عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, December 8,2019 | 1441, رَبيع الثاني 10
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Fehm_deen_masdar_2nd آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
جمود کی کہانی
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

 

جمود کی کہانی

   

اصل المیہ

یہاں برصغیر میں جو جمود پایا گیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ شاہ ولی اللہؒ ومابعد کے محدثینِ دہلی کی محنت سے یہاں بہت سی برف پگھلی، {اور گو ’’عقیدہ‘‘ کے اندر اصولِ سلف کے اِحیاء کو اب بھی بہت کم توجہ ملی، } پھر بھی برصغیر کے اس ضرب المثال جمود کی برف پگھلنے کا آغاز بہرحال ہوا۔ جمود کیا تھا؟ ’’بعد والوں‘‘ کی بات کو حرفِ آخر جان لینا اور ’’پہلوں‘‘ کی بات کو سرے سے اپنے فکر و فہم کی بنیاد نہ بنانا۔ سب سے پہلا حق ’’عقیدہ‘‘ کا تھا کہ اس میں ’’بعد والوں‘‘ کی جاری کردہ بدعات ’’پہلوں‘‘ کے چھوڑے ہوئے صاف شفاف منہج پر پیش کی جاتیں اور حق کی ’’تحریر‘‘ ہوتی۔ ’’عقیدہ‘‘ ہی وہ میدان تھا جس میں حق اور باطل کا نزاع اٹھانے سے یہاں کا تحریکی عمل خودبخود ایک رخ پاتا اور آپ سے آپ اس کے اندر ایک زور اور بلاخیزی آتی (جس کی ایک بہترین مثال محمد بن عبدالوہابؒ کی تحریک ہے)، نیز وہ دوسرے بہت سارے میدان آپ سے آپ پیچھے چلے جاتے جوکہ ’حق و باطل‘ کی جنگ کا میدان نہیں، اور نہ مسلمانوں کے یہاں وہ میدانِ کارزار ہو سکتے ہیں، اور نہ کبھی تھے۔ (مانند فقہی مسائل وغیرہ)۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں، اصل میدانِ کارزار __ یعنی ’’عقیدہ‘‘ __ جب اِس جدوجہد کا بہت بڑا حصہ نہیں لے سکا تو پھر وہ کئی ایک میدان جوکہ ’’کارزار‘‘ کیلئے نہ تھے، اب اِس خلا کو پر کرنے لگے تھے۔ پھر بہت جلد اِس عمل نے ’عوام‘ کی طرف بھی اپنا رخ کر لیا۔ اِس میں شک نہیں کہ تحقیق کے وہ بہت سے میدان جو شاہ ولی اللہؒ ومابعد کے محدثینِ دہلی و بھوپال وغیرہ کے تجدیدی عمل سے سامنے آئے تھے (شاہ اسماعیلؒ کی ’’تقویۃ الایمان‘‘ یا شاہ عبد العزیز کی ’’التحفۃ الاثناعشریۃ‘‘ اور اسی طرح کے معدودے چند مصنفات کو اس سے منہا کرتے ہوئے) وہ کوئی لڑنے لڑانے کا میدان نہیں تھے، بلکہ بحث و تحقیق کا میدان تھے۔ ظاہر ہے یہ گرم سرد ہونے کا میدان ہی نہیں۔ اِس کی اپنی طبیعت ہی اِس چیز سے اِباء کرتی ہے۔ یہ وہ جھگڑے ہی نہ تھے جو سڑکوں اور چوراہوں پر لا دھرے جاتے اور ہر آدمی کو اِس میں فریق بن جانے پر آمادہ کیا جاتا۔ یہاں سے؛ برصغیر ایک ایسے عمل کا اکھاڑا بنا جو __ ہماری معلومات کی حد تک __ عالم اسلام کے کسی اور خطے میں اِس بڑی سطح پر نہیں پایا جاتا۔ آج یہاں ہمیں ایک ایسا ’فقہی گھمسان‘ درپیش ہے جس کی نظیر پوری دنیا میں نہیں ملتی۔

مقصد یہ کہ وہ علمی و تحقیقی روش جو بارھویں صدی ہجری میں ہمارے اِس برصغیر کے اندر رونما ہوئی اور جس نے یہاں پر پایا جانے والا بہت سا جمود توڑا تھا اور جس سے مزید آگے بڑھنے کے کچھ نہایت اچھے راستے ہمیں میسر آئے تھے اور مزید میسر آسکتے تھے۔۔۔، ’’عوام الناس‘‘ کو اُن سے ’’مستفید‘‘ کرانے کی یہ صورت بہرحال نہ ہونی چاہیے تھی جو ہمیں تیرھویں صدی ہجری کے وسط سے ’’عوامی سطح‘‘ پر نمودار ہونے والی ایک کشمکش کی صورت میں نظر آتی ہے؛ یعنی وسیع سطح کا ایک ’فقہی دنگل‘ جو یہاں گلی گلی اور محلے محلے میں لڑا جانا تھا؛ اور جس کی بنیاد پر واقعتا یہاں ’دو ملتیں‘ بنتی ہوئی صاف نظر آنے لگی تھیں:۔۔۔ ’’مقلد‘‘ ا ور ’’غیر مقلد‘‘!

یہ در اصل ’’جمود‘‘ ہی کی دو صورتوں کے مابین ایک جنگ تھی جس نے تیرھویں صدی ہجری کے وسط سے یہ صورت دھار لی تھی؛ اور جس کیلئے ہمارے مسلم برصغیر نے ایک بہت بڑی قیمت دی ہے اور مسلسل دے رہا ہے۔ اسی ’’دوگانہ جمود‘‘ کا فائدہ اٹھا کر یہاں پر سیکولر قیادتیں میدان مار لینے میں کامیاب ہوئیں، اِسی ’سنہری موقعہ‘ کو غنیمت جانتے ہوئے لبرل قیادتیں یہاں کے معاشرتی خدوخال تک کو مسخ کر دینے میں کامیاب ہوئیں اور ابھی تک ہو رہی ہیں.. اور یہیں سے جدت پسندوں کی بھی خوب خوب چاندی ہونے لگی ہے۔ یعنی پورا ایک میدان ہے جو ہمارے ہاتھ سے لے لیا گیا اور اس کے نتیجے میں ہمیں صدیوں کے حساب سے پیچھے دھکیل دیا گیا؛ یہاں تک کہ اب معاشرے میں ہم پائے تک نہیں جاتے۔۔۔، مگر یہ ’’دورویہ جمود‘‘ ہے جو اب بھی ہماری جان بخشی کرنے پر آمادہ نہیں؛ اِس کو اب بھی اپنی ہی ضد پوری کرانی ہے اور اپنی ہی شرطوں پر ’دنیا‘ فتح کرنی ہے! زمانہ قیامت کی چال چل گیا ہے اور ہمارے دین، ہمارے عقیدے اور ہماری تہذیب کو ’نقش کہن‘ کی طرح مٹا دینے کے منصوبے میدان میں ہیں جن پر دنیا بھر کے شیطان مصروف عمل ہیں، مگر ہماری یہ دنیا اب بھی ’مقلد و غیر مقلد‘ ہی کی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہے! یہ دو طرفہ جمود اب بھی ہم پر رحم کھانے کا دور دور تک کوئی ارادہ نہیں رکھتا!

صورتحال نے آگے چل کر جو بھی خطرناک موڑ مڑے، وہ پہلا جمود جو یہاں برصغیر میں پایا گیا تھا اور ابھی تک جوں کا توں ہے، ابتداءً اِس کا سبب بنا۔

 

*****

 

جمود
اور اس کے رد عمل میں بھی جمود!

’’جمود‘‘ جب ایک لڑائی بھڑائی کی صورت دھارتا ہے تو ’’ردِّ عمل در ردِّ عمل‘‘ کے ایک تسلسل کو جنم دیتا ہے اور جوکہ رفتہ رفتہ انتہاپسندی کی طرف بڑھتا ہے.. یہ وہ چیز تھی جو بالآخر طرفین کیلئے باعث پریشانی بھی ثابت ہوئی۔۔۔

طرفین کی کھینچاتانی سے جو ایک مومنٹم بنا۔۔۔ لازم تھا کہ یہاں پر چھوٹی چھوٹی جماعتوں سے تشکیل پانے والا وہ فنامنا بھی سامنے آتا جو اپنی ذات میں ایک جہان ہوتی ہیں اور جن کی خود اپنے سوا نہ کسی کے پیچھے نماز ہوتی ہے اور نہ ایمانی اشتراک کا کوئی اور اجتماعی مظہر۔ یہ فنامنا ہر طرف پایا گیا، مگر اِس کا زیادہ رخ اس سائڈ پر رہا جہاں قرآن اور حدیث کو ’خود‘ سمجھنے کی ایک طرح ڈال دی گئی تھی۔ ایک ایک مسئلہ پر ایک ایک جماعت: کہیں عذابِ قبر پر ایمان رکھنے کو ’’شرک‘‘ کا موجب ٹھہرانا۔ کہیں جنات کا انکار۔ کہیں کرامات کا انکار۔ کہیں جادو کی تاثیر مان لینے کو ’’شرک‘‘ ٹھہراتے پھرنا۔ کہیں سماعِ موتیٰ کو ’’شرک‘‘ قرار دینا۔ کہیں محض اپنے آپ کو ’جماعت المسلمین‘ سمجھنے کا تصور۔ کہیں ’بیعت‘ اور ’امارت‘ کی مضحکہ خیز تفسیر مع بیہودہ تطبیقات۔ کہیں فوت شدہ علمائے اسلام میں سے ’کافر‘ قرار پانے والوں کی فہرست جاری کرنے کا ’اصلاحی و دعوتی ماڈل‘۔ کہیں نزولِ مسیح کا انکار۔ کہیں احادیثِ مہدی کا رد۔ کہیں ’’دجال‘‘ کی بابت نئی نئی تفسیرات و انکشافات۔ کہیں جدت پسندوں کے ہاتھوں دین کی ایک تعبیرِ نو، بلکہ دین کا مسخ۔ غرض کوئی ’’مقیاس‘‘ تو رہ ہی نہیں گیا تھا؛ ہر شخص قرآن اور حدیث کو خود اپنی تحقیق کرکے سمجھے گا اور اس کے نتیجے میں چاہے پھر وہ جہاں بھی پہنچے! قرآن اور حدیث کے ’بے انتہا واضح ہونے‘ کا ان چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے ہاں یہی مطلب تھا کہ آدمی ان کو خود سمجھ سکتا ہے! جس کیلئے سوائے عربی زبان کے (بلکہ شاید تراجمِ کتب کے) یا کچھ تھوڑا بہت ’ذاتی مطالعہ‘ کرلینے کے وہ کسی چیز پر انحصار کا پابند نہیں! اب جو اس کو سمجھ آئے اس کو حق ماننے کا بھی وہ اپنے اس انداز فکر کی رو سے خودبخود پابند ہوتا ہے! نہ صرف یہ بلکہ دوسرے اس قرآن اور حدیث کو اس سے مختلف انداز میں سمجھیں تو اُن کو ’’غلط‘‘ جاننے کا بھی اپنے آپ کو پابند جانتا ہے!

چنانچہ جلد ہی یہاں پر وہ رو چلی کہ: ہر شخص قرآن و حدیث کو خود سمجھنے کا جس قدر مکلف ہے اپنے سے مختلف قرآن و حدیث سمجھنے والوں کو ’’غلط‘‘ جاننے کا بھی اُسی قدر مکلف ہے! بھلا ایسا نزاع کب ختم ہو سکتا ہے جو خود ’دین‘ ہی نے فرض کر رکھا ہو!

اور یہ تو سوچنا بھی ضروری نہ رہ گیا تھا کہ: کیا سب لوگ قرآن اور حدیث کو ایک ہی طرح سمجھ سکتے ہیں؟ کہ جب بھی ان کے سمجھنے میں فرق آئے ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہو؟؟؟ بلکہ درست مراجع اور صحیح ضوابط نہ ہوں تو کیا قرآن اور حدیث کو سرے سے سمجھ بھی سکتے ہیں؟؟؟ الا یہ کہ ایک چیز کا ’آپ کو حق ہے اور دوسرے کو نہیں‘! یعنی عین وہ چیز جو ایک کبھی نہ ختم ہونے والے تنازعہ کی جڑ ہوا کرتی ہے! ایک چیز آپ کیلئے جائز ہے تو دوسرے کیلئے ناجائز کیوں؟ اور اس بات کی آخر کیا ضمانت ہے کہ قرآن اور حدیث سے اپنے تئیں آپ نے یا آپ کی جماعت نے جو سمجھا وہ ضرور ہی درست ہے اور دوسرے نے یا اس کی جماعت نے جو سمجھا وہ ضرور ہی غلط ہے؟ معاملہ اگر اس کے برعکس ہو تو!!؟

مگر یہ سوچنے ضرورت کیا تھی؛ اسلام کا کونسا کام تھا جو یہاں رکا ہوا تھا، سوائے اس کے کہ ہر شخص یہاں پر ایک نئے سرے سے ’’اسلام‘‘ کو سمجھ کر دے؟!

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز