عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Gard_Nahi آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار!
:عنوان

’محمدﷺ کی تلوار‘ پر بے تحاشا اِن کے دانت پستے ہیں، بس میں نہیں ہے کہ کیا کردیں!!! کیونکہ ’یہ‘ ساتھ نہ ہوتی تو ’خالی دلیلیں‘ تو اِن کی بہت آزمائی ہوئی تھیں!!! دینِ مسیح علیہ السلام میں بھلا کیا دلیل نہیں تھی؟

. باطلجدال . جہادقتال :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار!

 
   

دنیا کے ہر براعظم میں قبولِ اسلام کا شور ہے۔ وہی ”اللہ اکبر“ کے نعرے جو کسی شخص کے پہلی بار ”اَشہد اَن لا الٰہ الا اللہ و اَن محمداً رسول اللہ“ کے الفاظ لب پہ لے آنے پراول اول ’مکہ‘نامی ایک بستی میں سنے جایا کرتے تھے۔۔ وہی نعرے یورپ، جنوبی امریکہ، شمالی امریکہ اور افریقہ تا آسٹریلیا ”اسلامی سنٹروں“ کے اندر اب روز گونجتے ہیں۔۔۔۔ پیرانِ کلیسا اِس پر چپ ہی رہیں گے؟!

یہ خاموشی پوپ بینی ڈکٹ نے توڑی۔۔!

کئی عشرے ویٹی کن کے یہاں اِس پر ’چپ ہی بھلی‘ جانی گئی، کہ سامنے قرآن ایسی روشن کتاب ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسی درخشندہ ذات۔ جبکہ سورج کو اندھیر کہہ دینے کیلئے ڈھٹائی کی ایک غیر معمولی حد درکار ہے۔ ڈھیٹ ’ہونا‘ مسئلہ نہیں مگر ڈھیٹ ’نظر آنا‘ ڈپلومیسی اور پریس کے اِس دور میں کچھ غیر ضروری طور پر مشکل کر دیا گیا ہے! لیکن آدمی ’مجبور‘ ہو جائے تو۔۔۔۔!!!

آخر ہمت کر کے ریجنزبرگ یونیورسٹی کے پوڈیم پہ تقریر کے لئے چڑھے اور صدیوں پرانے اپنے ایک رومن شہنشاہ کے اقتباس سے استشہاد کرتے ہوئے خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی عیب جوئی پہ تان توڑی، جس میں ایک کھلی دروغ گوئی یہ تھی کہ (معاذ اللہ) ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عقیدہ کو تلوار کے زور پہ پھیلانے کا حکم دے رکھا ہے‘، پھر اِس پر ’عالمانہ‘ تبصرہ تھا کہ (خاکم بدہن) ”یہ سب تو نرا شر اور غیر انسانی ہے“۔ اِس یاوہ گوئی سے فارغ ہو کر، ’تین کو ایک اور ایک کو تین‘ بتانے والی ملت کے روحانی پیشوا اپنے تئیں یہ اطمینان کر چکے تھے کہ لیکچر کے موضوع 'Faith and Reason' یعنی ’مذہب اور خرد‘ کا حق ادا کر دیا گیا ہے! اِس ساری ’نکتہ آفرینی‘ کی بنیاد توسیعِ اسلام کے تاریخی واقعہ پر رومن ایمپرر کا یہ ’علمی‘ اعتراض تھا کہ ’عقیدہ کا تعلق عقل اور خرد سے ہے نہ کہ زور اور دھونس سے‘! (1)

نیرنگیِ زمانہ! کلیسا، جس کا نام لیتے ہی ہمیں خود بخود ’اندلس‘ یاد آجاتا ہے، ’قرونِ وسطیٰ‘ کا لفظ اور اس کے سوا ’اور بہت کچھ‘ بھی کلیسا کے حوالے سے تاریخ کی یادداشت کے ساتھ چپک کر رہ گیا ہے۔۔ یہ ’کلیسا‘ آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو طعنہ دینے جا رہا ہے کہ ’عقیدہ کا تعلق عقل اور خرد کے ساتھ ہے نہ کہ زور اور دھونس کے ساتھ‘!!!!!

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دنیا بھر میں پھیل جانے کا جو ایک معلوم تاریخی واقعہ ہے اس پر کلیسا کا یہ طعنہ جو ’بحوالہ ایک رومن ایمپرر‘ پوپ بینی ڈکٹ کی زبان پر آیا، ’بلا تبصرہ‘ ہی ذکر ہونے کی چیز ہے!!!

یقینا اِن تاریخی وقائع پر، جو کلیسا کیلئے ’باعثِ تشویش‘ رہے ہوں گے، مسلم مفکرین کی جانب سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی اللہ کے فضل سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔۔ البتہ اِس تحدیثِ نعمت کی ضرورت ہر وقت برقرار ہے کہ جس کتاب اور جس نبی پر ہم ایمان رکھتے ہیں اُس کی سب سے بڑی کشش ہے ہی یہ کہ وہ انسان کی عقل، اُس کی روح اور اس کی فطرت کو خطاب کرتا ہے۔’دلیل کی قوت‘ ہی تو اِس دین کا اصل امتیاز ہے! اسلام کی یہی خصوصیت تو ہے جس کے باعث ہمیشہ کی طرح آج بھی اللہ کے فضل سے لوگ ’تثلیث‘ چھوڑ چھوڑ کر ”توحید“ کا رخ کررہے ہیں!!!

اسلام کی اِس اصل خصوصیت کو یہ لوگ یوں نظر انداز کر کے دکھاتے ہیں گویا واقعی انجان ہیں! بینی ڈکٹ وہ پہلے سورما نہیں جو روئے زمین پر دینِ اسلام کو ملنے والی اِس بے مثال پزیرائی کو ’تلوار کا کارنامہ‘ قرار دے کر اسلامی عقیدہ کی اِس قوتِ تسخیر کی بابت اپنی اقوام کا ’تجسس‘ دور کرنا چاہتے ہیں! یہ نہایت گھسا پٹا ایک عذر لنگ ہے جس کی مالا جپتے جپتے مستشرقین کی کئی نسلیں قبروں میں جا پہنچی ہیں۔ اردو لٹریچر میں سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ، ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ اور اس سے پہلے کسی حد تک شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ نے، پوپ سے بہت پہلے اُن کے اِس بوسیدہ اعتراض پر سیر حاصل مواد چھوڑ رکھا ہے!

یہ واقعہ کہ قومیں صلیب کی عبادت کو چھوڑ چھوڑ کر خدائے واحد کی بندگی اور اسلام کی سچائی ہی میں ہی اپنی گمشدہ تسکین پا لیتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ اللہ کے فضل سے بدستور جاری ہے، تو اب بھی اِس کا سبب یہ ظالم دینِ توحید اور دینِ تثلیث کے تقابل میں نہیں بلکہ اسلام کی ’تلوار‘ میں ڈھونڈتے ہیں! یہی نہیں، بلکہ اسلام کی تلوار کی رونمائی کے دوران اِن کے ہاں یہ بھی ضروری رہتا ہے کہ ’اُس‘ تلوار پر دنیا کی نظر نہ جائے جو ’صلیب‘ کے نام پر طویل صدیاں چلائی جاتی رہی اور جوکہ درحقیقت آج بھی نیام میں نہیں چلی گئی ہے، صرف چولہ بدل گئی ہے (آخر الذکر مسئلہ، جیسا کہ ہم کتاب کی ابتدا میں کہہ آئے ہیں، ہماری اِس حالیہ تحریر کا موضوع نہیں، یہاں بات صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کے حوالے سے ہوگی)۔

یہ خود جانتے ہیں شہنشاہِ قسطنطین کے قبولِ عیسائیت (312ء) کے ساتھ ہی ’دھونس‘ کس طرح میدان میں آئی تھی۔۔۔۔! اور یہ دھونس بھی بھلا کس لئے تھی؟ سینٹ پال کے دین کو مسیح بن مریم علیہ السلام کے دین پر برتری دلانے کیلئے، جس کے نتیجے میں ’مسیحیت‘ کے نام پر ”خدائے واحد“ کے بجائے ’اقانیمِ ثلاثہ‘ کی بزور پوجا کرائی جانے لگی تھی!!! سبھی کو معلوم ہے Romans کی بے رحم قوت نے میدان میں آکر کیونکر پانسہ پلٹا اور عرصہء دراز سے عیسائی فرقوں کے مابین پائے جانے والے ”توحید بہ مقابلہ تثلیث“ کے اُس طویل معرکہ کو کس جبر اور تشدد کے ساتھ، تثلیث کے حق میں، اختتام پزیر کروایا۔ کسے معلوم نہیں، رومنز کے میدان میں آنے کے ساتھ ہی __ یعنی رومنز کے عیسائیت میں پیر دھرتے ہی __ مسیح علیہ السلام کے سچے پیروکاروں کے ساتھ کیسا آہنی ہاتھ برتا جانے لگا، جب مسیح علیہ السلام کو خدا کا بندہ اور خدا کا نبی کہنے والوں پر (خصوصاً چوتھی صدی عیسوی کے ”اریوسی فرقہ“ پر جوکہ توحید پر قائم تھا) زمین تنگ کر دی گئی تھی، یہاں تک کہ چھٹی صدی عیسوی کے آواخر __ یعنی نبیِ آخر الزمان کے دورِ ولادت __ تک سب ’اریوسیوں‘، ’شمشاطیوں‘ اور ’ابیونیوں‘ (عیسائیوں میں پائے جانے والے بعض موحد فرقے(2)) کو معدوم کر کے رکھ دیا گیا تھا۔۔۔۔!

ظالموں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی تو تکلیف ہے کہ خدا کا یہ آخری نبی آیا تو دلیل کے مقابلے پر دلیل لے آیا اور تلوار کے مقابلے پر تلوار۔۔ اور پھر، اِس کھوئے ہوئے توازن کو بحال کر دینے کے بعد، فیصلہ خدا کی مخلوق پر چھوڑ دیا کہ جس عقیدہ کو چاہیں پورے اختیار اور آزادی سے قبول کریں!!!َ لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ۔۔ (3) پھر کیوں نہ ہوتا کہ قومیں اور ملک اِس دعوتِ حق کو ہاتھوں ہاتھ لیتیں؟!اِس عمل کے نتیجہ میں اِن لوگوں کا قائم کیا ہوا نظامِ جبر دنیا پر اپنی آہنی گرفت کھو بیٹھا، لوگوں کو ”دلیل“ کی روشنی میں اپنا دین چننے کی آزادی ملی،(4) اور اِن ’بیچاروں‘ کو ایشیا اور افریقہ کی ’کالونیوں‘ سے بے دخل ہو کر اپنے وطن لوٹ جانا پڑا۔ جہان میں بلکہ تاریخ کے اندر ’توازن‘ کا اِتنا بڑا شفٹ؟!!!! تب سے آج تک ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار‘ اِن کے دلوں پر کچوکے لگا رہی ہے!!!وَإِذَا خَلَوْاْ عَضُّواْ عَلَيْكُمُ الأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ قُلْ مُوتُواْ بِغَيْظِكُمْ إِنَّ اللّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ(5) ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار‘ پر بے تحاشا اِن کے دانت پستے ہیں، بس میں نہیں ہے کہ کیا کردیں!!! کیونکہ ’یہ‘ ساتھ نہ ہوتی تو ’خالی دلیلیں‘ تو اِن کی بہت آزمائی ہوئی تھیں!!! دینِ مسیح علیہ السلام میں بھلا کیا ”دلیل“ نہیں تھی؟؟؟ کہ جس کے موحد پیروکاروں کو بے دردی کے ساتھ پیس کر رکھ دیا گیا تھا اور اُس کی جگہ پال کی تثلیث کو ’منصبِ دین الٰہی‘ پر تخت نشین کرانے میں دھونس کی آخری حد کر دی گئی اور یوں قوت اور زور کے بل بوتے پر بالآخر پوری ایک آسمانی شریعت کا گھونٹ بھر لیا گیا تھا؟!! پس کیوں نہ ہوتا کہ وہ ”دلیل“ جس کے خلاف اِن کی دھونس نہ چل سکے، اِن کو زہر سے بری لگتی؟!! محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دراصل اِن کو یہی تو ’شکایت‘ ہے، جوکہ ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ میں ”کتاب یہدِی وسیفینصُر“ کو لے کر اِس پیچیدہ جہان میں تشریف لائے تھے، یعنی کتاب: قلوب اور عقول کی ہدایت کیلئے اور تلوار: جباروں اور کج کلاہوں کو سیدھا کرنے کیلئے!!! یہ ’کومبی نیشن‘ بھلا اِن کو کیوں بھاتا!

طرفہ یہ کہ ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار‘ کے خلاف پوپ کو ’اقتباس‘ بھی ملا تو کسی ’پر امن مذہبی شخصیت‘ کا نہیں بلکہ ایک ’رومن ایمپرر‘ کا جو مذہب پر ’دسترس‘ رکھتا تھا! اپنے لیکچر میں خود بھی اِس کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ایمپرر صاحب قسطنطنیہ پر عثمانی افواج کا ایک محاصرہ بھگت چکے تھے، اور آئندہ محاصرے (جس میں قسطنطنیہ کا سقوط ہونا تھا) کی آندھیاں افق پر عیاں تھیں۔ یعنی ایشیائے کوچک کے آخری کنارے پر رومن بائزنٹینی باقیات کی آخری سانسیں! تو اب جاکر ’رومن ایمپائر‘ کے اِس سپوت کو یاد آیا کہ ’تلواروں‘ کا یہاں کیا کام بات تو ’دلیل‘ سے ہونی چاہیے!!! غرق ہوتے وقت فرعون کو بھی خدا یاد آیا تھا! ایمپرر جس کی جھنجلاہٹ خود پوپ کے اقتباس ہی سے عیاں ہے، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر اتر آیا ہے ، اور جس کو سب سے بڑھ کر اب ’تلوار کی زبان‘ بری لگنے لگی ہے۔۔ یہ بائزنٹینی ایمپرر جس کا تخت، ایک طویل مکافاتِ عمل کے نتیجے میں، ایشیا اور یورپ کے اِس سنگم پر مستحکم رہنا اب مزید ناممکن ہوگیا ہے۔۔ آخر یہ وہی تخت تو ہے جس پر بیٹھ کر ظلم اور طنطنہ اور جبر کا ایک نظام صدیوں چلایا گیا اور جس کے پایوں تلے، پوپ ڈھونڈیں، تو اب بھی بے شمار اقوام کا خون پڑا ہوگا! کیا یہ وہی تخت نہیں جس پر جلوہ افروز تاج پوشوں نے کبھی ’دلیل‘ اور ’منطق‘ اور ’حق‘ کے پرخچے اڑائے تھے؟! یہ تخت جس کو شام ، مصر اور اناطولیا کے زرخیز خطوں سے سرکتے سرکتے آخر قسطنطنیہ سے بھی پیچھے ہٹ جانا پڑا، اور جوکہ ’پاپائے روم‘ کیلئے ایک اذیت ناک واقعہ ہو گا، کیا اسقفِ روم بتائیں گے کہ اِس تخت کے پائے ایشیا اور افریقہ میں کیونکر مستحکم کروائے گئے تھے؟! (خیال رہے، یہاں ہماری بات امتِ مسلمہ کے مسائل یا امت کی تاریخ کے حوالے سے نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اُن کی جانب سے کی گئی ایک گستاخی کے جواب میں ہو رہی ہے۔) پوپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ یہی بائزنٹینی قسطنطنیہ ہے جو عثمانیوں کے ہاتھوں سقوط پانے سے پہلے دو صدیوں تک قلبِ یورپ سے آنے والے صلیبی حملہ آورلشکروں کی ضیافتیں کرتا رہا ہے اور کسے معلوم نہیں کہ پوپ اربن دوئم کے بھیجے ہوئے یہ وحشی صلیبی حملہ آور شام ومصر کے اندر __ مسیح علیہ السلام کے نام پر __ مسلم خون کی ہولی کھیلتے رہے تھے، یہاں تک کہ جس دن بیت المقدس میں داخل ہوئے تب ایک ہی دن اسَی ہزار مسلمان کھیت کئے اور مورخین کے بقول بیت المقدس میں اُس دن گھٹنوں گھٹنوں تک خون تھا۔ کسے معلوم نہیں کہ یہ بائزنٹینی قسطنطنیہ ہی دو صدی سے زائد عرصہ اِن صلیبی لشکروں کا ’مہمان خانہ‘ تھا اور یہی قسطنطنیہ مسلم شام و مصر پر اُن کے حملوں کے لئے اِس تمام تر عرصہ بیس کیمپ بن کر رہا، صرف یہی نہیں بلکہ کتنی ہی بار یہ بائزنٹائن صلیبی افرنگیوں کے شانہ بہ شانہ مصر اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجانے کیلئے اپنے جنگی بیڑوں کے ساتھ بحر ابیض میں ہجوم کرتا رہا ہے۔۔۔۔ تو پھر اب دو سو سال کی مسلسل جدجہد کے نتیجے میں جب مسلمان ایک بہتر پوزیشن میں آگئے اور ان کو ایک طاقتور خلافت (عثمانی) میسر آگئی تو کیا وہ اِس بائزنٹینی قسطنطنیہ کا کانٹا نکالنے نہ جائیں؟ یہ تو قوموں میں آپس کا حساب کتاب ہے، اِس پر کلیسا کا پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کی تعلیمات کے حق میں دشنام طرازی پر اتر آنا تو محض اُس بغض کا اظہار ہے جو دلوں کے اندر بے حدوحساب بیٹھا ہے اور باہر آنے کے بہانے مانگتا ہے۔

٭٭٭٭٭

یہ بات ہم سے روپوش نہیں کہ چرچ نے اپنی بہت سی تاریخی حرکتوں کو اب disown کرنا شروع کر دیا ہے۔ اپنے پیشرؤوں کی زیادتیوں پر پوپ یہود سے بھی معافی مانگ چکے ہیں اور سائنس کے خلاف چرچ کی تاریخی لٹھ برداری پر بھی اب وہ چرچ کی جانب سے معذرت کر چکے ہیں(6)۔ یقینا ہم سے اوجھل نہیں کہ آج اِس دورِ ناتوانی میں چرچ اپنے ضمیر پر سے بہت سے بوجھ ہلکے کر رہا ہے۔ یہ بھی ہمارے علم میں ہے کہ چرچ اب شہنشاہ قسطنطین یا عالمِ صلیب کے دیگر شہنشاہوں کے بہت سے اقدامات کو 'endorse' کرنے کا روادار نہیں رہا (باوجود اِس کے کہ جس دور میں یہ سب اقدامات ’رو بہ عمل‘ لائے گئے تو اُس وقت بہرحال وہ کلیسا کی ’برکت‘ سے محروم نہ تھے!) ہم یقینا آگاہ ہیں کہ کلیسا آج (7)'pluraity' کی صدا بلند کرنے لگا ہے اور اِس کے علاوہ بھی بہت سے امور میں ’نئی حقیقتوں‘ کو سراہنے لگا ہے۔۔۔۔

مگر ہماری یہ گفتگو ظاہر ہے اِن ’نئی حقیقتوں‘ کے زمانے سے متعلق نہیں۔ خود پوپ نے ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار‘ کے حوالے سے جس دور کی بات چھیڑی ہے یہ وہی دور ہے جس میں اختیار کر رکھے جانے والے ’اپنے‘ طرزِ عمل کی بابت کلیسا آج نہ صرف شرم محسوس کرنے لگا ہے بلکہ کسی نہ کسی انداز میں اُس پر ’مٹی ڈالنے‘ کی بھی ضرورت جاننے لگ گیا ہے، جوکہ دلیل ہوئی اِس بات کی کہ خود اِن کو یہ تسلیم ہے کہ اُس زمانے میں اِن کے بڑے کسی ’اور‘ ہی رخ کی ہوا چلایا کرتے تھے!!! حق تو یہ ہے کہ جس 'plurality' کے اسٹیشن پر کلیسا آج پہنچا ہے یا کم از کم اس کا دعویٰ کرتا ہے، اور جس کا کہ زمانہء قدیم میں کبھی تصور بھی نہ کیا جاسکتا تھا، اور جوکہ ’انقلابِ زمانہ‘ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔ اِس انقلابِ زمانہ کا دنیا کے اندر رونما ہوجانا جہاں اُس ”روشنی“ کا مرہونِ منت ہے جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس جہانِ نو کی بنیاد رکھی وہاں اِس کریڈٹ کا ایک معتد بہ حصہ بجا طور پر ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار‘ کو بھی جاتا ہے! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے نہ لائیں، لیکن جس وقت پوپ یہ محسوس کریں کہ پوپ اربن کی کرسی سے 'plurality' کی بات نشر ہونا ’جدید دنیا‘ میں بھلا بھلا سا لگتا ہے اور ’پڑھی لکھی‘ دنیا تالیاں بجاتے ہوئے اِس پر متعجب ہوتی ہے کہ کلیسا اب 'rigid' نہیں رہا، اُس وقت کچھ کلماتِ خیر یہ ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار‘ کیلئے بھی ضرور کہا کریں۔ جہانِ انسانی کو اتنی بڑی زقند بھرنا ویسے کب آسان تھا!!!

٭٭٭٭٭

البتہ۔۔۔۔ ”توحید“ کے سامنے ’تثلیث‘ کا نہ ٹھہر سکنا، اِس تاریخی واقعہ کی تفسیر انسانی ”عقل“ اور” خرد“ اور ”منطق“ اور ”فطرت“ کی بجائے اور اسلام کی قوت و برہان کی بجائے ’اسلام کی تلوار‘ میں تلاش کرنا، وہ عذر لنگ ہے جو اب بے حد پرانا ہو گیا ہے! مستشرقوں نے آج سے کوئی صدی بھر پہلے اِس کو ایک ’مقولہ‘ بنا دینے کی کوشش کر دیکھی ہے مگر انہیں اِس پر منہ کی کھانی پڑی جب ان کے جھٹلانے کو صرف ماضی کے دل آویز حقائق ہی نہیں، خود آج اِس دور میں بھی خدا نے ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اصل قوت کا ایک چھوٹا سا نظارا کر وا ہی دیا: آج اِس دور سے بڑھ کر تو مسلمانوں پر ضعیفی کبھی نہ آئی ہوگی! ہر قوم ہی آج مسلمانوں پر شیر ہے! تو آج کونسی تلوار ہے جو مغرب کے اندر لوگوں کو اسلام قبول کروا رہی ہے؟!!! سبحان اللہ اِس دین کے معجزے دنیا اب بھی دیکھ رہی ہے!!! مسلم ضعیفی کے اِس دور میں بھی قبولِ اسلام کی ایک عالمی لہر مسلسل بلند ہو رہی ہے! ہمارے تعجب کے لئے، ’جدید دنیا‘ کے اِس چشم کشا واقعہ کے سامنے مستشرق جہاں اب کھسیانے ہو رہے ہیں وہاں کلیسا کے منصب بردار اِس کو ’نہایت موثر طعنہ‘ سمجھ کر بآوازِ بلند دہرانے جا رہے ہیں!!!

٭٭٭٭٭

”دلیل کی قوت“ ہی تو اللہ کے فضل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا طرہء امتیاز ہے۔ حقانیت کا رعب اِس دین سے بڑھ کر بھلا کس کے پاس ہے؟ سادگی، گہرائی، گیرائی، بے ساختگی، قوتِ منطق، وحدتِ مضمون (consistency) اور وسعتِ بیان ۔۔ پھر ایک صاف شفاف روحانیت، وحدانیتِ خداوندی، خالق کی تعظیم اور کبریائی، خالق کی تسبیح و پاکیزگی کے نہایت گہرے مگر سادہ ترین پیرائے اور پھر اِن پیرایوں کی حیرت انگیز کثرت اور تنوع اور تکرار، مخلوق کا فقر وعاجزی اور مخلوق کی اوقات کا اُس کے آگے صحیح صحیح تعین، نفس کے تزکیہ و تطہیر کے فطری و پر تاثیر اسلوب۔۔ پھر شریعت ایسی سادہ، مفصل، جامع، آسان، عملی، دقیق، نرم اور پر لطف کہ انسان کا انگ انگ خدا کی اطاعت میں جکڑا جائے اور وہ زندگی میں قدم قدم پر اور نہایت متنوع انداز میں ”بندگی“ کی اِس روح پروَر کیفیت سے گزرے اور ’خدا کا پابند‘ ہونے کے احساس سے لبریز ہو ہو جائے، نہ روح اپنے حصے سے محروم رہے اور نہ جسم اور نہ عقل، نہ احساس اور نہ وجدان، نہ فرد اور نہ معاشرہ۔۔!!! کسی نبی کی تنقیص اور نہ کسی کتاب کی تکذیب! سمعنا و اَطعنا، غفرانک ربنا!!! کوئی اگر مگر نہ کوئی حیل و حجت، تاویل نہ انکار! تحریف اور نہ پیچیدگی! کوئی ’پہیلی‘ اور نہ کوئی ’معمہ‘!!! زندگی، وجود، کائنات، انسان، تاریخ، عقل، سماج، علم، فکر، اخلاق، ثقافت، ہر ہر موضوع پر سادہ لفظ، پَر معانی کے سمندر۔۔ کسی ’اعتراض‘ سے بھاگنا اور نہ کسی ’سوال‘ سے آنکھیں چرانا! نہ دھونس اور نہ زبردستی!(8) ہر سوال کا تشفی بخش جواب اور پھر قبول کرنے یا نہ کرنے کی پوری آزادی!(9) کافر و مسلم ہر کسی کے ”حقوق“ سے متعلق مفصل ہدایات! ”راواداری“(10) کا ایک ایسا صحیح و صریح منہج جس میں کوئی تصنع اور نہ منافقت اور نہ ’کیمرے کے رنگ‘! خیر کے ہر ہر منصوبے میں ہر مذہب اور ہر پس منظر کے لوگوں کے ساتھ اشتراکِ عمل!(11) اعلیٰ ظرفی و کشادہ دلی!!!(12) ہر کسی کی بھلائی کا جواب اس سے بڑھ کر بھلائی سے دینے کی ترغیب!!!(13) بلکہ برائی کا جواب بھلائی سے دینے کی تاکید!!!(14) عفو و درگزر کی ترغیب میں اِس کا ایک ہی جملہ ہر مذہبی کتاب اور ہر اخلاقی فلسفے کو پیچھے چھوڑ گیا ہو: وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ !!!(15) برائی پر ہاتھ ڈالنے کا حکم وہیں جہاں پُر امن اسلوب فائدے سے بڑھ کر نقصان دہ ثابت ہو اور اُس برائی کا سدباب نہ ہونا فساد فی الارض کی راہ ہموار کرتا اور مخلوق کے ساتھ زیادتی شمار ہوتا ہو!!!(16) مکارمِ اخلاق اور عالی اَقدار کی ایسی عملی تفصیل کہ کسی مذہب کی کتاب اِس کے مقابلے میں پیش ہی نہ کی جا سکے!!!

پھر۔۔۔۔ ہر ہر چیز کی سند اور ہر ہر بات کے لئے وثائق!!!

مختصر یہ کہ۔۔ ”خدا کا دین“!!! جسے اُس نے اِس دور کے انسان کیلئے کامل ترین حالت میں، کرہء ارض کے معلوم و موثوق ترین شخص کے ذریعے، دنیا کی زرخیز ترین زبان میں، تاریخ انسانی کے مستند ترین مصادر سے، زمین کے سب براعظموں کیلئے، آسان ترین صورت میں، دستیاب کر رکھا ہے اور جس کو مخلوق کیلئے قیامت تک اپنے یہاں ”پسندیدہ“ و ”قابلِ قبول“ ٹھہرا دیا ہے، اور اِس پر ہزاروں دلائل کرہء ارض پر پھیلا رکھے ہیں:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا  (المائدۃ: 3)

”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت تمام کر دی، اور تمہارے لئے اِس طرزِ فرماں برداری (اسلام) کو ہی پسندیدہ ٹھہرا لیا ہے“۔

اِس دین پر پھر کون فدا نہ ہو!!! جسے اِس کی ہم سری کا دعویٰ ہو وہ دکھائے بھی تو کہ اُس کے پاس کیا ہے!!!

٭٭٭٭٭

یہ حقیقت کہ اِس دین میں تلوار ”بھی“ ہے، اِس کے ”دینِ کامل“ ہونے پر دلالت کرتی ہے نہ کہ کسی جاہل کے اِس دعویٰ پر کہ اِس دین میں ”دلیل“ نہیں ہے! اور نہ ہی اِس ڈھکوسلے پر کہ اِس دین میں اصل زور انسان کی عقل، اُس کی فطرت، اُس کے وجدان اور اُس کے شعور کو خطاب کرنے پر نہیں!!!

قرآن کے مضامین کو ذرا ایک نظر دیکھ لینا ہی نگاہ والے کو یہ جاننے کے لئے کفایت کر دے گا کہ اصل میں تو قرآن عقل اور بصیرت کے میدان میں ہی باطل کے پرخچے اڑاتا اور اُس کو نیست و نابود کرتا ہے۔ ہاں یہاں اُس کو تعجب ہو گا کہ دیگر مذہبی صحیفوں کے برعکس، عقل اور فکر کے میدان میں بھی، بلکہ عقل و فکر کے میدان میں ہی، قرآن ایک شدید ”معرکہ“ بپا کئے ہوئے ہے۔ اِسی کا عکسِ جلی اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی زندگی میں نظر آئے گا۔ ہاں یہ اِس دین کی انفرادیت ضرور ہے!!! کیونکہ انسانی عروج اور کمال کو جس مقام تک پہنچانا اِس کی نگاہ میں ہے، اور وہ بھی اُسے دنیا کے ہنگاموں میں شریک رکھتے ہوئے ہی، اُس بلندی پہ کمند ڈلوانے کیلئے انسانی فکر وشعور میں اِس کو اپنی ہی پسند کی ایک مستحکم بنیاد اٹھانا ہوتی ہے!
پس یہ ضرور ایک حقیقت ہے کہ قرآن جب تک قلوب اور عقول کی زمین میں باطل کا جھاڑ جھنکاڑ تلف نہیں کر لیتا تب تک وہاں حق کے بیج بونے اور خدا آشنائی کے نفیس معانی کاشت کرنے پر بھی وقت برباد کرنے کا روادار نہیں ہوتا!

البتہ جو بھی قرآن پڑھے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد کا اصل مضمون دیکھنے پر ذرا وقت صرف کرے وہ اِس پر چہکے بغیر کبھی نہ رہے گا کہ عقل اور خرد اور شعور اور وجدان کی تشنگی مٹانے کو تو چشمہ ہی دنیا میں صرف یہی ایک پایا جاتا ہے اور ”حقیقت“ کے بحر تو ہیں ہی یہاں! یہی تو وہ ’کوثر‘ ہے(17) جس کا ساقی خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنا دیا ہے! ”ساقی“ خود کہتا ہے: واللہ المعطی و اَنا القاسم(18) یعنی ”خدا دینے والا اور میں بانٹنے والا“!!!

٭٭٭٭٭

ہر وہ شخص جو اَدیان و شرائع کے بنیادی عناصر سے ذرا واقفیت رکھتا ہے اور انبیاءکے اخبار وآثار بھی اُس کی سماعت کیلئے بہت اجنبی نہیں، جب وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے گا تو اُس کا سامنا عین انہی چیزوں سے ہوگا جو انبیاء ہی کے پاس ہوتی ہیں۔ انبیاء نے تلوار بھی اٹھائی ہے اور جنگیں بھی کی ہیں۔(19) انبیاءنے معرکے بھی لڑے ہیں، اور انبیاءنے دنیا میں امن اور عدل بھی قائم کر کے دکھایا ہے۔ کچہریاں بھی سجائی ہیں اور تعزیریں بھی لگائی ہیں۔(20) شادیاں بھی کی ہیں، اولادیں بھی چھوڑی ہیں(21) اور کاروبارِ زندگی سے سروکار بھی رکھا ہے(22)۔ آخر کونسی بات یہاں نرالی ہوئی ہے جس پر طوفان کھڑا کیا جائے؟؟؟

سبحان اللہ ! کیا اعتراض اُس چیز پر ہو جو پہلے بھی انبیاءکے ہاں پائی گئی، جبکہ اُن انبیاء پر اِن لوگوں کا ایمان بھی ہو بلکہ ان انبیاء اور ان انبیاءکے صحیفوں پر ایمان لانے کی دعوت بھی یہی لوگ دیتے پھر رہے ہوں؟!! اعتراض اس پر تو کریں کہ کوئی چیز انبیاء کے ہاں تھی اور اِس نبی کے ہاں پائی جانے سے رہ گئی!!!

اور اگربالفرض یہ کہتے ہیں کہ ایک چیز جو انبیاء کے ہاں پائی تو گئی مگر اِس نبی کے ہاں ان کو ’کچھ زیادہ‘ نظر آتی ہے، اور جوکہ ’تلوار‘ کے حوالے سے بہر حال صحیح نہ ہوگی، جیساکہ آگے چل کر ہم انہی کی بائبل سے اُن انبیاءکی ’تلوار‘ دکھائیں گے جن پر یہ ایمان رکھتے ہیں، جبکہ حق صرف اِس قدر ہے کہ ہر محاذ ہی کی طرح ’تلوار‘ کے محاذپر بھی کامیابی نے البتہ غیر معمولی انداز میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم چومے۔۔۔۔ تو بھی بہر حال یہ سوال اِن کے سامنے یوں رکھا جا سکتا ہے کہ انبیاء کے ہاں پائی جانے والی وہ کونسی چیز ہے جو اِس نبی کے ہاں ’بہت زیادہ‘ نظر نہیں آتی؟؟؟!!!

وہ سب خیر جو پہلے انبیاء کے ہاں متفرق پائی گئی، اِس نبی کے ہاں مجتمع پائی گئی اور بے حد وافر!!! یہ اللہ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہے دے!!!

صاف بات ہے، یہ ایک عالمی رسالت ہے اور قیامت تک کیلئے زمین پر خدا کی مہر۔ اِس کے بعد کچھ آنا اب باقی ہی نہیں۔ لہٰذا اِس رسالت کو زمین میں کوئی خصوصی کردار ملتا ہے اور اُسی کی مناسبت سے اِس کو نصرت دی جاتی ہے تو یہ خدا کے فیصلے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ وہ کونسی چیز ہے جس پر گزشتہ نبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے واقعی کوئی علمی اعتراض بنتا ہو؟

پس یہ ایک کامل شریعت ہے یعنی پوری انسانی زندگی کو محیط، جس میں امن بھی آتا ہے اور جنگ بھی، جس میں فرد کے مسائل بھی شامل ہیں اور امورِ معاشرہ بھی، جس میں مصلیٰ بھی ہے اور تخت بھی۔ محراب بھی اور ایوان بھی۔ خدا کیلئے سجدہ ریز نمازی بھی اِسی کے محکوم ہیں اور حق کیلئے برسر پیکار افواج بھی اِسی کے ایک ایک حرف کی پابند۔ خانگی مسائل اِس کے دائرہ سے باہر ہیں اور نہ دیوانی و فوجداری قضایا۔ ذکر و تسبیح کے آداب اِس کی قلمرو سے خارج ہیں اور نہ ایوان ہائے صنعت و تجارت سے متعلقہ احکام۔
یہ سب مسائل ’دائرہء شریعت‘ میں آتے ہیں، جس کے انسانوں تک پہنچائے جانے کا واحد ذریعہ وقت کا نبی ہوتا ہے۔ کیا دنیا میں کوئی شخص ایسا ہے جس نے ’نبیوں‘ اور ’پیغمبروں‘ کا لفظ تو سنا ہو مگر ’شریعت‘ کا لفظ نہ سنا ہو؟؟؟ پیغمبر ’شریعت‘ دے کر نہیں جاتے
(23) تو وہ دنیا میں کرنے کیا آتے ہیں؟؟؟؟؟!!

یہ لوگ انصاف پسند ہوں تو خود شہادت دیں گے کہ کوئی ایک چیز بھی ایسی نرالی نہیں جو اِس آخری آسمانی شریعت میں نبوتوں اور شریعتوں کے سب معیار توڑ کر آگئی ہو۔ ہاں کچھ خصوصیات ہیں کہ شرائع کا جو اصل جوہر ہے وہ یہاں بامِ عروج پر نظر آتا ہے!

اِس رسالت کی بابت خاص بات یہی ہے کہ خدا نے اپنے اِس آخری نبی کی زندگی اِس قدر بھرپور اور اِس قدر گوناگوں جہت رکھی، کہ زندگی اور سماج کے ہر ہر عقدہ سے اِس کی آنکھیں چار ہوئیں اور حیاتِ انسانی کے سب لاینحل مسئلے اِس کی حق آگاہ پیش قدمی کے آگے خدا کے فضل سے بچھتے چلے گئے۔ یوں اِن سب پہلوؤں سے اس نے شریعت پر پورا اتر کر دکھایا اور عمل سے حیات انسانی کے اِن سب پہلوؤں کو متحقق کیا۔ اِس ہستی کی تشریعی جہتوں سے واقف ہونے کیلئے زیادہ نہیں آپ حدیث کی معروف کتب میں سے کوئی ایک کتاب اٹھاکر پڑھنا شروع کردیجئے، آپ دنگ رہ جائیں گے کہ زیستِ انسانی کے ہزاروں پہلو ہیں اور ہر ہر پہلو پر اِس نبی سے رشد و ہدایت کی جھڑیاں برس رہی ہیں!!! ہر ہر موضوع پر مفصل تعلیم اور عمیق بنیادیں!!! خدایا! کسی ضابطہء حیات کو صدیوں میں ارتقاء نصیب ہوتا ہے؛ بہت چھوٹی سی ’ابتدا‘ ہوتی ہے اور ’بانی‘ شخصیت نے تو کم ہی کوئی تفصیلی مواد چھوڑ رکھا ہوتا ہے؛ بہت سی بنیادیں ’بعد میں‘ ہی جا کر رکھی جاتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ بہت سی شخصیات کا حصہ ڈَل ڈَل کر نسلوں بعد کوئی ’چیز‘ بنتی ہے، مگر یہاں ایک ہی شخص ہزارہا پہلوؤں سے انسانی زندگی کی فکری، عملی، شعوری، اخلاقی، سماجی، خانگی، معاشی، سیاسی، جنگی، ڈپلومیسی غرض سب بنیادیں واضح واضح الفاظ میں اور ٹھوس اعمال کی صورت رکھ کر جاتا ہے اور پھر امت کے ہزاروں عباقرہ geniuses، نسل در نسل، اِن بنیادوں کی صرف شرح اور توضیح کا فریضہ انجام دیتے ہیں!!! اور ”شرح و تفسیر و تطبیق“ کے اِس عمل میں اُس کے بولے ہوئے ایک ایک لفظ اور اُس سے صادر ہونے والے ایک ایک فعل کو سامنے رکھنے کے باقاعدہ پابند ہوتے ہیں بلکہ وہ اِس ہستی کے الفاظ اور افعال کی روشنی میں ایک دوسرے سے اختلاف، یہاں تک کہ ایک دوسرے کا محاکمہ کرتے ہیں!!! کسی ایک آدھ شعبے میں نہیں، ”انسان“ کے تعلق سے زیربحث آنے والے ہر ہر شعبے میں!!! پھر چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد اور انسانی زندگی کی اِس حیرت انگیز توسیع ہو جانے کے باوجود، انسانی ضرورت کے ہر ہر مسئلے کا حل اِس ہستی کے اقوال اور افعال میں سے ہی کمال ربط کے ساتھ مل جاتا ہے اور حیرت انگیز طور پر معاشرے کی صلاح وفلاح کو یقینی بنا کر دکھاتا ہے، یوں کروڑوں انسانوں کی زندگی میں اور جدید سے جدید حالات میں اُس سے ’ہدایت‘ پانے کا یہ عمل مسلسل و بلا انقطاع جاری رہتا ہے!!!

’آسمانی شریعت‘ خالق انسانیت کی جانب سے کسی معین دور کی فکری وسماجی ضرورت پوری کر دینے کا نام ہے، یوں کہ وہ انسانی صلاحیتوں کو نہ صرف یہ کہ معطل نہ ہونے دے بلکہ انہیں اپنے جوہر دکھانے کی ایک بہترین صورت بھی پیدا کر کے دے، البتہ ایک ایسا فریم بھی ساتھ دے جس کا پابند رہ کر یہ انسانی جوہر منتشر اور بے قابو ہو جانے سے بچے اور ایک ایسی چھلنی بھی فراہم کرے جو اِس کے فاسد مادوں کو اِس سے علیحدہ کرتا جائے۔ انبیاء درحقیقت اطبائے وجود بنا کر ہی خدائے علیم وخبیر کی جانب سے مبعوث کئے گئے ہیں۔ خدا نے ہر دور میں انسان کی یہ ضرورت پوری فرمائی ہے۔ اب اگر تاریخِ انسانی کے اِس عظیم الشان دور میں ایک ایسا عظیم الشان پیغمبر آتا ہے اور ایک ایسی تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ  شریعت لے کر آتا ہے، جس کی سب بنیادیں وہ خود اپنے ہاتھوں اور اپنی زندگی زندگی مستحکم کروا کے جاتا ہے بلکہ زمین کے قلب میں اِس کا علَم یوں پیوست کر کے جاتا ہے کہ شیاطین پورا زور لگا کر بھی قیامت تک اِس کو نہ اکھاڑ سکیں، کیونکہ کسی اور پیغمبر کو اب آنا ہی نہیں۔۔ تو اِس میں کونسی بات ’حیران ہونے‘ یا ’نہ ماننے‘ کی ہے؟!!

انبیاء کو انسانیت کا طبیب ہونے کی سند خدا دیتا ہے۔ کوئی دوسرا نہ اُن کو سند دیتا ہے اور نہ اِس سے اُن کو سبکدوش کرسکتا ہے۔

أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ ؟؟؟(24)

”طبیب“ کو انسانی زندگی میں پیش آنے والے سب طبی مسائل کا ”علاج“ کرنا ہوتا ہے۔ ”معلمِ طب“ کو ان سب پہلوؤں کی بنیاد رکھنا ہوتی ہے۔۔ جن میں وہ مسائل بھی آتے ہیں جن کے اندر ’جھانکنا‘ تک عام حالات میں معیوب جانا جاتا ہو۔ البتہ ”صاحبِ طب“ اگر ان مسائل سے سروکار نہیں رکھتا تو اُس کے حق میں یہ بات یقینا معیوب ہوگی۔ کسی نہایت استثنائی صورت میں آدمی کی ٹانگ کاٹ دینا بھی ”طبابت“ کا حصہ ہے، تاکہ باقی جسم کارآمد رہے۔ خاص حالات میں، دانت کا نکال دیا جانا، پتے کا جسم سے الگ کر دیا جانا، سینہ یا پیٹ چاک کر دیا جانا۔۔ یہ سب ”شفا خانوں“ کی قاموس میں انہونا یا اَن سنا نہیں! جہاں ضرورت ہو __ اور یہ ضرورت بھی ظاہر ہے ”علم طب“ ہی طے کرے گا __ وہاں طبیب یہ فریضہ سرانجام نہیں دے گا تو اس کو حق نہیں کہ وہ ”طبیب“ کہلائے۔ دنیا کے سب عقلاءاس ’اعتراض‘ کو صرف اور صرف جہالت ہی کا نام دیں گے کہ ”طبیب“ کے ہاں ’ٹانگ کاٹ دینے‘ کا واقعہ کیوں پیش آگیا ہے! عقلاء کے ہاں اعتراض یا بحث کی بات ہوگی تو یہ کہ جس نے یہ کام کیا ہے وہ ایک ”اہل“ و ”سند یافتہ“ طبیب ہے یا نہیں!

جہاں ایسا اعتراض جہالت کہلائے گا، وہاں یہ بھی جہالت کہلانے کے لائق ہے، بلکہ کہیں بڑی جہالت، کہ ”طب“ اور ”اطباء“ ہی کا تعارف یوں کرانے کی بجائے کہ خدا نے اِن کو زمین پر انسانوں کی ”شفا“ اور ”منفعت“ کا ذریعہ بنایا ہے ایسے مقولے رائج کروائے جائیں کہ یہ اعضاء کی قطع و برید کا نام ہے!!! یہ جہالت بھی نہیں دراصل بہت سوچی سمجھی خباثت ہے۔

اتنی بڑی شریعت، اور جیساکہ ہم نے کہا، کوئی بھی کتاب کھول کر دیکھ لیجئے، اِس شریعت کے ہزارہا شعبے اور ابواب، پھر معجزے جن کا کوئی حدوحساب نہیں، اور دلائل، شواہد اور نشانیاں جو روزِ روشن کی طرح ثابت کردیں کہ خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر نبی بنا کر زمین پر نہیں بھیجا تو پھر کوئی ہو ہی نہیں سکتا جسے اُ س نے نبی بنا کر دنیا میں بھیجا ہو۔۔ مگرظالموں کو اِس ناپیدا کنار شریعت میں صرف وہ چیز نظر آئی جس کو ایک بھیانک ترین رنگ میں دکھا کر یہ انسانوں کو زندگی اور شفا کے اِس ابدی سرچشمے سے فرار پر ہی آمادہ کریں!

کوئی شک نہیں ابن آدم کی ”فلاح“ اور ”شفا“ کے راستے میں صرف شیاطین بیٹھتے ہیں۔ حق سے بھگانے کیلئے ’میڈیا‘ کا جادو اور ’زخرف القول‘ (25) انہی کا اختصاص ہے۔ شیاطین اپنی ’پہچان‘ کرائے بغیر بھلا کب رہ سکتے ہیں!

یہ خدا کی دنیا ہے اور خدا کی تقسیم!۔۔کوئی خوش قسمت پرندہ یہاں ایسا پایا جائے گا کہ اُس کی بانگ فرشتوں کی رؤیت کا اشارہ باور ہو اور کوئی جانور ایسا کہ اُس کا ’آواز‘ نکالنا شیاطین کی جھلک کا غماز۔۔۔۔!

خانہ ہائے خدا کے اندر، ذکر و قرآن میں محو پاکیزگی پسندوں کے اکٹھ جہاں فرشتوں کے نزول کا محل ہیں۔۔ وہاں جب آپ کسی جگہ اوباشوں کو اکٹھا ہوا دیکھیں کہ وقت کے نبی پر بھونکتے ہی جا رہے ہیں اور پھر داد پانے کو بھی ایک دوسرے کی جانب پلٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں اور انکے بہت سے پیر بھائی اِس سیاہ کاری کو کارنامہ جان کر اِس پر دانت نکالنے سے رکنے کا نام نہیں لیتے، تو سمجھ لیجئے دنیا میں ابلیس کہیں ہے تو وہیں پر ہے۔

بقولِ علی رضی اللہ عنہ: ”شقی وہ جسے اُس کی ماں کے پیٹ میں شقی لکھ دیا گیا“۔ کوئی دنیا میں اپنی نیک بختی ثابت کرنے آتا ہے اور انبیاء و صلحاء سے یوں نسبت کہ اُن کا ذکر ہی ہوجائے تو اُس کے کلیجے پر گویا ٹھنڈ پڑ گئی۔ اور کوئی یہاں اپنی شقاوتِ ابدی ثابت کرنے آتا ہے؛ خدا کے نبیوں اور صدیقوں کے ساتھ بغض ایسا کہ پورے جہان کے اندر مشہور، اور وجہِ شہرت محض یہ کہ یہ شخص خدا کے فرستادہ ایک نبی پر بھونکا ہے!!!

چنانچہ۔۔۔۔ قرآن سے، جی ہاں پورے قرآن سے، صرف ’آیۃ السیف‘ نکال کر دکھانا۔۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رشد وہدایت سے لبریز زندگی میں صرف ’قتال‘ کو نمایاں کر کر کے دکھلانا۔۔۔۔ اب وہ شیطانی مہم ہے جسے مستشرقین کے گرد آلود ڈیسک سے اٹھا کر میڈیا کی چمکیلی سکرین پر پہنچا دیا گیا ہے(26)۔ اِس کا ادراک اور تدارک ہر دو وقتِ حاضر کے اہم ترین فرائض میں آتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک نہایت خبیث چال ہے، گو اِس پر گفتگو کا یہ مقام نہیں۔

٭٭٭٭٭

تو پھر اے اہل کتاب کے وہ لوگو

جو بدزبانی چھوڑنے پر آمادہ نہیں

واضح رہے۔۔۔۔ یہاں ہمارا روئے خطاب نہ کلیسا کے کسی عہدہ دار کی جانب ہے اور نہ سینیگاگ کے کسی رِبی اور نہ اہل کتاب میں سے کسی بھی شخص کی جانب۔ ہمیں قرآن نے واضح حکم دے رکھا ہے:

وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ  (العنکبوت: 46) ”اور تم اہلِ کتاب سے بجز مہذب طریقہ کے مباحثہ مت کرو، ہاں جو اُن میں زیادتی کریں“

کتاب کی ابتدا میں ہم کہہ آئے ہیں کہ ہمارے ہاں مخاصمانہ اسلوب پایا ہی نہیں جا سکتا سوائے اُن لوگوں کے ساتھ جو ہمارے دین، ہماری کتاب اور ہمارے نبی کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہوں۔ میڈیا اور انٹرنٹ کی دنیا سے جس شخص کو بھی کچھ سروکار ہے اسے خوب معلوم ہے کہ یہ شرپسند طبقے کس شدت سے ہماری کتاب اور ہمارے نبی کو (معاذ اللہ) بھیانک بنا بنا کر پیش کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔۔۔۔

کوئی شخص اگر یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے وہ موسیٰ  علیہ السلام، سموئیل، یوشع اور داؤد  علیہ السلام وغیرہ کے ساتھ کفر کرتا ہے تو ایسے بدبخت کے ساتھ گفتگو کا تو کوئی اور ہی مقام ہوسکتا ہے، البتہ اگر کوئی شخص بائبل میں مذکور اِن انبیاء کو مانتا ہے اور ان کے صحیفوں پر مشتمل آج کی بائبل بھی وہ بڑی تندہی سے بانٹتا پھرتا ہے اور اس پر ایمان پختہ کرانے کا بھی باقاعدہ داعی ہے البتہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ’تلوار‘ دکھا دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ’دیکھو اسلام تو کس بربریت کا درس دیتا ہے‘ اور یوں دین اسلام کو معاذ اللہ ’تہذیب‘ کاطعنہ دینے چل پڑتا ہے۔۔۔۔ تو پھر ایسے شخص کو ہم کہتے ہیں آؤ تمہاری ہی بائبل کھول لیتے ہیں، ہم پڑھیں گے اور تم سنو! پھر ہمت ہو تو انصاف کی بات کہہ دو، اور اگر نہیں تو تمہاری طرح کے بہت ہیں جو چپ بیٹھے ہیں!

البتہ اِس سے پہلے ایک بار پھر واضح کر دیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے جتنے انبیائے کرام ہیں جن کا ہمیں اپنے نبی کی راہ سے علم ہوا ہے، اور جن میں سے بعض کا آئندہ صفحات میں دیے جانے والے بائبل کے حوالوں میں بھی ذکر آسکتا ہے، اُن سب نبیوں پر ایمان ہمارے دین کا حصہ ہے۔ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی امتیاز ہے کہ وہ خدا کے کسی نبی کی، بال برابر بھی بے ادبی کا معاذ اللہ کبھی سوچ تک نہیں سکتی۔ بائبل کی اِن نصوص سے اٹھنے والے جو بہت سے سوال ہوسکتے ہیں، بلکہ سب سے پہلے یہی سوال کہ یہ نصوص کہاں تک اپنی اصل پر قائم ہیں اور کہاں تک کسی تبدیلی کے عمل سے گزری ہیں؟ یہ ہمارا مسئلہ نہیں، نہ اِن کے صحیح ہونے کی بابت ہمارا کوئی دعویٰ ہے۔ ہم یہ نصوص علی وجہ الالزام ان لوگوں کی بدزبانی کے جواب میں دے رہے ہیں جنکا دعویٰ ہے کہ وہ بائبل پر ایمان رکھتے ہیں مگر جنکا کہنا ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ شریعتِ اسلامی کے مصادر ’وحشیت‘ سکھاتے ہیں۔

واضح رہے بائبل کا یہ ’ترجمہ‘ ہمارا نہیں۔ یہ اسٹینڈرڈ اُردو بائبل کے نسخے ہیں جن میں ہم نے ایک حرف کا بھی تصرف نہیں کیا۔ کوئی وضاحت ضروری ہو تو بریکٹ میں اور وہ بھی خطِ نسخ کے ساتھ دیں گے۔ مزید برآں، اب وہ زمانہ بھی نہیں کہ کسی مذہب یا فرقے کی کتب کی عدم دستیابی کے باعث ’حوالے‘ چیک کرنا مشکل ہو۔ اب تو ’فیصلے‘ موقعہ پر ہو جاتے ہیں! اگر آپ انٹرنیٹ پر یہ کتاب پڑھ رہے ہیں تو یہیں اردو بائبل کے اِن links پر چلے جائیے اور پھر ہر حوالے پر متعلقہ صحیفہ ’کلک‘ کرتے جائیے:

http://www.wbtc.com/site/PageServer?pagename=downloads_urdu
 

http://www.ibsstl.org/bibles/urdu/index.php

 

سموئیل (بائبل کی رو سے ایک نبی) نے ساؤل (طالوت) سے کہا کہ میں وہی شخص ہوں جسے خداوند نے بھیجا ہے کہ وہ اپنی قوم کے اوپر تجھے بطور بادشاہ مسح کرے۔ لہٰذا اب دھیان سے خداوند کا کلام سن۔ خداوند قادرِ مطلق یوں فرماتا ہے کہ جب اسرائیلی مصر سے نکل کر آئے تو اُن کا راستہ روک کر عمالیقیوں نے اُن کے ساتھ جو کچھ کیا اُس کے لئے میں اُنہیں سزا دوں گا۔ اِس لئے اب تو جا اور عمالیقیوں پر حملہ کر اور جو کچھ اُن کا ہے اُسے پوری طرح تباہ کر دے۔ اور اُن پر رحم نہ کرنا بلکہ مردوں، عورتوں، اور شیرخوار بچوں، گائے، بیلوں بھیڑوں ، اونٹوں اور گدھوں، سب کو قتل کر دینا“

(1 Samauel سموئیل 1، اصحاح 153 تا 1)

اب اگر کوئی اِن سے پوچھنے پر آئے کہ شیرخوار بچوں نے بنی اسرائیل کا کیا بگاڑا تھا(ویسے شاید آج بھی اِسی ’حکم‘ پر عمل کے لئے امریکی بنیاد پرست، اسرائیلی بمباروں کیلئے چندے اکٹھے کرتے ہوں!)۔۔۔۔ اور یہ کہ بیلوں، بھیڑوں، اونٹوں اور گدھوں کا بھلا کیا قصور تھا جو قتل کر دیا جانے کا حکم آتا ہے؟!

تو پھر اب ذرا اِس کا موازنہ رحمۃ  للعالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس فرمان سے بھی کر لو، جو وہ صحابہ کے دستوں کو ”جہاد“ پر روانہ کرتے ہوئے صادر فرمایا کرتے:

عن اَنس بن مالک، اَن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم قال:

انطلقوا باسم اللہ، وباللہ، وعلیٰ ملۃ رسول اللہ، ولا تقتلوا شیخاً فانیاً، ولا طفلاً، ولا امر ۃ، ولا تغلوا، وضموا غنائمکم، و اَصلحوا و اَحسنوا اِن اللہ یحب المحسنین
(سنن اَبی دواد، حدیث رقم: 2247۔ کتاب الجہاد، باب: فی دعاءالمشرکین)

انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ  سے روایت ہے، کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”چل پڑو اللہ کا نام لے کر، اللہ کے سہارے، اللہ کے پیغمبر کی راہ پر، اور نہ قتل کرنا کسی ناتواں بوڑھے کو، اور نہ بچے کو، اور نہ عورت کو، اور نہ خیانت کرنا، دیکھنا غنیمت کا مال (امیر کے پاس) جمع کرانا، اور اصلاح کرتے رہنا، اور احسان کرنا، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے“

خدا کے بندو! کیوں اِس نبی پر فدا نہیں ہوجاتے!!!؟ دیانتداری سے بتاؤ، ’جنگوں‘ کی تاریخ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی کوئی ایسا حکم نامہ کہیں پایا گیا یا کوئی شخص لا کر دکھا سکتا ہے؟ تاریخ کے دھارے کو یہ صالح ترین رخ اِس عظیم انسان کے سوا کس نے دیا؟ کیا حق نہ تھا کہ وہ لوگ جو آج تک رومن درندگی کی داستانیں سنتے اور سناتے آئے تھے وہ اِس نبیِ خدا آگاہ کو دشنام دینے کی بجائے، آکر اِس کے پیر چومتے؟!!

مگر آنکھیں نہیں دل اندھے ہو جاتے ہیں!
اور، آگے بڑھنے سے پہلے، اب ذرا قرآن کو بھی دیکھئے:

فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْاْ إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلاً (النساء: 90)

”ہاں اگر وہ تم سے کنارہ کش رہیں ، کہ تم سے جنگ نہ کریں، اور صلح کا پیام ڈالیں، تو اللہ تعالیٰ نے تم کو ان لوگوں پر کوئی راہ نہیں دے رکھی ہے“

بخدا، ہم یہاں انبیاء کا موازنہ نہیں کر رہے۔ ہم تو بائبل کی ان نصوص کے ثبوت ہی کی بابت کوئی دعویٰ نہیں رکھتے۔ ہم صرف اِن لوگوں کی بددیانتی سامنے لانے کیلئے یہ عبارتیں دے رہے ہیں جو بائبل اور اُسکی اِن نصوص کو حق جانتے ہیں پھر بھی ’بربریت‘ کی نشاندہی کیلئے اسلامی شریعت کی نصوص پر انگلی اٹھاتے ہیں۔

تو پھر آئیے۔۔۔۔! سیرتِ مصطفی رحمۃ اللہ علیہ  صلی اللہ علیہ وسلم میں کہیں نہیں پایا گیا کہ کوئی قوم جنگ کے بغیر زیرنگیں آنے پر تیار ہو تو اس کو غلام بنانے کا کبھی سوال بھی اٹھا ہو، اور سوائے آمادہُ جنگ لوگوں کے کسی کو تلوار کی دھار پر رکھا گیا ہو، اور سوائے چند انتہائی سر بر آوردہ جنگی مجرموں کے کسی قیدی کو پسِ جنگ ’زندہ نہ چھوڑنے‘ کا واقعہ پیش آیا ہو ۔۔۔۔ مگر یہاں دیکھئے، ’شریعت‘ یوں بتائی جاتی ہے:

جب تم شہر پر حملہ کرنے جاؤ تو وہاں کے لوگوں کے سامنے امن کا پیغام دو۔ اگر وہ تمہارا پیغام قبول کرتے ہیں اور اپنے پھاٹک کھول دیتے ہیں اُس شہر میں رہنے والے تمام لوگ تمہارے غلام ہو جائیں گے اور تمہارا کام کرنے کے لئے مجبور کئے جائیں گے۔ لیکن اگر شہر امن کا پیغام قبول کرنے سے انکار کرتا ہے اور تم سے لڑتا ہے تو تمہیں شہر کو گھیر لینا چاہیے۔ اور جب خداوند تمہارا خدا شہر پر تمہارا قبضہ کراتا ہے تب تمہیں تمام آدمیوں کو مار ڈالنا چاہیے۔ تم اپنے استعمال کے لئے عورتیں بچے جانور اور شہر کی ہر ایک چیز لے سکتے ہو۔ خداوند تمہارے خدا نے تمہارے دشمنوں کی مالِ غنیمت تم کو دی ہیں۔ جو شہر تمہاری ریاست میں نہیں ہیں اور بہت دور ہیں اُن سبھی کے ساتھ تم ایسا برتاؤ کرو گے۔ لیکن جب تم وہ شہر لیتے ہو جسے خداوند تمہارا خدا تمہیں دے رہا ہے تب تمہیں ایک بھی چیز کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔

(Deuteronomy استثناء، اصحاح: 2016 تا 11)

پھر، عملاًاسیروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اور اسیر بھی عورتیں اور بچے، بعد از جنگ:

مرد پہلے ہی مار دیے جاتے ہیں، عورتیں اور بچے ہیں جنہیں لے کر آیا جاتا ہے، دیکھئے ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے:

اسرائیلیوں نے مِدیانی عورتوں اور بچوں کو اسیر کیا اور مدیانیوں کے مویشیوں کے تمام ریوڑ اور بھیڑ بکریوں کے تمام گلے اور سارا مال و اسباب لوٹ لیا۔ انہوں نے ان تمام شہروں کو جہاں مدیانی آباد تھے اور اُن کی سب لشکر گاہوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ تب اُنہوں نے لوگوں اور جانوروں سمیت تمام مالِ غنیمت کو جمع کیا اور تمام اسیروں اور مال غنیمت کو موسیٰ، الیعزر کاہن اور بنی اسرائیل کی جماعت کے پاس اپنی لشکر گاہ میں لے آئے جو یریحو کے مقابل یردن کے کنارے موآب کے میدانوں میں تھی۔ موسیٰ اور العیزر کاہن اور جماعت کے سب سربراہ اُن کے استقبال کے لئے لشکرگاہ کے باہر گئے۔ موسیٰ جنگ سے لَوٹے ہوئے اُن سپہ سالاروں پر جھلایا جو ہزاروں اور سینکڑوں فوجیوں کی قیادت کر رہے تھے۔ اُس نے اُن سے پوچھا: کیا تم نے سب عورتوں کو زندہ رہنے دیا؟ فعور میں جو کچھ ہوا اُس وقت یہی عورتیں بلعام کی صلاح سے اسرائیلیوں کو خداوند سے برگشتہ کرنے کا ذریعہ بنی تھیں اور خداوند کے لوگوں میں وبا پھیلی تھی۔ لہٰذا سب لڑکوں کو مار ڈالو اور ہر اُس عورت کو بھی مار ڈالو جو کسی مرد کے ساتھ ہم بستر ہو چکی ہو۔ لیکن ہر اُس لڑکی کو اپنے لئے بچائے رکھو جو کبھی کسی مرد کے ساتھ ہم بستر نہ ہوئی ہو۔

(Numbers گنتی: اصحاح 3018-9)

اور اب ’بنوقریظہ‘ کے قصے نشر کرنے والے یہ بھی دیکھیں کہ ان کی بائبل ’موآبیوں‘ کا قصہ کیونکر سناتی ہے: داؤد نبی (ہم اُن کیلئے ”علیہ السلام“ بولتے ہیں) موآبیوں پر فتح پا کر ان کو اسیر کرتا ہے تو ان کو زمین پر لمبے لٹا لیتا ہے۔ جس طرح کسان بیگھہ ماپتا ہے اُس طرح قیدیوں کے انبوہ کو رسی کے ساتھ ماپتا ہے، دو دو ’ماپ‘ تہ تیغ کرتا جاتا ہے اور ایک ایک ’ماپ‘ چھوڑتا جاتا ہے، جن کی جان بخشی ہوتی ہے ان کو غلام بنا لیتا ہے جو اسے ’جزیہ‘ دیتے ہیں:

اور داؤد نے موآبیوں کو بھی شکست دی۔ اُس نے اُنہیں زمین پر لٹا کر رسی سے ناپا اور رسی کی ہر دو لمبائیوں تک کے لوگ قتل کر دیے گئے اور ہر تیسری لمبائی تک کے زندہ رہنے دیے گئے۔ پس موآبی داؤد کے محکوم ہو کر اُسے خراج دینے لگے۔

(2 Samuel سموئیل 2، اصحاح 82)

بائبل کے اس حصے کو یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

ظالمو! اِس ’بائبل‘ پر ایمان لانے کی دعوت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ’تلوار‘ کے طعنے!!!!

اور اب یوشع بن نون کا صحیفہ دیکھئے، جو بائبل میں موسی  علیہ السلام کے بعد نبی ہوتے ہیں (اردو بائبل میں ان کو ’یشوع‘ لکھا جاتا ہے):

جنگ کے وقت اسرائیل کی فوجوں نے عی کی فوجوں کو میدان اور ریگستان میں دھکیل دیا۔ اور اُس طرح اسرائیل کی فوج نے عی سے تمام فوجوں کو مارنے کا کام میدان اور ریگستان میں پورا کیا۔ تب اسرائیل کے تمام فوجی عی کو واپس آئے۔ پھر اُنہوں نے اُن لوگوں کو جو شہر میں زندہ بچے تھے مار ڈالا۔ اُس دن عی کے تمام لوگ مارے گئے۔ وہاں 12000 مرد اور عورتیں تھیں۔ یشوع نے اپنے برچھے کو عی کی طرف بطور نشانی رکھا تاکہ اُس کے لوگ شہر کو برباد کر سکیں۔ اور یشوع نے اُنہیں اُس وقت تک نہیں روکا جب تک وہ سب تباہ نہ ہوگئے۔ اسرائیل کے لوگوں نے جانوروں اور شہر کی چیزوں کو اپنے پاس رکھا یہ وہی بات تھی جس کے کرنے کا حکم خداوند نے یشوع کو دیتے وقت کیا تھا۔ تب یشوع نے عی شہر کو جلا دیا وہ شہر ویران چٹانوں کا ڈھیر بن گیا یہ آج بھی ویسا ہی ہے۔ یشوع نے عی کے بادشاہ کو ایک درخت پر پھانسی پر لٹکا دیا۔ اُس نے اُس کو شام تک ایک درخت پر پھانسی دے کر لٹکا دیا۔ غروب آفتاب پر یشوع نے بادشاہ کی لاش کو درخت سے اُتارنے کی اجازت دی۔ اُنہوں نے اُس کی لاش کو شہر کے دروازہ پر پھینک دیا اور اُسکی لاش کو کئی چٹانوں سے ڈھانک دیا۔ چٹانوں کا وہ ڈھیر آج تک وہاں ہے۔

(Joshua یشوع، اصحاح 829 تا 24)

یہ صحیفہ، اِس سے پہلے کے کئی ابواب پڑھ لیجئے، بعد کے کئی ابواب پڑھتے جائیے، اور پھر تعجب کیجئے کہ ’تلوار‘ کا ’یہ‘ استعمال قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اِن معترضین کو نہ تو بائبل کو کتابِ مقدس ماننے میں کبھی مانع ہوتا ہے اور نہ بائبل کے انبیاء کو انبیاء ماننے میں! قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں تو اللہ کے فضل سے ہم دیکھتے ہیں ”جہاد“ کے باب میں عدل اور احسان کے ضابطوں کے سوا کچھ نہیں مگر وہ اِن مبلغینِ بائبل کو معاذ اللہ ’ظلم‘ اور ’وحشت‘ نظر آتا ہے البتہ بائبل کتابِ مقدس ہے جسے دھڑا دھڑ اور ’مشنری بنیادوں‘ پر پوری دنیا میں بانٹنا ’مسیح کو خوش کرنے‘ کا مقبول ترین ذریعہ!!! آخر یہ باتیں جن میں سے چند ایک یہاں ذکر ہوئیں عام لوگوں سے نہیں، انبیاء سے ہی تو منسوب ہیں اور کسی اور نے نہیں، بائبل نے ہی تو بیان کی ہیں!

ایسے بددیانت معیار رکھنے والے کیا دنیا کو انصاف سکھائیں گے؟ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ۔

پھر صحیفہ قضاۃ پر آجائیے، یہاں بنی اسرائیل اپنے ایک قبیلے بنی بنیامین سے ناراض ہو کر قسم کھا بیٹھتے ہیں کہ آئندہ وہ اُن کو بیٹیاں نہیں دیں گے۔ اب ان کی نسل کیسے چلے گی؟ قسم توڑ دی تو ’گناہ‘ ہوگا لیکن بنیامین کی نسل بڑھنا بھی از حد ضروری ہے! اِس مسئلے کا حل یوں نکالا جاتا ہے :

اِس لئے اسرائیل کے لوگوں نے اپنے 12,000 سب سے بہادر سپاہیوں کو یبیس جلعاد شہر کو بھیجا۔ اُنہوں نے اُن فوجوں سے کہا، ”جاؤ اور یبیس جلعاد لوگوں کو عورتوں اور بچوں سمیت اپنی تلوار کے گھاٹ اُتار دو۔ تمہیں یہ ضرور کرنا ہوگا۔ یبیس جلعاد میں ہر ایک مرد کو مار ڈالو۔ اُس عورت کو بھی مار ڈالو جو ایک مرد کے ساتھ رہ چکی ہو۔ لیکن اُس عورت کو نہ مارو جس نے کسی مرد کے ساتھ جنسی تعلق نہیں کیا ہے۔“ فوجوں نے یہی کیا۔ اُن 12,000 سپاہیوں نے یبیس جلعاد میں 400 ایسی عورتوں کو پایا جنہوں نے کسی مرد کے ساتھ جنسی تعلق نہیں کیا تھا۔ سپاہی اُن عورتوں کو کنعان کے سیلا کے خیمہ میں لے گئے۔ تب اسرائیل کے لوگوں نے بنیمین کے لوگوں کے پاس ایک پیغام بھیجا۔

(Judges قضات، اصحاح 4113 تا 10)

سموئیل نبی کے صحیفہ اول پر آجائیے:

داؤد اور اُس کے آدمی گئے اور جسوریوں، عمالیقیوں اور جزریوں پر چھاپا مارا۔ داؤد نے اُس علاقہ کے لوگوں کو شکست دی۔ داؤد نے اُن کی سب بھیڑیں مویشی، گدھے، اونٹ اور کپڑے لے لئے اور اُنہیں واپس اکیس کے پاس لایا لیکن داؤد نے اُن لوگوں میں کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔ داؤد نے ایسا کئی بار کیا۔

(1 Samuel سموئیل 1: اصحاح 2710-8)

بائبل کے عہد قدیم کے صحیفے اِس جیسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں کوئی ان کو اکٹھا کرنے لگے تو پوری ایک کتاب بن جائے۔ ہم نے اِن صحیفوں کی یہ چیدہ چید ہ نصوص ہی نقل کی ہیں تاکہ وہ تلوار جو اِن لوگوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں نظر آتی ہے، جبکہ وہ حق اور عدل کی تلوار ہے اور صرف ظلم اور ناانصافی کے خلاف چلی ہے اور قرآن کے سائے میں رہ کر اِس جنگ وخون ریزی سے بھری دنیا کو امن کی قلمرو بنا کر دِکھا چکی ہے ، بجائے اِس کے یہ لوگ اُس تلوار کو ایک نہایت بددیانت سیاق میں دکھا دکھا کر انسانیت کو گمراہ کرسکیں، ایک ایسی تلوار اِن کے مشنریوں کے بستے سے ہی نکال کر دکھا دی جائے جو واقعتا خوفناک ہے۔ ہمارے نزدیک تو اِن نصوص کا پایہء ثبوت کو پہنچنا ہی محل بحث ہے البتہ یہ لوگ اس کتاب پر جس میں مذکورہ بالا اقتباسات ایسی بے حساب نصوص ہیں لوگوں کو ایمان دلواتے پھر رہے ہیں!


 

(1) پوپ نے پر مذمت انداز میں’مقدس جنگ‘ کو بھی بیچ میں لانے کی کوشش کی، جبکہ یہ ہماری نہیں اُن کی اپنی ہی اصطلاح ہے ۔ پوپ کی اِس ہرزہ سرائی کے کچھ متعلقہ حصے ذیل میں دیے جاتے ہیں:
(نقل کفر کفر نہ باشد)

..he addresses his interlocutor with a startling brusqueness on the central question about the relationship between religion and violence in general, saying: "Show me just what Muhammad brought that was new, and there you will find things only evil and inhuman, such as his command to spread by the sword the faith he preached."

The emperor, after having expressed himself so forcefully, goes on to explain in detail the reasons why spreading the faith through violence is something unreasonable. Violence is incompatible with the nature of God and the nature of the soul. "God," he says, "is not pleased by blood - and not acting reasonably is contrary to God's nature. Faith is born of the soul, not the body. Whoever would lead someone to faith needs the ability to speak well and to reason properly, without violence and threats."

شہنشاہ ’مذہب اور تشدد کے مابین عمومی رشتہ‘ کے اِس مرکزی سوال پر اپنے مدمقابل مناظر کو غیر متوقع صراحت کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: ”تم مجھے کوئی چیز دکھا دو جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی لائی ہوئی ہو اور وہ نئی ہو،اور یہاں تمہیں ایسی ہی چیزیں ملیں گی جو محض شر ہیں اور غیر انسانی، جیسے کہ اُس کا یہ حکم کہ اُس کا تبلیغ کردہ عقیدہ تلوار کے زور سے پھیلایا جائے“۔

شہنشاہ اِس زوردار اظہارِ خیال کے بعد (اپنے موقف کی) ان وجوہات کو تفصیل میں جاکر بیان کرنے لگتا ہے کہ اپنے مذہب کو پھیلانے کیلئے تشدد کا سہارا لینا آخر کیوں ایک غیر معقول بات ہے: تشدد کا کوئی جوڑ نہ تو خدا کی حقیقت کے ساتھ ہے اور نہ روح کی حقیقت کے ساتھ۔ شہنشاہ کہتا ہے:” خدا خون سے کوئی خوش نہیں ہوتا، اور ایک معقول طرزِ عمل اختیار نہ کرنا خدائی حقیقت کے ساتھ ہی متصادم ہے۔ ایمان روح سے جنم پاتا ہے نہ کہ جسم سے۔جس کسی کے بھی پیش نظر کسی دوسرے کو ایمان کے راستے پر لانا ہو اس میں یہ اہلیت ہونی چاہیے کہ وہ اچھا بولے اور منطقی بات کرے، بغیر اِس کے کہ وہ تشدد یا دھمکیوں کا سہارا لے“
اپنے لیکچر کی ’خالی جگہوں‘ کو شہنشاہ مانوئیل کے الفاظ سے ’پر‘ کرنا کوئی ایسی چیز نہیں جو لوگوں کو سمجھ نہ آئے۔ سامنے کی بات ہے پوپ نے ان الفاظ سے باقاعدہ اپنے ’پوائنٹ‘ پر استشہاد کیا۔ بعد میں ڈنمارک کے اخبار Gyllands-Posten والا وتیرہ دکھایا، یعنی ’مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر مجھے افسوس ہے، جسکا سبب البتہ اُن کے سمجھنے اور دیکھنے کے ساتھ متعلق ہے، وگرنہ بات میں نے غلط تو نہیں کی‘!

پوپ کی اِس تقریر کا متن دیکھئے ویٹی کن کے ویب سائٹ پر یہاں دیکھا جاسکتا ہے

(2) بہ حوالہ شیخ سلیمان الخراشی، مقالہ بہ عنوان:

الکاثولیک۔۔ ال ارثوذوکس۔۔ المارون۔۔ والبروتستانت:

(3) البقرۃ:256”دین کے معاملے میں کوئی زبر دستی نہیں، (ہاں) ہدایت گم گشتہ راہی سے یقینا چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے..“

(4) اِس ”آزادی“ کی واحد صورت یہی ہو سکتی تھی کہ اِن اقوام پر سے ظلم اور جبر کے اس نظام کا خاتمہ کر دیا جائے جو کئی صدیاں اِن اقوام پر مسلط اپنے جبر و سرکشی کا ناقابل تردید ثبوت دیتا رہا ہے اور جس کا جبر اور دھونس صحابہ کی نگاہوں کے سامنے کوئی ’وہم‘ یا ’مفروضہ‘ نہیں بلکہ صدیوں سے چلا آتا ایک واقعہ ہے اور قومیں اُس کی گرفت میں کراہ رہی ہیں۔ ہاں البتہ یہ ضروری تھا کہ ایسے ظلم کو ہٹانے اور لوگوں کو اِس سے نجات دلانے والے ہاتھ ایسے عادل، دیانت دار اور خدا شناس ہوں کہ خلق خدا شہادت دے کہ یہ ’کشور کشائی‘ نہیں بلکہ اتنی بڑی تعداد میں یہ اللہ کے اولیاء ہیں جو نہ جانے ’کس معجزے کے نتیجے میں‘ روئے زمین پر برپا ہو گئے ہیں کہ جنہیں اِس دنیا سے کوئی حصہ مطلوب نہیں بلکہ وہ اپنا تمام تر حصہ خدا سے صرف اور صرف آخرت میں ہی لینا چاہتے ہیں۔ یہ چیز خدا کے فضل سے اِس برگزیدہ نبی کی نکالی ہوئی ’انسانی کھیپ‘ کے ہاتھوں صفحہء تاریخ پر حرفِ روشن کی طرح لکھی گئی، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ ہی ہر دیکھنے والے کو سب سے بڑھ کر حیران کر کے جاتا ہے كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ  (الفتح: 29)۔ کتب تاریخ میں آتا ہے کہ اصحاب رضی اللہ تعالی عنہ  رسول اللہ فتح کے بعد ارضِ شام میں گئے، جوکہ مسیح علیہ السلام کا دیس تھا، تو لوگ انہیں مسیح علیہ السلام کے حواریوں سے تشبیہ دیتے تھے!

مشہور اسلامی مفکر سید قطب اِسی وجہ سے دورِ اول کی اسلامی فتوحات کو حرکۃ تحریر الاِنسان یعنی ’انسان کو واگزار کرانے کی تحریک‘ کا نام دیتے ہیں!

(5) آل عمران 119 ”(تم سے) الگ ہوں تو یہ تم پر غیظ سے انگلیاں چباتے ہیں۔ (اے نبی) کہہ دو: مر رہو اپنے اِس غصے میں، اللہ تو سینوں کا حال جانتا ہے“!!!

(6) ’معذرت‘ نہیں کی تو صرف مسلمانوں سے، جن کے ساتھ اندلس اور صلیبی جنگوں کا حساب تا حال ان کی توجہ نہیں لے سکا، باوجود اِس نہایت دلچسپ امر کے کہ 2000ءمیں مصر کی جامعہ ازہر کی جانب سے چرچ کو ایک رسمی مراسلہ بھیجا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ جہاں اوروں سے ’معذرتیں‘ ہوئی ہیں وہاں کچھ ’کلمات‘ صلیبی جنگوں کے حوالے سے بھی ہو جائیں، جس پر جامعہ ازہر کا کہنا ہے، چرچ کی جانب سے 28 مارچ 2000ءکو صرف ’خط کی رسید ’ آئی، پانچ سال انتظار کرلینے کے بعد 24 فروری 2005ءکو اسی مضمون پر مبنی ایک چٹھی جامعہ ازہر کی جانب سے دوبارہ ویٹی کن روانہ کی گئی! آخری اطلاع آنے تک، جامعہ ازہر اپنی اُس چٹھی کا جواب آنے کی بدستور منتظر ہے!

(اِس کی تفصیل کیلئے دیکھئے سہ ماہی ایقاظ، شمارہ: جولائی 2005ء، بہ عنوان ’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘)

(7) plurality یعنی کسی مذہبی یا سیاسی یا تہذیبی اکائی کا یہ تسلیم کرنا کہ ’ہمارے علاوہ دنیا میں کوئی اور بھی ہے‘ یا یہ کہ ’کسی دوسرے کو بھی یہاں رہنے کا حق ہے‘! پوپ کی اسی تقریر میں، جس کے اندر شانِ رسالت میں گستاخی ہوئی ہے اور جس کا ویب لنک ہم پیچھے دے چکے ہیں، کلیساکے 'plurality' کو قبول کر لینے کا ذکر ہوا ہے۔

(8) وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ (ق: 49) ”اور تو اِن پر کوئی فوجدار نہیں، پس تذکیر کر قرآن کی مدد سے اُسے جو میری وعید سے ڈر جانے والا ہو“۔

(9) لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ  (البقرۃ: 256) ”دین میں کوئی زبردستی نہیں، (ہاں) سیدھی راہ، گم گشتگی سے چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے“

(10) وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِي الأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ  (یونس: 99) ”تیر ا پروردگار چاہتا تو زمین کی کل مخلوق ہی ایمان لے آتی، تو کیا تو لوگوں کو مجبور کرسکتا ہے کہ وہ مومن ہو رہیں؟“ وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاء فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاء فَلْيَكْفُرْ  (الکہف:29) ”کہو حق تمہارے رب کی جانب سے (سامنے) ہے، پس جو چاہے اب ایمان لائے اور جو چاہے کفر پر اڑا رہے“وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ (الاَنعام: 108) ”اور دشنام مت دو ان کو جن کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں،کہ پھر وہ حد سے گزر کر اور جہالت سے اللہ کی شان میں گستاخی کرنے لگیں گے۔ ہم نے اسی طرح ہر گروہ کیلئے اس کا عمل مزین کر دیا ہے۔ آخر جانا تو ان کو اپنے پروردگار ہی کے پاس ہے، پھر وہ ان کو بتائے گا جو وہ کرتے رہے “

(11) لقد شہدت فی بیت عبد اللہ بن جدعان حلفاً، ما اَحب اَن لہ بہ حمر النعم، ولو اَدعیٰ اِلیہ فی ال اِسلام لاَجبت (سنن الیبیہقی الکبریٰ:12859) ”یقینا میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں ایک ایسے اتفاق نامہ (حلف الفضول) میں شرکت کر رکھی ہے جس کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹ بھی ملیں تو میں اُس سے دستبردار نہ ہوں۔ اور اگر (اب) اسلام میں بھی مجھے اس پہ بلایا جائے تو اس کو قبول کروں“

(12) المُؤمِنُ غِرّ کَرِیم وَالفَاجِرُ خِبّ  لَئِیم ( ترمذی: 1887، ابو دواد: 4158، مسند احمد:8755) ”مومن آدمی فریب کھا جانے کی حد تک دریا دل / اعلیٰ ظرف ہوتا ہے، ایک بدکار آدمی فسادی اور خسیس ہوتا ہے۔

(13) فَحَيُّواْ بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا (النساء: 86)”تو اُس خیر سگالی کا جواب اس سے بہتر خیر سگالی سے دو یا کم از کم اتنی ضرور دو“۔

(14) ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ  (المؤمنون:96) ” برائی کا جواب اُس چیز سے دو جو خوب تر ہے“

(15) (سورۃ النور: 22) ”پس چاہیے کہ یہ معاف و درگزر کر دیا کریں، ارے تو کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ اللہ تمہاری مغفرت کردے....؟!!“

(16) وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ وَلَـكِنَّ اللّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ(البقرۃ: 251) ”اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ ہٹاتا تو ضرور زمین میں فساد بھر جاتا مگر اللہ بڑا فضل والا ہے جہانوں پر“

(17) مقصد معاذ اللہ یہ کہنا نہیں کہ آخرت میں حوضِ کوثر نہیں۔ روزِ محشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حوض دیا جانا، جس پر آپ اپنے پیروکاروں کی پیاس اِس شرابِ سفید و شیریں سے بجھانے کو بہ نفسِ نفیس موجود ہوں گے، ہر کسی کو آپ کے دست مبارک سے ایسا جام ملے گا جس کے بعد پھر وہ کبھی پیاسا نہ ہو.. اِس معنیٰ کی احادیث صحیح وثابت ہیں۔ البتہ تفاسیر میں سورہء کوثر کے ضمن میں مفسرین کے اقوال اس کی متعدد جہتیں بیان کرتے ہیں، اور جوکہ ”اختلافِ تنوع“ کی ایک مثال ہے نہ کہ ”اختلافِ تضاد“ کی۔ جس کا خلاصہ یہ ہوگا کہ جس خوش قسمت نے ساقیِ کوثر کے ہاتھ سے یہاں پی لیا اُس کو وہاں بھی پینے کو ملے گا۔ بلکہ اِس معنی کی صراحت اسی حدیث سے ہو جاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ جو یہاں اِس کو ’گدلا‘ کرتے رہے ہوں گے وہ وہاں آپ کے حوض سے دھتکارے جائیں گے۔ ان مطالب کی بعض جہتیں ہماری آنے والی کتاب ”موحد معاشرہ نہ کہ تیسری دنیا“ میں مذکور ہوں گی۔ (ان شاءاللہ)

(18) البخاری: 2884”من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین، واللہ المعطی و اَنا القاسم“

(19) وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُواْ لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ وَاللّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ  (آل عمران: 146) ”اور کتنے ہی نبی ہوئے، جن کے ساتھ ہو کر اللہ والے (قتال میں) لڑے، سو نہ تو ہمت ہاری انہوں نے ان مصائب کے ہاتھوں جو اللہ کی راہ میں ان پر آن پڑے، نہ کمزوری دکھائی، اور نہ وہ دبے۔ اللہ کو تو ایسے ہی مستقل مزاجوں سے محبت ہے“

اسلام میں قتال اور جزیہ کی بابت پائی جانے والی نصوص پر طعنے دینے والے اور ان آیات واحادیث کو ’خوفناک‘ بتانے والے بلکہ دنیا کو ان سے ’خبردار‘ کرنے والے، جوکہ بیک وقت بائبل پر ایمان کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں، اپنی کتاب کھولیں تو ایسی ایسی نصوص پڑھیں گے، اور ظاہر ہے پڑھتے ہیں، جن کیلئے انہیں ’خوفناک‘ سے بھی کہیں بڑا لفظ ڈھونڈنا پڑے گا۔ یہاں ہم صرف بائبل کی چند ایسی نصوص دیں گے جن سے ثابت ہو کہ قتال پہلی شریعتوں میں بھی پایا جاتا تھا۔ یہاں استشہاد کا مقصد صرف یہی ہے، البتہ بائبل کی اِن نصوص سے اٹھنے والے کچھ دیگر سوال، اور ان کی قدیم انبیاءکے اُس دور میں کیا توجیہ ہو گی، یا حتیٰ کہ یہ نصوص کہاں تک اپنی اصل پر قائم ہیں اور کہاں تک کسی تبدیلی کے عمل سے گزری ہیں؟ یہ ہمارا مسئلہ نہیں، نہ اِن کے صحیح ہونے کے معاملہ میں ہمارا کوئی دعویٰ ہے۔ ہم یہ نصوص علی وجہ الالزام ان لوگوں کے اعتراضات کے جواب میں دے رہے ہیں جن کا ان نصوص پر ایمان کا دعویٰ ہے۔ یہ بھی واضح رہے بائبل کی یہ نصوص صرف پہلی شریعتوں میں قتال و جزیہ کا ثبوت دینے کیلئے ہے، رہ گیا اِن لوگوں کی ہرزہ سرائی کا جواب تو وہ اِس فصل کے آخر میں آئے گا۔ یہ بائبل کا عہدِ قدیم ہے جس پر یہود اور نصاریٰ ہر دو ایمان رکھتے ہیں:

خداوند نے موسیٰ سے کہا: مِدیانیوں سے بنی اسرائیل کا انتقام لے۔ اُس کے بعد تو اپنے لوگوں میں جا ملے گا۔ چنانچہ موسیٰ نے لوگوں سے کہا: اپنے میں سے چند آدمیوں کو مِدیانیوں کے خلاف جنگ کرنے اور اُن سے خداوند کا انتقام لینے کے لئے مسلح کرلو۔ چنانچہ اسرائیل کے فرقوں میں سے فی قبیلہ ایک ہزار کے حساب سے بارہ ہزار آدمیوں نے جنگ کے لئے ہتھیار باندھ لئے“

(Numbers گنتی، باب311-5)

اس لئے یشوع (یوشع بن نون) جلجال سے اپنی پوری فوج کے ساتھ جنگ کے لئے گیا۔ یشوع کے بہترین جنگجو اُس کے ساتھ تھے۔ خداوند نے یشوع سے کہا، ”ان فوجوں سے مت ڈرو میں تمہیں اُنہیں شکست دینے دوں گا اُن فوجوں میں سے کوئی تمہیں شکست دینے کے قابل نہ ہوگا۔“ یشوع اور اُسکی فوج رات تمام جبعون کی طرف بڑھتی رہی۔ دشمن کو معلوم نہ تھا کہ یشوع آرہا ہے اِس لئے جب اُس نے حملہ کیا تو وہ چونک گئے۔خداوند نے اُن فوجوں کو اسرائیل کی فوجوں کے ساتھ حملہ کے وقت پریشان کر دیا اس لئے اسرائیلیوں نے اُنہیں شکست دے کر بیت حورون تک اُن کا پیچھا کر کے بھگایا۔ اسرائیل کی فوج (نے) عزیقاہ اور مقیدہ تک کے تمام راستے میں آدمیوں کو مار ڈالا۔ اسوقت خداوند نے بڑے بڑے اولوں سے اولوں کا طوفان اسرائیلی دشمنوں پر بھیجا۔

(Joshua یشوع، باب 1010-7)

بعد میں داؤد نے فلسطینیوں کو شکست دی۔ اُس نے اُن کے پایہ تخت شہر جو بڑے علاقہ پر تھا قبضہ کر لیا۔ داؤد نے اُس زمیں پر قبضہ کر لیا

(Samuel II دوم سموئیل، باب 81)

داؤد نے ارام، موآب، عمون، فلسطین اور عمالیق کو شکست دیا۔ داؤد نے ضوباہ کے بادشاہ رحوب کے بیٹے ہدد عزر کو بھی شکست دی۔ داؤد نے18000 ادومیوں کو نمک کی وادی میں شکست دی۔ وہ بہت مشہور ہوا جب وہ گھر آیا۔ داؤد نے سپاہیوں کے گروہوں کو تمام سرزمین میں رکھا۔ ادوم کے تمام لوگ داؤد کے خادم ہوئے۔ خداوند نے داؤد کو ہر جگہ جہاں وہ گیا فتح دی۔

(Samuel II دوم سموئیل، باب 814-12)

(20)إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن كِتَابِ اللّهِ وَكَانُواْ عَلَيْهِ شُهَدَاء فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلاً وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ (المائدۃ:45-44) ”بے شک ہم نے ہی توریت نازل فرمائی تھی، جس میں ہدایت تھی، اور روشنی تھی۔ اِس کی رو سے یہود کے فیصلے کیا کرتے تھے وہ انبیاء جوکہ خدا کے مطیع تھے اور اللہ والے لوگ بھی اور علم والے بھی، بوجہ اِس کے کہ وہ اللہ کی اِس شریعت کے نگہبان ٹھہرائے گئے تھے، اور تھے وہ اِس پر گواہ۔ سو تم بھی (اے مسلمانو!) لوگوں کا ڈر مت رکھو، بس میرا ہی ڈر رکھو اور کسی گھٹیا مفاد کے بدلے میرے احکام مت بیچ ڈالو۔ اور جو کوئی اللہ کے اتارے ہوئے کے موافق فیصلے نہ کرے سو ایسے لوگ بالکل کافر ہیں۔ اور ہم نے اُن پر اس (توریت) میں یہ بات فرض کی تھی کہ جان بدلے جان کے، اور آنکھ بدلے آنکھ کے، اور ناک بدلے ناک کے، اور کان بدلے کان کے، اور دانت بدلے دانت کے، اور زخموں کے بھی قصاص ہیں..“

(21) وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً (الرعد:38 ) ”بے شک ہم نے تجھ پہلے بہت سے رسول بھیجے، ان کی بیویاں بھی کروائیں اور ان کو اولادیں بھی دیں“

(22) وَما أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ  (الفرقان:20)”اور ہم نے تجھ سے پہلے جو پیغمبر بھیجے، سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے“۔

(23) مراد یہ نہیں کہ ہر پیغمبر لازماً ایک نئی شریعت ہی دے کر جائے ۔ بے شک وہ پہلی کسی شریعت ہی کو جاری وساری رکھے مگر یہ لازم ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کی شریعت کا پابند کر کے جائے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ انسانوں کو شریعت کے بغیر چھوڑ دے۔ خود مسیح علیہ السلام نے لوگوں کو شریعتِ موسوی کا پابند ٹھہرایا۔ اردو بائبل میں ”انجیل متیٰ“ کے اصحاح 5 میں ستھرویں  جملے سے پہلے عنوان باندھا گیا ہے: ”یسوع اور شریعت کا لکھا“.. اور پھر ستروھویں اور اٹھارویں جملے کا متن یوں آتا ہے:

17۔ یہ نہ سمجھو کہ میں موسیٰ کی کتاب شریعت اور نبیوں کی تعلیمات کو منسوخ یا بے کار کرنے آیا ہوں۔ میں ان کو منسوخ کرنے کی بجائے ان کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ 18۔ میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ زمین و آسمان کے فنا ہونے تک شریعت سے کچھ بھی غائب نہ ہوگا۔ جب تک سب کچھ پورا نہ ہولے۔
انٹرنٹ پر دیکھنا چاہیں تو: 
http://www.wbtc.com/downloads/bible_downloads/Urdu/Urdu_Bible_40)_Matthew.pdf

پاپائے روم ہی نہیں، سب کلیساؤں کیلئے ”امورِ سلطنت“ (بشمول امن وجنگ) کے تعلق سے ”شریعت آسمانی“ کا لفظ عجیب وغریب ہے تو اِسکا سبب صرف یہ نہیں کہ موسی اور داؤد علیہما السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح مسیح علیہ السلام زمین میں فرماں روانہیں ہوئے، بلکہ اِسکا بڑا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ سینٹ پال کے دین پر ہیں نہ کہ عیسی علیہ السلام کے دین پر جو بنی اسرائیل کی شریعت کو برقرار رکھ کر گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رومن ایمپائر، عیسائیت قبول کر لینے کے بعد بھی آئینِ سلطنت کے باب میں اپنے پہلے دین پر ہی رہی، ”شریعت خداوندی“ کا اِن لوگوں کے ہاں کبھی سوال نہیں اٹھا۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ رومن ایمپائر نے ’مسیح علیہ السلام پر ایمان‘ کے بعد بھی جنگ و خوں ریزی میں تو ہرگز کوئی کمی نہ آنے دی البتہ ”شریعتِ آسمانی“ کا کوئی حوالہ تو کیا تصور تک اِنکے ہاں کبھی نہ پایا گیا باوجود اِس کے کہ کلیسا کی ’برکتیں‘ ایمپائر کیلئے بدستور جاری رہیں! حق یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر ایک بڑے طویل انقطاع کے بعد ”شریعت“ کا راج بحال کروایا اور جوکہ صدیوں برقرار رہا۔ یہاں تک کہ ساتویں صدی ہجری میں کچھ تاتاری شاہی خاندانوں نے اسلام قبول کیامگر انکے یہاں قانون ابھی وہی چنگیزخان کے دور کا چلا آرہا تھا تو وقت کے علمائے اسلام نے اِس پر کفر کا فتویٰ دیا (دیکھئے تفسیر ابن کثیر بابت تفسیر سورہ مائدہ آیت: 50 تا 41) جس کے نتیجے میں ”شریعتِ آسمانی“ کا راج بحال ہوا اور صدیوں باقی رہا، اور جوکہ آج بھی زمین کے چند خطوں میں بڑی حد تک برقرار ہے۔ سرزمینِ اسلام کے کثیر خطوں میں __ آئینِ سلطنت کی سطح پر __ ”شریعتِ آسمانی“ کی عملداری میں اِس بار بھی کچھ تعطل آیا تو وہ بیرونی قبضہ کاروں کے زیرِ اثر، جبکہ سبھی اِسکو محض ایک وقتی بلکہ ہنگامی مرحلہ کے طور پر دیکھتے ہیں جس کو بہرحال گزر جانا ہے؛ علمائے اسلام کا فتویٰ آج بھی اِس ’ماسوائے شریعت‘ کی عملداری کی بابت یہی ہے کہ یہ ”حکم الجاہلیۃ“ ہے، امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سب خطوں میں حاکمیتِ شریعتِ خداوندی کی جانب واپسی کا سفر تیزی سے جاری ہے اور دیکھنے والوں کو حیران بھی کر رہا ہے کہ ایک چیز کیونکر اپنے ”اصل“ کی طرف لوٹنے کیلئے بے چین ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک!!!

(24) الزخرف: 32-31 وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ   أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ ”کہتے ہیں یہ قرآن اِن دو بستیوں میں سے کسی ’بڑے آدمی‘ پر کیوں نہ نازل کیا گیا؟ تو کیا تیرے پروردگار کی رحمت کے تقسیم کنندہ یہ ہیں؟؟؟“

(25) وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نِبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاء رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ وَلِتَصْغَى إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُواْ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ (الانعام: 113-112)

”اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے بہت سے دشمن پیدا کئے، کچھ آدمی اور کچھ جن، جو ملمع کی ہوئی باتیں ایک دوسرے کو سجھاتے ہیں، سامانِ فریب کے طور پر۔ اور اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کر سکتے، سو چھوڑ دے اِن کو اور اِن کی بناوٹوں کو۔ اور یہ اِس لئے کہ اس کی طرف ان لوگوں کے قلوب مائل ہو ہی جائیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں، اور اس کو پسند کرلیں، اوروہ گناہ کمالیں جو انہیں کمانا ہیں“۔

(26) اِس خباثت پر مبنی حال ہی میں آنے والی ایک فلم، جسے ہالینڈ کے ایک پارلیمنٹیرین Geert Wilders نے خصوصی محنت سے بنایا ہے اور اِس محنت میں کئی دیگر مغربی ممالک کے پارلیمنٹیرین ، مفکرین اور میڈیا شخصیات بھی اُس کی شریک کار رہی ہیں، اور جس کا نام اِن بدبختوں نے ’فتنہ‘ رکھا  ہے (جی ہاں مغربی زبانوں میں بھی، جہاں ’عربی‘ سمجھ نہیں آتی، اس فلم کو اسی نام 'Fitna' سے چلایا جا رہا ہے).. اِس میں قرآن اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ایسی ہی اشیاء کو الگ نکال کر ”اسلام“ کی بابت مغرب کی ’آنکھیں کھولنے‘ کی کوشش کی جا رہی ہے!

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
کشمیر کےلیے چند کلمات
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
شیعہ سنی تصادم میں ابن تیمیہؒ کو ملوث کرنا!
جہاد-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
شیعہ سنی تصادم میں ابن تیمیہؒ کو ملوث کرنا! کل ہمارے یہاں ایک ٹویٹ ہوا تھا: شیعہ سنی تصادم&۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز