عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2016-07 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
مفتی کاکاخیل کے ایک شاگردِ رشید کی فرمائش پر
:عنوان

اس سسٹم کا کسی وقت ’جمہوری‘ شکل اختیار کرلینا اور کسی وقت ’آمریت‘ والا روپ دھار لینا کچھ بڑا فرق نہیں رکھتا۔ میری نظر میں یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جب آپ اس سکے کو اچھالتے ہیں تو کبھی ایک رخ اوپر آجاتا ہے تو کبھی دوسرا۔

. باطل > فرقے > ديگر :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف


مفتی کاکاخیل کے ایک شاگردِرشید کی فرمائش پر

تنقیحات

جناب مفتی عدنان صاحب کاکاخیل نے اپنی فیس بک ٹائم لائن پر کہیں ہماری ایک پرانی تحریر  __ از راہِ کرم __ شیئر فرما رکھی ہے (لنک: https://goo.gl/bVbLj9)۔ ہماری اس تحریر میں عالم اسلام پر مسلط حالیہ نظام یا صورتحال پر ایک مختصر نقد ہے اور اس کی مزاحمت کی ضرورت  کا کچھ عمومی تذکرہ۔ اس پر تبصرے ہیں۔ حمایت میں بھی مخالفت میں بھی۔ کوئی چیز خلافِ معمول نہیں۔ تاہم ایک تبصرے پر مفتی صاحب حفظہ اللہ کے ایک شاگردِ رشید نے ہمیں توجہ دلاتے ہوئے فرمائش کی ہے کہ اس کا جواب ضرور صاحب تحریر ہی کی طرف سے آنا چاہئے۔  یہ کامنٹ مفتی صاحب کی اسی پوسٹ پر اس لنک پہ دیکھا جا سکتا ہے: (https://goo.gl/TfUeyi کامنٹ نگار کوئی فرنود عالم صاحب ہیں۔ سبھی کامنٹ فرمانے والے بھائی ہمارے لیے قابل قدر ہیں اور ان کی رائے قابل اعتناء۔ مذکورہ کامنٹ کا جہاں تک تعلق ہے،  خود ہماری رائے میں اس کا مخصوص طور پر جواب ضروری نہیں۔ مگر تلمیذ الشیخ __ أعزھما اللہ ونصر بھما الدین _ کی خواہش پر ہم چند باتیں عرض کر دیتے ہیں:

       جمہوریت ایسے ایک جدید مسئلہ سے متعلق کسی قول کو یوں جھٹ سے اکابرِ دیوبند کے ہاں ایک طےشدہ مسئلہ کے طور پر پیش کرنا میری نگاہ میں خاصا بڑا تحکُّم ہے۔ خاص مولانا سندھی﷫ کے ایک موقف کو ’دیوبندی اجتہادات‘ میں شامل کرنا شاید دیوبند کے علمی حلقوں میں محل نظر ہو، کجا یہ کہ دیوبندی مواقف اس میں محصور بھی ہو جانے لگیں۔  اگر ایسا ہو تو ’جمہوری فکر‘ سے بھی پہلے شاید ’سوشلسٹ فکر‘ دیوبندی آباء سے منسوب ہونے کا حق رکھے! حاشاھم عن ذٰالک۔ ابوالکلام رحمہ اللہ اکابر دیوبند میں نہیں آتے؛ اغلباً ان کا ذکر تبصرہ نگار کے ہاں بھی اِس زمرے میں نہیں آیا۔ مولانا مدنی رحمہ اللہ دیوبند میں یقیناً ایک بڑا نام ہیں۔ مگر خود وہ کس علمی اپروچ کے تحت ایک چیز کو مسلمانوں کے معاملات سلجھانے اور کچھ بحرانات پر قابو پانے کےلیے اختیار کرنے کے قائل تھے، الگ سے ایک تھیسس ہے اور علمی مکالمہ چاہتا ہے۔ اور اگر کچھ عبارتوں کے ظاہری و سرسری معانی پر کلام کو محمول کرتے ہوئے ایک بات کو حضرت علیہ الرحمہ کا باقاعدہ علمی موقف ہی قرار دیا جائے، جوکہ ہے ویسے محل نظر، تو بھی مکتبِ دیوبند کے اقوال کو اس میں محصور کردینا؟! اس پر فاضل تبصرہ نگار سے یہی کہا جا سکتا ہے: لَقَد ضَيَّقْتَ وَاسِعًا۔ دیوبند ایک بڑا سمندر ہے۔ حکیم الامت حضرت اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ کا جمہوریت پر نہایت جاندار نقد میری نظر سے گزرا ہوا ہے۔ دیگر فضلاء کے اقوال بھی وقتاً فوقتاً دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس مسئلہ پر پورے مکتب کو ایک ہی قول پر قرار دے ڈالنا میری نظر میں ایک خاصا بڑا دعوىٰ ہے، کجا یہ کہ مکتب کے ایک استاذ اور مفتی کو اس سے خروج کرتا جان کر ’نازیبائی‘ کا طعنہ بھی دیا جائے! اہل علم پر استدراک اگر بنتا بھی ہو تو وہ ذرا اور قسم کا اسلوب چاہتا ہے۔ یہ اسلوب میرے علم کی حد تک نہ تو دیوبندی طلبۂ علم میں پایا جاتا ہے اور نہ دیوبندی عوام میں۔ تبصرہ نگار کا تعلق اگر غیردیوبندی مکتب فکر سے ہے، تو ان کا مفتی کاکاخیل صاحب کو دیوبندی مذہب کی تعلیم دینا یا دیوبندی ’اجماع‘ سے خروج پر سرزنش فرمانا کچھ اور بھی معنی خیز ہے!

جہاں تک کسی قول کی نسبت پورے ایک مکتب سے کرنے کا تعلق ہے تو وہ عقیدہ و فقہ کے روایتی مسائل کی حد تک تو میرے خیال میں درست ہے، گو وہ بھی ہر مسئلے میں نہیں۔ البتہ جہاں تک جدید پیش آمدہ مسائل و اصطلاحات کا تعلق ہے تو ان میں کسی بھی ایک مکتب کے علماء کے ہاں بہت کچھ سنے اور کہے جانے کی گنجائش موجود ہے؛ اور یہاں پر ’’تحریرِ مسئلہ‘‘ ایک بہت بڑا استقصاء چاہتا ہے۔ لہٰذا ان مسائل میں کسی پورے ایک مکتب کی ترجمانی کا دعویٰ خاصی بڑی بات ہو گی۔ اللہ اعلم

   ’جمہوریت‘ اِس پوری تحریر میں دراصل ہمارا موضوع ہی نہیں ہے۔ خود یہ جملہ ہماری اسی تحریر میں لائقِ توجہ ہے:

’’اس نظام کا بنیادی نکتہ صرف یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے ایک غلام قوم کو چلایا جائے اور غلام رکھا جائے۔ اس سسٹم کا کسی وقت ’جمہوری‘ شکل اختیار کرلینا اور کسی وقت ’آمریت‘ والا روپ دھار لینا میرے نزدیک کچھ بڑا فرق نہیں رکھتا۔ میری نظر میں یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جب آپ اس سکے کو اچھالتے ہیں تو کبھی ایک رخ اوپر آجاتا ہے تو کبھی دوسرا‘‘۔

درج بالا عبارت سے واضح ہے کہ ہم اِ س نظام کو ’جمہوریت بمقابلہ آمریت‘ والے ڈائلیکٹ سے بڑے کسی تناظر میں لے رہے ہیں۔ یعنی  ہم اِسے ایک نظامِ باربرداری کے طور پر لے رہے ہیں؛ ہمارے کسی مسلم ملک میں اس کا ’جمہوری‘ اور کسی مسلم ملک میں اِس کا ’آمرانہ‘ چہرہ خاص ہمارے زیربحث موضوع کے لحاظ سے غیرمتعلقہ ہے۔ بھائی ہم اگر ایک ’آمریت‘ کے دور میں ہوتے یا کسی ’بادشاہت‘ والے ملک میں ہوتے تو اِس نظامِ برداری پر ہماری تنقید اور اس میں ذکر ہو جانے والی اچٹتی مثالوں سے شاید آپ یہ نتیجہ نکالنے چل پڑتے کہ ہمارا نشانۂ تنقید اصل میں ’آمریت‘ یا ’بادشاہت‘ ہے! جبکہ ہمارا موضوع نہ یہ نہ وہ۔ ہمیں تو درکار ہے ’’ما أنزل اللہ‘‘ کا معاشرے کے حق میں حتمی مرجع ہونا، یہ ہمیں ’’فرد (واحد)‘‘ کے ذریعے ملتا ہے تو ہمارا کام ہوتا ہے، ’’عوام‘‘ کے ذریعے ملتا ہے تو ہمارا کام ہوتا ہے (کسی کا نہ ہوتا ہو؛ ہمارا ہوتا ہے۔ اِس قدر کھلے ہیں ہم تو اِس معاملہ میں۔ یعنی ’’عوام بمقابلہ فرد‘‘ ہمارے ڈسکورس کا مرکزی نقطہ ہی نہیں ہے)۔ ہمارا نشانۂ تنقید ہوتا ہے یہاں کا وہ سیاسی، سماجی اور ثقافتی سٹیٹس کو a political, social, intellectual status quo   جس میں انسانوں کا مرجع صاف صاف ’’اللہ اور اس کا رسولؐ‘‘ نہیں ہے۔ یعنی ایک ایسا اجتماعی سیٹ اپ جو کسی سبب سے ’’ما انزل اللہ‘‘ کی اپنی پابند کن حیثیت own binding status کو نہ ماننے پر کھڑا ہے اور مسلسل ایک غیرآسمانی نقشے پر ہمارے فکرونظر سے لے کر ہمارے سماج تک کی ساخت کیے چلا جا رہا ہے۔ رہا یہ کہ وہ کن اَشکال میں اپنا ظہور  manifestation   کرتا ہے، بادشاہت یا جمہوریت، یا افسرشاہی، یا ٹیکنوکریسی، یک پارٹی سسٹم یا کثیر پارٹی سسٹم وغیرہ وغیرہ؟... تو وہ ہمارے اِس اصل مضمون کے اعتبار سے غیرمتعلقہ ہے؛ اور اگر اس کا کچھ ذکر ہے تو محض ضمنی ہے۔ اور ایسے مقامات پر اصطلاحات کے اندر الجھنا تو آخری درجے کی نادانی۔

اصطلاحات ہمارے نزدیک نرے ظروف containers   ہیں۔ لہٰذا ہم ان پر کبھی نہیں الجھتے۔ کم از کم ایک بنیادی مضمون کے طور پر بالکل نہیں الجھتے۔ ہماری بحث ہوتی ہے ایسے کسی ظرف container   میں ڈال رکھے گئے مظروف content   پر، جوکہ دیکھنے میں آیا ہے  جدید اصطلاحات کی اسلامیائی گئی اشیاء Islamized items   کے معاملہ میں ہر شخص کے ہاں ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، لہٰذا اس پر الجھنا بےفائدہ ہے۔ بلکہ ایک درجے میں گمراہ کن misleading ۔ یہاں تک کہ مضمون content   کے اعتبار سے ہم خیال لوگوں کے مابین بھی یہ چیز اختلاف ظاہر کروانے کا موجب ہو سکتی ہے۔

مثلاً بہت امکان یہ ہوگا کہ ’جمہوریت کو قبول کرنے‘ کے تحت آپ جس چیز کو قبول کر رہے ہوں مضمون content   کی حد تک مجھے بھی اس سے کوئی بہت بنیادی اختلاف نہ ہو۔  (میری بات اس شخص سے ہو رہی ہے جو ایک وسیع معنیٰ میں اہل السنۃ والجماعۃ کے پیراڈائم سے وابستہ ہے؛ یعنی نصِ شرعی کی حاکمانہ حیثیت اس کے ہاں کسی بھی طرح محل نظر نہیں؛ معروف سیکولر ڈسکورس کا حامل شخص یہاں میرا مخاطب نہیں)۔  اِسی طرح ’جمہوریت کو قبول نہ کرنے‘ کے تحت میں جس چیز کو رد کر رہا ہوں بہت امکان یہ ہے کہ مضمون content   کی حد تک آپ بھی اس کو رد ہی کرتے ہوں۔ تو پھر جھگڑا کس بات کا؟

بےشک ہم ذاتی طور یہ موقف رکھتے ہیں کہ اصطلاحات کے معاملہ میں بھی مسلمانوں کے ہاں اہل کفر کا تشبُّہ نہ ہو، غیر ہدایت یافتہ ملتوں (مغضوب علیہم اور ضالین) سے ہماری مغایرت اس سطح پر بھی برقرار ہی رہے، ظروف بھی ہمارے اپنے ہوں اور مظروف بھی، مشروب بھی ہمارا اپنا ہو اور جام بھی کہیں سے مستعار نہ ہو، تاہم اپنے کسی مسلمان بھائی کے ساتھ ہمارا بنیادی تنازعہ  اس بات پر بہرحال نہ ہو گا کہ ایک حلال مشروب وہ میخانے سے اٹھائے گئے کسی جام میں بھر کر کیوں پی رہا ہے۔ بنیادی جھگڑا اگر ہو گا تو وہ مشروب پر ہی ہو گا۔ یہاں تک کہ مشروب میں کافر سے خریدی گئی کوئی حلال چیز شامل ہے تو بھی یہ کوئی جھگڑنے کی بات نہیں ہو گی۔ اس لیے؛ اپنے متبع سنت بھائیوں کے ساتھ ہم تو لفظوں اور عبارتوں پر الجھتے ہی نہیں ہیں۔ کیونکہ مضمون content   میں بیشتر مقامات پر اہل سنت کا کوئی اختلاف ہوتا ہی نہیں ہے۔ اور یہ بات ہمیں ’’ما أنزل اللہ‘‘ کی حاکمانہ حیثیت عالم اسلام میں قائم کروانے اور ’’ما أنزل اللہ‘‘ کو رد یا حاشیائی کر رکھنے والے سٹیٹس کو کو عالم اسلام میں رد کروانے کےلیے الحمد للہ ایک وسیع بنیاد فراہم کرتی ہے، اگر ہم اس کا اندازہ کر لیں۔

لہٰذا ہمارا اصل موضوع تحریرِ مذکورہ کے اندر بھی بیرون سے حملہ آور وہ الحادی استحصالی صورتحال ہے جو کسی بھی جمہوری یا غیرجمہوری چولے میں ہم پر حملہ آور ہوتی ہے اور جس نے ڈیڑھ سو سال کے مختصر عرصہ میں ہمارے سب سماجی و تعلیمی خدوخال بدل ڈالے ہیں۔ اصل رونا اس کا ہے میرے بھائی اس پوری تحریر میں! ہم ایک بہت بنیادی بات پر آپ کی توجہ لے رہے ہیں اور آپ ایک نہایت غیربنیادی بات پر حضرت مدنی اور اقبال و مودودی کو آپس میں بھڑوا رہے ہیں! یہاں تک کہ اقبال کے اپنے ہی دو اقوال کو آپس میں بھڑوا رہے ہیں، درحالیکہ ان کے مابین تطبیق بھی بڑے آرام سے ہو سکتی ہے! آپ غور فرمائیں تو شاید ہم اُس شر کی نشاندہی کر رہے ہوں جس کے خلاف حضرت مدنی اور اقبال و مودودی یکساں مزاحمت کے داعی تھے اور صبحِ قیامت تک رہیں گے! تعبیرات کے اختلاف کے باوجود یہ سب مجاہدینِ حریت تھے میرے بھائی، جو ہم نہیں ہیں! اس مغربی ڈسکورس کے خلاف جو ہمارا اصل نشانۂ تنقید ہے اور جوکہ مسلسل ہمارے فکر و نظر سے لے کر ہماری سوسائٹی تک کی تشکیل کیے جا رہا ہے، یہ تمام بزرگ اپنے اپنے طور پر اور اپنے اپنے میدان میں شمشیر بکف تھے اور ان کی ساری زندگی اس کے خلاف مزاحمت میں ہی گزری۔

دوبارہ میری درخواست ہو گی، ہمارے ساتھ باعثِ نزاع مسئلہ ’جمہوریت‘ کو خوامخواہ نہ بنایا جائے، خصوصاً ’جمہوریت‘ کی اُس نظری صورت کو جو کسی وجہ سے بہت سارے متبعینِ سنت کے یہاں کچھ مخصوص حدود و قیود کے تحت قبول ہوتی ہے۔ ہماری تنقید ایک نظامِ قائم پر اس سے ایک وسیع تر تناظر میں ہے؛ اور اس پر ان شاء اللہ یہ سب طبقے متفق ہوں گے۔  ہماری ’مزاحمت‘ کا حوالہ بھی دراصل وہی ہے۔ براہِ کرم اس کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ ڈیڑھ سو سال میں ہماری تعلیمی academic، ثقافتی intellectual  اورسماجی ساخت ایک خالصتاً غیرآسمانی (مغربی) نقشے پر جو ہو رہی ہے اور پورے تسلسل اور زور و شور کے ساتھ جاری ہے،اس کے خلاف مزاحمت کی ضرورت کا انکار آخر کون کر سکتا ہے؟ اور اس کے خلاف مزاحمت ہم میں سے کون کر رہا ہے؟ ان لفظی بحثوں میں الجھنے کی بجائے، آئیے کچھ اس طرف توجہ دیں۔  آپ دوبارہ میری وہ تحریر پڑھ لیجئے، اس میں آپ کو ’مزاحمت‘ کا یہی معنیٰ واضح اور جلی صورت کے اندر ملے گا۔

3۔ حضرت مدنی وحضرت اقبال میں کامیاب مقابلہ کروا لینے کے بعد، تبصرہ نگار کا رخ جمہوریت اور خلافت کا مقابلہ کروانے کی طرف ہو جاتا ہے؛ اور وہ بھی میری ایک تحریر پر تنقید فرماتے ہوئے۔ خلافت کا لفظ میری اس پوری تحریر میں نہیں ہے! تحریر میں اس کا کچھ ذکر ہوتا تو شاید اس سے میری بات کا مقصود اور سیاق بھی کچھ واضح ہوتا اور یہ بھی شاید معلوم ہو سکتا کہ صورتِ موجودہ میں ’خلافت خلافت‘ گردان فرمانے والی جماعتوں سے خود ہمارا نقطۂ نظر کس قدر مختلف ہے۔ لیکن ایک بات کا ذکر ہوئے بغیر اس پر تنقید کر  کے تو میرے اس بھائی نے تمام مسئلے ہی حل کر ڈالے! اب کوئی مسئلہ ہو تو بات کریں!

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز