عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, December 14,2019 | 1441, رَبيع الثاني 16
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Gard_Nahi آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ابتدائیہ
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

  

إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ

   

 

ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ   مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ   وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ   وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ   فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ   بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ   إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ  فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ   وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ   وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ  هَمَّازٍ مَّشَّاء بِنَمِيمٍ   مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ  عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ  أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ   إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ   سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ

 

”ن۔ قلم اور اُن کے لکھے کی قسم! اپنے رب کی عنایت سے، تم کوئی دیوانہ نہیں۔ اور ضرور تمہارے لئے وہ اجر ہے کہ ختم ہونے میں نہیں۔ اور یقینا تم ہی اخلاق کے نہایت بلند رتبہ پر ہو۔ پس دیکھ لو گے تم بھی اور دیکھ لیں گے یہ بھی، کہ تم میں سرپھرا کون تھا۔ تیرا رب ہی خوب جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کون راہ پر ہے۔ تو پھر مت مان اِن جھٹلانے والوں کی۔ اِن کی تو آرزو ہے، ذرا تم نرم پڑو تو یہ بھی نرم پڑ جائیں۔ اور ہر ایسے کی بات مت سن جو پیر پیر پر قسم کھاتا ہے۔ نہایت نیچ ہے۔ طعنہ باز۔ لگائی بجھائی کیلئے ہرکارا۔ خیر کو آگے بڑھ کر روکنے والا۔ حد سے گزرا ہوا۔ پاپ کا رسیا۔ بد خصلت۔ اور اِس سب پر طرہ، کہ بد اَصل۔ محض اِس وجہ سے کہ مال اور اولاد رکھتا ہے؟! جب ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے: کہانیاں ہیں پرانے زمانوں کی! عنقریب ہم اِس کے سونڈ پر داغیں گے“۔

 

اِس کتاب کی بابت واضح ہو

 

قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے سوا مغرب کے ساتھ ہمارا جو کوئی بھی نزاع ہے، خواہ وہ کتنا ہی اہم اور کتنا ہی فیصلہ طلب ہے، وہ ہماری اِس پوری کتاب میں ذکر نہیں ہوا ہے۔۔

مغرب کی ہم پر زیادتیوں کی جتنی بھی طویل فہرست ہے۔۔ خواہ وہ دو سو سال سے ہماری اقوام کو غلام بنا رکھنا ہو، یا استعمار کے اِس مرحلۂ دوم میں پھر سے ہمارے ملک چھیننے لگنا۔۔ یا ہماری بستیوں پر ہزاروں ٹن بارود برسانا کہ جس کے نتیجہ میں روز ہمیں اپنے بچوں کے چیتھڑے دفن کرنا پڑ رہے ہیں۔۔ یا ہمارے سمندروں پر قابض بحری بیڑوں سے مسلسل ہمارا محاصرہ کر رکھنا۔۔ یا ہمارے ہر بڑے شہر کو اپنے ’ایٹمی‘ نوک بردار میزائلوں کے ’لمحاتی‘ نشانے پر رکھنا۔۔ یا ہمارے تہذیبی خدوخال مسخ کرنے کیلئے ہر سال اربوں کھربوں ڈالر کے تعلیمی، سماجی و ابلاغی منصوبے زیر عمل لانا، اور اِسی ایک مقصد کیلئے ہمارے چپے چپے پر ’این جی اوز‘ بیج دینا۔۔ یا ہمارے افلاس زدہ خطوں اور جنگ سے تباہ حال ہماری ’خیمہ بستیوں‘ میں ’روٹی‘ کے بدلے ’ایمان‘ کے سودے کرتے پھرنا اور ’انسانی مدد‘ کے نام پر جگہ جگہ یہ ’بیوپار‘ چلانا۔۔ یا ’پائپ‘ لگا کر ہمارے وسائل کھینچ جانا، ہمیں بٹورنے کے ہزاروں ’سمارٹ‘ طریقے اختیار کر رکھنا اور پھر ہماری ہی دولت لوٹ لوٹ کر ہمیں ’امدادوں‘ کی بھیک دینا اور اِس بھیک کیلئے بھی یہ شرط ہونا کہ ہم پر اُنہی کی مرضی کے لوگ اور اُنہی کی پسند کے نظام مسلط رہیں۔۔۔۔

یہ سب کچھ۔۔ گو اِس ’جدید دنیا‘ کا ایک ’سچا واقعہ‘ ہے۔۔۔۔ پھر بھی ہم پر روا رکھی جانے والی ایسی کوئی بھی زیادتی، جس کا تعلق ہم مسلمانوں کی ذات سے ہو، اِس کتاب کا موضوع نہیں۔

یہاں زیادتیوں کی اُس نوع کا ذکر ہوگا جو ہم سے خالصتاً ہمارے دین، ہماری کتاب اور ہمارے نبی کی حرمت و ناموس کے معاملہ میں روا رکھی جاتی ہے۔۔ یعنی زیادتی کی وہ قسم جسے ’بھلا دینے‘ یا ’معاف کردینے‘ کا ہمیں حق ہی حاصل نہیں!!!

 

ہم مسلمانوں کی بابت معلوم ہو

 

کرۂ ارض پر بسنے والا ہر انسان ہمارے لئے قابل قدر ہے۔ آدم علیہ السلام کی صلب سے پیدا ہونے والا ہر ذی نفس ہمارا شریکِ نسب ہے اور نسب کا رشتہ ہمیں __اسلام کے رشتہ کے بعد __ سب سے بڑھ کر عزیز ہے۔ مغرب سمیت کسی بھی قوم کے ساتھ ہمیں کوئی دشمنی ہے اور نہ کسی بھی براعظم میں سکونت پزیر کسی بھی ابن آدم کے ساتھ ہمیں کوئی پرخاش۔

انسانی رشتوں کا بندھن مضبوط سے مضبوط کرنا ہمیں حکمِ خداوندی ہے۔ خدا ترسی، وفاشعاری، انصاف پسندی اور انسان دوستی ہمارا تاریخی شیوہ ہے۔ ’انسانی بھائی چارہ‘ ہمارے دین کی تعلیم ہے۔ جس کتاب پر ہم ایمان رکھتے ہیں خود اُسی کی رو سے، اِس دنیا میں ہر کسی کو اپنی مرضی کے دین پر رہنے کا پورا پورا اختیار حاصل ہے۔ اور اِس اختلافِ ادیان کے باوجود انسانی بہتری و بھلائی کے ہزاروں منصوبے ہمارے اور اُن کے تعاون سے یقینا پروان چڑھ سکتے ہیں۔

 

پس واضح ہو

 

ہمارے نہ صرف اِس مضمون بلکہ کسی بھی تحریر میں مغرب کا ذکر اگر کسی ’مخاصمت‘ یا ’تصادم‘ کے سیاق میں ہوا ہے یا ہمارے اہل علم بھی جب کبھی یہ اسلوب اختیار کرتے ہیں تو وہ صرف وہاں کے اُن طبقوں کے حوالے سے ہوگا جو اپنے معاشروں میں بلکہ پوری دنیا کے اندر ہمارے دین، ہماری کتاب، ہمارے نبی اور ہمارے مقدسات کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانے کا ذریعہ بن رہے ہیں اور جو ہماری امت کے خلاف برسر جنگ ہیں۔۔۔۔ اور جوکہ مغرب میں پائے جانے والے بیشتر سماجی وابلاغی رجحانات پر آج پوری طرح حاوی ہیں۔

 

ہمیں یہ تسلیم کرنے میں ہرگز کوئی مانع نہیں کہ

 

مغرب کے اندر سنجیدہ و مثبت سوچ کا حامل ایک بہت بڑا طبقہ یقینا ایسا ہے جو اسلام کے خلاف دشمنی پالنے والی صنف میں نہیں آتا اور جس میں انصاف پسندی کا عنصر بھی ایک بڑی مقدار کے اندر موجود ہے۔
مغرب کے اِس طبقے کوہم بھی قدر ہی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُسکے ساتھ تبادلۂ خیال بلکہ تبادلۂ خیر، بلکہ انسانی امن وسلامتی اور بشری فلاح وبہبود کے سانجھے منصوبوں میں اس کے ساتھ شریکِ کار ہونے کو نہ صرف جائز بلکہ مستحسن جانتے ہیں۔۔ اور بلکہ وقت کی ایک ضرورت۔ گو یہ ایک واقعہ ہے کہ یہ انصاف پسند طبقہ مغرب کی عالم اسلام کی بابت پالیسیوں پر اثر انداز ہونے میں اِس وقت قریب قریب غیر متعلقہ ہے۔

 

پس نہایت واضح ہو

 

ہماری یہ گفتگو مغرب کے اُن طبقوں کی بابت ہے جو اسلام کے خلاف حالیہ ہیجان خیزی کے ذمہ دار اور وہاں کی اُن پالیسیوں کو جنم دینے کے پیچھے اصل کردار ہیں جن کو اسلام دشمنی کے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔

 

لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ   إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ  (الممتحنۃ: 9،8)

”اللہ نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں بے گھر نہیں کیا۔ انصاف پسند تو یقینا اللہ کو محبوب ہیں۔ اللہ توتمہیں اُن لوگوں کے ساتھ دوستی سے روکتا ہے جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ کی، تمہیں بے گھر کیا، اور تمہیں بے گھر کرنے والوں کو پیچھے سے مدد دیتے رہے۔ ہاں جو ان سے دوستی کریں گے وہ صریح ظالم ہیں“۔
 

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز