عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, June 5,2020 | 1441, شَوّال 12
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-02 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
مغرب کا ’آزادیِ اظہار‘... حقیقت یا ڈھکوسلہ؟
:عنوان

. احوال :کیٹیگری
ابن علی :مصنف


مغرب کا ’آزادیِ اظہار

 حقیقت یا ڈھکوسلہ؟

ڈاکٹر احمد دغشی/ ابن علی

تیسری دنیا کی دانشوری۔ صبح شام ایک ہی گردان: صاحب! مغرب کو آپ اپنے گز لے کر کیوں ماپنے چل دیے۔ وہ ہمارے معیاروں کا پابند تھوڑی ہے۔ ’آزادی‘ کےلیے مغرب نے بڑی قیمت دی ہے۔ آپ اندازہ تو کریں ایک ملک نے اپنی بنیاد ’آزادی‘ پر رکھی ہے؛ بھلا وہ اس پر کیسے سمجھوتہ کرلے!  ’حقِ اظہار‘ پر ہی پابندی لگا دے! ٹھیک ہے ہمیں اپنے نبیؐ کی ناموس عزیز ہے۔ لیکن مغرب سے ایک تقاضا کرنے سے پہلے آپ کو چاہئے مغرب کو پوری طرح سمجھیں۔ جو بات اُس سے مانگنے کی ہو وہ مانگیں۔ کسی شخصی آزادی پر قدغن لگانا اُس کے ہاں تصور کرنے کی چیز ہی نہیں؛ بھلا آپ کیسے اُسے ایک بات پر مجبور کر سکتے ہیں!

کیا واقعی!

مغرب میں ’آزادیِ اظہار‘ کی ایک جھلک تو ہم آپ کو دکھا دیتے ہیں؛ آپ کو معلوم ہو جائے گا، مسئلہ صرف زور اور دھونس کا ہے؛ خواہ وہ جس کے پاس بھی ہو۔ ہمارے یہ تھرڈ ورلڈ دانشور اتنا بتا دیں... مغرب میں جس کے پاس اپنے مقدسات کی ناموس بچانے کےلیے ’یہودی‘ جتنا پیسہ، اثر و رسوخ یا اداراتی دھونس نہ ہو، وہ کیا کرے؟

یہ آپ کا امریکہ ہے۔ یہاں کا ایک بہت بڑا ٹی وی نیٹ ورک برطانیہ کے ایک نامور صحافی رابرٹ فِسک  کی تیارکردہ ڈاکومنٹری چلانے سے صاف معذرت کرلیتا ہے۔ بھلا کس لیے؟ رابرٹ فسک کی یہ ڈاکومنٹری امریکہ میں موجود صہیونی لابی کا غصہ بھڑکا دے گی!  یہ صیہونی لابی بھی ٹی وی نیٹ ورک کو صرف اتنا کہہ دیتی ہے کہ ڈاکومنٹری چلنے کی صورت میں  وہ اپنے مہنگے مہنگے اشتہارات واپس لے لی گی!   بس پھر کیا تھا؛ ڈاکومنٹری یہ جا وہ جا! اِس ڈاکومنٹری کا عنوان ہی اتنا دلچسپ تھا کہ آپ کو باقی کہانی کی سمجھ خودبخود آجاتی ہے: "Why Muslims Have Come to Hate the West."۔ ’’مسلمان مغرب سے اتنی نفرت کیوں کرنے لگے‘‘؟ اس سوال کا سادہ جواب رابرٹ فسک کی ڈاکومنٹری میں یہ دیا گیا تھا کہ یہود کے ناجائز نخرے اٹھاتے چلے جانے کے باعث مغرب ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو اپنا دشمن بنا بیٹھا ہے۔ بھلا یہ ڈاکومنٹری امریکہ میں کیسے چل سکتی ہے؟!

تھوڑی دیر کےلیے آپ فرض کرلیں، کچھ مسلمان تنظیمیں عطیات اکٹھے کر کے اس ڈاکومنٹری کی امریکہ میں نمائش کا پروگرام بنا لیتی ہیں، اگر آپ ’امریکہ‘ سے واقف ہیں، تو بس یہ بات تصور کرنے کی ہے، ان مسلمان تنظیموں کےلیے وہاں کیسےکیسے مصائب ’تخلیق‘ کیے جاتے ہیں، اور ان تنظیموں میں کام کرنے والے مسلمانوں کے  track record سے کیسےکیسے ’دہشتگرد‘ ہونے کے شواہد یکلخت سامنے آ کھڑ ہوتے ہیں۔ عدالتی سے پہلے میڈیا ٹرائل ہی کے ذریعے کس طرح ان کی جان نکال دی جاتی ہے! ہر مسلمان کو معلوم ہے اس وقت امریکہ اور یورپ میں دن گزارنے کےلیے اس پر کیا شروط عائد ہیں؟ صاحبو! کہاں ہے آزادی اور فیئر پلے  fair play؟ ہمارے یہ نام نہاد دانشور مغرب میں رہ کر مغرب کے نظریات کے خلاف چند روز بول کر دکھائیں، انہیں ایک تو مغرب میں پائی جانے والی ’آزادی‘ کا معنیٰ سمجھ آجائے گا۔ دوسرا، اِن کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ مغرب کو ’’جاننے‘‘ کا اِن کا دعویٰ کتنا درست ہے!

واضح رہے رابرٹ فسک 1995 میں برطانیہ کا ’سب سے اچھا صحافی‘ ہونے کا ایوارڈ لے چکا ہے؛ پیشہ ورانہ بنیادوں پر کوئی ایسا گیا گزرا آدمی نہیں؛ بس بات ذرا کھل کر کر جاتا ہے؛ ’آزادی‘ کے ماحول میں!

امریکیوں سے کبھی یہی پوچھ لیں، نعوم چومسکی، جسے مغرب کا سب سے بڑا مفکر تسلیم کیا جاتا ہے، کو وہاں ٹی وی پر کیوں نہیں آنے دیا جاتا؟ شاذ و نادر ہی کبھی کسی ٹی وی کو جرأت ہوتی ہے کہ اسے اپنے کسی پروگرام میں لے لے۔ صرف اس لیے کہ چومسکی ایک اسرائیل مخالف یہودی ہے اور اسرائیل کے خلاف سخت نظریات رکھتا ہے؛ اور بولنے سے بھی نہیں جھجکتا۔ صرف نظریات رکھتا ہے؛ کوئی گولہ بارود نہیں! مگر یہ طمطراق آزادی نعوم چومسکی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی! 1972 میں نعوم چومسکی کی کتاب کی ڈسٹری بیوشن کتاب کے چھپ جانے کے بعد روک دی جاتی ہے؛ یہاں تک کہ مارکیٹ سے اس کی کاپیاں اٹھوا دی جاتی ہیں؛ کیونکہ پبلشنگ کمپنی پر یکدم ’عیاں‘ ہوتا ہے کہ کتاب میں کچھ ایسا مواد ہے جو کچھ ’بااثر‘ طبقوں کو ناراض کردینے کا باعث بن سکتا ہے! یعنی کوئی مافیا ملک میں اتنا ’بااثر‘ ہو تو اس کو ناراض کرنے کی جرأت نہیں ہو سکتی! پیسہ ہو تو جیسی مرضی دھونس کرلیں؛ آپ کے پاس پیسہ نہیں، آپ کارپوریٹ سیکٹر کی ڈوریاں نہیں ہلا سکتے؛ اور لوگوں کو کچھ ’خطرناک‘ عواقب کا کھٹکا نہیں دلوا سکتے تو البتہ آپ کو ناراض کردینے والے ’آزادیِ اظہار‘ کا انہیں پوراپورا حق ہے! ورنہ ’آزادیِ اظہار‘ ڈھونڈے سے نہیں ملتا!

1995 میں امریکی کانگرس کے سپیکر نیوٹ گنگرچ Newt Gingrich   گانگرس کی کارروائی نویس خاتون کرسٹینا جیفری کو ایک لمحہ میں معزول کر کے گھر بھیج دیتے ہیں۔ بھلا کس بات پر؟ تاریخ پر ماہر مانی جانے والی اس خاتون کی بابت انکشاف ہوگیا تھا کہ 1986 میں وہ ہولوکاسٹ پر نشر ہونے والے ایک تعلیمی پروگرام پر اپنی رائے دیتے ہوئے صرف اتنا جملہ کہہ بیٹھی تھی کہ ’نازی پوائنٹ آف ویو‘ کو بیان ہونے کا جتنا موقع دیا جانا چاہئے تھا پروگرام میں وہ نہیں دیا گیا! صرف اتنا جملہ سرزد ہوجانے پر، کرسٹینا بی بی نوکری سے فارغ!

صیہونی لابی اِس ’آزادیِ اظہار‘ کا گلا کیسے گھونٹتی ہے، یہ ہر شخص پر واضح ہے، سوائے ہمارے تھرڈ ورلڈ کے دانشور کے؛ جو نجانے کن سہانے تصورات میں رہتا ہے!

1986 میں مشہور مصنف جارج گلڈر George Gilder   کو اپنی کتاب ’’جنسی خودکشی‘‘ کےلیے کوئی پبلشر ڈھونڈے نہیں مل رہا تھا۔ باوجود اس کے کہ اسی دہائی کے اوائل میں جارج گلڈر کی کتابیں بیسٹ سیلر رہ چکی تھیں! یعنی وہ کوئی ناکارہ مصنف نہیں ہے۔ ہر پبلشر جارج گلڈر ایسے معروف ہر دلعزیز لکھاری کی اِس کتاب کو چھاپنے کے سوال پر رونی صورت بنا  کر بیٹھ جاتا؛ اس لیے نہیں کہ اُسے کتاب کے مندرجات سے کوئی خاص اختلاف ہے؛ بلکہ اِس لیے کہ ’آزادیِ نسواں‘ کی ٹھیکیدار لابیاں ملک میں ایسے غیرذمہ دار ناشر کا جینا حرام کردیں گی۔ اِس حوالہ سے؛ سی این این پر ایک فیمی نسٹ خاتون اپنے انٹرویو میں باقاعدہ ارشاد فرما چکی ہے کہ: مرد اور عورت کے مابین پائے جانے والے (فطری) فرق کو نمایاں کرنے والی اشیاء کو پڑھانے پر ہی پابندی ہونی چاہئے!

برطانیہ کی ایک مشہور اداکارہ ونیسا ریڈگریو Vanessa Redgrave کو امریکہ میں اپنا کامیڈی پروگرام کرنے کی اجازت نہیں ملتی، کیونکہ اُس نے خلیجی جنگ کے دوران عراق میں امریکی مداخلت کے خلاف زورشور سے آواز اٹھائی تھی۔َ امریکہ میں اس کے ریکارڈشدہ پروگرام چلانے میں طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا کی جاتی رہی ہیں اس لیے کہ یہ برطانوی اداکارہ صیہونیت اور اسرائیلی لابیوں کے خلاف کچھ ضرورت سے زیادہ کھل کر بولتی ہے!

امریکی یہی بتادیں احمد دیدات کو امریکہ میں داخلے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؛ کیا وہ کوئی بم چلانے والی شخصیت تھیں؟ یوسف قرضاوی کو امریکہ میں قدم رکھنے کی اجازت کیوں نہیں ملتی؟ برطانوی نو مسلم یوسف اسلام کا امریکہ میں داخلہ کیوں بند ہے؟

افغانستان اور عراق کی خبروں کی حقیقی کوریج امریکہ میں کیوں نہیں ہونے دی جاتی رہی؟ اس ’جرم‘ پر الجزیرہ کی تنصیبات کو کتنی بار بمباری کا نشانہ بننا پڑا؟ عراق میں رپورٹنگ کرنے والے عرب صحافیوں کو کیسے چن چن کر موت کے گھاٹ اتارا گیا؟ الجزیرہ کے ایک رپورٹر تیسیر علّونی اور کیمرہ مین سامی الحاج کو میڈریڈ میں گرفتار کرکے گوانٹانامو پہنچا دیا جاتا ہے! صرف اتنا نہیں؛ برطانوی جریدہ ڈیلی مِرر Daily Mirror اپنے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کیوِن میگوائر Kevin Maguire کے قلم سے انکشاف کرتا ہے کہ اس کے پاس اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ امریکہ صدر جارج بش نے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو الجزیرہ چینل پر بمباری کے منصوبے کی بابت آگاہ کیا تھا۔ پھر جب اس ثبوت کو لانے کےلیے لوگوں کی فرمائش بڑھی تو پارلیمنٹ کو کہیں سے ’اشارہ‘ ملا کہ ایسی اشیاء کو نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی جائے!

استفادہ  http://albayan.co.uk/Article2.aspx?ID=4127 

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے
Featured-
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ
جہاد-
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت!
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
ڈیل آف دی سینچری… مسئلۂ فلسطین کے ساتھ ٹرمپ کی زورآزمائی
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
ڈیل آف سنچری ، فلسطین اور امریکہ
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز