عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, July 21,2019 | 1440, ذوالقعدة 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
محاکمہ نہ کہ تصفیہ
:عنوان

. باطلكشمكش :کیٹیگری
شيخ ڈاكٹر سفر الحوالى :مصنف
روز غضب
یہ مضمون مطبوعات ایقاظ کی کتاب روز غضب کا حصہ ہے۔ مضمون کو براہ راست کتاب سے مطالعہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

محاکمہ نہ کہ تصفیہ

ڈاکٹر سفر الحوالی
ترجمہ: كمال الدين
 

صہیونی ___ چاہے عیسائی ہوں یا یہودی ___ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ارض فلسطین میں اس وقت بنی اسرائیل کے بقایا جات کا پایا جانا ان کے ساتھ خدا کے اس وعدے کا پورا ہونا ہے جس کی رو سے خدا کے اور خدا کی چہیتی قوم کے مابین تصفیہ و مصالحت ہو گی۔ اسی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ اب خدا نے ان کو عربوں پر فتح دی حتی کہ وہ جس نے ان کو برکت دی ___ یعنی امریکہ ___ اس کو بھی خدا نے برکت دی اور جس نے ان پر لعنت کی خدا نے اس پر لعنت کردی!!

توراتی صحیفوں کے اندر واقعی یہودیوں کو خدا کے ساتھ تصفیہ اور مصالحت کی دعوت پائی جاتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ مصالحت کس انداز کی؟

یہ دراصل توبہ کی دعوت ہے۔ اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کی روش چھوڑ دینے کی دعوت ہے۔ غیر اللہ کی بندگی چھوڑ دینے، خدا کے عائد کردہ فرائض کی پابندی اختیار کرنے، ضعیفوں اور یتیموں پر ترس کھانے اور مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی دعوت ہے۔

یہ ہے وہ بات جو ہم بیشتر توراتی صحیفوں میں بوضاحت پاتے ہیں۔ پھر اس کے ساتھ ہی ان صحیفوں میں ان کو ایک شدید وعید بھی کی جاتی ہے اور وہ اس صورت میں اگر وہ اس بات سے سرتابی کرتے ہیں اور خدا کے ساتھ اپنے عہد کو توڑتے ہیں۔ اب توراتی صحفیوں میں ذکر ہونے والی ان بنی اسرائیل کیلئے توبہ کی ان تاکیدوں اور نقض عہد کی ان وعیدوں کا ضروری نہیں کہ ان پیشین گوئیوں اور زمانہء آخر کے ان واقعات سے کوئی تعلق ہو۔ یہ تو ایک دعوت عام ہے کہ یہ لوگ توبہ کریں اور ان کا ہر فرد اور یہ سب بطور جماعت، خواہ وہ کہیں ہوں، خدا کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کریں۔ سو اس ’مصالحت‘ کا معاملہ تو بس اتنا سا ہے۔ رہی بات ان کے اندر شرانگیز بقایا جات کی جو دربدر پھرتے ہوئے آخرکار اکٹھے ہوں گے اور ارض مقدس کو لوٹ کر آئیں گے تاکہ ان پر خدا کا عذاب یہاں پر آکر برسے، تو اس کی پیشین گوئیاں البتہ صریح بھی ہیں اور بطور خاص بھی ذکر ہوتی ہیں۔ اور یہ پیشین گوئیاں تعداد میں اتنی زیادہ اور اپنے مفہوم میں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا بالاستیعاب ذکر کرنا دشوار ہے۔ محض بطور مثال اور اشارات کے انداز میں کچھ پیشین گوئیوں کا ذکر کر دینا ہی کافی ہے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان پیشین گوئیوں کے ذکرسے بات کی ابتدا کریں جن پر ان صہیونیوں کا سہارا ہے:

”خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں بنی اسرائیل کو قوموں کے درمیان سے جہاں جہاں وہ گئے ہیں نکال لائوں گا اور ہر طرف سے ان کو فراہم کروں گا اور ان کو ان کے ملک میں لائوں گا اور میں ان کو اس ملک میںاسرائیل کے پہاڑوں پر ایک ہی قوم بنائوں گا اور ان سب پر ایک ہی بادشاہ ہوگا اور وہ آگے کو نہ دو قومیں ہوں گے اورنہ دو مملکتوں میں تقسیم کئے جائیں گے“۔ (حزقیال۔ باب ٣٧: ٢١، ٢٢)

شاید یہ سب سے مضبوط اور صریح دلیل ہے جو صہیونیوں کے ہاتھ لگی ہے۔ ٹھیک ہے۔ اب ہم اس صحیفہء حزقیال میں اس سے آگے آنے والا کلام پڑھتے ہیں:

”اور وہ اپنے بتوں سے اور اپنی نفرت انگیز چیزوں سے اور اپنی خطا کاری سے اپنے آپ کو ناپاک نہ کریں گے بلکہ میں ان کو ان کے تمام مسکنوں سے جہاں انہوں نے گناہ کیا ہے چھڑائوں گا اور ان کو پاک کروں گا اور وہ میرے لوگ ہوں گے اور میں ان کا خدا ہوں گا۔ اور میرا بندہ داؤد ان پر بادشاہ ہوگا اور ان سب کا ایک ہی چرواہا ہوگا اور وہ میرے احکام پر چلیں گے اور میرے آئین کو مان کر ان پر عمل کریں گے“۔ (حزقیال۔ ٣٧: ٢٣، ٢٤)

بلاشبہ یہاں ’دائود‘ کا ذکر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس پیشین گوئی سے مراد آج کی یہ صہیونی ریاست نہیں ہو سکتی۔ بلکہ غور طلب بات یہ ہے کہ حزقیال (جس کے صحیفے میں یہ بات آتی ہے) خود بھی دائود کے بعد آتا ہے۔ بنا بریں ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم اس عبارت میں تحریف ہو جانے کی شک کریں۔ تاہم صہیونی اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ یہاں دائود سے مراد رمزیہ طور پر اسرائیل کا ریاست واقتدار ہے۔

چلئے کچھ دیر کیلئے ہم مان لیتے ہیں۔ مگر ہم سوال یہ کریں گے کہ:

کیا خدا کا یہ مطلق وعدہ ہے یا مشروط؟ اور کیا اسرائیلی ریاست میں ان شروط میں سے کوئی بات بھی پوری ہوتی ہے؟ کیا آج تک یہ آسمان سے اترنے والی دو رسالتوں یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور محمد کی رسالت کے ساتھ کفر اختیار کر نہیں رہے؟ جبکہ ان دونوں رسالتوں کا دین ایک ہی ہے۔ حتی کہ اگر آپ یہ کہیں کہ اس سے مراد تورات کے احکام ہیں جو کہ دراصل اب منسوخ ہیں، تو بھی آج کے ان صہیونیوں کا تورات کے ان احکام سے بھی کیا واسطہ؟

آج کی یہ دولت اسرائیل دُنیا کے اندر فحاشی اور بدکرداری اور الحاد اور خباثت کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اس میں جوا، ہم جنس پرستی، سُود اور بڑے بڑے گھنائونے افعال اس سطح کے ہیں کہ امریکہ کے ٹکر کے ہیں۔ اس ریاست کے سب بانی اور موسس بدترین قسم کے ملحد دھریے اور اشتراکیت پسند مفکر تھے اور یا پھر گنائونے جرائم پیشہ دہشت گرد ٹولوں کے گرو۔ موسیٰ علیہ السلام کے دس کے دس احکامات یہاں پس پشت ڈال کر رکھے جاتے ہیں۔ یہودیوں کو اپنی تورات کے حوالے سے صرف ایک بات یاد ہے اور وہ یہ کہ یہ خدا کی چہیتی قوم ہیں اور ابراہیم کی نسل۔

تو پھر اب ہم بنی اسرائیل سے بقایا جات کی قائم کی ہوئی اس ریاست کی حقیقت جاننے کیلئے کچھ تحقیق کریں گے: اور اس کو توراتی صحیفوں میں نصف النہار کی طرح واضح پائیں گے۔

آئیے ہم ان کی کتاب مقدس کی اس شرح سے، جس کو بائبل کے ناشرین خود ہی نشر کرتے ہیں۔ ابتدا کرتے ہیں بائبل کی اس شرح میں یسعیاہ کے صحیفے میں جہاں ”بنی اسرائیل کے بقایا جات“ کا ذکر ہوتا ہے وہاں اس کی شرح میں جو بات لکھی ہوئی ملتی ہے وہ یہ ہے:

”اسرائیل (یعنی بنی اسرائیل) کو (خدا کے ساتھ) اپنی خیانت کی سزا تو ملے گی، مگر چونکہ خدا اپنے لوگوں کو چاہتا ہے لہٰذا ان کے کچھ تھوڑے سے باقی ماندہ لوگ رہ جائیں گے جو کہ ان پر چڑھ آنے والوں کی تلوار سے بچ رہیں گے“۔

پھر شارح بائبل اس معاملے میں کتاب کے مختلف مقامات کا حوالہ دیتے ہوئے بات جاری رکھتا ہے:

”ان کے یہ باقی ماندہ لوگ یروشلم میں رہیں گے۔ جہاں ان کو پاک کیا جائے گا اور یہ امانت اور دیانت دار ہو جائیں گے اور ایک قدرت والی قوم بن جائیں گے (!!) البتہ ٥٨٧ ق م کے سانحہ (اسیری) کے روپذیر ہونے کے بعد ایک اور نظریہ بھی معروف ہوا اور وہ یہ کہ بنی اسرائیل کا یہ ’بقیہ‘ ان لوگوں میں سے ہوگا جو جلاوطن ہوئے تھے۔ پس یہ ’بقیہ‘ وہ لوگ ہوں گے جو جلاوطنی میں تائب ہو جائیں گے (یہاں پر اس نظریہ کے مختلف کتابوں سے حوالہ دیتا ہے) تب خدا ان کو اکٹھا کرے گا کہ وہ مشیح (نجات دہندہ) کی مملکت قائم کریں (یہاں پھر وہ اس بات کے مختلف کتب سے حوالے دیتا ہے) پھر جلاوطنی سے لوٹ آنے کے بعد بعد یہ ’بقیہ‘ بھی بے امانت ہو جائیں گے تب یہ پاک کئے جائیں گے۔ جس کی صورت یہ ہو گی کہ ان میں سے کچھ کا خاتمہ کیا جائے گا“....

یہ ہے اس عمومی ذہن کی حقیقت جس سے یہ بنیاد پرست اہل کتاب نظریہ قائم کرتے ہیں کہ یہ مسیح (نجات دہندہ) کی مملکت دراصل دولتِ اسرائیل کے قیام کی صورت میں روپذیر ہوگئی ہے اور اس میں اب مسیح کو اترنا ہے!

اب ان کی بائبل کی شرح میں مذکورہ بالا اس عبارت کے اندر جو یہ ذکر ہے کہ ”ان کا وہ بقیہ بھی بے امانت ہو جائیگا اور اس کو، اس کے ایک حصہ کا صفایا کرکے، پاک کیا جائے گا“ تو اس بات سے تو یہ یوں اغماز برتتے ہیں جیسے یہ بات ان کی اس کتاب کی اس عبارت میں کہیں آئی ہی نہیں!! رہی ’ایک طاقتور امت‘ کی بات تو یہ خود ہی صرف تین صفحے بعد یہ مانتے ہیں کہ خدا بنی اسرائیل سے انتقال لینے کیلئے ایک طاقتور اُمت کا چنائو کرے گا اور یہی وہ اُمت ہوگی جو (بنی اسرائیل کے بقیہ کے) اس حصہ کا صفایا کرے گی جس پر خدا کی جانب سے غضب اور ہلاکت آئے گی۔

چنانچہ خدائی انتقام کا ذریعہ ایک طاقتور اُمت ہوگی جو پاک کرنے والی ہوگی اور امانت والی ہوگی۔

اب ہم ان کو اس ’بقیہ‘ کی بابت درست انداز مطالعہ کی جانب متوجہ کریں گے اور اس گفتگو کو مختلف پہلوئوں سے ان کے سامنے رکھیں گے:

پہلی بات: یہ کہ یہ ’بقیہ‘ خدا کے ساتھ کوئی عہد نہیں رکھتی۔ کیونکہ خدا کا کسی کے ساتھ دائمی عہد ہے ہی نہیں سوائے یہ کہ کوئی تقویٰ وپرہیز گاری اور خدا کی اطاعت وفرمانبرداری کا راستہ اپنا کر رہے:

واذا ابتلی ابراہیم ربہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماماً قال ومن ذریتی قال لا ینال عھدی الظالمین (البقرہ: ١٢٤)

”یاد کرو کہ جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا ”میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں“ ابراہیم نے عرض کیا: ”اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟“ اُس نے جواب دیا: ”میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے“۔

جہاں تک بنی اسرائیل کی تاریخ کا تعلق تو اس پر کفر اور ایمان کے حوالے سے بے شمار دور آئے اور گئے۔ اس معاملہ میں اس کا باقی اُمتوں سے کوئی بڑا فرق نہیں سوائے اس کے کہ اگر ان میں آنے والے انبیاءکی کثرت کو دیکھا جائے اور خدا کی جانب سے ان کو بار بار مواقع دیے جانا ذہن میں رکھا جائے اور خدا کی جانب لوٹ آنے پر آمادہ کرنے کیلئے ان پر کی گئی نعمتوں کو مدنظر رکھا جائے تو ان کا کفر دوسری اُمتوں کی نسبت کہیں بڑھ کر رہا۔

بنی اسرائیل کی تاریخ میں ’قضاہ کا دور‘ (Period of Judges) اس کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ ’دورِ قضاہ‘ یوشع بن نون جو کہ موسی علیہ السلام کے تربیت یافتہ نوجوان تھے، کے بعد شروع ہوتا ہے۔ یہ لوگ متعدد بار خدا کا عہد توڑتے ہیں۔ بعل، عشتروت، تموز اور دیگر نحوست زدہ معبودوں کو پوجتے ہیں، ان کے لئے اپنے نبیوں کو بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ ہر بار خدا ان کو خبردار کرتا ہے اور ان کی طرف نبی بھیجتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کچھ لوگ خدا کی مشیئت سے تائب ہوتے ہیں اور خدا ان کو قبول کرتا ہے۔ پھر کچھ دیر کے بعد یہ دوبارہ اپنے اس شرک اور بربادی کی جانب پلٹتے ہیں۔تب خدا ایک بار پھر ان پر کسی نہ کسی قوم کو مسلط کر دیتا ہے جو ان کو عذاب کا مزہ چکھاتی ہے۔ یہی معاملہ، خود ان کی اپنی ذکر کردہ تاریخ کی رو سے، ان کے ساتھ بار بار پیش آتا ہے۔

یہی وہ بات ہے جو توراتی صحیفہ ”سلاطین دوئم“ میں بوضاحت تعبیر ہوتی ہے:

”تو بھی خدا سب نبیوں اور غیب بینوں کی معرفت اسرائیل اور یہوداہ کو آگاہ کرتا رہا کہ تم اپنی بُری راہوں سے باز آؤ اور اس ساری شریعت کے مطابق جس کا حکم میں نے تمہارے باپ دادا کو دیا اور جسے میں نے اپنے بندوں و نبیوں کی معرفت تمہارے پاس بھیجا ہے میرے احکام وآئین کو مانو۔ باوجود اس کے انہوں نے نہ سنا بلکہ اپنے باپ دادا کی طرح جو خداوند اپنے خدا پر ایمان نہیں لاتے تھے گردن کشی کی۔ اور اس کے آئین کو اور اس کے عہد کو جو اس نے ان کے باپ دادا سے باندھا تھا اور اس کی شہادتوں کو جو اس نے ان کو دی تھیں رد کیا اور باطل باتوں کے پیرو ہو کر نکمے ہو گئے اور اپنے آس پاس کی قوموں کی تقلید کی جن کے بارے میں خداوند نے ان کو تاکید کی تھی کہ وہ ان کے سے کام نہ کریں۔ اور انہوں نے خداوند اپنے خدا کے سب احکام ترک کرکے اپنے لئے ڈھالی ہوئی مورتیں یعنی دو بچھڑے بنا لئے اور یسیرت تیار کی اور آسمانی فوج کی پرستش کی اور بعل کو پوجا اور انہوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو آگ میں چلوایا اور فال گیری اور جادو گری سے کام لیا“۔ (٢۔ سلاطین: ١٧: ١٣۔١٧)

”تب خداوند نے اسرائیل کی ساری نسل کو رد کیا اور ان کو دُکھ دیااور اُن کو لٹیروں کے ہاتھ میں کرکے آخرکار اُن کو اپنی نظر سے دور کردیا“۔ (٢۔ سلاطین۔ ١٧ : ٢٠)

ان میں سے جو باقی بچ رہتے ہیں (بقیہء بنی اسرائیل) وہ امتحان اور آزمائش کیلئے باقی رہتے ہیں۔ پس اگر وہ خدا سے وفا کریں تو خدا ان سے وفا کرتا ہے اور اگر بدعہدی کریں تو خدا اُن کو سزا دیتا ہے۔ ان میں سے کچھ کا باقی رہنے کا یہ مطلب کیسے نکل آیا کہ ان کے ’بقیہ‘ کا بچ رہنا ان کے پاکباز اور ایمان دار ہونے کی ہی علامت ہے اور پاکبازی اور ایمانداری بھی ایسی جو ابدی اورلازوال ہو!؟ یہ ’بقیہ‘ تو بچتا ہے اس لئے کہ یہ سب قوموں کیلئے عبرت ہو اور خود اس کیلئے خدا کی جانب سے ایک مہلت ہو کہ یہ چاہیں تو توبہ کرلیں۔

صحیفہء حزقیال میں یہ صاف ذکر آتا ہے کہ خدا جب حزقیال کو حکم کرتا ہے کہ ایک بڑی بربادی اور خونریزی اور خرابہء عظیم اور بنی اسرائیل کی پھیلائی ہوئی نجاست سے زمین کو پاک کئے جانے کے واقعہ کی پیشین گوئی کرے تو اس کے بعد یہ الفاظ آتے ہیں:

”لیکن میں ایک بقیہ چھوڑ دوں گا یعنی وہ چند لوگ جو قوموں کے درمیان ان سے بچ نکلیں گے جب تم غیر ممالک میں پراگندہ ہو جائو گے۔ اور تم میں سے بچ رہیں گے ان قوموں کے درمیان جہاں جہاں وہ اسیر ہو کر جائیں گے مجھ کو یاد کریں گے جب میں ان کے بے وفا دلوں کو جو مجھ سے دُور ہونے اور اُن کی آنکھوں کو جو بتوں کی پیروی میں برگشتہ ہوئیں شکستہ کروں گا....“

یرمیاہ کا صحیفہ تو اس سے بھی زیادہ واضح بات کہتا ہے (یعنی یہ کہ ’بقیہ‘ کا بچا رہنا ضروری نہیں ان کی پاکبازی کے باعث نہ ہو) چنانچہ یرمیاہ ان کوجب بتاتا ہے کہ ان پر ایک بہت بڑی تباہی اور عبرت ناک آفت ٹوٹنے والی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی لاشیں ہوائی پرندوں اور زمین کے درندوں کی خوراک ہوں گی۔ یہاں تک کہ ان کے بادشاہوں اور سرداروں کی ہڈیاں ان کی قبروں سے نکال لی جائیں گی اور پھر وہ روئے زمین پر کوڑے کی طرح پڑی رہیں گی اور کھاد بنیں گی تو اس کے بعد یرمیاہ کہتا ہے:

”اور وہ سب لوگ جو اس برے گھرانے میں سے باقی بچ رہیں گے ان سب مکانوں میں جہاں میں ان کو ہانک دوں موت کو زندگی سے زیادہ چاہیں گے“۔ (یرمیاہ: باب ٨:٣)

جہاں تک تائب ہونے اور خدا کی جانب لوٹ آنے والوں کا تعلق ہے تو وہ کم ہوں گے۔ یہ وہ ہوں گے جو اسلام قبول کر لیں گے اور واقعتا ’بقیہء مقدسہ‘ ہو جائیں گے اور جن کے بارے میں اس فصل کے آخر میں کچھ گفتگو کی جائے گی۔ مگر یہ تب ہوگا جب صہیونیت اپنی وہ قوت اور اقتدار کھو دے گی جس کے سہارے آج وہ قائم ہے۔ تب اس کا تمام تر کروفر جاتا رہے اور اس کے تمام تر دعوے بھی طشت ازبام ہو جائیں گے۔

یسعیاہ ”آگ کی مانند سوزش“ کی خبر دینے کے بعد، جو خدا ان پر مسلط کرے گا، کہتا ہے:

”اور اس وقت یوں ہو گا کہ وہ جو بنی اسرائیل میں سے باقی رہ جائیں گے اور یعقوب کے گھرانے میں سے بچ رہیں گے اس پر جس نے ان کو مارا پھر تکیہ نہ کریں گے بلکہ خداوند اسرائیل کے قدوس پر سچے دل سے توکل کریں گے۔ ایک بقیہ یعنی یعقوب کا بقیہ خدائے قادر کی طرف پھرے گا۔ کیونکہ اے اسرائیل اگرچہ تیرے لوگ سمندر کی ریت کی مانند ہوں تو بھی ان میں کا صرف ایک بقیہ واپس آئے گا“۔ (یسعیاہ: باب ١٠: ٢١۔٢٢)

یہ واضح دلیل ہے (خود انہی کی کتاب سے) کہ یہودی خدا کے بیٹے اور خدا کے چہیتے نہیں جیسا کہ یہ کہتے ہیں بلکہ یہ بھی ویسے انسان ہیں جیسے اور انسان خدا نے پیدا کئے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جو صحیفہء عاموس صاف طور پر کہتا ہے:

”خداوند فرماتا ہے! اے بنی اسرائیل! کیا تم میرے لئے اہل کوش (حبشہ کے لوگ) کی اولاد کی مانند نہیں ہو؟ کیا میں اسرائیل کو ملک مصر سے اور فلنیوں کو کفتور سے اور آرامیوں کو قبر سے نہیں نکال لایا ہوں۔ دیکھو خداوند خدا کی آنکھیں اس گنہگار مملکت پرلگی ہیں۔ خداوند فرماتا ہے میںاسے روئے زمین سے نیست ونابود کر دوں گا مگر یعقوب کے گھرانے کو ___ بالکل ___ نابود نہ کر دوں گا۔ کیونکہ دیکھو میں حکم کروں گا اور بنی اسرائیل کو سب قوموں میں جیسے چھلنی سے چھانتے ہیں چھانوں گا اور ایک دانہ بھی زمین پر گرنے نہ پائے گا۔ میری اُمت کے سب گنہگار لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم پر نہ پیچھے سے آفت آئے گی اور نہ آگے سے، تلوار سے مارے جائیں گے“۔ (عاموس: ٩: ٧۔١٠)

اب ہم یہ پیچھے دیکھ آئے ہیں کہ ایک ’خطاکار ریاست‘ ہی بربادی کا منحوس پیش خیمہ ہوگی۔ سو خدا اس کو برباد کرے گا سوائے ان کو جو یا تو اسلام قبول کرلیں گے یا جو بھاگ جائیں گے۔ رہے دُنیا کے باقی ماندہ یہود تو خدا ان کو دہلائے گا اور ”چھلنی میں سے چھانے گا“۔

دوسری بات: یہ کہ ابراہیم کی وراثت پر اس کا کوئی حق نہیں۔ حزقیال اپنے صحیفہ کے اندر کہتا ہے:

”تب خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا کہ: اے آدم زاد! ملک اسرائیل کے ویرانوں کے باشندے یوں کہتے ہیں کہ ابرھام ایک ہی تھا اور وہ اس ملک (زمین) کا وارث ہوا پر ہم تو بہت سے ہیں۔ ملک ہم کو میراث میں دیا گیا ہے۔ اس لئے تو ان سے کہ دے خداوند یوں فرماتا ہے کہ تم لہو سمیت کھاتے اور اپنے بتوں کی طرف آنکھ اٹھاتے ہو اور خونریزی کرتے ہو۔ کیا تم ملک کے وارث ہو گے؟ تم اپنی تلوار پر تکیہ کرتے ہو۔ تم مکروہ کام کرتے ہو اور تم میں سے ہر ایک اپنے ہمسایہ کی بیوی کو ناپاک کرتا ہے۔ کیا تم ملک کے وارث ہوگے؟“ (حزقیال: باب ٣٣: ٢٣۔٢٦)

یہ خطاب دراصل اس ’بربادی کی نحوست‘ والی ریاست سے ہی ہے ورنہ یہ پیشین گوئی تو آئی ہی اس دور میں ہے جو وہ زمانہء جلاوطنی میں تھے جبکہ اس وقت نہ ان کی قوت تھی اور نہ اقتدار۔ وہ بے رحمی سے قتل کئے جاتے تھے۔ رہے آج کے پلید تو جو کچھ اس پیشین گوئی میں کہا جا رہا ہے ان پر البتہ وہ پوری طرح صادق آتا ہے۔ چنانچہ حزقیال کی مذکورہ بالا عبارت کے متصل بعد یہ عبارت آتی ہے:

”تو ان سے یوں کہنا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ: مجھے اپنی حیات کی قسم وہ جو ویرانوں میں ہیں تلوار سے قتل ہوں گے اور اسے جو کھلے میدان میں ہے درندوں کو دوں گا کہ نگل جائیں اور وہ جو قلعوں اور غاروں میں ہیں وبا سے مریں گے۔ کیونکہ میں اس ملک کو اجاڑا اور باعث حیرت بنائوں گا اور اس کی قوت کا گھمنڈ جاتا رہے گا اور اسرائیل کے پہاڑ ویران ہوں گے یہاں تک کہ کوئی ان پر گزر نہیں کریگا۔ اور جب میں ان کے تمام مکروہ کاموں (ایک اور ترجمے کی رو سے ان کی پلید نحوست) کے سبب سے جو انہوں نے کئے ہیں ملک کو ویران اور باعث حیرت بنائوں گا تو وہ جانیں گے کہ میں خداوند ہوں“۔

بلکہ صحیفہء حزقیال ان کے ابراہیم سے دعوائے نسب کی ہی نفی کر دیتا ہے۔ جبکہ یہ وہ دعوی ہے جس پر ان کے اس ارض مقدس کی تاابد میراث پانے کا دعویٰ کلی طور پر سب سہارا کرتا ہے۔ صحیفہء حزقیال کہتا ہے:

”اے آدمزاد! یروشلم کو اس کے نفرتی کاموں سے آگاہ کر اور کہہ: خداوند یروشلم سے یوں فرماتا ہے کہ تیری ولادت اور تیری پیدائش کنعان کی سرزمین کی ہے۔ تیرا باب اموری تھا اور تیری ماں حتی تھی“۔ (حزقیال: ١٦: ٢۔ ٣)

پھر صحیفہء دانیال ان کی نحوست، بدکاری اور گنہگاری کا بہت ہی طویل ذکر کرنے کے بعد آگے چل کر کہتا ہے:

”دیکھ سب مثل کہنے والے تیری بابت یہ مثل کہیں گے کہ جیسی ماں ویسی بیٹی۔ تو اپنی اس ماں کی بیٹی ہے جو اپنے شوہر اور اپنے بچوں سے گھن کھاتی تھی اور تو اپنی ان بہنوں کی بہن ہے جو اپنے شوہروں اور اپنے بچوں سے نفرت رکھتی تھیں۔ تیری ماں حِتی اور تیرا باپ اموری تھا۔ اور تیری بڑی بہن سامریہ ہے جو تیری بائیں طرف رہتی ہے۔ وہ اور اس کی بیٹیاں اور تیری چھوٹی بہن جو تیری دہنی طرف رہتی ہے۔ سدوم اور اس کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن تو فقط ان کی راہ پر نہیں چلی اور صرف انہی کے سے گھنائونے کام نہیں کئے کیونکہ یہ تو گویا چھوٹی بات تھی بلکہ تو اپنی ان تمام روشوں میں ان سے بدتر ہو گئی۔ خداوند فرماتا ہے: مجھے اپنی حیات کی قسم کہ تیری بہن سدوم نے ایسا نہیں کیا۔ نہ اس نے نہ اس کی بیٹیوں نے جیسا تو نے اور تیری بیٹیوں نے کیا ہے“۔ (حزقیال: ١٦: ٤٤۔٤٨)

اب جہاں تک توراتی صحیفوں کی ان عبارتوں کا تعلق ہے جن میں ان لوگوں کا نسب اموریوں یا حتیوں سے جوڑا گیا ہے .... چاہے یہ اس معنی میں ہوں جس معنی میں قرآن میں نوح علیہ اسلام کو کہا گیا کہ یہ تیرا (کافر) بیٹا تیری اولاد نہیں (انہ لیس من اھلک) یا جیسے انجیل میں عیسیٰ علیہ اسلام کا ان لوگوں کو یہ کہنا کہ ”تم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو“ (یوحنا کی انجیل: باب ٨: ٤٤) یا پھر واقعتا ایسا ہو کہ ان میں سے ایسے لوگ آگئے ہوں جن کا ابراہیم کے نسب سے کوئی تعلق نہ ہو۔

البتہ وہ بات جس میں بحث کی کوئی گنجائش نہیں یہ ہے کہ آج کے یہودی بھانت بھانت کی نسلوں کا مجموعہ ہیں۔ تاہم ان کی اکثریت خزری ( جو کہ نیلی آنکھوں والے گورے ہیں) نسل پر مشتمل ہے۔ کیا بعید کہ صحیفہء حزقیال کا یہ کہنا کہ تمہاری ماں حتی ہے اسی جانب کوہی اشاہ ہو۔ کیونکہ حتی ایک نامعلوم نسب کی قوم ہیں۔ یہ لوگ ارض مقدس کی نسبت شمال کے علاقہ میں بستی تھی (جو کہ حالیہ ترکی کی سمت بنتی ہے) سو بعید نہیں کہ اس سے مراد ان (گوری نسل کی) خزر  اقوام کا علاقہ ہی مراد ہو یا پھر اس سمت کی طرف اشارہ ہو جہاں سے (مستقبل میں) یہودیوں کی اکثریت ہونے والی تھی۔ خصوصاً اس زمانے میں جب یہ بربادی کی نحوست ”دولت اسرائیل“ کے قائم ہونے کا وقت ہو۔

یہودیوں نے بہت جتن اور حیلے کئے کہ اپنا سامی (Semetic) نسب ثابت کر لیں۔ مگر تاریخ اقوام کاکوئی ایک بھی قابل لحاظ ماہر دُنیا میں نہیں پایا جاتا جو بسیار کوشش کے باوجود آج کے یہودیوں کا نسب سام کی نسل سے ثابت کر سکے۔

یہ آج کے یہودی سام کی نسل سے کیسے ہوئے، ان میں کتنے ہیں جو ایتھوپیا کی فلوشا نسل سے ہیں۔ مراکش کے یہودی ہیں۔ ایرانی یہودی ہیں۔ ہسپانوی یہودی ہیں۔ پولینڈ کے یہودی بالکل الگ ہیں۔ جنوبی افریقہ کے یہودی ان سے مختلف ہیں!

یہی وجہ ہے کہ ھوسیع کا صحیفہ ان لوگوں کا خدا سے اور اس کے رسولوں سے ہر قسم کا تعلق واسطہ ختم قرار دیتا ہے .... اور وہ یوں کہ وہ ان کو رمزیہ انداز میں ایک بدکار بیوی کی حکایت سناتا ہے جس سے بدکار اولاد پیدا ہونے والی ہے۔ یہ عورت ایک لڑکے کو جنم دیتی ہے جس کی بابت خدا کہتا ہے کہ یزرعیل نام رکھا جائے۔ جبکہ یہ یزرعیل وہ وادی ہے جس میں جنگ ہائے ہرمجدون (قرب قیامت کی عظیم ترین جنگ بائبل کی صحیفوں کی رُو سے) کو وقوع پذیر ہونا ہے۔ پھر اس کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے۔ خدا کہتا ہے اس کا نام لورحمہ (لارحمہ یعنی جو ہرگز رحمت نہیں) رکھے۔ اس کے بعد اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ خدا کہتا ہے اس کا نام لوعمی (جس کا لغوی مطلب ہے ”میری قوم“ نہیں) رکھے۔ یہ آخر الذکر رمز ہی وہ رمز ہو جو کیتھولک عیسائی یہودیوں کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں یعنی لوعمی (لاعمی ”میری قوم نہیں“)

پس ان کے نسب کا دعویٰ خوامخواہ کی زبردستی ہے۔ ان کی ماں لارحمہ ہے (یعنی جو رحمت بن کر نہیں آئی اور ان کی نسل ’خدا کی چہیتی قوم‘ نہیں)....

تیسری بات: یہ کہ خدا ان کو ارض مقدس میں محاکمہ اور سزا کیلئے لوٹائے گا نہ کہ ان کے ساتھ تصفیہ وصلح کرنے اور ان کو اجر و ثواب دینے کیلئے۔

حزقیال کا صحیفہ کہتا ہے:

”خداوند خدا فرماتا ہے: مجھے اپنی حیات کی قسم میں زورآور ہاتھ سے اور بلند بازو سے قہر نازل کرکے تم پر سلطنت کروں گا اور میں زور آور ہاتھ اور بلند بازو سے قہر نازل کرکے تم کو قوموں میں سے نکال لاؤں گا اور ان ملکوں میں سے جن میں تم پراگندہ ہوئے ہو جمع کروں گا۔ اور میں تم کو قوموں کے بیابان میں لائوں گا اور وہاں روبرو تم سے حجت کروں گا (یعنی آمنے سامنے تمہارا محاکمہ کروں گا) جس طرح میں نے تمہارے باپ دادا کے ساتھ مصر کے بیابان میں حجت کی۔ خداوند خدا فرماتا ہے اسی طرح میں تم سے بھی حجت کروں گا“۔ (حزقیال: باب ٢٠: ٣٣۔٣٦)

یہ اشارہ ہے اس خدائی سزا کی جانب جو ان کو تیہ کی صورت میں چالیس سال تک دی گئی اور اس دوران ان پر اور بھی مختلف انداز کی سختیاں آتی رہیں۔

اس بات کی کچھ وضاحت صفنیاہ کا صحیفہ کرتا ہے:

”اے .... بے حیا قوم جمع ہو! جمع ہو! اس سے پہلے کہ تقدیر الٰہی ظاہر ہو اور وہ دن بھس کی مانند جاتا رہے اور خداوند کا قہر شدید تم پر نازل ہو اور اس کے غضب کا دن تم پر آپہنچے“۔ (صفنیاہ: ٢: ١۔٢)

پھر اس کے ساتھ ہی ارض فلسطین کے مظلوم و مستضعف لوگوں سے خطاب شروع ہو جاتا ہے:

”اے ملک کے سب حلیم لوگو جو خداوند کے احکام پر چلتے ہو اس کے طالب ہو! راستبازی کو ڈھونڈو۔ فروتنی کی تلاش کرو۔ شاید خداوند کے غضب کے دن تم کو پناہ ملے“۔ (صفنیاہ: ٢:٣)

چنانچہ ان لوگوں کا اکٹھا ہونا اس لئے ہے کہ ان پر خدا کا غضب اترے۔ تب جا کر یہ ملک بدر ہوں گے اور زمین سے ان کو دھتکارا جائے گا جس طرح کہ ’بھس کے دن‘ ہوتا ہے۔ ہوائیں بھس کو اُٹھا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو خدا کے احکام پر چلنے والے ہیں اور اس سے ڈر کر پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں تو وہ اس روز نجات پائیں گے۔

مگر اس ’نکالے جانے‘ سے مراد یہ نہیں کہ ان سب کو بھاگ جانے کا موقع مل جائے گا۔ بلکہ ان میں سے بعض لوگ راہ فرار اختیار کرکے اپنے پہلے والے ملکوں کے اندر چلے جائیں گے۔ رہی ان کی اکثریت تو ان کا انجام وہی ہوگا، جو ہمیں حزقیال کے صحیفے میں ملتا ہے:

خداوند یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم سب میل ہو گئے ہو اور لئے دیکھو میں تم کو یروشلم میں جمع کروں گا جس طرح لوگ چاندی اور پیتل اور لوہا اور سیسا اور رانگا بھٹی میں جمع کرتے ہیں اور ان پر دھونکتے ہیں تاکہ ان کو پگھلا ڈالیں، اس طرح میں اپنے قہر اور اپنے غضب میں تم کو جمع کروں گا اور تم کو وہاں رکھ کر پگھلا ڈالوں گا۔ جس طرح چاندی بھٹی میں پگھلائی جاتی ہے۔ اسی طرح تم اس میں پگھلائے جائو گے اور تم جانو گے کہ میں خداوند نے اپنا قہر تم پر نازل کیا ہے“۔ (حزقیال: ٢٢: ١٩۔٢٢)

یہ ہے وہ نقشہ جو یوم غضب کو سامنے آنے والا ہے۔ اگرچہ اس یوم غضب کا کچھ ذکر تھوڑا آگے چل کر ہم کریں گے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ: بنی اسرائیل کے اس بقیہ کا کیا انجام ہو گا جو یوم غضب کے بعد اس سرزمین پر باقی رہیں گے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ صہیونی قوم کا انجام اس یوم غضب کے بعد کیا ہوگا؟

توراتی صحیفے قوم اسرائیل کا انجام یوم غضب کے آنے پر جو بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے:

صحیفہء یسعیاہ کہتا ہے کہ ایک چھوٹی تعداد کو چھوڑ کر سب کا صفایا ہوگا اور وہ اپنے انجام کو پہنچیں گے:

”دیکھو خداوند زمین کو خالی اور سرنگوں کرکے ویران کرتا ہے اور اس کے باشندوں کو تتر بتر کر دیتا ہے....

”زمین اپنے باشندوں سے نجس ہوئی کیونکہ انہوں نے شریعت کو عدول کیا۔ آئین سے منحرف ہوئے۔ عہد ابدی کو توڑا۔ اس سبب سے لعنت نے زمین کو نگل لیا اور اس کے باشندے مجرم ٹھہرے اور اسی لئے زمین کے لوگ بھسم ہوئے اور تھوڑے سے آدمی بچ گئے“۔

زکریاہ کا صحیفہ اور بھی بصراحت بات کرتا ہے۔ یہ صحیفہ بنی اسرائیل کو تین حصوں میں بانٹ دیتا ہے:

”اور خداوند فرماتا ہے سارے ملک میں دو تہائی قتل کئے جائیں گے اور مریں گے لیکن ایک تہائی بچ رہیں گے اور میں اس تہائی کو آگ میں ڈال کر چاندی کی طرح صاف کروں گا اور سونے کی طرح تائوں گا“۔ (زکریاہ: باب ١٣: ٨، ٩)

جبکہ صحیفہ حزقیال کی رو سے:

”پھر جب محاصرہ کے دن پورے ہو جائیں تو شہر کے بیچ میں ان کا ایک (تہائی) حصہ لے کر آگ میں جلا اور دوسرا حصہ لے کر تلوار سے ادھر ادھر بکھیر دے اور تیسرا حصہ ہوا میں اڑا دے“۔ (حزقیال: ٥:٢)

اس تیسرے حصہ کی بابت بات جاری رکھتے ہوئے صحیفہ کہتا ہے:

”اور تیسرا حصہ ہوا میں اڑا دے اور میں تلوار کھینچ کر ان کا پیچھا کروں گا اور ان میں سے تھوڑے سے بال گن کر لے اور انہیں اپنے دامن میں باندھکر پھر ان میں سے کچھ نکال کر آگ میں ڈال اور جلا دے۔ اس میں سے ایک آگ نکلے گی جو اسرائیل کے تمام گھرانے میں پھیل جائے گی“۔ (حزقیال ٥: ٢۔٤)

صفنیاہ کہتا ہے:

”اور میں تجھ میں ایک مظلوم اور مسکین بقیہ چھوڑ دوں گا اور وہ خداوند کے نام پر توکل کریں گے۔ اسرائیل کے باقی لوگ نہ بدی کریں گے نہ جھوٹ بولیں گے اور نہ ان کے منہ میں دَغا کی باتیں پائی جائیں گی۔ بلکہ وہ کھائیں گے اور لیٹ رہیں گے اور کوئی ان کو نہ ڈرائے گا“۔ (صفنیاہ: ٣: ١٢۔١٣)

یہ بقیہ جو دراصل ایمان لے آئیں گے۔ یسعیاہ کا صحیفہ ان کا یوں وصف بیان کرتا ہے:

”تب میں نے کہا اے خداوند یہ کب تک؟ اس نے جواب دیا: جب تک بستیاں ویران نہ ہوں اور زمین سراسر اجاڑ نہ ہو جائے اور خداوند آدمیوں کو دور کردے اور اس سرزمین میں متروک مقام بکثرت ہوں۔ اور اگر اس میں دسواں حصہ باقی بھی بچ جائے تو وہ پھر بھسم کیا جائے گا لیکن وہ بطم اور بلوط کی مانند ہوگا کہ باوجودیکہ وہ کاٹے جائیں تو بھی ان کا ٹُنڈ بچ رہتا ہے۔ سو اس کا ٹُنڈ ایک مقدس تخم ہوگا“۔ (یسعیاہ: ٦: ١١۔١٣)

ان عیسائی بنیاد پرستوں اور ہمارے مابین اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ آج کے اسرائیل کے سب باشندگان یہود کفار ہیں اور یہ کہ ان میں سے ایسا کوئی گروہ نہیں جو خدا سے تعلق رکھتے ہوئے ’خدا کے نام پر توکل‘ کرتا ہو (جیسا کہ اوپر صفنیاہ کے صحیفہ (٣:١٢) میں ذکر ہوا ہے) اور یہ کہ نہ ہی ان میں سے کوئی مقدس ہے۔ مگر ان عیسائی بنیاد پرستوں کا کہنا ہے کہ ان پیشین گوئیوں کی رو سے یہودی نزول مسیح کے موقع پر مسیح پر ایمان لے آئیں گے اور یوں یہ یہودی ’بقیہء مقدسہ‘ ہو رہیں گے۔

البتہ ہم کہتے ہیں:

جب مسلمان بیت المقدس لے لیں گے، اور اس میں بربادی کی اس نحوست کا خاتمہ کر دیں گے، تب یہ پیشین گوئیاں پوری ہو جائیں گی۔ تب یہودیوں میں کچھ حصہ قتل ہو رہے گا۔ کچھ حصہ فرار ہو کر دُنیا کے ممالک میں بکھر جائے گا۔ کچھ حصہ یہاں باقی رہ جائے گا۔ ان باقی رہنے والوں میں سے کچھ ہماری حفاظت اور عہد میں آکر ذمی بن جائیں گے جہاں ”ان کو کوئی نہ ڈرائے گا“ اور کچھ ان میں سے اسلام لے آئیں گے اور خدائے وحدہ لاشریک کے فرماں بردار ہو رہیں گے۔ یہ موءخر الذکر لوگ ہی ’بقیہ‘ مقدسہ ہوں گے۔

پھر ان یہودیوں میں سے جو یہاں سے فرار اختیار کر چکے ہوں گے اور ان یہودیوں میں سے جو سرے سے فلسطین میں نہیں آئے وہ بقیہ نمودار ہوگا جو آخری زمانہ میں دجال کے ساتھ نکلیں گے۔ البتہ جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو یہودیوں کے تین حصے نہیں ہوں گے بلکہ صرف دو حصے ہوں گے۔ ایک حصہ وہ ہوگا جو دجال کے لشکر میں ہوگا اور قتل کیا جائے گا۔ ایک وہ حصہ ہوگا جو عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کرے گا۔ کیونکہ ہمارے ہاں حدیث پایہء ثبوت کو پہنچتی ہے کہ عیسی علیہ السلام جزیہ کو موقوف کر دیں گے۔ وہ لوگوں سے اسلام قبول کرنے کا مطالبہ کریں گے اور یا پھر تلوار کو روا رکھیں گے“۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
ثقافت- خواتين
ثقافت-
Featured-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
Featured-
احوال-
ادارہ
کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال بل جب ٹرمپ نے اق۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز