عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, December 7,2019 | 1441, رَبيع الثاني 9
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2016-07 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
معاشرے کو ’اوپر سے‘ ٹھیک کرنا تھا یا ’نیچے سے‘؟!
:عنوان

تقریباً پورے جزیرۂ عرب کا اسلام سے ایک بار پھر جانا... عہدِ نبوت کی یہ برق رفتار توسیع اس نسبت تناسب سے تھی کہ اس کے بگڑے سے بگڑے حالات کو بھی ’’مہاجرین و انصار‘‘ کی وہ جہادی ایلیٹ ان شاءاللہ سنبھال ضرور لے گی۔

. اصولمنہج :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

معاشرے کو ’اوپر سے‘ ٹھیک کرنا تھا یا ’نیچے سے‘؟!


پاکستان میں کرپشن کی حالیہ صورتحال کے حوالے سے ہونے والی ایک بحث میں، کسی ٹی وی چینل پر، اینکر کاشف عباسی کے ایک پریشان کر دینے والے سوال پر کہیں سے جواب آیا: معاشرے کو اوپر سے ٹھیک تھوڑی کیا جا سکتا ہے؛ یہ تو نیچے سے ٹھیک کیا جائے تو ہو گا۔ جس پر جناب اوریا مقبول جان نے برمحل سوال اٹھایا: دنیا میں مجھے کوئی ایک معاشرہ دکھایا جائے جو نیچے سے ٹھیک ہوا یا بدلا گیا ہو۔ اس پر خورشید ندیم صاحب نے بغیر توقف جواب دیا: جی میں آپ کو مثال دیتا ہوں: رسول اللہﷺ کا معاشرہ!

ہمارا زیرنظر مضمون (مطالعۂ تاریخ، شمارہ فروری 2015؁ء) لکھا تو کسی اور سیاق میں گیا تھا۔ لیکن اسکا ایک حصہ چونکہ ہمارے اِس موضوع سے بھی متعلق ہے، لہٰذا اُس کے کچھ حصے چند تبدیلیوں اور اضافوں کے ساتھ یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔

متعدد بار ہم یہ مبحث بیان کر آئے ہیں کہ ’’یا‘‘ کا مفروضہ بہت مقامات پر ذہنوں میں غیرضروری وغیرمنطقی طور پر جگہ پا لیتا ہے، یعنی دو چیزوں کے مابین خوامخواہ کی مغایرت؛ جس کی رُو سے ایک کو اختیار کرنا ہو گا اور دوسری کو رد! حالانکہ وہ دونوں بآسانی جمع ہو سکتی تھیں! بلکہ جمع ہی ہونی چاہئیں؛ تبھی ان سے معاملہ کی ایک پوری تصویر بنتی۔ لیکن یہاں ایک موضوع پر باقاعدہ دو فریق ہو کر ہم آپس میں مصروفِ بحث ہو جاتے ہیں۔  یوں ایک ’’لاشےء‘‘ سے پورا ایک جدل dialect   کھڑا کر لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ’سکول آف تھاٹ‘ آ جاتے ہیں! فارغ قوموں میں ایسے مشغلے بکثرت رہتے ہیں۔

اب مثلاً:

o     یہ ڈائلیکٹ کہ مغرب کو اسلام کی تبلیغ کی جائے یا مغرب کے ساتھ لڑائی ہی کی جائے؟ بھئی یہ دونوں کیوں نہیں ہو سکتیں (بشرطِ استطاعت)؟ اُدھر لاتوں کے بھوت بھی کم نہیں اور باتوں کو نہایت خوب سمجھنے والے بھی تھوڑے نہیں۔ اِدھر ہمارے ہاں انٹیلیکچول صلاحیتوں کے مالک صالحین بھی اللہ کے فضل سے ہیں، اور ایسے بھلے لوگ بھی جو اسلام کےلیے صرف سپاہیانہ خدمت انجام دے سکتے ہیں کوئی انٹیلیکچول معرکہ نہیں مار سکتے۔ پس ہردوطرف یہ ایک ’’تنوع‘‘ کا سوال ہوا نہ کہ ’’معارضت‘‘ کا۔ اُن کے غاصب اور مائل بہ شدت طبقوں کے ساتھ شدت اور عام عوام نیز انٹیلکچولز کے ساتھ گفت و شنید، ان دونوں میں آخر کیا تعارض ہے؟ جو جس کا اہل ہو اس کے ساتھ وہی معاملہ، اس میں مسئلہ کیا ہے؟  کیا نبیﷺ نے قتال شروع ہو جانے کے بعد دعوت اور حسنِ سلوک کا معاملہ موقوف کر دیا تھا؟ یہ دونوں اپنےاپنے محل پر بیک وقت کیوں نہیں چل سکتے، بعد اس کے کہ قتال دین میں مشروع ہو چکا ہو؟ یعنی دو خوب چیزوں میں خوامخواہ کا ایک ٹکراؤ فرض کر لینا، اور پھر ایک کے ’’پرو‘‘ اور ایک کے ’’اینٹی‘‘ ہو کر ’دلائل و براہین‘ کا ایک سلسلہ شروع کر لینا!

o     ہمارا قومی مسئلہ آیا انتظامی ہے؟ سیاسی ہے؟ معاشی ہے؟ سماجی ہے؟ فکری ہے؟ تعلیمی ہے؟ یا سائنسی و ٹیکنالوجی پسماندگی ہے؟ یہاں اس پر آپ ’بحثیں‘ تک سنیں گے! بھئی یہ سارے مسئلے بیک وقت کیوں نہیں ہو سکتے؟ ان سب کی اصلاح کےلیے  مختص ٹیمیں میدان میں اتریں اور اپنےاپنے میدان میں اصلاحِ احوال پر زور لگا دیں جس سے مجموعی طور پر اِس امت کا ستارہ بلند ہو، اس میں کیا مانع ہے؟  لیکن نہیں، طے یہ ہونا چاہئے کہ ان میں سے کونسا مسئلہ ہمارا قومی مسئلہ ہے!

o     معاشرے کو ٹھیک کرنا ہے... تو کیا اوپر سے کیا جائے گا؟ نہیں نہیں، اوپر سے کیسے، نیچے سے کیا جائے گا! ایک سکول آف تھاٹ، دوسرا سکول آف تھاٹ!

o     علیٰ ھذا القیاس۔

ہمارا ایک قومی مسئلہ یہ بھی ہے کہ: جو کوئی مسئلہ سرے سے نہیں ہوتا، ہم اس کو ایک مسئلہ بنانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اور پھر اس میں الجھ کر اپنے اصل مسئلوں سے توجہ پھیر لینے میں اس سے بھی زیادہ کامیاب!

فارغ مباش کچھ کیا کر!

*****

چنانچہ ایسا ہی ایک غیرمنطقی و غیرضروری ڈائلیکٹ یہ ہے۔ یعنی معاشرے کو اوپر سے ٹھیک کرنا ’’یا‘‘ نیچے سے ٹھیک کرنا؟ حالانکہ معاشرہ نہ محض نیچے سے ٹھیک کرنے ٹھیک ہوتا ہے اور نہ محض اوپر سے ٹھیک کرنے سے۔ معاشرے کو ٹھیک کرنے کی یہ دونوں جہتیں بیک وقت حسب استطاعت فرض ہیں۔ ان میں تعارض ہے ہی نہیں۔ بلکہ یہ دونوں ایک دوسرے کو مکمل کرنے والی ہیں، اور ان دونوں کا ’’تکامل‘‘ ہی اصل میں امت سے مطلوب۔ رہا یہ جدل کہ یہ ’’یا‘‘ یہ؟ تو ہماری نظر میں، یہ جدل صرف وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو معاشرے کی اصلاح کےلیے کوئی اسکیم اپنے پاس نہیں رکھتے۔ کچھ حرج نہیں اگر بعض لوگوں کی صلاحیتیں ایسی کوئی اسکیم پیش کرنے یا اس پر سرگرم ہونے کی متحمل نہ ہوں اور وہ اپنی مصروفیت کےلیے کوئی عام سی سرگرمی اختیار کر لیں۔ شاید ہم میں سے اکثر کا معاملہ ایسا ہی ہو۔ لیکن اصلاح کی ایک بڑی جہت کی نفی کر دینا؟ ’اوپر سے ٹھیک کرنے کی کیا ضرورت ہے‘؟ یا ’نیچے سے ٹھیک کرتے بعض طبقوں کی جدوجہد یہاں کیسی غیرضروری ہے‘... یہ چیز البتہ ہم ایسے ان لوگوں کےلیے بھی نامناسب ہے جو قوم کی اصلاح کےلیے خود اپنے پاس کوئی چیز نہیں رکھتے۔

پھر سب سے بڑھ کر غلط یہ ہے کہ ایسا کوئی سوال رسول اللہﷺ کے برپا کیے ہوئے عمل کی بابت اٹھا دیا جائے۔ حالانکہ اصلاح کی تمام صالح متنوع جہتیں رسول اللہﷺ کے انجام دیے ہوئے اِس عمل میں بیک وقت کارفرما رہی تھیں۔

*****

پس واضح رہے، ہماری گفتگو اِس ’جدل‘ کو سرے سے قبول نہیں کرتی جس کا اوپر ذکر ہوا۔ ہماری کسی بات سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم معاشرے کو ’نیچے سے‘ ٹھیک کرنے کے تصور کو رد کرتےیا رسول اللہﷺ کے برپا کیے ہوئے عمل میں اس بات کا انکار کرتے ہیں۔  ہم پہلے کہہ چکے، یہ ایک ہمہ جہت عمل تھا اور اصلاح کا کوئی رخ اس کے اندر نظرانداز نہ ہوا تھا۔ ہماری نقد یہاں اس طرزِفکر پر ہے جو رسول اللہﷺ کے اِس عمل کو ’معاشرے کو نیچے سے ٹھیک کرنے‘ کے اندر محصور ٹھہراتا ہے۔

*****

اور اب ہمارا وہ مضمون جس کی بابت ہم نے کہا، وہ براہِ است اِس موضوع پر تو نہیں لکھا گیا، لیکن اِس موضوع کو سمجھنے کےلیے وہ کچھ بنیاد ضرور فراہم کرتا ہے۔

*****

کچھ ابتدائی گفتگو ہمیں توسیعِ اسلام میں پائی جانے والی ’’تیزرفتاری‘‘ پر کرنی ہے؛ کیونکہ تاریخ اسلام کے مطالعہ کے دوران جو کچھ بڑےبڑے اشکالات پیدا ہوتے ہیں، وہ تاریخِ دعوت کے اِس بنیادی مبحث کو نہ سمجھنے کے باعث پیدا ہوتے اور پھر جابجا ہمارا راستہ روکتے ہیں۔ لہٰذا کچھ حرج نہیں، اِس موضوع پر ابتدا میں ہی کچھ روشنی ڈال دی جائے۔

رسول اللہﷺ کے دنیا سے رحلت فرماتے ہی جزیرۂ عرب میں ارتداد کا ایک بہت بڑا سلسلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ کسی ایک آدھ علاقے یا ایک آدھ قبیلے تک محدود نہ تھا بلکہ پورا جزیرہ اس کی لپیٹ میں آگیا ہوا تھا۔ یہاں تک کہا جاتا ہے، مدینہ، مکہ، طائف اور بحرین کی ایک بستی جواثا کو چھوڑ کر؛ کوئی علاقہ جزیرۂ عرب میں ایسا نہ رہا جو فتنۂ ارتداد کی زد میں آنے سے بچا رہا ہو۔ بعض نے یہاں تک کہا کہ نماز (باجماعت) صرف تین مساجد تک رہ گئی تھی: حرمین شریفین اور علاء بن الحضرمی کی مسجد بحرین میں۔ بقول ام المؤمنین عائشہ﷞: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَزَلَ بِأَبِي بَكْرٍ مَا لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ لَهَاضَهَا, اشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ , وَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ (مصنَف ابن ابی شیبۃ، روایت نمبر 37055 http://goo.gl/wYmhA2 )۔ یعنی ’’نبیﷺ نے رحلت فرمائی تو ابوبکر﷛ پر ایسی افتاد آئی کہ وہ پہاڑوں پر آئی ہوتی تو ان کو توڑ کر رکھ دیتی۔ مدینہ میں نفاق نے سر اٹھا لیا اور عرب تو مرتد ہی ہو گیا‘‘۔ سمجھو حضرت ابو بکر﷛ نے ایک نئے سرے سے جزیرۂ عرب اسلام کو فتح کر کے دیا؛  اور اس مقصد کےلیے پورے جزیرۂ عرب میں ازسرنو ایک جہاد ہوا... باوجودیکہ نبیﷺ کی زندگی زندگی سارا جزیرۂ عرب اسلام کے زیرنگیں آگیا ہوا تھا۔

(ظاہر ہے یہ صالح اقتدار کی طاقت سے زیرنگیں لائے گئے ایک معاشرے کا ہی حال ہو سکتا ہے۔  اور اگر آپ کہنا چاہیں تو اوپر سے قابو کیا گیا ایک معاشرہ۔  حضرت عثمان﷛ سے منسوب ایک مشہور قول کہ لَمَا يَزَعُ السُّلْطَانُ النَّاسَ أشَدُّ مِمَّا يَزَعُهُمُ الْقُرآنُ (تاريخ المدينة لابن أبي شبة، ج 3 ص 988 یعنی ’’اقتدار لوگوں کو قرآن سے بھی بڑھ کر زیرِ اطاعت لے آتا ہے‘‘۔  یقیناً نبیﷺ کی تحریک میں اِس سماجی حقیقت کو بدرجۂ اتم بروئےکار لایا گیا تھا۔ بےبسی کی بات اور ہے، لیکن اس بات کو نظریاتی طور پر ہی نظرانداز کروانے کی فکر رائج کروانا کہ صاحب اصلاح تو بس نیچے سے ہوتی ہے، باعثِ حیرت ہے۔ اوریا  مقبول صاحب کا یہ سوال پس نہایت برمحل ہے کہ مجھے کوئی ایک معاشرہ دکھایا جائے جو بس نیچے سے بدل دیا گیا تھا)۔

اس غیرمعمولی اتدادِ عرب سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نبیﷺ کی رحلت کے وقت جزیرۂ عرب کس مقام پر کھڑا تھا۔ عربوں کی ایک بڑی تعداد اُس حالت پر تھی جس کا سورۃ الحجرات میں ذکر ہوا: قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ۔ چنانچہ رسول اللہﷺ کے دنیا سے رخصت ہوتے ہی بہت سے لوگ اسلام چھوڑ گئے۔ بہت سے اسلام پر رہے تو بھی اسلام کی اُس حالت پر نہیں جو اسلام کا مقصود تھا؛ اور جس پر صحابہؓ نے ابوبکر﷛ کی سرکردگی میں ایک بڑی محنت اور جانفشانی کے بعد عرب زندگی کو از سر نو بحال کرایا۔

*****

یہاں ہم اس سوال پر غور کرتے چلیں گے کہ جزیرۂ عرب میں اتنی تعداد کا اسلام سے پلٹ جانا، یا کم از کم اصل اسلام سے پلٹ جانا، اسلامی توسیع میں پائی جانے والی ایک غیرمعمولی ’’تیزرفتاری‘‘ کے حوالے سے ہمارے لیے کیا دلالت رکھتا ہے؟ نبیﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری سالوں میں جو عمل ایک غیر معمولی تیزی کے ساتھ انجام پایا، اُسے ہم اِس واقعہ ارتداد کی روشنی میں کیونکر سمجھیں گے؟

ظاہر ہے، ایک یوٹوپیا ذہنیت یہاں یہ سوال اٹھا سکتی ہے کہ یہ توسیعِ اسلام اگر اِس تیزترین صورت میں نہ ہوتی؛ یعنی اِس ’’توسیعی عمل‘‘ کو ’’تربیتی عمل‘‘ کے پیچھےپیچھے رکھا جاتا؛ جب تک ایک علاقے میں لوگوں کی خوب تربیت نہ کر لی جاتی تب تک کوئی نیا علاقہ فتح کرنے کےلیے آگے نہ بڑھا جاتا، تو ایسی خطرناک صورتحال کے یکلخت سامنے آجانے کی نوبت ہی نہ آتی! جبکہ یہاں تو معاملہ ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا تھا! ایسا خطرناک رِسک risk!

ادھر توسیعِ اسلام کی یہ تیزرفتاری ملاحظہ فرمائیے: ثقیف کے لوگوں نے اسلام قبول کرنے کےلیے یہ شرط رکھی کہ ان کو جہاد اور زکات سے چھوٹ دے دی جائے، تو نبیﷺ کی طرف سے ان کی یہ شرط قبول کر لی گئی، البتہ فرمایا: یہ اسلام قبول کرلیں، تو زکات بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ (سنن ابو داود 3025، صححہ الالبانی)۔ چھوٹ دینے کے ایسے ہی کچھ مزید واقعات بھی ہمیں حدیث و سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔

اِس توسیعِ اسلام میں پس ایک ’’برق رفتاری‘‘ اور معاشرے کو مجموعی طور پر ہی اسلام کے زیرنگیں لے آنا، اور بقیہ اشیاء اقتدار کے زیرتاثیر ان کے نفوس میں اتارنے ’وقت‘ اور ’ماحول‘ کے فیکٹر کےلیے رکھ دینا ایک حکمت عملی کے طور پر یقیناً نظر آتی ہے۔ پھر ’وقت‘ اور ’ماحول‘ کے اِس فیکٹر نے، جو ظاہر ہے ’’اقتدار‘‘ پر ہی بنا کرتا تھا، اپنے حصے کا کام کر کے دکھا بھی دیا۔

یوٹوپیا ذہن میں یہاں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ شروع سالوں میں کوالٹی quality پر جو زور رہا وہ آخری سالوں میں کوانٹٹی quantity  پر کیوں چلا گیا؟!

یقیناً اللہ کے رسولﷺ نے جو کیا وہ وحی کی راہنمائی میں کیا۔ لہٰذا اس پر ہمیں معاذاللہ کوئی سوال نہیں اٹھانا؛ صرف اِس واقعہ کے پیچھے کارفرما حکمتیں تلاش کرنی ہیں۔

حدیبیہ، جسے قرآن مجید میں ’’فتحِ مبین‘‘ کہا گیا ہے، رسول اللہﷺ کی تحریکی مساعی اور توسیع اسلام میں ایک یکسر نیا موڑturning point   گنا جاتا ہے۔اس واقعہ کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ کی نظر جزیرۂ عرب سے گزر کر روم اور فارس پر جا ٹکی تھی؛ اور وہ بھی اِس پہلو سے کہ یہ وقت کی سپر طاقتیں تھیں۔ بےشک پورا جزیرۂ عرب ابھی مفتوح ہونے سے پڑا تھا؛ مگر اسلامی قلمرو کو ایک عظیم ایمپائر میں ڈھال دینے کے خدوخال رسول اللہﷺ کی اپنی پیش قدمی میں دن بدن نمایاں ہونے لگے تھے۔ پچھلی تمام رسالتوں کے برعکس؛ یہ ایک عالمی رسالت ہے اور اس کو بوجوہ پچھلی امتوں سے مختلف ہونا؛ اور جلد از جلد ایک عالمی فنامنا global phenomenon کے طور پر سامنے آنا تھا۔ لہٰذا؛ اسے کم از کم بھی روم اور فارس کی ٹکر کی ایک قوت کے طور پر پیش کر جانا ہمیں رسول اللہﷺ کے آخری سالوں کی حکمت عملی میں خاصا نمایاں نظر آتا ہے۔

یوں بھی؛ اگر ہم پر وہ ’’سطح‘‘ واضح ہے جو اسلام کو انسانی زندگی میں روپزیر کرانے کےلیے مطلوب ہے... تو یہ ’’کوالٹی‘‘ ایک مخصوص ’’کوانٹٹی‘‘ کو پہنچے بغیر روپزیر ہی نہیں ہوتی۔ یہ اسلام اگر محض کچھ ’انفرادی اعمال‘ کا نام ہے پھر تو یوٹوپیا حضرات کی بات میں ضرور کچھ وزن ہے کہ کیوں نہ ایک علاقے کے لوگوں پر پوری محنت کر لینے کےبعد ہی ایک نئے علاقے کو ہاتھ لگایا جائے؛ اگرچہ یہ محنت کتنا ہی وقت لے؛ آخر جلدی کس بات کی! لیکن اگر اسلام کچھ ’انفرادی اعمال‘ سے بڑی ایک حقیقت ہے... تو جب تک وہ اپنے اردگرد شرک کی بعض بڑی بڑی ایمپائرز کو تہ خاک نہ کردے اور زندگی کا دھارا ایک بہت بڑی سطح پر خدائے واحد کی اطاعت کے رخ پر پھیر نہ دے تب تک ’افراد‘ کا خدا کی اطاعت کر لینا بھی وہ معنیٰ اور تاثیر نہیں رکھتا جو اِس دین اور اِس رسالت کو ان کی ’’عبادت‘‘ سے مطلوب ہے۔ تب تلک ’افراد‘ کا خدا کی عبادت کرنا بھی ایک بہت ہی نحیف و لاغر مفہوم رکھے گا۔ اور یہ تو معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ اور صحابہ﷢ اِس دین کو جس مفہوم اور جس مزاج پر چھوڑ جائیں گے وہی قیامت تک اِس دین کا صحیح مفہوم اور صحیح مزاج باور ہوتا رہے گا۔

لہٰذا ایک عزت اور تمکنت رکھنے والا اسلام جو اپنے آس پاس شرک کی کسی ایمپائر کو برداشت نہیں کرتا، جو زندگی کے پورے دھارے کو خدا کی عبادت اور اطاعت میں دینے پر یقین رکھتا ہے، اور جو خدا کی عبادت اور اطاعت پر قائم خود ایک بہت بڑی ایمپائر ہے، جس کی نظر مشرق تا مغرب زمین کے ہر افق پر ہے... ایک ایسا عزت اور تمکنت رکھنے والا اسلام اپنے پیچھے چھوڑ کر جانابجائےخود ایک ’’کوالٹی‘‘ کا مسئلہ تھا نہ کہ ’کوانٹٹی‘ کا۔

*****

اس مسئلہ پر تفصیلی بات ہم کسی اور مقام پر کریں گے.. رسول اللہﷺ کے دعوتی عمل میں ہمیں ایک نُخبہ (ایلیٹ elite) اور عوام (public) کے مابین فرق کرنا بہت نمایاں نظر آتا ہے۔ مہاجرین و انصار ایک چنیدہ جمعیت تھی، یعنی ایلیٹ۔ (نُخبَۃ)۔ یہ جزیرۂ عرب میں اسلام کا پرچم اٹھا کر کھڑی ہوئی جماعت تھی۔ اِن کی تربیت میں البتہ کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھا گیا تھا۔ اِن کےلیے معیار بھی بےحد سخت تھے۔ اِن پر آپﷺ کا مان بھی بہت تھا۔ آخری سالوں میں جو برق رفتار توسیع ہونے لگی تھی وہ بھی یوں بےقاعدہ نہ ہو رہی تھی۔ وہ توسیع بھی بہت حساب رکھ کر ہو رہی تھی۔ یہ برق رفتار توسیع اس نسبت تناسب سے تھی کہ اس کے بگڑے سے بگڑے حالات کو بھی ’’مہاجرین و انصار‘‘ کی وہ ایلیٹ ان شاءاللہ سنبھال ضرور لے گی۔

ایک حدیث میں تو عامۃ الناس کو ’’اعراب المسلمین‘‘ کی ایک کیٹگری کے طور پر لینے کی طرف واضح اشارہ کیا گیا ہے:

وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ – أَوْ خِلَالٍ – فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ، سفَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَقَاتِلْهُمْ (صحيح مسلم، عن بريدة رضي الله عنه، رقم الحديث 1731)

اور جب مشرک دشمنوں سے تمہارا آمناسامنا ہو، تو ان کے سامنے تین باتیں رکھو، ان میں سے وہ جس کو بھی مان لیں تم ان سے وہی قبول کر لو، اور ان پر ہاتھ اٹھانے سے باز رہو۔ تم ان کو اسلام کی طرف بلاؤ۔ اگر وہ اسے قبول کرنا مان لیں، تو تم ان سے یہ قبول کرلو اور ان پر ہاتھ اٹھانے سے گریز کرو۔ پھر ان کو اس بات کی طرف بلاؤ کہ وہ اپنی سرزمین چھوڑ کر سرزمینِ ہجرت کی طرف نقل مکانی کر آئیں۔ اور ان کو بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کر لیں تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہوتے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو مہاجرین پر عائد ہوتی ہیں۔ اگر وہ اپنی سرزمین سے نقل مکان ہوجانے سے انکاری ہوں تو ان کو بتاؤ کہ تب ان کا معاملہ اَعراب المسلمین والا ہو گا، ان پر اللہ کا وہی حکم لاگو ہو گا جو (عام) مومنوں پر لاگو ہوتا ہے، ان کو غنیمت اور فےء میں سے کچھ نہ ملے گا الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کرنے والے ہوں۔ اگر وہ اس (پہلی بات) کو قبول نہ کریں تو ان سے جزیہ طلب کرو۔ اگر وہ تمہاری یہ بات قبول کرلیں تو تم ان سے یہ قبول کر لو اور ان سے ہاتھ روک رکھو۔ ہاں اگر وہ اس سے بھی انکاری ہوں تو اللہ سے مدد مانگتے ہوئے ان کے ساتھ عازمِ قتال ہو جاؤ۔

پس یہاں ’’مہاجرین‘‘[1]   ایک کیٹگری ہے جو جہاد کرتی اور باطل کے قلعے لرزاتی ہے۔ غنیمت اور فےء کے اموال پر صرف انہی کا حق ہے۔ معاشرے کی قیادت اِسی کے ہاتھ میں ہے۔ اور دوسری ’’اعراب المسلمین‘‘ کی کیٹگری ہے جن پر اسلام کے عمومی احکام لاگو ہوتے ہیں۔ یہ وہ کیٹگری ہے جو ’’ہجرت‘‘ اور ’’جہاد‘‘ تک نہیں جاتی، مگر ہے مسلمان۔[2]  ایک بڑی تعداد ایسے ہی لوگوں کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ الحجرات میں ’’اعراب المسلمین‘‘ کو ’’اپ گریڈ‘‘ ہونے یعنی حقیقی ایمان کی راہ بھی دکھائی گئی؛ کہ اسلام کا اصل معیار بس یہی ہے:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ

حقیقی مومن تو صرف وہ ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر، پھر کسی شک شبہے میں نہ پڑے، اور جہاد کرنے لگے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔ یہ ہیں (ایمان کے) سچے۔

ہاں ان اعراب میں سے جو چنیدہ لوگ مہاجرین و انصار میں جا ملنا قبول کرلیتے، وہ اس فکری، نظریاتی، تہذیبی، ایمانی ایلیٹ میں شامل ہو جاتے جو عام معاشرے کےلیے ائمہ کی حیثیت رکھتی۔ ایک شدید محنت کے نتیجے میں، ہر مفتوحہ علاقے سے اعلیٰ ترین دانے اس ایلیٹ میں شامل کر لیے جاتے جو پھر ہمہ وقت رسول اللہﷺ کے ہم رکاب رہتے؛ جہاں ایک مسلسل عمل کی صورت یہ ہیرے تراشے جاتے؛ اور آخر یہ اپنی اپنی قوم کےلیے تعلیم اور اسوہ کا ذریعہ بنتے؛ اور گھپ اندھیرے میں مشعل کا کام دینے لگتے:

فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ                                                                                            (التوبۃ: 122)

کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے، جو دین کی سمجھ حاصل کریں، اور واپس آکر اپنی قوم کو خبردار کریں تاکہ وہ بھی ڈرنے لگیں۔

یوں ہم دیکھتے ہیں رسول اللہﷺ اور خلفاء کے ہاتھوں انجام پانے والا اسلامی عمل:

ý         ایک جانب تیزرفتار بھی اتنا ہے کہ بادئ النظر اس میں بہت بڑےبڑے رِسک risk لیے گئے معلوم ہوتے ہیں۔بظاہر یہاں تک دکھائی دیتا ہے گویا ہر حال میں ’’توسیع‘‘ کرنا مطلوب ہے! مگر جیساکہ ہم نے پیچھے کہا، یہ بھی باقاعدہ مطلوب ہے اگرچہ یوٹوپیا ذہن کو یہ کچھ اوپرا ہی لگے۔ اسلام کے اپنی حقیقت اور مزاج کو برقرار رکھنے کے حق میں یہ چیز بھی مطلوب ہے۔ جس کےلیے ضروری ہے، ’’عوام الناس‘‘ کے آگے ابتداءً اسلام کے کچھ موٹےموٹے ہی تقاضے رکھے جائیں؛ تاکہ معاشرے کی زیادہ سے زیادہ زمین ایک بار اسلام کے ہاتھ میں آجائے اور اسلام خاصی مستحکم پوزیشن میں آکر، پوری تمکنت اور مقدرت کے ساتھ ان کے ذہنی سانچوں اور ان کی زندگی کے معیارات کی تشکیل کرے؛ اور ان کےلیے سماجی رجحانات کی تخلیق کرے۔

ý         دوسری جانب یہ نہایت گہرا اور بلندوبالا چوٹیاں سر کرنے والا ایک عمل ہے۔ ایک ایسی جمعیت جس کی سیرت اور کردار رشکِ خلائق ہوتی ہے اور جوکہ وسیع تر معاشرے کے حق میں ایک ایسے اسوہ اور نمونہ  کی صورت پیش کرتی ہے؛ کہ تھوڑے ہی وقت کے اندر یہ ان معاشروں کی بھی کایا پلٹ کر رکھ دیتی ہے۔

ý         تیسری جانب، یہ تقسیم فطری اس قدر ہے کہ:

Ü      نہ انسانی کمزوریوں کو یہاں ایک لحظہ نظرانداز کیا گیا ہوتا ہے۔ اور

Ü      نہ انسانی صلاحیتوں کو ایک ذرہ ضائع ہونے دیا گیا ہوتا ہے۔

Ü      معاشروں کو سر تا پیر بدل جانے کےلیے طبعی انداز میں جو ایک وقت درکار ہوتا ہے وہ بھی یہاں دے دیا جاتا ہے، اور

Ü      معاشرے کو لے کر چلنے اور اس میں تبدیلی برپا کرنے والوں کی تولید reproduction  میں بھی کوئی ڈھیل نہیں برتی جاتی۔

یہ دونوں کام بیک وقت انجام پاتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو پہلے اور دوسرے کو بعد میں انجام دینے سے؛ کوئی ایک بھی انجام نہیں پاتا!

ہاں ’’بنیادی جمعیت‘‘ کی تیاری البتہ ابتداء میں کچھ وقت لگا کر، پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ کرنا ہوتی ہے۔ یہ کام ہم دیکھتے ہیں، رسول اللہﷺ نے نبوت کے ابتدائی سالوں میں پوری محنت، توجہ اور وقت صرف کرکے انجام دیا۔ جن لوگوں کو ابتدائی سالوں اور اختتامی سالوں کے مابین یہ فرق اس طرح نظر آتا ہے گویا توجہ کا محور ’’کوالٹی‘‘ سے ’’کوانٹٹی‘‘ پر شفٹ کر گیا... ان کی نظر سے اقامتِ دین کی یہ بنیادی حقیقت ہی دراصل اوجھل ہے۔ ابتدائی سالوں میں ’’بنیادی جمعیت‘‘ کی تیاری عمل میں لائی جا رہی تھی۔ بعد کے سالوں میں یہ بنیادی جمعیت میدان میں اتر آئی اور اس کے ذریعے معاشرے کو ہاتھ میں لینے کا عمل شروع ہو گیا تھا؛ لہٰذا وہ خدشے اب غیرضروری ٹھہرے جو ابتداء میں لازماً مدنظر ہوتے ہیں؛ اور جوکہ بعد میں بھی ’’عَلم تھام رکھنے والوں‘‘ کے حق میں مدنظر ہی رکھے جاتے ہیں۔ اِس ’’بنیادی جمعیت‘‘ نے بعدازاں کیسےکیسے کارنامے سرانجام دیے، یہاں تک کہ کچھ غیرمعمولی بحرانوں کے وقت کیسی کیسی قربانیاں اور کیسے کیسے ’’کومپرومائز‘‘ compromise کر کے اسلامی عمل کی حفاظت کی اور انسانی بستیوں کو خدائے واحد کی عبادت کے بندھن میں باندھ کر رکھا، یہ چیز جاننے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

*****

موحدین کے ’’عامۃ الناس‘‘ اور ’’ایمانی ایلیٹ‘‘ کے مابین یہ جو فرق ہوا... یہی، بعدازاں ’’فرقہ ناجیہ‘‘ اور ’’طائفہ منصورہ‘‘ کے مابین فارِق divider  بنا۔ یعنی

Ü      اول الذکر معاشرے کا وہ عام عنصر جو اپنے عقیدہ و عمل میں گمراہیوں اور ضلالتوں سے بچا ہوا اور باطل کی اتباع سے بریء و بیزار کرا رکھا گیا ہے۔

Ü      جبکہ ثانی الذکر وہ خاص باصلاحیت عنصر جو باطل سے الجھتا، شرک پر جھپٹتا، بدعات کی سرکوبی کرتا، دین کےلیے قربانیاں پیش کرتا، منصوبے تشکیل دیتا اور اقامتِ حق کا علم تھام کر رکھتا ہے۔ ہجرت و نصرت اور جہاد کرتا ہے۔

’’مہاجرین و انصار‘‘ اس دوسری صنف کے سرخیل تھے۔ اسلام کی سب ترقی و سرفرازی اِس مٹھی بھر جمعیت کے ہاتھوں ہوئی۔ اِس خصوصی جمعیت کا تسلسل بعدازاں طائفہ منصورہ کی صورت برسر عمل رہا۔ اس طائفہ کے دو خصوصی وصف ہوئے: علم اور جہاد۔ علم یعنی حق کا اِحقاق اور جہاد یعنی حق کی نصرت و تمکین۔ ایک بڑی تعداد ایسی تھی جو علم اور جہاد ہردو معاملہ میں مردِ میدان ہوئی۔ پھر ایک تعداد ایسی تھی جو علم کی امامت کرتی رہی اور ایک تعداد وہ جو جہاد کے معرکے لڑتی رہی۔ برے سے برے بادشاہوں کے وقت بھی یہ طائفہ بڑی بڑی اچھی سطح پر اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ ہمارا مطالعۂ تاریخ، مختلف ادوار میں مسلم معاشرے کے عروج و زوال کے ذمہ دار اِس خصوصی ’’کردار‘‘ کو تلاش کرتا رہے گا۔

 

 



[1]    صرف ’’مہاجرین‘‘  کا ذکر اس لیے ہوا کہ ’’انصار‘‘ دارالہجرت کے مقامی لوگ ہی ہو سکتے تھے۔ عام لوگوں کو دعوت ’’مہاجرین‘‘ میں شامل ہونے کی ہی دی جاسکتی تھی۔ البتہ یہ کیٹگری ایک ہے، ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر سورۃ الحشر میں بھی آیا ہے اور سورۃ التوبۃ میں بھی۔

[2]    اِس ’’اَعراب المسلمین‘‘ کو، جن کا کچھ ذکر سورۃ الحجرات کے آخر میں بھی ہے، ’’منافقین‘‘ کے ساتھ خلط کرنا درست نہیں۔ منافقین تو وہ لوگ تھے جو باطن میں کفر کی روش پر اور درپردہ کفار کے ساتھی تھے؛ محض ایمان کا لبادہ اوڑھ رکھے ہوئے تھے۔ جبکہ یہ اَعراب لوگ وہ تھے جو اسلام میں نووارد تھے؛ بہت سے سماجی عوامل کے زیرتاثیر اسلام میں داخل ہوگئے تھے، البتہ اسلام کی حقیقت میں ابھی گہرے اتر پائے تھے اور نہ اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے کی سطح کو پہنچے تھے۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز