عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, July 11,2020 | 1441, ذوالقعدة 19
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-04 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ریاست: جبرِ حق یا دھونس؟
:عنوان

اصل پائیدار "جبر" دنیا میں وہ ہے جس کا میدان عقول ہوں... اور جس کے ہتھکنڈے کالج یونیورسٹیاں اعلیٰ تحقیقاتی ادارے دماغوں کو ٹیون کرنےوالےآلات ابلاغ اور ادبیات ہوں۔ "ریاست" کی اصل قوت اور درازیِ عمر اسی میں پنہاں

. باطلفكرى وسماجى مذاہب . ایقاظ ٹائم لائن :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

Text Box: 1

ریاست: جبرِ حق یا دھونس؟

’’جبر‘‘ دلیل کے ساتھ ہو تو برحق ہے ورنہ ناحق۔ ہر ریاست ہوتی ’’جبر‘‘ ہے البتہ ’’حق‘‘ نظر آنے کےلیے وہ اپنے وجود کی دلیل بھی دینے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم جسے وہ ’دلیل‘ کہتی ہے وہ نرا ’’دعویٰ‘‘ ہوتا ہے۔ ہاں اس کا نام دھونس ہے۔

ہر ریاست ایک طرح کا جبر ہوتی ہے؛ اور یہ ’’جبر‘‘ ایک خاص دائرہ کے اندر انسانی اجتماعی زندگی کی ضرورت ہے۔ عقلاء کا اس پر کوئی اختلاف نہیں۔ یہاں جتنا بھی بحث و آراء آپ دیکھیں گے وہ اِس ’’جبر‘‘ کی اصولی ضرورت پر نہیں۔ سب جدل اُس ’’دلیل‘‘ کے گرد ہے جہاں سے اِس ’’جبر‘‘ کو اپنے لیے جواز پانا ہوتا ہے؛ یعنی کوئی ’’جابر‘‘ ہے تو کیوں اور ’’مجبور‘‘ ہے تو کیوں؟ کوئی کسی کے جان و مال میں متصرف ہے تو کیوں؟ نیز یہ جدل اُن حدود و قیود کے گرد ہے جن کا اِس ’’جبر‘‘ کو پابند رہنا ہوتا ہے۔

البتہ یہ کچھ غیراختتام پذیر بحثیں ہیں۔ یہاں بےشمار فلسفے پیش کر لیے گئے اور بےشمار فلسفے وہ لوگ آکر  پیش کریں گے جو ابھی اِس جہان میں نہیں آئے۔ غرض ایک بات کی ضرورت دنیا میں ہمیشہ سے ہے، مگر اُس ضرورت کو پورا کرنے کی ’’دلیل‘‘ اور ’’حدود و قیود‘‘ سے متعلق کوئی بات آج تک بنی نوع انسان کے مابین سرے نہیں لگی اور نہ قیامت تک اِس کا امکان ہے!

البتہ ’’جبر‘‘ اپنی ضرورت منواتا؛ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا!

پھر یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ کسی جائز بنیاد اور کسی عادلانہ حدود و قیود کے بغیر یہ ’’جبر‘‘ ہی ’’ظلم‘‘ میں بدل جاتا ہے۔ انسانی زندگی میں روزِ اول سے یہ ’’ظلم‘‘ بےحدوحساب ہو رہا ہے؛ اور یہ اتنا سارا ظلم اپنے حساب  کےلیے بلاشبہ ایک حشر کا متقاضی ہے۔

یعنی ’’جبر‘‘ ضرورت بھی ہے، اور اگر یہ حق پر ہو تو اِسی کو ’’عدل‘‘ بھی کہیں گے، لیکن کسی دستورِ حق کی غیرموجودگی میں اِس سے بڑا ’’ظلم‘‘ بھی کوئی نہیں ہے۔

نہ ایک چیز کے ہوئے بغیر چارہ.. اور نہ اس کو حق کا پابند رکھے بغیر کوئی مفر!

’’حق‘‘.. جس کے تعین پر انسانوں کے مابین معرکۂ آراء ہے؛ اور جس کا سِرا انسانی بحثوں کے الجھاؤ میں گم ہو جاتا ہے! اِسکو جتنا ڈھونڈو یہ اتنا الجھتا ہے؛ سوائے یہ کہ آدمی کو ’’ہدایت‘‘ مل جائے۔

انسانوں کے یہ نزاعات جن میں یہ قیامت تک بحث کر سکتے ہیں (جبکہ یہ وہ نزاعات ہیں جن میں کوئی فیصلہ کن بات لوگوں کو قیامت سے پہلے ان کی اِسی دنیا میں درکار تھی!)... انسانوں کے یہ نزاعات سرے لگانے کےلیے کوئی ’’حوالہ‘‘ متصور نہیں ہے سوائے اِس ایک بات کے کہ خدائے دانا کوئی پیغمبر بھیج کر خود اپنے فرمان سے ان کا فیصلہ کر دے۔ جس کے بعد یہ جھگڑا آراء کا نہ رہے،؛[i] بلکہ یہ جھگڑا ایک ’’فیصلہ کردینے والی بات‘‘ اور ’کبھی فیصلہ نہ کر پانے والی باتوں‘ کے مابین ہوجائے۔ یعنی ایمان اور کفر۔

پس کسی نظریہ پر ایک جبر (جدید زبان میں: ’’سٹیٹ‘‘) کھڑا کر لیا جانا اس کو حق ہونے کی سند نہیں دیتا، خواہ وہ روسو کا نظریہ ہو یا ہابس، لاک، کانٹ یا کسی اور کا۔ دوسروں کا زور چلے گا تو وہ اپنے نظریہ پر ’’سٹیٹ‘‘ کھڑا کریں گے۔ اور یہ عمل سدا جاری رہے گا۔ یہ اکھاڑپچھاڑ انسانی تاریخ میں برابر چلے گی۔ اصل کہانی یہی ہے۔ تاہم یہ مزید دلچسپ ہوجاتی ہے کہ:  انسان کو ایک حق پرست طبیعت بھی عطا ہوئی ہے جو جبرِ محض کو قبول نہیں کرتی۔ لہٰذا ہر ریاست کو اسی ’’جبر‘‘ کا سہارا لیتے ہوئے اذہان پر عمل کرنا اور تمام امکانات کو بروئےکار لاکر عقول میں یہ بٹھانا ہوتا ہے کہ یہ کسی حق کے زور پر قائم ہے۔ یعنی ’’جبر‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’عقول میں نقب‘‘ لگنے کے امکانات بھی ہمیشہ ہوں گے۔ بلکہ اصل ’’جبر‘‘ یہی ہے۔ پس تمام تر مسئلہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کے کالج اور یونیورسٹیاں یہاں کس نظریے کا جبر پڑھاتی ہیں۔ آپ کی ابلاغیات یہاں کس دواساز کی تیارکردہ خوراکیں دماغوں میں انڈیلتی ہیں۔ اور  آپ کے  شعبہ ہائے حیات یہاں کے عام آدمی کو ’زندگی کی دوڑ‘ میں حصہ لینے کےلیے کونسا راستہ کھول کر دیتے ہیں۔ ایک بڑی خلقت اِس جہان میں  ہمیشہ ایسی ملےگی جو ہر نظریۂ قائمہ prevailing thesis کے فرمائے کو مستند جانے!

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ                  (الزخرف: 54)

فرعون نے اپنی قوم کی عقل مار دی؛ اور وہ اس کے پیچھے لگ گئے۔ دراصل وہ تھے ہی بدکار لوگ۔

یہ وجہ ہے کہ ایک غالب نظریہ اپنی آدھی بات بھی کرے تو لوگ اس پر سر دھنتے ہیں گویا واقعتاً اُس کی ’دلیل‘ سے گھائل ہو گئے! جبکہ وہ نظریہ جس میں ’سٹیٹس کو‘ کا عفریت نہ بول رہا ہو کم ہی کسی کو اپنا مدعا سمجھا پاتا ہے۔

پس اصل ’’پائیدار‘‘ جبر دنیا میں وہ ہے جس کا میدان عقول ہوں... اور جس کے ہتھکنڈے کالج، یونیورسٹیاں، اعلیٰ تحقیقاتی ادارے، دماغوں کو ’ٹیون‘ tune کرنے والے آلاتِ ابلاغ اور ادبیات ہوں۔ ’’ریاست‘‘ کی اصل قوت اور درازیِ عمر سمجھواسی میں پنہاں ہے۔

غرض ایک غالب تہذیب جس چیز کو اپنے تئیں دلیل کہتی ہے، اور اُس کے دماغوں پر حاوی ہونے کے باعث دنیا بھی اس کو ’دلیل‘ مانتی اور ’دلیل‘ سمجھ کر پھیلاتی ہے... ذرا غور کرنے سے آپ پر کھلتا ہے کہ وہ ’’دلیل‘‘ نہیں محض ایک ’’دعویٰ‘‘ ہے۔

نرا ایک دعویٰ... خصوصاً ’’جبر‘‘ کے موضوع پر اپنا جواز ثابت کرنے میں۔ نیز اس جبر کی حدود و قیود نشان زد کرنے میں۔

وجہ یہ کہ ’’جبر‘‘ درحقیقت ’’خدائی‘‘ کا ایک مظہر ہے؛ اور انسان سراسر بندے؛ نہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر خدا بن سکتا ہے اور نہ یہ سب مل کر خدا ہو سکتے ہیں۔ جب یہ بندے ہیں تو اِن کے ہاتھوں جاری ہونے کےلیے کسی بھی ’’جبر‘‘ کو خدا کی جانب سے آئی ہوئی کوئی واضح سند درکار ہوگی؛ جوکہ اُس کی شریعت ہی ہو سکتی ہے؛ کہ ایسی ذلت[ii]  خالق ہی اپنی مخلوق پر مسلط فرما سکتا ہے؛ اور ذلت ہی اصل عبادت۔ پس جس طرح خدائے برحق کے سوا ہر کسی کی خدائی جھوٹی ہے اسی طرح خدا کی شریعت کے سوا انسان کو اپنا  subject  ٹھہرانے والی ہر اتھارٹی ایک باطل دعویٰ ہے۔ پھر خاص طور پر جب یہ اتھارٹی محض انتظامی نہ ہو بلکہ تشکیلی ہو۔[iii]  یعنی انسانی شعور کی باقاعدہ تشکیل کرنے اور اس کے نتیجے میں سوسائٹی کو باقاعدہ ایک ساخت دینے تک جاتی ہو، نہ کہ معاشرے کے انصرام تک محدود رہتی ہو۔

آنے والی چند فصول میں اس دھونس کی کہانی بیان کی جاتی ہے۔

 (زیرتالیف: ’’ابن تیمیہ کی خلافت و ملوکیت پر تعلیقات‘‘، فصل ’’ریاست ایک جبر یا دھونس‘‘؟ شائع ایقاظ، اپریل 2014)

 


 

 

 



[i]     کیونکہ آراء کا فیصلہ اِس دنیا میں فی الواقع ممکن نہیں ہے؛ ’’آراء‘‘ کا فیصلہ ’’آراء‘‘ سے ہی کیا جائے گا تو یہ ایک غیر اختتام پذیر عمل ہوگا۔ لامحالہ یہ فیصلہ ’’آراء‘‘ سے نکل کر ہو گا۔

   اس کے تعلق سے مزید دیکھئے اس کتابچہ کی فصل ’’کتاب سے سوسائٹی‘‘ حاشیہ 4

[ii]   ایک خطہ میں پائے جانے والے بنی آدم کو باقاعدہ “subject” قرار دینا (جدید ریاست کی باقاعدہ اصطلاح)۔ ہو بھی کیوں نہ جب ریاست ان کی جان، مال، عزتوں آبروؤں ہر چیز کے اندر متصرف ہے اور ان کے ذہنوں کی تشکیل اور ان کےلیے خیر و شر کے پیمانے تک صادر کرنے کی مجاز!

[iii]    نظم یا جبر کے حوالے سے ’’انتظامی‘‘ اور ’’تشکیلی‘‘ کا فرق پیچھے گزر چکا۔

Print Article
  ہیومن ازم
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
"المورد".. ایک متوازی دین
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ!
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ترک حکمران پارٹی سے وابستہ "اسلامی" توقعات اور واقعیت پسندی حامد کمال الدین ذیل میں میری ۔۔۔
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
جہاد- تحريك
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
تحريك
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز