عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Wednesday, July 17,2019 | 1440, ذوالقعدة 13
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
mazameen_ramzan آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
اَسرارِ صیام _ *اردو استفادہ از امام ابن قدامہ الحنبلی
:عنوان

دشمنِ خدا کا وہ ہتھیار جو وہ ابنِ آدم کےخلاف بےتحاشا برتتا ہے اِسکی شہواتِ نفس ہیں۔ یہ شہوات و خواہشات انسان میں جہاں سےتقویت پاتی ہیں وہ ہے اِسکے ہاں خورد ونوش کی فراوانی۔ پس جب تک خواہشات کی یہ زمین ہری رہےگی

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

اَسرارِ صیام

 

(اردو استفادہ از امام ابن قدامہ الحنبلیؒ)

  

جان لو کہ روزہ کے اندر کچھ ایسی خاص بات رکھ دی گئی ہے جو اِس کے سوا کسی اور عمل میں نہیں، اور وہ ہے اِس کو اللہ عزوجل کے ساتھ ایک خاص نسبت ہو جانا، جیسا کہ حدیثِ قدسی میں وارد ہوا ہے (الصوم لی و أنا أجزی بہ)۔ عبادتِ صیام کو بس یہی شرف کافی ہے، ویسے ہی جیسے ”بیت اللہ“ کہلا کر ایک مقام کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ نسبت کا ایک خاص حوالہ حاصل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ”وَطَہِّر بَیتِی´“ یعنی ”میرے“ گھر کو صاف ستھرا کر رکھو!

روزہ کی فضیلت کے پیچھے دو خوبصورت معانی پنہاں ہیں:

ایک یہ کہ یہ ایک راز ہے اور سراسر ایک باطنی عمل۔۔۔۔ جو مخلوق کے احاطۂ نظر میں کبھی آ ہی نہ پائے۔ روزہ کے اِس معنیٰ میں ریاکا کوئی گزر نہیں۔

دوسرا یہ کہ روزہ دراصل دشمنِ خدا کو مقہور کر دینا ہے۔ وجہ یہ کہ دشمنِ خدا کا وہ ہتھیار جو وہ ابنِ آدم کے خلاف بے تحاشا برتتا ہے اِس کی شہواتِ نفس ہیں۔ یہ شہوات و خواہشات انسان میں جہاں سے تقویت پاتی ہیں وہ ہے اِس کے ہاں خورد ونوش کی فراوانی۔ پس جب تک خواہشات کی یہ زمین ہری بھری رہے گی تب تلک شیاطین کا اِس چراگاہ میں آنا جانا بے تحاشا رہے گا۔ اب جب خواہشات و شہوات کو ترک کرایا جائے گا تو شیاطین کی راہیں خود بخود یہاں تنگ ہونے لگیں گی۔

اب ہم اختصار سے روزہ کی کچھ سنتوں کا ذکر کریں گے:

1) سحری کی جانا بے حد پسندیدہ ہے، اور وہ بھی یہ کہ خاصی لیٹ کرکے کی جائے۔ افطار میں خوب جلدی کی جائے، اور یہ کہ کھجور سے کی جائے۔

2) رمضان میں سخاوت بطورِ خاص مستحب ہے۔ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا۔ اچھا اور پسندیدہ بننا، دل کھول کر صدقہ کرنا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں رمضان کے معمولات کی نسبت ہمیں سیرت و احادیث سے معلوم ہے۔

3) رمضان میں قرآن کا طالبِ علم بننا۔ اعتکاف کی صورت خدا کے گھر میں ڈیرے ڈال دینا خصوصا رمضان کی آخری دس راتیں۔ رمضان کے آخری حصہ میں عبادت پر پورا زور صرف کردینا۔

صحیحین میں عائشہؓ کی حدیث ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آپ کمر بستہ ہو جاتے، رات عبادت میں گزارتے اور اہلِ خانہ کو بیدار کرتے۔ علماءنے اِس ’کمر بستہ ہو جانے‘ کے دو معنیٰ بیان کئے ہیں: ایک یہ کہ ازدواجی تعلق سے کنارہ کشی کرلیتے، اور دوسرا یہ کہ یہ کنایہ ہے عمل میں انتہائی حد تک جت جانے کا۔
علماءکا قول ہے کہ آپ کا آخری عشرہ میں عبادت وریاضت پر پورا زور صرف کردینا اس وجہ سے تھا کہ آپ لیلۃ القدر کو پالینے کی سعی فرماتے۔

٭٭٭٭٭٭٭

اب ہم روزہ کے بعض اَسرار اور آداب کا ذکر کریں گے:

روزہ کے تین مراتب ہیں: ایک عوام کا روزہ اور ایک خواص کا روزہ اور ایک خاص الخواص کا روزہ۔

’عوام‘ کا روزہ ہے: پیٹ اور شرمگاہ کو اس کی خواہش پورا کرنے سے روک رکھنا۔

’خواص‘ کا روزہ ہے: نگاہ، زبان، ہاتھ، پیر، کان، آنکھ اور سب کے سب اعضاءوجوارح کو خدا کی معصیت کے کاموں سے باز کئے رکھنا۔

رہا ’خاص الخواص‘ کا روزہ، تو وہ یہ ہے کہ دل ہی ہر گھٹیا سوچ اور ارادے کے معاملہ میں روزہ دار ہو جائے۔ وہ سب افکار و خیالات جو آدمی کو خدا سے دور کریں یا خدا کی نگاہ میں آدمی کی وقعت کم کردینے والے ہوں آدمی کے ہاں متروک ہو کر رہ جائیں۔ گویا قلب کی دنیا میں آدمی خدا کے سوا دنیا ومافیہا سے روزہ رکھ لے۔ روزہ کے اِس مرتبہ کی شرح و وضاحت کسی اور مقام پر ہوگی۔

رہ گیا دوسرا مرتبہ یعنی ’خواص کا روزہ‘ تو اس کے آداب میں یہ آتا ہے کہ آدمی کی نگاہ روزہ سے ہو جائے اور ہر اُس جانب سے جو خدا نے حرام ٹھہرا دی نگاہ کا رخ پھر جائے۔ زبان کو ہر اُس بات سے جو مخلوق کو اذیت دے یا خالق کے ہاں حرام یا ناپسند ہو، یا حتیٰ کہ جو لایعنی وبے فائدہ ہو۔۔۔۔ زبان کو ایسی ہر بات سے تالا لگ جائے۔ نیز یہ کہ آدمی اپنے سب کے سب اعضاءو جوراح کا پہرہ دار بن کر کھڑا ہو جائے کہ کوئی عضو بھی خدا کی معصیت کا رخ نہ کرپائے۔

بخاری کی روایت میں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للہ حاجة فی أن یدع طعامہ وشرابہ ” جو شخص قولِ باطل سے اور اس پر عمل کر گزرنے سے باز نہیں رہتا، اللہ کو یہ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا ہی چھوڑ کر رہے“ مراد یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ یہ ان باتوں سے تو رک گیا ہے جو روزے کے علاوہ عام حالات میں اس کیلئے بالکل جائز اور روا ہیں البتہ ان باتوں سے روزہ رکھ کر بھی رکنے کا نام نہیں لیتا جن کی کسی بھی وقت اسے اجازت نہیں، اور جو کہ اللہ کی مطلق حرام کردہ باتیں ہیں۔

آدابِ صیام میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ آدمی رات کو کھانے سے پیٹ نہ بھر لے۔ رات کو بھی کھائے تو بس حساب سے۔ کیونکہ، جیسا کہ حدیث میں ہے، ابنِ آدم کا پیٹ وہ بدترین برتن ہے جس کو یہ کناروں تک بھر لیتا ہے۔ ابتدائے شب اگر انسان پیٹ کو کھانے سے پر کر لے تو باقی شب وہ اپنا اچھا استعمال ہرگز نہ کرپائے گا۔ اسی طرح اگر وہ سحری کے وقت شکم سیر ہو جاتا ہے تو ظہر تک وہ خود کو کار آمد نہ رکھ پائے گا۔ کیونکہ بسیار خوری کاہلی اور بے ہمتی کو جنم دیتی ہے۔ نیز روزہ سے جو کوئی مقصود ہے بسیار خوری سے خود اس مقصود ومطلوب پر ہی پانی پھر جاتا ہے۔ روزہ سے مقصود تو یہ ہے کہ انسان بھوک کے تجربے سے گزرے اور ترکِ خواہش کی استعداد پائے۔

٭٭٭٭٭٭٭

جان لو کہ صیامِ نفل یوں تو ہر وقت پسندیدہ ہے، مگر کچھ خاص ایامِ فضیلت میں تو بے حد پسندیدہ اور مستحب ہو جاتا ہے۔ فضیلت کے ایام کچھ تو وہ ہیں جو ہر سال آتے ہیں، جیسے مثلاً رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے، یومِ عرفہ، یومِ عاشوراء، عشرۂ ذو الحج، اور محرم۔ جبکہ کچھ ایام وہ ہیں جو ماہانہ ہیں، جیسے مثلاً مہینے کا یومِ اول اور یومِ وسط اور آخری یوم۔ جو ان تین دنوں کے روزے رکھے وہ خوب ہے۔ البتہ افضل یہ ہے کہ مہینے کے تین دن وہ ایامِ بیض کے کرے، یعنی چاند کے جوبن کے تین ایام روزہ سے رہے۔

جبکہ فضیلت کے کچھ ایام ہفتہ وار ہیں، یعنی سوموار کا روزہ اور جمعرات کا روزہ۔

صیامِ نفل میں افضل ترین صومِ داودؑ ہے: داود علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار۔ صیامِ داودؑ کے افضل ترین ہونے میں تین خوبصورت معانی پوشیدہ ہیں:

ایک یہ کہ نفس کو ایک دن اُس کا حظ ملتا ہے اور ایک دن اُس سے عبادتِ صوم کرائی جاتی ہے۔ یعنی ایک دن اُس کو حق ملتا ہے اور ایک دن اُس سے کام لیا جاتا ہے، جو کہ عدل کی بہترین حالت ہے۔

دوسرا یہ کہ کھانے کا روز روزِ شکر ہے اور اگلا روزے کا دن روزِ صبر۔ جبکہ ایمان کے دو ہی شق ہیں، ایک شکر اور ایک صبر!

تیسرا یہ کہ عام مجاہدہ کی نسبت یہ نفس پر زیادہ شاق ہے۔ کیونکہ جونہی نفس ایک خاص حالت سے مانوس ہونے لگتا ہے اِسے وہاں سے پھیر کر ایک دوسری حالت میں لے آیا جاتا ہے۔ یوں نفس کا یکسانیت سے نکلنا نفس کو عبادت کے خاص معانی سے آشنا کراتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزے ہی رکھتے جانا) کی بابت، مسلم میں ابو قتادہؓ سے مروی ہے، عمرؓ نے نبی ﷺ سے دریافت کیاتو آپ نے فرمایا: لا صام ولا أفطر، أو لم یصم ولم یفطر کہ ”نہ اُس کا روزہ اور نہ اُس کا افطار“

یہ (صومِ دہر) اس حالت پر محمول ہوگا کہ آدمی لگاتار روزے رکھے اور ممنوعہ ایام تک کے روزے نہ چھوڑے۔ البتہ اگر وہ عیدین اور ایامِ تشریق میں روزہ رکھنے سے اجتناب کرتا ہے تو یہ صومِ دہر نہ ہوگا۔ چنانچہ عائشہؓ کے بارے میں آتا ہے کہ آپؓ لگاتار روزے رکھتیں۔ انس بن مالکؓ کہتے ہیں صحابیِ رسول ابو طلحہؓ نبی ﷺ کی رحلت کے بعد چالیس سال تک لگا تار روزے رکھتے رہے (ممنوعہ ایام کے ماسوا)

٭٭٭٭٭٭٭

یہ بھی جان لو کہ جس آدمی کو بصیرت ملی ہو وہ روزہ سے جو مقصود ہے عین اس مقصود سے آشنا رہتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے آپ کو نیکی کے کسی ایسے (نفل) کا مکلف نہیں کرتا جس کی ادائیگی کے باعث وہ اُس سے کسی افضل تر عمل کو اختیار کرنے کے معاملہ میں بے ہمت ہو رہے۔

مثلاً، عبد اللہ بن مسعودؓ کا بکثرت روزہ رکھنے کا معمول نہ تھا۔ فرماتے: میں جب روزہ رکھتا ہوں تو نماز (کی طوالت و کثرت) پر پوری محنت نہیں کر پاتا، جبکہ میں (نفل) روزہ کی نسبت نماز (قیام وسجود) پر محنت اور ریاضت کو ترجیح دیتا ہوں۔ سلف میں بعض کے ساتھ یوں ہوتا کہ بکثرت روزہ رکھیں تو قراءتِ قرآن پر محنت نہ ہو پاتی۔ چنانچہ وہ بکثرت افطار سے رہتے تاکہ تلاوت پر قدرت پائیں۔ ہر انسان ہی اپنی حالت کا بہتر اندازہ کر سکتا ہے اور یہ بھی جان سکتا ہے کہ عبادت کے کون کونسے اعمال اس کے زیادہ سے زیادہ مناسبِ حال ہیں۔

(اردو استفادہ از:

مختصر منہاج القاصدین

مؤلفہ امام ابنِ قدامہ الحنبلیؒ

کتاب الصوم وآدابہ و أسرارہ ومہماتہ وما یتعلق بہ)

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
Featured-
احوال-
ادارہ
کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال بل جب ٹرمپ نے اق۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز