عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, December 8,2019 | 1441, رَبيع الثاني 10
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Fehm_deen_masdar_2nd آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
انبیاءؑ اور اصحابؓ کا راستہ اپنائے بغیر اھواء سے دور ہونے کا دعویٰ سب سے بڑا جھوٹ ہے
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

مراجع فہم کے حوالے سے ایک ضروری بحث

 

انبیاءؑ اور اصحابؓ کا راستہ اپنائے بغیر

 

اھواء سے دور ہونے کا دعویٰ سب سے بڑا جھوٹ ہے

 

اور اب وہ موضوع جو ’’علم شرع‘‘ کو (اور اس سے متصل ’’سماجی علوم‘‘ کو بھی) عام طبعی علوم سے ممیز کر دیتا ہے۔۔۔

أھواء کا علاج: انبیاء سے موروثہ علوم اور اصحاب سے موروثہ مناہج

جیسا کہ بعض اہل علم نے اِس بات کی نشاندہی کی:

خدا نے وہ علوم ویسے ہی انسانوں پر چھوڑ دیے ہیں جن کے اندر اَھواء کو کوئی دخل نہیں۔ مثال کے طور پر یہ کشش ثقل ہے، حرکت کے قوانین ہیں، اشیاء کے کیمیائی خواص ہیں، خلیوں کی ساخت ہے، زمین کی گردش ہے، وغیرہ وغیرہ.. یہ سب انسان پر چھوڑ دیے گئے ہیں؛ کہ جب بھی معلوم کرنے ہوں خود ہی کر لے۔ اِن اشیاء میں انسانی اَھواء کو کوئی دخل نہیں؛ ہر کوئی بالآخر ایک سے ہی نتیجے پر پہنچ جائے گا۔

البتہ خدا نے انبیاء کو اُن علوم کے ساتھ بھیجا ہے جن کے اندر انسانی اَھواء کو ایک خاص دخل ہوتا ہے۔ کوئی علم ایسا نہیں جس میں انسانی اَھواء اور رجحانات اور میلانات و خواہشات وجذبات دخل انداز ہو سکتے ہوں اور اُس علم کے اصول basics خدا نے آپ اپنی جناب سے شرائع کے ذریعے نہ دیے ہوں۔ توحید اور اصولِ ایمان سے لے کر عبادات وغیرہ ایسے امور تو خیر ہیں ہی توقیفی(حاشیہ۱)، آپ دیکھتے ہیں وہ امور بھی جن میں عقول کو ایک گونہ دخل ہے اور اسی کے بقدر وہ انسان کی تحقیق اور تدبیر پر چھوڑ بھی دیے گئے ہیں مانند معیشت، سیاست اور معاشرت وغیرہ(حاشیہ۲).. اِن علوم کے بھی جو اصول اور مبادی basics ہیں وہ شرائع ہی دیتی ہیں اور شرائع ہی دے سکتی ہیں(حاشیہ۳)۔

چنانچہ اصولِ ایمان و عبادات ہی نہیں، اصولِ معیشت، اصولِ سیاست اور اصولِ معاشرت وغیرہ تک میں:

۔ حق کو کھونے کے حوالہ سے اَھواء کو اور دل کے ٹیڑھ کو بے حدوحساب دخل حاصل ہے(حاشیہ۴)..

۔ دوسری جانب __ حق کو پانے کے حوالہ سے __ تقویٰ اور اِنابت اور استقامت کو بھی اُسی بقدر دخل حاصل ہے۔ اور سب سے بڑھ کر خدا کی جانب سے ملنے والی توفیق اور سینے کا کھلنا۔

قرآن سے یہ بات مختلف انداز میں کھل کر سامنے آتی ہے اور یہی چیز پھر احادیث سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ’’ضلال‘‘ کی ہمیشہ دو صورتیں رہی ہیں:

۱) ایک وہ جب نبی اور کتاب ملے ہی نہ ہوں اور آدمی گم گشتگی کی زندگی گزار رہا ہو۔ یا نبی و کتاب کے ملنے پر بھی آدمی نے اُس کو رد کر دیا ہو۔ یہ أھواء کی بدترین صورت ہوتی ہے۔ خدا نے اِس دنیا میں باقاعدہ گنجائش چھوڑ رکھی ہے کہ نبی اور کتاب کو صاف رد کر دینے کے بعد بھی آدمی اپنے آپ کو دانش کی معراج پر جانے، خوب فلسفے بگھارے، علوم کے ساتویں آسمان پر پہنچا ہوا نظر آئے۔ ’معروضیت‘ کا ٹھیکیدار بن کر رہے۔ بلکہ انبیاء کے پیروکاروں کو 'biased' قرار دے اور اشیاء کو ’عقلی‘ و ’منطقی‘ بنیادوں پہ لیا جانے کیلئے اودھم مچاتا پھرے! غرض یہ دنیا ایسی بنائی گئی ہے کہ نبی اور کتاب کو ٹھکرا دینے کے بعد بھی ضروری نہیں آدمی کے سر پر سینگ نظر آنے لگیں اور وہ اپنی اِس ہیئت کے باعث شرم سے چھپتا پھرے! یہاں جو ’’مہلت‘‘ اُس کو حاصل ہے وہ اِس معنیٰ میں بھی ہے کہ کفر پر مصر رہ کر بھی وہ اپنا پندار قائم رکھ سکے اور اپنا یہ زعم کہ اُس کا فیصلہ ایک نہایت ’صحیح‘ بنیاد پر ہے جتنی دیر چاہے برقرار رکھے۔ اصل امتحان دراصل کسی اور چیز کا ہوتا ہے جس کی بنیاد پر اُس کے دل کا برتن عین اُس سیدھی حالت میں رکھا جاتا ہے کہ جس میں ’’ہدایت‘‘ کی خیرات انڈیلی جا سکے۔ أھواء دراصل دل کا اُس حالت سے لڑھک جانا ہے جو ہدایت کو اُس کے اندر راستہ پانے کیلئے درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اپنی بدترین حالت میں آدمی کو مکمل طور پر اندھا اور اوندھا کر دیتی ہے درحالیکہ وہ اپنے آپ کو بہترین بنیاد پر جانتا ہے، بلکہ بعض کو اِس سمت میں خاصی خاصی ترقی دی جاتی ہے۔

اھواء کی یہ قسم جوکہ شدید تر ہے، آدمی کے انبیاء کے راستے پر آنے میں مانع ہوتی ہے۔

۲) اھوائکی دوسری قسم وہ ہے جو آدمی کے، انبیاء کے ’’حواریون وأصحاب‘‘ کے راستے پر آنے میں مانع ہوتی ہے؛ جبکہ وہ ’مہلت‘ اور ’گنجائش‘ جو اُس کی ’معروضیت‘ کا زعم نہ ٹوٹنے دے، اس کو یہاں پر بھی دستیاب ہوتی ہے۔۔۔!

ضلال کی یہ دوسری صورت وہ ہے جس کے حوالے سے مِن بَعْدِ مَا جَاءهُمُ الْعِلْمُ، یا مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ  ایسے لفظ آتے ہیں۔ ضلال کی اس دوسری صورت کے سیاق میں عموماً ’’اختلاف‘‘ یا ’’افتراق‘‘ کا لفظ بھی آتا ہے۔ یہ افتراق نبی و کتاب کے نسبت یافتگان کے مابین ہوتا ہے؛ پھر اس کے ساتھ ایک اور نہایت اہم لفظ: بغیاً بینہم۔ اور اس کے ساتھ؛ أہواء سے بچنے کی شدید تاکید بھی بلکہ وعید بھی۔ حدیث میں یہ بات تک ملتی ہے کہ ’’اَھواء‘‘ اور فتنوں(حاشیہ۵) وغیرہ کو قبول کرتے چلے جانے والوں کے دل ٹیڑھے بلکہ کسی وقت الٹے کر کے رکھ دیے جاتے ہیں اور یہ بھی کہ ایسا دل پھر شرعی حقائق کو نہ صرف صحیح طور پر دیکھنے سے قاصر ہو جاتا ہے بلکہ وہ حقائق کو الٹا بھی دیکھنے لگتا ہے۔ ہوتے ہوتے، بلاشبہ ایک دل کا معاملہ ایسی حالت کو پہنچتا ہے کہ وہ ایک حق ہی کو باطل دیکھنے لگے اور ایک باطل ہی کو حق(حاشیہ۶)؛ اور اپنی اس گمراہی پر وہ ’’شریعت‘‘ کے اندر بھی پھر ڈھیروں دلائل دیکھے(حاشیہ۷)۔ خوارج، معتزلہ اور دیگر بہکے ہوئے فرقوں میں سے بہت سے لوگ اچھے خاصے مخلص بھی ہوتے تھے اور ذہین بھی اور محنتی بھی، مگر دراصل یہ ’’اَھواء‘‘ ہوتی ہیں جو ایک ’برسات کے اندھے‘ کو پھر ہر طرف ہرا ہی ہرا دکھانے لگتی ہیں (یہاں تک کہ لوگ صحابہؓ کے خلاف ہتھیار اٹھا کر کھڑے ہو جاتے رہے ہیں) اور واقعتا ایسے آدمی کو یہ تعجب تک ہونے لگتا ہے کہ وہ بات جو شریعت کے اندر اس کو اتنی ’واضح‘ اور ’جلی‘ ہے، آخر دوسروں کو نظر آ کیوں نہیں رہی!

لفظ ’’أَھواء‘‘ کی بابت: عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ محض کوئی مال وجائیداد کی خواہش، یا طلبِ اقتدار یا شہوتِ جنس وغیرہ قسم کی چیز ہے! حالانکہ اصولِ عقائد کی کتب دیکھیں تو لفظ ’’اَھواء‘‘ کا جس قدر اطلاق کسی ایسی ’’فکری لت‘‘ پر ہوتا ہے جو ایک آدمی کو نشے کی طرح لگ جاتی ہے اور بالآخر اس کو اندھا کر کے رکھ دیتی ہے اُتنا اِس لفظ کا اطلاق بطن وفرج کی خواہشات پر نہیں ہوتا۔ ھویٰ: وہ کوئی بھی چیز جو آدمی کو ’چڑھ جائے‘ اور چھپ چھپ کر آدمی کی سوچوں thoughts، آدمی کے لہجوں tones ، آدمی کے استنتاجات derivations اور اس کے فکری میلانات intellectual tendencies کے اندر موثر طور پر کارفرما ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے آدمی ذہنی اور فکری طور پر ایک ’’رُوٹ‘‘ اختیار کرتا ہے اور اس کے بعد جا کر ہی ’’مسائل‘‘ اور ’’دلائل‘‘ وغیرہ کو ہاتھ ڈالنے کی نوبت آتی ہے۔ ’’أھواء‘‘ کا ایک بہت بڑا اثر اِس سب سے پہلے مرحلے پر ہی ہو چکا ہوتا ہے، یعنی ایک فکری رُوٹ اختیار کرتے وقت ہی۔ یہاں پر ہم سلف کے منہج کی بابت پائے جانے والے اِس بیان سے حیران رہ جاتے ہیں کہ ان کو ’’قرآن سے پہلے ایمان‘‘(حاشیہ۸)سکھایا جاتا تھا!

پس ایک یہ ’’اَھواء‘‘۔۔۔ اور پھر اس پر مستزاد بغیاً بینہم ۔۔۔(حاشیہ۹)۔ اہل حق(حاشیہ۱۰) کی راہ کے ساتھ آدمی کو ایک ضد یا ایک نفور سا ہو جانا۔ ان کی راہ کو بڑھیا جاننے کے تصور کو ’کچھ غیر ضروری سا‘ ثابت کر دینے اور اس کے بعض جھول اور نقص ڈھونڈ نکال لانے کی اَن دیکھی سی رغبت کا آدمی کے کسی نہاں خانے میں جنم لے لینا اور پھر رفتہ رفتہ اُس کے درون میں سرایت کرتے چلے جانا۔ یہ بھی بغی میں ہی شامل ہے(حاشیہ۱۱)۔ یوں بہت سے دیدہ و نادیدہ اسباب ایسے ہو جاتے ہیں جو اِس معاملہ میں باقاعدہ ایک مہمیز کا کام دیں کہ آدمی اپنے اختیار کردہ ایک خاص ’’روٹ‘‘ پر ہی چلتا چلا جائے ؛ اور رک کر کہیں دیکھنے کا نام نہ لے۔ اُس راہ کے اندر اُس کو ایک ایسی دلجمعی ملتی ہے کہ کسی کسی وقت وہ اُس کو ’خدا کی توفیق‘ لگتی ہے۔ مگر، ہیہات! سلف (حواریون وأصحاب، اور ان کے تلامذہ و توثیق شدگان، و وابستگان) کی راہ سے ہٹ کر کسی راہ پر دلجمعی ویکسوئی پانا کونسی خدائی توفیق اور کونسا شرحِ صدر؟! یہ محض استدراج ہوتا ہے۔۔۔ اور تب آدمی کا دماغ باقاعدہ ایک جہت میں ’کام کرنا‘ شروع کر دیتا ہے۔ یہ ہو جائے، اور جوکہ اِس عمل کا اہم ترین مرحلہ ہے، تو پھر اس شخص کو ’’اصول‘‘ بھی نئے سے نئے ملتے چلے جاتے ہیں اور ’’فروع‘‘ بھی۔ یہاں تک کہ پوری شریعت اُس کو ایک نئی ہی ترتیب میں نظر آنے لگتی ہے اور تب ایسی ایسی ’دریافتیں‘ ہوتی ہیں کہ خود وہ بھی دنگ رہ جاتا ہے اور ان پر سر دھننے والے بھی! ایسی ایسی ’سامنے کی چیزیں‘ سامنے آنے لگتی ہیں کہ کوئی آدمی اُس شخص کے ہاں باقی ہر سوال کا جواب پا لے تو بھی اِس ایک سوال کا جواب نہیں پاتا کہ اِن اتنی ’واضح‘ باتوں کو دیکھ نہ سکنے کے معاملہ میں ’’پہلوں‘‘ کی عقل آخر چلی کہاں گئی تھی؟!

مگر۔۔۔ بجائے اِس کے کہ یہ ایک سوال (کہ ’’پہلوں‘‘ کی عقل اِس معاملہ میں کہاں چلی گئی تھی؟) اُس کے کان کھڑے کر دے، جس سے اس راہ میں اُس کے سرپٹ بھاگتے قدم ذرا ٹھٹھک جائیں، وہ اس کو اپنے اوپر خدا کا ایک ایسا فضل دیکھتا ہے جو خدا نے اُس سے پہلوں پر نہیں کیا؛ اور ظاہر ہے خدا کو اُس کی دین پر کون پوچھ سکتا ہے!

پس یہ ایک بہت بڑا اور بظاہر نظر نہ آنے والا فیکٹر ہوتا ہے جو آدمی سے ہدایت اور صواب کا دامن چھڑوا دینے کا باعث بنتا ہے۔ مگر اَھواء کی مار کوئی عام سی مار نہیں ہوتی؛ اِس کا اصل وار ہی یہ ہے کہ یہ آدمی کو ’دلائل‘ وغیرہ کے زعم سے تہی دست نہ ہونے دے!

’’اَھواء‘‘.. اور بغیاً بینہم.. دراَصل ہے ہی ایک ایسا ذہنی وفکری ونفسیاتی روٹ جو انسان کے اندر باقاعدہ چھپ کر کام کرتا ہے اور خود اُس کے اپنے ضبط میں تو آنے والی یہ چیز ہی نہیں۔ یہ اُس کے کسی زیغ کی سزا ہوتی ہے جو پھر اُس سے بھی بڑے کسی زیغ کی صورت میں اُس کے سامنے آتی ہے(حاشیہ۱۲)۔ یہ نفس کا اندھاپن ہے؛ اور حق یہ ہے کہ اِس کی بھی انسان کے اندر بے حد و حساب گنجائش رکھی گئی ہوتی ہے؛ کہ وہ جس قدر چاہے اِس کو بڑھا لے۔ البتہ اِس کا کوئی ایک درجہ نہیں؛ کہیں یہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ انبیاء اور کتابیں اور معجزے سامنے ہوں تو نظر نہیں آتے اور آدمی اپنی ہی رفتار سے چلتا چلا جاتا ہے، اور جو کہ کفار کی ایک صنف کی حالت ہوتی ہے اور باقاعدہ قرآن سے ثابت ہے(حاشیہ۱۳).. اور کہیں اس کی شدت صرف اِس قدر ہوتی ہے کہ حواریون وأصحاب کا راستہ روپوش ہونے لگتا ہے، اور جو کہ خوارج اور معتزلہ اور اِسی طرح کے دیگر اہل الأھواء کی حالت رہی ہے۔ البتہ عدل یہ ہے کہ اِس (موخر الذکر) کو ایک ہی درجہ نہ مانا جائے؛ کسی سے حواریون وأصحاب کا راستہ ایک زیادہ بڑی اور زیادہ سنگین صورت میں چھوٹتا ہے اور کسی سے نسبتاً ایک کم سنگین صورت میں۔ یہیں سے اہل بدعت کی درجہ بندی ہوتی ہے؛ البتہ ہر کسی کے ابتداع اور حق سے بُعد کو ماپنے کیلئے جو پیمانہ scale اور جو نقطۂ حوالہ referring point ہوتا ہے وہ مدرسۂ حواریین وأصحاب ہی ہوتا ہے۔ چونکہ سیاق یہاں پر ’’نبی کی پہچان‘‘ اور ’’شریعت کا مصدر‘‘ نہیں بلکہ ’’فہم‘‘ کی معیاریت ہے، لہٰذا پیمانہ اور نقطۂ حوالہ یہاں پر ’’نصوص‘‘ نہیں بلکہ وہ ’’مدرسہ‘‘ ہوتا ہے جس نے نبی سے وہ دین پڑھا اور آگے پڑھایا ہوتا ہے۔

’’فہم‘‘ کی بابت پائے جانے والے ’’اَھواء‘‘ اور بغیاً بینہم ایسے ایک (پوشیدہ، منہ زور، غیر منضبط اور ہدایت کو پانے یا کھونے کے معاملہ میں ایک موثر ترین) عامل کو ضبط میں رکھنے کا ایک ابتدائی و بنیادی پیمانہ اِس کے سوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ جو شخص مدرسۂ حواریین وأصحاب کی اِس حیثیت کو دیکھنے سے قاصر ہے۔۔۔ اُس کیلئے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

 

*****

 

چونکہ أھواء ایک نہایت خفیہ و موثر و شدید ترین عامل ہے، اور اپنی حقیقت و ماہیت کے اعتبار سے ایک غیر منضبط چیز۔ (بات فہم و اصولِ فہم وضع کرنے کی ہو رہی ہے) جس کو کسی قاعدہ و دستور میں رکھنا بھی بہر حال لازم ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ:

پہلی تلقین: ’’پہلوں کی راہ‘‘

۱) سلف میں ایک تو اِس بات پر بے اندازہ زور دیا جاتا رہا کہ ’’پہلوں‘‘ کا راستہ ہرگز نہ چھوٹنے پائے(حاشیہ۱۴)، کیونکہ ’’پہلوں‘‘ کا راستہ ہی وہ واحد چیز ہوتی ہے جس کی بابت وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ حق ہے؛ آسمان کی کوئی شہادت ہوتی ہے تو صرف اُنکے حق میں } اُن کے خود صاحبِ نبوت کی نظر کے سامنے پروان چڑھا ہونے کے باعث اور اُنکو صاحب نبوت کی جانب سے باقاعدہ تزکیہ اور توثیق حاصل ہونے کے ناطے{۔ اور یہی وجہ ہے صاحبِ نبوت کی ادا کردہ مہم کے حوالے سے قرآن میں وہ پورا پیکیج بھی ذکر کیا جاتا ہے، یعنی:

الف: تلاوتِ آیات، اور یہ وہ کام ہے جو نبی نے بنفس نفیس خاص اُن اصحاب کے نفوس کے اوپر کیا ہوتا ہے(یتلو میں فاعل = نبی + اور علیہم میں ہُم کی ضمیر = اصحاب)... اور یہ بات کسی اور کو حاصل نہیں۔

ب: اور تزکیہ (یزکی فاعل = نبی + ہم کی ضمیر = اصحاب)۔ تزکیہ جوکہ ’’نفوس‘‘ کی پوری اِعداد ہے، اورجس کے اندر اُن کو سوچ اور فکر کے کچھ خاص سانچوں میں ڈھال دینا بھی آتا ہے (باقاعدہ نبی کے اپنے ہاتھوں)... اور یہ بات تو بالکل ہی کسی اور کو حاصل نہیں۔

ج: اور پھر تعلیمِ کتاب و حکمت کے ایک باقاعدہ پراسیس سے بھی اُن کو نبی کے ہاتھوں ہی گزارا جانا (یُعَلِّمُ = نبی + ہُم اصحاب + الکتاب + والحکمۃ)۔ اور یہ بات بھی ہرگز کسی اور کو حاصل نہیں۔

د: پھر اِس پورے پراسیس سے گزار کر آخر میں ان کو سند دے دی جاتی ہے: رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ۔ آسمان کی چھپی ہوئی سند۔ جو کہ اُن کے علاوہ کسی اور کو حاصل ہو ہی نہیں سکتی؛ کہ یہ سند چھپنا ہی اب بند ہو چکی ہے!

یوں سمجھو، واقعاتی حوالے سے، جہاں نبی نے اتنے سال لگا کر اپنے زمانے پر ایک حجت قائم کر دی ہوتی ہے (گو وہ حجت ما بعد کے زمانوں کیلئے بھی ویسی ہی valid ہوتی ہے).. وہاں __ رہتے زمانوں کیلئے __ اتنے سال کی محنت سے نبی نے فہم اور تلقی اور اتباع کا ایک باقاعدہ سند یافتہ ’’پیمانہ‘‘ بھی ایجاد کر دیا ہوتا ہے، جس کو کہ ’’حواریون وأصحاب‘‘ کہا جاتا ہے۔۔۔:

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:

ما من نبیٍّ بعثہ اللہ فی أمۃ قبلی إلا کان لہ من أمتہ حواریون وأصحاب یأخذون بسنتہ ویقتدون بأمرہ، ثَّم إنہا تخلف من بعدہم خلوف یقولون ما لا یفعلون، ویفعلون ما لا یؤمرون، فمن جاہدہم بیدہ فہو مؤمن، ومن جاہدہم بلسانہ فہو مؤمن، ومن جاہدہم بقلبہ فہو مؤمن، ولیس وراء ذلک من الإیمان حبَّۃ خردل۔(حاشیہ۱۵) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب کون النہی عن المنکر من الایمان)

عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، کہ فرمایا رسول اللہ ا نے:

کوئی نبی ایسا نہیں جسے اللہ نے مجھ سے پہلے مبعوث فرمایا ہو، مگر یہی ہوتا رہا کہ امت میں اُس کے حواری اور اصحاب ہوتے۔ جو کہ اُس کی سنت کو اختیار کرتے اور اس کے حکم وہدایت کی اقتدا کرتے۔ پھر یہ ہوتا کہ اُن کے بعد کچھ نا خلف آجاتے۔ جوکہ اُن چیزوں کے قائل ہوتے جن کے وہ فاعل نہ تھے (عملی انحراف)، اور اُن چیزوں کے فاعل ہوتے جن کی اُن کو ہدایت نہ تھی (فکری انحراف)۔ تو پھر جو شخص اُن سے لڑائی کرے اپنے ہاتھ کے ساتھ وہ مومن ہوا، اور جو لڑائی کرے ان سے زبان کے ساتھ وہ مومن ہوا، اور جو لڑائی کرے اُن سے دل کے ساتھ وہ مومن ہوا۔ اور اس سے کم البتہ ایمان نہیں ہے رائی کے دانے کے برابر بھی۔

یہ ضمانت کہ اُنہوں نے اُس نبی کی سنت پر چل کر دکھایا ہے اور اُس کے حکم و ہدایت کی اقتداء کر کے دکھائی ہے، (اور جو کہ پورا ایک اسکیچ بنتا ہے، اور جس میں تلقی بھی آتی ہے اور تلقی کا منہج بھی، عقیدہ بھی، فکر بھی اور عمل بھی، تہذیب بھی اور سماج بھی)... یہ ضمانت اُس پوری امت میں سے صرف اور صرف ’’حواریون وأصحاب‘‘ ہی کو ملی ہوتی ہے۔ اور یہ ہرگز کوئی معمولی شہادت نہیں ہے۔ نبی کے مدرسہ سے نکلے ہوئے اِن ’’حواریون وأصحاب‘‘ کا پھر اپنے تابعین میں سے اپنے اُن حلقہ بگوشوں کو __ جو سالہا سال جان مار کر اُن (حواریون وأصحاب) سے وہ کچھ لیتے رہے ہوں جو وہ نبی سے لیتے رہے تھے __ سند دینا ویسا نہیں جیسا آج کے آڈیٹوریمز کے سامعین، یا جلسوں کے حاضرین، یا میڈیا کے ناظرین کا کسی کے بارے میں یہ رائے قائم کرنا کہ ’لگتا تو بڑا زبردست عالم ہے‘!

اصل چیز ’’منہج‘‘ ہے، ’’استدلال‘‘ تو پھر اس ’’منہج‘‘ کو اختیار کرنے کے بعد ہوتا ہے! نبی کے اصحاب سے سب سے پہلے جو چیز لی جاتی ہے وہ یہ ’’منہج‘‘ ہی ہے۔ اور یہ منہج ’’حواریون وأصحاب‘‘ سے اور ان کے تلامذہ سے ہی لیا جائے گا؛ کوئی اور ہے ہی نہیں جس کے پاس دینے کیلئے کوئی ’’منہج‘‘ ہو۔ اور ہے کون جس نے آسمان سے مبعوث کسی نبی سے اپنا تزکیہ کروایا ہو؟ نبی کے ہاتھوں، اور وہ بھی سالہا سال کے عمل سے، اپنے قلب و ذہن اور اپنے اندازِ فکر کی باقاعدہ ایک ساخت کروائی ہو؟ فکر و عمل کے معاملہ میں نبی کے ہاتھوں وہ باقاعدہ ایک ’’سانچے‘‘ کی صورت میں ڈھل گیا ہو، اور پھر نبی سے اس چیز کی باقاعدہ سند بھی پائی ہو؟ پس نبی کے براہ راست تلامذہ اور یا پھر ان کے تلامذہ کے سوا کسی اور کے پاس امت کو دینے کیلئے کوئی ’’منہج‘‘ ہو، ’’تلقِّی‘‘ کا کوئی فارمیٹ ہو.. سب سے بیہودہ کوئی بات ہو سکتی ہے تو وہ یہی۔ یہ منہج اور یہ فارمیٹ صرف اور صرف حواریون وأصحاباور ان کے سند یافتہ تلامذہ کے ہاں ہی ڈھونڈا جائے گا اور جو کچھ اُن کے ہاں سے مل جائے اُسی کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت جانا جائے گا اور اُسی پر پورے شرح صدر کے ساتھ کفایت کی اور کروائی جائے گی۔ اور اُسی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھا جائے گا۔

یہاں سب سے بڑھ کر حیرت آپ کو اُن لوگوں پر ہو گی جو آپ کو فہم اور استدلال سے پہلے فہم و استدلال کے ’’مبادی‘‘ ہی خود اپنے پاس سے دے رہے ہوتے ہیں! (اِس مضحکہ خیز دعویٰ کے ساتھ کہ اپنے یہ مبادی وہ ہمیں کتاب اور سنت اور ’عقل عام‘ سے نکال کر دے رہے ہیں!)؛ خاصے صغریٰ اور کبریٰ ملا کر یہ حضرات آپ کو بیان کر کے دے رہے ہوتے ہیں کہ آپ کو ’’نصوصِ شریعت‘‘ کو سمجھنا ہے تو کس ’’منہج‘‘ سے اور ان نصوص سے مسائل کا استنباط کرنا ہے تو کس ’’طریقے‘‘ سے!(حاشیہ۱۹) یعنی نصوصِ شریعت سے ’’استدلال‘‘ کرنا اور کروانا ابھی باقی ہے، اور اِس ’’استدلال‘‘ کیلئے جو ’’منہج‘‘ درکار ہے اور جوکہ بنیاد ہے ایک ’’صحیح استدلال‘‘ کی، اُس بنیاد کا تعین کرنے کیلئے ’’استدلال‘‘ پہلے ہی ہو رہا ہوتا ہے! حالانکہ اِس کام کیلئے تو ابتداء صحابہؓ سے کئے بغیر چارہ ہی نہیں، آگے چاہے آپ مدرسۂ حدیث کے ’’تقید‘‘ کو اختیار کریں (اُس کے تمام تر ألوان manifestations سمیت) یا مدرسۂ رأي کے ’’توسع‘‘ کو (اُس کے تمام تر ألوان سمیت)۔ مگر ابتداء کرنے کیلئے تو اصولِ صحابہؓ کو بنیاد مانے بغیر چارہ ہی نہیں(حاشیہ۱۶)۔ (ورنہ تو’’استدلال‘‘ کے مبادی کو بھی ثابت کرنے کیلئے آپ کو ’’استدلال‘‘ ہی چاہیے اور ’’استنباط‘‘ کے معیارات کو بھی طے کرنے کیلئے ’’استنباط‘‘ ہی چاہئے، اور جو کہ درحقیقت ایک لطیفہ ہے، مگر اِس وقت ہو رہا ہے!)۔۔۔

یہاں بھی اگر آپ فکری بحثوں میں پڑنے کی بجائے ایک ’’نفسیاتی تجزیہ‘‘ کرنا چاہیں تو اِس نبیؐ کے ’’حواریون وأصحابؓ‘‘ سے ایک استغناء، کہ ’کام اُن کے بغیر بھی چلتا ہے‘۔۔۔، یہاں پھوٹ پھوٹ کر بولتا ہے۔ (بلکہ یہ کہ: کام اُ ن کے بغیر ہی چلے تو صحیح ہوتا ہے! بلکہ یہ تاثر کہ: کام اُن ’’حواریون وأصحابؓ‘‘ کے بغیر تو بدرجۂ اتم چلتا ہے البتہ اِن ’عباقرہ‘ کے بغیر نہیں چلتا!)۔ ورنہ کوئی تو وجہ ہو کہ تلقی و استدلال کے مبادی میں اگر کہیں پر سلفِ امت کے ساتھ ’موافقت‘ نکل آئے تو وہاں پر بھی ’’اصول اور معیارات‘‘ کے نقطۂ ابتدا کے طور پر سلف کا ذکر نہ ہو! کیونکہ یہ حیثیت سلف کی ہے ہی نہیں کہ دین کے فہم و تلقی کی بابت امت کو درکار ’’اصول‘‘ و ’’معیارات‘‘ کیلئے وہ سرے سے کوئی ’’حوالہ‘‘ ٹھہریں! ورنہ.. سلف جہاں پر ’صحیح‘ ہیں چلئے وہاں پر ہی، کم از کم اُتنی سی عقیدت کے ساتھ، جتنی عقیدت کے ساتھ بیسویں صدی کے پچاس ساٹھ سال پرانے اپنے کسی امام یا بزرگ کے حوالے دے لئے جاتے ہیں، ’’سلف‘‘ کے حوالے دے لئے جائیں! مگر ہم دیکھتے ہیں۔۔۔ اُن مقامات پر بھی جہاں سلف ’غلط‘ نہیں ہیں لہجوں کا استغناء اور کِبر صاف بول رہا ہوتا ہے کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں، سلف نے بھی ایک ’صحیح‘ بات کر دی ہے تو کیا ہے یہ بات تو ویسے ہی عقل سلیم میں آجاتی ہے، اور آنی چاہیے تھی! البتہ اِس ’عقل سلیم‘ کا سارا ٹھیکہ اپنے ہی پاس رہتا ہے؛ سلف کہیں اِس پر پورا اتر جاتے ہیں تو کہیں بیچارے اِس پر پورا اترنے سے رہ جاتے ہیں! ’غلط‘ نکلیں، پھر تو ان کو چھوڑنا ہی چھوڑنا ہے، ’صحیح‘ نکلیں تو بھی یہ کوئی قابل ذکر بات تھوڑی ہے! یعنی، صحابہ و سلف کا ذکر ہونا ہی سرے سے کیا ضروری ہے(حاشیہ۱۷)، کونسا کام ہے جو ان کے بغیر رکا ہوا ہے!!؟

۔۔۔ ۔۔۔

مختصر یہ کہ ’’اَھواء‘‘ ایک خطرناک اور بھیانک روٹ ہے اور ہزار رنگ میں آپ کے سامنے آتا ہے؛ یہ کوئی آج پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ ایک ’گہرے غوروخوض کے نتیجے میں‘ کسی عبقری نے امت کو ’سیدھا راستہ‘ منکشف کر کے دے دیا ہو؛ ساڑھے تیرہ سو سال سے یہاں ہزارہا لوگ اِس ذہنی وفکری حالت سے دوچار ہوتے رہے ہیں، البتہ ان سب لوگوں کا ایک مشترکہ وصف رسول اللہؐ کی تیار کردہ کھیپ کو اِس قابل نہ جاننا رہا ہے کہ فہم دین کے اصول و معیارات خاص اُنؓ سے لئے جائیں؛ اور جو کہ بغیاً بینہم کی ایک بدترین صورت تھی۔ اِس سے بچنے کیلئے ہم جس چیز پر سلف کے یہاں صبح شام زور دیا جاتا دیکھتے ہیں وہ یہ کہ: ’’پہلوں‘‘ کا راستہ لازم پکڑ کر رکھا جائے۔ بعد والوں کے ساتھ اَھواء نے کیا کیا کھیل کھیلے ہیں، اس کا اندازہ ایک نہایت مشکل کام ہے، بلکہ اِن کے راستوں پر وقت صرف کرنا ہی اصولاً ایک فضول کام ہے۔ آپ کو یہاں صرف ایک کام کرنا ہے؛ پورے اعتماد اور وثوق کے ساتھ ’’پہلوں کا راستہ‘‘ پکڑ کر رکھئے اور زمانے میں آگے سے آگے بڑھتے جائیے، ان شاء اللہ آپ کبھی نہیں بھٹکیں گے، کیونکہ آپ کے ’’پہلے‘‘ وہ ہیں جو نبی ا سے پڑھے ہیں اور جن کو رسول اللہ ا واضح طور پر ایک ’’راستے‘‘ پر پہنچا کر گئے تھے۔ عبداللہ بن مسعودؓ عراق تشریف لائے، تو تلامذہ کو اکثر اُن سے یہ نصیحت سننے کو ملتی:

اتبعوا ولا تبتدعوا، فقد کفیتم۔

’’پیروی کرو، خود کوئی طریقے مت نکالو، بس یہ سمجھ لو کہ تمہیں کفایت کر دی گئی ہے‘‘۔

نیز ابن مسعودؓ، ابن عمرؓ ودیگر بزرگانِ سلف کی یہ نصیحت:

من کان مستنا فلیستنَّ بمن قد مات۔ أولئک أصحاب محمد، کانوا خیر ہذہ الأمۃ، أبرہا قلوبا، وأعمقہا علما، وأقلہا تکلفاً، قوم اختارہم اللہ لصحبۃِ نبیہ ، ونَقلِ دینہ، فتَشَبَّہُوا بأخلاقہم وطرائقہم، فہم أصحاب محمد، کانوا علی الہدی المستقیم

’’جس کو کسی کی راہ پکڑنی ہو اس کو چاہیے اُن ہستیوں کی راہ پکڑے جو گزر چکیں۔ وہ ہیں اصحابِ محمدا۔ امت میں برگزیدہ ترین ہستیاں، قلوب میں سب سے بڑھ کر نیک، علم میں سب سے گہرے، تکلف میں سب سے کم؛ بس یہ سمجھو کہ ایک ایسا گروہ جس کو اللہ نے چنا اپنے نبی ا کی صحبت کیلئے ، اور اُسؐ کے دین کو آگے منتقل کرنے کیلئے، پس اُنہی کی مشابہت کرو اخلاق میں بھی اور طریقوں میں بھی۔ وہی ہیں محمد ا کے صحبتی۔ وہ سیدھی ہدایت پر ہی تھے۔‘‘

۲) دوسری چیز جو سلف کے ہاں نہایت ضروری جانی جاتی۔۔۔ وہ یہ کہ ’’دلائل‘‘ اور ’’مسائل‘‘ وغیرہ کو

اُن اساتذہ سے جو ’’پہلوں کی راہ‘‘ پر ہوں اپنی فکری ساخت کروانا

ہاتھ ڈالنے سے پہلے.. وہ لوگ، سنت کے ائمہ واساتذہ سے باقاعدہ ایک فیضِ صحبت لیتے۔ یہ نہ صرف اُن کیلئے ایک قلبی و روحانی تربیت کا درجہ رکھتا بلکہ ان کی سوچ اور فکر کے سانچوں کو بھی ایک خاص جہت دے دیتا، اور جوکہ عین وہ جہت ہوتی جو علم اور استدلال کے معاملہ میں اُن سے پہلوں کے یہاں پائی جاتی تھی۔۔۔۔ سچ پوچھیں تو یہ بات منہجِ سلف میں سب سے پہلے ہے، اور باقی سب کچھ اِس کے بعد آتا ہے۔ ’’تعلمنا الإیمان ثم تعلمنا القرآن‘‘(حاشیہ۱۸) کا یہ بھی ایک اہم حصہ ہے۔ اصل چیز قرآن ہی ہے اور ایمان بھی آدمی کو وہیں سے لینا ہے، مگر اُن لوگوں کے ہاتھوں جو قرآن کو روزِ اول سے سمجھتے اور پڑھتے پڑھاتے آئے ہیں باقاعدہ ایک grooming کروا لینا بھی درکار ہوتا ہے۔ (ویسے ہر دبستان یہی کام کرتا ہے؛ اور یہ وہ پہلی چیز ہوتی ہے جو اُس سے لی جاتی ہے)۔ راہِ سنت میں تو یہ چیز حد سے بڑھ کر اہم و موثر substantial ہے؛ کیونکہ ’’سنت‘‘ ہے ہی ایک چلا ہوا اور پٹا ہوا راستہ۔ ایک تسلسل سے کٹ کر، جب آدمی کسی چیز کو دیکھنے اور سمجھنے لگتا ہے تو اس کا زاویۂ نگاہ ضرور اُن لوگوں سے کچھ نہ کچھ مختلف ہوتا ہے جو اُس تسلسل کا حصہ چلے آئے ہیں؛ جبکہ استدلالات و استنباطات کے اندر بڑے بڑے لطیف مقامات بھی ہوتے ہیں۔ نیز ’’رائے‘‘ بنانے کے پیچھے بے شمار موثرات کام کررہے ہوتے ہیں؛ خصوصاً ’’اصول‘‘ اور ’’معیارات‘‘ وضع کرنے کے معاملہ میں۔

اِس چیز کو نظر انداز کر دینا ایسا ہی ہے کہ ایک ڈاکٹر یا ایک جراح محض کتابوں اور اپنے پڑھے ہوئے پر اعتماد کرتے ہوئے میدان میں اتر کھڑا ہو؛ حالانکہ علاج میں ایسے ایسے نازک مقامات آتے ہیں جن کیلئے ایک خاص درجے کی حذاقت ہی کام آتی ہے اور ایک چھوٹا سا ہاتھ ہولا یا ہاتھ بھاری رکھنے سے مریض کہیں سے کہیں جا پہنچتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ آدمی کو جس درجہ کی طبابت کرنی ہو اُسی درجہ کے طبیبوں اور جراحوں کے زیر نگاہ ایک طویل عرصہ گزار چکا ہو۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ اُس کی اِس اہلیت پر اپنی تسلی بھی ظاہر کر چکے ہوں۔

اوپر کی یہ مثال واضح ہو.. تو۔۔۔ علومِ شریعت کے حوالے سے یہاں پر ایک خصوصی شرط یہ ہوگی کہ آدمی کے وہ اساتذہ اور مربی پہلوں کی راہ پر ہوں، کیونکہ علومِ شریعت و نبوت میں کوئی ارتقاء نہیں ہے(حاشیہ۱۹)۔

لہٰذا یہ بات بھی نہایت اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے کہ: اصحابِ شریعت کا شریعت کی چیزوں کو پڑھنے پڑھانے اور سمجھنے سمجھانے کا داخلی طور پر جو ایک طریقہ پیچھے سے چلا آیا ہے، اور مقبول اور معروف رہا ہے، پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ آدمی اُسی کو اختیار کرے اور اُسی کی تربیت لے۔ یہ تو خیر سوچے بھی نہ کہ یہ راستہ خود اس کو

نیز اہل زیغ سے دور رہنا

 بنا کر دینا ہے؛ البتہ اُس تسلسل کو آگے بڑھانے کی اگر وہ اپنے اندر طاقت اور مقدرت پاتا ہو تو بھی سب سے پہلے وہ یہ کرے کہ پہلے سے چلے آنے والے اُس تسلسل کا حصہ بنے (والذین جاؤوا من بعدہم)۔ اور اِس بات کے جہاں اور کئی ایک تقاضے ہیں وہاں یہ بھی باقاعدہ ایک تقاضا ہے کہ آدمی پہلوں سے صرف اصول اور مبادی ہی نہ لے بلکہ اپنے قلب و فکر ونظر کیلئے پہلوں سے وہ باقاعدہ ایک جہت بھی لے، اور اس کیلئے اُن سے تربیت بھی حاصل کرے۔ یہاں تک کہ کثیر اہل علم نے اِس بات پر بھی بے حد وحساب زور دیا کہ وہ اہل زیغ سے دوری اختیار کر کے رکھے؛ کیونکہ ’’قلوب‘‘ ایک کمزور چیز ہیں، اثر لے لیتے ہیں۔

۔۔۔ ۔۔۔

یہ دونوں باتیں (پہلوں کے راستے کی پابندی + اِس راستے پر پائے جانے والے اساتذہ سے اپنی فکری ساخت کروانا، نیز اہل زیغ سے دور رہنا) ہو جائیں تو بھی کوئی ضمانت نہیں کہ ’’اَھواء‘‘ سے تحفظ حاصل کر لیا گیا ہے؛ کیونکہ ’’اَھواء‘‘ ہے ہی ایک ایسی ڈر کر رہنے کی چیز، اور اس کیلئے تو بہر حال تقویٰ، استقامت، فکر آخرت، زہد فی الدنیا، تعظیمِ خدواندی، سلاطین و اصحابِ نفوذ وثروت سے استغناء، حق کی نصرت اور اقامت کیلئے قربانی اور فدائیت، نبی ا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ قلبی و ذہنی لگاؤ اور کثرتِ درُود، پاسبانانِ حق ائمۂ سنت سے ایک علمی و جذباتی و تاریخی وابستگی، خدا سے توفیق ملنے کیلئے مسلسل دعا و فریاد و التجاء.. سب کچھ درکار رہتا ہے۔۔۔ لیکن کسی کے حق میں اگر یہ دو بنیادی کام ہی پورے ہونے سے ابھی رہ گئے ہوں اور وہ چل پڑا ہو امت کو اصول اور فروع دینے کی راہ پر، اُس کا تو خدا ہی حافظ ہے، اور اُس سے بڑھ کر اُن لوگوں کا جو اُس سے یہ اصول اور فروع لینے چل پڑے ہوں!

 

*****

 

پس ہر علم کے اندر ہی کچھ خاص معیارات اور کچھ خاص رجال کا پایا جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اُس علم کو اُس کے مسلمہ معیارات اور اُس کے مسلمہ رجال سے الگ کر کے دیکھنے پر بضد ہونا، کسی وقت اناڑی پن ہو سکتا ہے تو کسی وقت واردات کر جانے کا کوئی پیش خیمہ۔

لہٰذا یہ بات واضح رہے، ہر علم کے پڑھنے پڑھانے اور تعبیر و تفسیر و تطبیق کرنے کے حوالے سے :

۱) اُس علم کے کچھ خاص معیارات بھی ہوں گے اور اُس وقت سے ہوں گے جب سے وہ علم پایا جاتا ہے (حاشیہ۲۰)، (اُس میں کچھ ڈویلپمنٹ بھی ہو گی تو وہ اس کے اُس خاص تسلسل کا حصہ بن کر ہی ہو گی)..

۲) نیز یہ کہ اُس علم کے کچھ خاص رجال بھی ہوں گے۔۔۔۔

یعنی معیارات بھی اور رجال بھی۔ اِن ہر دو کے بغیر آپ ہمیں دنیا کا کوئی علم اور کوئی سائنس لا کر دکھا دیں۔

جس کو بھی ہمیں مارنا ہے، نہایت ضروری ہے کہ پہلے وہ یہ دو چیزیں ہمارے ہاتھ سے رکھوا لے: علم شریعت کے سلسلہ میں چودہ سو سال سے چلتے چلے آنے والے ہمارے معیارات اور رجال۔ پھر چاہے جیسے مرضی وہ ہم پر کسریں نکالے؛ اور تب یقیناًاُس کو یہ حق بھی ہو گا۔ اِدھر ہمارا بھی اگر مار کھانے کا ارادہ ہو تو ضروری ہے کہ یہ دو چیزیں ہی پہلے ہم اپنے ہاتھ سے دے دیں!

پس ایک شرعی علم میں مانے ہوئے معیارات کو پیچھے کر کے، یا اُن کو سرے سے نظرانداز کر کے، یا یہ صغریٰ باندھ کر کہ ’فقہاء کو یہ غلطی لگی ہے‘ ،۔۔۔ خاص اپنے معیارات لا کر دھر دینا.. اور امت کو صلائے عام دینا کہ پچھلی چیزوں کو بھول کر اب وہ اِن معیارات کو قبول کرلے... علاوہ ازیں، اس علم (شریعت) کے مانے تانے رجال کو ’’غیر موجود‘‘ کے حکم میں رکھتے ہوئے اور ایک باقاعدہ ایسا خلا پیدا کرتے ہوئے کہ چودہ صدیاں قریباً سائیں سائیں کرتی ہوئی نظر آئیں.. اور پھر اس مہیب خلا کو پر کرنے کیلئے جہاں کہیں ’حوالوں‘ کی کوئی فارمیلٹی پوری کرنے کی ضرورت پڑ ہی جائے وہاں اپنے ہی کسی ایک آدھ مردہ کو کافی جاننا... اور یہ باور کرانا کہ اِس راہ سے امت کو ’’معیارات‘‘ بھی دے دیے گئے ہیں اور ’’رجال‘‘ بھی، اصول بھی اور فتاویٰ بھی، استدلال و استنباط کے لئے مطلوب فارمیٹ بھی اور مضامین بھی ۔۔۔ اِس امت کے ساتھ ایک مذاق ہے اور اس کی شریعت کے ساتھ ایک کھلواڑ.. یہ بات ہر دور میں ہی صادق آئے گی لیکن آج جب آپ نظر اٹھا کر ایک خاص ’’جہانی عمل‘‘ 'an alarming global development' کو بھی حرکت میں دیکھتے ہیں، تو.. یہ اِس امت کے ساتھ ایک بہت بڑی واردات بھی ہے، خاص ایسے وقت پہ جب اِس گھر میں ہر طرف سے نقب ہی لگ رہے ہیں۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز