عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, December 7,2019 | 1441, رَبيع الثاني 9
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2016-07 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
جدیدیت و ما بعد جدید یت کا چیلنج اور اسلام
:عنوان

:کیٹیگری
امتيازعبدالقادر :مصنف

جدیدیت و ما بعد جدید یت کا چیلنج اور اسلام

امتیاز عبد القادر

ریسرچ اسکالر کشمیر یونیورسٹی سرینگر

  مغربی دنیا میں مذہب اور عقل کی کشمکش ماضی قریب کی انسانی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اس کشمکش نے پوری دنیا پر دور رس اثرات ڈالے ہیں۔کشمکش کا پس منظر یہ ہے کہ مغربی دنیا جس مذہب سے واقف تھی وہ خدا کا نازل کردہ نہ تھا بلکہ اس کی منحرف شکل تھی۔ اولاً اللہ کے نازل کردہ دین کی بنیاد ’’توحید‘‘ پر تھی جبکہ تحریف شدہ مذہب(عیسائیت) میں ’’ تثلیث ‘‘کو اختیار کر لیا گیا تھا... اسی طرح اللہ کے دین کے مطابق خدا کا ہر بندہ اس کی عبادت براہِ راست کر سکتا تھالیکن منحرف مذہب میں خدا اور بندوں کے درمیان پادریوں کا ایک گروہ بھی موجود تھا جس کے ’’ واسطے ‘‘ کے بغیر خدا سے تعلق کی استواری ممکن نہ تھی۔ اللہ کے نازل کردہ دینِ حق کے مطابق مخلص طالب ہدایت کو اس کی اجازت تھی کہ وہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کو پڑھے اور سمجھے لیکن تحریف پر قائم ’’دینی نظام ‘‘ میں کتابِ الٰہی کی ’’تعبیر و تشریح‘‘ کا کام صرف ’’دینی طبقہ‘‘ ہی کرسکتا تھا۔عام عیسائیوں کے لئے لازم تھا کہ وہ بہر حال ان کی ’’ تشریح ‘‘ کو قبول کریں۔

اصل دین حق میں نجات کا دارومدار ایمان و عمل پر تھا لیکن منحرف عیسائیت میں کفارے کا عقیدہ گڑھ لیا گیاتھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ مسیحؑ نے صلیب پر چڑھکر اپنے اوپر ایمان لانے والوں کے تمام گناہ بخشوالئے ہیں۔اسی طرح کتابِ الٰہی کی تعلیمات مبنی بر عدل اور انسانی فطرت کے مطابق تھیں لیکن عیسائیت کے علمبرداروں نے رہبانیت اختیار کرلی تھی جو سراسر انسانی فطرت کے خلاف تھی۔

جدیدیت کا ظہور : اس غلط مذہب کے خلاف مغربی دنیا کے عام انسانی ضمیر نے بغاوت کردی۔جدیدیت ان نظریاتی،تہذیبی،سیاسی اور سماجی تحریکوں کے مجموعے کا نام ہے جو ۱۷ویں اور ۱۸ ویں صدی کے یورپ میں روایت پسندی (Traditionalism) اور کلیسائی استبداد کے ردِ عمل میں پیدا ہوئیں۔ یہ وہ دور تھا جب کلیسا کا ظلم نقطہ عروج پر تھا۔تنگ نظر پادریوں نے قدیم یونانی فلسفہ اور عیسائی معتقدات کے امتزاج سے کچھ خود ساختہ نظریات قائم کر رکھے تھے اور ان نظریات کے خلاف اٹھنے والی آواز کو وہ مذہب کے خلاف خطرہ تصور کرتے تھے۔شاہی حکومتوں سے مل کر انہوں نے ایک ایسااستبدادی نظام قائم کیا کہ کسی بھی آزاد علمی تحریک کو پنپنے کا موقع نہیں ملا۔چونکہ مذہب موجود تھا وہ غیر معقول بھی تھا اور غیر عادلانہ بھی،اس لئے مغربی ذہن نے یہ رائے قائم کی کہ انسانی معاشرے میں عدل کے قیام کے لئے مذہب کو ترک کرنا ضروری ہے۔

دوسری طرف اسپین کی اسلامی تہذیب کے ساتھ طویل تعامل کی وجہ سے عیسائی دنیا میں حریت فکر کی ہوائیں آنے لگی۔قرطبہ اور غرناطہ میں حاصل شدہ تجرباتی سائنس (Empirical Science)کے درس رنگ لا رہے تھے اور یورپ کے سائینسداں آزاد تجربات کرنے لگے تھے۔ ان سب عوامل نے مل کر کلیسا کے خلاف شدید ردعمل پیدا کیا اور جدیدیت کی تحریک شروع کی۔ چونکہ اس تحریک سے قبل یورپ میں شدید نوعیت کی دقیانوسیت اور روایت پرستی کا دور دورہ تھا، اس لئے اس تحریک نے پورے عہد وسطیٰ کو تاریک دور قرار دیا۔

جدیدیت کی اس تحریک کی نظریاتی بنیادیں فرانسس بیکنؔ (Francis Becon)،رینے ڈیکارٹؔ (Rene Descartes)، تھامس ہوبسؔ (Thomas Hobes ) وغیرہ کے افکار میں پائی جاتی ہیں، جن کا نقطہ نظر یہ تھا کہ دنیا اور کائنات عقل،تجربے اور مشاہدے کے ذریعے قابلِ دریافت ہے اور اس کے تمام حقائق تک سائنسی طریقوں سے ہی رسائی ممکن ہے۔ اس لئے حقائق کی دریافت کے لئے کسی اور سر چشمہ کی ضرورت نہیں ۔ان فلسفیوں نے ما بعد الطبعیاتی مزعومات اورفریبی دعووں کو اس وجہ سے رد کیا کہ وہ ان کسوٹیوں پر پورے نہیں اُترتے۔ڈیکارٹ نے' I think therefore I am'کا مشہور اعلان کیا،جو جدیدمغربی فلسفے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خودی کا شعوری عمل(Conscious Act of Ego) سچائی تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔

علاوہ ازیں پاسکلؔ ، مانٹسکیوؔ ، ڈیڈاراٹؔ ، وسلیؔ ، ہیومؔ ، والٹیرؔ جیسے مفکرین نے بھی عقل کی لا محدود بالا دستی اور واحد سرچشمہ علم ہونے کے تصور کو عام کیا۔ یہ افکار عقل پرستی(Rationalism) کہلاتے ہیں اور جدیدیت(Modernism) کی بنیاد ہیں۔اس تحریک نے مذہبی محاذ پر الحاد و تشکیک کو جنم دیا۔ والٹیرؔ جیسے الحاد کے علمبردار نے مذہب کا کلیتاً انکار کردیا جبکہ ہیگلؔ مذہب کو تسلیم تو کرتے تھے لیکن اسے عقل کے تابع بتاتے ہیں۔

سیاسی محاذ پر اس تحریک نے انسانی حرکت کا تصور پیش کیا،آزادی فکر، آزادی اظہارِ رائے اور حقوقِ انسانی کے تصورات عام کئے۔تھامس ہابسؔ کے حتمی اقتدارِ اعلیٰ Absolute Sovereignty کے تصور کو سیاسی فلسفے کی بنیاد قرار دیا۔ جان لاکؔ نے اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے خدا کے بجائے عوام کو اقتدارِ اعلیٰ کا سرچشمہ قرار دیا۔والٹیرؔ نے حریت بشر کا تصور پیش کیا۔۔مانٹِکوؔ اور روسوؔ نے ایسی ریاست کے تصورات پیش کئے جس میں انسانوں کی آزادی اور ان کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے اور حکمرانوں کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔جدیدیت کی تحریک نے قوم پرستی اور قومی ریاستوں کا تصور بھی عام کیا۔ ان ہی افکار کے بطن سے جدید دور میں جمہوریت نے جنم لیا اور یورپ و شمالی امریکہ کے اکثر ملکوں میں خودمختار،جمہوری،قومی ریاستیں قائم ہوئیں۔

معاشی محاذ پر اس تحریک نے اول سرمایہ دارانہ معیشیت اور نئے صنعتی معاشرے کو جنم دیا،جس کی بنیاد ایڈم اسمتھؔ کی معاشی فکر تھی جو صنعت کاری ، آزادانہ معیشت اور کھلے بازار کی پالیسیوں سے عبارت تھی۔نئے صنعتی معاشرے میں جب مزدوروں کا ا ستحصال شروع ہوا تو جدیدیت ہی کے بطن سے مارکسی فلسفہ پیدا ہوا،جو ایک ایسے غیر طبقاتی سماج کا تصور پیش کرتا تھا،جس میں محنت کش کو بالا دستی حاصل تھی۔

اخلاقی محاذ پر اس تحریک نے افادیت کا تصور عام کیا۔جو رویے سماج کے لئے فائدہ مند ہیں،وہ جائز اور جو سماج کے لئے نقصان دہ ہیں، وہ ناجائز رویے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ’ مذہب ‘ سے انکار کے بعد جدیدیت کے پاس انسانوں کی اخلاقی تربیت کا کوئی انتظام نہ تھا۔چنانچہ اخلاقی بے راہ روی عام ہو گئی اور اس پر گرفت کرنا بھی ممکن نہ رہا۔جدیدیت کے اس خوفناک انجام کے مظاہر درج ذیل ہیں:

أ‌.        افراد کے اندر مایوسی اور کھوکھلا پن اور خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان

ب‌.      خاندانی نظام کا انتشار

ت‌.      جنسی بے راہ روی

ث‌.             (Feminisim)  اور دیگر غیر متوازن رویے مثلاً ہم جنسی (Homosexuality)

ج‌.       ماحولیاتی بحران

ح‌.       سرمایہ داری کا احیاء

خ‌.       عورتوں اور بچوں کے خلاف مظالم

د‌.      (Urbanization)  کے پیدا کردہ معاشرتی اور اخلاقی مسائل

ذ‌.      انسانی حقوق کی پامالی

ر‌.        بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی

ز‌.        کمزور ممالک پر طاقتور ممالک کی چیرہ دستی اور عالمی استعمار کا ظہور وغیرہ۔ 

۲۰ ویں صدی کے آتے آتے یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ممالک ان افکار کے پُر جوش مبلغ اور داعی بن گئے۔جدیدیت کو روشن خیالی(Enlightment) اور نشاۃ الثانیہ(Renaissance) کے نام بھی دئے گئے اور بڑی طاقتوں کی پشت پناہی سے روشن خیالی کا منصوبہ ایک عالمی منصوبہ بن گیا۔۔چنانچہ ۲۰ ویں صدی کے نصف آخر میں مغربی ممالک کا واحد نصب العین تیسری دنیا(نوآبادیات) میں روایت پسندی سے مقابلہ کرنا اور جدیدیت کو فروغ دینا قرار پایا۔آزادی،جمہوریت،مساوات مرد و زن،سائنسی طرزِ فکر،سیکولر ازم وغیرہ جیسی قدروں کو دنیا بھر میں عام کرنے کی کوشش کی گئیں۔ معاشی فکر کے معاملے میں مغرب سرمایہ دارانہ اور کمیونسٹ دھڑوں میں ضرور منقسم رہا لیکن سیاسی،سماجی اور نظریاتی سطح پر جدیدیت کے افکار بالاتفاق جدید مغرب کے رہنما افکار بنے رہے۔نوآبادیات اور تیسری دنیا میں ایسے حکمرانوں کو بٹھایا گیا جو عوام کی مرضی کے خلاف زبردستی ترقی کے جدید ماڈل ان پر تھوپنے پر مامور رہے۔اسلامی دنیا میں خصوصاً اسلامی تہذیبی روایات کی بیخ کنی کو جدیدیت کا اہم ہدف سمجھا گیا۔ترکی،تیونس اورسابق سویت یونین میں شامل وسط ایشیا کے علاقوں میں مذہبی روایات سے مقابلے کے لئے ایک سخت ظالمانہ اور استبدادی نظام قائم کیا گیا۔

ما بعد جدیدیت،جدیدیت کا ردِعمل : جدیدیت کی اس ہمہ گیر فکری استبداد نے وہی صورتحال پیدا کردی،جو عہدِ وسطیٰ کے یورپ میں مذہبی روایت پسندی نے پیدا کی تھی اور جس کے ردِ عمل میں جدیدیت(Modernism)کی تحریک برپا ہوئی تھی۔جدیدیت کے استبداد کالازمی نتیجہ شدید ردِ عمل کی شکل میں رونما ہوا اور یہی ردِ عمل ما بعد جدیدیت (Post-Modernism)کہلاتا ہے۔

معقول رویہ تو یہ تھا کہ انسان خدا کی طرف پلٹ آتا اور خدائی ہدایت کے آگے سرِ تسلیم خم کرتا لیکن مغربی دنیا ایک طرف دینِ حق سے بڑی حد تک ناواقف ہے اور دوسری طرف وہ اس اخلاقی بے راہ روی کو چھوڑنا نہیں چاہتی جو مذہب کے انکار سے حاصل ہوتی ہے، اس لئے خدا کی طرف پلٹنے کے بجائے جدیدیت کا ردِ عمل مابعد جدیدیت کی شکل میں سامنے آیا۔ دراصل ابھی تک مغربی انسان کا شعور اور اخلاقی حس اتنی پختہ نہیں ہوئی ہے کہ وہ متوازن ردِ عمل پر قادر ہو سکے۔

ما بعد جدیدیت کسی متعین اور مربوط فلسفہ یا طرزِ فکر کا نام نہیں ہے بلکہ یہ’’ تمام نظریات کے انکار ‘‘ کا نام ہے۔ مغرب کا انسان حق کی تلاش میں ناکامی کے بعد مایوس ہو چکا ہے،چنانچہ اس نے اعلان کیا ہے کہ ’حق ‘ نام کی کوئی شئے موجود نہیں ہے۔

مابعد جدیدیت کے تصورکے مطابق دنیا میں کسی آفاتی سچائی کا وجود نہیں ہے بلکہ آفاتی سچائی کا تصور ان کے نزدیک محض ایک خیالی تصور(Utopia)ہے۔ ان کے نزدیک چاہے سچائی ہو یا کوئی اور اخلاقی قدر،حسن و خوبصورتی کا احساس ہو یا کوئی اور ذوق، یہ سب اضافی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تعلق انفرادی پسند و نا پسند اور حالات سے ہے،یعنی ایک ہی بات کسی مخصوص مقام پر مخصوص صورتوں میں سچ اور دوسری صورتوں میں جھوٹ ہو سکتی ہے۔دنیا میں کوئی بات ایسی نہیں ہو سکتی جو ہمیشہ اور ہر مقام پر سچ ہو۔ ما بعد جدیدیت کے ماننے والے سائینس کو بھی حتمی سچائی کی حیثیت سے قبول کرنے کو تیار نہیں۔لیوٹارڈؔ (J.F.Lyotard) کہتا ہے :

’’ سائینس کی زبان اور اخلاقیات اور سیاسیات کی زبان میں گہرا تعلق ہے اور یہ تعلق ہی مغرب کی تہذیبی تناظر کی تشکیل کرتا ہے ‘‘

(The Post-Modern Condition : Knowledge Page8) 

ردِ تشکیل کا نظریہ : ما بعد جدیدیت کے نزدیک جمہور یت،ترقی،آزادی، مذہب، خدا، اشتراکیت اور اس طرح کے دعوٰوں کی وہی حیثیت ہے جو دیو مالائی داستانوں ، الف لیلوی قصوں اور عقیدوں کی ہے۔ اس لئے انہوں نے ان تمام دعوؤں کو مہابیانیوں (Meganarratives)   کا نام دیا۔جدیدیت کے مفکرین کا خیال ہے کہ انہوں نے بہت سی’ سچائیاں ‘ تشکیل دی ہیں اور چاہے مذہب ہو یا جدید نظریات، ان کی بنیاد کچھ خود ساختہ سچائیوں پر ہے اسلئے جدیدیت کے دور کی تہذیب، علم وغیرہ انہی مفروضہ سچائیوں پر استوار ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان تشکیل شدہ سچائیوں کی رد تشکیل (Deconstruction) کی جائے، یعنی انہیں ڈھا دیا جائے۔ چنانچہ ادب، فنونِ لطیفہ،آرٹ، سماجی اصول و ضابطے ہر جگہ ان کے نزدیک خود ساختہ سچائیاں اور عظیم بیانیے ہیں،جن کی رد تشکیل ضروری ہے تاکہ ما بعد جدیدی ادب،فنونِ لطیفہ وغیرہ میں ایسے ’ غلط مفروضوں ‘ کا عمل دخل نہ ہو۔

ما بعد جدیدیت کے عملی اثرات : ما بعد جدیدیت کا سب سے نمایاں اثر یہ ہے کہ افکار، نظریات اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دلچسپی نہایت کم ہوئی۔ عہدِ جدید کا انسان مخصوص افکار و نظریات سے وفاداری رکھتا تھا اور ان کی تبلیغ و اشاعت کے لئے پُرجوش و سرگرم رہتا تھا۔ما بعد جدید دور کے انسان کے نہ کوئی آدرش ہیں اور نہ اصول، اسلئے مثلؔ (Stephan Mitchal) نے اس عہد کو "Age of no Idealogy " قرار دیاہے۔

مذہبی معاملات میں وحدتِ ادیان کا نظریہ بہت قدیم ہے۔ما بعد جدیدیت نے اس طرزِ فکر کو تقویت دی ہے۔ اب دنیا بھر میں لوگ بیک وقت سارے مذاہب کو سچ ماننے کے لئے تیار ہیں اور بین المذاہب مکالمات و مباحث سے لوگوں کی دلچسپی روبہ زوال ہے جبکہ دوسری طرف الحاد و مذہب بیزاری کی شدت بھی ختم ہو رہی ہے۔ اس لئے اس عہد کو لادینیت کے خاتمے کا عہد (Age of Desecularisation)بھی کہا جاتاہے۔ایک شخص خدا پر بھروسہ نہ رکھتے ہوئے بھی روحانی سکون کی تلاش میں کسی فریبی پیشوا سے رجوع کرسکتا ہے۔ آج اسے کسی ہندو بابا کے ہاں سکون ملتا ہے تو کل کوئی عیسائی راہب اسے مطمئن کر سکتا ہے۔ یہ ما بعد جدیدیت ہے ۔

؂    حج کعبہ بھی گیا، گنگا کا اشنان بھی

                                                   راضی رہے رحمٰن بھی، خوش ہو شیطان بھی 

خاندانی نطام اور شادی بیاہ کے بندھنوں کا انکار ہے نہ اقرار۔عفت،ازدواجی وفاداری اور شادی کے بندھن ما بعد جدیدیوں کے ہاں مہا بیانیے ‘ ہیں۔اسی طرح جنسوں کی بنیاد پر علٰحیدہ علٰحیدہ رول کو بھی وہ آفاقی نہیں مانتے۔نہ صرف مرد و عورت کے درمیان تقسیم کار کے روایتی فارمولوں کے وہ منکرہیں،بلکہ جنسی زندگی میں بھی مرد اور عورت کے جوڑے کو ضروری نہیں سمجھتے۔شادی مرد و عورت کے درمیان بھی ہو سکتی ہے اورمرد مرد و عورت عورت کے درمیان بھی۔کوئی چاہے تو اپنے آپ سے بھی کر سکتا ہے۔مرد اور عورت شادی کے بغیر ایک ساتھ رہنا پسند کریں تواس پر بھی ان کے ہاں کوئی اعتراض نہیں۔یہ سب ذاتی ذو ق اورپسند کی بات ہے۔اس نظریے نے دراصل انسانیت کو شرمسار کیا ۔

؂     عمر بھرہم یوں ہی غلطی کرتے رہے غالبؔ 

دھُول چہرے پہ تھی اور ہم آئینہ صاف کرتے رہے

فیشن،لباس ،طرزِ زندگی ہر معاملے میں کوئی بھی ضابطہ بندی گوارہ نہیں ہے۔مرد بال بڑھا سکتا ہے۔چوٹی رکھ سکتا ہے،اسکرٹ پہن سکتا ہے، زنانہ نام رکھ سکتا ہے۔سوسائیٹی کو کسی بھی رویے کو ناپسند کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔حتیٰ کہ اگر مرد وعورت مادر زاد برہنہ رہنا چاہیں تو سوسائیٹی اس پر بھی معترض نہیں ہو سکتی۔چنانچہ بعض ما بعد جدیدی،لباس کو آفاقی ضرورت قرار دینے پر معترض ہیں۔وہ عریانیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔انٹرنیٹ پر اس طرزِ زندگی کے لئے ویب سائیٹ ،ہیلپ لائنز،ڈسکشن فورمز اور نہ جانے کیا کیا شیطانی حربے ہیں۔

آرٹ اور فنونِ لطیفہ میں وہ ہر طرح کے نظم اور پابندی کے خلاف ہیں۔جدیدیت نے ان محاذوں پر جو اصول تشکیل دئے تھے، ما بعد جدیدیت ان کی ردِ تشکیل(De-Construction)چاہتے ہیں۔گوپی چند نارنگ کے الفاظ میں :

’’ ہرطرح کی نظری ادعائیت سے گریز اور تخلیقی آزادی پر اصرار ما بعد جدیدیت ہے ‘‘

)ساختیات،پس ساختیات اور مشرقی شعریات ص530(

ما بعد جدیدی والے کہتے ہیں کہ ادب اور فنونِ لطیفہ حقیقت کی ترجمانی کے لئے نہیں بلکہ حقیقت کی تخلیق کے لئے ہیں۔ اس لئے وہ آرٹ کو ہر طرح کے ادبی، سیاسی اور مذہبی دعٰووں سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔

ما بعد جدیدیت ایک محاکمہ : مابعد جدیدیوں کا یہ دعوٰی کہ دنیا میں کسی سچائی کا سرے سے وجود نہیں ہے، ایک نہایت غیر منطقی دعوٰی ہے۔ اس دعوٰی میں بڑا ریاضیا تی نقص ہے۔ یہ کہنا کہ’’ یہ سچ ہے کہ دنیا میں کوئی سچ نہیں ‘‘ ایک بے معنی بات ہے۔ ’’ دنیا میں کوئی سچ نہیں ہے ‘‘ بذات، خود ایک دعوٰی ہے۔ اگر اس بیان کو درست مانا جائے تو اس کی ز د سب سے پہلے خود اسی بیان پر پڑیگی اور یہ بیان جھوٹا قرار دیا جائے گا۔ یہ ماننے کے لئے کہ ’’ دنیا میں کوئی سچ نہیں ہے ‘‘ کم سے کم اس ایک بات کو سچ ماننا پڑے گا۔ "خود ساختہ سچائیوں "کی ردِ تشکیل کی یہ فکر ایسا جال بچھاتی ہے کہ اس میں خود ہی پھنس جاتی ہے اور خود اپنے ہی اصولوں کے ذریعے اپنے اصولوں کا رد کرتی ہے ۔ غالباً یہ انسان کی فکری تاریخ کا نہایت منفرد واقعہ ہے کہ کوئی فکر اپنے تشکیل کردہ پیمانوں سے اپنی بنیادوں کو ڈھائے۔

منطقی تضاد کے علاوہ اس جدید فکری جاہلیت کے علمی اثرات بھی نہایت بھیانک ہیں۔اگر سچائی اضافی ہے اور دنیا میں کوئی قدر آفاقی نہیں ہے اور سچائیاں مقامی تہذیبوں کی پیدا وار ہیں تو سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر ایک شخص کو دوسرے کی جیب کاٹنے سے روکا جائے گا۔ اس لئے کہ ہر جیب کترا جس مخصوص تہذیبی پس منظر میں پروان چڑھتا ہے وہ اسے جیب کترنے کے عمل کو ایک ناگزیر حقیقت کے روپ میں ہی دکھاتا ہے، یا اگر کوئی شخص افیم کھا کر چلتی ٹرین کے دروازے سے یہ سمجھ کر نہایت صبر و سکون کے ساتھ باہر نکلنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے گھر کے چمن میں تشریف لے جا رہے ہیں تو آخر کس دلیل سے انہیں اس حماقت سے روکا جائے گا ؟ وہ نہایت ایمانداری سے وہی سچائی دیکھ رہے ہیں جو افیم کے اثر سے پیدا شدہ ان کے ’’ مخصوص احوال ‘‘ انہیں دکھا رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ سچائی کی اضافیت کے نظریے کو مان لینے کے بعداس دنیا کا نظام چل ہی نہیں سکتا، جب تک کچھ حقایق پر عالمی اتفاق رائے نہ ہو اور انہیں قطعی حقایق کے طور پر قبول نہ کیا جائے، اس وقت تک تمدن کی گاڑی ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکتی۔

آج سے تقریباًستر سال قبل ’’ ما بعد جدیدیت ‘‘ کی اصطلاح استعمال کئے بغیر ۲۰ ویں صدی کے رجل عظیم مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے ’نظریات کی شکست و ریخت ‘ کی پیشنگوئی کر دی تھی۔’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ‘‘ نامی مشہور تصنیف کے حصہ سوم میں مولانا رقمطراز ہیں:

’’ دنیا میں اس وقت بڑے زور کے ساتھ توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے۔ نوعِ انسانی کی امامت اب تک جس تہذیب کے علمبرداروں کو حاصل رہی ہے،اس کی عمر پوری ہے...یہ زبردست شکست و ریخت اس لئے ہو رہی ہے کہ وہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے مراسم تجہیز و تکفین ادا کریں.......... اس (تہذیب) کے پاس اب کوئی اور انچھر ایسا باقی نہیں رہا ہے جس کو یہ انسانی مسائل کے حل کی حیثیت سے پیش کر سکے ‘‘

ان حالات میں انسانیت کے لئے کون سی راہ باقی ہے ؟ مولانا مودودی ؒ لکھتے ہیں :

’’....اب انسانیت کا مستقبل اسلام پر منحصر ہے۔ انسان کے اپنے بنائے نظریات ناکام ہو چکے ہیں....اور انسان میں اب اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ پھر کسی نظریے کی تصنیف اور اس کی آزمائش پر اپنی قسمت کی بازی لگا سکے۔اس حالت مین صرف اسلام ایک ایسا نظریہ و مسلک ہے جس سے انسان فلاح کی توقعات وابستہ کر سکتا ہے ،جس کے لئے نوع انسانی کا دین بن جانے کا امکان ہے اور جس کی پیروی اختیار کرکے انسان کی تباہی ٹل سکتی ہے ‘‘

اس صورتحال میں مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے ؟ مولانا ؒ لکھتے ہیں :

’’.... )مسلمانوں کو) سب سے پہلے اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہوگا اور وہ صرف اس صورت سے دیا جا سکتا ہے کہ وہ جس اقتدار کو تسلیم کرتے ہیں، اس کے خود مطیع بنیں، جس ضابطے پر ایمان لاتے ہیں اس کے خود پابند ہوں، جس اخلاق کو صحیح کہتے ہیں اس کا خود نمونہ بنیں، جس چیز کو فرض کہتے ہیں اس کا خود التزام کریں اور جس چیز کو حرام کہتے ہیں اس کوخود چھوڑ دیں....پھر انہیں وہ سب کچھ کرنا ہوگا جو ایک فاسد نظام کے تسلط کو مٹانے اور ایک صحیح نظام قائم کرنے کے لئے ضروری ہے ‘‘

نیز یہ کہ :

’’ اس (انقلابی)کام کے لئے ایک زبردست تنقیدی اور تعمیری تحریک کی ضرورت ہے جو ایک طرف علم و فکر کی طاقت سے پرانی تہذیب کی جڑیں اکھاڑ دے اور دوسری طرف علوم و فنون و آداب کو اپنی مخصوص فکری بنیادوں پر از سرِ نو مدون کرے.......حتیٰ کہ ذہنی دنیا پر اس طرح چھا جائے کہ لوگ اسی کے طرز پر سوچنا اور محسوس کرنا شروع کردیں .........ایک طرف پرانے نظامِ تمدن و سیاست کو بزور مٹائے اور دوسری طرف ایک پورا نظامِ تمدن و سیاست اپنے اصولوں پر عملاً قائم کردے ‘‘

)مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش جلد ۳ از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ (

مابعدجدیدیت اوراسلام: سچائی کی اضافیت کا نظریہ اسلامی نقطہ نظر سے ایک باطل نظریہ ہے۔ اسلام اس بات کا قائل ہے کہ عقل انسانی کے ذریعے مستنبط حقائق یقینااضافی ہیں اور شک و شبہ سے بالاتر نہیں ہیں۔ اس حد تک مابعد جدیدیت اسلام سے ہم آہنگ ہے لیکن اسلام کے نزدیک حقائق کا سر چشمہ وحی الٰہی ہے وہ حتمی اور قطعی ہیں۔ اس ساری بحث میں اسلام کا نقطہ نظر نہایت معتدل ، متوازن اور عقل کو اپیل کرنے والا ہے ۔ اس نقطہ میں ما بعد جدیدی مفکرین کے اٹھائے ہوئے سوالات کے جوابات بھی موجود ہیں اور اُن تضادات کی بھی گنجائش نہیں ہے جو ما بعد جدیدیت میں پائے جاتے ہیں ۔

یہ بات کہ انسانی عقل حتمی نہیں ہے اور بسا اوقات دھوکا کھا جاتی ہے ، اسلام کے مطالعہ کرنے والوں کے لئے کوئی نئی فکر نہیں ہے۔ جدیدیت نے جس طرح عقل انسانی کو حتمی اور قطعی مقام دیا اور عقلیات کو حتمی سچائی کے طور پر پیش کیا۔اس پر ما بعد جدیدی مفکر ین سے بہت پہلے اسلامی مفکرین نے جرح کی۔ بلکہ یہ مبحث صدیوں قبل امام غزالیؒ اور امام ابن تیمیہ ؒ کے افکار میں بھی ملتا ہے۔

امام غزالیؒ نے ’’ تہافت الفلاسفہ ‘‘ میں ارسطو ؔ کی منطق پر خود اسی منطق کے اصولوں کا استعمال کرتے ہوئے جو تنقید کی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ عقل کے ذریعے معلوم حقائق کو محض واہمہ قرار دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کائنات کی وسعتیں اور وقت لا محدود ہے اور انسانی عقل لا محدود کا ادراک نہیں کرسکتی۔ اس لیے اس کے مشاہدات اضافی ہیں اور ان مشاہدات کی بنیاد پر اخذ کردہ نتائج بھی اضافی ہیں۔ 

جدید اسلامی مفکرین نے بھی جدیدیت پر کلام کرتے ہوئے عقل کی تحدید اور عقل کے ذریعے معلوم حقائق کے اضافی ہونے کو ثابت کیا ہے۔ مولانا سیدابولاعلٰی مودودی ؒ رقم طراز ہیں :

’’ انسانی فکر کی پہلی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علم کی غلطی محدودیت کا اثر لازماً پایا جاتا ہے اس کے برعکس خدائی فکر میں غیر محدود علم اور صحیح علم کی شان بالکل نمایاں ہے۔ جو چیز خدا کی طرف سے ہوگی اس میں آپ ایسی کوئی چیز نہیں پا سکتے جو کبھی کسی زمانے میں کسی ثابت شدہ علمی حقیقت کے خلاف ہو یا جس کے متعلق یہ ثابت کیا جا سکے کہ اس کے مصنف کی نظر سے حقیقت کا فلاں پہلو اوجھل رہ گیا۔۔۔ ان کے ( علمی قیاسات ) غلط ہونے کا اتنا ہی امکان ہوتا ہے جتنا ان کے صحیح ہونے کا ، او رتاریخ علم میں ایسے بہت کم قیاسات و نظریات کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جو بالآخرغلط ثابت نہیں ہوئے ہیں ‘‘

(بحوالہ دین حق ، ص 22(

علامہ اقبال فرماتے ہیں :

عقل بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں راہبر ہو ظن و تخمین تو زبوں کارِحیات

فکر بے نور ترا ، جزب عمل بے بنیاد سخت مشکل ہے کہ روشن ہو شب تارِ حیات 

دوسری جگہ فرماتے ہیں :

وہ علم کم بصری جس میں ہم کنار نہیں تجلیاتِ کلیم و مشاہدات حکیم 

اسلام کا نقطہ نظریہ ہے کہ علم حقیقی ( یا حتمی وقطعی دسچائی)کا سر چشمہ باری تعاٰ لی کی ذات ہے ۔ اس نے اپنے علم سے انسان کو اتنا ہی معمولی ساحصہ بخشاجتنا وہ چاہتاہے ۔

’’ بے شک اللہ وہ ہے ، جس سے نہ زمین کی کو ئی چیز مخفی ہے نہ آسمان کی‘‘ ( آل عمران 5(

سورہ بقرہ آیت 255میں فرماتا ہے :

’’ جو کچھ ان کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے ‘‘۔

اور لوگ اس کے علم میں کسی چیز پر بھی حاوی نہیں ہو سکتے بجز ان چیزوں کے جن کا علم وہ خود ان کو دینا چاہے‘‘ 

اس طرح جو حقائق علم حقیقی کے سر چشمہ یعنی اللہ تعالٰی کی جانب سے وحی الٰہی یا اس کے پیغمبر کی منصوص سنت کی صورت میں ظہو ر پزیر ہوئے ہیں وہ حتمی صداقت (Absolute Truth)  ہیں۔اور ان کے ما سوا دنیا میں حقیقت کے جتنے دعوے پائے جاتے ہیں ،ان کی دو قسمیں ہیں اگر وہ وحی الٰہی سے متصادم ہیں تو وہ باطل مطلق (Absolute False)  ہیں اور اگر متصادم نہیں ہیں تو ان کی حیثیت اضافی صداقت (Relative Truth)  کی ہے، جو صحیح بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی ۔ وحی الٰہی سے منصو ص حقائق کے ماسوا تمام امور، خوا وہ سائنسی امو ر یا ضوابط ہوں ، یا ریاضی ومنطق ، یا معاشیات وسیاسیات یا سماجیات و عمرانیات سے متعلق امور ، تمام دعوے اضافی ہیں ۔
عملی زندگی میں قانون سازی اور ضابطہ سازی کے معاملے میں بھی اسلام نے یہی موقف اختیار کیاہے ۔ جدیدیت کی طرح وہ نہ ہر معاملے کو آفاقی حیثیت دیتا ہے اور نہ مابعد جدیدیت کی طرح ہر آفاقی ضابطہ و اصول سے انکار کر تا ہے ۔وحی الٰہی کی صورت میں وہ بنیادی اصولوں و سمت کو آفاقی حیثیت دیتا ہے اور ان آفاقی اصولوں کی روشنی میں مخصوص وقت ، مخصوص مقام اور مخصوس احوال کے لئے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھتا ہے بلکہ اجتہادی اور غیر منصوص احکام میں ’’ عُرف‘‘ کا لحاظ بھی رکھتا ہے جسے ما بعد جدیدی ’تہذیبی اتفاق رائے‘ (Cultural Consensus) کہتے ہیں ۔

وحی الٰہی کی بنیادوں پرچند آفاقی قدروں اور اصولوں کی حتمیت اور ان کے دائرے کے باہر وسیع تر معاملات میں وحی الٰہی کی روشنی میں نئے طریقوں ، ضابطوں اور راستوں کی تشکیل کا راستہ ایک ایسا معتدل راستہ ہے جو اسلام کو بیک وقت دائمی ، آفاقی اور مقامی احوال کے مطابق بناتا ہے۔ اور زماں و مکاں کے اختلافات سے ما ورا کر دیتا ہے اس لئے اسلام کی بنیاد پر صحیح طور پر بننے والا معاشرہ ماورائے جدید معاشرہ ہوتا ہے ۔

ختمِ نبوت ﷺ کا نظریہ اسلام کا ایک بنیادی نظریہ ہے اس نظریے کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اب زمانے میں کسی ایسی تبدیلی کاکوئی امکا ن نہیں ہے ، جو بنیادی اصولوں میں کسی ترمیم کی متقاضی ہو ۔ آنے والی ہر جدت کی نوعیت جزوی اور ذیلی ہی ہوگی اسلئے یہ کہنا کہ اب ہم مابعد جدیدیت کے عہد میں ہیں اس لئے جدیدیت کی ہر جڑ کی ردِّ تشکیل (Deconstruction)ضروری ہے، ایک نہایت لغو بات ہے ۔ انسانی حیات میں بیک وقت دائمی اور تغیر پزیر دونوں طرح کے عناصر کا ر فرما ہیں ۔

مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی ؒ نے اس مسئلے پر اپنی تحریر ’’ دین حق‘‘ میں بہت دلچسپ اور دلنشین انداز میں بحث کی ہے ۔ لکھتے ہیں :

’’کیا یہ واقعہ نہیں کہ تمام جغرافیائی ، نسلی اور قومی اختلافات کے باوجود وہ قوانین طبعی یکساں ہیں ،جن کے تحت انسان دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے۔وہ نظامِ جسمانی یکساں ہے ، جن پر انسان کی تخلیق ہوئی ہے، وہ خصوصیات یکساں ہیں جن کی بنا پر انسان دوسری موجودات سے الگ ایک مستقل نوع قرار پاتا ہے۔ وہ فطری داعیات اور مطالبات یکساں ہیں جو انسان کے اندر ودیعت کئے گئے ہیں ۔ وہ قوتیں یکساں ہیں جن کے مجموعے کو ہم نفس انسانی کہتے ہیں ۔ بنیادی طور پر وہ تمام طبعی ، نفسیاتی ، تاریخی ، تمدنی ، معاشی عوامل بھی یکساں ہیں جو انسانی زندگی میں کار فرما ہیں ۔ اگر یہ واقع ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ واقعہ نہیں ہے ‘ تو جو اصول انسان بحیثیت انسان کی فلاح کے لئے صحیح ہوں ، ان کو عالم گیر ہونا چاہئے۔‘‘ ؂

زمانہ ایک ، حیات ایک ، کائنات بھی ایک دلیلِ کم نظری قصۂ جدید و قدیم 

خلاصہ بحث یہ کہ ما بعد جدیدیت،جدیدیت کا ایک منفی ردعمل ہے اور اس گھٹا ٹوپ اندھیرے کا مظہر ہے ، جس میں مسلسل کئی نظریات کی ناکامی اور ابطال کے بعد ہمارے عہد کا پڑھا لکھا انسان بھٹک رہا ہے ۔ افکار ، نظریات اور فلسفوں کی عالی شان عمارتیں اس بُری طرح سے زمین بوس ہو گئیں کہ نئے زمانہ کے فلسفیوں نے عافیت اسی میں محسوس کی کہ سوچنا ہی چھوڑ دیا جائے۔ فکرو خیال اور سچائی کے تصورات ہی کو واہمہ قرار دیا جائے۔ نظریے اور Ideology کو ایک ناپسندیدہ شے باور کیا جائے اور حیات انسانی کو حالات اور افرا تفری کے حوالے کر کے ما بعد جدیدیت کی ’’ جنت‘‘ میں چین کی بانسری بجائی جائے۔ تمام جھوٹے خداؤں کے زمین بوس ہوجانے کے بعد مابعد جدیدیت در اصل لاالٰہ کا اعلان ہے ۔ الاّ اللہ کا اعلان باقی ہے جو انشاء اللہ موجودہ کیفیت کا لازمی اور منطقی انجام ہوگا۔  ؂

آ سماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائیگی 

پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغام سجود پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہوجائیگی 

شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے

(علامہ اقبالؒ) ؔ

مصادر و مراجع:

1.       ’ دینِ حق ‘ از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی

2.        ’ ساختیات،پس ساختیات اور مشرقی شعریات ‘ از گوپی چند نارنگ

3.       . ما بعد جدیدیت کا چلینج اور اسلام از سید سعادت اللہ حسینی

4.       . مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی

5.       . A Young Muslim's guide to the Modern World By: Nasr Sayyed.

6.       . " Principles of Philosophy " By : Descartes Rane.

. " We are all Postmodern now " By : Stephen Mitchel.

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز