عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, June 5,2020 | 1441, شَوّال 12
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-02 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
مسلم وحدت: مابین فقہائے اسلام... و ’’المورد‘‘
:عنوان

کسی معاملہ میں ’’احکامِ ضرورت‘‘ لاگو کرتے ہوئے ایک چیز کو ’’امرِ واقعہ‘‘ کے طور پر قبول کرنا اور چیز ہے مگر اسے ’’اسلامی شریعت کی خلاف ورزی‘‘ قرار نہ دینا بالکل اور چیز

. باطل :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

مسلم وحدت: مابین فقہائے اسلام.. و ’’المورد‘‘

حامد کمال الدین

 

’’خلافت و ملوکیت‘‘ مؤلفہ ابن تیمیہ پر ہماری تعلیقات کا سلسلہ ایقاظ میں جاری ہے۔ گزشتہ شمارہ میں ’’جماعۃ المسلمین‘‘ کے لزوم پر نصوص و آثار ذکر کیے گئے۔ البتہ اس ’’الجماعۃ‘‘ کا مفہوم کیا ہے، یہ موضوع اس سے اگلے شمارہ کےلیے اٹھا دیا گیا تھا، یعنی وہ ہمارے اِس حالیہ شمارہ میں شائع ہونا تھا۔ تاہم اسی دوران ’’الجماعۃ’’ سے متعلقہ موضوع پر روزنامہ جنگ میں چھپنے والے ایک مضمون پر ہمیں کچھ لکھنا پڑا۔ ہماری وہ تحریر  یہاں دی جا رہی ہے۔  شمارہ کی ضخامت بڑھ جانے کے پیش نظر، ہمارا وہ مضمون ’’جماعۃ المسلمین کا مفہوم‘‘ (جس کا پچھلے ماہ وعدہ کیا گیا تھا) اب مزید ایک شمارہ کےلیے موخر کیا جا رہا ہے۔ جس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔

واضح رہے، روزنامہ جنگ کا یہ محولہ مضمون (جوکہ دین کو سلطانِ بےدین کی تحویل میں دینے کا پورا ایک نسخہ ہے)... اس میں آنے والے کئی ایک نقاط پر گفتگو ہمارے اِس سلسلہ ’’خلافت و ملوکیت پر تعلیقات‘‘ میں یا تو پچھلی فصول میں گزر چکی ہے یا آئندہ فصول میں آنے والی ہے۔

حالیہ مضمون کے مواد کا ایک بڑا حصہ ہمارے اسی سلسلۂ تعلیقات کی ایک فصل سے لیا گیا ہے۔ ہماری اپنی ترتیب میں اس فصل کو ذرا آگے چل کر آنا تھا، مگر موضوع کی اہمیت کے پیش نظر، اسے ترتیب سے ہٹ کر، پہلے دیا جا رہا ہے۔

ای میل پر ایک دوست نے روزنامہ جنگ (22 جنوری)  کا ایک مضمون بھیجااور مشورہ دیا کہ اس میں پیش کیے گئے بعض مغالطوں پر کچھ لکھ دیا جائے۔ مضمون کا عنوان ہے ’’اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘‘ مؤلفہ جاوید احمد غامدی۔

(جنگ کے اس مضمون کا ویب لنک: http://goo.gl/0yWPD0 ) 

تفصیلی گفتگو تو ظاہر ہے یہاں ممکن نہیں، حتیٰ کہ سب نکات کو زیربحث لانا بھی ممکن نہیں۔ ان میں سے ہر موضوع ایک تفصیل چاہتا ہے، جس کا یہ مقام نہیں۔ یہاں فی الوقت ’’مسلم وحدت‘‘ کے موضوع پر ان کا فقہاء کی بابت ایک دعوىٰ ہمارے زیرغور آئے گا۔ لکھتے ہیں:

’’جن ملکوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، وہ اپنی ایک ریاست ہائے متحدہ قائم کرلیں۔ یہ ہم میں سے ہر شخص کا خواب ہوسکتا ہے اور ہم اس کو شرمندہ تعبیر کرنے کی جدوجہد بھی کرسکتے ہیں، لیکن اس خیال کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ یہ اسلامی شریعت کا کوئی حکم ہے جس کی خلاف ورزی سے مسلمان گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ہرگز نہیں، نہ خلافت کوئی دینی اصطلاح ہے اور نہ عالمی سطح پر اس کا قیام اسلام کا کوئی حکم ہے۔ پہلی صدی ہجری کے بعد ہی ، جب مسلمانوں کے جلیل القدر فقہا ان کے درمیان موجود تھے، ان کی دو سلطنتیں ، دولت عباسیہ بغداد اور دولت امویہ اندلس کے نام پر قائم ہوچکی تھیں اور کئی صدیوں تک قائم رہیں، مگر ان میں سے کسی نے اسے اسلامی شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا، اس لئے کہ اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم قرآن و حدیث میں موجود ہی نہیں ہے۔

خط کشیدہ الفاظ فقہائے اسلام کی بابت ایک دعوىٰ ہے۔ مضمون نگار پاکستان کے غیر علماء طبقہ میں بےشک ایک بڑی مقبولیت رکھتے ہیں، جس کے بےشمار اسباب ہوں گے۔ لیکن طبقۂ علماء کے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کوئی وجہ ہونی چاہئے کہ ایک فکر کی بابت علمائے شریعت کے ہاں غیرعلماء طبقہ کی نسبت ایک یکسر مختلف رائے پائی جائے اور وہ اس کا کوئی علمی وزن لگانے پر آمادہ نہ ہوں۔ ایک جیالا ذہن (جو دنیوی علوم میں بےشک بہت پڑھا لکھا ہوگا) اِس ظاہرہ  phenomenon کی تفسیر میں وہ بنیاد بھی اختیار کرنے چلا جاتا ہے جو مسیح﷣ نے علمائےبنی اسرائیل کی بابت اختیار فرمائی تھی، اور جس کی ہمسری میں مرزا قادیانی نے علمائے امتِ خاتم المرسلینؐ کی بابت ایک مخصوص لہجہ اور ذہن بھی تشکیل دے ڈالا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ ہمارے ملک کے تقریباً تمام علمائےاسلام بلاتفریقِ مکاتب فکر، ’’المورد‘‘ نام سے سامنے آنے والے ایک نئے ڈسکورس کا علمی وزن لگانے پر آمادہ کیوں نہیں ہیں۔ کم فہمی کا عارضہ لاحق ہے یا کتمانِ حق ہو رہا ہے؟ آخر کچھ تو ہے۔ چند ایک کی بات بھی نہیں ہو رہی؛ آخر سبھی علماء کو کیا ہو گیا ہے؟ یا مسئلہ خود اِس نئے ڈسکورس کے ساتھ ہے؟ کسی ایک جانب کچھ مسئلہ ضرور ہے؛ اور کسی ایک کو معاملے پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

’’مسلم وحدت‘‘ کے موضوع پر فقہائے اسلام کے متعلق کیے گئے اِس دعویٰ سے ہی آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ حدیث یا فقہ پر مضمون نگار کے خیالات طبقۂ علماء کے ہاں توجہ نہیں پاتے تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ مضمون نگار کا کہنا ہے: ’’مسلمانوں کی دوسلطنتیں، دولتِ عباسیہ بغداد اور دولت امویہ اندلس کے نام پر قائم ہو چکی تھیں اور صدیوں تک قائم رہیں، مگر ان (فقہاء) میں سے کسی نے اسے اسلامی شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا‘‘۔ کیا واقعتاً فقہاء میں سے ’’کسی نے‘‘ اسے اسلامی شریعت کے ’’کسی حکم‘‘ کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا؟ معلوم ہوتا ہے ’’مسلم وحدت‘‘ کے مسئلہ پر فقہاء کی آراء فاضل مضمون نگار کی نظر سے نہیں گزریں۔ ورنہ زیادہ سے زیادہ وہ اپنی اِس بات کو فقہاء کے ہاں پائی جانے والی ایک ’’شاذ رائے‘‘ کہتے، جیساکہ الماوردی﷫ نے اس کے ’’شاذ رائے‘‘ ہونے کی باقاعدہ صراحت فرمائی ہے (الماوردی کی عبارت آگے آ رہی ہے)۔ البتہ یہ بیان دے ڈالنا کہ ’فقہاء میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا‘ کتبِ فقہ  پر مطلع طبقے کے یہاں تعجب سے سنا جا ئے گا۔ یہاں ہم فقہاء کے کچھ بیانات آپ کے سامنے رکھیں گے۔ اس سے آپ جائزہ لے سکتے ہیں، فقہاء کی بابت فاضل مضمون نگار کی یہ سٹیٹمنٹ فقہاء کے مواقف پر کس درجے کی نظر رکھنے کی غمازی کرتی ہے۔

*****

فقہاء کے اقتباسات دینے سے پہلے البتہ ہم اس مسئلہ پر فقہاء کے ڈسکورس کی کچھ وضاحت کردینا چاہیں گے، علمائے فقہ  ان شاءاللہ ہماری اس بات کی توثیق کریں گے:

’’سلطانِ متغلِّب‘‘ کی طرح بہت سی چیزوں کو – کسی خاص زمان ومکان کےلیے –  فقہاء نے ’’امرِ واقعہ‘‘ کے طور پر ضرور قبول کیا ہے: مفسدت کو دفع کرنے کے باب سے۔ یا کچھ راجح و ضروری تر مصالح کو مقدَّم کرنے کے باب سے۔ یا ایک چیز کےلیے صورتحال کو ناہموار وناسازگار جاننے کے باب سے ( کہ جس میں ایک چیز پر امت سے عمل کروانا بوجوہ ممکن نہیں ہوتا البتہ اس کو کرنے کی صورت میں امت کے کچھ فوری وضروری امور ضرور تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں یا معاملہ خونریزی کا موجب ہو سکتا ہے)۔ یعنی امت کی سطح پر ایک بات کی ’’استطاعت‘‘ نہ پائی جانا۔ یا ایک بات کا اصولاً مطلوب ہونے کے باوجود ایک ’’دی ہوئی صورتحال‘‘ میں مضرت رساں نظر آنا۔ اِسی چیز کو ضرورت یا اضطرار کے احکام بھی کہا جاتا ہے۔ پس ایک اصولاً درست مسئلہ پر بھی امت میں کوئی فتنہ کھڑا نہ ہونے دینا (کیونکہ فتنہ کو دفع کرنا بہرحال ضروری اور ہر چیز پر مقدّم ہے؛ خواہ وہ خلافت کا مسئلہ کیوں نہ ہو) فقہاء کے ہاں ایک نہایت قوی اعتبار ضرور ہے۔ چنانچہ کسی معاملہ میں ’’احکامِ ضرورت‘‘ لاگو کرتے ہوئے ایک چیز کو ’’امرِ واقعہ‘‘ کے طور پر قبول کرناp  اور چیز ہے مگر اسے ’’اسلامی شریعت کی خلاف ورزی‘‘ قرار نہ دینا بالکل اور چیز۔ جیسا کہ ہم نے مثال دی، ’’سلطانِ متغلّب‘‘ کو ’’امرِ واقعہ‘‘ کے طور پر تو فقہاء بےشک قبول کرلیں گے، یہاں تک کہ امت کے مصالح (مانند جہاد، اقامتِ عدل، نفاذِ شریعت اور امن و استقرار) کو معطل نہ ٹھہرانے کے باب سے سلطانِ متغلِّب کے احکامات پر علمدرآمد اور اس کے ساتھ مل کر جہاد کو بھی لازم ٹھہرا دیں گے، فتنہ و خونریزی کا دروازہ بند رکھنے کے باب سے اس کے خلاف خروج کو بھی منع ٹھہرا دیں گے (فقہاء کی بڑی تعداد کا موقف)... لیکن ’’سلطانِ متغلب‘‘ کو شرعاً جائر و ناقابلِ اعتراض ٹھہرا دیں، یہ ممکن نہیں۔  جس کا خودبخود مطلب ہے، قدرت و استطاعت ہونے کی صورت میں سلطانِ متغلب کو رد کرنا ہی فقہاء کے نزدیک شریعت کا تقاضا ہوگا۔ ایسا ہی معاملہ ’’دولتِ اسلامی کے انقسام‘‘  کا ہے۔ اسلامی قلمرو کے ٹکڑے ہونا فقہاء کے ہاں اصولاً احکامِ شریعت کی خلاف ورزی ہی ہے اگرچہ عدم استطاعت یا دفعِ فتنہ کے باب سے اِس صورتحال کو بدلنے پر عامۃ الناس کو اکسانا کسی وقت ممنوع کیوں نہ ٹھہرا دیا جائے۔ جیساکہ ہمارے اِس دور کے علماء کی اکثریت بھی متقدمین کی راہ پر چلتے ہوئے ’’خلافت‘‘ یا ’’دین کی پابند حکومت‘‘ لانے کی خاطر شورش اور بدامنی برپا کرنے کو ممنوع ہی ٹھہراتی ہے؛ جوکہ حق ہے۔

*****

تو پھر آئیے دیکھتے ہیں، مؤلفینِ فقہاء ’’اسلامی قلمرو کے انقسام‘‘ پر  اپنے قبیلے کے مواقف کیونکر نقل کرتے ہیں۔ واضح رہے، یہاں ہم ان فقہاء کے اقوال دیں گے جو اس ’’انقسامِ خلافت‘‘ ہی کے ادوار میں پائے گئے۔ یعنی یہ معاملہ بطورِ واقعہ بھی ان کی نظر میں ہی تھا اور وہ کسی سہانے دور میں بیٹھے ہوئے یہ باتیں نہیں کر رہے تھے۔ دیکھئے یہ فقہاء اِس موضوع پر کیا کہتے ہیں:

سیاسۃ شرعیہ پر قلم اٹھانے والا ایک بڑا نام الماوردی﷫ (چوتھی صدی ہجری کے فقیہ؛ اپنے وقت کے قاضی القضاۃ)  لکھتے ہیں:

وذهب الجمهور إلى أن إقامة إمامين في عصر واحد لا يجوز شرعا لما روي عن النبي أنه قال : إذا بويع أميران فاقتلوا أحدهما  (أدب الدنيا والدين ص136)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/YQKAEQ 

جمہور کا مذہب رہا ہے: ایک زمانے میں دو اماموں کا مقرر ہونا شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ نبیﷺ سے مروی ہے: ’’جب دو امیروں کی بیعت ہو جائے تو ان میں سے ایک کو قتل کردو‘‘۔

ماوردی کی مندرجہ بالا نقل غور فرما لیجئے: جمہور کا مذہب۔ اس کے مخالف قول، ماوردی کے نزدیک، ’’غیرجمہور‘‘ نہیں بلکہ ’’شاذ قول‘‘ ہے۔

ماوردی﷫ امت میں ’’ایک وقت میں مسلمانوں کے دو ملک یا دو امیر‘‘ ہونے کے جواز کو ایک شاذ قول قرار دیتے، اور امت میں ایک ہی امارت کو ضروری ٹھہراتے ہوئے:

وإذا عقدت الإمامة لإمامين في بلدين لم تنعقد إمامتهما، لأنه لا يجوز أن يكون للأمة إمامان في وقت واحد وإن شذ قوم فجوزوه      (الأحكام السلطانية ص29)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/M3Tbt1 

اگر دو مختلف ملکوں میں دو امیروں کو امامت سونپی جائے تو ان دونوں کی امامت منعقد نہ ہوگی۔ کیونکہ ایک وقت میں امت کے دو امام جائز نہیں، اگرچہ بعض لوگوں لوگوں نے شذوذ کی راہ چلتے ہوئے اسے جائز کہا ہے۔

یہ جمہور فقہاء، جن کا الماوردی ودیگر مؤلفین کے بیان میں ذکر ہوا، اس قدر زیادہ ہیں کہ نووی﷫ (ساتویں صدی ہجری) اس کو ’’علماء کا متفقہ قول‘‘ ہی قرار دینے تک چلے جاتے ہیں۔ تاہم نوویؒ کی تقریر دینے سے پیشتر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ صحیحین کی وہ روایت نقل کر دی جائے جس کے تحت (شرح مسلم) میں نوویؒ فقہاء کا یہ اتفاق نقل کرتے ہیں۔ کیونکہ خود یہ حدیث بھی اس باب میں معانی کا ایک سمندر ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي، قال: کَانَتۡ بَنِو إسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ؛ كُلَّمَا َهَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ وَتَكْثُرُ. قاالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ، فَالْأَوَّلِ. وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا استرعاهمْ                      (متفق علیہ، واللفظ لمسلم http://goo.gl/sYrcmm)

ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کے معاملاتِ سیاست انبیاء چلاتے رہے، جیسے ہی کوئی نبی دنیا سے جاتا اس کا جانشین نبی ہوتا۔ اب یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ہاں خلفاء ہوں گے اور بہت زیادہ ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کی: تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: جس کی بیعت پہلے ہوجائے اُسی کی بیعت نبھاتے چلے جانا۔ تم ان کو ان کا حق دیتے رہنا؛ کیونکہ اللہ نے جو کچھ ان کی رعیت میں دیا اُس کی بابت اُن سے وہ خود سوال کرنے والا ہے‘‘۔

حدیث بالا کی شرح میں نووی﷫ فرماتے ہیں:

وَاتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُعْقَدَ لِخَلِيفَتَيْنِ فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ سَوَاءٌ اتَّسَعَتْ دَارُ الْإِسْلَامِ أَمْ لَا وَقَالَ إِمَامُ الْحَرَمَيْنِ فِي كِتَابِهِ الْإِرْشَادِ قَالَ أصحابنا لا يجوز عقدها لشخصين قَالَ وَعِنْدِي أَنَّهُ لَا يَجُوزُ عَقْدُهَا لِاثْنَيْنِ فِي صُقْعٍ وَاحِدٍ وَهَذَا مُجْمَعٌ عَلَيْهِ قَالَ فَإِنْ بَعُدَ مَا بَيْنَ الْإِمَامَيْنِ وَتَخَلَّلَتْ بَيْنَهُمَا شُسُوعٌ فَلِلِاحْتِمَالِ فِيهِ مَجَالٌ قَالَ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْقَوَاطِعِ وَحَكَى الْمَازِرِيُّ هَذَا الْقَوْلَ عَنْ بَعْضِ الْمُتَأَخِّرِينَ مِنْ أَهْلِ الْأَصْلِ وَأَرَادَ بِهِ إِمَامَ الْحَرَمَيْنِ وَهُوَ قَوْلٌ فَاسِدٌ مُخَالِفٌ لِمَا عَلَيْهِ السَّلَفُ وَالْخَلَفُ وَلِظَوَاهِرِ إِطْلَاقِ الْأَحَادِيثِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

(شرح مسلم، حدیث رقم 1442)

حوالہ کا ویب لنک:

 http://goo.gl/nNJSrc

علماء کا اتفاق ہے، ایک زمانے میں دو خلیفے نہیں ہو سکتے خواہ دار الاسلام کا رقبہ بہت وسیع ہو یا نہ ہو۔ امام الحرمین (جوینی) نے اپنی کتاب الارشاد میں ذکر کیا کہ ہمارے (شافعیہ) کے اصحاب کا یہی مذہب ہے کہ امارت (بیک وقت) دو شخصوں کےلیے منعقد نہیں ہو سکتی۔ لیکن جوینی کا اپنا کہنا ہے کہ میرے نزدیک کسی ایک خطے میں دو آدمیوں کی امارت تو منعقد نہیں ہوسکتی اور اس پر تو اجماع ہے، البتہ اگر دو امیروں کے مابین مسافت بہت زیادہ ہو اور ان دونوں کے بیچ میں بہت سے علاقے پڑتے ہوں تو یہاں احتمالات کی گنجائش ہے اور (اس صورت میں) یہ قطعیات میں نہیں آتا۔ مازری نے یہی قول کسی متاخر سے نقل کیا ہے۔ اس متاخر سے مازری کی مراد امام الحرمین (جوینی) ہی ہیں۔ مگر یہ قول فاسد ہے؛ سلف تا خلف جو مذہب رہا ہے یہ اس سے متصادم ہے۔ نیز یہ احادیث کے ظواہر سے متصادم ہے۔ واللہ اعلم

ابن حزم﷫ کا دعوائے اجماع: جس کے ’’اجماع‘‘ ہونے سے آپ بےشک اتفاق نہ کریں، مگر اس سے آپ کو یہ ضرور اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس قول پر فقہاء کی کتنی بڑی تعداد ہے، جس کے متعلق ہمارے فاضل مضمون نگار کا خیال ہے ’فقہاء میں سے کسی نے اسے شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہی قرار نہیں دیا‘۔ ابن حزم:

واتفقوا أنه لا يجوز أن يكون على المسلمين في وقت واحد في جميع الدنيا إمامان، لا متفقان ولا مفترقان، ولا في مكانين ولا في مكان واحد

(مراتب الإجماع، مؤلفہ ابن حزم ص 124)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/ljmDcY 

نیز اس پر اجماع ہوا ہے کہ: مسلمانوں پر ایک وقت میں پوری دنیا کے اندر دو امام ہونا ناجائز ہے؛ خواہ وہ امام اکٹھے ہوں یا متفرق۔ یہ نہ دو الگ الگ جگہوں میں جائز ہے اور نہ ایک جگہ میں۔

ابن حزمؒ (پانچویں صدی ہجری) کے مندرجہ بالا بیان پر ابن تیمیہ﷫ (ساتویں صدی ہجری) اتنا سا استدراک کرتے ہیں کہ  اس سے اختلاف کرنے والے بعض اہل کلام ضرور ہیں۔ نیز (احکامِ ضرورت کے تحت) ہردو مملکت کے احکامات پر عملدرآمد ہوگا۔ البتہ جہاں تک ہردو فرماں روا کی حکومت کو ’’جائز‘‘ ماننے کا تعلق ہے تو اس کو غلط کہنے پر امت کا اتفاق ہے:

النزاع في ذلك معروف بين المتكلمين في هذه المسألة كأهل الكلام والنظر، فمذهب الكرامية وغيرهم جواز ذلك، وأن عليًا كان إمامًا ومعاوية كان إمامًا، وأما أئمة الفقهاء فمذهبهم أن كلاً منهم ينفذ حكمه في أهل ولايته كما ينفذ حكم الإمام الواحد، وأما جواز العقد لهما فهذا لا يفعل مع اتفاق الأمة

(نقد مراتب الإجماع، مؤلفہ ابن تیمیہ ص 298)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/lROiOW 

اس پر اہل کلام وفلسفہ ایسے متکلمین اختلاف معروف ہے۔ کرامیہ وغیرہ فرقے اس کے جواز کے قائل ہیں، اور یہ کہ علیؓ بھی امام تھے اور معاویہؓ بھی امام تھے۔ البتہ جہاں تک ائمہ فقہاء (اہلسنت) کا تعلق ہے تو ان کا مذہب ہے کہ ہردو امیر کا حکم اپنی اپنی قلمرو میں اسی طرح نافذ ہوگا جس طرح ایک امام کا ہوتا ہے۔ ہاں جہاں تک اس کو جائز کہنے کا تعلق ہے تو امت کا اتفاق ہے کہ دونوں کو بیک وقت امارت سونپنا صحیح نہیں۔

روئےزمین پر مسلمانوں کا ایک امیر ضروری قرار دینے پر مذاہبِ اربعہ:

ساداتِ حنفیہ﷭:

مَا افْتَرَقَ فِيهِ الْإِمَامَةُ الْعُظْمَى وَالْقَضَاءُ

يُشْتَرَطُ فِي الْإِمَامِ أَنْ يَكُونَ قُرَشِيًّا بِخِلَافِ الْقَاضِي، وَلَا يَجُوزُ تَعَدُّدُهُ فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ وَجَازَ تَعَدُّدُ الْقَاضِي، وَلَوْ فِي مِصْرٍ وَاحِدٍ.

(الأشباہ والنظائر لابن نجیم ج1 ص 325)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/AdNKiy 

فَإِذَا اجْتَمَعَ عَدَدٌ مِنْ الْمَوْصُوفِينَ فَالْإِمَامُ مَنْ انْعَقَدَ لَهُ الْبَيْعَةُ مِنْ أَكْثَرِ الْخَلْقِ، وَالْمُخَالِفُ لِأَكْثَرِ الْخَلْقِ بَاغٍ يَجِبُ رَدُّهُ إلَى انْقِيَادِ الْمُحَقِّ

(غمز عيون البصائر، للحموی ج 4 ص 111)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/FXUkZa 

کن چیزوں میں امامتِ عظمیٰ قضاء سے مختلف ہے:

امام کا قریش سے ہونا شرط ہے برخلاف قاضی کے۔ نیز امام ایک زمانے میں متعدد ہونا جائز نہیں جبکہ قاضی متعدد ہونا جائز ہے، خواہ ایک ہی شہر میں کئی قاضی ہوں۔

اگر امام بننے کی صفات کے متعدد حاملین بیک وقت سامنے آئیں تو ان میں امام وہ ہوگا جسے اکثر مخلوق نے بیعت دی ہو۔ اکثر مخلوق کی بیعت (سے بننے والے امام) کے مقابلے پر امام بننے والا باغی ہوگا اور اس کو حق کی تابعداری پر واپس لانا واجب ہوگا۔

ساداتِ مالکیہ﷭:

(تَنْبِيهٌ) أَشْعَرَ مَا ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ مِنْ جَوَازِ تَعَدُّدِ الْقَاضِي بِمَنْعِ تَعَدُّدِ الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ وَهُوَ كَذَلِكَ وَلَوْ تَبَاعَدَتْ الْأَقْطَارُ جِدًّا لِإِمْكَانِ النِّيَابَةِ وَقِيلَ بِالْجَوَازِ إذَا كَانَ لَا يُمْكِنُ النِّيَابَةُ لِتَبَاعُدِ الْأَقْطَارِ   (حاشية الدسوقي ج 4 ص 134)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/gsy8MG 

نوٹ: مصنف نے متن میں جو بیان کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ: قاضی کا متعدد ہونا جائز اور امام کا متعدد ہونا منع ہے۔ اور ہے بھی ایسا؛ اگرچہ خطے بہت بہت دور کیوں نہ ہوں کیونکہ (دور کے خطے میں) امام کی نیابت ہوسکتی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ اُس صورت میں جائز ہے جب خطوں کے مابین اتنا بُعد ہو کہ نیابت ممکن ہی نہ رہے۔

ساداتِ شافعیہ﷭:

(وَلَا يَجُوزُ عَقْدُهَا لِإِمَامَيْنِ) فَأَكْثَرَ، وَلَوْ بِأَقَالِيمَ (وَلَوْ تَبَاعَدَتْ الْأَقَالِيمُ) لِمَا فِي ذَلِكَ مِنْ اخْتِلَافِ الرَّأْيِ، وَتَفَرُّقِ الشَّمْلِ (فَإِنْ عُقِدَتَا) أَيْ الْإِمَامَتَانِ لِاثْنَيْنِ (مَعًا بَطَلَتَا أَوْ مُرَتَّبًا انْعَقَدَتْ لِلسَّابِقِ) كَمَا فِي النِّكَاحِ عَلَى امْرَأَةٍ (وَيُعَزَّرُ الْآخَرُونَ) أَيْ الثَّانِي وَمُبَايِعُوهُ (إنْ عَلِمُوا) بَيْعَةَ السَّابِقِ لِارْتِكَابِهِمْ مُحَرَّمًا.

 (أسنى المطالب في شرح روض الطالب ج 4 ص 110)

حوالہ ویب لنک:  http://goo.gl/9dn0n6

دو یا دو سے زیادہ اماموں کےلیے امارت کا انعقاد جائز نہیں، چاہے خطے الگ الگ کیوں نہ ہوں۔ چاہے خطے دور دور کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ اس میں آراء کے بٹ جانے اور شیرازہ بکھر جانے کا اندیشہ واضح ہے۔ اگر دو امامتیں دو اشخاص کےلیے ایک ہی وقت میں منعقد کردی گئی ہوں تو وہ دونوں باطل ہوں گی۔ اور اگر آگے پیچھے منعقد ہوئیں تو جس کی پہلے ہوئی اس کی منعقد ہو جائے گی۔ جس طرح کہ (مختلف ولیوں کے ہاتھوں) عورت کے ایک سے زیادہ نکاح کا معاملہ ہوتا ہے۔ جبکہ بعد والے اور اس کی بیعت کرنے والوں کو سزا دی جائے گی بشرطیکہ ان کو پہلے والے کی بیعت کا علم ہوگیا ہو اس لیے کہ ایک حرام کے مرتکب ہوئے۔

ساداتِ حنابلہ﷭:

( ويتجه ) أنه ( لا يجوز تعدد الإمام ) لما قد يترتب عليه من التنافر المفضي إلى التنازع والشقاق ووقوع الاختلاف في بعض الأطراف، وهو مناف لاستقامة الحال، يؤيد هذا قولهم : " وإن تنازع في الإمامة كفؤان أقرع بينهما إذ لو جاز التعدد لما احتيج إلى القرعة.

 (مطالب أولي النهى ج 6 ص 263)

حوالہ ویب لنک: http://goo.gl/jqBi9S 

اس کی توجیہ یوں ہے کہ: متعدد امام ہونا جائز نہیں۔ اس لیے کہ اس سے باہمی منافرت پیدا ہوتی ہے جوکہ باہمی نزاع اور جدائی کا باعث بننے والی ہے اور (امت کے) اطراف کے مابین اختلاف لے آنے کا موجب۔ جبکہ یہ چیز راست روی کے منافی ہے۔ اس کی تائید فقہاء کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ اگر امامت کے اہل دو اشخاص میں تنازع ہو جائے تو ان دونوں کے مابین قرعہ ڈالا جائے گا۔ ظاہر ہے اگر تعدد جائز ہوتا تو قرعہ کی ضرورت نہ ہوتی۔

ابن تیمیہ﷫ کی تقریر:

والسنة أن يكون للمسلمين إمام واحد والباقون نوابه, فإذا فرض أن الأمة خرجت عن ذلك لمعصية من بعضها أو عجز من الباقين أو غير ذلك فكان لها عدة أئمة, لكان يجب على كل إمام أن يقيم الحدود, ويستوفي الحقوق..)

 (مجموع فتاوى ابن تیمیۃ ج 34 ص 175، 176)

حوالہ ویب لنک:  http://goo.gl/ZZJEvW

سنت (دستور) یہی ہے کہ جملہ مسلمانوں کا ایک امام ہو اور باقی اس کے نائب ہوں۔ ہاں اگر کسی وقت امت اس دستور سے ہٹ جائے خواہ اِس وجہ سے کہ امت کے کچھ لوگ معصیت کی راہ چل پڑے ہیں اور باقی لوگ بےبس ہوگئے ہیں یا کسی اور وجہ سے امت کے ہاں متعدد امام ہوگئے ہیں، تو یہاں ہر امام پر واحب ہوگا کہ وہ حدود قائم کرے اور حقوق کو یقینی بنائے۔

فقہاء کے درج بالا اقوال میں آپ دیکھتے ہیں: احکامِ ضرورت بھی ایک ساتھ ذکر ہوگئے اور احکامِ اصلی بھی۔ یہی توازن شاید آج ہمارے لوگوں کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بدترین سے بدترین حالات میں بھی احکامِ اصلی پر ہی مصر رہنا ایک یوٹوپیا (غیرحقیقت پسندانہ) روش کو جنم دیتا ہے؛ جوکہ لامحالہ انتہاپسندی کی صورت دھارتا ہے۔ اِسی کو ہم ’’غلو‘‘ یا ’’افراط‘‘ کہتے ہیں۔ غیر علماء طبقہ میں یہ روش بھی اِس وقت عروج پر ہے۔ دوسری طرف احکامِ اصلی کو سرے سے گول کر جانا ’’جفا‘‘ کا راستہ ہے جسے ہم ’’تفریط‘‘ کہتے ہیں؛ اور جس پر ہمیں صاحبِ مضمون دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ امت بیچاری ان دو انتہاؤں کے بیچ کٹی پھٹی جاتی ہے۔ ہر انتہاپسند طبقہ، خواہ وہ اِفراط کی راہ چل رہا ہو یا تفریط کی، اپنا ’بیانیہ‘ narrative  ہی جاری کردینے پر مُصر ہے! اِس ملک کو یہ سب مل کر کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ اِس سے پہلے بھی تو آخر ہم یہاں بستے چلے آئے ہیں۔

فاضل مضمون نگار نے خوب کیا جو یہاں فقہاء کا ذکر ضروری جانا۔ اس سے فقہاء کا موقف سامنے آنے میں بھی مدد ملی اور فقہاء کے مواقف پر خود ان کا مطلع ہونا بھی۔ ورنہ نیریٹو narrative   جاری کرنے کےلیے ’’فقہاء‘‘ کی کیا ضرورت تھی!



p    جس طرح ہمارے فاضل مضمون نگار ’’قراردادِ مقاصد‘‘ والے ’’اسلامی‘‘ و ’’مذہبی‘‘ پاکستان کو احکامِ ضرورت کے باب سے قبول کریں گے جبکہ اصولاً اس کو مسترد کریں گے! یا جیسے اگر یہ سعودی عرب یا کویت وغیرہ میں ہوتے تو ’’بادشاہت‘‘ کو امر واقعہ کے طور پر قبول کرتے، اس کے احکامات پر عملدرآمد اور اس کے خلاف عدم بغاوت ہی کا فتویٰ دیتے۔ بادشاہ کے خلاف خروج کرنے والے کو باغی کہتے۔ لیکن اس کا مطلب ظاہر ہے یہ نہ ہوتا کہ وہ ’’بادشاہت‘‘ یا ’’شخصی استبداد‘‘ کو شریعت کی خلاف ورزی نہیں مانتے۔ غرض یہ ہمارے ساتھ اتفاق کریں گے کہ ایک چیز کو امر واقعہ کے طور پر قبول کرنا، حتیٰ کو اس کو کچھ شرعی احکام بھی دے دینا اُسے اصولاً ’’شریعت کی خلاف ورزی‘‘ قرار دینے کے ساتھ متعارض نہیں۔ یہی معاملہ فقہاء کا ’’تعددِ سلاطین‘‘ کے ظاہرہ phenomenon  کے ساتھ تھا۔

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے
Featured-
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
"المورد".. ایک متوازی دین
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ!
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز