘ جتاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا یہ ’حق‘ نہ دینے پر ہمیں ظلم کا موردِ الزام ٹھہراتے ہیں... اس کا یہ ’حق‘ ثابت کرنے پر ان حضرات کے پاس دلیل کیا ہوتی ہے؟  بلکہ انسانی زندگیوں میں تصرف کا یہ ’حق‘ روئے زمین کے کسی بھی انسان کےلیے ثابت کہاں سے ہوتا ہے؟

کافر یا مسلمان کا زمین پر ’’فرد‘‘ کے طور پر جو حق ہے وہ تو ہمیں معلوم ہے۔ شریعت سے ثابت ہے۔ اس معنىٰ میں کہ وہ زمین کے اتنے مرلے یا اتنے بیگھے یا اتنے مربعے کا ’مالک‘ ہے۔[1] اُس کا یہ حق اگر کسی نے چھینا ہے تو صاف ظلم کیا ہے۔ کافر بھی ہو تو وہ قطعۂ زمین اور اس میں جو کچھ ہے اس کی شرعی ملکیت ہے... اور بطورِ ’’فرد‘‘ وہ اس میں تصرف کا پورا حق رکھتا ہے۔ البتہ یہ بات کہ بطورِ ’’جماعت‘‘ (as a collective entity)  وہ زمین کے ’’وسائل اور اختیارات‘‘ کا بھی مالک ہے، اس کی کیا دلیل ہے آپ کے پاس؟

زمین کے یہ ’’وسائل اور اختیارات‘‘ بھی دنیا کے اندر کسی ’ملکیت‘  کا نام ہو گیا ہے، اور اس پر لوگوں کا ہندو یا عیسائی یا سکھ کے طور پر ’حق‘ بھی ہوگیا ہے، اس بات کی سند خدا نے کہاں اتاری ہے؟

’ریاست‘ تو  __  جیسا کہ ہم نے عرض کیا  __  زمین کے وسائل اور اختیارات کے اندر تصرف ہے نہ کہ ’فرد‘ کے طور پر زمین کے کچھ بیگھوں یا کچھ مربعوں کا ’مالک‘ ہونا۔ حیرت کی بات ہے یہاں آپ کو ’فرد‘ بھول جاتا ہے اور ایک ’اجتماعی ہستی‘ (collective entity) کے طور پر آپ اُس کو وہ حق دے ڈالتے ہیں۔ آخر کس دلیل سے؟ اقول ما قال الناس!؟ (اسی وجہ سے کہا گیا کہ اکثر عقول کےلیے اپنے دور کے دیے ہوئے سانچوں سے نکلنا ممکن نہیں ہوتا، اس کےلیے آدمی کو بہت زیادہ ٹھیٹ ذہن ہونا پڑتا ہے، جس کو یہاں کا ارتقائی جدت پسند ’جمود‘ کا نام دے گا؛ یہ وجہ ہے کہ کئی ایک اہل علم نے دورِ غلامی کے ’اجتہادات‘ سے خدا کی پناہ مانگی ہے)۔

یہاں...؛ ایک ایک مذہب کی ’اجتماعی حیثیت‘ زمینی اختیارات کے مالک کے طور پر کہاں سے آ گئی؟ اس کی تو کوئی دلیل نہیں دی گئی، اور نہ دی جاسکتی ہے۔ البتہ زمین کے ان وسائل اور اختیارات کو شرعِ آسمانی (آئینِ محمدی) کا پابند ٹھہرا دینے والوں کے خلاف ’ظلم ظلم‘ کا شور بےپناہ الاپ دیا گیا! اور یہ ’ظلم‘ ہو جانے پر ’کونوا قوامین بالقسط‘ کے حوالے۔ قربان جائیں اس پرہیزگاری پر! پہلے وہ حق بھی تو ثابت کرلیں جو ’چھین‘ لیا گیا ہے!

زمین کے وسائل اور اختیارات پر ’حق‘ کسی کا نہیں ہے برادرم۔ نہ مسلمان کا نہ کافر کا۔ نہ

جس چیز کو دورِحاضر میں آپ ’ریاست‘ کہتے ہیں، دراصل وہ زمین کے وسائل اور اختیارات کے اندر تصرف ہے نہ کہ ’فرد‘ کے طور پر زمین کے کچھ بیگھوں یا کچھ مربعوں کا ’مالک‘ ہونا۔

اقلیت کا نہ اکثریت کا۔ نہ جمہور کا نہ غیر جمہور کا۔ کوئی اگر کہتا ہے کہ یہ فلاں کا حق ہے تو وہ اس بات کی دلیل دے۔ خدا کی زمین پر اِس اجتماعی جبر اور تصرف کا حق خدا کی جانب سے اتاری ہوئی سند سے ہی ملے گا؛ آپ وہ دکھائیں تو بات ہے۔ ہاں ’’فرد‘‘ کے طور پر کچھ بیگھے زمین کا ’مالک‘ بننا ہر کسی کا حق ہے، خواہ وہ کافر ہے یا مسلمان؛ جس میں اپنے درست یا غلط تصرف کا حساب اُسے خدا کے ہاں جاکر دینا ہے ہمیں نہیں؛ ہم ایسے ہر (فردی) حق کا احترام کرتے ہیں اور اس کی پاسبانی کو اپنا اجتماعی فریضہ جانتے ہیں۔ البتہ ’’جماعت‘‘ کے طور پر اُس کا زمین کے اختیارات اور وسائل کا مالک ہونے کی دلیل چاہئے، اور یہی پوائنٹ ہمارے اور آپ کے مابین موضعِ نزاع ہے:

زمین کے وسائل اور اختیارات پر تصرف کا  کسی کو بطور ہندو یا بطور عیسائی یا بطور سکھ ’حق‘ ہونا؟ حتیٰ کہ کسی بھی حیثیت میں کوئی اس کا ’مالک‘ ہو، اس کی دلیل؟

’’غصب‘‘ کا سوال ظاہر ہے ’’مالک‘‘ کا تعین ہونے کے بعد آئے گا۔

 آپ کو معلوم ہے ’’ریاست‘‘ کے زیرعنوان ’’زمین کے یہ اختیارات‘‘ انسانی اموال، دِماء اور فُروج تک[2] میں ’’تصرف‘‘ ہے۔ حتی کہ اپنی قلمرو میں (بذریعہ تعلیم و ابلاغ) انسانی عقول کی ساخت کرنے اور کائنات کی بنیادی ترین حقیقتوں کو ایک خاص نظر سے دکھانے کا ’حق‘ رکھنا سٹیٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ یعنی عقول تک کسی کی ’جاگیر‘ ہو جاتی ہیں۔ ماڈرن سٹیٹ اس کو given کے طور پر لیتی ہے۔ روسو نے اِس ’اختیار‘ کی دلیل دینے کی ایسی ایسی بھونڈی کوشش کی ہے کہ آدمی کو اس خرد پر تعجب ہونے لگتا ہے جو انسان کو خدائی کے منصب پر بٹھانے کےلیے ’درکار‘ ہے۔ ’’زمین کا مالک و متصرف‘‘ ہونے کے اس دعوىٰ پر کوئی روسو کا ہم خیال ہے تو بھی ہم مسلمانوں کو اس کا پابند کرنے کےلیے اُس کو خدا کی جانب سے اتاری گئی کوئی سند ہی لا کر دینا پڑے گی۔ صاف بات ہے زمین کے یہ وسائل اور اختیارات کسی کے نہیں ہیں۔ یہ خدا کی چیز ہے۔ خدا نے کسی کو تفویض نہیں کر دی ہوئی ہے۔ یہ چیز جس کا مالک یہاں کا کوئی انسان نہیں ہے... اِس کو تو خدا کے نام اور خدا کی مرضی (شریعت) کے بغیر ہاتھ لگانا بھی ہمارے نزدیک ظلم ہے (کیونکہ یہ انسانوں پر جبر سے عبارت ہے؛ جو خدا کی اجازت کے بغیر نہ اکثریت کو روا ہے اور نہ اقلیت کو)۔ ہاں خدا کے نام اور خدا کی مرضی سے ان وسائل اور اختیارات کو اہل زمین کی دنیوی و اخروی منفعت کا ذریعہ بنانا خدا کی عبادت کی ایک صورت ہے؛ اور مسلمان خدا کی آخری اور اس وقت کی واحد آسمانی شریعت کا امین ہونے کے حوالے سے، اور محض اِس حیثیت میں  __ حسبِ قدرت  __  اس عبادت کا مکلف۔ پس اس چیز کا ’’عبادت‘‘ اور ’’امانت‘‘ (ذمہ داری) ہونا تو یقیناً ہمیں سمجھ آتا ہے۔ ’حق‘ البتہ یہ کسی کا نہیں ہے؛ لہٰذا اس کو کسی سے ’چھیننے‘ کا کیا سوال؟

قراردادِ مقاصد کی یہ شق کم از کم اس جہت سے نہایت موزوں ہے: یہ خدا کی امانت ہے اور اپنے استعمال کے معاملہ میں خدا کے بخشے ہوئے اختیارات کی پابند۔ (’خدا کے بخشے ہوئے اختیارات‘ کی بجائے ’خدا کے نازل کردہ احکام‘ کا لفظ گو ہماری نظر میں مناسب تر تھا)۔

بیسویں صدی کے عالمی بت کدہ میں توحید کی ایک ایسی خوبصورت آواز! خدا کروٹ کروٹ آرام دے ان نفوس کو جنہوں نے خدا کی زمین کے ایک بقعے کے ماتھے پر بڑی محنت اور جدوجہد سے یہ تحریر درج کر ڈالی، اور ان کی کوتاہیاں معاف فرمائے۔ اور خدا ہدایت دے ان نفوس کو جو اس تحریر کو کھرچنے کےلیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں۔

زمین کے یہ سب وسائل اور اختیارات کسی انسان کی جاگیر نہ رہیں؛ نہ مسلمان نہ ہندو کوئی ان اختیارات کا مالک نہ ہو... ایسی عدل کی بات پر بتائیے کسی کو کیا اعتراض ہے؟

*****

یہاں سے؛ بارِ ثبوت burden of proof  فریقِ مخالف پر ہو گیا ہے: خدا نے انسانی زندگیوں میں تصرف کا حق کسی انسان کو کہاں دیا ہے؟ کوئی دلیل ہو تو پیش کیجئے۔

*****

اِس نقطۂ نظر کے اصحاب یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ مدینہ کی جس مثال سے آپ لوگ دلیل پکڑتے ہیں وہاں تو رسول اللہﷺ کو حاکم بنانے والا خود رب العالمین ہے۔ آپ کی حاکمانہ حیثیت یہاں کس چیز سے ثابت ہوئی؟  ہم کہتے ہیں، یہاں کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔ حکمران کے اختیار کا کیا طریقہ ہے، یہ سوال یہاں پر غیرمتعلقہ ہے، گو فقہاء نے بڑی وضاحت سے یہ بات کر رکھی ہے کہ امت اپنا حکمران چننے کی واحد مجاز ہستی ہے۔  یہاں مسئلۂ زیربحث البتہ اس سے کہیں بڑا ہے:

رسول اللہﷺ کو ’’حکمران‘‘ کے طور پر آسمان سے جو سند حاصل ہوئی وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ خاص ہے۔

البتہ اسلام کو انسانی معاشروں کےلیے دستور ٹھہرائے جانے کی جو سند آسمان سے ملی وہ اسلام کے ساتھ خاص ہے۔

وہ اپنی جگہ ایک حقیقت۔ یہ اپنی جگہ۔

ان دونوں باتوں کو ایک دوسرے سے خلط نہ کرنا چاہئے۔

*****

Double Bracket: انسانی اموال و ارواح کےلیے قانون اور ضابطے بنانے کا ’حق‘ رکھنا درحقیقت ایک انسان کو خدا بنا دیتا ہے؛ یہ ’’انسان‘‘ خواہ فرد ہو یا جماعت۔ اقلیت یا اکثریت۔ کوئی اپنی ذاتی اشیاء میں جیسے مرضی تصرف کرے، اسے اس حق سے واقعتاً محروم نہیں کیا جا سکتا۔ مگر خدا کے بندوں کےلیے وہ حق اور ناحق کے پیمانے صادر کرے اور ان کے باہمی حقوق وفرائض کا تعین خاص اپنی نظر اور صوابدید سے کرے، خدا کے بندوں کےلیے زمین پر رہنے کے قانون اور ضابطے بنائے... یہ اگر کسی کا ’’حق‘‘ ہے تو اس پر دلیل چاہئے



Rectangle: Rounded Corners: ’’ریاست‘‘ کا مطلب ہے: ’’زمین کے اختیارات‘‘ (انسانی اموال، دِماء اور فُروج تک) میں ’’تصرف‘‘۔ حتی کہ اپنی قلمرو میں (بذریعہ تعلیم و ابلاغ) انسانی عقول کی ساخت کرنے اور کائنات کی بنیادی ترین حقیقتوں کو ایک خاص نظر سے دکھانے کا ’حق‘ رکھنا سٹیٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ یعنی عقول تک کسی کی ’جاگیر‘ ہو جاتی ہیں۔ ماڈرن سٹیٹ اس کو given   کے طور پر لیتی ہے۔ جبکہ مسلمان اس کی دلیل پوچھتا ہے۔ خصوصاً ہمارے یہ اسلامی ہیومن اسٹ بتائیں: اُس کا یہ حق کہاں سے ثابت ہے۔

[1]    ’’ریاست‘‘ درحقیقت ’’جبر‘‘ ہی کا دوسرا نام ہے۔ دیکھئے اس شمارہ کے مضامین: ’’ریاست: جبر یا دھونس؟‘‘۔ نیز ’’گواہ چست‘‘۔ نیز ’’علیکم بالجماعۃ‘‘۔ نیز ’’اسلامی ماڈرنسٹ کسی ایک بنیاد پر تو ہوں‘‘۔



[1]    ’’ملکیتِ زمین‘‘ کی بحث چونکہ یہاں ہمارے پیش نظر نہیں، لہٰذا اس سے اختلاف رکھنے والے حضرات ہمارے ان الفاظ کو فی الحال یوں پڑھ لیں: ایک مخصوص شخص کا ایک مخصوص قطعۂ زمین میں انتفاع اور تصرف کا ’’مالک‘‘ ہونا جس میں اس کی خرید و فروخت تک آجاتی ہے۔

[2]    ’دماء‘‘ میں تصرف:  مثال:  ریاست  جرم کا تعین کرے گی اور ریاست ہی اس پر سزا کا تعین کرے گی، جس میں اُس انسان کی جان لے لینا بھی آتا ہے۔ آدمی نے بےشک کوئی جرم کر لیا ہو، ’’اسلامی ریاست‘‘ اس کی جان لے گی تو ’’خدا کے حکم‘‘ (شریعت) کی رُو سے۔ یہ حضرات بتائیں یہ ایک ’مطلق ریاست‘ کو  کس دلیل سے اُس آدمی کی جان لینے کا مجاز بنائیں گے؟

’’فروج‘‘ میں تصرف:  ریاست ہم جنس شادی کو جائز ٹھہرا سکتی ہے۔ دو شادیوں کی ممانعت اور اس پر سزا دے سکتی ہے۔ ایک شرعاً بالغ شخص پر نکاح ممنوع ٹھہراسکتی اور اس پر سزا دے سکتی ہے۔ وغیرہ

ہمارے ان بھائیوں کو ثابت کرنا ہے کہ خدا نے کسی مخلوق کو یہ حق کہاں دیا ہے؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
ثقافت- خواتين
ثقافت-
Featured-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
Featured-
احوال-
ادارہ
کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال بل جب ٹرمپ نے اق۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز