عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, October 28,2021 | 1443, رَبيع الأوّل 21
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2016-07 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
کافر کی ہمارے خلاف جنگ کا پہلا محور: "مسلمان" کو کسی بڑی جغرافیائی اکائی کے طور پر روئےزمین سے ختم کر ڈالنا
:عنوان

اذانوں کا کوئی دیس ایسا نہ چھوڑاجائےجو’کروڑوں‘پر مشتمل ہو۔’لاکھوں مربع میل‘پر کھڑاہو۔’وسائل‘کا ایک بڑا ذخیرہ رکھتا ہو۔کسی’بڑی فوج‘کا مالک ہو۔کوئی’ایٹمی طاقت‘رکھتاہو۔کسی’بڑی عسکری قوت‘کا مخزن ہو۔کسی علاقائی یا عالمی توازن کےاندر کوئی بڑی’ایکویشن‘بناسکتاہو

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

کافر کی ہمارے خلاف جنگ کا پہلا محور:

"مسلمان" کو کسی بڑی جغرافیائی اکائی کے طور پر روئےزمین سے ختم کر ڈالنا

اداریہ 3

حتیٰ کہ چند بڑی بڑی جغرافیائی اکائیوں کے طور پر بھی ’’مسلمان‘‘ کو روئےزمین پر نہ رہنے دینا۔

یہ ہے کافر کی ہمارے خلاف جنگ کا پہلا محور۔

صاف پروگرام اس بار یہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی بڑا خطہ متحد و مستحکم نہ چھوڑا جائے۔ کوئی گھر مسلمانوں کا ایسا نہ ہو جس میں مسلمان ’کروڑوں‘ کی تعداد میں اپنی قوت اور وسائل مجتمع کر  سکتے اور اپنی قسمت کے آپ مالک ہو سکتے ہوں۔

مسلمانوں کا کوئی طاقتور خطہ جو کافروں کے ساتھ برابری کی سطح پر آ سکتا ہو۔ بلکہ (گلوب پر اپنی مرکزی پوزیشن، اپنے بےتحاشا وسائل، خصوصاً اپنی ایک ہوش ربا ڈیموگرافی کے بل پر) کسی دن  کافر پر فوقیت پا  سکتا ہو، جس کے امکانات کچھ ایسے معدوم بھی نہیں رہ گئے اگر بعض مسلم ممالک یونہی پنپتے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ صلیبی اپنے ان بھاری بھرکم امکانات کے ساتھ جو اُسے آج حاصل ہیں، عالم اسلام کے ایسے کسی خوفناک مستقبل کا سدباب کر  جانا چاہتا ہے۔

مسلمانوں کا ایسا کوئی گھر ’اسلامی نظام‘ پر بےشک آج نہ بھی کھڑا ہو، اور چاہے وہاں دین سے دُوری کے ان گنت مظاہر بھی دیکھنے میں آتے ہوں، اور بےشک قرآن بھی وہاں بےسوچےسمجھے ہی فی الحال پڑھا جا رہا ہو، اذان اور نماز کے کلمات بھی فی الحال ان کی زندگیوں میں کوئی خاص مضمون ادا نہ کر پا رہے ہوں[1]... اس کے باوجود  اذانوں کا کوئی دیس ایسا نہ چھوڑا جائے جو ’کروڑوں‘ پر مشتمل ہو۔ ’لاکھوں مربع میل‘ پر کھڑا ہو۔ ’وسائل‘ کا ایک بڑا ذخیرہ رکھتا ہو۔ کسی ’بڑی فوج‘ کا مالک ہو۔ کوئی ’ایٹمی طاقت‘ رکھتا ہو۔  کسی ’بڑی عسکری قوت‘ کا مخزن ہو۔  کسی علاقائی یا عالمی توازن کے اندر کوئی اہم ’ایکویشن‘ equation  بنا سکتا ہو۔ مسلمان بےدین سے بےدین بھی اِس حیثیت میں قبول نہیں۔ اور وہ بھی فی الحال۔ ورنہ؛ مسلمان کسی بھی حیثیت میں قبول نہیں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اور ترکی دنیا کی چند بڑی فوجی طاقتوں میں آتے ہیں۔ (صدام کا عراق بھی دنیا کی کچھ قابل ذکر فوجی طاقتوں میں آنے لگا تھا، جو اَب صلیب کی ڈاڑھ تلے آ چکا، اور وہ عراق اِس وقت عبرت نگاہ ہے)۔ پاکستانی انٹیلی جنس دنیا کی پہلی چار یا پانچ انٹیلی جنسوں میں آتی ہے اور گلوب کا ایک قابل ذکر کھلاڑی۔ ترکی یورپ کی ابھرتی ہوئی ایک اقتصادی طاقت ہے، اس وقت جب یورپ کی کئی معیشتیں بیٹھ رہی ہیں۔ نیز مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی ایک سیاسی طاقت۔ ادھر افغانستان میں ایک ’’پاکستان دوست‘‘ حکومت کے آتے ہی وسط ایشیا تک جو ایک سُنی بلاک بنتا ہے وہ ’بھارت‘ سے بڑی ایک ایمپائر ہے۔ مسلمانوں کے یہ دو سُنی پول two sunni poles at the heart of the globe   (ایک ابھرتا ہوا ترکی اور پاکستان) کسی ’دورِعثمانی‘ کی یاددہانی نہ بھی ہو، ’دورِ ممالیک‘ ایسا ایک داخلی استحکام تو مسلم دنیا کو پھر بھی دلواتا ہے؛ جہاں مسلم پانیوں میں ہر کسی کو پوچھ کر گزرنا پڑتا ہے۔ یعنی زمین کے مرکز میں مسلمانوں کی چلتی ہے۔ کوئی ’بڑی مجبوری‘ نہ ہو تو  ملتِ صلیب ایسی کسی صورت کو واپس آتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔

جن دینداروں کو معاملے کی اِس جہت پر تعجب ہے

مجھے معلوم ہے کچھ دینداروں کےلیے معاملے کو دیکھنے کی یہ جہت خاصی انہونی ہے۔ یہ بڑے ہی زبردست شرعی معیارات سے کم کسی چیز پر مسلمانوں کی ان جغرافی اکائیوں کو ماپنے پر آمادہ نہ ہوں گے۔ شرعی معیارات سر آنکھوں پر۔ مگر میں ان حضرات سے عرض کروں گا، معاملے کا نقشہ اگر آپ دشمن کی جہت سے سمجھنا چاہتے ہیں تو حالیہ عالمی اکھاڑپچھاڑ میں مسلمانوں کی اِن جغرافیائی اکائیوں  کی پوزیشن جانچتے وقت اپنے معیار مت رکھیے۔ اس کی وجہ ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں۔ معاملے کی حالیہ پوزیشن کو اگر آپ جانچنا چاہتے ہیں تو اس وقت کے ’پاکستان‘، ’ترکی‘، ’عراق‘، ’سعودی عرب‘، ’مصر‘، ’سوڈان‘، ’انڈونیشیا‘ اور ’الجزائر‘ وغیرہ کو تھوڑی دیر کےلیے دشمن کی ہی نظر سے دیکھنے کی زحمت فرمالیجیے۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا، ایسی بڑی بڑی مسلم اکائیوں کی گنجائش ایک صلیبی ’نیوورلڈ‘ کے اندر کہاں ہے۔ ’’شرعی معیاروں‘‘ کا معاذ اللہ ہمیں انکار نہیں۔ لیکن ان کو لاگو کرنے کا سیاق بالکل اور ہے۔  (اس پر ذرا آگے چل کر ایک قاعدہ ذکر  ہو رہا ہے)۔ اِس چیز کو اگر آپ نظرانداز کریں گے تو معاملے کو الجھا بیٹھیں گے (بلکہ ایک طبقہ اسے الجھا بیٹھا ہے، جس کا خیال ہے وہ معاملے کو شرعی معیاروں پر دیکھ رہا ہے)۔ ہم ان حضرات سے کہتے ہیں، اپنے ان ’شرعی معیاروں‘ پر آپ کا بوسنیا اور کوسووا بھی یقیناً فیل fail   ہی ہوتا تھا۔ اسلام کی کوئی ایک بھی بات اغلباً آپ کو بوسنیا اور کوسووا میں نوّے کی دہائی کے آغاز میں نظر نہ آتی تھی۔ لیکن اُسی ’دین سے دور‘ بوسنیا اور کوسووا کو آپ ایک نظر صلیبی کی آنکھ سے دیکھیں تو وہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جانے کے قابل ٹھہرتا تھا!

یہ ہے وہ فرق جس پر ہم آپ سے توجہ لینا چاہتے ہیں تاکہ اِس جنگ کے نقشے کو سمجھنے میں غلطی نہ ہو (اور اپنے ہی پیر پر کلہاڑی نہ مار بیٹھیں)۔ آپ نے نوٹ فرمایا: وہی ’اسلام سے کوسوں دور مسلمان‘ بوسنیا اور کوسووا کے اندر گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جانے کے لائق ٹھہرتا ہے۔ وہی ’مغربی میم‘ دکھائی دینے والی آپ کی بوسنوی اور کوسووی خاتون، صلیبی گماشتے کے ہاتھوں غارت کر دی جانے کے قابل ٹھہرتی ہے۔ اس لیے کہ اس کے رحم میں پلنے والے نطفے کسی دن اِسی لاالٰہ الا اللہ  کو ’سوچ سمجھ کر‘ بھی پڑھ سکتے ہیں؛ جس سے فرعون کی کسی ’مجوزہ‘ دنیا کی جان جاتی ہے۔ ورنہ کافروں جیسا ہونے میں کیا کسر چھوڑی تھی بوسنیا اور کوسووا کی ہماری اس بیٹی نے؟

تو پھر یہاں سے اندازہ کر لیجئے، کافر کتنی دُور تک دیکھتا ہے، پیچھے بھی اور آگے بھی۔ دوسری جانب ہمارا یہ مسلمان ’شرعی عینک‘ لگا رکھنے کے باوجود کیسا کوتاہ نظر ہے۔  کافر اِس ’بےدین‘ مسلمان کی پشت میں پڑی نسلوں کو لاالہ الا اللہ پڑھتا اور چشم تصور میں یورپ کو فتح کرتا دیکھتا ہے تو آج اِسے کسی بڑی جغرافیائی اکائی کے طور پر دیکھنے کا روادار نہیں رہتا۔  ادھر ہمارا تنگ نظر دیندار اِس کی ٹخنوں سے نیچی شلوار یا اس کی ڈاڑھی مُنڈی صورت سے گزرنے پر آمادہ نہیں! یہ اس کی کچھ غیرشرعی حرکتیں  دیکھتا یا اسے عقیدہ و عمل کی خرابیوں میں پڑا ہوا پاتا ہے تو  اپنی کسی ہمدردی یا مدد و نصرت و اعانت کے قابل نہیں جانتا... اور کیا بعید خود بھی کسی وقت اس کا کام تمام کرنے کی سوچے؛ اور نادانستہ اُس خرانٹ دشمن ہی کا کام آسان کر آئے!

مقصد یہ کہ: اس جنگ کا نقشہ سمجھنے کےلیے آپ یہاں پر مطلوبہ ’’تبدیلی‘‘ و ’’اصلاح‘‘ کے معیارات نہیں، بلکہ ذرا دیر معاملہ دشمن کی نگاہ سے دیکھ لیجئے۔ بہت ممکن ہے صورتحال اُس سے مختلف نظر آئے جو آپ اِس جنگ کے کسی ایک ہی فیکٹر کو سامنے رکھتے ہوئے معاملہ کی اسیسمنٹ assessment   کرتے رہے تھے۔

یہ بات ایک قاعدے کے طور پر نوٹ ہونی چاہئے کہ:

ý      اپنے شرعی معیارات  آپ زیربحث لائیے یہاں پر درکار اصلاح اور تبدیلی کے مباحث کے دوران۔ اور اس اصلاح اور تبدیلی کا اپنا ایک طریقہ ہے، جس پر ہم آگے چل کر کچھ بات کریں گے۔[2]

ý      البتہ اِس عالمی اکھاڑے کا نقشہ جانچنا ہو تو... اپنی اِن جغرافیائی اکائیوں کو اِن کے وسائل، معدنیات، عسکری امکانات اور ڈیموگرافی وغیرہ ایسے عوامل کے ساتھ جو ’مستقبل‘ کے کسی نقشے کو تشکیل دینے میں غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہوں، ذرا دیر کےلیے ’’صلیبی‘‘ کی نظر سے دیکھ لیجیے۔ خاص اِس پہلو سے ’’صلیبی‘‘ عالم اسلام کو جس گھیرے میں لے رہا ہے، اسے اپنے سامنے رکھ لیجیے۔ اور پھر یہاں پر چلی جانے والی چالوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

صلیبی آپ کے صرف ’آج‘ کو نہیں دیکھتا

واضح کرتے چلیں، ہماری ان سب باتوں کا مقصد صرف ایک ہے: دعوتی عمل کو ایک پختگی کی طرف لانا۔ لہٰذا ہمیں پروا نہیں، فی الحال ہماری ان باتوں کو کس قدر تعجب اور حیرانی سے لیا جاتا ہے۔ بس دعاء ہے کہ ان باتوں کو سمجھنے میں ہم بہت دیر نہ کر لیں۔ سن 2007 میں ہم جو باتیں کررہے تھے  اور ’لال مسجد‘ سے ملحقہ پورے ایک منظرنامے سے خبردار کر رہے تھے، (جس پر ہماری تالیف ’رو بہ زوال امیریکن ایمپائر‘ شاہد ہے)، اُن باتوں کی صداقت سے آج وہ لوگ بھی شاید انکار نہ کر پائیں جو اُس وقت ہماری اُن باتوں کو حیرانی سے سن رہے تھے اور شاید سننا بھی گوارا نہیں کر رہے تھے۔ ہم نے جو لکھا یہ ضروری جان کر نہیں لکھا کہ وہ لازماً آج ہی کی تاریخ میں ہمارے سب لوگوں کی سمجھ میں آجائیں گی۔ یا فی الفور مان ہی لی جائیں گی۔ ہم نے جو لکھا یہ سوچ کر لکھا کہ اپنے لوگوں کی یہ امانت ہمیں بہرحال ادا کرنی ہے۔ پس یہاں جو بات ہم دینی طبقوں کی خدمت میں عرض کر رہے ہیں اسے غور سے سنیے؛ ہمیں نہیں معلوم قسمت ہمیں مزید کتنا وقت دیتی ہے:

مسلمانوں کی ہر بڑی جغرافیائی اکائی   __  خواہ وہ اپنے یہاں قائم ’نظام‘ یا اپنی بستیوں کے اندر نظر آنے والے تہذیبی مظاہر کے معاملہ میں سن 1992ء کے بوسنیا، کوسووا یا البانیہ سے زیادہ ’غیراسلامی‘ کیوں نہ ہو  __   اِس وقت صلیبی منصوبہ ساز اور اُس کے بھارتی/صیہونی اتحادی کی ہِٹ لسٹ پر ہے۔ اور ایسی ہر بڑی مسلم اکائی کے ’کویت‘، ’قطر‘ اور ’برونائی‘ جتنے یا اس سے بھی چھوٹے ٹکڑے کر دینا ایک ’نیا جہان‘ تشکیل کرنے والوں کی ترجیحات میں اِس وقت باقاعدہ شامل ہے۔ اِس خواب کو عملی تعبیر پہنانا آج بےشک اُن کےلیے آسان نہیں (اور ان شاءاللہ کبھی آسان نہ ہو گا)؛ اور فوراً تو شاید ممکن ہی نہیں (کیونکہ معاملہ اچھاخاصا اُن کے ہاتھ سے نکلا ہوا ہے، جس کی کچھ وضاحت ’سرد جنگ‘ کے حوالے سے آگے آ رہی ہے)۔ لہذا اس کےلیے اب انہیں کچھ الجھی ہوئی اور لمبی چالیں چلنا پڑ رہی ہیں۔ جس کے تحت یہاں کے بہت سے اندرونی وبیرونی عوامل کو بیک وقت وہ راہ دکھائی جا رہی ہے جو مسلم دنیا کو چھوٹے چھوٹے لقمے کر دینے پر منتج ہو سکے۔

چونکہ شرط یہ نہیں ہے کہ ہماری سب باتیں آج ہی سمجھی اور مانی جائیں لہٰذا کچھ حرج نہیں، ہم ایسی ’جغرافیائی اکائیوں‘ کو مثال سے بھی آپ کےلیے واضح کردیں، اور اپنی بات میں کسی قسم کا غموض نہ رہنے دیں، بےشک آپ کا تعجب کچھ بڑھ ہی کیوں نہ جائے!

یہ مت سمجھئے کہ وہ جغرافیائی اکائیاں جو شیاطین عالم کے کسی مطلوبہ ’پوسٹ-یو-این-ورلڈ‘ a desired post-UN-world میں فٹ نہیں بیٹھتیں... وہ خاص کوئی ’اردگان کے ترکی‘ یا ’ضیاء الحق کے پاکستان‘ یا ’فیصل کے سعودیہ‘ یا ’عزت بیگووچ کے بوسنیا‘ ایسی مسلم اکائیاں ہی ہوں گی۔ یعنی اردگان یا ضیاء الحق یا فیصل یا بیگووچ ایسی قیادتیں اگر نہ ہوں تو مسلمانوں کی یہ جغرافیائی اکائیاں تو اپنی تمام تر ڈیموگرافک جہتوں کے ساتھ اُن کو ہضم ہی ہضم ہیں! یہ سوچنا بالکل غلط ہو گا۔ حق یہ ہے کہ ترکی کو کوئی ’اردگان‘ یا پاکستان کو کوئی ’ضیاء الحق‘ یا سعودیہ کو کوئی ’فیصل‘ یا بوسنیا کو کوئی ’بیگووچ‘ میسر آنا دشمن کو ہم پر بےرحم ہو جانے کے کچھ اضافی اسباب فراہم کرتا ہے۔ ورنہ قبول ان کو ’اتاترک‘ کا ترکی بھی بہرحال نہیں ہے۔ ابھی ہم اس کی وجہ بتائیں گے، کیوں۔ (’اتاترک کا ترکی‘ ہم نے اِس ضمن کی بدترین مثال دینے کےلیے ذکر کیا ہے تاکہ کوئی غموض رہ ہی نہ جائے، بقیہ مثالیں اسی پر قیاس کر لیجئے)۔

’اتاترک کا ترکی‘ ’’خلافت‘‘ کے مقابلے پر ایک نعمتِ غیرمترقبہ ضرور ہو گا۔ (ہم یہاں دشمن کی نظر سے بات کر رہے ہیں)۔ تاہم ’’خلافت‘‘ جب ایک بار ختم کی جا چکی تو ضروری نہیں ’اتاترک کا ترکی‘ اپنے اُسی سائز، اُنہی وسائل اور اُنہی عسکری امکانات کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے پسندیدگی کی نگاہ سے ہی دیکھا جاتا رہے۔ لِكُلِّ مَقَامٍ مَقَال، وَلِكُلِّ حَادِثٍ حَدِيثٌ! وجہ اس کی واضح ہے۔ ’اتاترک کے ترکی‘ کو ’اردگان کا ترکی‘ بننے میں آخر دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ چند عشرے؟ تو پھر ایک مضبوط ترکی ’اتاترک‘ کے پاس بھی کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟ الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو۔ اور ہاں مجبوری ہو (سوویت عفریت کی گرم پانیوں کی طرف پیش قدمی) تو ’ضیاءالحق کے پاکستان‘ کے ساتھ بھی معاملہ کر لینا پڑتا ہے!

پس مسئلہ مجبوریوں کا ہے۔ کوئی خاص مجبوری نہ ہو تو عالم اسلام میں کوئی ملحد سے ملحد ’’قیادت‘‘ کیوں نہ ہو، بےدین سے بےدین ’’نظام‘‘ کیوں نہ ہو، صلیبی یہاں ایک مسلم ملک کو مضبوط اور توانا چھوڑنے کا خطرہ مول لے ہی نہیں سکتا۔ اتاترک بھی ہو، وہ صرف اپنے کفر کی گارنٹی دے سکتا ہے اپنی نسلوں کی نہیں! اس ’مسئلے‘ کا کوئی کرے تو کیا کرے؟ مسلم دنیا کی ’گارنٹی‘ اللہ کے فضل سے کوئی نہیں دے سکتا؛ یہاں تک کہ خود ملحد بھی نہیں! خود اِس (ملحد) کے گھر میں کب کوئی دیندار پیدا ہو جائے، کچھ ضمانت ہے؟ (صلیبی کو ہماری مسجد اور ہماری اذان، یہاں تک کہ اب تو ہماری تبلیغی جماعت اور الہدیٰ ایسی بےضرر چیزیں بری لگتی ہیں کیونکہ یہ مسلم بیداری کےلیے ایک ’نرسری‘ کا درجہ رکھتی ہیں! بڑے بڑے ملحد افسروں کے گھروں میں آپ نے بڑے بڑے دیندار بچے دیکھ رکھے ہوں گے؛ عالم اسلام کا یہ ایک ’جینوئن‘ مسئلہ ہے؛ آخر اسے کیسے نظرانداز کر دیا جائے!)۔ یہ ملحد اپنی آئندہ نسلوں کی تو کیا ضمانت دے گا، اس بات ہی کی کیا ضمانت کہ خود یہی کل کو تائب نہیں ہو جائے گا اور مرنے سے پہلے خدا کے ساتھ اپنا معاملہ درست کرنے کےلیے فکرمند نہیں ہو جائے گا! مسلمان ماں کے دودھ میں خدا نے کچھ رکھا ضرور ہے!

اس لحاظ سے؛ خدا نے عالم اسلام کے معاملے کو کچھ لاک lock   لگوا دیے ہیں۔ یہ قدرتی لاک lock    ہیں۔ کوئی مائی کا لال انہیں اَن لاک unlock    نہیں کر سکتا۔ کوئی ضمانتیں یہاں پائی ہی نہیں جاتیں۔ ضمانتیں کہیں ہوں تو دی جائیں! ملتِ صلیب پس یہاں ’شخصیات‘ کو نواز سکتی ہے ’’ملکوں‘‘ کو نہیں؛ خواہ یہ شخصیات اُس کےلیے سونے کی کیوں نہ ہو جائیں!!! لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے ملکوں کو ’’بڑی طاقتیں‘‘ بنتا چھوڑنا صلیبی کی لغت میں نہیں، سوائے یہ کہ مجبوری ہو!

پس کُل کھیل آپ کو اُس کی مجبوریوں کے ساتھ کھیلنا ہوتا ہے۔ اس بات کو ایک کُلی قاعدے کے طور پر لکھ لیجئے۔

چند مسلم ممالک اتنی سی طاقت بھی کیسے حاصل کر سکے؟

دیکھئے ان بڑے سائز کے مسلم ملکوں کے ساتھ دشمن کی بےرحمی اِس تمام عرصہ ایک حد سے نہیں بڑھ پائی تو اس کی وجہ دشمن کی ایک مجبوری تھی جس کا نام ہے ’سردجنگ‘۔ یہ وہ مجبوری ہے جس نے نصف صدی تک مغربی بلاک کو خطرے کی سولی پر لٹکائے رکھا اور جس کے باعث مغربی بلاک آپ کے پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب ہی کیا آپ کے افغان جہاد تک کی بلائیں لینے پر مجبور ہوا رہا تھا بلکہ ان میں اپنی بقاء دیکھنے لگا تھا۔ سو اس کےلیے تو دعائیں دیجئے ’سرد جنگ‘ کو! البتہ یہ مت سمجھئے کہ یہ بڑی بڑی مسلم اکائیاں اپنی اِس ’اسلام سے دُور‘ حالت میں تو چلیں ان کو قبول ہیں۔ کَلَّا۔

تیسری دنیا میں ’’آزادیوں‘‘ کا جو ایک فنامنا بیسویں صدی کے وسط میں دیکھا گیا اور بعدازاں چند مسلم ممالک کے کچھ ترقی کرجانے کی بھی جو ایک صورت بنتی چلی گئی، اس کا ایک خاص پس منظر ہے جو ہماری تحریروں میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔  اپنی بات آگے بڑھانے کےلیے یہاں مختصر طور پر ہمیں وہ ایک بار پھر بیان کرنا ہو گا:

بیسویں صدی کا نصفِ اول دو ’’عالمی جنگیں‘‘ اور بیسویں صدی کا نصفِ دوم پانچ عشروں پر محیط ایک خونخوار گلوبل ’’سرد جنگ‘‘ دراصل استعمار کے شکنجے میں پوری طرح آچکے اور اب بظاہر ہمیشہ ہمیشہ کےلیے قابو عالم اسلام کی گردن چھڑوانے اور مسلمانوں کو سنبھلنے کا بھرپور موقع دینے کےلیے ایک خدائی تدبیر تھی...

مغربی قوتوں کی عالم اسلام پر ایک خونخوار چڑھائی جو انیسویں صدی میں ہوئی، بیسویں صدی میں یکلخت پسپا ہوتی ہے، بلکہ ’آزادیوں‘ کی ریل پیل دکھائی دیتی ہے، تو اس سے ان قوتوں کی ’شرافت‘ سے متعلق کوئی دھوکہ نہ کھانا چاہئے۔ وہ شکار جو اٹھارویں اور انیسویں صدی میں مارا گیا تھا، اُس کو تو ایسے مزے لےلے کر کھایا جانا تھا کہ الامان والحفیظ۔ کالج یونیورسٹیاں‘ بناتے اور ملکہ وکٹوریہ کے در کو پہنچانے والی ’ریل‘ بچھاتے کچھ دیر لگ گئی تو اس لیے کہ جلدی ہی کسی بات کی نہیں تھی! جس شکار کو مارنے کےلیے صدیاں لگیں اس کو کھانے کےلیے بھی صدیاں چاہئیں تھیں! لیکن کیا دیکھتے ہیں، چند ہی عشروں میں (بیسویں صدی کا آغاز) ’’عالمی جنگوں‘‘ کا ایک ہولناک کمرتوڑ عذاب (مَن عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ[3] کے مصداق) مسلمانوں کے سینے پر چڑھی بیٹھی استعماری قوتوں کے عین سر پر آپہنچا (قُلْ هُوَ الْقَادِرُ‌ عَلَىٰ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْ‌جُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ)[4] اور تھوڑے عرصے میں غاصبوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اتنی سیانی قوتیں خدائی تدبیر کے آگے یوں بےبس؛ اپنے ہاتھ سے (تیسری دنیا کے کم عقل جذباتی ’فرقوں‘ کی طرح) ایک دوسرے کا یوں گلا کاٹتی چلی گئیں  کہ سارا عالمی سیناریو ہی بدل کر رہ گیا اور وہ ٹوٹی کمر کے ساتھ ’فی الوقت کےلیے‘ شکار کی جان چھوڑ، شرافت و انسانیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے، اپنے گھر کو سدھار گئیں؛ اور اپنے بڑھاپے کا اندازہ کر کے ’حقوقِ انسانی‘ کا وِرد کرنے لگیں۔ دنوں میں ’یو۔این‘ کھڑی کی گئی۔ بقیہ کہانی پھر سرد جنگ نے پُر کی، جس کی تفصیلات ہمارے سامنے ہیں، اور جس کے بطن سے خدا نے ہمارا عالمی جہاد برآمد کرا ڈالا، جوکہ ابھی سرے نہ لگا تھا کہ شمال مغربی برصغیر کی ایک غیرمعمولی صلاحیتوں کی مالک مسلم قوم کو دنیا ’’نیوکلیئر پاور‘‘ کے طور پر دیکھ رہی تھی!

اتنا ڈراؤنا خواب تو عالمِ صلیب کے یہاں پچھلی تین صدیوں سے کبھی نہ دیکھا گیا ہو گا! مسلمانوں کا ’’عالمی جہاد‘‘ اور مسلمانوں کا ’’نیوکلئیر پاکستان‘‘ خدائی تقدیر کے کچھ خصوصی نشان ہیں، جن کو محض ’اسباب‘ کے تحت بیان کرنا ہم اپنے لیے خاصا مشکل پاتے ہیں۔ (دونوں، اپنی الگ الگ حیثیت میں  __ ایک دُوررَس طور پر __ ’عالمی توازن‘ کو اس کی اوقات پر لانے کا نقطۂ ابتداء، ان شاءاللہ وبفضلہٖ تعالیٰ)۔

ان دونوں کی تفسیر  explanation  ’سرد جنگ کے فراہم کردہ مواقع‘ کے سوا کسی چیز سے ممکن نہیں؛ اور ’سرد جنگ‘ اپنی پیش رَو ’عالمی جنگوں‘ کی طرح ایک خاص خدائی تدبیر؛ جس نے ’سیانی‘ قوموں کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔

حق یہ ہے کہ ہمارا ’’عالمی جہاد‘‘ اور ہمارا ’’نیوکلئیر پاکستان‘‘ (مجموعی طور پر) سرد جنگ کے بطن سے برآمد ہونے والا اتنا ہی بڑا ایک واقعہ ہے جتنا کہ عالمی جنگوں کے بطن سے برآمد ہونے والا عالم اسلام کی ’آزادی‘ ایسا ایک بڑا تاریخی واقعہ۔

پھر اس سے کچھ ہی دیر بعد تقدیر کے بطن سے ایک اور واقعہ ایسا رونما ہوا جو کسی کے سان گمان میں تھا اور نہ آ سکتا تھا۔ اِس واقعہ کو بھی محض ’اسباب‘ کی بنیاد پر تفسیر نہیں کیا جاسکتا؛ اور یہ تھا ’اتاترک کے ترکی‘ کا منظر سے ہٹتے چلے جانا اور اس کی جگہ ’اردگان کے ترکی‘ کا نمودار ہوتے چلے جانا!

(کچھ بعید نہیں اسی فہرست میں ’فہد و عبداللہ کے دَم کشیدہ سعودی عرب‘ کی جگہ خطرات میں کود پڑنے والا ’سلمان کا سعودی عرب‘ بھی آئے، مگر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ ’مرسی کا مصر‘ بھی اِس فہرست میں آتا آتا رہ گیا؛ ورنہ آنے والے دنوں کی صورت  شاید کوئی اور ہوتی۔ گو پھر بھی ہم ناامید نہیں؛ آج نہیں تو کل ان شاءاللہ ایک واقعہ ہونا ہی ہے۔ واللہ غالبٌ علیٰ امرہ۔ پھر تیونس سے نمودار ہونے والی اور لیبیا و مصر سے گزرتی شام تک جا پہنچنے والی ’عرب سپرنگ‘ جوکہ آدھی پونی ’اسلامی سپرنگ‘ بھی تھی وقتی طور پر چاہے ناکام ہو گئی ہو لیکن خطے میں اسرائیل کے ’مستقبل‘ کےلیے پریشان طبقوں کو بہت کچھ بتا گئی: ان بڑے بڑے سائز کے مسلم ملکوں کے یہاں کوئی ٹھوس انفراسٹرکچر یا کوئی مضبوط اکانومی تیار حالت میں چھوڑنا جسے کبھی بھی کوئی عوامی رَو اٹھ کر اپنے زیرِ استعمال لے آئے اور آخر اس کے اندر اِن خطوں کے مسلمانوں کی امنگیں بولنے لگیں، ایک سنگین غلطی ہو گی۔ اِن خطوں کو تو مغرب کی دیوی ’جمہوریت‘ کے درشن کروانا تک غلط ٹھہرا! نیز جس ’اسلامی جذبہ‘ کو عرب دنیا میں اتنے عشرے اِس بےدردی کے ساتھ کچل کر دیکھ لیا گیا مگر وہ پھر اتنا زندہ ہے کہ یہاں کی کسی بھی عوامی رَو کے کاندھے پر سوار ہو لیتا ہے، اس کا تو کوئی اور ہی پائیدار علاج کرنا ہو گا)۔ ’سرد جنگ‘ کی مجبوری اب نہیں ہے!

جس کے بعد عالم اسلام کو ’پتھر کے دور‘ میں دھکیل جانے کےلیے ملتِ صلیب کے یہاں گھنٹیاں بجا دی گئیں، الا یہ کہ کوئی اور مجبوری ان کے آڑے آ جائے۔ اس مقصد کےلیے روم و فارس کی دوریاں تک ختم کرائی جا چکیں۔ ہمیں فی الحال نہیں معلوم، روس کا بیچ میں آنا یہاں کس درجہ کا گیم چینجر game changer  ہے۔

ہمارے مشائخ نے اس ’مابعد سرد جنگ‘ صورتحال کوبہت جلد بھانپ لیا تھا

’’سرد جنگ‘‘ کے خاتمہ کے ساتھ ہی  عالم اسلام پر مغرب کی فوج کَشی کی جو ایک لہر آئی، جس کے ساتھ عالم اسلام کو یکلخت ایک نئی صورتحال کا سامنا تھا، اور اسی لحاظ سے یہاں پر اسلامی تحریکوں کو بھی اپنے خطاب میں کچھ نئی جہتیں لانا تھیں... ہمارا دیکھنا ہے، ہمارے مشائخ نے اس کا ادراک بہت جلد کر لیا تھا۔

بلادِعرب میں شیخ سفر الحوالی اور کچھ دیگر تحریکی علماء نے نوّے کی دہائی کے آغاز میں امریکی افواج کے جزیرۂ عرب لنگرانداز ہونے کی بڑی کھل کر مخالفت کی تھی اور اس پر جیل کی ہوا بھی کھائی تو اس کا سیاق دراصل یہی تھا کہ صلیبی بوٹوں کا جزیرۂ عرب پر آ لگنا ان مشائخ کے ہاں ایک نئے آشوب ناک دور کا آغاز دیکھا جا رہا تھا اور اس کی سنگینی واضح کرنا ان کے نزدیک ضروری۔ لیکن جلد ہی ان مشائخ نے نوجوانوں میں شدت پسندی کے ممکنہ رجحانات کو بھی بھانپ لیا جس سے یہ معاملہ بےطرح الجھ سکتا تھا؛ اور اسی کے مطابق مشائخ نے اپنی حد تک ایک لائحۂ عمل بھی اختیار کیا۔  نوّے کی دہائی کے تقریباً وسط سے شیخ سفر الحوالی کا ایک جملہ داعیوں کی زبان پر سنا جانے لگا تھا: إننا بين يدي مواقف تحتاج الأمة فيها إلى التورية ضمن السياسة الشرعية ’’اس وقت ہمیں کچھ ایسے مواقف کا سامنا ہے، جہاں امت کو سیاسۃ شرعیہ کے اندر توریہ کا ایک اسلوب اختیار کرنا ہو گا‘‘۔ (توریہ: یعنی ایک ذومعنی اسلوب)۔ نوّے کی دہائی کے وسط تک سعودی عرب کے اندر شدت پسندی (بم دھماکے اور مسلح کارروائیوں) کا فنامنا خاصا توانا ہو چکا تھا۔ (اُس دور کے ایک اہم واقعہ ’’خُبر دھماکہ‘‘ کے متعلق اب جا کر بات کھلی ہے کہ اس کے پیچھے فارسی عنصر کام کر رہا تھا اور وہ خوامخواہ ’’سُنی انتہاپسندی‘‘ کے کھاتے میں ڈالا جاتا رہا تھا)۔ یعنی دو تین طرف سے مسلمانوں کو ایک مار دینے کی صورت بن رہی تھی۔ یہاں ان مشائخ نے شدت پسندی کی جانب مائل نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو داخلی جنگ کی راہ سے واپس لانے میں ایک سرگرم کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ شدت پسندی کو چھوڑنے پر آمادہ نوجوانوں کےلیے سعودی حکومت سے عام معافی کا اعلان کروانے کی بھی کوششیں کیں، تاکہ اس موقع پر ایک قومی اتفاق رائے سامنے لایا جا سکے اور داخلی استحکام کو بروقت مضبوط کر لیا جائے۔

معاملہ جزیرۂ عرب کے ان مشائخ تک نہ رہا، گو پہل اِنہی کی ہے۔ دیگر عرب ممالک کے مشائخ بھی اس موقع پر آگے بڑھے اور مصر کی الجماعۃ الاسلامیۃ (جس کے امیر اس سے پہلے شیخ عمر عبدالرحمن رہے ہیں، اور جوکہ نوے کی دہائی کے آخر تک مصر میں مسلح کارروائیوں میں سرگرم تھی) کو بھی ایک فکری و منہجی مراجعہ (نظرثانی) پر آمادہ کیا۔ یہاں تک کہ اس مصری جماعت نے نوّے کی دہائی کے آخری سالوں میں اس ’مسلح عمل‘ کے منہج سے باقاعدہ رجوع کرتے ہوئے مصر میں جاری مسلح کارروائیوں کو موقوف کیا اور مشائخ کی علمی راہنمائی قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ فی الفور، اس سے فلسطینی جہاد نے ایک نئی کروٹ لی؛ اور سن ننانوے میں بیت المقدس کے اطراف و اکناف ’’انتفاضہ ثانیہ‘‘ کا ظہور ہوا۔ علاوہ ازیں، شاید آنے والے سالوں (عراق پر امریکی حملہ کے بعد بننے والی صورتحال) کو بھانپتے ہوئے  کچھ داخلی صف بندی کی صورت بھی ممکن ہوئی۔

 تب سے؛ ہمارے یہ مشائخ سعودیہ ودیگر مسلم ممالک کے اندر ’’داخلی استحکام‘‘ کو اسلامی تحریکوں کی بڑی ترجیحات میں رکھتے ہیں۔ کیونکہ صلیبی کی عالم اسلام میں ایک نئی مہم کو ناکام کروانے کی ایک یہی ایک صورت ہے۔ بہت سے جذباتی لوگوں کو اُس وقت وہ باتیں سمجھ نہیں آ رہی تھیں اور بعض تو ہمارے ان مشائخ کی بابت طرح طرح کی قیاس آرائیاں بھی کررہے تھے کہ نوّے کی دہائی کے وسط تک جیلوں میں رہنے والے یہ مشائخ کیوں یکدم ’بدل‘ سے گئے اور حکومتوں پر تنقید کے معاملے میں ویسے ’شدید‘ نہیں رہے۔ لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں، خصوصاً روم و فارس گٹھ جوڑ کی حقیقت طشت از بام ہو جانے کے بعد، اور خطے کی نئی ’انجینئرنگ‘ کی سازشیں کھل کر سامنے آجانے کے بعد، تقریباً ہر کسی کو داخلی استحکام کی یہ اہمیت اب سمجھ آرہی ہے۔ یہاں تک کہ بظاہر بڑے بڑے دوراندیش جو اُس وقت ایران کی ’امریکہ مخالف‘ بڑھکوں کی داد دے رہے تھے آج ’ایران امریکہ گٹھ جوڑ‘ کے مقابلے پر انہی عرب ملکوں کے داخلی استحکام کےلیے دست بہ دعاء ہیں!

’سرد جنگ‘ سے فراغت پاتے ہی ایک نئی صلیبی مہم: عالم اسلام کے پَر تراشنا

سرد جنگ کے ختم ہوتے ہی کوئی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ملتِ صلیب اپنے لاؤ لشکر سمیت عالم اسلام پر چڑھ آتی ہے۔  اس کے درست پس منظر کو سمجھنے کےلیے، ہمارے نزدیک ضروری ہے کہ ’’سرد جنگ‘‘ اور اس سے پہلے ’’عالمی جنگوں‘‘ سے بھی ذرا پیچھے جا کر اُس وقت اور موجودہ نقطے کو جوڑیں اور پھر اس تصویر کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

میں معذرت خواہ ہوں جن حضرات کا خیال ہے کہ یہ جنگیں آپ کے کسی ممکنہ اسلامی انقلاب کا راستہ روکنے اور یہاں کے مسلم ملکوں اور ان میں قائم نظاموں کو بچانے کےلیے ملتِ صلیب کی جانب سے لڑی جا رہی ہیں اور خاص اس غرض سے وہ عالمِ اسلام کو تاراج کرتی پھر رہی ہیں! یہ اس معاملے کی ایک سطحی اور جذباتی تصویر ہے۔

بھائی آپ کا کونسا اسلامی انقلاب یہاں ’لبِ بام‘ پہنچا ہوا تھا جو اِن تمام جنگوں کی یہ توجیہ کی جائے؟ حق یہ ہے کہ ’اسلامی انقلاب‘ کی تمام کوششیں اس سے پہلے ہی عالم اسلام کے اندر ایک ’بھاری پتھر‘ ثابت ہو چکی تھیں۔  یہاں تک کہ ’متبادل‘ کے سوال کھڑے ہو چکے تھے (جس کا کچھ فائدہ بعدازاں عسکریت پسند افکار نے بھی اٹھایا)۔  غرض اکیسویں صدی شروع ہونے تک ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی تمام یا اکثر کوششیں دم توڑ چکی تھیں، کہ عالم اسلام پر صلیبی چڑھائی کا یہ نیا سلسلہ سامنے آیا۔

ہاں ایک مثال ذکر کی جا سکتی ہے: تحریکِ ملا عمر، جو افغانستان میں نمو پزیر تھی۔  لیکن اس کے پیچھے جو قوتیں اور جو عوامل اور جو اہداف کارفرما تھے اس کو نہ تو سرسری لینا درست ہے اور نہ اُس پورے عمل سے کاٹ کر دیکھنا (اگر آپ واقعتاً حالیہ صلیبی یورش سے پہلے کی صورتحال کا ایک واقعاتی تجزیہ کرنا چاہتے ہیں اور محض اپنی پسند کے نتائج پر پہنچنے کی جلدی نہیں رکھتے)۔ پس 2001 تک کی تحریکِ ملا عمر اور اس کے پشت پناہوں (اور ہردو کے مابین اُس وقت پائی جانے والی ہم آہنگی) کو سامنے رکھیں تو یہ تصویر بنتی ہی نہیں کہ ’ملتِ صلیب آپ کے کسی ممکنہ اسلامی انقلاب کا راستہ روکنے اور یہاں کے مسلم ملکوں اور ان میں قائم نظاموں کو بچانے کےلیے مسلم سرزمینوں پر چڑھ آئی ہے‘۔

غرض ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی یہ ایک ہی مثال (تحریکِ ملا عمر) پورے عالم اسلام کے اندر آپ دے سکتے ہیں، مگر یہ ’’انقلاب‘‘ جن عوامل کا مرہونِ منت تھا وہ آپ کی ذکرکردہ بات کی بجائے کسی اور حقیقت پر دلالت زیادہ کرتے ہیں۔ سامنے کی بات ہے، افغانستان کا یہ ’’اسلامی انقلاب‘‘ اپنے جن دوستوں پر سہارا کر کے آ رہا تھا، اور ان کے ساتھ ایک سچی قابل اعتماد دوستی کے اصولوں پر کھڑا تھا (نہ کہ ’موقع پرستی‘ کی کوئی اپروچ، جیساکہ ہمارے بعض اوہام پرستوں کا خیال ہے)،  ان سے الگ کر کے آپ اس پورے معاملے کی توجیہ نہیں کر سکتے۔ اس ایک پیش رفت (تحریکِ ملا عمر) کے علاوہ آپ کا کونسا ’اسلامی انقلاب‘ تھا  جس کا خطرہ بھانپ کر ملتِ صلیب آپ کے ان ملکوں پر چڑھ آئی تھی؟

بڑی دیر سے ہمارا یہ کہنا رہا ہے کہ عالم اسلام پر مسلط کی جانے والی اِن نئی جنگوں کا بڑا ہدف اُن قوتوں کو ہلکا اور اُن سوتوں کو خشک کرنا ہے جن سے عالمی جہاد دنیا میں مدد پاتا رہا، یا آئندہ مراحل میں پا سکتا ہے؛ جہاد کا فنامنا اپنی کسی مستقل بالذات حیثیت میں البتہ اتنا بڑا (تاحال) نہیں ہے۔ پس عالم اسلام پر ملت صلیب کے چڑھ آنے کی تفسیر ہمارا یہ عالمی جہاد ضرور ہے تاہم استعمار کے اہداف اسی میں محصور نہیں ہیں۔ پس یہ عالمی جہاد دشمن کا ایک براہِ  راست اور اعلانیہ ہدف ضرور ہے، زیرعنوان: ’دہشتگردی‘۔ (جس کا اللہ کا شکر ہے دہشتگردی سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے)۔ لیکن اِس ’اعلانیہ ہدف‘ کے پیچھے فی الوقت کچھ ’غیراعلانیہ ہدف‘ بھی اُنہیں کچھ کم نہیں کھٹک رہے؛ جو نہ صرف ملتِ صلیب کی نظر میں بلکہ حسین حقانی ایسے ہمارے ایک کثیر بکاؤ مال کی نظر میں ’فساد کی اصل جڑ‘ہے۔

اپنے تاثرات کی حد تک (جوکہ ناکافی معلومات کی غیرموجودگی میں تاثرات ہی ہو سکتے تھے) ہم یہ خیالات اپنی مجالس میں شروع دن سے شیئر کرتے آئے ہیں۔ اور تحریروں میں بھی کچھ اشارہ اِن امکانات کی جانب ہوتا آیا ہے۔ لیکن اب تو یہ بات خاصی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ صلیبی طاقتیں (مع ان کے صیہونی، فارسی اور بھارتی حلیف) اس وقت عالم اسلام کے کن کن ممالک کو غیرمستحکم destabilize  کرنے، حتیٰ کہ بس چلے تو ٹوٹے کردینے کےلیے دوڑدھوپ فرما رہے ہیں۔ (بھارت اور ایران پر نوازشات کی حد ہوتی کسے نظر نہیں آرہی؟ اور جنوبی ایشیا میں ’دہشتگردی‘ کی بابت ایک خالص بھارتی نیریٹو  A pure Indian narrative on terrorism in the South Asia  کی تائید میں، اور من و عن انہی ’بھارتی‘ لائنز پر، امریکی بیانات اور دباؤ بلکہ صاف امریکی دھونس بھی اب کسے نظر نہیں آرہی؟ بلوچ لبریشن آرمی کی سرپرستی؟ پھر پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کےلیے امریکی قبضہ کے زیرانتظام چلنے والےکابل‘ کا روٹ بھی آخر کسے نظر نہیں آ رہا؟ اور کونسی بات اب ڈھکی رہ گئی ہے؟)۔ کیا یہ غورطلب نہیں کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کو تو دھماکوں کی زد پر رکھ لیا جاتا ہے جبکہ ایران اس سے پوری طرح محفوظ رہتا ہے؟ اور کوئی اندازہ کرے، اردگان کے الیکشن ہار جانے کےلیے مغربی پریس میں، خصوصاً صیہونی پریس کے اندر، یہاں تک کہ ہمارے اپنے لبرلز کے یہاں، کیسی کیسی بےچینی پائی جاتی ہے! اور کوئی یہ بھی پوچھے کہ سعودی عرب نے، جسے چاروں طرف سے ایران کی وفادار ’مرگ بر امریکہ‘ نعرے لگاتی ’جہادی تنظیمیں‘ گھیرا ڈالے ہوئے ہیں، مغربی میڈیا یہاں تک کہ ہمارے یہاں کے لبرل میڈیا کا آخر بگاڑا کیا ہے جو کسی بلکتے بچے کی طرح یہ بتائے بغیر کہ تکلیف کہاں ہے مسلسل شور مچاتا اور سعودی عرب کے لتّے لیے جاتا ہے؟  اور اب تو یہ بھی راز  نہیں رہا کہ افغانستان اور شام میں جہاد جیسے کیسے مدد پاتا رہا تو اس کا سورس کیا رہا ہے۔

اصل مقصد:  ’انیسویں صدی‘ کے سیناریو کی جانب ایک جزوی واپسی!

پس یہ غیرمعمولی واقعات اور جنگوں کا یہ ایک لامتناہی سلسلہ جن کا اکھاڑا آج آپ کا عالمِ اسلام بنا ہوا ہے... ’سرد جنگ‘ سے نکلنے کی کچھ خوفناک علامات symptoms    ہیں۔ اس وقت کی ایک بڑی ترجیح مغرب کے ہاں: عالم اسلام کے کچھ اونچے اونچے ٹیلوں کو ’زمین کے برابر‘ لانا ہے۔ یہاں کچھ بڑی بڑی اکائیوں کو چھوٹے چھوٹے ریزوں میں بدلنا ہے۔ ’انیسویں صدی‘ کے سیناریو کو ضروری حد تک واپس لانا اس کے بغیر ممکن نہیں۔

(واضح رہے، ’انیسویں صدی‘ کا سیناریو پورے کا پورا واپس لانا ایجنڈا میں نہیں۔ یوں بھی ’انجینئرنگ‘ کی مہارتیں دشمن کے یہاں اب پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں اور ’اداروں‘ کا تجربہ بہت کچھ رنگ لا چکا ہے۔ کوئی یو-این نما چیز ہی اپنی کسی ترقی یافتہ تر شکل میں آئندہ عشروں کے دوران ایک مفید دریافت ثابت ہو سکتی ہے، خدانخواستہ)۔

’انیسویں صدی کے سیناریو‘ سے ہماری مراد یہ کہ: عالمِ اسلام کے وسائل گورے کے قدموں میں ڈھیر ایک ’خام مال‘ ہو اور یہاں کے انسان اُس کے مخلص ’مزارعے‘ اور ’مزدور‘ اُس کی درازیِ عمر کےلیے دعاگو۔

انیسویں صدی کا یہ سیناریو بڑی کم لاگت کے ساتھ ایک اور طرح بھی دہرایا جا سکتا ہے۔ عالم اسلام پر قبضہ کیوں کرو، اور یہاں پر ’جنگ ہائے آزادی‘ ایسی کچھ طویل و عریض آزمائشوں کا سامنا کیوں کرو۔ عالم اسلام کو اپنا ’خام مال‘ اور ’مزارعے‘ اور ’مزدور‘ بنا رکھنے کا اس سے ایک کم خرچ اور آسان تر طریقہ بھی ہے: یہاں ایک ایک ضلع یا ڈویژن کے سائز کا ایک ایک ملک بنا دو، جن کے مابین جگہ جگہ وسائل اور پانیوں کے جھگڑے ہوں   اور بات بات پر ان کے مابین بندوقیں نکل آیا کریں، جبکہ تم خود ان کے مابین صلح کرانے آیا کرو! (چھوٹے کاشتکاروں کا پانی کبھی پورا نہیں ہوتا؛ اور ان کی لڑائیاں بھی گھر کے دانے پورے کرنے کےلیے ہوتی ہیں، یعنی کچھ بہت ہی ’حقیقی اور بنیادی ضرورت کی‘ لڑائیاں جنہیں آدمی اپنے بھائیوں کے ساتھ بڑے ہی سچے جذبے کے ساتھ لڑتا؛ اور یوں دشمن کے مقاصد اپنے گھروں کے اندر بڑی اعلیٰ سطح پر پورے کراتا ہے! خدا اس بےبسی اور بےکسی سے ہماری نسلوں کو محفوظ رکھےمفلوک الحالی بھائی کو بھائی کا دشمن کر ہی دیتی ہے، پھر جبکہ ساتھ میں بھائی کو بھائی سے لڑانے کے کچھ اور (مذہبی، لسانی، علاقائی، عصبیتی) اسباب بھی تلاش اور مہیا کر لیے جاتے رہیں۔ خدانخواستہ، خدانخواستہ، بحرہند کے ٹھیکیدار ’سوا اَرَب کے نیوکلیئر بھارت‘ کے پڑوس میں درجنوں چھوٹےچھوٹے بےکس بےسہارا لینڈلاکڈ land-locked    مسلم ممالک جو قدم قدم پر بھارت سے اپنا جائز حق لینے کےلیے بھی مغرب کی طرف دیکھیں! ایک مضبوط نیوکلیئر اسرائیل کے گرد درجنوں ’مڈل ایسٹ ممالک‘ جن میں سے کسی ایک کا سائز بھی کویت اور امارات سے بڑا نہ ہو!  ایک نیوکلیئر فرانس کے دست نگر درجنوں شمال افریقی ممالک، جو صبح شام اُس کی بلندیِ اقبال کےلیے دعائیں کریں!  ایک مضبوط حبشہ (اتھیوپیا) کے زیرسایہ درجنوں شرق افریقی ممالک، اِفلاس کے مارے اور اندرونی جنگوں کے کھائے ہوئے! علیٰ ھذا القیاس۔  عالم اسلام کو ’خام مال‘ اور ’مزدور‘ و ’مزارعے‘ رکھنے کا  یہ بھی ایک طریقہ ہے جس کو لکھت پڑھت میں لا  رکھنے کےلیے یو۔این کی کوئی نئی ’ترقی یافتہ‘ جُون سامنے لانے کے پروگرام بھی زیرغور ہیں!

اس بنا پر؛ ہم یہ بھی نہیں کہتےکہ استعماری لشکر عالم اسلام پر انیسویں صدی کے قبضوں جیسا کوئی قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہماری نظر میں، مسلم ملکوں کے اندر ان کی حالیہ فوجی کارروائیاں (اور زیادہ تر پراکسی جنگیں) صرف عالم اسلام کی ایک ’’تشکیلِ نو‘‘ a redesigning of the Muslim world   کی خاطر ہیں۔ جس کے بعد ہر خطے میں کوئی مقامی ٹھیکیدار پیدا کر کے ]مثلاً جنوبی ایشیا میں بھارت، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل (کسی حد تک شاید ایران بھی)، شمال افریقی ممالک پر فرانس اور شرق افریقی ممالک پر اتھیوپیا وغیرہ[، باقی ماندہ کنٹرول ’عالمی اداروں‘ کے ذریعے کیا جائے گا۔ لَا قَدَّرَ اللہ، اگر ان کا ہاتھ پڑ گیا۔ مگر بہت امید یہ ہے کہ ہمارا عالمی جہاد اور اس کے کچھ دوست اللہ کی توفیق سے اُن کا یہ منصوبہ سرے چڑھنے نہیں دیں گے۔ عالمِ استعمار کو اگر اس مقام پر ناکام کروا دیا جاتا ہے تو یہ ان شاء اللہ عالم اسلام کی حقیقی آزادی کے حوالے سے تاریخ کا ایک ٹرننگ پوائنٹ turning point   ہو گا۔

کسی مضبوط مسلم مملکت کو پنپتا چھوڑنا استعمار کےلیے ناقابل برداشت کیوں؟

پیچھے ہم بات کر آئے، سرد جنگ کے سرے لگنے کے بعد استعمار کو خواہش ہوئی ہے کہ عالم اسلام میں انیسویں صدی والا سیناریو پورا نہ سہی، ایک حد تک بحال کیا جائے۔ یعنی مسلم دنیا اپنے وسائل اور باشندوں سمیت پھر سے گورے کے قدموں میں ڈھیر ایک خام مال ہو۔ یہاں کوئی مقامی قوت ایسی مضبوط اور شہ زور نہ پائی جائے کہ یہاں کے باشندے اپنے وسائل اور اپنے مفادات کے معاملے میں آپ اپنی قسمت کے مالک ہوں اور وسائل کے معاملے میں گورا یہاں سے بےدخل و بےاختیار کر دیا جائے۔

ایک اور چیز البتہ گورے کو اس سے بھی بڑھ کر پریشان کرتی ہے...

آج نہ سہی کل، کل نہ سہی پرسوں، کسی اندرونی اصلاح کے نتیجے میں اسلامی قیادتوں کے زیراثر افراد کا اقتدار میں آنا یہاں خارج از امکان بہرحال نہیں ہے۔ (ترکی میں اسلامی ہوائیں چل پڑنا آخر کس کے گمان میں تھا؛ جہاں اقتدار کی سطح پر بھی معاملہ اب ’باعثِ تشویش‘ ہی ہے۔ مصر کی صورتحال ’باعثِ تشویش‘ ہوتی ہوتی رہ گئی۔ اور کئی مثالیں آگے پیچھے اسی قبیل کی ’باعثِ تشویش‘ آسکتی تھیں  اگر عرب بہار لہو رنگ نہ کر دی جاتی۔ عالمِ عرب کو تو اِسی خطرے کے پیش نظر ’جمہوریت بی‘ کی جھلک نصیب نہیں جب تک کہ کوئی لمبی چوڑی انجینئرنگ یہاں کی نہ کر دی جائے!)

مقصد یہ کہ ایک بنا بنایا مضبوط ملک اپنے وسائل اور اپنے فیصلوں پر مکمل کنٹرول رکھنے والا اور کسی دوسرے کو پاس نہ پھٹکنے دینے والا، ایسے کسی خطرے کےلیے چھوڑیں ہی کیوں جہاں کسی احمد سرہندی کے گہرے و دُوررَس عمل کے نتیجے میں اسی اکبر کی مسند پر دنیا ایک روز کسی عالمگیر کو جلوہ افروز دیکھے! نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ مسلمانوں کی کوئی ایسی مضبوط خودمختار (اپنے فیصلوں کی آپ مالک) اِکائی آخر ہو ہی کیوں؟

لہٰذا ایک غیراسلامی نظام کے ساتھ بھی کوئی مضبوط مسلم اکائی چھوڑنا دُوررَس طور پر خطرے کا سودا ہے! آج جب یہ مسلم ممالک بحرانوں میں گھِرے ہیں، ’فیصل‘ اور ’ضیاءالحق‘ ایسے ناگہانی خطرات تو پھر بھی یہاں سر اٹھا لیتے ہیں! (جنہیں ’راہ سے ہٹانا‘ بالآخر مجبوری ہو جاتی ہے)! بھلا کوئی ایسا دور جب ان ملکوں کے ہاں دُور دُور تک کوئی بحران بھی نہ ہو اور یہ اپنے فیصلے آپ کرنے کی پوزیشن میں بھی ہوں (بیرونی مداخلت والی اِس پوری صورتحال سے باہر ہوں؛ اور آپ اپنی کر کے کھا رہے ہوں) تو تب اگر یہاں کوئی فیصل یا کوئی ضیاءالحق اٹھ کھڑا ہوا تو کیسا کیسا ڈراؤنا سیناریو نہیں ہو سکتا! یہاں تو کچھ پکےپکے انتظامات کر کے جانا ہو گا اس بار! بیڑہ غرق ہو دو عالمی جنگوں اور ان کے بعد چلنے والی ایک طویل سرد جنگ کا جو ’انیسویں صدی‘ ہاتھ سے نکل گئی۔ اب یہ جو ایک موقع ہاتھ آیا ہے (سرد جنگ سے فراغت)، اس کو بھی ضائع کردیں تو گورے کو عقلمند کون کہے! پکے انتظامات بھائی صاحب! یہاں کوئی مسلم اکائی، خواہ فی الحال وہ کیسے ہی غیراسلامی نظام پر کیوں نہ کھڑی ہو، اور خواہ وہ اپنے نظام یا تہذیب کے معاملہ میں سن 92ء کے بوسنیا اور کوسووا کا نقشہ کیوں نہ پیش کر رہی ہو، ایک مضبوط مستحکم حالت میں چھوڑو ہی مت۔ یہ نہیں تو اِن کی نسلوں میں اس لاالٰہ الا اللہ کو سوچ سمجھ کر پڑھنے والے ضرور پیدا ہوں گے۔

حالیہ صلیبی مہم: مسلم اکائیوں کا چُورا کرنا

استعماری قوتوں کا مقصود دو پوائنٹوں میں آ جاتا ہے:

1.    مسلم دنیا کے اندر جو بڑی بڑی اور مضبوط اکائیاں ہیں وہ کسی طرح ہلکی پھلکی کر دی جائیں تاکہ بیرون سے ان کی ’سرپرستی‘ مستقل بنیادوں پر جاری رہنا ممکن ہو۔

2.    یہاں کے نہ صرف نظاموں کو بلکہ معاشروں ہی کو ارتداد کی راہ پر ڈال دیا جائے۔

(دوسری چیز ہماری آئندہ فصل میں ذکر ہو گی۔ یہاں پہلی کا کچھ بیان ہے)

انسانی وقائع اس پر شاہد ہیں، کوئی اکائی ایک بار توڑ دی جائے تو اس کی بحالی پھر جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتی ہے۔  بنگلہ دیش کے ساتھ آپ اکٹھے تھے سو تھے۔ لیکن اب اگر دونوں طرف بڑی ہی مخلص قیادتیں آ جائیں (فی الحال ایک مفروضہ) تو وہ بھی ان دو ’ٹکڑوں‘ کو ایک کر کے شاید ہی کبھی دکھا سکیں۔ یعنی ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا۔  پورا ’مشرقِ وسطیٰ‘ چند عشرے پہلے (عثمانی دور میں) ایک ملک تھا۔ جی ہاں پورا ’مشرقِ وسطیٰ‘ ایک ملک، جس پر ابھی چند عشرے ہی گزرے ہیں۔ لیکن اب یہ ایک درجن سے زائد ملک ہیں اور یوں گویا ہمیشہ سے الگ الگ ملک! ان میں سے ہر کوئی ’الگ تھلگ قوم‘ جو دنیا جہان کی قوموں سے جوتے کھا سکتی ہے مگر اپنی ’الگ تھلگ‘ حیثیت پر آنچ آنے نہیں دینے والی! یعنی گورے نے (اپنے دورِ اول میں) یہاں قبضہ کرنے اور یہاں کی قوموں کو غلام بنانے پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ وہ ایک ایسا دُوررَس کام بھی ’’مشرقِ وسطیٰ‘‘ میں عین اُسی ہلے کے اندر کر گیا ہےکہ کبھی یہ آزاد بھی ہو لیں تو آپس کی یہ دراڑیں ختم نہ کر سکیں۔ بلکہ اِن دراڑوں کو اپنا وجود اور اپنی زندگی جان کر ان کےلیے لڑیں۔

غرض ایک اکائی جب ایک بار ٹوٹی تو پھر مشکل سے جڑنے کا نام لیتی ہے۔ آپ دیکھ لیں گے کبھی ان ملکوں میں شریعت کی حکمرانی واپس آئی تو بھی ان فاصلوں کو ختم کرانا آسان کام نہ ہوگا۔ (جن لوگوں کا خیال ہے ادھر ’خلافت‘ کا بٹن دبایا جائے گا ادھر عالم اسلام کے سب ٹکڑے برق کی تیزی کے ساتھ آن جمع ہوں گے، وہ کسی خوش فہموں کی جنت میں رہتے ہیں، ہمارے نوجوانوں کو لازماً ایسی خیالاتی دنیا سے نکلنا ہو گا)۔

آپ کو یاد ہے بنو عباس اور بنو امیہ کے مابین  اندلس کا بقیہ عالم اسلام سے کٹنا ہمارے اسلامی دور میں ہی ہوا تھا، جسے پہلی پوزیشن پر واپس لانا پھر مسلسل دوبھر رہا۔ اس کے علاوہ بھی الگ الگ امارتوں کی جہاں کوئی صورت بنی انہیں پہلے والی پوزیشن پر واپس لانا کبھی آسان نہیں رہا، باوجود اس کے کہ اُس دور میں انکل سام عالم اسلام میں دندناتے بھی کہیں نہیں پھر رہے تھے۔ پھر جبکہ یہ الگ الگ امارتیں محض کچھ انتظامی اکائیاں تھیں نہ کہ دورِ حاضر کی طرح باقاعدہ ’قومیتیں‘۔ پھر بھی ایک بار ٹوٹ چکی چیز کو جوڑنا اس قدر مشکل تھا۔ جوڑنے کے کچھ واقعات ہماری تاریخ میں ہوئے ضرور؛ مگر تلوار کے اچھےخاصے استعمال کے بعد۔ یعنی ایک ایسا مشکل آپشن کہ مسلمانوں کو ایک ممکنہ بڑی وحدت میں نہ لے کر آئیں تو مار کھائیں اور اگر وحدت میں لے کر آئیں تو مسلمانوں کے مابین خونریزی کے ایک ناگوارترین عمل اور عصبیتوں کے ایک دریا سے گزر کر؛ اور کسی کسی وقت تو معاملہ اسی خونریزی اور باہمی دشمنی میں دب کر رہ جائے۔ یہ وجہ ہے کہ مسلمانوں کا ٹکڑے ہونا سب سے بڑی نحوست جانا گیا ہے، کیونکہ یہ اپنے اندر صدیوں کے مضمرات رکھتا ہے؛ اس (شیرازہ بکھرنے) سے بچنے کےلیے بڑی سے بڑی قیمت دینا وارے کا جانا گیا ہے۔

یہاں چیزیں ٹوٹ آسانی سے جاتی ہیں، لیکن جڑنے کا نام پھر نہیں لیتیں خواہ کیسے ہی سورما اس کےلیے زور لگا لیں، الا ما شاء اللہ۔  یہ ایک جانی مانی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی کوئی جغرافیائی اکائی چاہے ایک غیرشرعی نظام کے تحت بھی ہو، آج اگر لخت لخت کرائی جاتی ہے تو اس میں مسلمانوں کا ڈھیروں نقصان ہے۔ لہٰذا ایک غیرشرعی نظام ہے تو بھی ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ وہ جیسے چاہیں ہمارے ٹکڑے کر جائیں کہ کیا فرق پڑتا ہے ایک غیرشرعی نظام ہی تو ہے! (وہی سوچ جس کا ہم نے اپنے اِس مضمون کے گزشتہ حصے میں جائزہ لیا ہے)۔ بھائی آپ کا جو حصہ ایک بار ریزہ ریزہ ہو گیا، وہاں کبھی دیندار لوگ اقتدار میں آجائیں تو بھی ان کےلیے اس چُورے کو واپس وحدت میں لانا کوئی آسان کام نہ ہو گا۔ مع کچھ دیگر مفاسد۔  یہ شیرازہ جتنا منتشر ہو گا اتنا آپ کےلیے مسئلہ ہو گا۔ اور دشمن کا کام آپ کے خلاف اُس وقت بھی آسان کیے رکھے گا (اور اب تو رکھے گاہی؛ بلکہ وہاں پہنچنے ہی آپ کو کیوں دے گا)۔ لہٰذا اپنے وجود پر دشمن کا اِس قسم کا کوئی وار ہم تو (اپنا بس چلنے کی حد تک) آج بھی نہیں ہونے دیں گے۔

ہمارا دشمن اس حقیقت کو خوب جانتا ہے اور عالم اسلام کی ایک نئی انجینئرنگ کرنے کے مشن پر کسی قدر کامیابی سے گامزن ہے:

  • عراق جو  مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی فوجی قوت تھا، نیز عرب وحدت کا روحِ رواں ہونے کے باعث کسی وقت ایک مجوزہ ’عرب یونین‘ کا جرمنی کہلاتا تھا،  بڑی ہی کامیابی کے ساتھ تین ٹکڑے کیا جا چکا، جو چار تک پہنچ سکتے ہیں۔ نیز وہ عراق اب نرا تین یا چار ٹکڑے نہیں۔ بلکہ ایسا ’تین چار ٹکڑے‘ ہے جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں اور ہزار سال تک آپس میں لڑ سکتے ہیں، سوائے یہ کہ ان میں صلح صفائی رکھنے والا کوئی ’عالمی‘ سیانا امنِ عالم کا ٹھیکیدار ان ’کھلنڈروں‘ کے سر پر دستِ شفقت رکھنے کو موجود اور ان پر مسلسل مہربان رہنے کو تیار ہو!

  • لیبیا عملاً کئی ٹکڑے ہو چکا؛ جوکہ متحارب بھی ہیں۔

  • سوڈان اس سے پہلے دولخت کیا جا چکا، اور مزید تقسیم کےلیے تیزی کے ساتھ مہرے ہلائے جا رہے ہیں۔

  • یمن کے ٹکڑے تقریباً ہو چکے، آگے ابھی کچھ معلوم نہیں کیا بنتا ہے، اور معاملات کا سلجھنا کچھ ایسا آسان نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ سعودیہ کا اپنا ہاتھ چکی میں آ چکا ہوا ہے۔

  • خود سعودیہ کےلیے ایک بڑا ’سرجری پلان‘ زیرعمل ہے، جس پر سعودیہ کی پریشانی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سعودیہ اس وقت عملاً کئی جہت سے حالتِ جنگ میں ہے۔ ایک مضبوط ترکی اور ایک مضبوط پاکستان حالیہ سیناریو میں نہ ہوتے(نیز شاہ سلمان کا تُرک-سعودی تعلقات کے بگاڑ کو دنوں کے اندر کامیابی کے ساتھ دور کر لینا، بلکہ داخلی و خارجی سطح پر تعلقات و معاملات کو چشم زدن میں ایک نئی ترتیب دے لینا) تو دیکھتے امریکہ اس بار کہاں تک کام آتا ہے۔ سعودیہ کا دھڑن تختہ خدانخواستہ اب تک ہوا ہوتا۔ خطرہ اب بھی گیا کہیں نہیں ہے، اور اللہ سے اچھی ہی امید رکھنی چاہئے۔

  • مصر کو عدم استحکام میں جھونکنے کے زوردار عوامل اندرونی و بیرونی سطح پر اس کے چاروں طرف منڈلا رہے ہیں، لیکن وہاں پر داخلی جنگجوئی militancy   کے جن تجربات سے (اَسّی اور نوّے کی دہائی میں)  وہاں کے دینی حلقوں کو خوب کان ہو چکے، اغلباً وہی اس میں مانع ہے کہ ایسی کوئی مہم جوئی وہاں ازسرنو شروع ہو اور پھر ایک غیراختتام پزیر خانہ جنگی کی ابتداء بن جائے، گو ’کوششیں‘ اس کےلیے ہر طرف سے جاری ہیں!

  • شام ایک خون آشام صورتحال میں سرتا سر گرفتار ہے، جس سے نکلنے کی کوئی صورت سامنے نہیں آ رہی، بلکہ اور سے اور الجھتی جا رہی ہے۔ (کچھ تسلی شام کے حوالے سے ابھی ہے تو وہ اردگان ایسی قیادت کا پڑوس میں موجود ہونا ہے، جو شروع سے وہاں کے مظلوم اور بےبس عوام نیز ان کی مددگار مقامی قوتوں کے ساتھ تعاون کی کچھ مناسب صورتیں رکھتی ہے۔ بلکہ اردگان ایسی قیادت کے خطہ میں موجود ہونے کے باعث یہ تک امکان ہماری نظر میں موجود ہے (نیز دعاء ہے) کہ شام کا معاملہ اسلام کے حق میں بٹھانے کی کوئی ویسی یا اُس سے بھی بہتر صورت اللہ کی توفیق سے سامنے آ جائےجیسی افغانستان کا مسئلہ پاکستان کے تعاون سے اسلام کے حق میں بٹھانے کے اندر کامیابی پائی گئی تھی)۔

  • مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے ’رہائی‘ تو بڑی دیر پہلے دلوائی جاچکی،جس کےلیے ’بنگلہ دیش‘ آج تک کسی کا زیرِبار ہے! انڈونیشیا سے ایسٹ تیمور کو ’آزادی‘ بھی اِس ’نائن الیون‘ والے ہلے سے پہلے ہی دلائی جا چکی۔ مگر اب تو عالم اسلام کا ہر بڑا رقبہ یا زیادہ آبادی یا مضبوط فوج رکھنے والا ملک سیدھاسیدھا نشانے پر ہے۔ اس کے ایک ایک رخنے پر اہلِ کفر کی نظر ہے۔ یہاں ’علیحدگی‘ کی نوبت لے آ سکنے والے کمزور سے کمزور عوامل اُن سے غیرمعمولی توجہ پاتے ہیں۔ مذہبی یا سیاسی یا لسانی تفرقہ پیدا کرانے والے سب عناصر کو اُن کی پوری آشیرباد ملتی ہے۔ قومی یکجہتی کو ختم کرنے اور اجتماعی عزائم کو شل کرنے والی سب بغض کی ماری زبانیں اور اقلام اُن کے ’پےرول‘ پر رہتے ہیں۔ اور یہ سب باتیں اب کوئی راز نہیں۔ غرض ایسے کسی بھی مسلم ملک کو توڑنے کی امکانی صلاحیت رکھنے والے عوامل خاصی مکاری اور حیلہ جوئی کے ساتھ پیدا کرائے جارہے ہیں۔ اور حسب ضرورت دھونس سے بھی کام لیا جاتا ہے۔

  • پاکستان اُن کا ایک بڑا ہدف ہے، جیسا کہ پیچھے گزر چکا۔ ہمارے حلقوں میں بیٹھنے والے اصحاب جانتے ہیں، ہم اپنی نجی مجالس میں بارہا کہہ چکے، عراق ایسی مضبوط فوجی طاقت کا چند سالوں میں جو حشر کر دیا گیا، عالمی قوتوں کے تیور پاکستان کا اس سے برا حشر کرنے کے تھے؛ پاکستان بلاشبہ عراق سے زیادہ اُن کی نظر میں کھٹکتا رہا ہے۔ امکانی طور پر potentially   ہمارے اِس ملک میں جو جو متحارب عناصر ہو سکتے تھے ان سب کو بھڑوانے، اور یہاں آگ بھڑکانے والے جو جو عوامل ہو سکتے تھے ان سب کو ہوا دینے کی پوری کوشش کر لی گئی۔ ہمارے پڑوس کی کچھ کینہ پرور انٹیلی جنسیں، نیز کچھ عالمی جاسوسی ادارے اور ان کی بغل بچہ تخریب کار تنظیمیں (مانند بلیک واٹر وغیرہ) پاکستان کو داخلی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے اور یہاں کے لوگوں سے ایک دوسرے کا گلا کٹوانے کے بےشمار جتن کر چکیں۔ بہت بہت ہوم ورک کیا گیا۔ لیکن ایک تو اللہ کی حفاظت۔ دوسرا یہاں پر ایک نہایت چوکس اور پیش بند پیشہ ورانہ دفاعی بندوبست کا موجود ہونا۔ کہ نہ صرف داخلی طور پر دشمن کا کہیں ہاتھ نہیں پڑنے دیا گیا۔ بلکہ افغانستان میں دشمن منہ کی کھا رہا ہے۔ بلکہ کشمیر میں مسلمان عنقریب ایک نئے سرے سے  سر اٹھانے والا ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان کا مسلمان ایک نئی جرأت کے ساتھ کھڑا ہونے کے امکانات لا چکا ہے، بعد اس کے کہ اِس پورے خطے میں مسلم امیدوں پر تقریباً پانی پھرتا دکھائی دے رہا تھا۔ بلکہ بعید نہیں بھارت کا سکھ ایک بار پھر اپنے حق کےلیے اٹھ کھڑا ہو۔ البتہ خطرہ ظاہر ہے ابھی پاکستان سے ٹلا نہیں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا، دشمن ابھی کیا کیا حربے آزمانے والا ہے۔

کوئی وجہ ہے کہ ہمارے مشائخ ’’جہاد‘‘ کو مسلم مقبوضہ سرزمینوں کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں

یہ وجہ ہے کہ ہم اپنی تحریروں میں بار بار اس پر زور دیتے آئے ہیں کہ وہ چیز جسے آپ ’’جہاد‘‘ کہتے ہیں اس کا دائرہ متعین کر رکھنا اندریں حالات بے حد ضروری ہے:

’’جہاد‘‘ کا دائرہ فی زمانہ امت کی وہ سرزمینیں ہیں:

1.        جہاں پر صلیبی یا صیہونی یا بھارتی وغیرہ افواج قابض ہیں۔ مانند فلسطین، افغانستان، عراق، کشمیر وغیرہ مقبوضہ مسلم خطے۔ تاکہ

‌أ.        ہمارے قومی جذبے اور ہماری مِلّی مزاحمت کی چوٹ براہِ راست استعماری دشمن پر پڑے؛ جو اِن مقبوضہ خطوں میں بیٹھ کر بقیہ عالم اسلام کو سبوتاژ کرنے اور مسلم دنیا میں اپنے کچھ لمبے چوڑے منصوبے پایۂ تکمیل کو پہنچانے میں مصروف ہے۔

‌ب.   اور تاکہ ہماری قربانیاں مسلسل اس جہت میں بڑھیں کہ  عالمِ اسلام میں اودھم مچاتے یہ بڑےبڑے ہاتھی اور ان کی معیشتیں جن پر انہیں بڑا مان ہے، ذرا خوب نُچڑ لیں (بلِیڈ bleed    کر لیں)۔ اور اِسی دوران مسلم طاقتیں کچھ مزید قوت، تجربہ اور اعتماد پید کر لیں۔

‌ج.    نیز ایک ایسی غیرمبہم مزاحمت کے نتیجے میں امت اپنے دشمن کو بھی خوب پہچان لے۔

‌د.      نیز اپنے دشمن سے برسرپیکار، اور اپنی زمینوں اور اپنی عزتوں کے رکھوالے مجاہدین کو بھی امت خوب پہچان لے، بلکہ حسبِ استطاعت انہیں اون own   کرے۔ یوں کسی لمبی چوڑی الجھن کے بغیر، عملاً، یہ دو ملتوں کی جنگ بنے۔

‌ه.     نیز اِس مرحلہ میں مقبوضہ مسلم خطوں کا یہ واضح، سادہ اور آسان کیس دنیا میں انسانی بنیادوں پر منوانے کےلیے، ایک مؤثر ابلاغی حکمتِ عملی کے ذریعہ سے، غیرمسلم دنیا کے غیرجانبدار ذہنوں تک کو اپنی تائید پر ابھارا جائے۔ یوں فلسطین و کشمیر وغیرہ ایسے خطوں میں برسرپیکار مجاہدین کی تنہائی کو ممکنہ حد تک کم کیا جائے۔

(یورپ اور امریکہ کا وہ طبقہ جو اپنی حکومتوں کی ظالمانہ پالیسیوں کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا اور کچھ منصفانہ ایشوز کے حق میں کھل کر بولتا ہے بشرطیکہ اس تک رابطے کے کچھ کامیاب پل تعمیر کیے جائیں... مسلم خطوں کے ایشو کو اٹھانے کےلیے اس فیکٹر کو ہرگز معمولی نہ جاننا چاہئے۔ ان آخری سالوں میں حماس کی جانب سے معاملے کی اس جہت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں فرانس اور برطانیہ کی حقوقِ انسانی کےلیے کام کرنے والی بےشمار تنظیمیں اور شخصیات اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے لگی ہیں۔ یہاں تک کہ غزہ کا حصار توڑنے کےلیے چلنے والے فلوٹیلا میں آزاد مغربی شخصیات اور تنظیمات بھاری تعداد میں شریک ہو کر پوری دنیا کو حیران کر گئیں۔ جس کے بعد یورپی رائے عامہ میں اسرائیل مخالف ہوائیں چلنے لگیں۔ اس کے نتیجے میں برطانوی اور امریکی ’جمہوریت‘ کی دورُخی تک آزاد ذرائع کا موضوع بننے لگی۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ خطوں میں برسرپیکار مجاہدین نے اِس جہت پر یا تو سوچا نہیں یاابھی تک اِس جہت پر زیادہ سرگرم نہیں ہو پائے۔ ورنہ دشمن کی مشکل اِس ترکیب سے دوچند کی جا سکتی ہے)۔

2.        ایسے مقبوضہ خطوں کے حوالے سے وہاں کے مقامی نیز  عالمی اسلامی تحریکی طبقوں کی رائے عامہ تدبیری طور پر بھی وہاں پر جہاد کے حق میں ہو۔ کیونکہ کسی محاذ کو کھولنے یا نہ کھولنے کے معاملہ میں امت کی عقول کی جانب رجوع لازم ہے؛ اگرچہ شرعاً ایسے کسی مقبوضہ خطے میں قتال کی گنجائش ہو بھی۔ امت کے بڑے دماغ اور سیانی تجربہ کار عقول کی جانب ان معاملات کو تدبیری طور پر لوٹانا اشد ضروری ہے۔ وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ‌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَ‌دُّوهُ إِلَى الرَّ‌سُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ‌ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ۔[5] استنباط (معاملے کی گہرائی میں جانے) کی صلاحیت نہ رکھنے والے لوگ ایسے سنگین اور دُوررَس تاثیر رکھنے والے معاملات میں امت کے مرجع نہیں ہونے چاہئیں۔

خلاصہ یہ کہ: بوجوہ یہ ضروری تھا، اور ہے، کہ قتال (جنگ)  کا معاملہ __  اِس پورے سیناریو میں  __  اُن مسلم مقبوضہ خطوں کو آزاد کرانے تک ہی محدود رہے جو آج کسی صلیبی یا صیہونی یا بھارتی وغیرہ فوج کے بوٹوں تلے پامال ہو رہا ہے۔

پاکستان کے دینی حلقے.. اپنی تاریخ کے بدترین بحران میں

حق یہ ہے کہ ہمارے دینی تحریکی حلقوں کی مین سٹریم main-stream   دورِحاضر میں قتال کو مسلم مقبوضہ خطوں (مانند فلسطین، کشمیر، عراق، افغانستان وغیرہ) تک ہی محدود رکھنے کی قائل ہے۔ اس معاملہ میں قطعاً دو رائے نہیں۔ (چند شاذ طبقوں کا معاملہ اور ہے، ہم یہاں دینی تحریکی حلقوں کی مین سٹریم کی بات کر رہے ہیں)۔  دوبارہ عرض کردیں: ہمارے دینی تحریکی حلقوں کی مین سٹریم  __   نظریاتی سطح پر بھی اور عملی سطح پر بھی __   "قتال" ایسی سرگرمی کو مسلم مقبوضہ خطوں  تک ہی محدود رکھنے کی قائل ہے۔ اور یہ حقیقت ہمارے ان تحریکی حلقوں کی بابت ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔

البتہ ہمارے دینی طبقوں سے کسی درجے میں جو ایک کوتاہی ہوئی وہ یہ کہ: قتال کے عمل کو مسلم مقبوضہ خطوں کی بجائے عام مسلم سرزمینوں (مانند سعودیہ، پاکستان، ترکی وغیرہ) میں گھسیٹ لانے کے آگے جس درجہ کا فکری وسماجی بند باندھنے کی ضرورت تھی  وہ شاید ہم سے نہیں باندھ پایا گیا۔ (ایسا کوئی فکری بند باندھنے کی استعداد بھی الاماشاءاللہ یہاں کم دیکھی گئی، جس پر ہم آگے چل کر کچھ بات کریں گے)۔ اس  کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلم ممالک میں قتال و خونریزی کو ’اسلام‘ کے ساتھ جوڑنے کا عمل تقویت پانے لگا۔  درست ہے کہ مسلم ملکوں میں قتال اور خونریزی کو اسلام سے جوڑنا دینداروں کے ایک انتہاپسند طبقے میں پایا گیا ہے، (اور اس کا خمیازہ جہاں پوری قوم نے بھگتا وہاں دینداروں نے اور دینداروں کے اسلامی کاز Islamic cause   نے کہیں زیادہ بھگتا)۔ تاہم اس چیز کو ابلاغی سطح پر پھیلانے اور ہوا  دینے پر زیادہ محنت یہاں کے لبرل بلاک کی ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ اس کےلیے بڑی بڑی ذہین چالیں چلی گئیں۔ دوبارہ واضح کر دیں: مسلم سرزمینوں میں عسکریت کو ’اسلام‘ کے ساتھ جوڑنے کے جو رجحانات یہاں پیدا ہو رہے تھے، دینداروں کو وہ رخنہ بڑی ابتداء میں ہی بند کرتے نظر آنا چاہئے تھا۔ کیونکہ اس کا نقصان مسلم سرزمینوں کے داخلی استحکام کو تو ہوتا ہی ہوتا (اور یہ بھی دراصل دینداروں ہی کا نقصان تھا؛ اِن کی قربانیاں اِن مسلم سرزمینوں کےلیے آزادی سے پہلے بھی رہی ہیں اور بعد میں بھی، اور یہ بات ہر شک و شبہہ سے بالاتر ہے) البتہ دینی کاز cause   کو اِن ممالک میں اس سے جو نقصان ہونے والا تھا وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہاں اِس چیز کو بروقت بھانپنے میں  __  یا یوں کہیے کہ پوری طرح بھانپنے اور اس کے سنگین مضمرات کا پیشگی، دُوررَس اندازہ کرنے میں  __  ہمارے دینی سیکٹر سے ضرور  کچھ  کوتاہی یا تاخیر ہوئی ہے۔

یہاں سے ہمیں دہری مار ملی:

1.       مسلم ملکوں کو غیرمستحکم کرنے کے مواقع پیدا ہوئے۔ اس معاملے کی سنگینی اِس پوری فصل میں مختلف جہتوں سے ہم بیان کر آئے۔

2.        چونکہ اسلام کو بھی اس چیز کے ساتھ جوڑا گیا، لہٰذا چشمِ تاریخ پہلی بار آج دیکھ رہی ہے کہ:

                            i.      یہاں کے لبرل بکاؤ مال کو ’ملک کے ہمدرد و خیرخواہ‘ کے روپ میں آنا ملا۔

                         ii.      جبکہ دینداروں کی ملک اور قوم سے وفاداری پر انگلی اٹھائی جانے لگی۔

دونوں چیزیں اِس ملک کی تاریخ میں پہلی بار!!!

اس سے زیادہ غیرحقیقی تصویر اِس ملک کے بدخواہ لبرلز کی کبھی دیکھی گئی تھی اور نہ ملک کےلیے قربانیوں کی پوری ایک تاریخ رکھنے والے اور اب بھی ملک کی سالمیت کےلیے بےچین رہنے والے دینداروں کی۔

غرض... باہر کے صلیبیوں اور اندر کے لبرلوں کی چاندی ہی چاندی:

1.        مسلمانوں کی بڑی آبادیوں، وسیع رقبوں، طاقتور فوجوں اور مضبوط عسکری صلاحیت کی مالک  اکائیوں کو (کہ جو یہاں انیسویں صدی والے سیناریو کی بحالی میں اس وقت ایک بڑی رکاوٹ ہیں) ایک گہری دُوررَس چوٹ بھی لگاؤ ۔ جس سے ’انیسویں صدی سیناریو کی جانب جزوی واپسی‘ یہاں ممکن بنائی جا سکے۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں، اِس کی کوئی صورت بنے۔

3.        اور مسلمانوں کو اتنی گہری دُوررَس چوٹ لگانے کے باوجود مسلمانوں کے خیرخواہ اور مددگار بھی نظر آؤ؛ ]جو (بیچارے!) ’دہشتگردی‘ کے خلاف مسلمانوں کی مدد کو آئے ہوئے، اور ’مسلمانوں کے غم میں‘ قربانیاں دیتے، پہاڑوں کی خاک چھانتے (عالم اسلام کے کئی خطوں پر براہ راست قبضے کرتے اور باقیوں کو غیرمستحکم کرتے) پھر رہے ہیں![۔

4.        اور پھر یہ سارا ملبہ ’اسلام‘ پر بھی ڈال دو۔ کہ جس کے قرآن میں ’’جہاد‘‘ پر ایسی آیتیں ہوں اس کو پڑھانے والے مدارس سے ’دہشتگرد‘ ہی تو نکلیں گے۔ یہاں سے ’دہشتگردی‘ کے خلاف اِس جنگ کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ ’قرآن پڑھنے پڑھانے والوں‘ کی طرف پھیر دو۔  ’مسجدوں اور داڑھیوں‘ کے پیچھے لگا دو۔ یوں عالم اسلام میں اپنے بہت سے رُکے ہوئے کام خاص اِسی موقع پر کروا لو: ایک پابندِ اسلام مسلمان ہونا یہاں باقاعدہ خطرے کی علامت ٹھہرا دو۔ یہاں تک کہ اسلامی شعائر کی پابندی کرتے ہوئے، کہیں یورپ میں نہیں، خود مسلم ملکوں میں لوگ اپنے آپ کو غیرمحفوظ، جبکہ بےدین مظاہر اختیار کرتے ہوئے خود کو محفوظ و مامون جاننے لگیں۔  غرض میڈیا کے اس عفریت سے کام لے کر اس جنگ کو باقاعدہ نفسیاتی حربوں میں ڈھال دو۔

قادیانی اور جدت پسند ’انکارِ جہاد‘.. انیسویں صدی والے پنجرے کا ’شرعی‘ دروازہ

جیسا کہ ہم نے کہا، وہ ایک رخنہ جو یہاں کے شدت پسندوں نے پیدا کر کے دیا، یہاں بہت سے طبقوں کےلیے ’جاب امکانات‘job opportunities    پیدا کر لایا۔  اسلام دشمنی کے بڑےبڑے پرانے پراجیکٹ ہرے ہو گئے۔

کسی فکر کے ’سامنے آنے‘ کی تاریخ ہی دیکھ لی جائے تو اس پر ’علمی‘ بحث کی ضرورت خاصی حد تک ختم ہو جاتی ہے۔  انکارِ جہاد‘ کا پہلا نعرہ ایک بڑی سطح پر امت کی تاریخ میں انیسویں صدی کے اندر لگا تھا، جب استعمار کو اس نعرے کی اشد ضرورت تھی۔  استعمار کی اِس ضرورت کو پورا کرنے کےلیے قادیانی نے دلائل کا صغریٰ و کبریٰ ملا کر یہ نکتہ پیش کیا کہ ’’جہاد‘‘ کے نام پر استعماری طاقتوں کے خلاف اٹھنا خلافِ شریعت ہے۔ قادیانی کی یہ دوکان کوئی دن اور چلتی، مگر اللہ نے استعمار کو یہاں سے چلتا کیا اور مسلم قوموں کو آزادیاں دلوا دیں کہ جاؤ اپنا ایک آزاد جہان پیدا کرو اور اُس غلامی کے اسباب دوبارہ پیدا کرنے سے احتراز کرو۔ یہاں؛ قادیانی ڈسکورس اپنی موت آپ مر گیا، بحثوں اور مناظروں کی ضرورت جاتی رہی۔ وہ مسلم سرفروش جو دورِ استعمار میں اِن سرزمینوں کی آزادی کےلیے جہاد کرتے رہے تھے، پسِ آزادی اِن مسلم قوموں کے ہیرو ٹھہرے۔  اُس دور کا ہر بطلِ حریت یہاں کے جیسےکیسے نصابوں میں آج سراہا اور ہیرو ہی مانا جاتا ہے، وللہ الحمد۔ تب سے انکارِ جہاد کی ’دلیلیں‘ بوسیدہ ہو رہی تھیں؛ اور امید تو یہ تھی کہ اب یہ کبھی واپس نہیں آئیں گی۔ جو بھی ان کا ذکر کرتا دورِ غلامی کی ایک یادگار کے طور پر کرتا۔ اور ہے بھی یہ دورِ غلامی کے ساتھ ہی مخصوص۔ ہمارے تاریخ نگار تک یہ لکھنے لگے تھے کہ دورِ استعمار ہم پر یہ نوبت لے آیا کہ مسلمانوں کے یہاں جہاد کا انکار ہونے لگا۔ روس کے خلاف جہاد کے سالوں میں بھی یہ ’دلیلیں‘ تھیلے سے باہر نہ آئیں؛ کیونکہ اُس وقت یہ مغربی بلاک کی ضرورت ہی نہ تھی۔ بلکہ تب مغربی بلاک کو الٹا جہاد کے حق میں فتوے درکار تھے۔ سو ’انکارِ جہاد‘ کا وہ قادیانی مقدمہ بوسیدہ پڑا رہا؛ کوئی اس کا خریدار نہ تھا۔ (اس کے ’خریدار‘ باہر سے ہی ہو سکتے ہیں؛ اور باہر والے اللہ کا شکر ہے جا چکے تھے)۔

تاآنکہ استعمار کو عالم اسلام میں پھر سے ایک مہم درپیش ہوئی، پورے سوا سو سال بعد۔  سن 2001ء۔ جہاد کو شریعت کے خلاف ثابت کرنے کی ایک بار پھر ’ضرورت‘۔ زمانہ اب وہ نہیں؛ ہماری آزادی کے ساتھ قادیانی بھی دائرۂ اسلام سے خارج قرار پا چکے (یہ الگ سے ایک ’دُکھتی رگ‘ ہے!)۔ اب عالم اسلام پر قابض قوتوں کے خلاف جاری مزاحمت کے خلاف بولے تو کون؟ یہاں؛ استعماری ضرورت کو پورا کرنے کےلیے  ’جدت پسند‘ تحریک اٹھی۔ وہی پرانی شراب نئے جام میں: افغانستان، فلسطین، کشمیر وغیرہ میں مسلمانوں کا کافر حملہ آور کے خلاف ہتھیار اٹھانا خلافِ شریعت ہے! یعنی خدا کو ناراض کرنے کا سبب! دین اس کو فساد کہتا ہے! افغانی، فلسطینی، عراقی، کشمیری مجاہد نہیں درحقیقت فسادی ہیں! اب آپ خود اندازہ کر لیجئے، ایک مزاحمت جو اپنا تمام جذبہ ’’دین‘‘ اور ’’ایمان‘‘ سے لیتی اور غاصب کےلیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے، اسے کچلنے کےلیے ایسی ’شرعی دلیلوں‘ سے بڑھ کر اور اُسے کیا چاہئے؟ ’بندوق‘ تو پہلے ہی اُس کے پاس ہےجس سے وہ ہمارے نوجوان کی کھوپڑی چھلنی کر رہا ہے۔ ’دلیل‘ اب اس کو یہ جدت پسند عطا کر رہاہے؛ کیونکہ قادیانی اب دنیا میں نہیں رہا۔ یا یہ کہ دائرۂ اسلام میں نہیں رہا۔

غرض یہ فتاویٰ اپنی حقیقت میں ’انیسویں صدی‘ والے سیناریو کا حصہ ہیں۔ یہ ہمیشہ اس وقت زندہ ہوں گے جب استعمار ہم پر حملہ آور ہو گا۔ (قرآن پر ’گہرے غور و خوض‘ کے پیچھے بسااوقات کچھ نفسیاتی اور وجدانی عوامل بھی ہوتے ہیں!)

لیکن ان فتاویٰ کی دھڑادھڑ فروخت کا یہ موقع بنا کیسے؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور اس پر ہمارے تحریکی حلقوں کو غور کرنا ہے۔ (پچھلے مبحث[6] سے اس کا تعلق جوڑتے ہوئے)۔  شدت پسند ڈسکورس کو اپنے آگے بڑھنے کےلیے یہاں جو کچھ زمین خالی ملی، اور جوکہ ماننا چاہئے ہماری اپنی کسی کوتاہی کا نتیجہ تھا، اور جسے میڈیا نے ’مذہبی‘ رنگ دے کر خوب خوب نشر کیا، وہاں سے ایک ’جوابی بیانیہ‘ counter narrative   کےلیے زبردست ویکیوم vacume   بنا۔ (مائک بدستور میڈیا کے پاس!)۔ جسے پُر کرنے کےلیے وہی انیسویں صدی کا قادیانی والا بیانیہ بلکہ جناب نادر عقیل انصاری[7] کے الفاظ میں ایک استعماریہ ’دلائل‘ کی ایک اَپ ڈیٹ کے ساتھ لا حاضر کیا گیا۔  یعنی پہلے ایک  ’مذہبی‘ نیریٹو نشر کروایا گیا، جوکہ دینی حلقوں کی مین سٹریم کا نیریٹو ہرگز ہرگز نہیں تھا (ہماری اس مین سٹریم کو خدا جانے کیا سانپ سونگھ گیا جو کوئی مضبوط آوازیں ہی یہاں دستیاب نہیں رہیں؛ تاریخ کے ایسے نازک ترین موڑ پر۔ یہ اس سارے بحران کا مرکزی ترین نقطہ ہے، بلکہ ہماری نظر میں یہ اس سارے بحران کی واحد وجہ)۔ ظاہر ہے یہ ایک بھیانک نیریٹو تھا جو نہ دلیلِ شرعی پر قائم اور نہ کسی عقلی تجزیے پر (اس کے بھیانک پن میں ’ایفیکٹس‘ effects   ڈالنا تو میڈیا کا تخصص ٹھہرا)۔  اور پھر انیسویں صدی والے ’’استعماریہ‘‘ کو، یا اس سے بھی پیچھے جائیے تو ایک دینِ اکبری کو، ’جوابی بیانیہ‘ بنا کر ذہنوں میں پیوست کرایاجانے لگا۔ گویا پہلے ایک خوفناک شیر دکھایا گیا اور پھر جب پوری طرح دہل گئے تو ہمارے آگے ایک پنجرہ لا دھرا گیا جس میں جانا قبول کر کے آپ ’شیر‘ سے تو وقتی طور پر شاید ’محفوظ‘ ہو جائیں گے لیکن استعمار کے قیدی ہمیشہ ہمیشہ کےلیے بن جائیں گے، جوکہ اِس ’شیر‘ کے جانے کے ساتھ ہی پنجرے پر اپنا وہی انیسویں صدی والا پرانا بدبودار ’شٹر‘ ڈال دے گا اور تب اِس ’بھٹکے ہوئے آہو‘ کا حال پوچھے گا جو  عالمی جنگوں اور سرد جنگ کی بھگدڑ کا فائدہ اٹھا کر اس پنجرے سے بھاگ نکلا تھا!

غرض معاملے کی ترتیب یوں رہی:

1.    دینی طبقوں کی مین سٹریم کا اس سارے معاملے میں نہ ہونے کے برابر کوئی کردار ہونا۔ (نہ تو اس ’پوسٹ-کولڈ- وار‘ post-cold-war   صورتحال کو بھانپ کر قوم کو بروقت راہنمائی دے پانا۔ اور نہ یہاں کے عمل پسند نوجوانوں میں کوئی ایسی فکری قلعہ بندی کررکھنا  کہ یہاں کچھ چھوٹےموٹے فکری جھٹکے آئیں تو سہے جا سکیں۔ یہاں تک کہ اس موقع پر کوئی اچھی ترجمانی spokesmanship   تک نہ رکھنا۔ یوں متعدد پہلوؤں سے یہاں ایک خلا چھوڑنا)۔

2.    استعمار کا سرد جنگ کے خاتمہ کے تاریخی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے (اپنے صیہونی وبھارتی حلیف کو باقاعدہ ساتھ on board    رکھتے ہوئے) ہماری سرزمینوں پر ایک نئی لشکر کَشی کرنا، اور عالم اسلام   کو ’انیسویں صدی‘ والے پوائنٹ پر (جزوی طور پر) واپس پہنچانے کےلیے کچھ فوری تو کچھ دُوررَس منصوبے لانچ کرنا۔ علاوہ ازیں، ضیاءالحق دَور کے جلاوطن یا یہیں پر دبک کر بیٹھے ہوئے قادیانی نیز ’سرخا‘ عناصر کےلیے ایک نئی نوکری تخلیق کرتے ہوئے یہاں پر ایک ’لبرل سویرے‘ کا ڈول ڈالنا جسے اس بار ’میڈیا ریوولیوشن‘ کی رَو پر سوار ہو کر آنا تھا اور پھر رفتہ رفتہ یہاں کی مادرہائے علمی پر بھی چھا جانا تھا (دونوں یو-ایس-ایڈ اور اسی جیسے ’پاکستان کی ترقی کےلیے بےچین‘ مالیاتی پروگراموں کے سپانسرڈ اور فنڈڈ sponsored and funded )۔ ایک لحاظ سے ہمارے بیرونی محاذ پر مغرب کے ادارہ استعمار Colonialist   کی پیش قدمی تو ہمارے اندرونی محاذ پر ادارہ استشراق Orientalist   کی پیش قدمی۔ دونوں نپی تلی well-studied ، ہم آہنگ aligned ، منسَّق coordinated  اور دقیق sycronized ۔ جسے یہاں کے سب فکری، سیاسی اور سماجی عوامل کے ساتھ پوری ذہانت کے ساتھ کھیلنا تھا۔ (ادھر ہمارے دینداروں کے پاس مل کر بھی منصوبہ بندی کا کوئی ایک ادارہ نہیں، شاید اس کی ضرورت بھی محسوس نہ کی گئی ہو!)

3.    عالم اسلام میں استعمار کے اودھم مچانے اور یہاں کی سرزمینوں پر قبضے جماتے چلے جانے کےلیے ’دہشتگردی‘ ایک بہت اچھی اوٹ تھی۔  اس کا نام لے کر جو مرضی کرتے چلے جاؤ! کچھ دیر تک یہ اصطلاح ہمارے اُس جائز جہادی عمل کےلیے مستعمل رہی جو مسلم سرزمینوں پر بیرونی جارحیت کے خلاف انجام پا رہا تھا مثلاً امریکی قبضہ کاروں کے خلاف ہمارے افغان بھائیوں کی جدوجہد، یا صیہونی غاصبوں کے خلاف ہماری فلسطینی بھائیوں یا بھارتی قبضہ کاروں کے خلاف ہماری کشمیری بھائیوں کی جدوجہد، وغیرہ۔ طبعی بات تھی کہ اسے ’دہشتگردی‘ کہنے کے خلاف ہماری قوم کا ایک طبقہ مزاحم ہوتا: بھئی یہ تو ہماری وہ جنگ آزادی ہے جو مسلم سرزمینوں پر چڑھ آنے والے کافروں کے خلاف ہم ہمیشہ لڑتے آئے ہیں۔ اپنی زمینوں کے دفاع کا حق ہمیں انسانی اصولوں نے بھی دیا ہے۔ اور اس سے پہلے ہمارے دین نے بھی ہم پر یہ فرض کر رکھا ہے۔ لہٰذا یہ تو ہماری قوم کے ہیرو ہوئے جو ہم سب کی جانب سے فرضِ کفایہ ادا کر رہے ہیں۔

یہاں تک؛ ایک جنگ پوری طرح ہمارے لڑنے کی تھی۔ ہمارا دین تو ہماری پشت پر تھا ہی۔  ہم اگر منہ میں زبان رکھتے تو انسانی اصول بھی ہمارے مؤید تھے۔  اس سے ہم نہ صرف اپنی قوم پر بلکہ باہر کے انصاف پسند طبقوں پر بھی اپنے دشمن کو ایک برہنہ غاصب جارح قبضہ کار ثابت کر سکتے تھے۔ یوں اپنے دشمن کے پاس ہمارے اور پوری انسانیت کے ’نجات دہندہ‘ کے روپ میں آنے کا موقع ہی ہم نہ چھوڑتے اور وہ ایک صریح ’غاصب‘ کے طور پر ہی دنیا کے اندر دیکھا جاتا۔ مغرب کے بہت سے انصاف پسند اپنی حکومتوں پر تنقید کےلیے اس بنیاد کو اختیار کرتے بھی رہے ہیں تاوقتیکہ ’اسلام‘ اور ’جہاد‘ کے نام پر ماردھاڑ کا ایک خوفناک ناقابل توجیہ فنامنا ہر کسی کو خاموش کرانے لگا۔  پس اس جنگ کا اسی نقشے پر رہنا ہمارے حق میں بہت سے پوائنٹ لا رہا تھا۔ اس سے ہم کئی محاذوں پر جیت پانے والے تھے۔ کاش معاملہ اسی محور پر رکھا جاتا۔ اس پالیسی پر رہتے ہوئے: ہمارے نوجوان کا جذبۂ شہادت تو سب کا سب دین سے ہی پھوٹتا اور اپنے نوجوان کےلیے حوالہ ہمارا وہ خالص اسلامی پیراڈائم ہی ہوتا۔ البتہ عالمی سطح پر ہم دنیا کے مانے ہوئے اصولوں کی بنیاد پر بھی اپنا کیس ثابت کر رہے ہوتے، کیونکہ یہ دنیا فی الحال ہمارا ’اسلامی‘ حوالہ نہیں مانتی۔ غرض یہاں تک معاملہ ہمارا ہی طرفدار تھا، کچھ کمی تھی تو ترجمانی spokesmanship    کی۔ باقی عملی جنگ تو لڑنے سے لڑی جانی تھی، اور یہ ایک گوریلا وارفیئر تھا جو ہمیشہ وقت مانگتا ہے۔

4.    تاآنکہ کچھ دینی طبقوں نے ایک ہیجان خیز صورتحال میں جذباتیت کی راہ چلتے ہوئے اِنہی مسلم سرزمینوں کے اندر محاذ کھول ڈالے۔ ادارہ استشراق orientalist   بڑی دیر سے یہاں کے فکری رجحانات کا مطالعہ کر رہا تھا۔ وہ ایسا کوئی موقع ہاتھ سے کیونکر جانے دیتا۔  یہاں سے؛ مسلم سرزمینوں کو نہ صرف غیرمستحکم کردینے بلکہ آگ اور خون میں نہلا دینے کی ایک صورت اُس کے ہاتھ لگی۔ کیا ’بلیک واٹر‘، کیا ’را‘، کیا ’خاد‘ اور نجانے کون کون سے سیکریٹ گروپ یہاں ’جہاد‘ کے پردے میں یوں سرگرم ہوئے کہ الامان والحفیظ۔ ہماری اِن قوموں کو جہاد سے ’توبہ‘ کروا دینے کی یہ صورت سب سے سوا تھی۔ مسلمانوں پر ایسا الٹا پڑنے والا ’جہاد‘ تو ان کی پوری تاریخ میں کبھی نہ ہوا ہو گا! اوپر سے لبرلز کے کورَس!  کوڑوں والی فلموں ایسے چیختے دھاڑتے ’چشم کشا حقائق‘!  چنانچہ ایک شدت پسند ڈسکورس سے سامنے آنے والی عسکریت پسندی جس کا میدان پاکستان اور سعودی عرب وغیرہ ایسی مسلم سرزمینیں تھی، یہاں ایک ایسی غیرمعمولی دریافت ثابت ہوئی کہ  اس کے پردے میں آگے بڑھتے ہوئے معاملے کا سارا نقشہ بدل ڈالا گیا۔

5.    ’دہشتگردی‘ کو جب یہ سب معانی پہنا لیے گئے اور پوری قوم اس سے نجات پانے کےلیے بلبلا اٹھی تو... یہاں سابقہ قادیانی اور حالیہ جدت پسند ڈسکورس میدان میں آیا: انکارِ جہاد، جس کو سمجھنے میں فقہاء مسلسل ’غلطی‘ کھاتے رہے تھے!  ’دہشتگردی‘ سے اسلام کا چہرہ صاف کرنے کےلیے یہاں کچھ جدت پسند مفسرین آگے بڑھے جو اِس ’حقیقت‘ سے پردہ اٹھائیں کہ اصل فساد کی جڑ اِس دور میں ’’جہاد‘‘ کا نام لینا ہے۔ بھائی ’’جہاد‘‘وغیرہ ایسے سب احکام تو اُسی دور کے ساتھ مخصوص ہیں جب قرآن مجید نازل ہوا؛ بعد کے ادوار کےلیے تو جہاد وغیرہ کی یہ آیات ہیں ہی نہیں۔ یہ ظلم اور فساد تو پونے چودہ سو سال سے امت کی تاریخ میں ہوتا آ رہا ہے؛ لہٰذا یہ صفائی تو بڑی پیچھے سے ہونی چاہئے! یہ سب مدرسے اور ان کے اندر پڑھانے والے دماغ چونکہ اسلام کے اُسی تاریخی ڈسکورس کو لے کر چلتے ہیں لہٰذا ’دہشتگردی‘ ان کی گھٹی میں بیٹھی ہوئی ہے۔ ’دہشتگردی‘ سے نمٹنا ہے تو پہلے اس روایتی علمیت classical discourse    سے چھٹکارا حاصل کرو جو یہاں کے علماء اور اساتذہ کے دماغوں میں بیٹھی ہے! آپ اسے ’حسنِ اتفاق‘ co-incidence   کہئے یا ’توارُد‘ یا کچھ اور، ادارہ استشراق کا سب سے بڑا پراجیکٹ عالم اسلام کےلیے یہی تو ہے جو یہاں کی ’تحقیق پسند‘ زبانوں پر آپ سے آپ جاری ہے!... لہٰذا ایسے تفسیری ’انکشافات‘ اگر مسلمانوں پر آج ہو جائیں تو سونے پر سہاگہ! ایسا بروقت کام! دوبارہ کب موقع ہے! وہ جہاد جس نے بارہ صدیوں تک کافر کی ناک میں دم کیے رکھا اور ’دورِ نزولِ قرآن‘ کے صدیوں بعد بھی اللہ کے فضل سے براعظموں کے براعظم اسلام کے زیرنگیں لے آتا رہا (جن میں آپ کا یہ ہند بھی شامل ہے: ہند کے بتکدے میں مسجدوں اور اذانوں کی یہ دل آویز گونج میسر آئی تو ہمارے اسی جہاد کے دم سے جو ’دورِ نزولِ قرآن‘ کے صدیوں بعد ہوا) اس تاریخی ’’جہاد‘‘ سے کوئی ’نظمِ قرآن‘ کے نام پر اب ہمیشہ کےلیے آپ کی جان چھڑوا دے، اس سے بڑی کیا نعمت ہو سکتی ہے! آپ جانتے ہیں اس ایک مقصد کےلیے ہی تو یہاں مرزا قادیانی کو ہائر hire   کیا گیا تھا جو ایک جعلی نبوت کی جھک مار بیٹھا! مسلمانوں کی لغت سے ’’جہاد‘‘ کو خارج کروا دینے کا مطلب مسلمانوں کی زندگی سے استعماری لشکروں کے خلاف مزاحمت ختم کروا دینا ہی تو ہے؛ جس میں نجانے ابھی کیسےکیسے موڑ آنے ہیں! لہٰذا مسلمانوں کو اِس طرف سے بھی مارو اور اُس طرف سے بھی۔ پہلے ’’جہاد‘‘ کے نام پر اِنہیں ایک مار مارو اور پھر ’’انکارِ جہاد‘‘ کی راہ سے اُس سے بھی بری ایک مار!

یہ ہے نتیجہ؛ جب ’’جہاد‘‘ کا مفہوم اور عمل اپنے محل پر نہ رہے۔ تب یہاں دو ہی ڈسکورس سنے جائیں گے: ایک شِدَّت پسند اور ایک جِدَّت پسند۔ جبکہ سنت کے حقیقی ترجمان غائب؛ میڈیا ان کی بھلا کیوں سنائے گا جو اِس پورے منصوبے میں کہیں فٹ ہی نہیں بیٹھتے!

******

اس سلسلہ کا اگلا مضمون:

کافر کی ہمارے خلاف جنگ کا دوسرا محور: "مسلمان" کو ایک تہذیبی واقعے کے طور پر ختم کر ڈالنا


اس سلسلہ میں مزید:



اس سلسلہ کا گزشتہ مضمون (اِس سلسلۂ مضامین کا مقدمہ):






[1]  مطالعہ فرمائیے ہمارے اِس اداریہ کی چھٹی فصل، ساتواں مبحث۔

[2]  اداریہ کی چھٹی فصل (چارہ گروں کی خدمت میں چند سفارشات) اِسی موضوع سے بحث کرتی ہے۔

[3]  حدیثِ قدسی: ’’جو شخص میرے کسی دوست کے ساتھ دشمنی کر لے، میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا کرتا ہوں‘‘۔

[4]  (الأنعام: 64) ’’ کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے‘‘۔

[5] (النساء: 83) جب اِنہیں امن یا خوف ایسا کوئی معاملہ پیش آیا، تو یہ لگے اسکو ہر طرف پھیلانے۔ حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنے ذمہ دار لوگوں کی طرف لوٹا دیتے تو معاملے کی تہہ تک پہنچنے والے اس پا لیتے۔

[6]  پچھلا مبحث بعنوان: ’’پاکستان کے دینی حلقے اپنی تاریخ کے بدترین بحران میں‘‘۔

[7]  نائب مدیر سہ ماہی ’’جی‘‘ لاہور۔ متعلقہ موضوع سے متعلق ان کے مضمون کے اقتباسات ایقاظ نومبر 2015ء میں شائع ہو چکے ہیں بعنوان: ’’جوابی بیانیہ نہیں استعماریہ‘‘۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
تنقیحات-
احوال-
حامد كمال الدين
کل جس طرح آپ نے فیصل آباد کے ایک مرحوم کا یوم وفات "منایا"! حامد کمال الدین قارئین کو شاید ا۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
’بندے‘ کو غیر متعلقہ رکھنا آپ کے "شاٹ" کو زوردار بناتا! حامد کمال الدین لبرلز کے ساتھ اپنے ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
حامد كمال الدين
"حُسینٌ منی & الحسن والحسین سیدا شباب أھل الجنة" صحیح احادیث ہیں؛ ان پر ہمارا ایمان ہے حامد۔۔۔
بازيافت- تاريخ
بازيافت- سيرت
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
ہجری، مصطفوی… گرچہ بت "ہوں" جماعت کی آستینوں میں! حامد کمال الدین ہجرتِ مصطفیﷺ کا 1443و۔۔۔
جہاد- مزاحمت
جہاد- قتال
حامد كمال الدين
صلیبی قبضہ کار کے خلاف چلی آتی ایک مزاحمتی تحریک کے ضمن میں حامد کمال الدین >>دنیا آپ۔۔۔
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کےلیے یہاں کلک کیجیےمزاحمتوں کی تاریخ میں کونسی بات نئی ہے؟ صلیبی قبضہ کار کے خلاف۔۔۔
حامد كمال الدين
8 دینداروں کے معاشرے میں آگے بڑھنے کو، جمہوریت واحد راستہ نہیں تحریر: حامد کمال الدین ۔۔۔
حامد كمال الدين
7 "اقتدار" سے بھی بڑھ کر فی الحال ہمارے پریشان ہونے کی چیز تحریر: حامد کمال الدین مض۔۔۔
حامد كمال الدين
6 جمہوری راستہ… اور اسلامی انقلاب تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ نبوت سے۔۔۔
حامد كمال الدين
5 جمہوریت کو "کلمہ" پڑھانا کیا ضروری ہے؟ تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ ۔۔۔
حامد كمال الدين
4 جمہوریت… اور اسلام کی تفسیرِ نو تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ نبوت سے۔۔۔
حامد كمال الدين
3 جمہوری پیکیج، "کمتر برائی"… یا "آئیڈیل"؟ تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ نبوت سے عد۔۔۔
حامد كمال الدين
2 جمہوری راستہ اختیار کرنے پر، دینداروں کے یہاں دو انتہائیں تحریر: حامد کمال الدین ۔۔۔
حامد كمال الدين
1 کامل خلافتِ نبوت سے عدولی، ملوکیتی ادوار پر جمہوری فارمیٹ کا قیاس؟ تحریر: حامد ک۔۔۔
حامد كمال الدين
جاہلیت کے سب دستور آج میرے پیر کے نیچے! تحریر: حامد کمال الدین  خطبۂ حجة الوداع، جس کی باز۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نفس کی اطاعت" شرک کب بنتی ہے؟ حامد کمال الدین برصغیر کے فکری رجحانات صوفیت کے زیرِاثر رہے۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ایک "عقیدہ بیسڈ" aqeedah-based بیانیہ جو "اعمال" میں نرمی اور تدریج پر کھڑا ہو حامد ک۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"دلیل ازم" کا ایک ٹپیکل مغالطہ حامد کمال الدین سوال: کیا آپ اس عبارت سے متفق ہیں؟ [ر۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين