عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, December 13,2018 | 1440, رَبيع الثاني 5
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Masjidaqsa آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
مسجد اقصیٰ ہر مسلمان کا مسئلہ
:عنوان

ایسی مسجد جس کے کھونٹے سے انبیاءکی سواریاں بندھتی رہی ہوں، اور جہاں سب امتوں کے امام(سب انبیاءؑ)، سید البشر کے مقتدی بن کر خالقِ انسانیت کی تعظیم کی ایک تقریبِ بے مثال منعقد کر چکے ہوں

. بازيافت :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

مقدمہ

 

مسجد اقصیٰ

 
 

ہر مسلمان کا مسئلہ

 


یہ کوئی سیاسی مسئلہ ہے اور نہ قومی، سراسر ایمان اور حق سے وفاداری کا مسئلہ ہے....

کوئی جنوبی ایشیا میں ہے یا شمالی یورپ میں، بحرِ چین کے مشرق میں بستا ہے یا اوقیانوس کے غرب میں.. سورج کی شعاعوں کی راہ میں زمین کی حدیں آتی ہوں، ”ایمان“ کی راہ میں کونسی حدیں....!؟

”مسجدِ اقصیٰ“ لا الٰہ الا اللہ کہنے والے کرۂ ارض کے ہر شخص کا مسئلہ ہے، خواہ اس کا کوئی رنگ ہے اور کوئی لسان.. کوئی صوبہ، کوئی ضلع اور کوئی قصبہ!

ایمان والوں کے لئے یہ ایک مسجد ہے اور مسجد بھی ایک شان والی مسجد!!! کوئی کیا جانے ”مسجد“ کیا چیز ہے....!!!

مسجد تو کوئی ہو، مسلمان کے لئے کرۂ ارض پر اس سے مقدس کوئی گوشہ نہیں۔ ”سجدہ گاہ“ سے بڑھ کر زمین کے پاس مومن کو دینے کے لئے کچھ نہیں۔ ’زمین‘ کی کچھ وقعت اس کے دل میں ہے تو وہ اسی دم سے۔ أمرت أن أسجد علیٰ سبعة أعظم۔(1) مومن کے سات اعضاءزمین پر اکٹھے دھرے جائیں تو خدائے رب العالمین کو ایک سجدہ شمار ہوتا ہے۔ وہ فرش جس پر ایسی بہت سی پیشانیاں مل کر ایک ساتھ جھکیں اور ایک تکبیر کی آواز پر راست تا چاپ سجدہ ریز ہوں اور عرش کے مالک کو عین اس ادب سے پوجنے ، دن میں پانچ بار، باجماعت حاضر ہوں.... وہ فرش ”مسجد“ کہلاتا ہے!

مسجد تو کوئی ہو، مسلمان کی جان ہے۔ پھر اس مسجد کے بارے میں کیا خیال ہے جس میں ہزاروں انبیاءکی پیشانیاں سرورِ دوعالم کی تکبیر کی آواز پر ایک ساتھ جھکی ہوں، اور جہاں نماز کرانے کو ”امام“ لانے کے لئے جبریلؑ کو براق دے کر مکہ روانہ کیا گیا ہو!

مسجد تو کوئی ہو، مسلمان کی جان ہے۔پھر ایسی مسجد جس کے کھونٹے سے انبیاءکی سواریاں بندھتی رہی ہوں، اور جہاں سب امتوں کے امام(سب انبیاءؑ)، سید البشر کے مقتدی بن کر خالقِ انسانیت کی تعظیم کی ایک تقریبِ بے مثال منعقد کر چکے ہوں.... ایسی مسجد ایک مسلمان کے لئے جان سے بھی بڑھ کر کیوں نہ ہو؟!

مسجد اور وہ بھی مسجدِ اقصیٰ، کہ جس کی جانب امام الانبیاء کے سفرِ شب کے تذکرے ہم قرآن میں باقاعدہ تلاوت کرتے ہیں.... اس مسجد سے بڑھ کر مسلم امت کو کیا چیز عزیز ہوسکتی ہے؟!

ہزاروں انبیاءکی میراث کہ جس پر ایک یادگار رات، خاتم المرسلین کی مہرِ امامت رہتی دنیا تک کے لئے ثبت کرا دی جاتی ہے.. آسمانی امتوں کی میراث جسے وصول کرنے کو خلیفۂ دوئم مدینہ سے رختِ سفر باندھ کر نفس نفیس بیت المقدس پہنچتے ہیں، نبیوں اور امتوں کی یہ مقدس میراث .... آج اپنے اپنے ’ملکوں‘ اور ’صوبوں‘ اور ’پانیوں‘ کے شور میں مسلم امت کو بھول جائے اور دنیا کی سب سے چھوٹی اور سب سے ذلیل قوم اٹھ کر ، کرۂ ارض پر شرق تا غرب پھیلی اس امتِ بے مثال کو یہ سبق دینے لگے، کہ مغضوب علیہم کے حق میں یہ اپنی اس میراث سے ہمیشہ کیلئے دستبردار ہوجائے!؟

جس قوم پر خدا کی بار بار پھٹکار برسی، اور جس پر انبیاءلعنت کرتے گئے، اور فساد فی الارض کے سوا رہتی دنیا تک کیلئے جس کا یہاں اب کوئی کردار باقی نہیں،اس قوم کو یہ امت اپنی ایک ”مسجد“ دے دے، اور مسجد بھی کونسی مسجد؟ مسجدِ اقصائے مبارک!!!؟؟

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ  (الاِسراء: 1)

”پاک ہے وہ ذات جو لے گیاایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک، کہ جس کا گردا گرد ہم نے بابرکت کر رکھا ہے، تاکہ اُسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائے، بیشک وہ سننے والا ہے (اور) دیکھنے والا“

صدیوں سے، ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُواْ إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآؤُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُواْ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللّهِ وَيَقْتُلُونَ الأَنبِيَاء بِغَيْرِ حَقٍّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُواْ يَعْتَدُونَ(2) کا مصداق بنی رہنے والی ایک جرائم پیشہ قوم کو امتِ اسلام اپنی یہ سجدہ گاہ بھی دے دے اور ساتھ میں پورا وہ ملک بھی دے دے جو اس مسجد میں صفیں باندھ کر خدائے واحد کی تعظیم اور کبریائی کرتا ہے! اقوامِ متحدہ کے دفتر میں اس سودے کی رجسٹری کرا کر آئے اور اپنے کچھ بدخصلت نمائندوں کو اس کے لئے اپنا وکیل کرے! اس سودے سے انکار کا نام ’امن دشمنی‘ ہے اور ’دہشت گردی‘ اور ’انسانیت کا چین ختم کر دینے‘ ایسا گھناؤنا فعل، جو ’مہذب قوموں‘ کے ہاں آج ایک گالی کی صورت اختیار کر گیا ہے اور اس کو گالی جاننا ہی آج ’مہذب‘ ہونے کی ایک بنیادی شرط! کیونکہ ’تہذیب‘ کی رجسٹری بھی اسی اقوام متحدہ کے دفتر میں جاکر ہوتی ہے!

’امن‘ اور ’تہذیب‘ کی تعریف اب انبیاءنہیں کریں گے بلکہ تاریخ انسانی کا وہ بدقماش ٹولہ کرے گا جو نبیوں اور کلمۂ حق کہنے والے صدیقوں کا خون کرتا رہا....!

دنیا کے مفہومات کو سر تا پیر الٹنا تھا، سو یہ واقعہ ہو چکا۔ دیکھنا یہ ہے اپنی اس دنیا کیلئے اصطلاحات کون آج انبیاءسے لیتا ہے اور کون اس موضوع پر ان مُفسِدِینَ فِی الارض کے فلک میں گردش کرتا ہے جو ہمیشہ سے یہاں کلمہ گویانِ حق کے خون کے پیاسے پائے گئے اور جنہیں آج جا کر ’امن‘ اور ’تہذیب‘ کی من مانی تعریف کرنے اور ’عالمی برادری‘ کی قیادت فرمانے کا اندھا حق مل چکا ہے؟!

دنیا کے سب پڑھے لکھے سفیہ آج انہی کے پیروکار ہیں، اور انہی کیلئے تالیاں پیٹنے پر مامور۔ بخدا آنے والے دن ایمان کا معرکہ لے کر آرہے ہیں اور نہایت کمال معرکہ.... انبیاءکا دم بھرنے والے ابھی نہ جانے جائیں تو کب جانے جائیں گے؟!

پس آج کتنے ہی ’غیر مہذب‘، عالم اسلام کے اندر اپنے گھروں اور مسجدوں سے دستبردار نہ ہونے کی ضد کر کے ’امنِ عالم کیلئے خطرہ‘ دیکھے جارہے ہیں، صرف ’اُنکی‘ نظر میں نہیں ہمارے اپنے ’مسلم‘ میڈیا میں؟!.... خود ہمارے فرزندوں کو ’امنِ عالم‘ کی آج یہی تعریفیں رٹائی جارہی ہیں!

آنکھیں نہیں دراصل دل اوندھے ہوجاتے ہیں....

کون کس کے گھر میں گھسا؟ کس نے کس کی سجدہ گاہ چھینی؟ کون اپنے گھر اور اپنی سجدہ گاہ میں گھس آنے والے جارحیت پسندوں کو روکنے کا ’جرم وار‘ ہوا ہے؟ ذرا ایک نظر دیکھ تو لو، کون اپنے گھر کے اندر ہے اور اپنے گھر اور اپنی مسجد کی دیواریں تھام کر کھڑا ہے اور کون اپنے گھر سے باہر ہے اور ”دوسرے“ کے گھر میں کہرام برپا کئے ہوئے ہے اور ”اس“ کی مسجد گرانے کے درپے ہے؟ یہ سب سوال غیر متعلقہ ہیں، ’امن‘ اور ’تہذیب‘ کی تعریف وہی جو خدا اور نبیوں سے جنگ روا رکھنے والی اس چرب زبان سے صادر ہوجائے جو میڈیا کے اندر بولتی ہے اور جو انسانیت کے جملہ مسائلِ علم وحکمت پر آج واحد حجت تسلیم کی جاتی ہے!

’علم و بصیرت‘ کا مرجع ہمارے پڑھے لکھوں کے ہاں ’یہود‘ نہ ہوگئے ہوتے توبیت المقدس کے ہمارے ہاتھ سے جانے ایسا واقعہ رونما ہی کیونکر ہوتا!

اس کے بعد پھر اس منطق کو لے کر چلنے والے ہمارے ’راہ نما‘ ہوئے کہ جو ملت، ”بیت المقدس“ کے سوال پر اپنے ازلی دشمن کے حق میں اس قدر فیاض ہوسکتی ہے وہ بھلا کشمیر، افغانستان، عراق، چیچنیا، بوسنیا، کوسووا اور صومالیہ وغیرہ کے معاملہ میں اس قدر بخیل کیونکر واقع ہوسکتی ہے!؟

آج یہ ہمارے راہنما اور ہمارے دانشور ہیں جو گھر آئے دشمن کی ضیافتوں میں لگے ہیں، وہ دشمن جو اپنی ضیافت کیلئے ہماری قوم کے بڑوں سے ایسی بے تکلفانہ فرمائشیں تک پوری کرانے کا عادی ہوگیا ہے کہ یہ اُس کو اپنے اِن نوجوانوں کے سر تھالی میں رکھ کر پیش کریں جو آباءکی میراث پر آج بھی غیرت کھاتے ہیں اور ملت کے نام پر داغ لگے تو اس پر موت کو ترجیح دیتے ہیں!

وہ بھی یہود ہی کا ایک قومی راہنما تھا جس نے اپنی ملت کے سب سے بڑے محسن اور خیرخواہ یحییٰ علیہ السلام کا سر تھالی میں رکھ کر وقت کی ایک فاحشہ کو اپنے ’حسن نیت‘ کے ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا، کہ کوئی یہ نہ کہے یہ شخص اخلاص اور وفا میں سچا نہیں! وائے بربادی.. ’اخلاص‘، مگر کس کے لئے اور بھلا کس کے سر کی قیمت پر؟؟؟!

ایسی راندۂ درگاہ قوم جب زمانے کی استاد مانی جانے لگے تو پھر انتظار کرتے رہیے؛ اس جہان میں وہ کچھ نظر آئے گاجو کبھی سننے میں آیا ہو اور نہ دیکھنے میں۔ تب حیااور قدروں کا جنازہ پوری دھوم سے نکلے گا اور تعجب ہوگا تو یہ کہ انسانیت ساری کی ساری اسے کندھا دینے کیوں نہیں نکلتی! تب قومیں اپنے جگر گوشوں کو دشمن کی سلامتی پر ہزار طریقوں سے قربان کیا کریں گی، اپنے گبھروؤں کے ہاتھ میں بندوق اور زبان پر آبرو کا لفظ سن کر نوحہ، اور اپنے مقدسات کا سودا کر آنے والوں کو سلامی اور تعظیم کے تمغوں کا اہل جانیں گی!

کوئی قدر دان ہوتا تو آج ان نوجوانوں کے پیر دھو دھو پیتا۔ اُن ماؤں کو سلام کرتا جو امت کو آج بھی ایسے بچے جن کر دیتی ہیں، کہ جو ایمان اور توحید کی شمعیں روشن کرنے کیلئے اس قحط الرجال میں اپنا خون پیش کریں!!! پورا جہان ان کے مقابلے پر ہے۔ ’ٹیکنالوجی‘ کا زور لگ گیا ہے۔ دنیا کا کوئی سہارا ان ’پہاڑوں کی چٹانوں پر‘ نشیمن ڈال رکھنے والے نہتوں کے حق میں باقی نہیں رہا مگر یہ اللہ کا سہارا لے کر پھر کھڑے ہیں!!! پوری دنیا ہل جانے کو ہے مگر یہ ہلنے کا نام نہیں لیتے!!! چند ناتواں بازو ہی تو ہیں کہ جنکے دم سے پوری امت آج بھی فخر سے سر اونچا رکھ سکتی ہے!

.... مگر اِن کو ’قدردانوں‘ کی کیا طلب!؟ ان کی قدر ہو تو عرش پر!!!

 

٭٭٭٭٭

 

حضرات! بعید نہیں مسجد اقصیٰ کی یہ صدا جو ہم اس کتابچہ میں سنیں گے.... یہی صدا، شعائر اسلام میں سے ایک ایک شعار کے تحفظ اور ملت کے کھوئے ہوئے ایک ایک چپے کو واگزار کرانے کی صدا بن جائے۔ بعید نہیں مسجد اقصیٰ کا مقدمہ، صیہونی صلیبی پنجے میں کراہتی اس دنیا کے ہر منصفانہ مسئلہ کا پیش لفظ بن جائے۔ اپنی اس امت کا جسد تو آج کہاں کہاں سے نہیں چیرا جا رہا!؟

اپنے ان مذہبی دانشوروں سے معذرت کے ساتھ، جو ’مسجد‘ کو ’نمازیوں‘ سے الگ کر کے دیکھنے کا نہایت باریک نکتہ پیش کرتے ہیں.. اور جو مسجد کی فضیلت بیان کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھتے مگر ان کے ہاں ’عبادت گزاری‘ یہ ہے کہ مسجد کھلی مل جائے تو نماز بے شک گھر میں جائز نہیں، ہاں اس مسجد کو کافر چھین لے یا وہ اس کی بے حرمتی پر اتر آئے تو خدا کی پرستش کیلئے خدا کی باقی زمین بہت وسیع ہے! اور جن کو الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ (متفق علیہ) کے اندر ’عبادت گزاری‘ کے معانی تلاش کرنا بہت انہونا لگتا ہے....!

اقصیٰ اور بیت المقدس.. مسجد اور اس کے نمازی.. ہر دو کی آزادی کے لئے جہاد واجب ہے۔ فلسطین کا ایک ایک چپہ جہاں پر یہود کا غاصبانہ قبضہ ہے.. ایشیا تا افریقہ تا یورپ، سرزمین اسلام کا ایک ایک بالشت جہاں کفار کا مجرمانہ تسلط ہے.. واگزار کرایا جانا وقت کے فرائض میں سے ایک فرض ہے۔ نہ یہ امت مری ہے اور نہ اس کے وہ علماءجو آج بھی اس کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں اور جوکہ امت کے لئے جہاد کا فتویٰ صادر کرنے کا شرعی حق رکھیں۔ خدا کے فضل سے جہاد کے جو متعدد محاذ آج کھلے ہیں، اور جن میں سرزمینِ اقصیٰ کا محاذ سرفہرست ہے.... جہاد کے ان محاذوں کی مشروعیت پر شرق تا غرب علمائے اسلام یک آواز ہیں۔ وہ سب منحنی آوازیں جو یہاں اور وہاں سے، امت سے الگ تھلگ سُروں کے اندر آج سننے میں آرہی ہیں، اور جن کا کوئی رشتہ امت کے تاریخی ورثے سے ہے اور نہ امت کے زخموں سے،یہ سب آوازیں نہ وقت کی ضرورت ہیں اور نہ امت کے پاس ان کو سننے کیلئے کوئی وقت۔ اس امت کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ، برطریقِ سلف کافی ہے، جس کے نمائندہ، اور جس کی رو سے اس امت کو فتوائے جہاد دینے کے اہل، اس امت کے وہ مستند علماءہیں جو اپنے علم اور فہم کا سلسۂ نسب، بلا انقطاع، سلف کے ساتھ جوڑ کر آ سکتے ہیں۔

زیر نظر کتابچہ سمجھئے مسجد اقصیٰ کا مقدمہ ہے۔ مسجد اقصیٰ کا یہ مقدمہ آج کے اس گلوبل ولیج کے ہر مسلمان کا مقدمہ ہے، بلکہ دنیا کے ہر انصاف پسند کا مقدمہ ہے۔ اقصیٰ کا یہ مقدمہ ہر مسلم مسئلے اور ہر مسلم سرزمین کا پیش حرف ہے۔ اس کتابچہ کی تیاری اور تقسیم عام سے، یہی بات ہمارے پیش نظر ہے۔

اقصیٰ کے حق میں اپنی صدا بلند کرکے آپ بھی آج اپنا حصہ ڈالئے۔ آنے والے سالوں میں کرۂ ارض پراہل ایمان کی ایسی صفیں کھڑی ہونے والی ہیں، ان شاءاللہ، جو تاریخ میں ذکر ہوں۔ اس ’اذان‘ کے لئے مسجد اقصیٰ کے زخمی میناروں سے بہتر کونسی جگہ ہوسکتی ہے!

 

حامد کمال الدین


(1) أمرت أن أسجد علیٰ سبعة أعظم: علی الجبہة و أشار بیدہ علیٰ أنفہ، والیدین، والرکبتین، و أطراف القدمین(متفق علیہ) ”مجھے حکم ہوا ہے کہ میں سات اعضاءپر سجدہ کروں: پیشانی، اور آپ نے ہاتھ کے ساتھ ناک کی طرف اشارہ کیا، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پنجے“

(2) (آل عمران: 112) ”ذلت ان پر دے ماری گئی جہاں بھی یہ پائے جائیں، بجر اس کے کہ کچھ اللہ کا سہارا اور کچھ لوگوں کا،اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب میں گرفتار ہیں اور مسکنت ان پر مسلط کر دی گئی ہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اُس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے، یہ اس لئے کہ یہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے“ ۔

 




کتابچہ کی دیگر فصول
مسجد اقصیٰ ہر مسلمان کا مسئلہ1
مسجدِ اقصیٰ کی بابت جاننے کی کئی ایک باتیں2
مسجد اقصیٰ پر یہودی چیرہ دستیاں مختصر تاریخی جائزہ3
بیت المقدس.. مسلم جسد کا اٹوٹ حصہ4
فلسطین کی بابت چالیس اہم تاریخی حقائق
Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
سن ہجری کے آغاز پر لکھی گئی ایک خوبصورت تحریر
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
وہ کتنا سایہ دار شجر تھا
بازيافت- سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
وہ کتنا سایہ دار شجر تھا   مہتاب عزیز   کیا ہی زندہ انسان تھا جو آج ہم میں نہ رہا۔ اس سفید ریش بوڑھ۔۔۔
سنگم
بازيافت- سلف و مشاہير
عبد اللہ منصور
سنگم   عبداللہ منصور کوٹ مٹھن سے ذرا پرے پانچ دریاؤں کا سنگم ،پنج ند واقع ہے۔ وادیوں، گلزاروں، میدانوں ۔۔۔
اسلام کی ’اجارہ دار‘ قومیں
بازيافت- تُراث
حامد كمال الدين
اسلام کی ’اجارہ دار‘ قومیں مسلم روہنگیا پر شرق تا غرب دل تڑپتے دیکھے تو وہ احساسات پھر عود کر۔۔۔
عشرذوالحج.. موحدین کے ’’قومی دن‘‘
اصول- عبادت
بازيافت- تُراث
حامد كمال الدين
عشرذوالحج.. موحدین کے ’’قومی دن‘‘ یہ کچھ خاص دن اُس کی بڑائی کرنے کے... کچھ مبارک ایام..۔۔۔
حُنَفَاء کا حج و قربانی.. اور ’انتھروپالوجسٹوں‘ کا شرک
بازيافت- تُراث
ثقافت- علوم طبعى وسماجى
اصول- عبادت
حامد كمال الدين
حُنَفَاء کا حج و قربانی.. اور ’انتھروپالوجسٹوں‘ کا شرک ’کھنڈر پرستی‘ کی ایک عالمی تحریک جس کا ۔۔۔
مطالعہ تاریخ چند مبادیات
بازيافت- تاريخ
ڈاكٹر محمد عبدہ
مطالعہ تاریخ چند مبادیات ڈاکٹرمحمد عبدہ. ترجمہ: محمد زکریا تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری کے سامن۔۔۔
اولمپکس۔ تاریخی و مذہبی پس منظر
بازيافت- تاريخ
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اولمپکس تاریخی و مذہبی پس منظرتحریر: حامد کمال الدین قدیم دنیا کے سات عجوبے اگر آپ کے مطالعہ سے گزرے ہوں، ی۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز