عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, September 19,2019 | 1441, مُحَرَّم 19
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
RozeGhazab آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
یہود کی واپسی اور وہ عظیم تاریخی خلا
:عنوان

. باطلكشمكش :کیٹیگری
شيخ ڈاكٹر سفر الحوالى :مصنف
یہ مضمون مطبوعات ایقاظ کی کتاب روز غضب کا حصہ ہے۔ مضمون کو براہ راست کتاب سے مطالعہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

یہود کی واپسی اور وہ عظیم تاریخی خلا
جس کی یہ کوئی توجیہہ نہیں پاتے

شیخ سفر الحوالی
 

جو بھی توراتی صحیفوں ___خصوصاً بنی اسرائیل کے دور اسیری کے انبیاءسے منسوب صحیفوں___ کا مطالعہ کرتاہے، وہ اس حقیقت کو بہت واضح پاتا ہے کہ یہ صحفیے یہود کے متعلق آخری زمانے کی پیشین گوئیوں پر مشتمل ہیں اور یہ کہ یہودی اس آخری زمانے تک باقی رہیں گے اور ان یہودیوں کا آخری زمانے میں ایک اکٹھ ہو گا اور فلسطین میں ان کی ایک اور سلطنت قائم ہو گی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی زور آور امت کے ذریعے ان پر اپنا غضب برسائے گا جو زمین کے ہر طرف سے آکران پر چڑھائی کرے گی۔

لیکن ان توراتی صحیفوں کی اگر آپ شروحات اور تفاسیر کا مطالعہ کریں تو آپ حیرت وپریشانی کا شکار ہونگے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تفاسیر میں ان توراتی پیشین گوئیوں کی تفسیر اور پھر ان کو تاریخی وقائع پہ فٹ کرنے میں حد درجہ اختلاف اور تعارض پایا جاتا ہے اور جوں جوں زمانہ گزرتا جا رہا ہے اور نئے نئے فرقے اور نئے نئے آراءو افکار جنم پا رہے ہیں توں توں یہ اختلاف اور تعارض اور بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

مگر ہم ان پیشین گوئیوں کے ایک قاری کی یہ جاننے میں مدد بہرحال کر سکتے ہیں کہ ان پیشین گوئیوں کے مفسرین کی آراءعموماً دو ہی بڑے نقطہ ہائے نظر پر مشتمل ہیں:

١) ایک نقطہءنظر یہ کہ یہ پیشین گوئیاں ماضی میں ہی پوری ہو چکی ہیں۔ یہ ایک قدیم رائے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس رائے کی رو سے یہودیوں کے حق میں یہ خوفناک پیشین گوئیاں ماضی میں پوری ہو چکی ہیں۔ چنانچہ یہودی ہر دور میں ان پیشین گوئیوں کو اسی رائے پر محمول کرتے ہیں تاکہ یکسوئی کے ساتھ اب وہ بس ایک نجات دہندہ کی آمد کا ہی انتظار کریں۔

یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اسلامی تاریخ میں بھی رسول اللہ کی بعض پیشین گوئیوں کی بابت یہ کہہ دیا گیا کہ یہ پوری ہو چکی ہیں مثلاً بعض طبقوں نے مہدی منتظر کی آمد کو دولت بنی عبید یا دولت موحدین پر چسپاں کرکے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ مہدی کی آمد ہو چکی بلکہ ہو کر گزر چکی۔ اس نظریے پر بہت سے لوگوں نے یقین بھی کر لیا اور اب بھی ان کے پیروکار پائے جاتے ہیں۔

اسی طرح انجیل متی کا مولف یہ رائے اختیار کرتا ہے کہ یہ پیشین گوئیاں مسیح کی پہلی بار کی آمد سے ہی متعلق ہیں۔ اس رائے سے کیتھولک متاثر بھی ہوئے اور ان کی اکثریت اسی کی جانب مائل رہی۔

اہل کتاب کے بعض طبقوں کی یہ رائے ہی اس بات کا سبب بنی کہ زمانہ نو کے ’کتاب مقدس کے تاریخی نقد و جائزہ‘ کے اسکول آف تھاٹ نے اس پر اپنے خیالات کی بنیاد رکھی حتی کہ ان میں سے بعض انتہا پسندی میں یہاں تک چلے گئے کہ ان انبیاءکا سارا کلام ہے ہی ماضی کی تاریخ پر نہ کہ مستقبل کی پیشین گوئیوں پر۔ اس رائے کی رو سے انبیاءماضی کے وقائع کے راوی قرار پائیں گے نہ کہ مستقبل کے پیشین گو۔

یہ روش حقیقت میں ان پیشین گوئیوں کی نص سے بھی متصادم ہے اور ان پیشین گوئیوں کی روح سے بھی۔ آخر اس بات کا کیا مطلب رہ جاتا ہے کہ خدا کسی نبی کو کہے کہ اٹھو اور بنی اسرائیل کو پیشین گوئی کرو، یا مصر کو پیشین گوئی کرکے دو یا ادوم کو پیشین گوئی کرو .... جبکہ وہ ماضی کا واقعہ ہو اور نبی کے کہنے سے پہلے ہی پیش آچکا ہو؟

اس بات پر کوئی تاریخی دلیل بھی موجود نہیں کہ ان انبیاءکی بعثت ان واقعات کے بعد ہوئی جن کی ان انبیاءنے پیشین گوئی کی۔ یہ رائے محض تخمین بلکہ تکے پر قائم کر لی گئی۔

اس بنا پر ہم اس رائے کو رد کرنے میں اپنے لئے کوئی مشکل نہیں پاتے۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ تاریخ کا علم اب آج کے اس دور میں کہیں زیادہ ترقی کر گیا ہے اور تاریخی وقائع کو جاننا اب کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ چونکہ ایسے واقعات کے وقوع پذیر ہو چکے ہونے کی تاریخ تائید نہیں کرتی لہٰذا یہ نقطہ نظر ان پیشین گوئیوں کو مستقبل میں پیش نہیں آنا، بلکہ ماضی میں وقوع پذیر ہو چکیں، آپ سے آپ بے وزن ہو جاتا ہے۔

٢) دوسرا نقطہءنظر یہ ہے کہ یہ پیشین گوئیاں اپنے ظاہر پر محمول ہوں اور ان کے مستقبل میں پیش آنے کو ہی ترجیح دی جائے۔ یہی احتمال منطقی اور درست ہے۔ خاص طور پر اس لئے کہ ان پیشین گوئیوں کو مسیح کی آمد اول پر منطبق کر دینا نہ تو عقلی طور پر درست ہے اور نہ تاریخی طور پر۔ کیونکہ یہ پیش گوئیاں اقتدار، سلطنتوں اور جنگوں سے متعلق ہیں .... جو کہ مسیح کے دور میں وقوع پذیر نہیں ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہود اورنصاری کے اکثر شارحین، خصوصاً ان آخری صدیوں میں پائے جانے والے شارحین ان پیشین گوئیوں کو عہد خلاصی ___جسے یہ عہد مشیحی (ش کے ساتھ) کہتے ہیں___ پر فٹ کرتے ہیں۔ یعنی آخری زمانے کے وہ واقعات جو دنیا کا حساب کتاب ہونے سے کچھ پیشتر یا عین اس وقت روپذیر ہونگے۔ یہ ’عہد خلاصی‘ نصاری کے ہاں مسیح کی دوبارہ آمد سے مشروط ہے جبکہ یہودی عقیدے کی رو سے یہ ’بادشاہ‘ کے آنے سے مشروط ہے جو دائود کی نسل سے ہوگا اور جس کا لقب ان کے ہاں ’شہنشاہ امن‘ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہل کتاب یہ دونوں مکتب فکر بلکہ یوں کہیے توارتی پیشین گوئیوں کی تفسیر کرنے والے یہ دونوں فریق اس بات پر بہرحال متفق ہیں کہ مسیح کے زمانے سے لے کر یا پھر اس سے کچھ دیر بعد سے لے کر اب تک تاریخ کے واقعات میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی جن پر یہ پیشین گوئیاں پوری آتی ہوں۔ اور یہ کہ معاملہ قرب قیامت کے بڑے واقعات ہونے تک ایسا ہی رہے گا۔ بلاشبہ یہ ایک ’جائز‘ مفروضہ ہے اور اس کو ’جواز‘ دینے والا ایک ایسا سبب ہے جو بے انتہا عظیم الشان اور بے انتہا اہمیت کا مالک ہے!!

ضرور کوئی ایسی بات ہے جس سے یہ لوگ عمداً اور قصداً بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سب پیشین گوئیوں کو اس طویل تاریخی مرحلے پر فٹ کرنے سے بچتے ہیں جو کہ ان کے اور دور مسیح کے مابین گزرا ہے۔ بھلا وہ کیا بات ہے؟؟؟ اور اتنا بڑا تاریخی خلا یوں چھوڑ دینے پر اس قدر اصرار کیوں؟ اس تاریخی خلا کو پر کئے بغیر یوں چھوڑ دینے کا کیا سبب ہے جو زمانہ گزرنے کے ساتھ اور سے اور وسیع ہوتا جا رہا ہے اور جو کہ ہزاروں سال تک دراز ہو سکتا ہے اور جس کے ختم ہونے کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے؟

لازمی بات ہے یہ محض اتفاق نہیں۔ مگر ان کی مشکل یہ ہے کہ یہ اپنے سامنے تاریخ انسانی کا سب سے بڑا اور تاریخ کی سب سے زیادہ توجہ لینے والا واقعہ صاف رونما ہوتا دیکھتے ہیں۔ یعنی محمد کی بعثت اور آپ کے دین کا سب ادیان پر چھا جانا۔ اب ان کے سامنے دو ہی صورتیں رہ جاتی ہیں:

١) یاتو یہ ان باتوں پر ایمان لے آئیں جو ان کے انبیاءکی پیشین گوئیوں میں محمد کے بارے میں پائی جاتی ہیں۔ یا کم از کم ان پیش گوئیوں کی ان باتوں پر ایمان لے آئیں جو آپ کی امت اور اس کے دور اقتدار پر چسپاں ہوتی ہیں، جس سے خود بخود آپ پر ایمان لانا اور یہ اعتراف کرنا لازم آجاتا ہے کہ ان کے انبیاءکی بعض پیشین گوئیوں کا تعلق محمد سے ہے۔ ایک بات تسلیم کرنے کے بعد پھر اگلی بات تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ آخر میں پہنچیں تو ان کے انبیاءکی پیشین گوئیوں کی سب گمشدہ کڑیاں آپ سے آپ مل جاتی ہیں۔ ان گمشدہ کڑیوں کے ملنے سے یہ زنجیر ایک بہترین انداز میں جڑ جاتی ہے مگر اس میں خرابی یہ ہے کہ یہ اسلام اور اسلامی دولت واقتدار اور اسلام کے دور تہذیب کے حق میں ایک منہ بولتی شہادت بھی بن جاتی ہے!!

اس راستے کو ظاہر ہے اہل کتاب کے بہت تھوڑے شارحین ہی اختیار کر سکتے تھے کیونکہ اس کو اختیار کرنے والے آپ سے اس برگزیدہ امت میں آملتے ہیں اور جو اس امت سے آملے اس کو یہ اپنے ہاں سے خارج کر دیتے ہیں!!

٢) اور یا پھر یہ کریں کہ ان پیش گوئیوں میں ہر وہ چیز جس کا اس دین (اسلام) سے کوئی تعلق بنتا ہے اس سے صاف نظر پھیر جائیں اور اس کو اس ڈھٹائی سے چھپائیں کہ دیکھنے والا سر پکڑ کر رہ جائے۔ ان لوگوں نے بھی، سوائے بہت تھوڑوں کے، یہی کیا۔

یہاں اس بات کی طرف اشارہ کر دینا ضروری ہے کہ ان کے پچھلے زمانے کے کافر ان سے کہیں بہتر رہے ہیں۔ میری مراد ہے ازمنہ وسطی کے محققین جو کہ اس (امت محمد کے مرحلے) سے صرف نظر کئے بغیر نہیں رہے تاہم وہ اس کی تفسیر میں مختلف نقطہ ہائے نظر میں بٹے۔

١) ان میں سے کچھ نے اپنے آپ کو مجبور پایا کہ محمد کی نبوت سے انکار تو ممکن نہیں اور یہ آپ کی بعثت اور آپ کی امت کا شہرہ واقتدار بھی واقعتا دنیا کی تاریخ کا عظیم ترین واقعہ ہے۔ ان کو اس بات کی بھی کوئی تک نظر نہ آئی کہ ان کی یہ عظیم مذہبی پیشین گوئیاں بنی اسرائیل کی ایک چھوٹی سی کنبہ نما قوم سے تو بحث کریں اور تاریخ کے اس اہم ترین اور عظیم ترین واقعے کو نظر انداز کر دیں جس نے دنیا بھر کے بت خانے الٹ ڈالے اور دنیا کی بڑی بڑی بت پرست شہنشاہتوں کو زیر وزبر کرکے رکھ دیا اور ان سب مشرک تہذیبوں اور سلطنتوں کو ملبہ بنا کر زمین میں خدائے واحد کی وہ مملکت قائم کی جو زمین کے ان سب دور افتادہ خطوں میں اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت اور اس کے سب رسولوں کی تعظیم وتقدیس کرتی رہی۔ یہ وہی مملکت تھی جس نے عدل کو پھیلایا اور زمین کے بڑے حصے پر انسانوں کیلئے دین اور ان کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنایا۔ ان لوگوں کو تاریخ انسانی کے چیختے حقائق اپنے اس اندھے تعصب سے متصادم نظر آئے جو یہ اپنے دین کیلئے رکھتے ہیں۔ تب انہوں نے اس الجھن سے نکلنے کی یہ راہ پائی کہ یہ نبوت تو ہے مگر یہ اس شریعت کے مخاطب نہیں اور یہ کہ دین اسلام بطور خاص عرب کیلئے آیا ہے۔ اس نقطہءنظر کو اختیار کرنے والوں میں مشہور ترین شخصیت پال راہب ہے۔ [ مراد وہ پال نہیں جو عیسائیت کی تاریخ کا بڑا کردار ہے اور جو کہ رسول اللہ سے پہلے پایا گیا۔ یہ پال راہب رسول اللہ کے بعد پایا گیا۔ مترجم] جس کا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ”الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح“ میں رد کیا تھا۔

٢) ان میں سے کچھ کو محمد کی نبوت کا اثبات کرنا گراں گزرا اور انہوں نے آپ کو بخت نصر  اور سخاریب Sencharib جیسے بادشاہوں کی طرح کا ایک بادشاہ قرار دیا اور یہ عقیدہ اختیار کیا کہ آپ کی امت کا صدیوں پر پھیلا ہوا یہ اقتدار انہی بت پرست شہنشاہتوں کا ایک تسلسل ہے۔ یہ لوگ نہ تو درحقیقت اپنی ہی کتب کی پیشین گوئیوں پر چلے، اور نہ اسلام ہی پر ایمان لائے، اور نہ اپنے ہم مذہبوں کو ہی کوئی کام کی توجیہہ کرکے دے سکے۔ چنانچہ یہ اپنے سے پہلے مذکورہ گروہ کی نسبت تعداد میں بھی کم رہے اور اپنے ہم مذہبوں کے اندر پذیرائی حاصل کرنے میں بھی۔

٣) ان میں سے کچھ غالی اور سرکش ہوئے اور حقیقت کو سوفیصد الٹ کر دیا۔ ان کو دن رات نظر آیا اور رات کو یہ دن دیکھنے لگے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خاتم المرسلین معاذ اللہ وہ ’دجال‘ یا ’جھوٹا نبی‘ یا ’درندہ‘ ہے جس کا ان کی پیشین گوئیوں میں ذکر ہے اور یہ کہ آپ سے اور آپ کی امت سے جنگ کرنے والے لوگ ہی ’قدوسی‘ ہیں اور وہ پاکباز اور فرشتہ صفت نیکو کار ہیں (جو آخری زمانے میں دجال سے جنگ کریں گے) اس شرمناک تفسیر پر چلنے والے وہ پوپ اور پادری تھے جو عالم اسلام پر صلیبی حملوں کی روح رواں تھے اور جو کہ یورپی اقوام کو ایک بڑی سطح پر بے وقوف بنانے اور جذبات میں لا کر مسلم ملکوں پر چڑھا لانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

 [ملاحظہ ہو کتاب: "In Pursuit of the Millennium" by: Norman Cohen]

محمد اور آپ کی امت کے اس طویل ترین دور اقتدار اور آدھی دنیا پر مسلسل چھائے رہنے اور زمین کے بڑے حصے میں صدیوں تک خدائے واحد کی عبادت کرنے اور کروانے کے، تاریخ کے اس روشن ترین واقعہ کی توجیہ کرنے میں یہ تینوں نقطہ ہائے نظر جو ہم نے ازمنہءوسطی کے یورپی محققین کے حوالے سے اوپر بیان کئے .... یہ سب کے سب نقطہ نظر اس قدر واضح منفی نتائج کے حامل ثابت ہوئے کہ بعد میں آنے والے بہت سے محققین کے سامنے اس معاملے پر چپ سادھ لینے اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ اس سے کنی کترا جانے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا۔ یورپ کے بیشتر ’محققین‘ نے اسی راستے کو اپنے حق میں بہتر پایا خاص طور پر ان محققین نے جو علمیت اور موضوعیت (آبجيكٹوازم) کا لبادہ اوڑھے رہے!!

یہ سب قدیم آراءاس دھینگامشتی کی گرد میں قریب قریب روپوش ہی ہو چکی تھیں جو اس جدید زمانے میں بڑے عرصے سے ایک طرف کلیسا اور سائنس کے درمیان ہوتی آئی ہے تو دوسری طرف مذہبی عیسائیت کے اپنے ہی فرقوں کے درمیان۔ تاریخ کے اس اسلامی دور کو فی الوقت نگاہوں سے روپوش کر دینے میں اضافی سبب مسلمانوں کا اپنا آپ ہار کر مغرب کا دست نگر بن جانا ہوا۔ پھر عین اسی دوران یہودی بھی اپنے ان باڑوں سے نکل کر (جو دنیا کے ہر بڑے شہر میں ان کے آبادی سے ہٹ کر رہنے کیلئے بنائے جاتے تھے اور یہ اتنے مشہور تھے کہ انگریزی ڈکشنری میں ان یہودی باڑوں کا نام (گیٹو) پڑ گیا تھا) یہ یہودی اپنے باڑوں سے نکل کر اب دنیا کا سونا لوٹنے کیلئے اور عالمی سود و دولت کی ذخیرہ اندوزی کی دوڑ میں آگے پیچھے بھاگ رہے تھے اور ان میں سے کسی کو بھی اپنا ارض میعاد اور عہد خلاصی کا خیال پریشان نہ کرتا تھا۔

مگر صہیونی تحریک کی ولادت نے ان مردہ آراءکو پھر زندہ کر دیا اور ان سب مسائل کو مذہبی ایمانیات اور فکری جدلیات کا پھر سے موضوع بنا دیا!!

عجیب بات یہ کہ اس صہیونی تحریک کی ولادت ایک یہودی تحریک کے طور پر نہ ہوئی تھی بلکہ اس تحریک نے دراصل نصرانیت کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔ یہودیوں میں اس تحریک کے داعی بعد میں پیدا ہوئے، جو کہ سب کے سب سیکولر اور لادین تھے۔ کوئی آنکھ یہ دیکھنے میں دھوکہ نہیں کھا سکتی کہ کیبوٹز  کے صہیونی زرعی فارم دراصل اشتراکیت کا ہی ایک تطبیقی نمونہ تھا۔ کسی بھی حقیقت کے متلاشی کو اس بات کی دلیل ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں کہ یہود کی ایک بہت بڑی تعداد اسرائیل کی موجودہ ریاست کے قیام کو خدائی احکامات کی پامالی اور یہود کیلئے ہلاکت کا پیش خیمہ جانتی ہے۔ دراصل عیسائی بنیاد پرستی کی صورت میں سامنے آنے والی اس نصرانی صہیونیت نے ہی آراءوافکار کے اس پرانے معرکے کو ایک نئے سرے سے زندہ کیا۔ اسی نے بائبل کی پیشین گوئیوں کی من گھڑت تاویلات کو ایک نئے انداز سے رواج دیا اور ابھی تک دیئے جا رہی ہے۔ اسی نے یہ نظریہ اپنایا کہ (فلسطین میں) ایک یہودی ریاست کا قیام دراصل نزول مسیح کی تمہید ہے اور یہی وہ تحریک ہے جس کی، مشرق وسطی کے امن پروگرام کے ناکام ہونے اور انتفاضہءنو کے شروع ہو جانے پر خوشی سے باچھیں کھلی تھیں۔

یہ صہیونیت کا نصرانی پاٹ ہی وہ لوگ ہیں جو عملاً اور بہت واضح انداز میں اس تاریخی خلا کو پھر سے موضوع بحث بنا دینے کا سبب بنے اور یوں انہوں نے اس تاریخی خلا کو اس کی پوری وسعت کے ساتھ لوگوں کے ذہن میں ایک سوالیہ نشان بنا دیا۔ مغربی محققین جو آج تک اس موضوع پر چپ سادھے رہے تھے اور اس سوال کا جواب دینے سے کنی کتراتے رہے تھے، یہ لوگ خود اس کا پول کھول دینے کا بھی سبب بنے۔ چنانچہ اب یہ اپنے سب ہم مذہبوں کو ایک ایسے موضوع کی جانب لے کر آگے بڑھ رہے ہیں جو مغرب میں بڑی دیر تک ’خطرناک‘ اور جس کے پاس پھٹکنا نقصان دہ سمجھا جاتا رہا تھا!!

یوں نوبت اس حد کو پہنچی کہ عالمی مسائل سے بحث کرنے والے افکار عمومی طور پر اور مستقبل کے جائزہ ومطالعہ سے متعلق افکار خصوصی طور پر ایک افراتفری کا شکار ہیں اور ایک ایسے بحران میں پڑ رہے ہیں جو ایک بڑے تعار ض پر قائم ہے۔ اس تعارض کی بنیاد یہ ہے کہ ایک طرف ان کی مذہبی کتابوں کی وہ سب پیش گوئیاں جو خلاصی ونجات، عدل اور امن کے دور سے متعلق ہیں مگر ساتھ میں اس امت کا ذکر بھی کرتی ہیں جسے خدا شرکی قوتوں کے خلاف اپنے انتقام کا ذریعہ بنائے گا اور جسے وہ کفر وظلم اور فساد کی قوتوں پر مسلط کرے گا .... یہ سب کی سب پیشین گوئیاں ایک طرف آخری زمانے سے متعلق ہیں اور مسیح علیہ السلام کے ہاتھوں پوری ہونے والی ہیں اور دوسری طرف عقلی طور پر ان کے اس دعوے کا مطلق طور پر انکار کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کا قیام اور نئے ’ہزار سالہ‘ (ميلينيم) کا شروع ہو جانا دراصل زمانہ ختم ہونے کی ابتدا ہے اور یہ کہ وہ انہونا مستقبل، جس کی پیش گوئی کی گئی ہے، وہ یہی حال کا زمانہ ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ اس تعارض کا سبب دراصل اہل کتاب کے افکار کا اپنا تناقض ہے جس میں ان کے ایک گروہ نے اس بڑے تاریخی خلا کی بحث چھیڑ دی ہے اور ان کا ایک دوسرا گروہ اس خلا کو پر کرنے کی ہر غیر معقول اور غیر منطقی کوشش کر رہا ہے!

یوں اہل کتاب کے ہاں ان دو رویوں یعنی اس تجاہل عارفانہ اور اس قصداً تحریف کے بیچ میں حق روپوش ہو جاتا ہے اور اللہ کی یہ بات ان پر سچ آتی ہے:

یا اھل الکتاب لم تلبسون الحق بالباطل وتکتمون الحق وانتم تعلمون (آل عمران: ٧١)

”اے اہل کتاب، آخر تم حق اور باطل خلط ملط کیوں کرتے ہو؟ کیوں جانتے بوجھتے ہوئے حق کو چھپاتے ہو؟“

حقائق کو الٹ پلٹ دینا ہی ان اہل کتاب کا ایک جرم نہیں۔ بلکہ نجات کیلئے انسانیت کی سب امیدیں ختم کرکے رکھ دینا اور حق اور خیر اور امن کے جیت پانے کیلئے انسانیت کی سب آرزوؤں کا خون کر دینا بھی ان کا ایک ایسا جرم ہے جس کے مذموم ہونے پر پوری دنیا کے خردمندوں اور ہر مذہب کے لوگوں کا اتفاق ہو جانا ضروری ہے!

جب یہ واضح ہے کہ دنیا کے عقلمند ___جن میں کہ خود امریکہ کے عقلمند بھی شامل ہیں___ دنیا کے اس مستقبل پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے، جس کا ڈرائونا نقشہ اس وقت یہ لوگ کھینچ رہے ہیں۔ تو پھر نجات اور خلاصی کی راہ کہاں باقی ہے؟ عظیم خالق کی وہ حکمت، وہ رحمت اور وہ عدل کہاں ہے جس پر آسمانی کتابیں ہی نہیں انسانی فطرت اور انسانی عقل بھی شاہد ہے اور جس کی کہ طویل تاریخی وقائع بھی شہادت دیتے آئے ہیں؟ کیا اس اشرف المخلوقات کا ایسا ہی افسوسناک خاتمہ اور ایسا ہی تاریک انجام ہونا چاہئے؟

چونکہ حتمی اور قطعی طور پر ایسا ناممکن ہے، اور چونکہ حقیقت کو ثابت کر دینا اور انسانیت کو روشنی کی نوید دینا صرف ایک مسلمان تحقیق نگار کے بس میں ہے، کہ تنہا وہی ہے جسے نقل صحیح (وحی ثابت) اور عقل صریح ایک ساتھ میسر ہے۔ اور چونکہ ایک مسلمان حقائق سے بحث کرنے میں انصاف اور علمی غیر جانبداری کا دامن کبھی خوف تنقید کے باعث نہیں تھامتا بلکہ ایک مسلمان کی علمی دیانت کا سبب محض اللہ کا خوف اور اس کے حکم کی تعمیل کا جذبہ ہوا کرتا ہے اس لئے ہم مسلمانوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر اپنا یہ فرض پورا کریں اور انسانیت تک اس کی یہ امانت پہنچائیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا یہ سطور لکھنا ان سب مسلمانوں کیلئے یاد دہانی کا درجہ رکھے گا اور دنیا کر ہر ملت اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے انصاف وخیر پسندوں کیلئے الارم کی حییثت، خصوصاً اہل کتاب کیلئے جن کے بارے میں ہماری آرزو ہے کہ ان کا ایک طبقہ ضرور ہماری ان گزارشات کی روشنی میں اپنی کتاب کی پیشین گوئیوں پر ایک نظر ثانی کرے گا۔

باب ہشتم دانیال کی پیش گوئی:

دانیال بنی اسرائیل کے انبیا میں سے ایک نبی ہیں۔ ان کے نام سے اہل کتاب کے ہاں الگ سے ایک صحیفہ پایا جاتا ہے جو کہ اہل کتاب کے بیشتر صحیفوں سے متمیز ہے اگرچہ اس عمومی مصیبت سے یہ صحیفہ بھی، دوسرے صحیفوں کی طرح محفوظ نہیں جو کہ تحریف اور تبدیلی کی صورت میں ان صحیفوں کے اندر وارد ہوئی ہے۔ اس صحیفے کے امتیازی اوصاف میں یہ باتیں شامل ہیں:

١) صحیفہ میں عقیدہ توحید کا واضح ہونا۔ چنانچہ یہ صحیفہ اللہ تعالیٰ کو ’آسمان کا خدا‘ کا نام دیتا ہے بخلاف ان کے عام صحیفوں کے جو کہ اللہ تعالیٰ کو ’فوجوں کا خدا‘ رب الافواج کے نام سے ذکر کرتے ہیں (جو کہ ایسا نام ہے جو کہ اللہ کے بارے میں اور عام انسانوں کے بارے میں یہودی ذہنیت کو واضح کرتا ہے) دانیال کا صحیفہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح صفات بیان کرتا ہے جس کی دوسرے صحیفوں میں نظیر نہیں ملتی۔ یہ اللہ کو حی اور قیوم کہتا ہے جو حکمت اور جبروت کا مالک ہے اور علم وتدبیر اور قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ وہ بادشاہوں کا رب ہے، اور راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے اور سجدے وعبادت کا یکتا وتنہا حقدار ہے اور یہ بھی کہ جادو، فالگیری اور ستارہ شناسی سب باطل ہے وغیرہ وغیرہ۔

٢) اس صحیفے میں وارد ہونے والی پیشین گوئیوں کا ان تاریخی واقعات سے مطابقت رکھنا جو کہ تواتر کے ساتھ معلوم ہیں اوران واقعات کو صرف ایک متعصب شخص ہی مشکوک ٹھہرا سکتا ہے۔

٣) اس صحفیے کا ایسی صریح بشارات پر مشتمل ہونا جو ختم نبوت سے متعلق ہیں اور اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ ابدالآباد تک باقی رہنے والی رسالت ظہور میں آنے والی ہے۔

٤) دانیال کی پیشین گوئی کا کچھ خاص اعداد پر مشتمل ہونا جو کہ تاریخ کے ہر دور میں بحث وتکرار کا موضوع بنی رہی ہیں۔

جہاں تک خود دانیال نبی کا تعلق ہے تو وہ یوسف علیہ السلام سے بہت ہی مشابہ شخصیت نظر آتی ہے۔ یوسف علیہ السلام کی طرح یہ بابل میں پردیسی اور مظلوم ہیں مگر اللہ تعالیٰ علم اور خوابوں کی تعبیر عنایت فرما کر بادشاہ کے ہاں ان کی منزلت بلند کر دیتا ہے۔ یہ پھر بھی بہرحال توحید کے داعی رہتے ہیں او رکوئی فتنہ انہیں اس مشن سے نہیں ہٹاتا۔

اسلامی تاریخ میں بھی دانیال کی نسبت سے ایک حادثہ مشہور ہے جسے کہ ابن اسحاق، ابن ابی شیبہ، بہیقی وغیرہ نے ان تابعین سے روایت کیا ہے جو ”تستر“ کی فتح میں شریک تھے۔ ان میں ابوالعالیہ اور مطرف بن مالک کا بھی ذکر آتا ہے۔ اس واقعہ میں ایسی باتیں مذکور ہیں جو ہمارے اس موضوع سے بھی متعلق ہیں کہ فاتح مسلمان فوج نے دانیال کی میت ایک تختے پر پڑی ہوئی پائی اس حالت میں کہ میت ویسی کی ویسی اپنی اصل حالت میں پڑی تھی کوئی ذرہ بھر تبدیلی اس میں نہ آئی تھی سوائے گدی پر چند بالوں کے۔ میت کے سرہانے ایک مصحف تھا۔ مسلمان فوج نے وہ مصحف اٹھا کر عمر کے پاس پہنچا دیا۔ عمر نے (یہود میں سے اسلام قبول کرنے والے عالم) کعب الاحبار کو طلب فرمایا اور کعب نے اس کو عربی نسخ میں لکھ دیا۔ ابوالعالیہ کہتے ہیں میں پہلا شخص تھا جس نے وہ صحیفہ پڑھا۔ راوی جو ابوالعالیہ سے روایت کرتا ہے کہتا ہے میں نے ابوالعالیہ سے دریافت کیا: صحیفے میں کیا لکھا تھا؟ کہا: تمہاری سب سیرت تمہارے تمام امور اور تمہارے کلام کے لہجے تک اور جو کچھ آئندہ پیش آنے والا ہے“۔ [دیکھیے البدایہ والنھایہ للامام ابن کثیر (١:٤٠۔٤٢)، دلائل النبوت للبیقی (١:٣٨١)۔ المصنف لابن ابی شیبہ (٧:٤) اور کتاب شفاءالصدور (٣٣٦) مصنفہ مرعی الکرمی بتحقیق جمال حبیب]

چنانچہ دانیال کی نص کا ترجمہ باقاعدہ عربی میں ہوا اور وہ بھی اس زبان کے ماہر کعب الاحبار کے ہاتھوں اور اسے بہت سے لوگوں نے پڑھا۔ چنانچہ بعید نہیں وہ علمائے اسلام جنہوں نے کتب سابقہ میں محمد کے متعلق بشارتوں پر تالیفات لکھی ہیں مثلاً ابن قتیبہ اور ابن ظفر وغیرہ وہ اس صحیفے پر مطلع ہوئے ہوں۔ البتہ اگر ایسا نہ ہو اور ان کی معلومات کا مصدر تورات کے وہ صحیفے ہوں جو ان کے دور میں پائے گئے تو یہ کہیں زیادہ قوی اور بامعنی بات قرار پائے گی۔ کیونکہ یہ مسلم مصنفین اپنے نقل کرنے میں کبھی کسی غلط بات نقل کرنے کے مورد الزام نہیں پائے گئے حتی کہ ان کے معاصر اہل کتاب نے بھی ان کو اس معاملے میں کبھی نہیں جھٹلایا۔

بلکہ ابن قتیبہ نے تو اس حد تک کہا، جیسا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے بھی ”الجواب الصحیح“ میں ابن قتیبہ کا یہ قول نقل کیا:

”اور یہ پیشین گوئی (محمد کے بارے میں) یہود اور نصاری کے ہاں اب بھی پائی جاتی ہے جس کو یہ پڑھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اس میں مذکور شخص ابھی ظاہر نہیں ہوا“۔

اس کے باوجود یہاں ہم ان روایات پر سہارا نہیں کریں گے جو علمائے اسلام کے ذریعے پرانے اہل کتاب سے منقول ہوئی ہیں بلکہ ہم اپنی گفتگو کیلئے ان نصوص کو بنیاد بنائیں گے جو اس وقت اہل کتاب کے ہاں پائی اور پڑھی جاتی ہیں۔

دانیال کی عظیم پیشین گوئی:

بادشاہ بنو کدنضر (بخت نصر) نے ایک عجیب خواب دیکھا جس نے اسے پریشان کر دیا۔ بادشاہ نے جادوگروں اور فال گیروں کو حکم دیا کہ وہ بادشاہ کا یہ خواب بھی بوجھیں اور اس کی تعبیر بھی بتائیں۔ سب عاجز آگئے۔ مگر دانیال نے اللہ تعالیٰ سے عجز وانکسار سے دُعا کی تو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کا وہ خواب بھی اور اس کی تعبیر بھی دانیال کو الہام کر دیا۔ پس وہ بادشاہ کے پاس آیا اور وہ گویا ہوا:

”وہ بھید جو بادشاہ نے پوچھا، حکماءاور نجومی اور جادوگر اور فالگیر بادشاہ کو نہیں بتا سکتے۔ لیکن آسمان پر ایک خدا ہے جو راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے اور اس نے نیو کدنضر(بخت نصر) بادشاہ پر ظاہر کیا ہے کہ آخری ایام میں کیا وقوع میں آئے گا۔ تیرے خواب اور تیرے دماغی خیال جو تو نے اپنے پلنگ پر دیکھے یہ ہیں:

اے بادشاہ تو اپنے پلنگ پر لیٹا ہوا خیال کرنے لگا کہ آئندہ کو کیا ہو گا۔ سو وہ جو رازوں کا کھولنے والا ہے تجھ پر ظاہر کرتا ہے کہ کیا کچھ ہوگا۔لیکن اس راز کے مجھ پر آشکار ہونے کا سبب یہ نہیں کہ مجھ میں کسی اور ذی حیات سے زیادہ حکمت ہے بلکہ یہ کہ اس کی تعبیر بادشاہ سے بیان کی جائے اور تو اپنے دل کے تصورات کو پہچانے۔

”اے بادشاہ تو نے ایک بڑی مورت دیکھی۔ وہ بڑی مورت جس کی رونق بے نہایت تھی تیرے سامنے کھڑی ہوئی اور اس کی صورت ہیبت ناک تھی۔ اس مورت کا سر خالص سونے کا تھا۔ اُس کا سینہ اور اس کے بازو چاندی کے۔ اس کا شکم اور اس کی رانیں تانبے کی تھیں۔ اُس کی ٹانگیں لوہے کی اور اس کے پائوں کچھ لوہے کے اور کچھ مٹی کے تھے۔ تو اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ ایک پتھر ہاتھ گائے بغیر ہی کاٹا گیا اور اس مورت کے پائوں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگا اوران کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کے بھوسے کی مانند ہوئے اور ہوا ان کو اڑا لے گئی۔ یہاں تک کہ ان کا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے اس مورت کو توڑا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین میں پھیل گیا۔ وہ خواب یہ ہے اور اس کی تعبیر بادشاہ کے حضور بیان کرتا ہوں۔

”اے بادشاہ تو شاہنشاہ ہے جس کو آسمان کے خدا نے بادشاہی و توانائی اور قدرت وشوکت بخشی ہے اور جہاں کہیں بنی آدم سکونت کرتے ہیں اس نے میدان کے چرندے اور ہوا کے پرندے تیرے حوالہ کرکے تجھ کو ان سب کا حاکم بنایا ہے۔ وہ سونے کا سر تو ہی ہے۔ اور تیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہو گی جو تجھ سے چھوٹی ہو گی اور اس کے بعد ایک اور سلطنت تانبے کی جو تمام زمین پر حکومت کرے گی اور چوتھی سلطنت لوہے کی طرح مضبوط ہو گی اور جس طرح لوہا توڑ ڈالتا ہے اور سب چیزوں پر غالب آتا ہے ہاں جس طرح لوہا سب چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا اور کچلتا ہے اسی طرح وہ ٹکڑے ٹکڑے کرے گی اور کچل ڈالے گی۔ اور جو تو نے دیکھا کہ اس سے پائوں اور انگلیاں کچھ تو کمہار کی مٹی کی اور کچھ لوہے کی تھیں سو اس سلطنت میں تفرقہ ہو گا مگر جیسا کہ تو نے دیکھا کہ اس میں لوہا مٹی سے ملا ہوا تھا اس میں لوہے کی مضبوطی ہو گی اور چونکہ پائوں کی انگلیاں کچھ لوہے کی اور کچھ مٹی کی تھیں اس لئے سلطنت کچھ قوی اور کچھ ضعیف ہوگی۔ اور جیسا تو نے دیکھا کہ لوہا مٹی سے ملا ہوا تھا وہ انسانوں کی نسل سے آمیزش کریں گے لیکن جیسے لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا ویسے ہی وہ بھی باہم میل نہ کھائیں گے۔

”اور ان بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہو گی اور اس کی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالے نہ کی جائے گی بلکہ وہ ان تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی ابد تک قائم رہے گی۔ جیسا تو نے دیکھا وہ پتھر ہاتھ لگائے بغیر ہی پہاڑ سے کاٹا گیا اور اس نے لوہے اور تابنے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ خدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے۔ اور یہ خواب یقینی ہے اور اس کی تعبیر یقینی۔

”تب بنو کدنضر (بخت نصر) بادشاہ نے منہ کے بل گر کر دانیال کو سجدہ کیا اور حکم دیا کہ اسے ہدیہ دیں اور اس کے سامنے بخور جلائیں۔ بادشاہ نے دانیال سے کہا: فی الحقیقت تیرا خدا معبودوں کا معبود اور بادشاہوں کا خداوند اور بھیدوں کا کھولنے والا ہے کیونکہ تو اس راز کو کھول سکا“۔ (دانیال ٢:٧٢۔٨٤)

یہ ہے اس خواب کی نص جس کا ہمیشہ یہ وصف بیان کیا گیا ہے کہ اہل کتاب کے صحیفوں میں تاریخ کی بابت پایا جانے والا یہ مشہور ترین اور سچا ترین خواب ہے۔ اس کی تعبیر کیلئے کسی لمبی چوڑی ذہانت کی ضرورت نہیں۔ نہ ہی اس کے بارے میں کسی اختلاف کی گنجائش ہے کیونکہ نبی نے خود ہی اس کی تعبیر کر دی ہے۔ مگر اہل کتاب نے اس میں عمداً تلبیس کی اور بڑی کوشش کے ساتھ اس پر اختلاف کیا جس کی وجہ ان کے اندر کا حسد تھا جبکہ حق ان پر پوری طرح واضح ہو چکا تھا۔ چنانچہ کئی صدیوں تک یہ اس خواب کو بھی مانتے رہے اور اس کی تعبیر کو بھی۔ اس سارے عرصے کے دوران ان کو اس پر شک نہ ہوئی کہ یہ پیشین گوئی اپنے ظاہر پر ہی محمول ہونی چاہئے اور یہ کہ اس پیشین گوئی میں مذکور پہلی مملکت (سونے کا سر) بابل کی سلطنت ہے اور یہ کہ دوسری مملکت (چاندی کا سینہ) فارس کی سلطنت تھی جو کہ بابلی سلطنت کے بعد قائم ہوئی اور عراق، شام اور مصر پر حکمران ہوئی۔ اور یہ کہ تیسری مملکت (تانبے کی رانیں) سلطنت یونان تھی جس نے کہ سکند مقدونی کی بادشاہت کے دور میں (٣٣٣ ق م) سلطنت فارس کو روند ڈالا تھا اور یہ کہ چوتھی مملکت (ٹانگیں لوہے کی اور پائوں کچھ لوہے اور کچھ مٹی کے) سلطنت روما (رومن ايمپائر) جو کہ بعد ازاں دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک مشرقی سلطنت جس کا پایہءتخت بائزنٹائن (قسطنطنیہ) تھا اور دوسری مغربی سلطنت جس کا پایہءتخت اٹلی تھا۔

اہل کتاب میں سے کوئی بھی اس پر ذرا بھر شک نہ کرتا تھا۔ بلکہ یہ سب کے سب اس پر اس قدر گہرا ایمان رکھتے تھے کہ یہ بڑی بے صبری کے ساتھ پانچویں مملکت (دانیال کی پیشین گوئی کی رو سے ’خدائی سلطنت‘) کا انتظار کر رہے تھے جو کہ ان شرک اور کفر اور ظلم کی سلطنتوں کو تہ وبالا کرکے رکھ دے گی۔ ان کی بے صبری خاص طور پر اس لئے بھی تھی کہ اس چوتھی سلطنت نے اہل کتاب پر بے انتہا ظلم ڈھایا تھا۔ اسی نے یہود کو ذلیل وخوار کرکے دیس نکالا دیا تھا اور ٠٧ءمیں بیت المقدس کو تباہ وبرباد کیا اور مسجد اقصی میں اپنے بت لا کر رکھے۔ پھر اسی رومی سلطنت کے مذہبی بڑوں نے اول اول کے نصاری کو بے رحمی اور سنگدلی سے ایسی ایسی اذیتیںدیں کہ جن کی تاریخ میں مثال ملنا مشکل ہے۔ اس ظلم کا مشہور طاغوتی کردار نیرو اس کی صرف ایک مثال ہے۔ یہ رومی ان عیسائیوں کو تین صدیوں تک ظلم واذیت کی چکی میں پیستے رہے یہاں تک کہ رومی شہنشاہ قسطنطین نے تحریف شدہ عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کیا مگر وہ ظلم جو یہود اور نصاری کے موحد طبقوں پر اور رومیوں کے مخالف سب فرقوں پر روا رکھا جاتا رہا تھا وہ بدستور جاری رہا۔

 

دانیال کی پیشین گوئی (جو اس نے بخت نصر کے خواب کی تعبیر کی صورت میں کرکے دی) میں مذکورہ چار سلطنتیں اپنے تاریخی تسلسل کے ساتھ

 

دانیال سے پہلے کی سلطنتوں کا ذکر ہم نے صرف وضاحت کیلئے کیا ہے۔ [ ان معلومات کے مصدر کیلئے دیکھئے دوائر المعارف العالمیہ، انسائیکلو پیڈیا آف کولمبیا، موسوعہ یارون، الموسوعہ العربیہ المیسرہ]

دانیال سے پہلے

 

سلطنت

سلطنت کی تاریخ کے اہم بادشاہ

دانیال کی پیشین گوئی کے لحاظ سے اسکی ترتیب

اسلامی سلطنت جو کہ اللہ کی کتاب تورات کے مطابق حکومت کرتی رہی

١) داؤد علیہ السلام ١٠١٣ .... ٩٧٣ ق م

٢) سلیمان علیہ السلام ٩٧٣ .... ٩٣٣ ق م

اس کے بعد بنی اسرائیل کی یہ مملکت دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔ ایک یہودا کی ریاست اور دوسری اسرائیل

دانیال سے پہلے

آشوری سلطنتِ

بابل

سر جون دوئم ٧٧٢ .... ٧٠٥ ق م

اس بادشاہ نے سرزمین مقدس کو آشوری سلطنت میں شامل کیا

 

 

دانیال کے وقت اور اس کے بعد

 

کلدانی سلطنتِ بابل

بخت نصر ٦٣٠ .... ٥٦٢ ق م

اس نے بیت المقدس کو برباد کیا۔ اسرائیلیوں کو اسیر کرکے بابل لایا۔ دانیال نبی اسکے دور میں ہوا اور اسکے خواب کی تعبیر کی

پیشین گوئی کی

پہلی سلطنت

(سونے کا سر)

سلطنت فارس

خورس جس نے کلدانی سلطنت کا خاتمہ کیا

٥٥٠ .... ٥٢٩ ق م

پیشین گوئی کی دوسری سلطنت (چاندی کا سینہ)

سلطنت یونان

سکندر اعظم سوئم ٣٣٦ .... ٣٢٣

اس نے سرزمین مقدس کو ٣٣٣ ق م میں فتح کیا

پیشین گوئی کی تیسری سلطنت (تانبے کی رانیں)

سلطنت روم

١) شہنشاہ آگسٹائن جو کہ نظام شہنشاہت کا مؤسس تھا۔ اسی کے دور اقتدار میں مسیح کی پیدائش ہوئی۔

٢) دقلید یا نوس جس نے رومی ایمپائر کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک مشرقی اور ایک مغربی۔ ان دونوں کے الگ الگ قیصر تھے۔ اس کا دور اقتدار ٨٤٢ .... ٥٠٣ عیسوی تھا۔

٣) قسطنطین اول۔ جس نے قسطنطنیہ کی اساس رکھی اور عیسائی مذہب قبول کیا۔ یہ ٧٢٣ عیسوی میں نیقیہ کی مشہور عیسائی کانفرنس کے دو سال بعد فوت ہوا۔

٤) ہرقل جس کا دور اقتدار ٦١٠ تک تھا۔ اسی کے عہد میں مسلمانوں نے ارض مقدس کو فتح کیا اور پھر اس رومی شہنشاہ نے اس سرزمین کو ہمیشہ کیلئے الوداع کہا۔

پیشین گوئی کی

چوتھی سلطنت

(ٹانگیں لوہے کی اور پیر لوہے اور مٹی کے)

چنانچہ ظلم وفساد کی اس مایوس کن فضا میں اہل کتاب بہت بے صبری سے پانچویں سلطنت کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ یقینی طور پر جانتے تھے کہ یہ سلطنت نبی آخر الزمان کے ہاتھوں قائم ہو گی جس کو یہ ارکون السلام (امن کا بادشاہ) بولتے تھے، جس کے بارے میں یہ جانتے تھے کہ اس کے کندھے پر نبوت کی مہر ہو گی اور جس کی کہ سب انبیاءبشارت دے کر گئے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل کتاب میں سے جن علماءکو ہدایت نصیب ہوئی انہوں نے صرف ایک یسعیاہ نبی کے صحیفے سے ہی آپ کی بابت تیس بشارتیں اکٹھی کیں۔ یہ اہل کتاب اس نبی کی بعثت کے وقت کا بھی اندازہ رکھتے تھے جس کیلئے ان کو اپنے مقدس صحیفوں کی نصوص کی بھی مدد حاصل تھی اور بہت سی تاریخی اور واقعاتی نشانیوں سے بھی یہ معلوم کر رہے تھے کہ اس نبی کی آمد قریب آلگی ہے۔ یہ ان نشانیوں کی تاک میں لگے رہتے تھے یہاں تک کہ وہ دن آگیا جب ان کے شہنشاہ ہرقل نے جو کہ بہت عبادت گزار اور اپنے دین کا عالم تھا نے یہ کہا (قد ظھر ملک امہ الختان) ”ختنہ کرنے والی امت کے بادشاہ کا ظہور ہو گیا ہے“۔ اس کو آپ کی بابت اس بات کا یقین ہو گیا تھا اور یہ شہادت اس نے کفار اہل کتاب کا سربراہ ہوتے ہوئے امی کافروں کے سربراہ (ابوسفیان) کے منہ پر دی تھی کہ ”جہاں میں پیر رکھ کر کھڑا ہوں اس کی بادشاہت وہاں تک پہنچے گی“۔ جیسا کہ مشہور صحیح حدیث میں مذکور ہے۔

اور واقعتا یہ ’پانچویں مملکت‘.... یہ ’خدائی سلطنت‘ قائم ہوئی اور ہرقل کے پیروں کی جگہ کی مالک بن کر رہی۔ ہرقل کو شام چھوڑنا پڑا اور شام کو چھوڑتے وقت ہرقل کے کہے ہوئے یہ الفاظ تاریخ کا حصہ بنے: سلام علیک یا سوریہ، سلام لا لقاءبعدہ ”الوداع اے شام الوادع جس کے بعد کبھی ملنا نہیں“!!

یہ خدائی مملکت قائم ہوئی اور سب بت پرست تہذیبوں اور سلطنتوں کو روندتی ہوئی زمین میں ہر سمت کو بڑھتی گئی۔ یہ اس وقت کی آباد زمین کے ایک بڑے حصے پر حکمران ہوئی اور ہر جگہ عدل وانصاف کا بول بالا کیا اور امن و آشتی کا پیغام بنی۔ اس سلطنت کا رقبہ چاند کے کل رقبہ سے زیادہ تھا۔ اس کے پرچم تلے اقوام عالم کے بہت بڑے بڑے اور بے شمار طبقے آکھڑے ہوئے۔

صرف یہاں آکر، اس پانچویں سلطنت کی تفسیر پر، اہل کتاب کو اختلاف ہو گیا اور یہاں یہ تفرقے میں پڑ گئے!!!!

وما تفرق الذین اوتوا الکتاب الا من بعد ما حاءتھم البینہ (البینہ: ٤)

”جن لوگوں کو کتاب دی گئی انہوں نے تفرقہ نہ کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس دلیل روشن آچکی تھی“۔

واتیناھم بینات من الامر فما اختلفوا الا من بعد ما جاءھم العم بغیاً بینھم (الجاثیہ:١٧)

”ہم نے ان کو دین کی بابت روشن نشانیاں دے دی تھیں۔ پھر جو اختلاف انہوں نے کیا وہ علم آجانے کے بعد کیا اور اس بنا پر کیا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے“۔

ان میں سے کچھ ایسے ہوئے جو ایمان لائے اور ہدایت پا گئے۔ اور یہ بھی کوئی چھوٹی تعداد نہ تھی۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوئے جو انکار کر گئے اور اپنے کفر وانکار کی توجیہہ کرنے میں اتنے اتنے گروہوں میں بٹے کہ جو شمار سے باہر ہیں۔ محمد کے ساتھ اپنے کفر کی توجیہ کرنے میں یہ اب بھی نئے سے نئے آراءوافکار میں بٹ رہے ہیں اور ان گروہوں میں جراثیم کی طرح آئے دن نیا اضافہ ہوتا ہے!

ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دانیال کی اس واضح پیشین گوئی پر انہوں نے جو اختلاف کیا اس کی طرف کچھ اشارہ کر دیا جائے:

مختصر یہ کہ یہ لوگ ایڑیوں کے بل پھر گئے! ابھی اس سے پہلے ان میں اس پر کوئی اختلاف نہ تھا کہ دانیال کی پیشین گوئی میں مذکور چوتھی سلطنت دراصل سلطنت روما ہے مگر اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس تعبیر کو بدنے میں یہ خواہ مخواہ کا زور لگا رہے ہیں اور اس کو رومی سلطنت پر منطبق ہونے سے پھیر کر عمداً موخر کرنا چاہتے ہیں۔ کم از کم بھی ان کی کوشش ہے کہ اس پر پردہ پڑ جائے۔ یہ سب ہاتھ پیر اس لئے مارے جا رہے ہیں کہ کسی طرح یہ اس آخری (خدائی) مملکت کا صاف صاف اقرار کرنے سے بچ رہیں اور محمد کی امت کے اس طویل ترین اور صدیوں پر محیط دور اقتدار کو اس پیشین گوئی کے ضمن میں آنے سے کسی طرح روک دیں۔ جیسا کہ پچھلے باب میں ہم ان کی اس طوطا چشمی کی وضاحت کر آئے ہیں۔

حق سے نگاہیں چرانے کا یہ معاملہ ’صہیونی نصرانیت‘ کی بنیاد پرست تحریک تک آیا تو اپنے عروج کو پہنچ گیا اور اب یہ رویہ ان میں سر چڑھ کو بول رہا ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم ان کی تاویلات کا ذکر کریں اور ان کی صحت پر بحث کریں جو کہ یہ دانیال کی پیشین گوئی کی بابت کرتے ہیں یہ ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خواب پر مبنی دانیال کی یہ پیشین گوئی سلطنت ہائے کفر کی بہت ہی زبردست اور معنی خیز انداز میں تصویر کشی کرتی ہے۔ یہ سب کی سب سلطنتیں خدائے واحد کو چھوڑ کر اپنے تراشے ہوئے بتوں اور مورتوں کو پوجتی رہی ہیں۔ چنانچہ پیشین گوئی پر مبنی اس خواب میں ان سب تہذیبوں اور سلطنتوں کو ایک مورت بتایا گیا ہے۔ کوئی اس مورت کا سر ہے، کوئی اس کا سینہ، کوئی اس کی ران، کوئی اس کی ٹانگیں اور اس کے پائوں کی انگلیاں۔ یہ ایک بت ہے جو شرک کو مجسم کرکے واضح کرتا ہے تاکہ اس کے بالمقابل دوسری طرف کی تصویر بھی واضح ہو۔ یہ ایک پتھر ہے جو اس مورت کو توڑتا ہے اور پھر اس کی جگہ لے کر ایک پہاڑ کی صورت میں پوری زمین پر اپنا وجود گاڑ دیتا اور ہمیشہ کیلئے ناقابل تسخیر ہو جاتا ہے۔

یہ ایک علامتی تصویر ہے جو بے انتہا سادہ اور دلکش ہے اور بے انتہا واضح۔ انہوں نے اس کا جو حشر کیا اس سے اس کی تعبیر ہی نہیں شکل بھی بگڑ گئی۔ ان کی دی ہوئی یہ شکل اس تصویر کی حقیقت کے ساتھ کوئی دور کا بھی میل نہیں رکھتی۔

چنانچہ انہوں نے اس مقصد کیلئے کہ پیشین گوئی میں مذکور اس پہاڑ کویہ وہ ملینیم (Millennium) قرار دیں جس میں مسیح کا دوبارہ نزول ہونا ہے (عیسائی عقیدہ کے مطابق) یا پھر اس پہاڑ کو یہ دائودی سلطنت عظمی قرار دیں جس کی قیادت مسیح الیہود جلد آکر کرے گا (یہودی عقیدہ کے مطابق).... انہوں نے یہ رائے اختیار کی کہ دانیال کی پیشین گوئی میں دراصل کوئی چیز ذکر ہونے سے رہ گئی ہے! اب اس چیز کو جو ان کی رائے میں دانیال کی پیشین گوئی میں ذکر ہونے سے رہ گئی انہوں نے مورت کی ٹانگوں اور پیروں کے درمیان (!!!) فٹ کر دیا۔ اب آپ دیکھیے کہ اس مورت کے سر (سلطنت بابل) سے لے کر اس کی ٹانگوں (سلطنت روما) تک آنے میں تو تاریخ کے صرف چھ سو سال لگتے ہیں (یعنی بخت نصر کی موت سے لے کر ٹیٹس رومی کے بیت المقدس کو فتح کرنے تک) مگر وہ فاصلہ جو یہ اپنی طرف سے مورت کی ٹانگوں اور پیروں کے درمیان فرض کر رہے ہیں دو ہزار سال بنتے ہیں!!!

مصیبت یہ ہے کہ دو ہزار سال گزر جانے کے بعد بھی ابھی یہ فاصلہ ختم کب ہوا ہے۔ یہ تو بدستور بڑھتا چلا جا رہا ہے اور قیامت تک بڑھتا چلا جائے گا۔ ذرا اُنکی اس عجیب وغریب مورت کا تصور تو کریں جس کے دھڑ کا اپنے پیروں سے فاصلہ روزانہ بڑھ جاتا ہے!!!

اس تصو یر کو تو عقل ہی تسلیم نہیں کرتی کوئی ماہر فنکار اس کی داد کیسے دے سکتا ہے اور کسی دیکھنے والے سے اسکے لئے یہ کسی ستائش کی کیونکر کوئی توقع کر سکتے ہیں!

اب یہ تو ہم معلوم کر چکے کہ وہ اصل بات کیا ہے جس سے بچنے کی خاطر انہوں نے تاریخ کے تسلسل میں اس خلا کے رہ جانے کا یہ مفروضہ قائم کیا۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ اس خلا کو انہوں نے پھر پر کس طرح کیا؟

اس مقصد کیلئے ان کو ایک اور مورت سے کچھ عجیب وغریب ”سپیئر پارٹس“ چرانے پڑے۔ ایک اور تصویر سے یہ ٹکڑے لے کر انہوں نے اس تصویر پر چسپاں کر دیا!!

یہ جعل سازی کامیاب تو خیر کیونکر ہو سکتی تھی مگر بلاشبہ اس نے تصویر کو دھندلا ضرور کر دیا۔ اس دھندلاہٹ کو ہٹا کر تصویر کا چہرہ صاف کرنا نہایت ضروری معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے دیکھا کہ دانیال کا ایک اور مکاشفہ بھی پایا جاتا ہے۔ یا یوں کہنا درست ہو گا کہ صحیفہءدانیال کے ساتویں باب میں ایک خواب ہے۔ یہ چار جانوروں سے متعلق خواب ہے۔ انہوں نے وہاں سے چوتھے جانور کو چرایا اور یہاں اس مورت کے ٹخنوں میں فٹ کر دیا۔ اس سے ہمیں (پیٹڈومين) والے من گھڑت انسان کا مشہور سائنسی فراڈ یاد آجاتا ہے جو کہ ڈارون کے پیروکار بعض سائنسدانوں نے دنیا کے ساتھ کھیلا تھا۔ جس میں انہوں نے اپنے ارتقائی مفروضات کی ایک گمشدہ کڑی اپنے پاس سے ملانے کی کوشش کی اور اس مقصد کیلئے انہوں نے ایک ایسا انسانی ڈھانچہ متعارف کرایا جس میں باقی اعضا بندر کے تھے مگر ایک انسانی کھوپڑی انہوں نے خود اس میں فٹ کر دی تھی!!

مگر اِس میں اور اُس میں فرق یہ ہے کہ دین میں خیانت کسی اور معاملے میں خیانت سے کہیں بڑا جرم ہے!!

اس دوسرے مکاشفے کی رو سے:

”دانیال نے یوں کہا کہ میں نے رات کو ایک رئویا دیکھی اور کیا دیکھتا ہوں کہ آسمان کی چاروں ہوائیں سمندر پر زور سے چلیں اور سمندر سے چار بڑے حیوان جو ایک دوسرے سے مختلف تھے نکلے پہلا شیر ببر کی ماننے تھا اور عقاب کے سے بازو رکھتا تھا اور میں دیکھتا رہا جب تک اس کے پر اکھاڑے گئے اور وہ زمین سے اٹھایا گیا اور آدمی کی طرح پائوں پر کھڑا کیا گیا اور انسان کا دل اسے دیا گیا۔ اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک دوسرا حیوان ریچھ کی مانند ہے اور وہ ایک طرف سیدھا کھڑا ہوا اور اس کے منہ میں اس کے دانتوں کے درمیان تین پسلیاں تھیں۔ اور انہوں نے اسے کہا کہ اٹھ اور کثرت سے گوشت کھا۔ پھر میں نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک اور حیوان تیندوے کی مانند اٹھا جس کی پیٹھ پر پرندے کے سے چار بازو تھے اور اس حیوان کے چار سر تھے اور سلطنت اسے دی گئی۔ پھر میں نے رات کو رؤیا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ چوتھا حیوان ہولناک اور ہیبت ناک اور نہایت زبردست ہے اور اس کے دانت لوہے کے اور بڑے بڑے تھے۔ وہ نگل جاتا اور ٹکڑے ٹکڑے کرتا تھا اور جو کچھ باقی بچتا اس کو پائوں سے لتاڑتا تھا اور یہ ان سب پہلے حیوانوں سے مختلف تھا اور اس کے دس سینگ تھے میں نے ان سینگوں پر غور سے نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے درمیان سے ایک اور چھوٹا سا سینگ نکلا جس کے آگے پہلوں میں سے تین سینگ جڑ سے اکھاڑے گئے اور کیا دیکھتا ہوں کہ اس سینگ میں انسان کی سی آنکھیں ہیں اور ایک منہ ہے جس سے کفر والحاد (گھمنڈ) کی باتیں نکلتی ہیں۔

”میرے دیکھتے ہوئے تخت لگائے گئے اور قدیم الایام بیٹھ گیا۔ اس کا لباس برف سا سفید تھا اور اس کے سر کے بال خالص اون کی مانند تھے۔ اس کا تخت آگ کے شعلہ کی مانند تھا اور اس کے پہیے جلتی آگ کی مانند تھے۔ اس کے حضور سے ایک آتشی دریا جاری تھا۔ ہزاروں ہزار اس کی خدمت میں حاضر تھے اور لاکھوں لاکھ اس کے حضور کھڑے تھے۔ عدالت ہو رہی تھی اور کتابیں کھلی تھیں۔ میں دیکھ ہی رہا تھا کہ اس سینگ کی کفر والحاد (گھمنڈ) کی باتوں کی آواز کے سبب سے میرے دیکھتے ہوئے وہ حیوان مارا گیا اور اس کا بدن ہلاک کرکے شعلہ زن آگ میں ڈالا گیا۔ اور باقی حیوانوں کی سلطنت بھی ان سے لے لی گئی لیکن وہ ایک زمانہ اور ایک دور زندہ رہے“۔

(صحیفہ دانیال۔ باب ہفتم ٢....٢١)

دانیال کی اپنی ہی روایت نے یہ واضح کر دیا کہ یہ چوتھا حیوان چوتھی مملکت ہے جو زمین پر اقتدار پائے گی۔ باقی تینوں مملکتوں سے مختلف ہو گی زمین کے وسائل کو کھائے گی بھی اور پائوں سے لتاڑے گی بھی۔ اسی باب میں آگے چل کر اس کے دس سینگوں کی تفسیر ___دانیال کی اپنی ہی زبان سے___ دس بادشاہوں کی صورت میں ہوتی ہے چنانچہ دانیال کے الفاظ ہیں: ”اور وہ دس سینگ دس بادشاہ ہیں جو اس سلطنت میں برپا ہونگے اور ان کے بعد ایک اور برپا ہو گا اور وہ پہلوں سے مختلف ہو گا اور تین بادشاہوں کو زیر کرے گا اور وہ حق تعالیٰ کے خلاف باتیں کرے گا“۔ (صحیفہ دانیال باب ہفتم ٢:٢٤، ٢٥)

اور پھر صحیفہ دانیال کی اس سے اگلی آیت میں یہ ہے کہ اس حیوان کا اقتدار آخرکار ’حق تعالیٰ کے قدوسوں‘ کے ہاتھوں ختم ہوگا۔ جن کے بارے میں خود اسی رئویا میں بار بار یہ ذکر ہوا ہے کہ انجام کار معاملہ انہی کے ہاتھ میں آرہے گا اور یہ کہ ان کی ایسی مملکت قائم ہو گی جو کبھی صفحہ ہستی سے روپوش نہ ہوگی۔

اب چونکہ اس پیشین گوئی میں چوتھے حیوان کے لوہے کے دانت ہیں اور پچھلی پیشین گوئی میں جس چوتھی مملکت کا ذکر ہوا تھا (پیر اور ٹانگیں) وہ لوہے کی بیان کی گئی تھی .... سو اس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ چوتھی مملکت دراصل چوتھا حیوان ہی ہے۔ آخر یہ دونوں چیزیں ___الگ الگ پیشین گوئیوں میں___ اپنی ترتیب کے لحاظ سے ’چوتھے‘ نمر پر جو آرہی ہیں!! اس بنا پر انہوں نے یہ رائے قائم کی یہ مملکت رمزی طور پر یورپ کیلئے ذکر ہوئی ہے جس کی دس قومی ریاستیں (نيشن اسٹیٹس) ہونگی اور جس کے آگے ___نزول مسیح سے پیشتر___ پوری دنیا سرنگوں ہوگی!

اب اس تفسیر کی رو سے پانچویں مملکت ’ہزار سالہ دور خوش بختی‘ (مقدس میلینیم) قرار پائے گا جس میں مسیح کا نزول ہوگا۔

اس رائے کا بطلان واضح کرنا بہت آسان ہے اور متعدد پہلوئوں سے اس کا رد ہوتا ہے:

١) چوتھے حیوان کی اگر یہی تعبیر ہے تو آخر پہلے تین حیوانوں کی آپ کیا تعبیر کریں گے؟ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس کی یہ جو کوئی بھی تعبیر کریں وہ دانیال کی اپنی تفسیر سے متصادم ہونے کی صورت میں درست نہیں ہو سکتی جو کہ صحیفہءدانیال میں اس کی اپنی ہی زبان سے کر دی گئی ہے۔ آخر یہ کیسے ہو گیا کہ پے درپے کی تین قدیم سلطنتیں (بابل، فارس، یونان) آپ مورت والی پیشین گوئی سے لیں اور صرف ایک چوتھی سلطنت کیلئے آپ حیوانات والی پیشین گوئی کو لیں اور اس سے آپ جدید یورپ کو ثابت کر دیں! ان دونوں میں جو فاصلہ اور جو تناقض ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ عقل اور منطق کا تقاضا ہے کہ یا تو آپ ایک پیشین گوئی کو دوسری پیشین گوئی پر پوری کی پوری منطبق کریں اور یا پھر آپ ان دونوں کو الگ الگ پیشین گوئیاں قرار دیں۔ ہماری رائے میں بھی یہ موخر الذکر صورت ہی صحیح ہے۔ یعنی یہ دونوں الگ الگ پیشین گوئیاں ہیں۔

٢) حیوانات والی پیشین گوئی میں سب حیوان پاس پاس دکھائی دیتے ہیں جن پر چوتھا حیوان یکایک غالب ہو جاتا ہے۔ مگر مورت والی پیشین گوئی میں ایک مملکت دوسری مملکت کے بعد ایک تسلسل کے ساتھ آتی ہے اور ہر بعد میں آنے والی سلطنت پہلی سلطنت پر غالب آجاتی ہے۔

٣) دوسری پیشین گوئی کے چاروں حیوان سمندر (بحر محیط) سے نمودار ہوتے ہیں۔ جبکہ پہلی پیشین گوئی کی چاروں سلطنتیں مشرق میں قائم ہوتی ہیں جبکہ پانچویں (دولت اسلامی) اسی خطے میں قائم ہوتی ہے اور پھرمشرق تا مغرب ہر طرف پھیل جاتی یہاں تک کہ مغلوں اور ترکوں کے دور میں شمالی یورپ تک چلی جاتی ہے اور پورا مشرقی یورپ اس کے زیرنگیں آجاتا ہے۔

٤) دوسری پیشین گوئی کے تینوں حیوانات پر چوتھا حیوان غالب ضرور آجاتا ہے مگر یہ تین حیوان بدستور باقی رہتے ہیں۔ مگر پہلی پیشین گوئی کی تینوں سلطنتیں ختم ہو کر مرکھپ جاتی ہیں۔

٥) ان کی دوسری پیشین گوئی کی تفسیر فی نفسہ باطل ہے۔ کیونکہ یہ پیش گوئی (صحیفہ دانیال کی نصوص میں) خود کہتی ہے کہ وہ جانور جو تینوں جانوروں پر غالب آجاتا ہے اس کے دس سینگوں کی تفسیر یہ ہے کہ اس مملکت کے دس بادشاہ ہونگے۔ اب ان کا یہ تفسیر کرنا کہ یہ دس مملکتیں ہیں جو ایک ساتھ پائی جاتی ہیں خودبخود باطل ٹھہرتا ہے۔

چنانچہ اس بنا پر غالب آنے والے جانور کے دس سینگوں کی یہ تفسیر کرنا کہ یہ نپولین دور کے یورپی اتحاد کی دس ریاستیں ہیں (جیسا کہ ٹى بى بيٹس اپنی مذکورہ کتاب کے صفحہ ٢٥١ پر ذکر کرتا ہے) یا یہ کہ یہ آج کا یورپی اتحاد ہے۔ جیسا کہ ہمارے بعض معاصرین کا خیال ہے، نہ تو پیشین گوئی کی تفسیر کے لحاظ سے درست ہے اور نہ بطور واقعہ۔ یہ بات دونوں پیشین گوئیوں سے میل نہیں رکھتی اور یہ واقعہ کے بھی خلاف ہے۔واقعہ سے اس کی دلیل یہ ہے کہ امریکہ اکیلا اس پورے یورپی اتحاد سے بدرجہا طاقتور ہے (جب کہ پیشین گوئی کی رو سے اس کو طاقتور ترین ہونا چاہئے)۔ پھر دوسری بات یہ کہ یورپی اتحاد اب دس ریاستوں پر مشتمل رہا بھی نہیں بلکہ اس میں شامل یورپی ملکوں کی تعداد اب کہیں بڑھ گئی ہے۔

ہمیں ضرورت نہیں کہ ہم اس خواب کی تفصیل میں جائیں اور اس پر زیادہ بحث کریں۔ نہ ہی یہ ہمارا دردسر ہے۔ تاہم اس پیشین گوئی کے معمے کو حل کرنے میں ہم ان کی مدد ضرور کر سکتے ہیں۔

کیا خیال ہے دانیال کی اس پیشین گوئی میں مذکور چار حیوانات جو کہ سمندر سے نمودار ہونگے کی تفسیر یوں کی جائے:

پہلا جانور جو سمندر پار سے نمودار ہوا شیر نما تھا۔ یہ برطانیہ ہو سکتا ہے۔

دوسرا جانور جو دانیال نے دیکھا کہ ریچھ کی مانند ہے، یہ کمیونسٹ روس ہو سکتا ہے۔

رہا تیسرا جانور جو اس نے دیکھا کہ ”تیندوے کی مانند اٹھا جس کی پیٹھ پر پرندے کے سے چار بازو تھے اور اس حیوان کے چار سر تھے“ تو یہ آس پاس کے جغرافیائی طور پر چار ملے ہوئے استعماری ملک ہو سکتے ہیں جو کہ آپس میں پڑوسی ہیں اور سب کے سب کیتھولک یعنی: فرانس، اٹلی، سپین اور پرتگال۔ یا اگر یہ چاہیں تو اس کا اطلاق (چار بازو اور چار سر) ایشین ٹائیگرز پر کر لیں جن کی تعداد آٹھ بنتی ہے۔

رہا وہ چوتھا جانور جو پہلے تینوں جانور پر غالب آیا اور ان کو لتاڑا (جبکہ وہ تینوں بھی باقی ضرور رہے) تو وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ  ہو سکتا ہے یا پھر عمومی طور پر امریکی سربراہی میں قائم ناٹو ۔

رہے وہ قدوسی جو اس چوتھے جانور کا سر کچلیں گے تو اس کی تفسیر کرنے کی ضرورت نہیں اس کا صرف انتظار کرنے کی ضرورت ہے!

اب ہم اہل کتاب کے بنیاد پرستوں سے کہیں گے:

اگر آپ کو ہماری ہی کی ہوئی یہ تعبیر پسند آئے تو اس کو قبول فرمائیں اور پھر یہ بحث ختم۔ اور اگر آپ اسے مسترد کرتے ہیں اور آپ کا خیال ہے کہ یہ تو محض ظن وتخمین ہے تو ہم تسلیم کریں گے کہ یہ واقعی ظن وتخمین ہے مگر سوال یہ ہے کہ کس کا ظن وتخمین صحیح ہے ہمارا یا تمہارا؟ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ تمہارا لگایا ہوا تخمینہ تو یقین اور ایمان کہلائے اور ہمارا تخمینہ محض وہم؟؟!

اس موضوع پر یقین پر مبنی کم از کم دو باتیں ہمیں ضرور معلوم ہیں:

١) ایک یہ کہ روم کو ہمارے نبی نے ”ذات قرون“ کہا ہے۔ یعنی یہ کہ روم کے بہت سینگ ہونگے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے:

فارس نطحہ او نطحتان ثم یفتحھا اللّٰہ، ولکن الروم ذات القرون کلما ھلک قرن قام قرن آخر[اخرجہ ابن ابی شیبہ فی المصنف: (٤:٢٠٦) والحارث ابن ابی اسامہ کما فی روائد الھیثمی (٢:٧١٣) العیم ابن حماد فی ”الفتن“ (٢:٤٧٩)]

”فارس بس ایک یا دو ٹکر کر مار ہے۔ پھر اللہ اسے فتح کروا دے گا۔ البتہ روم کے بہت سینگ ہوں گے۔ اس کا ایک سینگ تباہ ہو گا تو ایک دوسرا سینگ ابھر آئے گا“۔

٢) دوسری بات یہ کہ روم کے ساتھ ہماری جیت ہار چلتی رہے گی تاآنکہ آخری دور میں روم مکمل طور پر مفتوح ہو گا اور تب عیسی کا نزول بھی ہو جائے گا۔ ایسا بالفعل کب ہوتا ہے، اِس کا علم البتہ صرف اللہ کے پاس ہے۔ اس حدیث کی رو سے روم کے کتنے سینگ ہونگے صرف اللہ کے علم میں ہے۔ لہٰذا دانیال کی پیشین گوئی میں سینگوں کی تعداد دس بتائی جانا ہو سکتا ہے کوئی خاص مفہوم نہ رکھتا ہو بلکہ یہ محض رمز ہو (اور بہت زیادہ تعداد کیلئے دس کا الفاظ بولا گیا ہو) یہ بات کہ دس کا عدد محض رمزیہ طور پر (دانیال کی پیشین گوئی میں) استعمال ہوا ہو گا ہم محض ویسے نہیں کہ رہے بلکہ ان کے ہاں کتاب مقدس کی تفسیر میں یہ ایک باقاعدہ مذہب پایا جاتا ہے کہ اعداد کو ظاہری معنی میں نہ لیا جائے بلکہ ان کو رموز پر محمول کیا جائے.... یہ توجیہہ بھی اس صورت میں ہو گی اگر ہم اس امکان کو خارج کر دیں کہ پیشین گوئی کی نص میں کوئی تحریف یا اضافہ نہیں کیا گیا۔

بہرحال ہمارے خیال میں یہ پیشین گوئی یا اس پر پایا جانے والا اختلاف تو ان بنیاد پرست اہل کتاب کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں اور نہ اس میں ان کے لئے کوئی چونکا دینے والی بات ہے، الا یہ کہ یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ آخر وہ چھوٹا سینگ کونسا ہے جس کے بارے میں پیشین گوئی کہتی ہے ہ وہ الحاد اور کفر بکے گا؟

ان میں سے ایک گروہ کا کہنا تو یہ ہے کہ اس سے مراد دولتِ اسلام ہے! اور یہ کہ ’کفر والحاد بکنے‘ سے مراد مسلمانوں کا مسیح کی الوھیت ماننے سے انکار ہے!!

یہ بات یوں بھی بہت عجیب ہے۔ اسلام کا نصف کرہ ارض پر پھیلا ہوا اور صدیوں پر محیط اقتدار (جو کہ درحقیقت پہلی پیشین گوئی کی رو سے پانچویں مملکت بنتی ہے) بھلا ایک ’چھوٹا سا‘ سینگ کیسے کہلا سکتا ہے وہ بھی جا کر چار حیوانوں میں سے چوتھے حیوان کے سر پر اور وہ بھی اس طرح کہ اس حیوان کے سر پر اس سے کہیں بڑے بڑے دس سینگ اور ہیں اور یہ ان کے مقابلے میں چھوٹا سا سینگ ہے!!

یہ کیسے کہ امت اسلامیہ جس میں عرب، فارس، ترک، بربر، حبش، ہند اور تاتار وغیرہ وغیرہ سب اقوام شامل رہیں وہ سب کی سب مل کر روم کا ایک سینگ نہیں بلکہ وہ بھی ایک بہت چھوٹا سا سینگ!!!

کیا اس کو علمی تحقیق کہتے ہیں!؟ جھوٹ کا پول کھولنا مقصد نہ ہو تو یہ بے ہودہ استدلال ایک نگاہ غلط انداز کا بھی مستحق نہیں۔ خصوصاً اس لئے بھی کہ دانیال کی اس پیشین گوئی کا مسیح کی الوہیت سے دور نزدیک کا کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کے برعکس دانیال کا صحیفہ پورا کا پورا توحید سے بھرا ہوا ہے۔

ان میں سے ایک گروہ نے یہ رائے اختیار کی یہ ’چھوٹا سینگ‘ دراصل وہ درندہ ہے جو یوحنا عارف کے مکاشفے (بائبل کے ............ جدید کے بالکل آخر میں) میں پایا جاتا ہے!!

اب یہاں ہمیں قاری سے معذرت کرنی پڑے گی کیونکہ ہم ان کے اس چڑیا گھر پر مزید وقت صرف نہیں کر سکتے۔ کسی کو یہ گمان نہ ہو کہ ہم ان کے پیچھے چلتے ہوئے اب ’یوحنا راہب کے مکاشفے‘ پر مبنی جانوروں کی طویل اور خوفناک فلم دکھانے لگیں گے!!

بس ہم قاری سے صرف اتنی درخواست کریں گے کہ اس فلم میں سے صرف ایک جھلکی پر جو کہ ’درندے‘ پر مبنی ہے ہمارے ساتھ ذرا نظر مارتا چلے جو کہ چند سیکنڈوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ یہ بھی اس لئے کہ اسے اندازہ ہو کہ یہ لوگ اس موضوع پر اپنا کس قدر وقت برباد کرتے ہیںاور اس موضوع پر لکھی جانے والی کتب ان کے ہاں امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔

جب ایسا ہے تو پھر کیا حرج ہے کہ اس موضوع پر ہم اپنے چند منٹ یا چند صفحات صرف کر لیں اور ان کو حقیقت کی جانب پلٹ آنے میں مدد دیں اور ان کو ان ناپیدا کنار بحثوں میں پڑے رہنے سے چھٹکارا دلا دیں اور خود ہمیں اس بات کا یہ فائدہ ہو کہ ہمیں اپنے دین کی حقانیت پر جو یقین حاصل ہے اس پر خدا کا شکر کر سکیں۔

یوحنا عارف کے مکاشفے میں آتا ہے:

”اور سمندر کی ریت پر جا کھڑا ہوا۔ اور میں نے ایک حیوان کو سمندر میں سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ اس کے دس سینگ اور سات سر تھے۔ اور اس کے سینگوں پر دس تاج اور اس کے سروں پر کفر کے نام لکھے ہوئے تھے (یعنی کفر والحاد تھا) اور جو حیوان میں نے دیکھا اس کی شکل تیندوے کی سی تھی اور پائوں ریچھ کے سے اور منہ ببر کا سا۔ اور اس اژدھا نے اپنی قدرت اور اپنا تخت اور بڑا اختیار اسے دیا۔ اور میں نے اس کے سروں میں سے ایک پر گویا زخم کاری لگا ہوا دیکھا مگر اس کا زخم کاری اچھا ہو گیا اور ساری دنیا تعجب کرتی ہوئی اس حیوان کے پیچھے پیچھے ہولی۔

(مکاشفہ یوحنا عارف باب ٣١:١۔٣)

یوحنا راہب کے مکاشفے والے اس صحیفے کا سب سے اچھا مفسر ٹي بي بيٹس پایا گیا۔ اس نے اس ’درندے‘ کی جو تفسیر کی بس قریب تھا کہ وہ حقیقت کے عین اوپر انگلی رکھ دے اور اپنی قوم کو اس ’چھوٹے کفر بکنے والے سینگ‘ کی حقیقت سے خبردار کرے، جو کہ روم کے سینگوں میں سے نمودار ہوگا۔ مگر بيٹسحقیقت کے عین قریب پہنچ کر پھر سرے نہ پہنچ سکا۔ اس کے ایسا نہ کر سکنے کے متعدد اسباب ہیں:

پہلا سبب وہی ہے جو ان کے دوسرے محققین کی بھی راہ روکے کھڑا ہے اور وہ یہ کہ ان کے مذہبی صحیفوں میں حق اور باطل بری طرح غلط ملط ہے جس کے باعث ان کے کسی محقق کیلئے یہ آسان نہیں کہ وہ ان صحیفوں کے تحریف زدہ حصوں کی اس باقی عبارت سے تمییز کر سکے جو اپنی اصل پر قائم ہے۔ نہ تو ان اضافوں کو الگ چھانٹ دینا ان کے لئے آسان ہے جو گاہے بگاہے کئے جاتے رہے اور نہ ہی ان عبارتوں کو کہیں سے ڈھونڈ نکالنا کسی کے بس کی بات ہے جو حذف کی جاتی رہیں۔

دوسرا سبب بيٹس کے حقیقت تک نہ پہنچ سکنے کا دوسرا بڑا سبب وہی ہے جو اس کے علاوہ اس کے اور بہت سے ہم مذہبوں کو درپیش ہے۔ اور وہ یہ کہ یہ اپنی کتابوں کی سب کی سب پیشین گوئیوں کو صرف مسیح کی آمد ثانی کے دور پر ہی فٹ کرنا چاہتے ہیں اور اسلام کے طویل دور اقتدار کو اور دنیا پر اسلامی تہذیب کے راج کو ___بطور آسمانی مذہب___ درمیان سے نظر انداز ہی کر جاتے ہیں بلکہ یہ اس کو یوں بھول جاتے ہیں جیسے کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔

تیسرا سبب بيٹس کے ساتھ خاص ہے اور وہ یہ کہ بيٹس اسرائیل (بربادی کا پیش خیمہ) کے قیام سے بہت پہلے وفات پا چکا تھا۔ لہٰذا اس کیلئے ممکن نہ تھا کہ وہ ان واقعات کی پوری دقت کے ساتھ تفسیر کرسکے۔

مگر چونکہ بيٹس کی تفسیر واقعتا زبردست قسم کے امتیازی خصائص رکھتی ہے لہٰذا ہم اس کو ایک ایسے نمونے کے طور پر پیش کریں گے جس سے یہ اہل کتاب ’مقدس‘ پیشین گوئیوں کی تفسیر میں اپنے منہج کی تصحیح کر سکتے ہیں۔

بيٹس یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ یوحنا عارف کے مکاشفے میں مذکور ’درندہ‘ اور دانیال کے صحیفے میں مذکور ’چھوٹا سینگ‘ ایک ہی چیز ہے (جبکہ واضح رہے کہ یوحنا کے مکاشفے میں ایک نہیں دو جانوروں کا ذکر آتا ہے) اور یہ کہ اس سے مراد وہ نئی شکل ہے جو سلطنت روما نزول مسیح سے پہلے اختیار کرے گی اور دنیا کو حیران کر دے گی۔ تب مسیح ___اس کے بقول___وہ آخری مملکت قائم کریں گے جو ابدی ہو گی۔

بيٹس نے جب یہ دیکھا کہ درمیان میں یہ فاصلہ بہت زیادہ ہے اور اس میں کئی صدیاں پڑتی ہیں اور اتنا زیادہ زمانی فاصلہ محض دس بادشاہوں سے پورا نہیں ہوتا چاہے ان میں کا ایک ایک بادشاہ ایک ایک صدی حکومت کرتا رہے تو اس کو ایک نئی تاویل کرنی پڑی اور وہ یہ کہ دانیال نے اپنی پیشین گوئی میں دس سینگوں کی خود ہی دس بادشاہوں سے جو تفسیر کی ہے اس سے مراد بادشاہ نہیں! بلکہ اس سے مراد نظام اقتدار ہے مثلاً شہنشاہی نظام اقتدار اور جمہوری نظام اقتدار وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ اس کے بقول دس بادشاہوں سے مراد دس نظام ہائے حکومت ہیں چاہے ایک نظام حکومت میں کئی سارے بادشاہ یا حکمران پائے جائیں۔ مگر بيٹس نے ہمیں یہ سب کی سب دس شکلیں نہیں بتائیں جو رومی اقتدار اختیار کرے گا۔ چھٹی شکل وہ شہنشاہت بتاتا ہے اور یہ کہ ساتویں شکل ابھی ظاہر ہونی ہے۔ اس کے خیال میں رومی اقتدار کی آٹھویں ___جو کہ اس کے خیال میں آخری ہوگی___ حکومت ’درندے‘ کی ہوگی جو کہ دراصل ’چھوٹا سینگ‘ ہے۔ (دیکھئے بيٹس کی کتاب صفحہ ١٨٦)

پہلی بار ایسا ہوا ___اور ایسا شاذ ونادر ہی ہوتا ہے___ کہ ان لوگوں کی تفسیرات میں ___جن کی طوالت کا عموماً کوئی حد حساب نہیں ہوتا___ آپ اتنی زبردست اور معقول گفتگو پائیں جس کو دیکھنے سے پہلی نظر یہ شبہ ہوتا ہے گویا فقہاءاسلام گفتگو کر رہے ہیں۔ بيٹس لکھتا ہے:

”ہمیں مکاشفہءیوحنا کے اس درندے اور صحفیہءدانیال کے چھوٹے سینگ میں ایک وجہ مماثلت نظر آتی ہے اور وہ یوں کہ:

”چھوٹا سینگ قدوسیوں سے جنگ کرتا ہے اوران پر غلبہ پاتا ہے“ (دانیال ٧:٢١) جبکہ درندے کو بھی قدوسیوں سے جنگ کرنے دی جاتی ہے اور وہ ان پر غلبہ پاتا ہے“۔ (مکاشفہ یوحنا ١٣:٧)

”پھر (دانیال میں) چھوٹا سینگ خدا تعالیٰ کے خلاف بکتا ہے (٧:٢٥) اسی طرح (یوحنا میں) درندہ اپنے منہ سے خدا کے خلاف کفر والحاد کے لفظ نکالتا ہے۔ (١٣:٦)

”پھر (دانیال میں) چھوٹے سینگ کا اقتدار ”ایک دور اور دوروں اور نیم دور“ تک باقی رہے گا (دیکھیے دانیال ٧:٢٥) اسی طرح (یوحنا میں) درندے کا اقتدار بیالیس مہینوں تک رہے گا (دیکھیے مکاشفہءیوحنا ١٣:٥) اور یہ اتنی ہی مدت بنتی ہے جو کہ صحیفہ دانیال میں ہے اگرچہ لفظ واصطلاح کا فرق ہے“۔

(دیکھیے Bates کی کتاب ١٨٩۔١٩٠)

یہاں ہم ذرا رکیں گے۔ کیونکہ ان لوگوں کی بات میں تعارض پایا جانا اور اس سے عقل کا دنگ رہ جانا ایک معمول کی بات ہے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ رومی سلطنت میں مرحلہ وار دس نظام اقتدار آئیں اور ایک ایک نظام اقتدار میں کئی کئی بادشاہ یا حکمران حکومت کرکے جائیں اور اس کا یہ سارا دور اقتدار بس اتنی سی مدت بنے؟ پھر بيٹس ایک رائے پر بھی نہیں رہا کبھی وہ بادشاہ سے مراد شخصی حکمران لیتا ہے اور کبھی اسے وہ ایک طبقہ یا پارٹی قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر ہم دیکھیں گے۔

بہرحال ہم بيٹس کے ساتھ آگے چلتے ہیں۔بيٹس  کے نزدیک وہ کیا حالات و واقعات ہیں جو ’درندے‘ سے متعلق ہیں تاکہ ہم یہ معلوم کریں کہ دانیال میں ذکر ہونے والا یہ منحوس ’چھوٹا سینگ‘ کیا شے ہے۔  کچھ معاملات کابيٹس یوں فیصلہ کرتا ہے (خیال رہے بيٹس قیام اسرائیل سے بہت پہلے وفات پا چکا ہے):

١) یہ درندہ یروشلم میں ہو گا (دیکھیے اس کی کتاب کا صفحہ ١٩٣)

٢) وہ مزید کہتا ہے: ”یروشلم ہی وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے اردگرد یہ سب واقعات رونما ہونے والے ہیں جو یہاں رمزیہ انداز میں مذکور ہوئے ہیں“ (دیکھیے اس کی کتاب کا صفحہ ١٩٤)

(ہم قارئین کو یاد دلاتے چلیں کہ یہ اس وقت کی تحریر ہے جب بیت المقدس ان کے لحاظ سے ایک بھولا بسرا شہر تھا اور وہاں ان کے صرف سیاح اور زائرین جایا کرتے تھے)

٢) یہ درندہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا ہو گا مگر نہ تو اس کو یا ہو وہ یعنی امت کے خدا کا کوئی پاس ہو گا اور نہ ہی مسایا (مسیح موعود منتظر) جو کہ امت کی اصل امید ہے کا کوئی پاس ہو گا اور نہ ہی حتی کہ ان باطل خدائوں کا جن کی طرف اس امت کا کسی دور میں زیادہ میلان رہا ہے۔

٣) اس درندے کا جس کے ساتھ اتحاد ہو گا وہ سلطنت روما کی قیادت اور عالمی قوت اور طاقت کا مرکز ہو گا۔ (دیکھیے کتاب کا صفحہ ٢٠٠)

٤) Bates بڑے وثوق سے کہتا ہے کہ روما کا یہ سربراہ کوئی پرانے دور کا بادشاہ نہ ہو گا بلکہ یہ وہی ہو گا جو بربادی کے پیش خیمہ (رجستہ خراب)  کے وقت پایا جائیگا، جس کا کہ صحیفہ دانیال میں ذکر آتا ہے اور جس کا کہ خود مسیح نے بھی ایک بار ذکر کیا ہے۔ بيٹس مزید لکھتا ہے:

”خدا کے کلام ___مقدس کتاب___ میں متعدد مقامات سے یہ واضح ہے کہ اسباط عشرہ (یہود کے دس قبیلے) یروشلم میں اکٹھے ہوں گے۔ یہ ان کی خلاصی اور رہائی کے بعد ہو گا (یعنی نزول مسیح سے قبل) وہاں لوگ عظیم تنگ سالی کی آنچ سہیں گے، جبکہ اسرائیلی جو کہ مسیح کا انکار کرتے ہونگے اس سے پہلے ہی وہاں اکٹھے ہوئے ہوں گے“۔

(دیکھئے کتاب کا صفحہ ٢١٧)

بيٹس کی مراد ہے خدا کے غضب کے دن سے جو کہ اس منحوس دولت (بربادی کا پیش خیمہ) پر آئے گا اور جس کے بارے میں ہم اگلے باب میں الگ سے گفتگو کریں گے۔

ایک بار پھر یہ بتا دیا جانا ضروری ہے کہ Bates دولت اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے مر چکا ہے۔

٥) Bates کے نزدیک ’درندے‘ کی حکومت ملحد ہو گی اور مغربی طرز کی ہوگی۔ یہ کسی خدائی وحی پر چلنے والی نہ ہو گی۔ بلکہ یہ خود ہی اپنے دور میں الحاد اور فساد کا ایک بڑا سبب ہوگی۔ وہ لکھتا ہے:

"In Western Europe the chosen homeland of civilization, freedom, enlightenment and advancement, the result of the interaction of those human principles is the estabilshment of the government of the beast, the confluence of tyranny, oppression, misery and blasphemy". (P.238)

”مغربی یورپ میں، جو کہ تہذیب، آزادی، روشن خیالی اور ترقی کا چنیدہ وپسندیدہ وطن ہے ان انسان ساختہ اصولوں کے ساتھ تفاعل کا نتیجہ آخر میں اس درندے کی حکومت کا قیام ہو گا، جو کہ سرکشی، ظلم، بدبختی اور الحاد کا اصل سنگم ہوگی“۔

٦) درندے کی سرکردگی میں، Bates دانیال کی باقی پیشین گوئی پر چلتے ہوئے رائے اختیار کرتا ہے کہ:

"There will be a temporary union of allied governments".

(P.251)

”حلیف حکومتوں کا ایک وقتی اتحاد قائم ہوگا“۔

اور یہ اتحاد جسے جدید سلطنت روما قائم کرے گی، اس کا وصف Bates یوں بیان کرتا ہے:

"The ten kings who rule it will of one accord present their rule to the beast". (P.253)

”وہ دس کے دس بادشاہ جو اس کے فرمانروا ہونگے ایک ہی رائے اختیار کرتے ہوئے اس درندے کو اپنا اختیار دیں گے“۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ، بیٹس لکھتا ہے:

"It is not the beast who forces them to obey his order, but it is a voluntory action which they chose for themselves". (P.253)

”یہ درندہ نہ ہو گا جو ان کو مجبور کرے گا کہ وہ اس کا حکم مانیں بلکہ یہ ان (بادشاہوں) کا اپنا رضاکارانہ اقدام ہو گا جسے وہ ازخود اختیار کر لیں گے“۔

اسی طرح یہ بھی شرط نہیں کہ درندہ ___بطور بادشاہ___ خود ہی حکومت کرے بلکہ بقول Bates یہ حکومت:

"Through the medium of his influence on the councils and cabinets in the land of the old Roman Empire, or at least its western sector". (P.254)

”(یہ حکومت) اس اثر ورسوخ کے توسط سے ہو گی جو اسے ان کونسلوں اور مجلسوں پر حاصل ہوگا جو قدیم رومی سلطنت یا کم از کم اس کے مغربی حصے کی زمین پر قائم ہونگی“۔

(یہاں ہم یہ ذکر کرتے چلیں کہ Bates نے یہ سب کچھ اس وقت لکھا تھا جب ابھی نہ اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا اور نہ ہی صہیونی قوت کو ابھی مغربی سیاست پر عموماً اور امریکی سیاست پر خصوصاً ابھی کوئی اقتدار ملا تھا)!!

٧) درندے اور اس کے دشمن میں لڑائی ہونے کے بارے میں Bates لکھتا ہے:

"The alliance between the Roman Empire and the unbelieving Jews does not prevent the attack of the army of the North, which because of the idolatrons worship in Jerusalem at the time, will overcome them like a torrential flood, and bring out the ruin of the land". (P.241)

”رومی حکمران اور بے دین یہودیوں کے درمیان یہ اتحاد شمال کے لشکر کو حملہ آور ہونے سے نہ روک سکے گا۔ جو کہ ___اس مشرکانہ عبادت کے سبب جو اس وقت یروشلم میں ہو رہی ہوگی___ ان لوگوں کو ایک زوردار سیلاب کی طرح آلے گا اور اس سرزمین پر تباہی لے آئے گا“۔

٨) اس شمال کے لشکر کی تفسیر کرتے ہوئے Bates لکھتا ہے:

"The rulers of the East will gather their forces in order to attack the borders of the beast`s kingdoms, and from the other side, the beast will gather his foces in agreement with the kings of the West, and will advance towards the ominous battle of Armageddon.

(P.240)

”مشرق کے حکمران اپنی فوجیں جمع کریں گے تاکہ درندے کی قلمرو کی سرحدوں پر حملہ آور ہوں۔ دوسری طرف درندہ مغرب کے بادشاہوں کے ساتھ مل کر اپنی فوجیں جمع کرے گا اور ہر مجدون (آخری زمانے کی جنگیں) کے منحوس معرکے کی طرف بڑھے گا“۔

٩) آخر میں Bates ہمیں اس جنگ کا نتیجہ بھی سناتا ہے:

"Little did the beast and his sinful assistants dream that they would be taken away as prisoners from the battle field towards which they had rushed and that they would be cast alive into the torments of the lake of eternal fire, and little did the suffering saints in hiding in the mountains and caves, dare to hope that they would raise their heads up at the end of the matter".

”کم ہی کبھی درندے اور اس کے مددگاروں کے خواب وخیال میں آیا ہو گا کہ میدان جنگ سے ان کو قیدی بنا کر اس انجام کی طرف لے جایا جائیگا جس کی طرف وہ بھاگ بھاگ کر جا رہے تھے اور یہ کہ ان دونوں کو ابدی آتش کی جھیل میں عذاب سہنے کو زندہ ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ قدوسی جو پریشانیوں میں مبتلا پہاڑوں اور غاروں میں چھپتے رہے، خود ان قدوسیوں نے بھی کم ہی کبھی سوچا ہو گا کہ آخرکار وہ بھی کسی دن سر اٹھائیں گے“!!!

اب جبکہ ہم اس ’درندے‘ کو پہچان گئے ہیں سوال کریں گے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ یہ انجام صرف ہر مجدون (آخری زمانے کی جنگیں) کے وقت ہو اور صرف مسیح کے ہاتھوں واقع ہو؟

یہ فرض کر لینا وہ مشترک غلطی ہے جو یہ لوگ بھی کرتے ہیں اور ہمارے بعض مسلم محققین بھی۔ البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ یہ (اہل کتاب) تو خیر عقل ومنطق اور تاریخ میں جاری اللہ کی سنتوں کو کسی حساب میں ہی نہیں لاتے۔ رہے مسلمان تو وہ ان واقعات کی تفسیر کیلئے خدا کی طبعی سنتوں کے متلاشی رہتے ہیں۔ نصوص کی موجودگی میں ایک مسلمان کی غلطی کرنا ایسا ہی جیسے دن میں راہ بھول جانا۔ رہے یہ لوگ تو ان کو تو چلنا ہی اندھیروں میں ہے سوائے اس کے تحریفات کے اندر سے حق کی کچھ روشنی بھی ان کو مل جائے۔

ہم پیچھے کہ چکے ہیں کہ  Bates قریب تھا کہ انگلی عین حقیقت کے اوپر رکھ دیتا۔ اب ہم  Bates کے قارئین کی عین حقیقت تک جا پہنچنے میں مدد کرنے کیلئے کے صفحہ ٢١٣ پر لکھی ہوئی تحریر کا اختصار کریں گے۔ اس سے ہم صرف وہ عیسائی باتیں نکالیں گے جو وہ نزول مسیح کے حوالے سے کرتا ہے۔ ہم ان باتوں کو حذف کرتے ہوئے اس کو ایک سیدھی سیدھی عبارت کی صورت میں لکھیں گے۔ چنانچہ عیسائیت کی یہ خاص باتیں ہم اس کے کلام سے نکال دیں تو ہم اس کی ان باتوں کو یوں پڑھیں گے:

”رومی سلطنت کو وجود نو مل جائے گا .... یہودی بلاک یروشلم میں واپس آجائے گا جو کہ غالب طور پر ایمان سے خارج ہو گا (ہم کہیں گے غالب طور پر نہیں مطلق طور پر ایمان سے خارج ہو گا) .... اس دوران جبکہ وہ یروشلم میں ہونگے ایک بہت بڑی قوت اس یروشلم واپس آتی ہوئی قوم کیلئے خطرہ بن جائے گی، اس قوت کی خطرناکی سے بچنے کیلئے یہ یہودی بلاک .... ایک بڑے حکمران سے جو کہ سلطنت روما کا اس کے عہد جدید میں حکمران ہو گا، ایک معاہدہ کرے گی .... مگر اس کا سلطنت رومائے جدید کے سربراہ سے کیا جانے والا یہ معاہدہ ایک لشکر کے اس پر چڑھ آنے میں رکاوٹ نہ بن سکے گا .... جو کہ اس مشرکانہ عبادت کے سبب جو یروشلم میں اس وقت ہو رہی ہو گی، اس پر ایک طوفانی سیلاب کی طرح چڑھ آئے گا“۔

یہ ہے خلاصہ بیٹس کی کتاب کے صفحہ ٢١٤ کا۔

البتہ اگر ہم سے کہا جائے کہ ان کی کتب میں آنے والی ان پیشین گوئیوں کی ہم تفسیر کریں تو سادہ طور پر ہم یوں کہیں گے:

١) دولت اسرائیل وہ ’چھوٹا سینگ‘ ہے جو روم (یورپی ومغربی قومیں) کے ہاں سے برآمد ہوا ہے۔ جبکہ اس کے بڑے بڑے استعماری سینگ اور کئی ہیں۔ یہ سرزمین مقدس کو پلید کرنے کیلئے اس پر حملہ آور ہوا ہے۔

٢) ”درندہ‘ یا پھر ’دو درندے“ جو پیشین گوئی میں مذکور ہیں یہ صہیونیت ہے جس کے دراصل دو چہرے ہیں ایک یہودی اور دوسرا نصرانی۔

٣) یہودی عام طور پر اور صہیونی خاص طور پر دور حاضر میں زمین کے اندر الحاد اور فساد کے داعی بن کر اٹھے ہیں۔ بیشتر الحادی نظریات کے بانی انہی میں سے ہوئے ہیں مثال کے طور پر: مارکس، فرائد، ڈارکایم، فیتشہ، ارلر، مارکوس، ھسرل، شیلر، برکسٹن، مارٹن بوبر وغیرہ۔

٤) بیت المقدس (یروشلم) میں Abomination of desolation یعنی بربادی کے منحوس پیش خیمہ (رجسہ خراب) کا قیام دراصل یہود کا بیت المقدس پر قابض ہونا اور اسے اپنی دولت کا پایہ تخت بنانا ہے۔ اس پر ہم الگ بات میں ابھی گفتگو کرنے والے ہیں۔

٥) سلطنت رومائے جدید سے مراد ہے ریاستہائے متحدہ امریکہ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس لفظ کے تحت میں پورا مغرب آتا ہو۔ یہاں آکر ان کی کچھ دوسری پیشین گوئیوں میں مذکور ’جدید بابل‘ کے ساتھ ایک اور چیز شامل ہو جاتی ہے۔ یہ وہ ’اژدھا‘ ہے جو ”اپنی قدرت اور اپنا تخت اور بڑا اختیار“ اس درندے کو دیتا ہے!! آگے ’بربادی کا پیش خیمہ‘ والے باب میں ہم دیکھیں گے کہ ’خدا کے غضب کے دن‘ درندے کے ساتھ ہی اس اژدہا کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔

٦) شمال سے یا مشرق سے آنے والا لشکر مسلم مجاہدین ہیں۔ اس کی بھی کچھ تفصیل، ان کی پیشین گوئیوں کے ضمن میں، ہم اگلے باب میں ذکر کریں گے!!

اب اس کے بعد کہانی کا باقی ماندہ حصہ، حلیف ملکوں کا اتحاد، جنگ اور خدا کے غضب کا برسنا سمجھ آنا کچھ مشکل نہیں رہ جاتا!!!

تاہم یہاں ایک اور چیز کی طرف تھوڑا سا اشارہ کر دیا جانا بھی ضروری ہے جو کہ تقاضا کرتی ہے کہ Bates کی گفتگو کی کچھ تصحیح کر دی جائے۔ دراصل تثلیث نے ان لوگوں کا عقیدہ ہی خراب نہیں کیا ان کی عقول کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ اس وجہ سے اب ان کو تین اور ایک میں فرق نظر آنا کسی بھی وقت بند ہو جاتا ہے چنانچہ اپنی کتاب کے صفحہ ١١٢ پر یہ اپنی ہی کہی ہوئی ان سب باتوں کو بھول کر کہنے لگتا ہے کہ یہ تین اشخاص جن کو پیشین گوئیوں میں ’چھوٹا سینگ‘ اور ’درندہ‘ اور ’سلطنت کا رئیس‘ کہا گیا ہے سب کے سب دراصل ایک ہی شخص ہیں!!!

قصہ کوتاہ یہ کہ اس سیناریو میں، جو Bates کی ان پیشین گوئیوں کی تفسیر سے واضح ہوتا ہے، ہماری تفسیر سے کوئی جوہری فرق بہرحال نہیں آیا ہے۔ ہم نے اگر کچھ کیا ہے تو وہ یہی کہ ڈرامے میں کرداروں کے ذرا نام بدل دیئے ہیں!!

ڈرامے کا جو اصل پلاٹ ہے وہ ہے ”یہودیوں کا سرزمین مقدس میں بے دین و بے ایمان ہو کر لوٹنا“ بلکہ یوں کہیے ”یہودیوں کا سرزمین مقدس میں اپنے پرانے کفر اور نئے الحاد کے ساتھ لوٹنا“۔ یوں یہود نے اس پاکیزہ ومبارک سرزمین پر اب اپنی وہ دولت قائم کر لی ہے جس کو دانیال نبی کے صحیفے میں ’رجسہ خراب‘ بربادی کا منحوس پیش خیمہ کہا گیا ہے اور یہ ہمارے اگلے باب کا موضوع ہے۔

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز