عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, December 7,2019 | 1441, رَبيع الثاني 9
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2016-07 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
عقیدۂ سلف تک رسائی؟
:عنوان

وہ مؤلفین و تالیفات چھانٹ لیجئےجو دعوی کریں کہ میں تمہیں دورِسلف کا عقیدہ بیان کر کےدےرہا ہوں۔ مثال کے طور پر طحاویؒ اپنےمتنِ"عقیدہ"کےماتھےپر لکھتےہیں:[هذا ذكر بيان عقيدة أهل الملة أبي حنيفة وأبی یوسف ومحمد ومايعتقدون من أصول الدين

. اصولعقيدہ :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف




عقیدۂ سلف تک رسائی؟

تنقیحات

سوال:   عقیدۂ سلف کس کو کہا جائے گا؟ اگر یہ پہلو کلیئر ہو جائے تو آسانی ہو جائے گی۔ https://goo.gl/bM8tOl

سوال:   عقیدہ سلف کی بعض مستند نمائندہ کتب کے نام بھی اگر یہاں درج ہوتے تو بہت اچھی بات تھی ، کم از کم ایک نمائندہ کتاب کا نام تو ہونا چاہیے (قرآن مجید اور کتب احادیث کے علاوہ)   https://goo.gl/rRERt5

جواب:

ان شاءاللہ یہ مسئلہ بالکل پیچیدہ نہیں، باوجود اس کے کہ کچھ لوگوں نے اس سوال کو الجھا کر کہ ’کونسا عقیدۂ سلف‘؟ فلاں والا؟ فلاں والا؟ یا فلاں والا؟... اصل میں یہ گراؤنڈ بنانے کی کوشش کی ہے کہ چونکہ ’’عقیدۂ سلف‘‘ کوئی چیز ہوتی ہی نہیں، لہٰذا سب سمتیں اس معاملہ میں ایک برابر ہوئیں، اور اس لیے... اسلام کی یہ نئی نئی تعبیریں بھی جو کتاب و سنت کے نام پر کچھ دلیل بازی کر سکتی ہوں (اور جوکہ بالعموم ہیومن ازم کا ایک لاشعوری پرتو ہیں) ... اسلام کی یہ سب نئی نئی تعبیریں بھی اصولِ دین کے بیان و تفسیر میں اتنی ہی ویلڈ valid ہوئیں جتنی کہ کسی کے خیال میں مقرراتِ سلف!

*****

اصطلاحات کے حوالے سے ذرا واضح کرتے چلیں:

’’عقیدہ‘‘ سے ہماری مراد ہوتی ہے: اعتقاد creed کے معاملہ میں کتاب و سنت کے کچھ سٹینڈرڈ standard و طےشدہ established معانی و تفسیرات۔

’’سلف‘‘ کا مطلب: امت کے پیش رَو predecessors۔ جوکہ اصل میں صحابہؓ ہیں جنہوں نے نزولِ وحی کا زمانہ پایا اور صاحب وحی سے وحی کو براہِ راست پڑھا اور سمجھا اور صاحبِ وحی سے اس پر باقاعدہ سند پائی، اور پھر صحابہؓ کے بعد ان کے سندیافتہ شاگرد تابعینؒ و تبع تابعینؒ جو ٹھٹھ کے ٹھٹھ صحابہؓ سے پڑھے اور قدم قدم پر اہل بدعت و انحراف سے بھی الجھے، اور صحابہؓ کا ایک باقاعدہ علمی تسلسل بنے، خصوصاً گمراہ فرقوں کے مقابلے پر (یعنی پٹڑی سرکنے کے مقامات پر)۔

 یوں ’’عقیدۂ سلف‘‘ سے مراد ہو گی: اعتقاد کے باب میں کتاب و سنت کے وہ سٹینڈرڈ معانی و تفسیرات جو سلف کے وقت سے طےشدہ established چلے آتے ہیں۔

*****

’’عقیدۂ سلف‘‘ کس کو کہا جائے گا؟ بھائی میں اس کے جواب میں اگر کچھ خاص متون texts کا ذکر کر دوں، اور بلاشبہ کسی دوسرے مقام پر ایسا کیا جا سکتا ہے، تو فی الحال ایک سائل کےلیے یہ گنجائش رہ جائے گی کہ فلاں اور فلاں حضرات تو عقیدۂ سلف کے نام پر کوئی دوسرا ٹیکسٹ پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ اس لیے، کم از کم اِس مقام پر میں صرف وہ بات عرض کروں گا جو آپ کو ایک واضح ٹریک track پر چڑھا دے۔ رہ گئے کچھ ایسے فرق differences جو ’’عقیدہ‘‘ کو ’’سلف‘‘ سے لینے کا دعویٰ کرنے والوں کے مابین بھی آپ کو نظر آئیں گے... تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ فرق کتنے بھی بڑے ہوں، اور ان کو کتنا بھی بڑھا چڑھا کر بیان کر لیا جائے، اُن ضلالتوں کے مقابلے پر کچھ نہیں جو آپ ان لوگوں کے ہاں دیکھیں گے جو اصولِ دین کو لینے میں فہم و تفسیرِ سلف کا پابند رہنے کے سرے سے روادار نہیں۔

یہ وضاحت ہو جانے کے بعد اب ہم آپ کے سوال پر آجاتے ہیں۔

مختصراً:

       آپ اپنی اپنی بہترین صوابدید میں جن مؤلفین اور معلمین کی یہ صنف بندی کر سکتے ہوں کہ وہ اپنے علمی دعووں میں جھوٹے اور خائن نہیں (ان کے جھوٹ پکڑنے کے بہت سے چیک بھی ہیں اور بڑے آسان ہیں، جن کے ذکر کا یہ مقام نہیں)، ایسے قابل اعتماد مؤلفین اور معلمین کو چھانٹ لیجئے۔ (ایک عامی کا اجتہاد اسی قدر ہوتا ہے کہ یہ اپنی بہترین صوابدید اور دیانت کا استعمال کرتے ہوئے کسی فقیہ یا عالمِ سنت کا تعین کرے جس سے یہ دین کا علم اور فتویٰ لے گا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسے ہر عامی کا ’’تلاشِ عالم‘‘ کا اجتہاد لازماً درست ہی ہو گا۔ مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے سنت کا عالم تلاش کرنے میں اپنی بہترین صوابدید اور دیانت سے کام لیا ہے تو اپنا فرض ادا کر لیا ہے؛ اور یہاں غلطی ہوجانے پر بھی ان شاءاللہ وہ اکہرے اجر کا امیدوار ضرور ہے)

       ایسے معلمین، مؤلفین اور تالیفات (آپ کی صوابدید کے مطابق) اپنے علمی دعووں میں سچے ہونے کے ساتھ ساتھ... اپنی اس بات کو باقاعدہ ’’سلف کے عقیدہ‘‘ کے طور پر پیش کر رہے ہوں (نہ کہ ’اپنے‘ فہمِ کتاب و سنت کے طور پر)۔ اور میں آپ سے عرض کر دوں اس دعویٰ کے ساتھ بات کرنے والے مؤلفین اور تالیفات علمی دنیا میں بےحد گنی چنی ہیں (کہ فلاں اور فلاں بات سلف کے اعتقادات ہیں)۔ لہٰذا آپ کا کام یہاں حد درجہ آسان ہو جاتا ہے۔ زیادہ عقائد جو متاخرہ ادوار میں بنے ہیں، ان کے پیش کرنے والے یہ دعویٰ ہی نہیں کرتے، اور نہ کر سکتے ہیں، کہ فلاں اور فلاں عقیدہ صحابہ اور تابعین و تبع تابعین سے چلا آتا ہے۔ لہٰذا وہ مؤلفین اور تالیفات چھانٹ لیجئے جو دعویٰ کریں کہ میں تمہیں دورِ سلف کا عقیدہ بیان کر کے دے رہا ہوں۔ مثال کے طور پر امام طحاویؒ اپنا ’’عقیدہ‘‘ کا متن لکھتے ہیں تو عین اس کے شروع میں یہ صراحت کرتے ہیں: [هذا ذكر بيان عقيدة أهل السنة والجماعة على مذهب فقهاء الملة أبي حنيفة النعمان بن ثابت الكوفي وأبي يوسف يعقوب بن إبراهيم الأنصاري وأبي عبد الله محمد بن الحسن الشيباني رضوان الله عليهم أجمعين وما يَعْتَقِدُونَ مِنْ أُصُولِ الدِّينِ وَيَدِينُونَ بِهِ رَبَّ العالمين ’’یہ ہے بیان عقیدۂ اہل سنت و جماعت کا، بر مذہب فقہائے ملت ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کوفی، ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم انصاری اور محمد بن الحسن شیبانی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا۔ یعنی اصولِ دین میں جو جو ان کا اعتقاد ہے اور رب العالمین کو حاضر ناظر جان کر جن جن باتوں کا وہ اعتقاد رکھتے ہیں‘‘]۔ ظاہر ہے امام طحاوی جیسا دعویٰ آخر کتنے مؤلف کر سکتے ہوں گے؟ اس سے زیادہ قوی انداز میں وہ کتابیں آتی ہیں جو عقیدہ کی ’’کتب مُسنَدۃ‘‘ کہلاتی ہیں، یعنی جو پوری سند کے ساتھ مسائلِ اعتقاد کو نبیﷺ، صحابہؓ اور بزرگانِ تابعینؒ و تبع تابعینؒ سے بیان کرتی ہیں مانند: "الإيمان" لقاسم بن سلّام المتوفى 224ه. "الإيمان" لابن أبي شيبة المتوفى 235ه. "السنة" لابن أبي عاصم المتوفى 287ه. "السنة" للخلَّال المتوفى 311ه. "التوحيد" لابن خزيمة المتوفى 311ه. "الشريعة" للآجُری المتوفى 360ه۔ "الإبانة الكبرى" لابن بطة المتوفي 387ه. "الإيمان" لابن مندة المتوفى 395ه. "التوحيد" لابن مندة۔ وغيره۔ اس کے بعد وہ کتابیں آتی ہیں جو ایک ایک بات کی اسناد تو نہیں لاتیں لیکن وہ اپنے مضمون میں عقیدۂ سلف ہی کے بیان کی پابندی کرتی ہیں جیسے امام أحمد بن حنبل المتوفى 241 ھ کی "أصول السنة" اور "الرَّدّ على الزنادقة". ابن قتيبة المتوفیٰ 276ھ کی "الاختلاف في اللفظ والرد على الجهمية" اور ابو الحسن أشعري المتوفیٰ 324ھ کی "الإبانة عن أصول الديانة". وغيره۔ یہ چند مثالیں ہیں۔ ورنہ عقیدہ پر لکھے گئے متون بہت زیادہ ہیں۔

       یہ سب متون اپنے (سلف کے بیانِ عقیدہ کے) ایک بہت بڑے حصہ میں متفق ہی ہیں، کچھ فرق ہو گا تو تعبیرات کا۔ لہٰذا ایک بڑا مسئلہ تو آپ کا یہیں ختم ہوا۔ ہاں ایک محدود ایریا میں ان کے ہاں کچھ فرق بھی مل جائے گا۔ یہ ایریا یا تو تعددِ آراء پر محمول ہو گا جن میں سے آپ کسی ایک قول کو اختیار کر لیں گے۔ یا کسی وقت مسئلہ ’تنقیح‘ کا بھی ضرورتمند ہو سکتا ہے۔ آپ جانتے ہیں تنقیح کی ضرورت آپ کو روایاتِ حدیث تک میں پڑتی ہے اور محدثین کے اختلافات تک میں صحیح کو غلط سے چھانٹ دینا پڑتا ہے۔ مگر سلف کے عقیدہ کے دعویٰ کے ساتھ بیان ہونے والے مقامات میں ایسے اختلافی مقامات بہت کم ہیں۔

       سلف کی نسبت سے ائمہ و علماء نے جو ’’بیانِ عقیدہ‘‘ کیا ہے وہ دو طرح کا ہے: (ایک) ایمان کے حقائق کا وہ بیان جو کتاب اور سنت کی تفہیم و تفسیر میں سلف سے ماثور ہے۔ اس کی حیثیت مستقل نوعیت کی ہے۔ (دوسرا) وہ بیان جو ہر دور میں سامنے آنے والی ضلالتوں کے بالمقابل اسلام کے کلاسیکل عقیدہ کا بیان اور دفاع ہوا ہے۔ یہاں چونکہ ایک ضلالت ہی نئی تھی سو اس کے مقابلے پر سنت عقیدہ کا بیان بھی ایک ایسے انداز سے ہونا لازم تھا جو اس ضلالت کے سامنے آنے سے پہلے نہ تو ہوا اور نہ ضروری تھا۔ (بیانِ عقیدہ کی) اس دوسری قسم کی حیثیت مستقل نوعیت کی نہیں۔ گو طلبہ کو اس کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بدعتوں اور ضلالتوں کے ساتھ معاملہ کرنے کے ایک کلاسیکل پیٹرن classical pattern سے آگاہی پا سکیں۔

غرض یہ دعوىٰ کرنا کوئی اتنا آسان نہیں کہ ’میں جو بیان کر رہا ہوں وہ دورِ سلف کا عقیدہ ہے‘۔ اس لیے کہ سلف سے ماثور عقائد اتنی معتبر کتب کے اندر مدوَّن ہیں گویا انسائیکلوپیڈیا ہوں۔ یہ چیک کرنا مشکل نہیں کہ یہ عقیدہ سلف سے کہاں مروی ہوا ہے۔ اور حق تو یہ ہے، جیساکہ ہم نے کہا، متاخرہ ادوار میں جو عقائد بنا لیے گئے ہیں ان کے ماننے والے بالعموم یہ دعویٰ کرتے بھی نہیں ہیں کہ یہ سلف سے ماثور ہیں۔ ایسے لوگ بالعموم اس مضمون کی بحثیں کرتے ملیں گے کہ ’یہ ضروری کیا ہے کہ عقیدہ سلف ہی سے ماثور ہو، ہم آپ کو دلیل جو دیتے ہیں‘۔ بس ایسے لوگوں سے ہوشیار رہئے۔ عمر بن عبد العزیز کے الفاظ میں یہ (فکری) خانہ بدوش ہیں؛ آج کہیں تو کل کہیں۔ ان کی نقل مکانی مسلسل رہتی ہے۔ آئے روز ان پر نئے رنگ آتے ہیں (اور سب سے بُرا رنگ ہیومن اسٹ دور کا) جبکہ خدا کا دین ایک ثابت معلوم حقیقت ہے۔ ’’عقیدہ‘‘ ایک پیچھے سے چلی آنے والی روایت legacy ہے نہ کہ ’انکشاف‘ discovery    نما کوئی چیز۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز