عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, September 19,2019 | 1441, مُحَرَّم 19
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
انتفاضۂ فلسطین امت کی امید، بیت المقدس کی آبرو
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

 
 

انتفاضۂ فلسطین

 
 

امت کی امید، بیت المقدس کی آبرو

 

 

’تاریخ میں ’مسلم عروج وزوال‘ کی داستان کا عنوان اگر ’بیت المقدس‘ ٹھہرا دیا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔ دیکھا جائے تو ’بیت المقدس‘ ہماری دینی و دنیاوی حالت کو جانچنے کا ایک زبردست پیمانہ رہا ہے۔ مکہ اور مدینہ ہمیشہ کیلئے خدا نے ویسے ہی ہمیں دے رکھے ہیں۔ بدترین سے بدترین حالات میں بھی کبھی ان کے چھننے کا سوال پیدا نہیں ہوا اور نہ ان شاءاللہ کبھی ہوسکتا ہے، جوکہ خدا کا ہم پر بے حد بڑا فضل ہے۔ تاہم ہمارا تیسرا مقدس ترین مقام بیت المقدس، جس کے کئی دعویدار ’موقعہ‘ کی تاک میں رہتے ہیں، البتہ ایک خاص زورِ بازو کا ضرورت مند رہا ہے۔ یہ خطہ کبھی بھی مجاہدین سے خالی رہا اور نہ مجاہدین کبھی بھی اس سے دور! ’بیت المقدس‘ اور ’جہاد‘ کا شاید کوئی ازل کا ساتھ ہے! ’رباط‘ کے گھوڑے ہمیشہ ہی مسجدِ اقصیٰ کے کھونٹوں سے بندھے رہے! یہاں نماز پڑھنے کی ہمیشہ ایک ’قیمت‘ رہی ہے!

باوجود اس کے کہ، چند نہایت محدود وقفوں کو نکال کر، پچھلے ڈیڑھ ہزار سال سے بیت المقدس بھی ہمارے ہی پاس رہا ہے، جوکہ ہم پر خدا کا فضل ہے، پھر بھی بیت المقدس کو پاس رکھنے کیلئے اکثر سانس پھول جاتی رہی ہے اور اس کی قیمت تو ہمیں مسلسل دینا پڑی ہے۔ جب بھی دین اور دنیا کے معاملہ میں ہمارا گراف ایک خاص نقطے سے نیچے گیا، بیت المقدس ہمارے ہاتھ سے چلا جانے کا سوال کھڑا ہوجاتا رہا۔ بہت بار یہ ہمارے ہاتھ سے جاتے جاتے بچا۔ دو یا تین بار چلا بھی گیا۔ جیسے ہی دین اور دنیا کے معاملہ میں ہمارا گراف بہتر ہوا بیت المقدس کا ہمیں واپس مل جانا پھر سے قریب دِکھنے لگا اور بالآخر ہمیں مل جاتا رہا۔

بیت المقدس کا ہمیں ملا رہنا شاید ہمیشہ اس سوال سے منسلک رہا ہے کہ صالح(1) بننے کی کوششیں اس امت کے اندر کس پائے کی ہورہی ہیں!

پہلی بار جب یہ ہم سے چھنا تو ہم پر ایک رافضی آندھی چھائی ہوئی تھی۔ عالم اسلام میں سنت مغلوب ہوچکی تھی۔ جہاد ایک بھولا ہوا سبق بن چکا تھا۔ بیت المقدس کے چھن جانے نے ہمیں پھر سے اپنی اصل بنیادیں یاد دلا دیں۔ امت اپنے علماءاور مجاہدین کے پیچھے کھڑی ہوئی اور چند عشروں میں بیت المقدس ہمیں واپس مل جانے کا ’معجزہ‘ رونما ہوگیا!

اِس بار یہ ہم سے چھنا تو ہم پر ایک سیکولر آندھی چھائی ہوئی تھی۔ خدا کو صرف ’عبادت خانوں‘ میں پوجنے کا فلسفہ رائجِ عام تصور بن گیا تھا۔ توحید قریب قریب روپوش ہوچکی تھی، یہاں تک کہ ایسے ’عبادت خانے‘ ہمارے یہاں وجود میں آچکے تھے جن کے اندر ’مذہبی‘ معنوں میں بھی غیر اللہ کی پوجا ہوتی تھی! ’دین‘ مظاہر کا نام تھا اور وہ ’مظاہر‘ بھی بہت تھوڑے لوگوں کے ہاں باقی رہ گئے تھے! لاتعداد انحرافات نے جو قدیم بھی تھے اور جدید بھی، راہِ سنت کو نہ صرف چھپا رکھا تھا بلکہ لگتا تھا ’اسلام‘ ہی یہ ہے! جہاد نہ صرف متروک ہوگیا تھا بلکہ اس بار جہاد کا تصور بھی مسخ ہوکر رہ گیا تھا۔

چنانچہ اس بار تو ہمارا بہت کچھ گیا۔ بلکہ کچھ بھی گویا نہیں بچا۔ ہمارے جو قیمتی ترین اثاثہ جات ہم سے چھنے اور جن کی فہرست نہایت طویل ہے، ان میں ہمارا ’بیت المقدس‘ بھی تھا جس میں یہود آج دندنا رہے ہیں اور جس کے اطراف واکناف میں مسلم مائیں اور بیٹیاں بے بسی کی تصویر بنی، اپنے گھروں پر بلڈوزر پھرتے اور میزائل برستے دیکھنا اپنے حق میں ایک معمول کی بات سمجھنے لگی ہیں۔ ان کی کچھ نہ کچھ تصویریں عالمی پریس میں چھپ ہی جاتی ہیں، اور پھر عالمی پریس کا پیروکار ’ہمارا‘ میڈیا بھی یہ تصویریں کچھ نہ کچھ چھاپ ہی دیتا ہے جب وہ اپنے کھنڈر بنے گھروں سے کفن میں لپٹے شہیدوں کے لوتھڑے دفن کیلئے روانہ کررہی ہوتی ہیں۔ تصویروں اور ٹی وی سکرینوں پر ان کے آسمان کی جانب اٹھے ہاتھ ہی نظر آسکتے ہیں، دلوں کی حالت کیا ہوگی، اسے محسوس کرنے کیلئے تو دل ہی چاہئیں!

 

٭٭٭٭٭

 

آج سے کوئی صدی بھر پہلے، ہم پر رونے والا ایک شخص بے بسی سے یوں رویا تھا:

وائے ناکامی، متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا!

آج ہم دیکھتے ہیں وہ زرخیز مٹی جسے ذرا ہی ’نم‘ کی ضرورت تھی، سونا اگلنے لگی ہے! صدی بھر، قرآن پڑھانے والوں نے اِس کے بچوں کو قرآن پڑھایا۔ توحید سکھانے والوں نے توحید کو اِن کی گھٹی میں ازسرنو اتارا۔ سنت کا اِحیاءکرنے والوں نے راہِ سنت پر سے گرد کے ڈھیر ہٹانے کیلئے رات دن ایک کیا۔ خدا کی جانب لوٹ آنے کی ’آواز‘ اس کے گلی محلوں میں مسلسل اونچی کی جانے لگی۔ عورتیں ، بچے ، جوان سبھی اس مبارک عمل کا حصہ بن جانے کیلئے جوق در جوق بڑھے جس کو ’اجتماعی توبہ‘ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ معاشرتی سطح پر تقویٰ اور فرماں برداری کے یہ مناظر روز بروز پزیرائی پانے لگے اور مسلسل رو بہ ترقی ہیں۔ اشتراکیت، قومیت، سرمایہ داری، سلطانیِ جمہور اور سیکولرزم کے نعرے دفن کروا دینے پر داعیوں کو ایک طویل محنت کرنا پڑی، جو اب جا کر اپنے اثرات دکھانے لگی ہے۔ اصلاح کی صدا بلند کرنے والوں نے خدا کے حق میں بولنے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کو خاطر میں نہ لانے کی نئی مثالیں رقم کیں، یہاں تک کہ اِس کے کئی ایک ملکوں میں کلمہ گویانِ حق کیلئے جیلیں اور قیدخانے کم پڑگئے! کئی سربلندوں نے پھانسی کے پھندوں کو آگے بڑھ کر چوما! نسلوں کی تقصیر پر شہادتوں کے کفارے دیے گئے! جہادی قیادتیں اس چمن کی روٹھی ہوئی بہاروں کو منا لانے کیلئے اپنے خون کو کام میں لانے کی زریں مثالیں پیش کرنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے امت کے نوجوان ان کے پیچھے یوں ہو لئے گویا ماؤں نے بچے صرف جہاد کیلئے جنے ہیں.... اور آج یہ عالم ہے کہ پورا عالم اسلام، مراکش تا انڈونیشیا، کفر کے عالمی اقتدار کے پاؤں تلے ایک کھولتا آتش فشاں بننے جارہا ہے! ایک دو نہیں کفر کے سارے ہی تخت ڈولنے لگے ہیں! سب طاغوتوں کے عرش آج لرز رہے ہیں۔ بڑے بڑے فرعون غرق ہونے کو ہیں۔ اور وہ یہودی سامری جو اس پورے طلسم کدے کے پیچھے چھپا اصل کردار تھے ، اپنا سارا جادو قرآن کے ہاتھوں یوں بے اثر ہوتا دیکھ کر کف افسوس مل رہے ہیں۔ ’اسلامی بیداری‘ ان سب کی نیندیں حرام کرچکی! ایک نہایت عجیب نقشہ، کہ تاریخ میں شاید کبھی نہ دیکھا گیا ہوگا، پوری دنیا کو سر تا پیر بدل دینے کیلئے دھیرے دھیرے نمودار ہونے لگا ہے!!! وہ ہمارا نقشہ تبدیل کرنے آئے تھے، آج ان کا اپنا نقشہ تبدیل ہو جانے کو ہے اور پوری دنیا ایک حیرت ناک تبدیلی کے دھانے پر کھڑی ہے!!!

اب تو اقصیٰ ہی کیا، ’متاعِ کارواں‘ کی نہ جانے کیا کیا چیز جو کھو دی گئی تھی واپس آنے والی ہے! اتنی بڑی امت کو، جو قرآن کی دولت پاس رکھتی ہے، صیہونیت اور صلیبیت دو سو سال تک جگاتی رہی، آخر کچھ تو ہونا تھا! اب جب بیداری اِس کے جسم میں کروٹیں لے رہی ہے، باطل کو اس کے یہاں سے رخصت کر دینے کی تیاریاں ہورہی ہیں، حق سے تمسک کی تحریکیں روز بروز مقبول ہو رہی ہیں.. تو خدا کی نصرت بھی روز بروز (ان شاءاللہ) قریب ہونے لگی ہے۔ اس کے آثار تو بہت واضح نظر آنے لگے ہیں۔

پس آج ہم دیکھتے ہیں ’اسلامی بیداری‘ جس طرح بڑھتی جارہی ہے، دین کی حقیقت جس طرح امت کے نوجوانوں میں عود کر آئی ہے اور مسلسل روبہ ترقی ہے، ویسے ویسے عالمی جہادی عمل مضبوط سے مضبوط تر ہورہا ہے۔ یہ خدا کی اس امت پر خاص رحمت ہے۔ اپنی اس بار کی نشأۃ کے موقعہ پر تو ہم دیکھتے ہیں، ہمارا جہادی عمل شاید ابھی اتنا طاقتور نہیں ہوتا کہ دشمن کی حالت اس سے پہلے غیر ہونے لگتی ہے!

الحمد للہ، مجموعی طور پر گراف پھر سے اوپر جا رہا ہے۔ امت کے کئی سنجیدہ طبقوں کا ٹھیک ٹھاک زور صرف ہورہا ہے۔ یہ خدا کا ہی فضل ہے کہ اُسکی نصرت کے اسباب روز بروز بڑھ رہے ہیں!

یقینا بہت تھوڑا فاصلہ ابھی طے ہوا ہے۔ بہت زیادہ کام باقی پڑا ہے۔ پھر بھی امیدوں کی گھٹائیں دیکھنے میں آنے لگی ہیں۔ خوف کے سائے بہر حال سمٹنے لگے ہیں۔ ایک بہت تھوڑی تعداد نے صدی بھر کی محنت سے خدا کے فضل سے معاملے کو یہاں پہنچا دیا ہے اور سرخروئی کی خوب مثالیں پیش کر دی ہیں۔ تو اب اگر یہ پوری امت یا اس کا ایک بڑا طبقہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، جس کا امکان روز بروز بڑھ رہا ہے، اور جس پر کہ اب زور دے دیا جانے کی اشد ضرورت ہے، تو کفر کا یہ بیت العنکبوت کب تک قائم رہ پائے گا۔

ابھی دو عشرے پہلے کی بات ہے ’اسرائیلی عزائم‘ دنیا کے اندر ہر جگہ زیر بحث تھے۔ ’یہودی سیانوں‘ کے پروٹوکولز ہر مجلس کا موضوع تھے۔ ہر کسی کی زبان پر ’نیل تا فرات‘ کو لینے کے اسرائیلی منصوبوں سے متعلق خدشات کا ذکر تھا۔’وسیع تر اسرائیلی ریاست‘ جس کے اندر خیبر اور مدینہ تک دکھایا جارہا تھا، کے نقشے آئے روز ذرائع ابلاغ میں چھپتے تھے، جنہیں دیکھ کر ہول آتا تھا۔ دو عشرے نہیں گزرتے کہ قریب قریب ہر زبان پر ’اسرائیل کی بقا‘ کا سوال سنا جارہا ہے! ’اسرائیل کی توسیع‘ کے منصوبے تو لگتا ہے کسی بہت ہی پرانے زمانے کی باتیں ہیں! جہاد کو دبا لینے کے سب جتن کر لئے گئے مگر یہ مسلسل ان کی پریشانی بڑھا رہا ہے!

جس طرح آج ہر شخص یہ دیکھ رہا ہے کہ امریکہ کیلئے عراق اور افغانستان پر اپنا قبضہ مستحکم کر لینا اب نرا ایک خواب ہے اور یہ کہ امریکہ کا یہاں سے نکلنا اب ٹھہر گیا ہے زیادہ سے زیادہ دیکھنے کی بات رہ گئی ہے تو وہ یہ کہ امریکہ کی پسپائی کتنی دیر لیتی ہے، اس سے کہیں واضح طور پر آدمی یہ دیکھ سکتا ہے کہ عراق اور افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد، جوکہ خطے میں امریکی اثرورسوخ کیلئے ایک بے حد بڑا دھچکا ہوگا، بلکہ عالمی توازن کے اندر یہاں سے ایک نیا باب شروع ہونے والا ہے، اسرائیل کا مستقبل یہاں آخری حد تک تاریک ہے۔ اب یہ بات ’تجزیوں‘ سے آگے گزر چکی۔ یہ اب نوشتۂ دیوار ہے۔

جیسے جیسے خطے کے اندر امریکی اور اسرائیلی مفادات پر رات پڑ رہی ہے ویسے ویسے عالم اسلام پر ایک نہایت خوشگوار صبح طلوع ہو رہی ہے! حقیقت یہ ہے یہ خوشگوار صبح صرف عالم اسلام پر نہیں پوری انسانیت پر طلوع ہونے والی ہے اور مستضعفین فی الارض کے حق میں دنیا کی رُت بدلنے والی ہے! یہ ’صبح کی روشنی‘ جو اب رفتہ رفتہ اونچی ہونے لگی ہے، یہاں تک کہ لاطینی امریکہ کی مظلوم نصرانی قومیں تک اس سے لو پانے لگی ہیں، بلاشبہہ شہیدوں کے لہو کی مرہونِ منت ہے، کہ اس امت کو اس مایوس کن اندھیری رات کے بعد پھر ایک صبح لا دینے کا معجزہ انہی کے دم قدم سے ہونے جارہا ہے۔

جہاں یہ بہار، عالم اسلام کے کئی اور خطوں کو مہکانے جا رہی ہے، وہاں خطۂ شام میں جہاد اور مجاہدین کی اس رُت کو ’انتفاضۂ فلسطین‘ کا نام ملا ہے!

 

٭٭٭٭٭

 

’انتفاضہ‘ کا عربی میں مطلب ہے ’ہلچل‘، ’اٹھ کھڑے ہونا‘، ’سکوت اور عدمِ حرکت کو خیر باد کہہ دینا‘ اور ’شدت کے ساتھ برسرِ عمل ہونے کی دہائی پڑ جانا‘۔

80 ءکی دہائی کے وسط کے کچھ بعد، کہ جب جہادِ افغانستان کی فصل پکتی نظر آنے لگی تھی، تب بیت المقدس کے اس جہاد نے بھی جو افغانستان سے کئی عشرے پہلے سے جاری تھا، ایک نئی کروٹ لی۔ فلسطین کی گلی گلی، چھوٹے چھوٹے بچے ہاتھوں میں پتھر لئے سڑکوں پر نکل آئے تھے اور اسرائیل کے فوجیوں کے آگے سینہ سپر ہو کر کھڑے ہوگئے تھے۔ دیکھنے والوں کا خیال تھا غزہ کی پٹی میں واقع خیمہ بستی ’جبالیا‘ میں ایک اسرائیلی ٹرک کے ہاتھوں چار فلسطینی مزدوروں کے بربریت کے ساتھ کچل دیے جانے کے اندوہناک واقعہ کے خلاف فلسطینیوں کا یہ ایک شدید مگر وقتی سا رد عمل ہے جو آس پاس کے کچھ شہروں میں بھڑک اٹھا ہے، مگر فلسطین کے بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور عورتوں نے برسوں اسی سرفروشی کو برقرار رکھ کر پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ یہ ایک ’واقعہ‘ کا رد عمل نہیں، اس کے پیچھے اسلامی قیادتوں کی منصوبہ بندی کام کررہی تھی۔ یہ فلسطین کی اسلامی بیداری تھی، جو دراصل ایک نئے پختہ تر مرحلے میں داخل ہوئی تھی۔ اس کو انتفاضۂ اولیٰ کا نام دیا گیا۔

انتفاضۂ اولیٰ کوئی عشرہ بھر چلی۔ مگر یہ اپنی تاثیر میں اس قدر شدید تھی کہ ظلم کی قوتوں نے، جو سمجھ رہی تھیں کہ کچھ عشروں کے قہر و تشدد کے بعد معاملہ ان کے کنٹرول میں آجانے لگا ہے، اس انتفاضہ کے اندر بہت دور رس پیغام پڑھ لئے۔ چنانچہ چند ہی سالوں میں میڈریڈ کے معاہدۂ امن (1991ء)کا ڈول ڈال دیا گیا، امریکہ کی بھاگ دوڑ کے نتیجے میں پھر اوسلو مذاکرات ہوئے، یہاں تک کہ 1993ءمیں یاسر عرفات نے وائٹ ہاؤس میں کلنٹن کو بیچ میں کھڑا کرکے اسحاق رابن کے ساتھ تاریخی مصافحہ کیا، اور غزہ کی ایک بلدیہ نما ’فلسطینی اتھارٹی‘ کا پرمٹ لے کر فلسطینی قوم کو ’حقوق‘ مل جانے کا مژدہ سنایا۔ مگر فلسطینیوں کی انتفاضہ جس راستے پر چل پڑی تھی وہ اسرائیل کے ان سب ناٹکوں سے اب بے نیاز تھا۔ فلسطین قومی اور وطنی نعروں کو چھوڑ کر ’جہاد‘ کے راستے پر یکسو اور یک آواز ہورہا تھا۔ فلسطین کی لادین قیادتوں کو رجھانے میں اسرائیل غیر ضروری طور پر لیٹ ہوگیا تھا اور معاملہ ’اسلام پسندوں‘ کے ہاتھ میں آچکا تھا!

2000ءمیں انتفاضۂ ثانیہ شروع ہوتی ہے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب اس وقت کی اپوزیشن پارٹی ’لیکوڈ‘ کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ایریل شیرون نے اسرائیلی قوم کا ہیرو بننے کیلئے یہ شر انگیز اعلان کیا کہ وہ احاطۂ اقصیٰ میں گھس کر ’ہیکل سلیمانی‘ والے پہاڑ پر ہیکل کا سنگ بنیاد رکھ کر آئے گا۔ پھر کیا تھا، اقصیٰ کے نمازی اس دن موت کیلئے گھروں سے ہی تیار ہوکر آئے تھے۔ ایریل شیرون جو اپنے پیروکاروں کی بھاری تعداد اور پولیس کی ایک بڑی نفری کی حفاظت میں مسجد کے اندر گھسنے میں کامیاب ہوگیا تھا، اپنے اس مکرہ ارادے کو تو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکا البتہ فلسطین کی انتفاضۂ ثانیہ کو ایک بنیاد ضرور فراہم کر گیا۔ بیت المقدس کے نمازی اس پر واضح کر چکے تھے کہ وہ اپنی مطلوبہ جگہ تک اقصیٰ کے آخری نمازی کی لاش گرا لینے کے بعد ہی پہنچ سکتا ہے۔تب مسجد کے اندر اور باہر بہت سی لاشیں گریں۔ بیت المقدس کی متعدد سڑکیں اور بازار اس دن مسلم خون سے سرخ ہوئے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں نے بہادری سے جان دی۔خون اتنا ہوگیا کہ شیرون الیکشن جیت لینے کی بنیاد بنا چکا تھا، لہٰذا ’ہیکل‘ کی بنیاد رکھنے کی فی الحال ضرورت نہ رہی تھی! تاہم انتفاضہ کی آگ بیت المقدس سے بڑھتی ہوئی سب فلسطینی شہروں کے اندر پھیل گئی اور بالآخر ایک ایسے الاؤ کی صورت دھار گئی جس پر قابو پالینا پھر کسی ڈپلومیسی کے بس کی بات نہ رہی۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو انتفاضۂ اولیٰ اگر فلسطین کی خیمہ بستیوں سے پھوٹی تھی تو یہ انتفاضۂ ثانیہ بیت المقدس بلکہ عین مسجدِ اقصائے مبارک کے صحن سے طلوع ہوئی!

انتفاضۂ اولیٰ اگر پتھروں اور غلیلوں پر سہارا کر رہی تھی اور ایک عوامی رو تک محدود تھی، تو انتفاضۂ ثانیہ کے ہاتھ میں پتھر بھی تھے، اور کہیں کہیں گولی بھی اور پھر رفتہ رفتہ گوریلا عمل بھی۔ جلد ہی معاملہ گولی اور راکٹ سے بھی بھاری ہتھیاروں پر چلا گیا۔ ایک نہایت ہلکی آنچ پر یہودی قبضہ کاروں اور آباد یاتی منصوبہ سازوں کو سینک پہنچانے کا کام بظاہر یہاں وہاں ہونے والی کچھ کارروائیوں کی صورت مگر درحقیقت ایک بہت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شروع کردیا گیا تھا۔ زیادہ تر کارروائیاں اسرائیل کے اہم اہم فوجی اہداف پر ہورہی تھیں اور اگر کوئی کارروائی بظاہر غیر فوجی ہدف پر تھی، تو اس کے پیچھے بھی وہ بہت سی ان کہی کہانیاں تھیں جنہیں ’طرفین‘ ہی بخوبی سمجھ سکتے تھے! حماس، الجہاد الاسلامی، کتائب الاقصیٰ وغیرہ وغیرہ ایسی کئی جہادی جماعتوں کا نام لوگ سن تو بہت پہلے سے رہے تھے مگر اب انہیں ایک قوت کے طور پر جاننے لگے تھے۔

انتفاضۂ اولیٰ کی راہ میں اگر ’امن معاہدوں‘ کے بند باندھنے کی کوششیں ہوئی تھیں ، تو انتفاضۂ ثانیہ نے وہ سب کے سب بند توڑ دیے تھے۔ اس بے قابو طوفان سے بچنے کیلئے یہودی اب کیا تدبیر کریں؟! ’امن معاہدہ‘ سب سے بڑا کارڈ تھا جو کھیل لیا گیا۔ ایک ’آزاد فلسطینی ریاست‘ کا کارڈ رہ جاتا ہے، مگر اسے کھیلنے کی ہمت کون کرے؟!فلسطینی ’اسلام پسند‘ کیا ’سیکولر‘، ایک بے انتہا سمجھدار قوم ہے، شرح خواندگی قریب قریب سو فیصد ہے اور پون صدی کی آزمائشوں کی بھٹی نے اس کو کندن کر دیا ہے۔ ایک آزاد ملک اگر ان کے ہاتھ آجاتا ہے تو یہاں کسی ’بنگلہ دیش‘ کا امکان نہیں۔ یہ باقی کا فلسطین لینے کے معاملہ میں پورے عالم اسلام کیلئے ایک بیس کیمپ ہی بنے تو بنے!فلسطینیوں کو ایک خودمختار ملک دے دینا پس ایک بہت بڑا جوا ہے۔ مگر آخر کب تک اس انتفاضہ کی آنچ سہی جائے؟! کوئی ایک عشرہ ہونے کو ہے یہودی قبضہ کاروں کے گھر لرز رہے ہیں۔ چین کی نیند سونے کیلئے اسرائیل اب صحیح جگہ نہیں! فلسطینیوں کو چین نصیب نہیں جوکہ گھر والے ہیں تو ان کے گھروں پر قبضہ کرنے والے یہاں کیونکر بے خوفی کی نیند سوئیں، اس بات کا انتظام فلسطین کے ان نوجوانوں نے اب کوئی عشرے بھر سے کر رکھا ہے جن کی دنیا کے اندر سب سے بڑی آرزو خدا کے راستے میں شہادت پانا ہے!

فلسطینیوں پر گولی، لاٹھی، تشدد، گھروں کو مسمار کردینا، میزائلوں سے محلوں کے محلے بھسم کردینا، معاشی حصار.. سب حربے آزمائے جارہے ہیں، غزہ کا پورا شہر ایک بہت بڑی جیل بنا دیا گیا ہے جہاں روٹی، سبزی اور دالیں تک پہنچنے کے سب راستے مسدود کر دیے جاتے ہیں،فلسطینی بھوک سے مرنے پر مجبور ہیں، دوائیوں کے بغیر بچے ہسپتالوں میں بلک بلک کر جان دے رہے ہیں۔ مگر غزہ کے چھوٹے بڑے، عورتیں مرد، پوری قوم عزم کئے ہوئے ہے کہ اسرائیلیوں کے سامنے تکلیف سے اف تک نہ کرے گی۔

حیرت ہے تو صرف یہ کہ ساتھ کے عرب ملکوں کے دستر خوانوں پر پورے پورے بکرے اور اونٹ روسٹ ہو کر دھرے جاتے ہیں ۔ آدھا کھایا اور زیادہ کوڑے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ بے شک یہ ملک ’خیرات‘ نہ کریں ، ان کے بچے ہوئے دسترخوان ہی نہ صرف فلسطین بلکہ پاس میں صومالیہ اور ارٹریا اور اب تو عراق کے اندر بھوک سے دہری ہوئی جاتی کمروں کی وہ رمق بحال کر سکتے ہیں ، جس پر آج امت کی آبرو بحال ہونے کا سوال انحصار کرنے لگا ہے۔

مسلم پامردی، کہ خدا پر توکل کا نتیجہ ہو، ہمیشہ نصرت خداوندی کا داعیہ بنتی ہے۔ آج یہ حال ہے کہ دنیا کی سب سے کائیاں قوم کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا!

صرف ایک حربہ تھا جو انتفاضۂ ثانیہ کو پٹڑی سے اتار سکتا تھا۔ امن معاہدہ کے بعد یہودیوں کو اس کارڈ سے امید بھی بہت زیادہ تھی۔ یہ تھا فلسطینیوں کے مابین خانہ جنگی کرا دینا، جس کی بنیاد یہ ہوتی کہ پی ایل او اپنے امن معاہدے کے تحفظ میں اتنی آگے چلی جائے کہ فلسطین کے جہادیوں کو جنگ بندی پر بزور مجبور کرے اور ان کے نہ رکنے کی صورت میں خود ہی ان کے ساتھ جنگ شروع کردے۔ دوسری جانب جہادیوں کو ابھارا جائے کہ یاسر عرفات اور پی ایل او ایسی لادین پارٹی کے خلاف، جوکہ دشمن کے ساتھ امن معاہدہ بھی کر چکی ہے، جنگ شروع کردیں۔ یوں اگر فلسطینی ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگ جاتے ہیں تو اسرائیل کی جان چھوٹ جاتی ہے! دونوں طرف ہتھیاروں کا خرچہ اٹھانا کچھ ایسا مشکل نہیں! مگر فلسطین کے اسلامی کیا سیکولر دونوں طبقوں کی سیاسی پختگی کی داد دینا پڑتی ہے کہ یہود کی تمام تر سازشوں کے باوجود فلسطینیوں نے ان کی یہ حسرت پوری نہ ہونے دی۔ اس کا سہرا اگر خاص ایک آدمی کے سر جاتا ہے تو وہ ہے جہادِ فلسطین کی نہایت صاحبِ بصیرت شخصیت شیخ احمد یاسین! اللہ ان کی شہادت قبول کرے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے وہیل چیئر پر بیٹھ کر اپنی قوم کو جہاد پر کھڑا کیا اور بڑے بڑے جذباتی اور گھمبیر لمحات پر بھی اس کو کوئی ایسی غلطی نہ کرنے دی، جس پر یہودی اوباش بغلیں بجائیں۔ احمد یاسین، جو حماس کے سربکف نوجوانوں کے دلوں میں بستا تھا، کا ان کو کہنا تھا کہ یہودیوں کو وہ چیز کسی بھی قیمت پر نہ دی جائے جسے وہ ان کو جذباتی کر کے اس وقت ان سے لینے کی کوشش کر رہے ہیں اور جس کیلئے یہود درحقیقت بے صبرے ہوئے جاتے ہیں۔

شیخ احمد یاسین اور پھر عبد العزیز رنتیسی کی شہادت کے کچھ دیر بعد چند واقعات ایسے ہوئے کہ فتح اور حماس کے مابین جھڑپوں تک نوبت پہنچی۔قریب تھا کہ یہودی اس پر جشن کرتے مگر فلسطین کے سیانے صورت حال پر قابو پانے میں پھر بھی کامیاب ہوگئے۔ فلسطینیوں کی ہر گولی اس وقت ایک ہی دشمن کیلئے ہے اور وہ دشمن اس پوری قوم کا بلکہ پوری امت کا ازلی دشمن ہے۔ ہزار مصیبتوں کے باوجود اس پہلو سے فلسطینیوں کو یکسوئی حاصل ہے، جس سے ان کے تیر ہدف پر پڑنے کا امکان بے حد بڑھ گیا ہے۔

 

٭٭٭٭٭

 

مسلمانوں کا اصل ہتھیار اس وقت ان کی بہادری اور فدائیت ہے۔ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں حماس اپنے ہتھیاروں کو بہتر اور مؤثر بنانے پر دن رات کام کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں ’میزائل قسّام‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے، جو بہت سادہ اور ’دیسی‘ قسم کا ہتھیار سہی، مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ ان حالات کے اندر جن سے انتفاضہ گزر رہی ہے حماس یہ میزائل خود تیار کرتی ہے اور اس سے نہایت خوب کام لیا جا رہا ہے۔

یہ میزائل عِزُّ الدّین قَسَّام کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جو ایک شامی مجاہد راہنما تھا اور 1935ءمیں بہادری سے لڑتا ہوا اس وقت شہید ہوا تھا، جب فلسطین پر قابض برطانوی اور یہودی افواج کے خلاف خطہ کے مسلمان جہاد کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

واشنگٹن پالیسی انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ سے شائع شدہ ایک رپورٹ بہ عنوان Development and Impact of the Qassam Rocket: Weapon of Terrorمؤلفہ Margaret Weiss میں کہا گیا ہے کہ میزائل قسام فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین جنگ کے توازن پر اثرانداز ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔ مارگریٹ کا کہنا ہے حماس نے پہلی بار یہ میزائل 2001ءمیں استعمال کیا تھا، یعنی انتفاضۂ ثانیہ کے آغاز کے ایک سال کے اندر اندر۔ یہ مسئلہ حماس تک محدود نہیں رہا، حرکۃ الجہاد الاسلامی ’صواریخ القدس‘ کے نام سے اپنے راکٹ پروگرام کو ترقی دینے میں لگی ہے۔ کتائب شہداءالاقصیٰ ’صواریخ الاقصیٰ‘ کے نام سے ایک پروگرام پر عمل پیرا ہے اور لجان المقاومۃ الشعبیۃ ’صواریخ ناصر‘ کے نام سے!

رپورٹ کا کہنا ہے، ’صواریخ قسام‘ کی یہ کمزوری کہ اس میں عین نشانے کے اوپر جاکر پڑنے کی صلاحیت بہت کم ہے، اسرائیلیوں کے مابین اس راکٹ کی بابت اور بھی ہول پھیلا دینے کا باعث بنی ہے! رپورٹ، حماس کے ایک راہنما محمود الظہار کے London's Sunday کو بھیجے گئے ایک ٹیلیگرام کا حوالہ دیتی ہے کہ فلسطینی، بموں کی بجائے اب یہ میزائل داغنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اس کا نشانہ بہت پختہ نہیں تو بھی کیا، اسرائیلیوں پر یہ جہاں بھی پڑے! الظہارکا کہنا ہے ’قسام‘ اسرائیلی آبادکاروں کو واپس بھگانے اور ان کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے میں بے حد کامیاب جارہا ہے۔

مارگریٹ کی رپورٹ بتاتی ہے، بعض مہینوں کے اندر حماس کی جانب سے اسرائیلیوں پر گرائے جانے والے ان میزائلوں کی تعدا د دو سو تک پہنچ جاتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ امسال (2008ء) مارچ کے پہلے ایک ہفتے میں ہی ایسے سو سے زائد راکٹ داغے گئے۔

 

٭٭٭٭٭

 

’انتفاضۂ فلسطین‘ طویل عرصے بعد سرزمینِ مقدس کے افق پر طلوع ہوئی ہے۔ یہ ایک نہایت مبارک پیش رفت ہے۔ یوں سمجھئے یہ فلسطین کی آزادی کا اسلامی ایجنڈا ہے۔ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ہم پی ایل او اور اس کے عسکری ونگ ’فتح‘ کی کارگزاریاں سنا کرتے تھے۔ آج یہ لادین ایجنڈے فلسطینیوں کے مابین اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں....

کوئی پڑھنا چاہے تو خدائی تقدیر کو حرکت میں آتا آج بخوبی پڑھ سکتا ہے۔ فلسطین میں پی ایل او کی بجائے حماس اور الجہاد الاسلامی اور کتائبِ اقصیٰ ہی اب لوگوں کے دلوں میں بستی ہیں۔عراق میں ’بعث‘ قصۂ پارینہ ہوئی، صرف جہادی گروہ ہی امت کی امید رہ گئے ہیں۔ افغان جہاد کی قیادت آج راسخ العقیدہ مسلمان ہاتھوں میں ہے۔ کشمیر میں لبریشن فرنٹ ماضی کاحصہ بنی، اسلام سے وابستہ قوتیں ہی آج آزادیِ کشمیر کی پہنچان ہیں۔ صومال میں فرح عیدید اور دیگر دین سے ناآشنا قبائلی شملہ برداروں کا دور تمام ہوا، آج محاکم اسلامیہ ہی قوم کی آرزوؤں کی نمائندہ ہیں....

چنانچہ ’انتفاضہ‘ کا نام آپ جب بھی سنتے ہیں، فلسطین کی ایک ’قومی‘ تصویر کی بجائے ایک ’اسلامی‘ تصویر ہی آپ کے پردۂ ذہن پراجاگر ہوتی ہے۔ کمیاں کوتاہیاں ہر جگہ ہوتی ہیں۔ ان پر کام کرنے کی ضرورت بھی رہتی ہے، جوکہ ہو بھی رہا ہے اور مزید کی گنجائش بھی بہت ہے، اور اس کے لئے صلائے عام بھی ہے، مگر ’انتفاضہ‘ کی صورت میں فلسطین اپنی وہ پہنچان یقینا پا چکا ہے، اور وہ سمت بھی، جو اس کو صرف اور صرف اسلام اور امت سے ہی وابستہ کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فرق آنے کے ساتھ ہی، پورے عالم اسلام خصوصا جزیرۂ عرب کے علماءکی ایک کثیر تعداد جہادِ فلسطین کی پشت پر آگئی ہے۔ ان علماءنے اپیل کی ہے کہ بیت المقدس میں رباط کر رکھنے والی اس قوم کے حق میں پوری امتِ اسلام کو متحرک اور متوجہ کیا جائے۔ ہمارا یہ سطور لکھنا ان کی اسی اپیل پر لبیک کہنا ہے۔ آپ بھی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ امت میں علماءکی صدا پر اٹھ کھڑے ہونے کا یہ منہج آج ازسر نو بحال ہو، تو اس صدا کو عام کرنے میں حصہ لیجئے۔

فلسطین قریب قریب پورے کا پورا اس وقت حالتِ رباط میں ہے۔ قربانیاں، جن کا حساب نہیں۔ ایک ایک لمحہ گزرنا دوبھر ہورہا ہے۔ صبر کا عجیب امتحان ہے۔ قوم مصائب کے پہاڑ اٹھائے کھڑی ہے، مگر ثابت قدم ہے اور یہود پر ثابت کر رہی ہے کہ یہ ملک وہ نہیں جس میں غاصبانہ قدم رکھ کر وہ سو سو بار نہ پچھتائیں اور اس وقت کو نہ روئیں جب انکے بڑوں نے انکو مرنے کیلئے یہاں چھوڑ دیا تھا۔ آج یہود اگر دیکھیں تو آئندہ سو سال تک بھی امید کی کوئی ایسی صورت باقی نہیں کہ وہ زمین کے اس گوشے میں ’مالکوں‘ کی طرح رہ لیں گے۔ ہزار سال تک امید نہیں۔ انتفاضہ نے ابھی اور کچھ کیا ہو یا نہ، ان یہودیوں کو جو اپنی بچی کھچی نسلوں کیلئے پریشان اور نہایت خوبصورت بنگلوں اور اپارٹمنٹ بلڈنگوں میں عیش سے بسنے اور تل ابیب کے ساحلوں پر خرمستیاں کرنے اور فلسطینیوں کو اپنے بنگلوں میں چوکیدار اور اپنی فیکٹریوں میں کم نرخ مزدور بھرتی کرنے کے خواب لے کر یہاں آئے تھے.... انتفاضہ نے ان یہودی مہاجنوں کو معاملے کی یہ تصویر ضرور دکھا دی ہے کہ یہ زمین انکے پاؤں تلے لرزتی ہی رہے گی اور یہ کہ فلسطین کی گلیوں میں چلتے ہوئے اپنی کھوپڑیوں کی حفاظت کرنا انکی ترجیحات میں سرفہرست ہی رہے گا!

انتفاضہ کا یہ پیغام دراصل اس سے بھی دوررس ہے اور یہودی ناسمجھ نہیں کہ اسکو پڑھ نہ پائیں۔ سرزمینِ مقدس کا یہود کے پاؤں تلے یوں دھیرے دھیرے ہلنا، تصویر کا ابھی ایک نہایت چھوٹا اور ناقابل ذکر حصہ ہے۔ یہ تو اِسی رفتار سے ابھی صرف جاری رہ لے تو سمجھئے فلسطینی بہت بڑا کام کر رہے ہیں۔ عالمِ اسلام کی اصل جنگ دراصل امریکن ایمپائر کو گرانے کیلئے ہو رہی ہے۔ یہ ہاتھی بھی عنقریب گرنے کو ہے۔ صورت حال کی اصل تصویر اس دن دیکھنے کی ہوگی، اور وہ دن شاید اب بہت دور نہیں، جب یہ لے پالک یہودی ریاست اپنے سب پشتبان اور اپنے سب سہارے کھو بیٹھے گی، جب خطے میں آوارہ پھرتے امریکی بحری بیڑے جو پاس کی اسرئیلی ریاست کی جانب غلط انداز سے دیکھ لینے پر بھی خطہ کی عرب ریاستوں کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں اور ان پر ہول طاری کرکے رکھتے ہیں کہ وہ یہاں سے امداد کا ایک دانہ بھی انتفاضہ یا کسی بھی جہادی عمل کو نہ پہنچنے دیں..امریکہ کے یہ طیارہ بردار متحرک ’جزیرے‘ جب اپنی یہ سب پابندیاں عائد کر رکھنے سے قاصر ہوجائیں گے، بلکہ یہاں رہ ہی نہ پائیں گے۔ تصور کیجئے جب امریکہ کی دہشت یہاں کی حکومتوں پر سے جاتی رہے اور یہ حکومتیں مجاہدین کے راستے میں اڑ کر بیٹھنے کا وتیرہ چھوڑ دینے پر مجبور ہو جائیں۔ تب اسرائیل کو تو صرف مصر کے جوان کافی ہیں جو ایک عرصہ سے کسی آتش فشاں کی طرح کھول رہے ہیں اور ان کو رسے ڈال ڈال کر باندھا جارہا ہے! ابھی شام، عراق اور جزیرۂ عرب پورے کا پورا پڑا ہے جہاں جہاد بھر پور کروٹیں لے رہا ہے۔ تصور کیجئے جب یہاں سے حتی کہ پورے عالم عرب بلکہ پورے عالم اسلام سے اٹھ کر آنے والے نوجوانوں کی راہ میں جو جوق در جوق بیت المقدس کا رخ کریں گے، کوئی رکاوٹ نہ آپائے اور یوں ہر طرف سے مجاہدین کے لشکر انتفاضہ کی نصرت کو پہنچیں! یہ تصویر مکمل ہونا اب بہت دور نہیں رہ گیا!!!

کرۂ ارض پر جہاد کا ہر محاذ، ہر غازی ہر مجاہد، عالمی سامراج سے کسی بھی انداز میں برسر پیکار ہر مسلمان، ایک معنیٰ میں آج بیت المقدس کی جنگ لڑ رہا ہے! ایسے ہر محاذ، ہر غازی ہر مجاہد اور ہر تحریکی عمل کی مدد کرنا درحقیقت بیت المقدس کی مدد کرنا ہے!

قبلۂ اول ’فلسطینیوں‘ کا مسئلہ نہیں۔ مسجدِ اقصیٰ کے چراغوں کے لئے ’تیل‘ کی فراہمی ہر مسلمان ہی کیلئے باعثِ شرف ہے!


(1) سورہ انبیاءمیں وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ”بے شک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ تحریر کر دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے صالح بندے ہی بنیں گے“ (آیت: 105) مفسرین کی ایک قلیل تعداد نے اس آیت میں ’زمین‘ سے مراد ارض مقدس بھی لیا ہے۔ قرطبی نے ارض مقدسہ والی یہ تفسیر ابن عباسؓ سے بھی بیان کی ہے(قرطبی کے علاوہ دیکھئے سورۃ الانبیاءکی اس آیت کے ضمن میں تفسیر بغوی، آلوسی، النکت والعیون (تفسیر الماوردی)، بحر العلوم (تفسیر سمرقندی)، تفسیر ابو السعود، انوار التنزیل واسرار التاویل (تفسیر بیضاوی) ودیگر کتب تفسیر)

خصوصا وہ لوگ جو اس آیت میں ’زبور‘ سے مراد ’عمومی معنیٰ میں ’آسمانی کتابیں‘ (جوکہ جمہور کا قول ہے) نہیں بلکہ خاص ’زبورِ داودؑ‘ ہی لیتے ہیں، وہ آیت میں مذکور ’ارض‘ کا اشارہ ’ارضِ مقدس‘ کی جانب پاتے ہیں۔ پھر جبکہ سورہ انبیاءمیں ہی اس سے پہلے دو مرتبہ ’الأرض التی بارکنا فیہا‘ کا لفظ بھی گزر چکا ہے۔

اس تفسیر کو اگر کسی درجے میں قابل غور مانا جائے (از راہِ اختلافِ تنوع) تو وقت کی آسمانی امت میں ’صالحیت‘ پر محنت ہونے کا اس امت کو ارض بیت المقدس ملی رہنے کے ساتھ ایک تعلق بنتا ہے۔پھر تاریخ میں اس کے کچھ شواہد بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔ اسے اتفاق کہئے یا کیا، کہ پہلی بار بیت المقدس ہمیں واپس ملتا ہے تو اس جہادی عمل کی قیادت کرنے والی شخصیت کا لقب ابتدئے عمر سے ہی ’صلاح الدین‘ ہوتا ہے، جس کا لغوی مطلب ہے: دین اور فرماں برداری کا صالح ہونا!اسی مناسبت سے دورِ حاضر کے ایک عظیم عرب خطیب کا یہ جملہ مشہور ہوگیا ہے:

’بخدا، یہ بیت المقدس پہلی بار ہمیں واپس ملا تو صلاح الدین (دین کے صالح ہونے) کی بدولت۔ یہ اب بھی ہمیں نہ ملے گا جب تک ہم اپنے ’صلاحِ دین‘ ہی کا بندوبست نہ کر لیں!‘

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز