عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Monday, September 23,2019 | 1441, مُحَرَّم 23
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Shuroot2ndAdition آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
کلمہ کی ”شروط“ اور چیز ہیں اور کلمہ کے ”تقاضے“ اور چیز
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

کلمہ کی ”شروط“ اور چیز ہیں اور کلمہ کے ”تقاضے“ اور چیز

 
   

 

کلمہ کی ”شروط“ pre-conditionsا ور کلمہ کے ”تقاضوں“ compultions کا فرق جان لیا جانا ایک ضروری امر ہے۔ اس فرق کے روپوش ہونے سے ’خارجیت‘ اور ’رجاء‘ کی صورت میں افراط اور تفریط کی بعض صورتیں بھی بر آمد ہوتی ہیں:

لوگوں کو جب کلمہ کی ”شروط“ بتائی جاتی ہیں تو وہ ’کلمہ کی ان شرطوں‘ کو’کلمہ کے تقاضوں‘ کے ہم معنیٰ جان لیتے ہیں۔ چونکہ ایک کثیر تعداد ”شروط“ کو ’تقاضوں‘ کے معنی میں ہی لے بیٹھتی ہے اس لئے وہ کسی داعیِ توحید سے یہ سن کر کہ ”شروطِ لا الہ الا اللہ پوری نہ ہوں تو آدمی کا کلمہ گو ہونا کوئی اعتبار ہی نہیں رکھتا“، اور جوکہ بالکل برحق ہے، کچھ لوگوں کو تعجب ہونے لگتا ہے۔ اگر وہ ”شروط“ اور ”تقاضوں“ کا فرق جان لیں تو شاید اِس پر تعجب نہ کریں۔

جہاں تک کلمہ کے ”تقاضوں“ کا تعلق ہے تو وہ تو بے شمار ہیں اور بلحاظِ اہمیت درجہ بدرجہ تقسیم ہوتے ہیں۔ کلمہ کے ”تقاضے“ تو چھ یا سات نہیں ہیں۔ کلمہ کے ”تقاضوں“ کو پورا کرنے میں تو مومن کو زندگی بتا دینا ہوتی ہے؛ کہیں پر وہ پورا اترتا ہے اور کہیں پر ناکام بھی رہتا ہے۔ ہر شخص کو ہی ”کلمہ کے تقاضوں“ پر محنت کرنا ہوتی ہے.... مگر ”کلمہ کی شرطیں“ اس سے ایک مختلف چیز ہیں۔

کسی چیز کی ’شروط‘ وہ چیز ہیں جن پر اُس چیز کا وجود ہی موقوف ہو۔ یعنی ان کے پورا ہوئے بغیر اُس چیز کا وجود ہی تسلیم نہ کیا جائے گا۔ البتہ اُس کے ’تقاضوں‘ کی نوبت تب آتی ہے جب اُس کا وجود ایک بار معتبر مان لیا جائے۔ چنانچہ اس امر کی ترتیب یوں ہوگی کہ پہلے لا الہ الا اللہ کی شرطیں پوری ہوں گی تو آدمی کا ’کلمہ گو‘ ہونا معتبر ہوگا۔ پھر جب شہادتین یعنی آدمی کا کلمہ گو ہونا معتبر ہوگا تو اُس کے بعد لا الہ الا اللہ کے تقاضے پورے کرنے پر محنت کروائی جائے گی۔

لا الہ الا اللہ کے تقاضے بے شمار ہیں۔ لا الہ الا اللہ کے فکری و نظریاتی تقاضے ہیں۔ شعوری و وجدانی تقاضے ہیں۔ عملی تقاضے ہیں۔ انفرادی تقاضے الگ ہیں، اجتماعی تقاضے الگ۔ ان میں سے کچھ تقاضے، فرائض کا درجہ رکھتے ہیں اور کچھ، مستحبات کا۔ حتیٰ کہ خود فرائض میں درجہ بندی ہے۔ پھر مستحبات میں درجہ بدرجہ تقسیم ہے۔ محرمات و مکروہات سے اجتناب بھی لا الہ الا اللہ کے تقاضوں میں ہی شمار ہوتا ہے۔ محرمات میں کبائر اور صغائر کی تقسیم الگ ہے۔ غرض دین کے جتنے مطالبے ہیں ان سب پر عمل پیرا ہونا لا الہ الا اللہ کے تقاضوں ہی میں آتا ہے۔ یقینا دین کے کچھ تقاضے ایسے ہیں جن کے ترک سے آدمی کا کفر بھی لازم آتا ہے جبکہ کچھ تقاضے ایسے ہیں جن کے ترک سے محض فسق لازم آتا ہے اور کچھ کے ترک سے محض بلندیِ درجات میں کمی آتی ہے..

مگر لا الہ الا اللہ کی ’شروط‘ بالکل ایک اور چیز ہیں۔ ’شروط‘ کو ’تقاضوں‘ کے ساتھ خلط کردینا ہرگز درست نہیں۔

دین کے بقیہ امور (جوکہ لا الٰہ الا اللہ کے تقاضاجات ہیں) پر محنت بھی بہت ضروری ہے، مگر شروطِ لا الہ الا اللہ پر محنت اس سے کہیں پہلے اور کہیں بڑھ کر ضروری ہے۔ بلکہ دین کے باقی امور پر محنت کا فائدہ مند ہونا ہی اس بات پر منحصر ہے کہ کلمہ کی شروط صحیح طریقے سے ادا کر لی گئی ہو۔

 

****************

 

یقینا کسی وقت اہل علم کے بیان میں ایسی عبارتیں آتی ہیں، خصوصاً ”انقیاد“ کے مباحث کے تحت، جن سے لا الٰہ الا اللہ کی شروط اور تقاضوں کے مابین ایک گونہ قربت نظر آتی ہے، مگر اِس سے ان دونوں کو خلط کر دینا درست نہیں۔ علمائے اہل سنت میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اِس بات کا قائل ہو کہ: دین کا کوئی ایک بھی تقاضا رہ جانے سے آدمی کا ”کلمہ گو“ ہونا غیر معتبر ہو جاتا ہے۔ ہاں دین کے کسی تقاضے کو چھوڑ دینا ”نواقض اسلام“ میں آتا ہو تو اور بات ہے۔ البتہ علمائے اہل سنت اِس بارے میں نہایت واضح ہیں کہ شروط لا الٰہ الا اللہ میں سے کوئی ایک بھی شرط پوری ہونے سے رہ جائے تو آدمی کا کلمہ گو ہونا معتبر نہیں رہتا، جیسا کہ آئندہ فصل میں آپ شیخ عبد العزیز الراجحی کے ایک جواب میں بھی ملاحظہ کریں گے۔

بنا بریں، لا الٰہ الا اللہ کی چھٹی اور ساتویں شرط کے حوالے یہاں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے:

’انقیاد‘ اور ’تسلیم‘ دونوں یہاں لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی شروط کے طور پر بیان ہوئے ہیں (دیکھئے: لا الٰہ الا اللہ کی چھٹی اور ساتویں شرط)۔ اس سے ظاہر ہے یہ مراد نہیں کہ انسان پہلے ظاہر وباطن میں دین کے تمام احکام پر عمل پیرا ہو تو پھر جا کر لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی یہ دو شرطیں (انقیاد اور تسلیم) اس کے حق کے میں پوری ہوں اور تب تک آدمی کی کلمہ گوئی کا اعتبار ہی معلق رہے یعنی آدمی اس وقت تک مسلمان ہی شمار نہ ہو!

دین کے تمام کے تمام احکام پر عمل پیرا ہونا یقینا مطلوب ہے مگر ایسا عملاً ہونے لگنا لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضے کے طور پر مطلوب ہے نہ کہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی شرط کے طور پر۔ جہاں تک تقاضوں کا تعلق ہے تو لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے بعض تقاضوں کے ترک کے باوجود آدمی مسلمان شمار ہوگا البتہ جہاں تک شروط کی بات ہے تو لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی ایک بھی شرط پوری نہ ہو تو اس کلمہ کا اقرار سرے سے معتبر نہ ہوگا۔ یعنی شرط کے ترک سے آدمی مسلمان ہی شمار نہ ہوگا۔

چنانچہ دین کے احکام پر بالفعل عملدرآمد کرکے دکھانا لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضوں میں آتا ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی شرط کے طور پر انقیاد اور تسلیم سے مراد یہ ہے کہ آدمی ظاہراً اور باطناً اس پر آمادہ ہو اور مجسم اطاعت ہو۔

’اعمال‘ کرنا تو دراصل لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے اقرار کا تقاضا ہی ہے نہ کہ شرط۔ البتہ اعمال کرنے کیلئے ظاہراً اور باطناً ایک آمادگی اور استعداد کا پایا جانا لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے اقرار کی بہرحال شرط ہے۔

یعنی کلمہ پڑھتے ہوئے اگر آدمی کے ذہن میں یہ ہے کہ اس کی حقیقت کے ظاہراً اور باطناً تابع ہونے کیلئے اسے کچھ کرنا کرانا نہیں تو اس کا کلمہ پڑھنا غیر معتبر ہے۔

قرآنی استعمال میں بعض مقامات پر انقیاد کیلئے ’اسلام‘ اور تسلیم کیلئے ’ایمان‘ کا لفظ بھی وارد ہوا ہے۔ خصوصاً دیکھیے سورۃ الحجرات کی آیت 14۔

اس سیاق میں ’اسلام‘ یا ’انقیاد‘ سے مراد خود سپردگی ہے اور ’تسلیم‘ یا ’ایمان‘ سے مراد اس خود سپردگی کے واقعہ کو دل وجان سے قبول کر لینا اور اس پر دل کے خلجان سے آزادی پانا۔

بسا اوقات انقیاد اور تسلیم یا اسلام اور ایمان ایک دوسرے کے ہم معنی بھی استعمال ہوتے ہیں۔

انقیاد اور تسلیم کی اس کیفیت کا آدمی کے ظاہر وباطن میں کم از کم حد تک وجود پانا ہر شخص کے حق میں لازم ہے کیونکہ یہ شہادت کے اعتبار کیلئے باقاعدہ شرط ہے۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز