عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Wednesday, December 12,2018 | 1440, رَبيع الثاني 4
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2016-07 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
کیا تکفیری طے کریں گے مرجئہ کون ہیں؟
:عنوان

موجودہ دور میں سامنے آنے والے شدت پسند بیانیہ کی سب سے عجیب بات یہی ہے کہ یہ عالم اسلام کے ہر ملک میں علماء کی مین اسٹریم کو ہی مرجئہ سے موسوم کرنے لگے۔ یعنی وہ علماء جنہوں نے اِن کا علمی محاکمہ کرنا تھا وہی ہی سب سے پہلے ان کے کٹہرے میں لا کھڑے کیےگئے!

. باطلفرقے :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

کیا تکفیری طے کریں گے

مرجئہ کون ہیں؟

مضامین

2009؁ء کے شروع میں، ایقاظ میں ایک مضمون دیا گیا تھا ’’کیا مرجئہ طے کریں گے تکفیری کون ہیں‘‘۔ اس سے چھ آٹھ ماہ بعد ایک معزز قاری کی جانب سے ہمیں اپنے اُس مضمون پر چند اعتراضات موصول ہوئے، جن کا جائزہ لینے کےلیے 2009؁ء کے آخری شمارہ میں ’’کیا مرجئہ طے کریں گے تکفیری کون ہیں 2‘‘ کے زیر عنوان ایک مضمون دیا گیا۔ چنانچہ دوسرا مضمون ازالۂ اعتراضات کی خاطر آیا۔ البتہ پہلے مضمون کا پس منظر بیان ہو جانا اُس کا سیاق واضح ہوجانے کےلیے ضروری ہے:

مسلم ملکوں میں ’شریعت‘ کے نام پر ماردھاڑ اور خونریزی کا جو ایک بازار گرم ہے، اس کا سدباب ایقاظ کی تحریروں میں اُس وقت سے ہو رہا ہے جب کم از کم ہمارے ملک پاکستان میں ’شریعت‘ کے نام پر ابھی کسی مسلح حرکت کا نام و نشان نہ تھا۔ اس ’مسلح‘ فکر کا آغاز چونکہ مصر سے ہوا، اور مصر وہ ملک ہے جہاں سے اٹھنے والے افکار و رجحانات بالعموم عالم اسلام میں مقبولیت پا لیتے رہے ہیں،  لہٰذا ایک فکری مجلہ ہونے کے ناطے ہم نے مصر کی ایک علمی شخصیت اور وقت کے ایک عظیم فکری نام محمد قطب کی تحریرات اس خونریزی منہج کے رد پر ایقاظ شروع ہونے کے دوسرے ہی سال (2002؁ء) سے دینا شروع کر دی تھیں۔اور ہماری خواہش تھی کہ ایسے کسی فتنہ کے خدانخواستہ اِس ملک میں قدم رکھنے سے پہلے ہی یہاں کی فکری دنیا میں اس سے متعلق ایک شعوری آگہی فراہم کر دی جائے۔ محمد قطب کی ان تحریروں میں مصری نوجوانوں کے مابین تکفیر (مسلمانوں کے مختلف طبقوں کو اسلام سے خارج ٹھہرانے) ایسے رجحانات پر بھی تنبیہ ہوئی تھی اور یہ واضح کیا گیا تھا کہ یہاں ہمارا کام اور منصب لوگوں کو اسلام کی طرف بلانا ہے نہ کہ اسلام سے خارج ٹھہرانا۔ ہمارے کرنے کا کام یہاں لوگوں پر کفر اور شرک کی حقیقت واضح کرنا اور ایسے خطرناک گڑھوں میں جاپڑنے سے ان کو خبردار کرنا ہے نہ کہ لوگوں کو بالفعل کافر و مشرک ٹھہرانے چل دینا۔ ایقاظ کے ابتدائی سالوں میں شائع ہونے والی یہ تحریرات بعدازاں ’’دعوت کا منہج کیا ہو؟‘‘ کے زیرعنوان کتابی شکل میں بھی شائع ہوئیں اور یہ تالیف کتب خانوں پربرابر  دستیاب رہی۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ عمومیات کی حد تک تھا۔ عملاً یہ چیز یہاں پر پائی ہی نہ گئی تھی، لہٰذا مخصوص طور پر ان چیزوں کا رد کرنا یہاں اُس وقت کے حساب سے غیرضروری تھا۔

جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے، تو ریاست کے ساتھ تصادم کا آغاز یہاں ایک طرح سے لال مسجد واقعے کے ساتھ ہوا، یعنی 2007؁ء کے وسط میں۔ اور 2008؁ء تک یہ فتنہ ملک میں اچھاخاصا زور پکڑ  چکا تھا۔ نوٹ کرنے کی بات یہ ہے،  لال مسجد والوں کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لینے کے واقعات تو مبینہ طور پر پیش آئے اور ریاست کے مقابلے پر ہتھیاراٹھائے گئے بھی ان کے ہاں تصویروں میں دیکھے گئے، تاہم ’’تکفیر‘‘ (یعنی لوگوں کو کافر کہنا) وغیرہ ایسے مباحث لال مسجد والوں کی زبان پر بھی کم از کم اُس وقت تک (2007؁ء) ہمارے دیکھنےسننے میں نہیں آئے۔ اس کے بعد بھی کچھ عرصہ یوں گزرا کہ ماردھاڑ کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کی جانب سے تکفیر (لوگوں کو کافر بنانے) وغیرہ سے متعلقہ کوئی قابل ذکر اقوال سامنے نہیں آئے۔ کم از کم  2008؁ء تک ہمارے سننےپڑھنے میں ایسی چیزیں نہیں گزریں۔ ہمارا اپنا تجزیہ یہ ہے کہ ’’تکفیر‘‘ کا وہ خاص ڈسکورس جو مصر سے ’’ترجمہ‘‘ ہو کر یہاں پہنچا 2008؁ء تک بھی نہ تو لال مسجد والوں کے بیان میں  سنا گیا اور نہ شمالی علاقوں میں اٹھنے والی شدت پسند آوازوں میں۔ شاید انہیں اس تک ابھی رسائی بھی نہ ہوئی تھی۔ یہاں علم اور علماء سے کٹی ہوئی محض ایک جذباتی اور انتقامی انداز کی ایک رَو تھی، البتہ کسی ’فکری محنت‘ indoctrination   کے تانےبانے ابھی اس کے اندر نظر نہ آتے تھے۔ کم از کم ظاہر یہی تھا۔ دونوں کا مرکزی خیال ’’ریاست کے ساتھ تصادم‘‘ کے گرد گھومتا تھا۔ تکفیر (حکمرانوں یا اداروں کو کافر ٹھہرانا) ان لوگوں کے یہاں ایک باقاعدہ نظریے کے طور پر ذرا دیر بعد دیکھنے میں آیا۔ ایقاظ میں بھی وہ تمام عرصہ اس خونریزی کے رد پر ہی تحریریں آتی رہیں:

2007؁ء میں ہی ہماری تالیف ’’رو بہ زوال امیریکن ایمپائر‘‘ منظرعام پر آئی، جس کے بہت سے اجزاء ایقاظ میں بھی شائع ہوئے۔ اس کے اقتباسات شاید کئی دوسرے مجلات نے بھی شائع کیے۔ ہماری یہ تالیف جہاں افغانستان و عراق وغیرہ پر صلیبی یلغار کے خلاف ایک فکری مزاحمت تھی وہاں مختلف زاویوں سے مسلم ملکوں میں شروع ہو چکی عسکریت پسندی کے راستے میں کچھ فکری بند باندھنے کی بھی ایک کوشش تھی (ہم ایک فکری مجلہ ہیں؛ لہٰذا ایک فکری بند ہی باندھ سکتے تھے؛ عملی بند باندھنا اُن قیادتوں کا کام ہو سکتا تھا جو لوگوں پر ایک براہِ راست تاثیر رکھتی ہیں)۔ نیز (اپنی اُس تحریر میں) ہم نے اس بات پر زور دیا تھا کہ عالم اسلام پر امریکی حملہ آوروں کا راستہ روکنے کی صحیح صورت یہ ہے کہ  مسلمان اپنی ہر ضرب (افغانستان اور عراق وغیرہ ایسے ملکوں میں) ان بیرونی حملہ آوروں پر ہی مرکوز کیے رکھیں اور اس ایک ہدف سے ایک انچ اِدھراُدھر نہ ہٹیں، خواہ اس کےلیے کتنا ہی جال (bate)   آپ کے آگے پھینکا جائے؛اور اُن کے پھینکے ہوئے اِس جال میں نہ آنے کےلیے خواہ کتنا ہی آپ کو صبروبرداشت سے کام کیوں نہ لینا پڑے، مگر آپ کو صبر ہی کرنا ہو گا۔ (کیونکہ امریکیوں کی کوشش ہی یہ تھی کہ وہ اس جنگ کو ’اپنی‘ بجائے کسی ’اور‘ کی جنگ بنا  دیں اور پھر یہاں پیسہ و اسلحہ پھینک کر تماشا دیکھنے والا ‘monitoring’    فریق بن جائیں، جوکہ دنیا میں اُن کا من پسند مشغلہ ہے۔ لہٰذا ان حملہ آوروں کو ناکام کرنے کی واحد صورت یہ تھی کہ وہ مسلم مزاحمت کار جو واقعتاً صلیبی حملہ آور افواج ہی کو مسلم سرزمینوں سے نکالنے پر کمربستہ ہیں، ہرگزہرگز اُن صلیبی حملہ آوروں کو چھوڑ کر کسی ’ٹرک‘ کی بتی کے پیچھے نہ لگیں)۔ غرض جہاد کی اُسی معلوم معروف صورت پر رہیں جو اس سے پہلے کشمیر اور فلسطین وغیرہ میں مسلم مقبوضہ جات کی خلاصی کےلیے بڑے عشروں سے مسلمانوں کے یہاں جانی پہچانی رہی ہے۔ تالیف میں ہم نے خصوصی طور پر متنبہ کیا تھا کہ یہاں کوئی طبقہ ’جہاد‘ کے نام پر کسی ایسی چیز کی رِیت نہ ڈالے جس پر اعلیٰ سطح کے علمائے اسلام high level scholarship of the Muslim world   کی جانب سے نہ صرف کبھی صاد نہیں ہوا بلکہ وہ ان (عالم اسلام کے علمائےکبار) کے ہاں واضح واضح ردّ ہے۔ ایقاظ کے اُسی خصوصی شمارہ میں ایک عرب شخصیت (عبد المنعم ابو حلیمہ) کا مضمون بھی دیا گیاجو اُس وقت تک تنظیم القاعدہ کے یہاں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی اور بعدازاں القاعدہ کے ایک بڑے ناقد کے طور پر سامنے آئی [کیونکہ 2007؁ء تک القاعدہ کے یہاں مسلم ملکوں کے اندر داخلی محاذ نہیں کھولا گیا تھا، اور اس کا یہ پرانا تاثر earlier image   (صرف امریکہ کے  خلاف محاذآرا ہونا) ہی بہت سے اذہان پر ایک عرصہ تک باقی رہا]۔ عبدالمنعم ابوحلیمہ کے اس مضمون میں (جو انٹرنیٹ سے حاصل کرکے ایقاظ کے اُس خصوصی شمارہ میں اردو خلاصہ کر کے دیا گیا تھا، اور خاص ان کے نام سے اس لیے دیا گیا کہ اس طبقہ میں تب ان کا ایک خصوصی احترام تھا لہٰذا ان کی تنبیہ و نصیحت کا ان نوجوانوں پر اثر ہونے کا امکان زیادہ تھا)... عبدالمنعم ابوحلیمہ کے اس مضمون میں مسلم نوجوانوں کو اس بات سے شدید تنبیہ ہوئی تھی کہ اگر وہ پاکستان میں عسکریت پسندی کی طرح ڈالتے ہیں تو معاصر جہاد کی تاریخ میں یہ ایک تباہ کن غلطی ہو گی۔ نیز ان کو تاکید ہوئی تھی کہ وہ ان نئے راستوں پر چلنے کی بجائے شیخ عبداللہ عزام﷫ کی چھوڑی ہوئی راہ پر رہیں جنہوں نے مجاہدین کی ہر ضرب پوری ترکیز کے ساتھ روس پر ہی لگوائی اور وہ بھی افغانستان میں ہی؛ اور اس ایک ہدف اور ایک میدان سے ان کی توجہ کسی طرف ہٹنے نہیں دی۔ یہاں تک کہ روس کے پاکستان میں سفارتخانے کو بھی کبھی ہدف نہ بننے دیا کیونکہ اس سے مجاہدین یہاں پاکستانی حکومت اور عوام کا اعتماد کھو بیٹھتے، جو ایک فاش غلطی ہوتی۔ نیز انہیں نصیحت کی گئی تھی کہ احمد یاسین﷫ کے چھوڑے ہوئے راستے پر رہیں جنہوں نے یہود کے ساتھ اپنی جنگ کو ارضِ فلسطین سے باہر کبھی نہ نکلنے دیا باوجود اس کے کہ یہودی صیہونیوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے کو امریکی سرزمین میں بھی کی جا سکتی تھی مگر ایسا کرنے سے فلسطینی مجاہدین دنیا میں اپنے بہت سے خیرخواہوں کا اعتماد کھو بیٹھتے اور اپنے بہت سے راستے اپنے اوپر تنگ کر لیتے، جس کا فائدہ ان کا دشمن اٹھاتا۔

غرض 2008؁ء تک یہی تصویر سامنے آئی تھی۔ اور اسی کے مطابق ہم نے یہاں پر درکار فکری راہنمائی کے سلسلہ میں اپنا ناچیز حصہ ڈالنے کی کوشش کی۔

تاآنکہ 2008؁ء کے اواخر تک ’تکفیر‘ (لوگوں/اداروں وغیرہ کو کافر ٹھہرانے) اور اس کا ’جوابی بیانیہ‘ یہاں کے ابلاغیاتی افق پر ایک ساتھ نمودار ہونے لگے۔  حق یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں تیار حالت میں ready-made   باہر سے امپورٹ ہوئی تھیں۔ نہ ’’تکفیری بیانیہ‘‘ یہاں کی مقامی ایجاد تھی اور نہ اس کا ’’جوابی بیانیہ‘‘۔ دونوں ’کہیں اور‘ سے ہمارے لیے درآمد کیے جا رہے تھے۔

دونوں بیانیوں کا موضوع ظاہر ہے ’’تکفیر‘‘ تھا۔ یا یوں کہیے اول الذکر کا موضوع ’’تکفیر‘‘ تھا اور ثانی الذکر کا موضوع ’’تکفیری‘‘۔ یہ دونوں ہمیں تہس نہس کر ڈالنے والے بیانیے تھے۔  نہ اُس میں ہمارے لیے کوئی خیر تھی اور نہ اِس میں۔ (وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات ضرور آپ پر کھل جائے گی، اگر اب تک کھل نہیں چکی)۔ غرض موضوع اُس وقت تک یہی دو تھے۔ چنانچہ ہمارے جنوری تا مارچ 2009؁ء کے شمارہ میں ان دونوں کو بیک وقت موضوع بنایا گیا۔ ’’تکفیری بیانیہ‘‘ بھی اُس ایک ہی شمارہ میں ہمارے زیربحث آیا اور اس کا ’’جوابی بیانیہ‘‘ بھی:

1)       ’’تکفیری بیانیہ‘‘ کی نقاب کشائی کےلیے ہم نے اس گمراہ فکر کی اصل خالق مصر کی جماعۃ التکفیر والہجرۃ پر ایک مضمون دیا۔ یہ مضمون بعض عرب اہل علم کی جانب سے دورِحاضر کے گمراہ افکار و فرقہ جات پر تیارکردہ ایک انسائیکلوپیڈیا ’’الموسوعۃ الـمُیَسَّرَۃ فی الأدیان والمذاھب والأحزاب المعاصرۃ‘‘ سے ایک فصل تھی جو اردو استفادہ کی صورت ایقاظ میں پیش ہوئی تھی، اور باقاعدہ حوالہ کے ساتھ۔ اس سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ اس رُوٹ پر چل کر لوگ اس نوبت کو جا پہنچتے رہے ہیں؛ لہٰذا اس کو شروع کرنے سے ہی خبردار رہا جائے۔ نیز یہ کہ خرانٹ ’جوابی بیانیہ‘ تو باری باری یہاں ہر کسی کو تکفیری قرار دینے چل پڑے گا، یوں بھی ہمارے اِس ماحول کےلیے یہ لفظ ہی ایک نیا ہے جس کا صحیح اطلاق بھی لوگوں کو معلوم نہیں کہ یہ کس پر بولا جائے، البتہ وہ آزاد عرب علمائے سنت (جو سلاطین کے زیراثر نہیں) ’تکفیری‘ کا لفظ بنیادی طور پر انہی طبقوں کےلیے بولتے ہیں جو ’’الموسوعۃ الـمُیَسَّرَۃ‘‘ میں محوَّلہ جماعۃ التکفیر والہجرۃ ایسی فکر پر یا اس کے کچھ قریب ہو۔

2)       ’تکفیر‘ کا ’جوابی بیانیہ‘ جو ہمیں بی بی سی نے بہت بروقت پڑھانا شروع کر دیا تھا، اور اس کے ساتھ میں این جی اوز، پھر یہاں کے جدت پسند، نیز عرب ملکوں میں جملہ اسلامی تحریکوں کی شدیدترین مخالفت میں سامنے آنے والی اور ان میں سے ایک ایک کو ’تکفیری‘ ٹھہرانے والی ایک فکری رَو جو کہیں پر ’مدخلی‘ کے نام سے معروف رہی ہے تو کہیں پر ’جامی‘ کے نام سے، اور جس کے لوگوں نے بڑے عرصے سے برصغیر پاک و ہند میں دیوبندیوں سے لے کر جماعتِ اسلامی، ذاکر نائیک، تنظیم اسلامی، تبلیغی جماعت، جماعۃ الدعوۃ اور نہ جانے کس کس کے خلاف فتویٰ کا بازار گرم کر رکھا تھا، ہر ایک کو ’منہجِ سلف سے منحرف‘ اور ’ولی الامر کی بیعت میں نہ رہنے‘ کی بنیاد پر گمراہ ٹھہرا رکھا تھا [اور یہ (مدخلی/جامی) واحد گروہ تھا جس نے جملہ اسلامی تحریکوں کے خلاف کچھ تحریری محنت کر رکھی اور ان میں سے ایک ایک کو ’تکفیری‘ کے خانے میں ڈالنے کے ’دلائل‘ تیار حالت میں مہیا کر رکھے تھے، تاکہ جس بھی ملک میں ’تکفیری بیانیہ‘ سے پریشان ہو کر لوگ بھاگیں تو آگے انہیں مدخلی/جامی بیانیہ دستیاب ملے (جہاں وہ ’تیار‘ دلائل سے استفادہ کریں!) یہ مدخلی/جامی بیانیہ ایک بار امپورٹ ہو جائے تو اصل ’خرابی کی جڑ‘ خودبخود وہ اسلامی جماعتیں نظر آنے لگیں گی جن کا مدعا کسی نہ کسی انداز میں یہ ہے کہ یہاں اسلام نہیں اور وہ یہاں اسلام لانا چاہتی ہیں (’شدت پسندی‘ کے خلاف مہم میں آگے چل کر ان میں سے ایک ایک جماعت کی باری آنے والی تھی۔ یہ تھی ’جوابی بیانیہ‘ کی اصل غرض و غایت۔ ’تکفیری‘ تو اس میں سائڈ پر رہ جانے تھے۔ ’تکفیریوں‘ کو تو شروع کے کچھ سال محض اِس مسئلہ کا ’عنوان‘ بنایا جانا تھا البتہ میڈیا ٹرائل اپنےاپنے وقت پر بہت سوں کا ہونا تھا۔ غرض ’تکفیریوں‘ پر تھوڑا وقت لگا لینے کے بعد اصل رخ ان بھلی جماعتوں کی طرف ہونا تھا جو مغرب کے دیے ہوئے ’جدید ریاست‘ کے تصور پر دل سے ایمان لانے میں ابھی تک قاصر رہی ہیں)۔ یہاں ہم قاری پر واضح کر دیں، اس مدخلی بیانیہ کی رُو سے (جو عرب سے امپورٹ ہوا) اخوان اور جماعتِ اسلامی مسلمانوں کی معاصر تاریخ میں ’’تکفیر‘‘ کی امام ہیں۔ ہر وہ جماعت جس نے اپنے ملک کے حکمران کی بیعت نہیں کر رکھی اور وہ حکمران پر سرعام تنقید بھی کر لیتی ہے، ان کی لغت میں ’تکفیری‘ ہے۔ یہی بات اس سے ایک زیادہ گھناؤنے انداز میں آپ کو غامدی بیانیہ میں نظر آتی ہے جس نے پاکستان کے دینی مدارس میں پڑھانے والے سب لوگوں کو بلااستثناء ’دہشتگردی‘ کی تعلیم دینے والا قرار دے رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے ہر وہ شخص جو ’نیشن سٹیٹ‘ کے تصور کو خلاف اسلام کہتا ہے، خواہ وہ کتنا ہی پرامن کیوں نہ ہو اور اسلام کے نام پر ہونے والی اس خونریزی کا کتنا ہی بڑا مخالف کیوں نہ ہو، دہشتگردی کا پرورش کنندہ ہے۔ جبکہ اِس ٹیم کے تیسرے کھلاڑی لبرلز/این جی اوز کا ’تصورِ تکفیر‘ یہ کہتا ہے کہ اپنے کام سے کام رکھنے والی وہ دینی جماعتیں جو بڑی گرمجوشی کے ساتھ جمہوری عمل میں بھاگی دوڑی پھرتی دکھائی نہیں دیتیں اور جدید اصطلاحات کو پورے اخلاص کے ساتھ نہیں جَپ رہیں، پھر وضع قطع میں بھی ذرا ایک پرانا نقشہ پیش کرنے کے باعث ایک پرانے دور کی یاد دلاتی ہیں، ان سب کے ہاں ہی معاملہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے اور ان کو ’سیدھا‘ کرنا ضروری! یہ تینوں دھارے (مدخلی، غامدی اور لبرل) مل کر ایک جوابی بیانیہ کی تشکیل کر رہے تھے[۔  غرض ایسے بہت سے لوگ جو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے گھر میں ایک بڑی واردات کرنے چلے آئے، اور اس افراتفری میں ہمارے بہت سے مسلَّمات ہی ہمارے ہاتھ سے چھڑوانے کےلیے ایک ’جوابی بیانیہ‘ ہمارے منہ میں دے رہے تھے... اِس پر متنبہ کرنے کےلیے ہمارے اُس شمارہ میں مضمون دیا گیا ’’کیا مرجئہ طے کریں گے تکفیری کون ہیں‘‘۔ اس میں ہم نے خبردار کیا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں ایک ایسا بیانیہ بیچا جا رہا ہے جس میں ہندو تک کو کافر اور مشرک کہنے کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی اور جس کی نئی نسل باقاعدہ فتویٰ کی زبان میں یہ کہنے لگ گئی ہے کہ مسلمان عورت کے ہندو مرد سے نکاح کو حرام کہنے کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں، کیونکہ مشرک آج کے زمانے میں ہندو تو کیا کسی بھی ابن آدم کو نہیں کہا جا سکتا! غرض ہندو تک کو کافر کہنا اس (غامدی) بیانیہ کے تحت عنقریب ’شدت پسندی‘ کے زمرے میں آنے والا ہے۔ نیز اللہ کی شریعت کے مقابلے پر کوئی اور شریعت لانے ایسے فعل پر کفر کا اطلاق کرنے والے کو بھی ’تکفیری‘ کے خانے میں ڈلوا کر ایک چیپٹر کلوز کروانے کی تیاری ہے جبکہ ہمارے جہابذۂ علم کی ایک تعداد نے اس چیز پر کفر کا اطلاق کیا ہے مانند ابن کثیر، علامہ احمد شاکر اور مفتی ابراہیم وغیرہ۔ (اُس مضمون میں ہم ’اعتقاد‘ اور ’عدم اعتقاد‘ کی بحث میں نہیں پڑے، صرف ایک اصولی بات کی تھی۔ البتہ اتنی وضاحت پھر بھی کر دی تھی کہ حکمِ مطلق اور حکمِ معیّن کے مابین فرق کرنا اصولِ اہلسنت میں ایک باقاعدہ اصول ہے (جس کو ہمارے معترضین نے سراہا بھی)۔[1] مراد یہ کہ ایک قول یا فعل یا رویے کو اصولی انداز میں کفر کہنا محض ایک وعید، تنبیہ اور سرزنش ہوتی ہے؛ کہ لوگ اس کی سنگینی سے خبردار رہیں۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ اس کے قائل یا مرتکب کو معیّن کر کے اس پر کفر کا وہ حکم لگا بھی دیں۔ ہاں معیّن شخص پر حکم لگانے کےلیے الگ سے ایک پراسیس ہے (اور نہایت دقیق اور مشکل ہے) جو علمائےامت کے انجام دینے کا ہے، عامۃ الناس یا طلبۂ علم کا یہاں کوئی کام ہی نہیں ہے۔  نیز اس جانب بھی اشارہ کر دیا تھا  کہ تکفیری طبقوں کے ہاں اس قاعدہ کا التزام نہیں کیا جاتا اور وہ محض کچھ عمومیات کی بنیاد پر لوگوں، اداروں اور اشخاص کو معیّن کر کے انہیں کافر قرار دینے چل پڑتے ہیں)۔ یہ تھا ہمارے اُس مضمون کا اصل سیاق۔

3)      پھر اس موضوع پر ایک منہجِ وسط بتانے کےلیے کویت کے ایک عالمِ دین شیخ حامد العلی کا ایک مضمون ’’تکفیر جو حق ہے اور تکفیر جو ناحق ہے‘‘ بھی اردو استفادہ کی صورت ہمارے اسی شمارہ میں دیا گیا۔ جس میں واضح کیا گیا تھا کہ کلچرل گلوبلائزیشن کی ایک عالمی تحریک مسلمانوں کے یہاں پائے جانے والے ’’کافر و مسلم کے فرق‘‘ کو ملیامیٹ کروا دینے کےلیے حالیہ صورتحال کو بڑی چالاکی کے ساتھ استعمال کر رہی ہے۔ ایک صالح معنیٰ میں ’’تکفیر‘‘ اسلام کی ایک مضبوط فصیل بھی ہے جسے گرا کر یہ (کلچرل گلوبلائزیشن کی تحریک) سب معاملہ چوپٹ کر دینا چاہتی ہے: ہندو اور یہود و نصاریٰ کو کافر جاننا ہمارے دین کا حصہ ہے۔ اسی طرح قادیانیوں وغیرہ ایسے طبقوں کو دین سے خارج قرار دینا ہمارا ایک مسلّمہ قاعدہ ہے، جسے (تکفیریوں کی کچھ بےضابطگیوں کا فائدہ اٹھا کر) آج ہمارے یہاں سرے سے متروک کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اسی مضمون میں اُس تکفیر کی بھی کچھ وضاحت کی گئی جو ناحق ہے اور جس کا آغاز مصر کی جیلوں سے ایک تشدد کے نتیجے میں ردعمل کے طور پر ہوا اور پھر ہوتے ہوتے باقاعدہ ایک فتنے کی صورت اختیار کر گیا اور دینی جذبہ رکھنے والے کم علم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہاں اس سے متنبہ ہونے کی شدید ضرورت ہے۔

یہ تھا ہمارا وہ خصوصی شمارہ (جنوری تا مارچ 2009)  جو [(1) تکفیر] اور [(2) اس کے گلوبلسٹ/ارجائی بیانیہ]  ہر دو کے ردّ پر دیا گیا۔ ان میں سے ایک ہی بیانیہ کا ردّ کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ آپ دوسرے بیانیہ کے ہاتھ مضبوط ہونے دیں۔ ’’فکری راہنمائی‘‘ ظاہر ہے اسے نہیں کہیں گے (یہ تو میڈیا کی تھاپ پر رقص کرنے کے مترادف ہوتا، جو افسوسناک طور پر بعض دینی طبقوں کی جانب سے ہوا بھی)۔ ہمیں ان دو فتنوں کو عالم اسلام پر حملہ آور ہوتے ہوئے بیک وقت دیکھنا اور قوم کو دکھانا تھا۔ شاید اب جا کر کچھ لوگوں کو اندازہ ہونے لگا ہو کہ اس دوسرے فتنے (’جوابی بیانیہ‘) سے قوم کو بروقت خبردار کرنا بھی کس قدر ضروری تھا اور اس میں ہو جانے والی تاخیر کی بھی آج ہمیں کیسی کیسی قیمت دینا پڑ رہی ہے۔[2] (اس کے نتیجے میں صورتحال آج یہ ہو چکی ہے کہ لبرل شیاطین نے ان طبقوں تک کو صاف دھر لیا ہے جن کے ہاں ثالثی عدالتوں کی ملکی دستور میں باقاعدہ گنجائش استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے کچھ معاملات شریعتِ محمدی کے مطابق حسبِ استطاعت سلجھا لیے جاتے تھے۔ (کہ یہ بھی کیوں ہے اس لبرلسٹ راج میں؟!) ظالم اس کو بھی اُس چیز سے جوڑنے لگے جس کے خلاف کلچرل گلوبلائزیشن کی جانب سے جنگ کے طبل بجا رکھے گئے ہیں)۔

دوبارہ واضح کردیں، ابن کثیر، احمد شاکر اور مفتی محمد ابراہیم وغیرھم﷭ کے اقوال ہمارے اُس مضمون میں محض اس سیاق کے اندر دیے گئے تھے کہ امت کو شناخت کروا دی جائے کہ یہ اہل علم کے ہاں پائے جانے والے کچھ باقاعدہ مباحث اور اقوال ہیں جنہیں عنقریب ’تکفیری‘ بیانیہ کے ساتھ خلط کر دیا جانے والا ہے (بلکہ بعض عرب ملکوں میں ایسا کر دیا گیا ہے)۔ ہاں ان اقوال کی پوری تفسیر کیا ہے، اور آیا اس میں ’اعتقاد‘ کی شرط مضمر ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو اس کی صحیح صورت کیا ہے... تو ظاہر ہے یہ وہاں ہمارا موضوع نہ تھا۔ بس یہ تنبیہ کافی تھی کہ جہاں تک ان اشیاء کو کسی واقعاتی صورتحال پر لاگو کرنے کا تعلق ہے تو (حکم مطلق و حکم معین میں فرق والے اصول کے تحت) یہ علمائے امت پر چھوڑ دینے کی باتیں ہیں، کیونکہ امت کی سطح کے مسئلے ہیں، عامی یا کسی اِکادُکا عالم کے اپنے ہاتھ میں لینے کی چیز نہیں۔ اور پھر خونوں کو مباح کرنے کا مسئلہ تو اور بھی سنگین ہے۔ مسئلۂ ’حاکمیت‘ اُس مضمون میں البتہ ہمارا موضوع نہ تھا۔  اس سے متعلقہ کچھ چیزیں آئیں تو صرف اِس سیاق میں کہ یہ علمائے سنت کے ہاں متداول کچھ مباحث ہیں جن پر ’تکفیری‘ کے کھاتے سے ایک قینچی پھرنے والی ہے۔ ان مباحث پر اگر سب علماء کا اتفاق نہیں بھی ہے (مفروضتاً بات ہو رہی ہے) یا اس اجمال کی اگر کچھ اور تفصیل بھی ہے... تو بھی اسے علماء کے ایک فریق کی رائے کے طور پر یا علماء کے ہاں پائی جانے والی ایک مجمل عبارت کے طور پر کم از کم دیکھا جائے۔ نہ کہ اُس ’جوابی بیانیہ‘ کی رَو میں بہہ کر یہ سب کچھ ’تکفیر‘ کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے، اور جوکہ بلاشبہ اس (’جوابی بیانیہ)  کا ایک بڑا ہدف ہے۔ بلکہ یہاں تو ہندوؤں اور قادیانیوں کی تکفیر تک کو ’خلافِ شریعت‘ ٹھہرایا جانے والا ہے، جیسا کہ ہم بیان کر چکے۔

*****

یہ تھی اُس وقت تک کی صورتحال جب ہمارا وہ مضمون لکھا گیا۔ جنوری 2009؁ء۔ اُس وقت موضوع ’’تکفیر‘‘ اور ’’تکفیری‘‘ ہی تھے۔ لہٰذا ان دونوں کی بابت ہمارے اُس شمارہ میں کچھ گفتگو ہوئی۔ ’’ارجاء‘‘ یا ’’مرجئہ‘‘ اُس وقت تک موضوع نہیں تھے۔  اس کا کچھ ذکر ہمارے ہاں ’جوابی بیانیہ‘ پر نقد کے باب سے جانبی طور پر آیا تھا نہ کہ بذاتِ خود کسی موضوع کے طور پر۔

پھر یہ بھی واضح ہے کہ ہمارے مضامین میں یہاں کی ان سب جماعتوں کو وقت کی اہل سنت قوتوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے: جماعتِ اسلامی، جماعۃ الدعوۃ، تنظیمِ اسلامی، تبلیغی جماعت، الہدیٰ وغیرہ۔ ایقاظ کی یہ ٹون tone  ہمیشہ واضح رہی ہے اور ہر ابہام سے بالاتر۔ نوجوانوں کو اِن جماعتوں کا دست  و بازو بننے کی ہمارے یہاں ہمیشہ ترغیب دلائی گئی ہے۔ جب ہم جابجا ان کو اہل سنت جماعتوں کے طور پر پیش کرتے ہیں... تو ان میں سے کسی کو ’خارجی‘ یا کسی کو ’مرجئہ‘ کے طور پر پیش کرنے کا سوال ہی نہیں۔ ہم ان میں سے اور یہ ہم میں سے۔ بےشمار مواقع پر ان کے ساتھ ہمارا یکجہتی کا یہ اسلوب کھل کر سامنے آیا ہے۔ پس واضح ہو، 2009؁ء کے ہمارے اس (محولہ بالا) مضمون کی اگر کوئی چوٹ ہے تو وہ لبرل/مدخلی/غامدی بیانیہ پر ہے۔ ہاں ان کی بابت ہمارے یہاں ایک شدید اسلوب آپ کو اور بہت سے مقامات پر ملے گا۔ قاعدہ بھی یہی ہے کہ قائل کی ایک بات میں اگر کوئی اجمال رہ گیا ہو تو اسے ان مفصل مقامات کی روشنی میں سمجھ لیا جائے جو اس نے کچھ اور موقعوں پر لکھ یا بول رکھے ہوں، یا جو بات وہ بکثرت کرتا ہو۔  یہ وضاحت اس لیے کہ یہاں کے وہ دعوتی یا جہادی یا سیاسی حلقے جنہیں ہم اہل سنت جماعتیں گنتے ہیں کسی بھی طور ہمارے اُس مضمون کا ہدف نہیں تھے۔ اور نہ ہو سکتے تھے۔ ایقاظ کے ایک قاری سے یہ بات کبھی مِس miss   نہیں ہو سکتی۔

*****

بعدازاں یہ ہوا کہ تکفیر اور ماردھاڑ کی فکر پھیلانے والے عناصر ان اہل سنت طبقوں یا ان میں سے بعض کےلیے ’’مرجئہ‘‘ ایسے القابات نشر کرنے لگے۔ ستم ظریفی دیکھیے، مدخلی بیانیہ کے لوگ ان جماعتوں (مانند جماعۃ الدعوۃ، جماعتِ اسلامی، تنظیم اسلامی وغیرہ) کو تکفیری گنتے رہے کیونکہ یہ ’ولی الامر‘ کی بیعت نہیں۔ غامدی بیانیہ انہیں فساد اور دہشتگردی سے جوڑتا رہا کیونکہ غامدی کی اسلامائز کر دی گئی بہت سی چیزوں کو یہ سارا طبقہ خلافِ اسلام جانتا اور ان کے مقابلے پر قوم میں اسلامی حمیت اور ایک فکری مزاحمت پیدا کراتا ہے، نیز قادیانیوں کو کافر قرار دے رکھنے یا ناموسِ رسالت وغیرہ ایسے قانون کے تحفظ میں ایک اہم کردار رکھتا ہے۔ دوسری جانب ملک میں خونریزی کے داعی طبقےان کو مرجئہ گنتے رہے، کیونکہ یہ ملکی سالمیت کی روحِ رواں جماعتیں ہیں اور ملکی اداروں کے ساتھ خاص اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کی خاطر (نہ کہ کسی خلافِ شریعت معاملہ میں) حسب ضرورت تعاون کرتی ہیں۔ بلکہ یہ وہ خاص وجہ ہے (ملکی سالمیت کی روحِ رواں جماعتیں ہونا، نیز ملکی اداروں سے ایک درجہ میں متعاون ہونا) جس کے باعث یہاں کے لبرل بھی سب سے زیادہ انہی کے مخالف ہو گئے ہوئے ہیں۔ کیونکہ بےشمار اشارے اس بات پر موجود ہیں کہ ’لبرل‘ اور ’تکفیری‘ مل کر اِس ملک کا کام تمام کرنے کے خواب دیکھتے ہیں، اور اپنی حد تک اس کی کوشش بھی۔ (انصاف کےلیے، ضروی نہیں سب لبرل اور ضروری نہیں سب تکفیری۔ مگر ان ہردو طبقوں کی ایک تعداد، جو اپنے تصرفات میں ان آخری سالوں کے دوران خاصی نمایاں بھی ہو چکی ہے)۔

*****

مسلم معاشرے میں کسی شخص یا ٹولے کا علمی محاکمہ کرنے کا مجاز کوئی طبقہ ہے تو وہ علماء ہیں۔ انہی کو اللہ نے وہ علم دیا ہے کہ یہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہؐ سے استدلالات کی صحت اور سقم کا فیصلہ کر سکیں۔ آپ ہمیشہ دیکھیں گے اہل بدعت کی چپقلش سب سے بڑھ کر اگر کسی کے ساتھ ہوتی ہے تو وہ علمائے امت ہیں۔ چنانچہ جدت پسندوں کو دیکھیں تو سب سے زیادہ ان کے مسئلے علماء کے ساتھ نظر آئیں گے۔ دوسری جانب شدت پسندوں کو دیکھیں تو سب سے زیادہ ہدفِ تنقید ان کے ہاں علماء دیکھے جائیں گے۔ علماء کے بعد پھر وہ طبقے ہیں جو علماء کے کہنے میں ہیں اور ان نئی نئی چیزوں کو ردّ کرنے میں جو ایک طرف جدت پسندوں کی طرف سے ایجاد کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف شدت پسندوں کی طرف سےنکالی جا رہی ہیں، یہ علمائے امت کی طرف رجوع کرتے اور ان اشیاء کے مقابلے پر مسلمانوں کی علمی روایت کا احترام قائم کرواتے ہیں۔

غرض جن علماء نے ان انحرافات کا علمی محاکمہ کرنا تھا، انہی کی حیثیت متنازعہ کررکھنا  ان ٹولوں  کا ایک معروف طریقۂ ورادت ہے۔  چنانچہ یہ دونوں فریق ایسے ہیں جو علماء کا مقدمہ ’عوام کی عدالت‘ میں لے جانے کےلیے پر تولیں گے۔ نیز عوام میں ان (علمائےامت) کو برابھلا جاننے کی ایک ریت ڈالیں گے کہ یہ تو کسی قابل ہی نہیں۔ (یہ اس قابل ہوتے تو بھلا ہم ان سے الگ تھلگ فتوے دیتے تم کو نظر آتے؟!) وجہ وہی کہ علماء کے پاس ان دونوں کی دال نہیں گلتی۔ لہٰذا یہ دونوں ہمیشہ علماء کو بائی پاس کرتے ہوئے عامی طبقوں کو اپروچ کرتے نظر آئیں گے، جہاں کہیں نہ کہیں ان کو اپنے پیروکار مل ہی جاتے ہیں۔ اور پھر ان (عامی) طبقوں کے ہاں یہ اپنی ایک علمی اتھارٹی قائم کر کےخود اپنے آپ ہی کو ’علماء‘ کے طور پر پیش کر لیتے ہیں... تاآنکہ ایک باقاعدہ فرقہ بن جاتے ہیں جو ہر چیز میں خاص اپنے مراجع اور اپنے معیارات و روایات conventions   رکھنے لگتا ہے۔ آخر آسانیِ مبحث کی خاطر پیروکار اسی کے حوالے دے لیتے ہیں (ویسے ہوتی وہ بات ’کتاب و سنت‘ کی ہے)!

ایسے فکری ٹولے ہزاروں کے حساب سے امت میں بنتے اور بگڑتے آئے ہیں۔  ان کی اندرونی اکھاڑپچھاڑ بھی چلتی ہی رہتی ہے۔ ان میں سے ایک ایک ٹولہ ہر تھوڑے عرصے بعد اپنی جون بدلتا ہے۔ ہر چند سال بعد یہ وہ نہیں ہوتا جو کچھ عرصہ پہلے تھا۔ نئےنئے انکشافات کا سلسلہ ان پر جاری رہتا ہے اور ’دل کا دریا‘ مسلسل موڑ مڑتا ہے۔

اس کے مقابلے پر اہل سنت کے دو وصف آپ لازماً دیکھیں گے: تسلسل اور یکسانیت۔

ø        تسلسل یہ کہ یہ پیچھے سے چلے آتے ہیں؛ کوئی آج نہیں بنے۔ کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ بطورِ فکر یا بطورِ مجموعۂ استدلالات ان کی تاریخ پیدائش ’سن اتنے سو اتنے‘ بتائی جا سکے (اور وہ بھی دین کے اساسی مسائل کی تفسیر و تشریح کے سلسلہ میں)۔ یہ (اہل سنت) اپنے استدلالات میں اسلام کے دورِاول سے ایک تسلسل کے ساتھ چلے آتے ہیں؛ اور یہی ان کے حق ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل۔ دوسری جانب انقطاع اہل بدعت کی ایک بہت بڑی پہچان ہے۔ یعنی اپنے استدلالات میں ایک تسلسل کے ساتھ پیچھے نہ جا سکنا، اور امت سے ان کا وجہ امتیاز ہی یہ ہونا کہ یہ ایسی باتیں سامنے لا رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی گئیں اور یہ کہ امت میں ان باتوں کا ایک تسلسل مفقود ہے۔[3]  اہل بدعت اس (انقطاع) کے بغیر ہو ہی نہیں سکتے۔ جبکہ اپنے افکار اور استدلالات میں ایک تسلسل کے ساتھ پیچھے جا سکنااہل سنت کی ایک بہت بڑی پہچان۔

ø        یکسانیت سے ہماری مراد یہ کہ:ہر خطہ میں یہ آپ کو قدرتی طور پر ایک سی بات کرتے ملیں گے۔ آپ مراکش چلے جائیں  یا یمن  چلے جائیں یا پاکستان آ جائیں، مالکیہ ہوں یا شافعیہ یا حنفیہ یا حنابلہ، اساسیاتِ دین میں یہ سب آپ کو بےساختہ ایک سے دکھائی دیں گے۔ ان کے ایک خطہ نے دوسرے خطہ کو اپنا ’لٹریچر‘ نہیں پہنچایا ہو گا۔ یہ ایک دوسرے کے افکارِتازہ سے ’مطلع‘ نہیں ہوں گے۔ اس کے باوجود یہ ایک سی بات کر رہے ہوں گے۔ اپنے دور کے کسی فتنہ کی بابت ان کا ایک سا ردِ عمل ہو گا۔ سب پیش آمدہ مسائل میں ان کا رویہ تقریباً ایک سا ہو گا۔ غرض کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ ان کے مابین آج جا کر کوئی ایکا ہوا ہے اور یہ ایک دوسرے سے فکری طور پر ’متاثر‘ ہو کر ایک سی بات کر نے لگے ہیں۔ بلکہ یہ یگانگت ان کے مابین قدرتی اور بےساختہ ہے۔ اور یہ اہل سنت کی دوسری بڑی پہچان ہے۔

پوری اسلامی تاریخ کے دوران، اور پورے عالمِ اسلام کے اندر، اسلام کی تعبیر کے معاملہ میں یہ تسلسل اور یہ یکسانیت مسلمان معاشروں کو ان کے علماء کے ذریعے ہی ملی ہوتی ہے۔ ورنہ اتنی طویل تاریخ میں، اور اتنے بڑے عالمِ اسلام کے اندر، معاملہ کچھ سے کچھ ہو گیا ہوتا، جیسا کہ دوسری امتوں میں خاصی حد تک ہوا بھی۔ چنانچہ اہل سنت کی ان دونوں صفات کے پائندہ و تابندہ رہنے کا راز ان کے علماء ہیں۔ ہر نئی اُپج کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہوتے ہیں۔ جو اہل بدعت کو سب سے بڑھ کر چبھتے ہیں۔ ’مدارس‘ کی بابت اُن کا بس نہیں چلتا کہ کچا چبا جائیں!  وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

ہمارے نزدیک موجودہ دور میں سامنے آنے والے شدت پسند بیانیہ کی سب سے عجیب بات یہی ہے کہ یہ عالم اسلام کے ہر ملک میں علماء کی مین اسٹریم mainstream    کو ہی مرجئہ یا ارجاء سے موسوم کرنے لگے۔ یعنی وہ علماء جنہوں نے اِن کا علمی محاکمہ کرنا تھا، جن کی طرف دین کے فہم و استدلال کے معاملہ میں خود اِن کو رجوع کرنا تھا، اور جن کی علمی راہنمائی میں ان کو اپنا یہ سب راستہ طے کرنا تھا، اور جن کی ایک معتد بہٖ تعداد نے (اِن کے درست ہونے کی صورت میں) مسلم معاشروں کے سامنے اِن کے حق میں کلمۂ خیر کہنا تھا... وہ علماء ہی سب سے پہلے ان کے کٹہرے میں لا کھڑے کیے گئے! یہاں جج کی کرسی ہی اِن کے اپنے پاس ہے۔ علماء کے فیصلے اِن کے ہاتھ میں ہیں؛ اور علماء کو اِن سے سندِ توثیق پانی ہے! یعنی ابتداء سے ہی معاملہ الٹ دیا گیا۔

اِن حضرات کے ہاں معاملہ کی ترتیب عموماً یوں چلتی ہے کہ حکمرانوں اور پھر ان کے ساتھ اور بھی بہت سے (اور بعض کے نزدیک اکثر یا شاید سارے) ریاستی ادارے اپنے کارندوں سمیت کافر ہیں۔ نہ صرف کافر ہیں (معاذاللہ) بلکہ یہ بات اُن بدیہیات میں آتی ہے جو اس کے بعد کی سب باتوں کو طے کرنے میں کلیدی حیثیت رکھے گی۔ یعنی سب چیزیں اسی ایک بات کی روشنی میں طے ہوں گی۔ اب مثلاً سوال پیدا ہو گیا ہے کہ امت کے علماء کونسے ہیں جن کی طرف مسائلِ وقت (نوازل) کے معاملہ میں رجوع کیا جائے۔ ظاہر ہے وہی علماء ہو سکتے ہیں جو دین کے اِس بنیادی مسلّمہ و بدیہۃ (!) کو تسلیم کرتے ہیں [کہ حکمران اور ان کے ساتھ اور بھی بہت سے (اور بعض کے نزدیک اکثر یا شاید سارے) ادارے کافر ہیں!] اب دیکھئے نا جس عالم کو دین کے اِس بنیادی مسئلے کا ہی نہیں پتہ (!) اُس کے علم پر کیسے اعتماد کیا جائے؟ بہت ہوا تو ان سے ’حیض اور نفاس‘ ایسے معاملات میں رجوع کر لیا جائےجن کے اندر یہ عالم ہیں! چنانچہ ایک چیز پہلے یہ خود طے کر دیں گے (حکمرانوں اور اداروں کی تکفیر)۔ اِس پہلی ہی بات میں البتہ علماء سے نہیں پوچھا جائے گا کیونکہ ان کو اس کا پتہ جو نہیں ہے! یہ پہلی بات علماء کی طرف نہیں لوٹانی؛ کیونکہ اس سے وہ رُوٹ ہی نہیں بنے گا جس پر یہ ایک نوجوان کو پلک جھپکتے میں چڑھا لاتے ہیں۔ ہاں یہ پہلی بات اپنی طرف سے طے کردینے اور اس کو بنیادی ترین مسلّمات میں ٹھہرا دینے کے بعد نوجونوں کو کسی وقت ’غوروفکر‘ کی دعوت بھی دے دی جائے گی کہ بھئی خود دیکھ لو کون علماء ہیں جن کے علم پر اعتماد کیا جا سکتا ہے! اب یہاں نوجوان جب نظر اٹھا کر دیکھتا ہے تو تقریباً پورا عالم اسلام اس کو سائیں سائیں کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ’علماء‘ یہاں ہیں کہاں! دُوردُور تک دیکھ لو کہیں نظر آتے ہیں؟ نہیں بالکل نہیں۔ سبھی یا ’حق‘ سے ناواقف ہیں یا ’حق‘ کو چھپائے ہوئے ہیں! لہٰذا علماء اب بس وہی ہیں جو ’حق بات‘ کر رہے ہیں۔ (’حق بات‘ کا تعین سب سے پہلے کر دیا گیا تھا: اور وہ البتہ given   تھی!)۔ بس اِنہی سے فتویٰ لو اور اِنہی کی طرف رجوع کرو!

یہ ہے معاملے کی ترتیب جو عموماً اختیار کی جاتی ہے۔

حالانکہ پورا عالمِ اسلام ایک بات سے سائیں سائیں کر رہا ہو، تو یہ کان کھڑے کر دینے والی بات ہونی چاہئے۔ لیکن یہاں جذباتیت ایک ابتدائی برین واشنگ کر چکی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پورے عالمِ اسلام کو ایک بات سے سائیں سائیں کرتا دیکھ کر آدمی کو اس پر پریشان ہو جانے کی بجائے شرح صدر ہونے لگتا ہے کہ واقعی ان سب علماء کو اس قابل نہ جاننا بلاوجہ نہ تھا! اور پھر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی! ’وثوق‘ میں جوں جوں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے توں توں آدمی علمائےامت سے دور ہوتا اور اپنے ’خصوصی‘ مراجع کے ساتھ وابستہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

اس کے بعد... علمائےامت جو حکمرانوں اور ریاستی اداروں اور ان کے کارندوں کو ’کافر‘ کہنے کے مسئلہ سے ’واقف‘ نہیں یا اس معاملہ میں ’کتمانِ حق‘ سے کام لے رہے ہیں، خودبخود ’مرجئہ‘ کی صف میں جا کھڑے ہوئے!

*****

اہل سنت کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔ خود اس کے اندر بہت سے اقوال ایسے ہیں کہ کوئی ان کا قائل ہے تو کوئی ان کا قائل نہیں ہے۔ جو قائل ہے وہ غیرقائل کو بدعتی ہونے کا طعنہ نہیں دیتا اور جو غیرقائل ہے وہ قائل کے پیچھے لٹھ لے کر نہیں پڑتا۔

تکفیر ہی کے معاملہ میں... امام احمدؒ اور ان سے پہلے متقدمین کی ایک بڑی تعداد تارکِ صلاۃ کی تکفیر کرتے ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ و امام شافعیؒ اور ان سے پہلے متقدمین کی ایک بڑی تعداد تارکِ صلاۃ کی تکفیر کرنے کی قائل نہیں ہے۔ ان میں کہیں کہیں علمی تبادلۂ آراء ہوا ہو گا۔ شافعیؒ اور احمدؒ کے مابین ایک مکالمہ اس موضوع پر مشہور بھی ہے۔  لیکن ایک نے دوسرے کو نہ تو ’’تکفیر‘‘ کی وجہ سے مذہبِ خوارج پر ٹھہرایا، حالانکہ نماز اعمال میں سے ایک عمل ہی ہے اور جبکہ خوارج کا یہ مذہب معلوم ہے کہ وہ اعمال کی بنیاد پر آدمی کی تکفیر کر دیتے ہیں، اور نہ ’’عدم تکفیر‘‘ کی وجہ سے مذہبِ ارجاء پر ٹھہرایا کہ یہ عمل کو ایمان سے خارج کر رہے ہیں! اس کے علاوہ کئی ایک مثالیں ہیں جن میں خود اہل سنت ہی کے اقوال ’’تکفیر و عدم تکفیر‘‘ کے معاملہ میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ البتہ یہ سب بحثیں ائمہ و علماء کے دائرہ میں ہوتی ہیں۔

ہمارے 2009؁ء والے مضمون کی طرح، اِس مضمون کا موضوع بھی مسئلۂ حاکمیت نہیں ہے۔  البتہ لوگوں پر ’مرجئہ‘ کے فتوے لگانے والے حضرات سے ہم پوچھ لیتے ہیں کہ عالم اسلام کے ننانوے عشاریہ نو نو نو فیصد علماء اپنےاپنے ملک میں حکمرانوں کی تکفیر نہیں کرتے ان سب کو اگر تم مرجئہ ٹھہراتے ہو تو اِس پوری امت کی بابت تمہارا کیا گمان ہے؟ خود مفتی محمد ابراھیمؒ کی بابت، جن کے اقوال تم اپنی تائید میں لاتے ہو، (ہمارے علم کی حد تک) کہیں نہیں آتا کہ انہوں فلاں اور فلاں حکمران کی تکفیر کر ڈالی تھی۔ احمد شاکرؒ کی بابت ایسی کسی تعیین کا حوالہ دینا شاید ممکن نہ ہو۔ باوجود اس کے کہ یہ شخصیات ہمارے اِسی دور کی ہیں۔ اِن کے عہد میں وہ سب اعمال اِسی طرح تھے جس طرح ہمارے عہد میں۔

پس وہ سب علمی مباحث اپنی جگہ، مگر واقع میں ہماری پوری تاریخ کے اندر علماء کب یوں تکفیر کی طرف گئے ہیں؟  سورۃ المائدۃ کی آیات کے حوالہ سے بڑی بڑی سخت گفتگو آج کے علماء و مفسرین کے ہاں بھی آپ کو مل جائے گی۔ شنقیطیؒ کی اضواءالبیان ہی ذرا ایک نظر پڑھ لیجئے، آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔ مگر اپنے اردگرد میں وہ انسانوں کی تکفیر بھی کرنے چل پڑے ہوں، یہ واقعہ علماء کے ہاں کب ہوا ہے؟  پس وہ سب مباحث جو آپ علماء کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں، عمومیات کے باب سے ہیں۔  زیادہ تر، اس سے ایک تنبیہ اور سرزنش کر دینا مقصود ہوتا ہے اور ہاں اس میں کسی کسی وقت بڑا شدید اسلوب اختیار کر لیا جاتا ہے۔ البتہ عملاً بھی تکفیر کی تحریک چلا دی گئی ہو، یہ ماجرا آپ کو کہاں ملتا ہے؟

البتہ تمہارے ایسی تحریک کا یہ نتیجہ ہو سکتا ہے کہ علماء کو ان ابواب میں علمی و تفسیری مباحث تک قلمبند کرتے وقت سوچنا پڑ جائے کہ باہر اس کا کیساکیسا استعمال ہو جانے کا امکان ہے! بخدا ہم طالبعلموں کو بھی چند سال پہلے تک اس کا کہاں اندازہ تھا کہ علمی سیاق میں لکھی گئی چیزیں کیسےکیسے ہاتھ چڑھ سکتی ہیں۔ خود ہماری تحریروں سے نجانے کس کس کو ’مرجئہ‘ ثابت کیا جا رہا تھا!

اور پھر یہ بھی پیش نظر رہےکہ اصول و قواعد کی حد تک تو ارتداد کے مباحث آپ کو بڑی تفصیل سے مل جائیں گے۔ لیکن جہاں تک واقع میں ان اشیاء کو لوگوں پر لاگو کرنے کا تعلق ہے تو علماء کا عمومی رویہ لوگوں پر حکم لگانے سے جان چھڑانے اور زیادہ سے زیادہ بچنے کا ہے۔  زیادہ مقصد عمومی انداز میں قولِ بلیغ کہہ کر ہی پورا کر لیا جاتا تھا اور واقع میں لوگوں پر وہ حکم لگانے سے ازحد بچنے کی کوشش ہوتی۔

اور پھر یہ بھی پیش نظر رہے کہ ’’تکفیر‘‘ کا معاملہ اصل میں قضاء judiciary   سے متعلق ہے۔ قضاء سے ہٹ کر کسی کو دین سے خارج قرار دینا اور اس پر مرتد کے احکام لاگو کرنا اپنے اصل سے خروج ہے، یعنی کسی خاص استثنائی حالت میں ہی علماء اس نوبت کو جائیں گے، ورنہ اصل یہ ہے کہ اس کا معاملہ خدا کے سپرد رکھیں اور ایک عمومی انداز کے قولِ بلیغ سے ہی جس قدر مقصد پورا ہو سکتا ہو کریں۔ لہٰذا، یہاں الگ سے ایک مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ: ایک مسئلہ جس کو غیرقاضی سرے سے ہاتھ میں نہیں لے سکتا، اس کو ایک ایسی استثنائی صورت کب باور کیا جائے کہ ایک غیرقاضی بھی اس کا مجاز ہو جائے؟ پس مسئلے کی پیچیدگی یہاں دوچند ہوئی۔ (امت کی سطح کے معاملات میں) مسلمانوں کی حالیہ تاریخ کے اندر بےشک کسی وقت علماء کے اجتماعی فتویٰ نے یہ استثناء لی ہے، جیسے قادیانیوں کی بابت علماء کا اقدام، یا جیسے افغانستان کی تاریخ میں کسی ایک آدھ بار علماء کی جانب سے ایسا کوئی فتویٰ سامنے آنا (اس کی تفصیل میں جانا یہاں ہمارے لیے ممکن نہیں)۔ وغیرہ۔ لیکن یہ علماء ہی ہیں جو معاملے کی نوعیت اور خود اپنی پوزیشن دونوں کو دیکھ کر کسی کے کفر اسلام کا فیصلہ کرنے سے بھی پہلے ایک فیصلہ اپنی بابت یہ کریں گے کہ آیا یہاں ان کو وہ استثناء لینی ہے کہ غیرقاضی کی حیثیت میں یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیں یا نہیں؟ جو بھی ہو یہ البتہ واضح ہے کہ ایسے کسی بھی واقعے میں علماء کی اتنی بڑی تعداد سامنے آتی رہی کہ امت ان کے پیچھے ہی کھڑی دیکھی گئی، وللہ الحمد۔ جس کا مطلب تھا کہ یہ علماء نہایت صائب نظر تھے اور ان کو خوب معلوم تھا کہ کہاں امت ان کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے اور کہاں نہیں ہو سکتی۔ عالم ہو تو یہ نظر وہ ضرور رکھتا ہے۔ بایں صورت، وہ اپنے علم اور فتویٰ کی لاج رکھتا ہے؛ اور جوکہ ضروری ہے۔ مشہور ہے، ہندوستان کے کسی بڑے عالم (اغلباً رشید گنگوہیؒ) سے نئی نئی پیپر کرنسی کی بابت فتویٰ صادر کرنے کےلیے کہا گیا تو فرمایا: بھئی پیپر کرنسی چلے گی میرا فتویٰ نہیں چلے گا۔  غرض حقیقی عالم بہت کچھ دیکھتا ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ حضرت پیپر کرنی سے متعلقہ ’’علمی مباحث‘‘ یہاں پر بھی بیان کر ہی سکتے تھے۔ مگر جیسا کہ ہم نے عرض کیا، علمی مباحث ایک چیز ہیں اور واقع کی بابت فتویٰ کی زبان میں کچھ کہنا بالکل اور چیز۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

*****

جہاں تک امت کو لے کر چلنے کا معاملہ ہے... تو یہاں سب سے پہلے، اور سب سے بڑھ کر، یہی ضروری ہے کہ اُس وسعت کی طرف آیا جائے جو عالم اسلام کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کی مین اسٹریم mainstream   کے اندر سمو رکھی گئی ہے۔ کہیں پر یہ مین اسٹریم آپ کو کتنی ہی ناگوار لگتی ہے، لیکن امت کو لے کر چلنے کےلیے یہ شرط ہر حال میں آئے گی۔ اس کے بغیر آپ ایک ’تعلیمی‘ یا ’فکری‘ حلقہ بننا چاہیں تو بےشک بن لیں۔ امت کو لےکر چلنے والے اس کے بغیر آپ بہرحال نہیں ہو سکتے۔

واضح رہے ہم نے امت کو لے کر چلنے یا امت کی سطح کے مسائل سے نبردآزما ہونے کی بات کی ہے۔ ہاں لوگوں کے اندر آپ کوئی خاص اعتقادی، یا فقہی، یا علمی، یا فنی ذوق پیدا کرنا چاہتے ہیں تو وہاں آپ جتنا مخصوص selective   ہونا چاہیں، ہو جائیں۔ وہاں شرط بس اتنی ہو گی کہ آپ اہل سنت کے دائرہ سے نہ نکلیں۔ البتہ اہل سنت دائرہ کے اندر رہتے ہوئے آپ کسی مخصوص سرکل کو ہی لے کر چلنا چاہیں (کسی ’تعلیمی‘ یا ’فکری‘ عمل میں)، تو ضرور چلیں۔ باقیوں کو پوچھیں تک نہیں، کوئی حرج نہیں۔ جو آپ کے ساتھ چلنا چاہے گا چل لے گا۔ اور جو کسی اور اعتقادی یا فقہی یا علمی سرکل کے ساتھ چلنا چاہے وہ اپنے ارادے میں آزاد ہوگا۔ البتہ جس وقت آپ جائیں گے امت کے مسائل کو ہاتھ ڈالنے، اور امت کو اپنے ساتھ کھڑا کرنے، تو وہاں آپ کو اس خطہ کی اہلسنت مین-اسٹریم mainstream   کی سطح پر ہی آنا ہو گا اور کسی ایک بھی سرکل کو نظرانداز نہیں کرنا ہو گا۔ وہاں اہل سنت سرکلز میں سے ’کوئی ایک مخصوص سرکل‘ کافی نہ ہو گا (مانند سلفی، وہابی، دیوبندی، اخوانی وغیرہ)۔ بلکہ امت کے مسائل کو لے کر چلنے میں آپ کو اُس وسیع تر دائرہ پر آنا ہو گا جو سب کےلیے ایک مشترکہ ریفرنس بن سکتا ہو۔ کسی ایک مخصوص سرکل کےلیے نہیں سب کےلیے مشترکہ حوالہ بن سکتا ہو۔ کجا یہ کہ وہاں آپ باقیوں پر حَکَم ہوں اور علماء تک کو آپ نے کٹہرے میں کھڑا کر رکھا ہو! اور پھر کسی ایک آدھ پر نہیں سب پر آپ حَکَم ہو گئے ہوں! امت کے ہر خطہ کی مین سٹریم سے نہ صرف ایک بالکل الگ راستہ پیش کر رہے ہوں بلکہ اس مین اسٹریم ہی کی راہ کو ’’ارجاء‘‘ وغیرہ پر محمول کر رہے ہوں! یہ چیز علاوہ غلط ہونے کے، عملاً بھی بانجھ رہے گی۔

*****

’’تکفیر‘‘ اور ’’مذہبِ خوارج‘‘ کا حملہ سب سے زیادہ ایک نیک اور دین سے متمسک ماحول پر ہوتا ہے۔ بےدینوں پر کچھ اور قسم کے وائرس آتے ہوں گے، البتہ یہ ایک وائرس خدا نے ایسا رکھا ہے جو اعلیٰ دینی جذبہ رکھنے والے ماحول پر ہی حملہ آور ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ نیکی اور دین سے تمسک ظاہر ہے جہاد سے وابستہ طبقوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر خدا کےلیے پیش کرنا اور سچے دل سے شہادت کا آرزومند ہونا اور عملاً قدم قدم پر اس کا ثبوت دینا کوئی آسان بات نہیں؛ یہ دین سے وابستگی کی ایک اعلیٰ سطح چاہتی ہے۔  عہد صحابہؓ میں بھی جب نیکی کا جذبہ لوگوں میں عروج پر تھا، علم میں کمی آتے ہی پہلا حملہ معاشرے پر اسی چیز کا ہوا تھا اور ایک پورے دور کا ستیاناس کر گیا۔ چنانچہ یہ ایک ایسا وائرس ہے جو دینداری کے حوالہ سے ایک صحتمندترین جسم پر ہی حملہ آور ہوتا ہے اور کچھ ہی دیر میں اس کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس لحاظ سے ہم کہیں گے، ہماری سب سے اعلیٰ چیز اس کی زد میں آتی ہے۔

اب لے دے کر، ہمارے دور میں، کوئی سو سالہ محنت کے نتیجے میں، اسلام کا احیائی عمل ایک خاص سطح کو پہنچا تھا۔ دینی عمل کے بےشمار دھارے اس کے اندر پڑے تھے کہ اللہ نے ہمارا عالمی جہاد کھڑا کیا۔ میری اس بات کو کسی غلط معنىٰ پر محمول نہ کیا جائے تو عرض کروں، اسلام کے اِحیائی عمل پر یہ نوبت لانے کے خالق جہادی طبقے ہرگز نہیں ہیں۔ یہ اپنے حصے کےلیے لائقِ ستائش یقیناً ہوں گے، لیکن اسلام کا اِحیائی عمل اپنی اس ’’ذروۃ سنام‘‘ پر پہنچنے کےلیے بہت پیچھے سے چلا آ رہا تھا۔ اس کے اندر بےشمار تحریکوں کا خون پسینہ پڑا تھا۔ قرآنی حلقات، نشرِ سنت، تبلیغی محنت، دینداری کا عوامی فروغ، مغرب کے ساتھ ہمارے کلامی مباحث کو بامِ عروج پر پہنچانے والے طبقے، ثقافتی اور تہذیبی عمل میں مؤثر کردار ادا کر جانے والے ہمارے دانشور حلقے، مدارس، عوامی وعظ، تقریریں، خطبے، روایتی جلسے، مجلات، جرائد، صحافتی سرگرمیاں،  تعلیمی اداروں میں ہمارے دینی عناصر کی جیسی کیسی عشروں پر محیط ایک محنت، حتیٰ کہ سرکاری نصابوں میں جیساکیسا اسلام کا کچھ حصہ (جو بظاہر کچھ نہ ہونے کے باوجود معاشرے کے ایک طبقے میں لفظ اسلام کو کم از کم زندہ رکھنے میں مؤثر ہوا، اور جس میں نجانے کچھ طبقوں کی کیسی محنت اور قربانی رہی ہے)، حتیٰ کہ گھروں میں اور دروردراز دیہات کے اندر بیٹھی عورتوں کا ایک نہایت سادہ اور دیسی انداز میں قاعدے سپارے اور ’احوال الآخرت‘ پڑھنا پڑھانا... وغیرہ وغیرہ، ایسی سب سرگرمیاں جن کا بظاہر جہاد سے دور کا کوئی تعلق نہ تھا۔ ایسے بےشمار ندیاں نالے بڑی بڑی یخ بستہ گھاٹیوں سے قطرہ قطرہ کر کے پگھلتے آئے تھے کہ آخر اس کی وہ طغیانی میسر آئی کہ جب یکلخت افغانستان میں  امت کا جہاد پھوٹا تو اس نے ایک بےقابو سیلاب بن کر اس کا ساتھ دیا۔ حق یہ ہے کہ دنیا کے ایک بڑے بلاک ’سوویت یونین‘ سے نبردآزما جہادی قیادتوں نے اس کو ’تیار‘ نہیں کیا تھا، اور نہ اتنی جلدی یہ کوئی ’تیار‘ کر لینے کی چیز تھی، بلکہ ’’تیار‘‘ حالت میں اس کو ’’استعمال‘‘ کیا تھا، فَلِلّٰہِ الۡحَمۡدُ والۡمِنَّۃ۔ اسے ’’تیار‘‘ کرنے والے شاید بڑی دیر ہوئی اپنی قبروں میں سوئے پڑے ہوں گے (خدا انہیں نور سے بھرے) اور بہت سے اپنےاپنے طریقے سے اب بھی سرگرم ہوں گے، خواہ ’’جہاد‘‘ سے براہِ راست ان کا کوئی بھی تعلق نہ ہو۔ یہ سب کچھ اپنے ’ارجاء‘ کے ساتھ لائقِ قدر اور لائقِ شکر تھا۔ جہادی طبقوں کو اس کا شکرگزار ہی ہونا تھا کہ یہ وہ بیس base   ہے جس نے سپرپاروں کے مقابلے پر ان کو ہر طرف سے کفایت کر ڈالی اور انہوں نے بےفکر ہو کر بڑے سالوں تک اس پر سہارا کیا۔ بےشک اس میں بڑے عیب ہوں، اور عیب بھلا کس میں نہیں ہوں گے، مگر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اِس بیس base   کے ایک بڑے حصے کو ہی ’’ردِّ ارجاء‘‘ کی دھار پر رکھ لیا جائے اور اس کے ساتھ ہی سیدھی سیدھی ایک جنگ چھیڑ دی جائے! علاوہ غلط ہونے کے، اور علمی بنیادوں پر باطل ہونے کے، جو ہم دیگر مقامات پر بیان کر آئے... یہ اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ یہ سب نوجوان جس پراسیس سے آئے تھے اور بالآخر روس، امریکہ اور بھارت کے خلاف محاذوں پر جا پہنچے تھے، اس پراسیس کے پیداکنندہ کم و بیش وہی طبقے تو تھے جو آج ’’ارجاء‘‘ پر باور کر لیے جانے لگے ہیں! یہ تو اپنے وجود کے سوتے ختم کر لینے والی بات تھی؛ اور سامنے بےرحم دشمن! دردمندوں اور سمجھداروں نے کتنا سمجھایا کہ اس جنگ کو ابتداء سے ہی وہ رخ مت دو جسے نہ یہ امت قبول کرنے والی ہے اور نہ اس میں کبھی تمہارا ساتھ دینے والی ہے۔ اور یہ تو وہ کہہ کہہ کر تھک گئے کہ امت کو ساتھ رکھے اور امت کے ساتھ رہے بغیر کوئی جہاد نہیں۔ ایسے جہاد کو (اگرچہ وہ درست راستے پر بھی ہو) مؤخر کر لینا بھلا، جس میں امت آپ کے ساتھ نہیں۔ امت کے چارہ گروں اور امت کے مابین فاصلہ آجانا خود ان کا بھی نقصان اور امت کا بھی؛ خواہ اس کا کوئی سبب ہو؛ اس بات کو بہت پیچھے سے بھانپ رکھنا اور اسی کے مطابق کوئی پیش رفت کرنا ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ توقف کر لینا کسی وقت بہتر ہوتا ہے۔ بلکہ سمجھداروں نے تو یہاں تک سمجھایا تھا کہ یہ رُوٹ آخر امت ہی کے ایک طبقے کے ساتھ جنگ کی طرف جاتا ہے۔ یعنی امت سے آپ صرف کٹ نہیں جائیں گے بلکہ امت ہی کے ایک حصے کے ساتھ برسرجنگ ہوں گے اور نتیجتاً تم امت کے کم علموں کو اپنے ہاتھوں اپنے دشمنوں کو دے کر آؤ گے جہاں یہ اُس کی صف میں ہو کر تم سے نجات پانے کی سوچیں۔ لہٰذا جتنا صبر اُس پہلے پوائنٹ پر کرنا پڑتا وارے کا تھا بہ نسبت اُس صبر کے جو امت کو کھو دینے کے بعد کرنا پڑے۔

غرض سو سال کے احیائی عمل پر جو ایک کلائمکس آیا تھا، اور جس نے اللہ کے فضل سے اتنی جان دکھا دی تھی کہ عالم اسلام پر حملہ آور دو سپر طاقتوں کی راہ میں آگےپیچھے اسلامی مزاحمت کے کامیاب بند کھڑے کر ڈالے اور اللہ کی مدد سے ان دونوں محاذوں پر سرخرو ہو کر دکھایا... امت کے طائفہ منصورہ پر یہ ایک گرمیِ بہار boom  تھی اور اس لہلہاتی فصل سے ہمارے بہت سے دیرینہ ارمان پورے ہوتے دکھائی دینے لگے تھے... کہ اس کی بہت سی ڈالیوں پر اُس وائرس کا حملہ ہوا  جو ہمیشہ ہماری دینداری کی فصل اجاڑ دیتا ہے۔  عہدِ اول میں بھی اسلام کے شیروں نے جب روم اور فارس کو چاروں شانے چت کر ڈالا تھا، بلکہ اُس وقت تو ہمارا اعلیٰ تعمیراتی عمل بھی بامِ عروج پر جا پہنچا تھا کہ یکلخت اس پر خوارج اور روافض کا حملہ ہوا (اور پھر کچھ دیر بعد معتزلہ کا)، اور اس کے نتیجے میں ہماری بہت سی پیش رفت ضائع چلی گئی۔ بیرونی دشمن تب اس کا کچھ بھی نقصان نہ کر پایا تھا؛ جو نقصان ہوا اندر سے ہوا۔ کسی حد تک اُس سے ملتی جلتی صورتحال آج پیش آئی ہے کہ جب روس اور امریکہ دونوں کو ہم تقریباً پسپا کر چکے تو انہی دو (یا تین) افکار کا حملہ ہماری صفوں پر پھر ہوا اور ہماری بہت سی پیش رفت کو بہا لے گیا۔ ہمارا یہ بحران سراسر داخلی ہے۔ دشمن آج بھی ہمارے مقابلےپر بدترین پوزیشن میں ہے۔ ہم اللہ کے فضل سے آج بھی بہترین پوزیشن میں ہیں۔ سالوں میں یہ تصویر اللہ کی مدد سے بدلی جا سکتی ہے۔ لیکن یہاں ہونے والی کچھ فاش غلطیوں پر بنیاد سے ایک نظر ڈال لینا اور معاملات کی ایک جوہری ترتیبِ نو کر لینا ضروری ہے۔

اب بھی وقت گزر نہیں گیا۔ گو نقصان بہت ہوا ہے۔ سنبھل جائیں تو شاید معاملے کو کسی صحیح رخ پر ڈالا جا سکے۔ لیکن اس کےلیے معاملے کی اصلاح کرنے میں خاصا پیچھے جانا پڑے گا۔ یہ اونچی مسند پر بیٹھ کر لوگوں کے فیصلے کرنا، اور وہ بھی ان لوگوں کے جو اپنےاپنے طریقے سے اسلام کی خدمت میں مشغول ہیں... اس طرزعمل کو بنیاد سے ختم کرنا ہو گا۔ ایسے لہجے جو آپ کو امت کے کسی ایک بھی طبقے سے دور کر دیں خواہ اس میں ہزار برائیاں کیوں نہ ہوں، یکسر ترک کرنا ہوں گے۔ ہمارے پاس وقت ہوتا تو ہم اس مبحث کو مزید کھولتے کہ: [ایک باطل بات بولنے کی گنجائش تو خیر کہیں بھی نہیں، مانند امت کے بعض طبقوں کو کافر یا امت کے بعض صالحین کو مرجئہ کہنا اور یوں امت میں پھوٹ ڈالنا اور ایک خانہ جنگی کی راہ ہموار کرنا۔ اس کی گنجائش تو خیر کبھی بھی نہیں ہے۔ تاہم جہاں تک ایک ایسی حق بات کا بھی تعلق ہے جو امت کے بعض طبقوں کو آپ سے ناراض یا آپ سے دُور کر سکتی ہے... ایسی حق بات بولنے کی گنجائش بھی ایک تعلیمی یا اصلاحی  طرز کے پروگرام کے اندر ہی ہو سکتی ہے۔ مانند بعض بدعات یا انحرافات یا فسق و فجور وغیرہ کا ردّ، وغیرہ۔ البتہ وہ طبقہ یا جماعت جسے کسی ہنگامی صورتحال میں امت کو ساتھ لے کر چلنا ہو اور اُس کے امت کو ساتھ نہ چلا پانے کی صورت میں دشمن امت پر حاوی ہو سکتا ہو، ایسی کسی جماعت کے پاس اس بات تک کی گنجائش نہیں کہ وہ کسی بدعت یا انحراف یا فسق و فجور کی خبر لیتے ہوئے امت یا امت کے کسی بڑے طبقے کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے چھڑوا بیٹھے۔ اور اس کے نتیجے میں دشمن اُس پر بھی دسترس پا لے اور امت پر بھی۔ مصالح اور مفاسد کا یہ ایک بہت بڑا باب ہے۔ ہمارے استاد شیخ صلاح الصاوی نے اپنی کتاب ’’الثوابت والمتغیرات‘‘ میں اِسے نہایت خوبصورتی سے بیان کر رکھا ہے۔ اور یہ ایک صالح باب ہے جو دشمن کے مقابلے پر صف آرا جماعتوں کو ایک کمال ڈائنامزم عطا کرتا ہے۔ اِس باب میں؛ امت کے بدعتی ٹولوں تک کو اور فسق و فجور میں پڑے ہوئے لوگوں تک کو نہ صرف ناراض کرنے کی گنجائش نہیں بلکہ ساتھ چلانے کا وجوب ہے۔ اللہ نے چاہا تو ان شاءاللہ کبھی اس مبحث کو تفصیل سے واضح کیا جائے گا]۔

البتہ اصلاحِ احوال کی جو ناگفتہ بہ صورت فی الوقت دکھائی دیتی ہے، بعد اس کے کہ معاملہ بےحد خراب کر لیا گیا ہے، وہ تشویشناک ہے۔ امت کے دردمندوں کی جانب سے اگر کوئی بڑی اصلاحی پیش رفت سامنے نہیں آتی تو اندیشہ بہرحال ہے کہ اسلامی سیکٹر کی وہ سو سالہ محنت [جس میں مسلم ملکوں کی آزادیاں بھی آتی ہیں خصوصاً برصغیر کے شمال مغرب میں اسلام کےلیے ایک خطہ کا مخصوص کردیا جانا جو بالعموم ’’تحریکِ پاکستان‘‘ سے موسوم ہے اور جوکہ معاصر تاریخ کا کوئی چھوٹا واقعہ نہیں ہے، اور پھر اس کے بعد ہمارا مشرقی بلاک ایسے دیو کو شکست دے لینا اور کمیونزم اور سرخ سویرے کو اسلام کی قوت کے بل بوتے پر موت کی نیند سلا دینا، یہاں تک کہ ہمارے عالمی جہاد کا توانا ہو جانا اور بجا طور پر امریکہ کو آنکھیں دکھانے لگنا، پھر انٹلکچول سطح پر مغرب میں اسلام کا پیش قدمی کرنے لگنا اور وہ بھی کلاسیکل اسلام کی (نہ کہ معاذاللہ اس اصلاح شدہ اسلام reformed Islam   کی  جو اس وقت کلاسیکل اسلام کو وہاں کے اسلامک سینٹروں سے بے دخل کر کے تیزی کے ساتھ اس کی جگہ لے رہا ہے)]... اندیشہ بہرحال ہے کہ اسلامی سیکٹر کی یہ سو سالہ محنت ایک بار پھر پیچھے چلی جائے اور تاریخ یہ لکھے کہ اسلام کی پیش قدمی بیسویں صدی کے اختتام پر جب لبِ بام جا پہنچی تھی اور کچھ تھوڑا سا مزید صبر و حوصلہ نجانے مسلمانوں کی کیسی کیسی تعمیرات کا موجب بنتا، اچانک مسلمانوں کے صالح ترین عنصر (امت کے جہادی سیکٹر) پر ’خوارج‘ کا وائرس حملہ آور ہوا اور پھر یہ فصل اجڑتی چلی گئی اور امت کی پیش قدمی کا معاملہ عشروں کے حساب سے ایک بار پھر پیچھے چلا گیا۔ فلا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔

بلاشبہ کئی ایک مسلم خطوں میں ایسی سمجھدار قیادتیں موجود ہیں کہ اول تو وہاں ان جذباتی اور فکری انحرافات کی کوئی بہت پزیرائی نہیں ہونے دی گئی۔  اور جو ہوئی اس کے اثرات کا بھی سدباب ہوا ہے۔ البتہ ہماری اس گفتگو کا سیاق ہمارا اپنا خطہ ہے۔ یہاں اِس تکفیری ڈسکورس سے آگہی بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اور اس کا رد کرنے کےلیے اصولِ اہل سنت سے مدد لینے کی بھی کوئی خاطرخواہ کوشش سامنے نہیں آئی۔ ہاں اصولِ اہل سنت سے مدد لیے بغیر اس کے ردّ کی جو کچھ مخلصانہ کوششیں ہوئیں وہ ’جوابی بیانیہ‘ کےلیے ایک گونا خلا بھی پیدا کر گئیں۔

*****

اور یہ تو واضح ہے کہ ’جوابی بیانیہ‘ (غامدی/لبرل) اس ’تکفیری بیانیہ‘ کے رد کےلیے نہیں آیا بلکہ ’تکفیری بیانیہ‘ کی پیداکردہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کےلیے آیا ہے۔ دوسری جانب  وہ ’تکفیری بیانیہ‘ بھی اس ’جوابی بیانیہ‘ (لبرل/مدخلی/غامدی بیانیہ) کا رد نہیں کرتا بلکہ اس کی پیداکردہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ غرض یہ دونوں ایک دوسرے کےلیے ایک طرح سے گنجائش space اور جواز justification    پیدا کررہے ہیں۔ یہ اُس کے دم سے اپنی پزیرائی کروا رہا ہے اور وہ اِس کے دم سے۔ اور آگے چین ری ایکشن chain re-action   کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔ اس کا حل ایک ہے اور بہت سادہ: یہاں مین اسٹریم (کلاسیکل) دینی طبقوں کا بیانیہ آنا چاہئے جو ’تکفیری بیانیہ‘ اور ’جوابی بیانیہ‘ دونوں کو ’’دین‘‘ کے موضوع پر بےدخل کر دے؛ اور ان دونوں ہی کے پیداکردہ خلجان سے قوم کو نکالے۔ (جبکہ فی الوقت تو ’مائک‘ ہی اِن دو کے پاس ہے)۔

مین اسٹریم دینی طبقوں کا بیانیہ narrative، جس میں ’تکفیری بیانیہ‘ اور ’لبرل بیانیہ‘ دونوں سے قوم کو خلاصی دلائی گئی ہو، اور جس کے اندر علمائےسنت کا علم، ان کی دلیل اور ان کی یکجہتی بول رہی ہو، اور جس کی پشت پر کلاسیکل اسلام کی قوت ہو، اور جو یہاں فریقین کے پیداکردہ ایک ایک اشکال کا جچاتلا جواب دیتا ہو (قائل کرنے کی ضرورت نہیں، جواب ضرور دیتا ہو).. ہم اس کو ’’اہل سنت بیانیہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ بہت دیر پہلے ضروری تھا۔ اس کا سامنے نہ آنا اصل خلا ہے۔ حق یہ ہے کہ مذکورہ دونوں بیانیے اِس ’’خلا‘‘ ہی کا نام ہے۔

پس مین اسٹریم علمائےسنت کا بیانیہ وہ واحد چیز ہے جو اِس ڈیڈلاک کو ختم کروا سکتی تھی۔ شاید اب بھی بہت کچھ کر سکے۔ اس کی غیرموجودگی میں البتہ وہ دونوں بیانیے ایک دوسرے کی پیداکردہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ یعنی اسلامی ایجنڈا کا اور سے اور نقصان کرواتے اور صورتحال کو کسی بند تاریک گلی کی طرف دھکیلتے جائیں گے۔

اس ملک میں دین کا مفاد میرے لیے ہر چیز پر مقدم نہ ہوتا تو اس بات پر توجہ دلانے کی کوشش نہ کرتا کہ:

حالیہ منظرنامے میں روزبروز جو ایک گھمبیر اور تشویش ناک صورت پیدا ہو رہی ہے، وہ ہر دو فریق (شدت پسند اور جدت پسند) کو کلاسیکل اسلام والوں پر یہ ’ثابت‘ کرنے کا موقع دے رہی ہے کہ’دیکھا ہم نہ کہتے تھے‘:

1)    ملک میں امن و امان کی جو بدترین صورتحال ہو چکی، یہاں تک کہ اِس ’بہتی گنگا‘ میں بہت سی عالمی ایجنسیاں آ آ ہاتھ دھونے لگیں (یہ ظاہر کا نقشہ ہے، حقیقت میں وہ کب سے ہیں اور کس سطح تک ہیں، اللہ کے علم میں ہے)۔ اور خدانخواستہ ملک کی سالمیت کےلیے خطرے کھڑے ہو چکے... یہاں جدت پسند اپنی نورتن سفارشات کی لسٹ لے کر اور سے اور وثوق سے بولنے لگے: دیکھا، ہم کب سے کہہ رہے تھے! اب اور کتنی دیر لگاؤ گے ہمارا بیانیہ قبول کرنے میں؟! یعنی بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؛ یہ مریض (کلاسیکل اسلام کو ماننے والے جو محض اپنی خاموشی کے باعث اس صورتحال کی آنچ سہہ رہے ہیں) کب تک اِس حجام کے ’دینِ اکبری‘ والے نشتر سے بچے گا؛ آخر تو قابو آئے گا!

2)    دینی طبقوں کی اپنی خاموشی اور اپنے معاملات کو ہاتھ میں نہ لینے، اور غیرذمہ دار عناصر کو دین کی نمائندگی کرنے کےلیے چھوڑ رکھنے کے باعث، دینی طبقے دیوار کے ساتھ لگ گئے۔ الہدیٰ اور تبلیغی جماعت تک کےلیے مسائل سر اٹھانے لگے۔ بہت سے دینی پروگرام اور ادارے بےوجہ مصائب میں گھِر گئے۔ یہاں تک کہ ایسی جماعتیں جو اس ملک میں اول روز سے نہ صرف پرامن رہی ہیں بلکہ حالیہ خونریزی و بدامنی سے نوجوانوں کو دُور رکھنے کے معاملہ میں ایک فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں، خود یہ جماعتیں لبرلز کے کٹہرے میں کھڑی کر لی جانے لگیں اور وہ اِن کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے۔ ’دھاڑی‘ ایک تشویش کی علامت بننے لگی۔ اِس بدامنی اور افراتفری کے نتیجے میں محض شک کی بنا پر جیلوں میں بند یا لاپتہ افراد اندازے سے باہر ہیں۔ ’رائٹسٹ ونگ‘ کا ووٹ لے کر آنے والی حکومت یہاں کے مٹھی بھر لبرلز کے نخرے اٹھانے میں خاصی آگے تک چلی گئی، اور اغلباً اس کو اپنی بقاء کا سوال جاننے لگی... یہاں شدت پسند اپنے اُسی بےرحم غیرذمہ دار بیانیہ کے ساتھ اور سے اور وثوق سے بولنے لگے: دیکھا اب خود تمہارے ساتھ کیا ہونے لگا، کیا اب بھی کوئی شک ہے کہ ہم نے بالکل ایک صحیح راستہ چنا تھا! کیوں نہ تم نے اُس وقت ہمارا ساتھ دیا! دیکھا یہ اسلام دشمنی! اب کون ان کو بتائے کہ اسلامی سیکٹر دیوار کے ساتھ لگا ہی اس لیے کہ کچھ غیرمعمولی extra-ordinary  غیرمسبوق unprecedented   مواقع دین کے نام پر ایک شدت پسند ڈسکورس نے فریقِ مخالف کو فراہم کر ڈالے؛ جس کو پوری قوم اب بھگت رہی ہے اور ان بھگتنے والوں میں سرفہرست یہاں کے دینی طبقے۔ ورنہ یہ دینی طبقے، یہ مدرسے، یہ ’داڑھیوں والے‘ یہیں تو تھے، کب ان کے پیچھے دنیا یوں ہاتھ دھو کر پڑ گئی تھی؟ دنیا بڑی دیر سے یہ چاہتی ہو گی، مگر اس کے مواقع اِس آسانی اور اِس بہتات کے ساتھ تمہارے ان افعال کے دم سے ہی تو اس کو میسر آئے۔ اب بھی تم چاہتے ہو کہ جو جو دینی طبقے تمہارے پیدا کیے ہوئے ان حالات کی زد میں آتے چلے جائیں وہ اِس بحران کا دانستہ حصہ بنتے چلے جائیں! یوں معاملہ گھمبیر سے گھمبیر ہوتا چلا جائے۔

اِس بحران کا حل اِس کو ختم کرنا ہے نہ کہ اِس کو توسیع دینا۔  بحران کا تسلسل ختم کرنے کےلیے مین اسٹریم علمائےسنت کو کوئی initiative   لینا ہو گا۔ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں، حضرت تقی عثمانی ایسی قامت کی شخصیات محض غامدی بیانیہ کے چند نکات کا جواب دینے کی بجائے، علمائے سنت کا اپنا کوئی ایک اعلامیہ سامنے لے آئیں (جس کا موضوع فی الحال ’پاکستان میں اسلامائزیشن‘ نہیں بلکہ ’’حالیہ صورتحال کا حل‘‘ ہو) تو مسئلہ کہیں آسانی سے سدھر سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی اور تنظیم اسلامی وغیرہ اِس معاملہ میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دینی طبقوں کو بھی ایسے کسی اعلامیہ کے مندرجات کا پابند کرنے کی بھرپور تحریک اٹھائی جائے، ایک ایک مسجد اور ایک ایک دینی سرکل کی سطح پر اس کی پابندی کا عہد لینے کی مہم campaign   کی جائے (بعد اس کے کہ کبار علماء میں اس پر ایک اتفاقِ رائے پیدا کر لیا گیا ہو) اور اسی کی بنیاد پر اتھارٹیز کے ساتھ بھی باقاعدہ بات ہو۔ دینی طبقے اِس ملک کے مخلص sincere   پیدآور productive, contributive  حصے کے طور پر اتھارٹیز کو مثبت ضمانتیں دیں اور دینی وابستگی یا سرگرمی رکھنے والوں کےلیے اتھارٹیز سے مثبت ضمانتیں مانگیں، یوں معاملات کو ایک باقاعدہ ضبط میں لائیں اور ہر دو جانب پائی جانے والی ایک گونہ uncertainty   اور unpredictability   کا خاتمہ کریں۔ نتیجتاً؛ اتھارٹیز بھی دینی طبقوں کی بابت ایک واضح سرزمین پر چلیں، اور دینی طبقے بھی اتھارٹیز کے معاملہ میں۔ جس سے؛ مل کر ملک کی حفاظت اور تعمیر کی صورت پیدا ہو۔ یوں تیسرے یا چوتھے یا پانچویں کسی بھی فریق (شدت پسند، لبرل، بیرونی قوتیں وغیرہ سب) کو اس معاملہ میں غیرمتعلقہ irrelevant   کر دیں۔ آخر کیا مسئلہ ہے دینی طبقے اور اتھارٹیز براہِ راست تعاون سے یہ مسئلہ کیوں حل نہیں کر سکتے؟

ہاں ایسا کوئی بھی initiative   لینے والی شخصیات یہاں دندناتی پھرتی بیرونی ایجنسیوں کی ہٹ لسٹ پر آ سکتی ہیں۔ لہٰذا ان کی حفاظت کے پیشگی انتظامات اتھارٹیز کا ذمہ بنے گا۔ اور اصل حفاظت اللہ کی ہے۔  فَاللَّـهُ خَيْرٌ‌ حَافِظًا ۖ وَهُوَ أَرْ‌حَمُ الرَّ‌احِمِينَ



[1]   ہمارے حوالے سے اس قاعدہ کو سراہنے کے باوجود (جوکہ ہمارا نہیں، علمائے سنت کے ہاں بیان ہونے والا ایک معروف قاعدہ ہے) بعض حضرات نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خود ہم بھی حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں اور اگر جان بخشی کے قائل ہیں تو صرف عوام کی! (یعنی ہمارے اس قاعدہ کو بیان کرنے اور ان کے اسے سراہنے کا کچھ فائدہ نہ ہوا!) حالانکہ جو بات ہم نے کہی وہ یہ کہ: ’’تکفیری‘‘ کی اصطلاح (غیر علمائے سلطان) عرب حلقوں میں عموماً ان طبقوں پر بولی جاتی ہے جو صرف حکمرانوں کو نہیں بلکہ عام معاشروں کو اپنی تکفیر کی زد میں لاتے ہیں۔ البتہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہمارے ایک دوسرے شمارہ میں ایک مضمون علیحدہ سے اس صریح عنوان کے ساتھ دے بھی رکھا گیا ہے کہ ’’ہم حکمرانوں کی معیّن تکفیر کیوں نہیں کرتے‘‘۔ بھئی جب ہم یہ قاعدہ بیان کر رہے ہیں کہ حکمِ مطلق حکمِ معیّن کو خودبخود لازم نہیں (بلکہ ثانی الذکر کسی اجتماعی فتویٰ کی صورت میں جب تک علمائے امت کی طرف سے ہی نہیں آتا تب تک کسی معیّن شخص یا ادارے پر وہ حکم نہیں لگایا جا سکتا، یہ بات ہمارے مضامین میں بکثرت دہرائی گئی ہے) تو اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم تو علماء کے کسی اجتماعی فتویٰ کے بغیر کسی معیّن شخص یا ادارے یا گروہ کی بابت ایسی کوئی بات کہنے کے روادار نہیں۔

بعض معترضین کی یہ منطق بھی عجیب رہی کہ جو حکم حکمرانوں کا عین وہی حکم عوام کا ہونا لازم ہے (اغلباً ان کو منتخب کرنے کی وجہ سے)، ورنہ یہ ’کھلا تضاد‘ ہو گا! جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم تو حکمرانوں کو معیّن کرکے نہ کافر کہتے ہیں اور نہ فاسق، بلکہ ایسی کسی بھی بات کےلیے علمائے امت کی جانب سے کوئی اجتماعی فتویٰ آنے کی شرط ہی لگاتے ہیں، اور اگر ایسا کوئی اجتماعی فتویٰ ہمارے علم میں نہ ہو تو کچھ اپنے پاس سے نہیں کہتے اور حکمرانوں سمیت سب کا اصلی حکم مسلمان ہی مانتے ہیں، اور وہ حکم اپنے اصل پر باقی ہے۔ البتہ ان معترضین میں سے کئی ایک کو ہم نے حکمرانوں کو فاسق کہتے سنا ہے۔ تو  کیا یہ انہیں منتخب کرنے والے عوام الناس کو فاسق کہتے ہیں؟  کہ جو حکم حکمرانوں کا وہ عوام کا!

بھائی یہ (حکمِ مطلق و حکمِ معین میں فرق) والا قاعدہ یہ بحثیں ہی تو ختم کراتا ہے، حکمرانوں کی بابت بھی اور عوام الناس کی بابت بھی۔ بلکہ ہر کسی کی بابت۔ اِس قاعدہ کے بغیر آپ عوام کی بابت اپنا ’تضاد‘ دور فرما کر دکھا دیجئے: علمائے توحید کا ’’غیراللہ کو پکارنے والے کو مشرک کہنا‘‘ عوام کی کتنی بڑی خلقت کو اپنی زد میں لے سکتا ہے؟ اِلا یہ کہ آپ غیراللہ کو پکارنے کو شرک ہی نہ کہتے ہوں! (یا اسی طرح کے کچھ دیگر شرکیہ اقوال و افعال جو عوام الناس کی ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں)۔ تو کیا اگر آپ ایسے کسی قول یا فعل کو شرک سمجھتے ہیں، ہم یہ کہہ دیں کہ پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو آپ مشرک سمجھتے ہیں؟ ظاہر ہے یہاں ہم (حکمِ مطلق اور حکمِ معیّن میں فرق والے) اس قاعدہ کی بنیاد پر ہی آپ کی بابت ایسا نہیں سمجھیں گے، ورنہ آپ کروڑوں انسانوں کی تکفیر کرنے والے ہوئے۔ یہ قاعدہ جب باربار ہم بیان کرتے ہیں تو آخر ہمیں ہی اس کا فائدہ کیوں نہیں مل سکتا اور ہماری بابت یہ اصرار کیوں کہ ہم بغیر فتوائے علماء کسی کی تکفیر کرتے ہیں، جبکہ ہم مسلسل اس بات سے انکاری ہیں؟

[2]    حق یہ ہے کہ ہردو بیانیہ کے رد میں ہم (اسلامی سیکٹر) سے بہت تاخیر اور تقصیر ہوئی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ کہ اسلامی سیکٹر اس وقت دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ اس سے برا وقت دینی طبقوں پر اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ اِس ’جوابی بیانیہ‘ کے آڑے آنے کا بھی صحیح طریقہ یہی تھا کہ ’تکفیری بیانیہ‘ کے راستے کی سب سے بڑی دیوار بن کر یہاں اسلامی سیکٹر ہی سامنے آتا اور وہ بھی ایک ایسی خوش اسلوبی سےکہ نوجوانوں کی اتنی تعداد ’تکفیر‘ کی جانب لڑھکنے ہی نہ پاتی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے یہاں تکفیری بیانیہ کا علمی رد ہی مفقود تھا۔ اور جو تھا وہ نادانستہ ’جوابی بیانیہ‘ کے ہاتھ مضبوط کر رہا تھا۔ اس کے نقصانات پر اداریہ کی بعض فصول میں ہم نے کچھ تفصیل سے بات کی ہے۔

[3]   یعنی یہ تو ہو سکتا ہے کہ آج کوئی آدمی ایسی بات کرے جو بڑی صدیاں پہلے معتزلہ یا خوارج بھی کر گئے تھے۔ اور اس لحاظ سے اس کی بابت یہ نہ کہا جا سکے کہ اس نے ایسی بات کی ہے جو اس سے پہلے امت میں کسی نے نہیں کی (کیونکہ معتزلہ یا خوارج وہ بات کر چکے ہیں، اس لحاظ سے یہ بات نئی نہیں ہے)۔ اور اس صورت میں ہم کہیں گے، اس کا انقطاع ذرا پیچھے سے چلا جاتا ہے اور یہ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ کا مصداق ہے۔ اور بلاشبہ مختلف ادوار کی بدعات میں ایک گونا مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ اپنے ان استدلالات میں نسل در نسل پیچھے چلا جاتا عہدِ صحابہؓ تک پہنچ جائے۔ یہ بات آپ کو صرف اہل سنت میں ملے گی۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز