عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 22,2019 | 1441, رَبيع الأوّل 24
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Shuroot2ndAdition آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
میثاقِ لا اِلٰہ الا اللہ
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

 

میثاقِ لا اِلٰہ الا اللہ

 
   

 

لا الٰہ الا اللہ کا اصل موضوع: افعالِ عبادت

 

مالک بندے کو دینے کیلئے کیا کچھ پاس رکھتا ہے، یہ حساب کرنا بندے کا بس نہیں۔ البتہ اُس کی کائنات کو دیکھ کر بندہ اِس کا کچھ اندازہ ضرور کر سکتا ہے۔ ابھی یہ وہ کائنات ہے جس کو وہ کہتا ہے کہ یہ محض ایک عارضی بند وبست ہے وہ اصل جہان جس میں اُس کی عنایات ظاہر ہوں گی، ابھی آنے والا ہے۔ اُس کی دین دیکھنی ہو تو وہاں دیکھیں!!!

مالک بندے کو کیا کچھ دیتا ہے اور کیا کچھ دے سکتا ہے، حساب سے باہر ہے لیکن سمجھ آنے والی بات ہے۔ بہت کچھ وہ اِس کو دیتا ہے اور بہت کچھ کی یہ اُس سے آس رکھتا ہے۔ وہ رب ہے، یعنی پروردگار۔ جو پالتا اور سنبھالتا ہے۔ کھلاتا اور پلاتا ہے۔ نعمتیں اور نوازشیں کرتا ہے۔ دنیا کا جاہل سے جاہل شخص بھی اگر سیدھی صاف بات کرنے پہ آئے تو لازماً یہ بتائے گا کہ سب کچھ دینے والی ہستی کون ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا کافر اور بڑے سے بڑا مشرک بھی آج تک یہ انکشاف نہیں کر سکا ہے کہ سب کچھ کرنے اور دینے والی خدا کے سوا فلاں اور فلاں ہستی ہے۔ خرمستی میں ضرور یہ ایسا کوئی کفر بک دیتے ہوں گے، مگر سوچ سمجھ کر بولنا پڑے تو کبھی ایسی حماقت نہ کریں گے۔ بھلا کون ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا سکتا ہو یا کبھی کیا گیا ہو کہ وہ زمین اور آسمان کا خالق ہے، کائنات کو عدم سے وجود میں لایا ہے، پورے جہان کو تھام کر کھڑا ہے، اور ہر ذی نفس کو کھلاتا اور پلاتا اور مارتا اور جلاتا ہے؟ اور اگر کوئی خالق حقیقی کے سوا کسی ہستی کی بابت ایسا دعویٰ کردے تو ہم جانتے ہیں دنیا سب سے پہلے اس کے ہوش و حواس کی بابت شک کرے گی۔

پس انبیاءنے یہاں پر رک جانا ضروری نہیں جانا کہ وہ لوگوں کو بس یہی بتائیں کہ سب کچھ کرنے اور سب کچھ دینے والی ذات کون ہے۔ اِس سے آگے گزر کر، انبیاءنے جس بات کو موضوع بنایا اور جس پر قوموں کے ساتھ اُن کا نزاع ہوا وہ یہ کہ: وہ ذات جو سب کچھ کرنے اور سب کچھ دینے والی ہے، اُس کے ساتھ انسان کا اپنا رویہ اور تعامل کیا ہو؟؟؟

پس لا الٰہ الا اللہ کا موضوع ”خدا کے افعال“ نہیں جو خدا بندے کیلئے کرتا ہے۔ لا الٰہ الا اللہ کا موضوع درحقیقت ”بندے کے افعال اور رویے“ ہیں جو بندہ خدا کیلئے بجا لاتا ہے۔

لا الٰہ الا اللہ کی بابت سب سے پہلی بات سمجھنے کی یہی ہے۔

مالک بندے کو کیا کچھ نہیں دیتا۔ اُس کی دین اور اُس کی نوازش حساب سے باہر ہے۔ اُس کا قادر ہونا اور بندوں پر اُس کا مہربان ہونا طے شدہ حقیقت ہے۔ اُس کے کرم اور عنایت پر ہر کسی کا ایمان ہے۔ وہ انسان کو دینے کیلئے سب کچھ پاس رکھتا ہے اور مسلسل دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان اُس کو کیا دے؟ انسان کے پاس ہے کیا جو یہ خدا کو پیش کرے؟ ”لا الٰہ الا اللہ“ دراصل اِسی سوال کا جواب ہے۔ مالک تو بندے کو جو دیتا ہے سو دیتا ہے اور مالک کی دین پر تو کسی کو کوئی کلام نہیں، البتہ بندہ مالک کو دے تو کیا دے؟؟؟ اِس پر البتہ دنیا میں بے شمار مذاہب ہوئے ہیں اور بے حد و حساب دستور۔ انبیاءکا جھگڑا قوموں کے ساتھ در اصل یہاں سے شروع ہوتا ہے!
یعنی: مالک تو بندے کو دیتا ہی ہے اور دے بھی وہی سکتا ہے، بندہ مالک کو کیا دے؟ رزق اور روزی؟؟؟ یہ تو نہ اُسے چاہیے اور نہ یہ بندے کے دینے کی ہے۔ یہ تو وہ چیز ہے جو خود بندہ اُس سے پاتا اور اُس سے مانگ کر کھاتا ہے۔ لیکن کیا بس ایسی ہی بات ہے کہ مالک دیتا جائے اور یہ کھاتا جائے؟ نہ اِس کے سوا کچھ قصہ اور نہ کہانی؟!! یا پھر معاملہ کچھ اور ہے اور اِس بامعنی جہان کی تخلیق اِس سے ذرا مختلف نقشے پر ہوئی ہے؟؟؟ بندے سے مالک کا تقاضا ایک نہایت خاص تقاضا ہے۔ وہ بندے سے وہ چیز مانگتا ہے جو بندے کے دینے کی ہے اور مالک کے لائقِ مقام۔ صاحبو! اِس چیز کا نام ”بندگی“ ہے، جو کہ واحد چیز ہے جو بندے کے دینے کی ہے اور مالک کے لینے کی۔ اِسی کو ”عبادت“ کہتے ہیں۔ اِسی کا نام ”پرستش“ ہے۔ ہاں یہ اُس کی طلب ہے، اور نہایت برحق۔ انسان کے ہاں اِس سے خوبصورت چیز کبھی نہیں پائی گئی۔ اندازہ تو کرو، وہ واحد چیز جو یہ بنجارا خدائے غنی و بے نیاز کو پیش کر سکتا ہے!!!!! یہ چیز تو وہ نہ بھی طلب کرتا تو یہ اُسی کو دینے کی تھی، مگر یہ تو ایسی کمال کی چیز ہے کہ انبیاءکو بھیج کر وہ باقاعدہ اِس کا تقاضا کرتا رہا ہے!!! یہی نہیں، بلکہ واشگاف طور پر متنبہ کرتا رہا ہے کہ اُس کی یہ چیز ہرگز کسی اور کو پیش نہ کی جائے!!! وہ کوئی ایک آدھ تنبیہ کر دیتا تو بھی ڈر جانے کی بات تھی مگر اُس نے اپنی کتاب میں شاید ہی کوئی صفحہ چھوڑا ہو جہاں یہ تنبیہ درج نہ کر رکھی ہو کہ اِس ”بندگی“ میں ذرہ بھر اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے! یہاں تک کہہ دیا کہ وہ کچھ بھی معاف کر سکتا ہے مگر یہ ایک بات وہ کبھی معاف کرنے والا نہیں۔ اُس کی یہ چیز اُس کو پیش کرنے میں کچھ کمی کوتاہی رہ جائے تو شاید وہ درگزر کر دے لیکن اُس کی یہ چیز جو کہ اُسی کے لائقِ مقام ہے اگر کسی اور کی نذر کر دی گئی تو خواہ آسمان اور زمین اپنی جگہ سے ہٹ جائیں وہ ایسا ظلم کرنے والے کو دوزخ سے نکالنے والا نہیں۔

اُس نے آخرت کا جہان تو واقعتاً اِسی لئے بنایا ہے کہ اُس کے بندے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اُس کی مجاورت میں بسیں اور اُس کی قربت اور اُس کی دائمی عنایت کا لطف اٹھائیں ۔ ہمیشہ ہمیشہ کے جہان میں تو اُس کے بندے مزے اور ٹھاٹھ سے ہی رہیں گے۔ البتہ اِس دائمی قربت اور عنایت کا استحقاق پانے کی صورت یہ ٹھہری کہ کچھ دیر یہ اُس کو اپنی ”طلب“ بتائیں اور اپنی اُس ”طلب“ کے اندر جانچے جائیں کہ آیا یہ اپنی ”مانگ“ بتانے میں سچے تھے یا جھوٹے؟ ان کو اپنی ”طلب“ بتانے کا یہ موقعہ دینے کے لئے اُس نے یہاں ایک عارضی جہان بسایا اور اِس کے اندر یہ شرط ٹھہرا دی کہ:

پوجا، نیاز، نماز، محبت، گرویدگی، احسان مندی، دعاء، فریاد، لجاجت، آہ و زاری، خشیت، خوف، خضوع، خشوع، تعظیم، کبریائی، حمد، تسبیح، تکبیر، تقدیس، نذر، چڑھاوا، قربانی، ذبیحہ، طواف، زیارت، قیام، رکوع، سجود، کورنش اور تحیات، ذکر، توکل، امید، انابت، تسلیم، رضا، وابستگی، وفاشعاری، خود سپردگی، فرماں برداری، اطاعت، ذلت، انکساری، عاجزی، مملوکی اور اِس سے ملتے جلتے بے شمار رویے اور افعال جو انسان کی سرشت میں بے حد و حساب ڈال رکھے گئے ہیں.... انسان کے اندر پائے جانے والے ”پوجا“ اور ”پرستش“ کے یہ سب افعال اور رویے اپنے مالک کا پتہ کریں اور اپنا آپ اُس کی عظمت پر نچھاور کیا کریں:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ۔إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ۔(الذاریات: 56-58)

”نہیں پیدا کیا میں نے سب جنوں اور انسانوں کو کسی مقصد کے واسطے، مگر یہ کہ وہ ایک مجھ ہی کو پوجیں۔ نہیں مانگتا اِن سے میں ہرگز کوئی روزی اور نہ اِن سے میرا تقاضا ہے کہ یہ مجھے کھلائیں۔ بے شک اللہ ہی ہے بہت بڑا رازق، قوت والا، تمکنت والا“۔

 

مفسر قرآن عبد اللہ بن عباسؓ کہتے ہیں: آیت میں مذکور لفظ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ کا مطلب ہے: ”صرف مجھ ہی کو پوجیں“۔ بلکہ پورے قرآن میں جہاں کہیں ”اللہ کی عبادت“ کا حکم ہوا ہے وہاں مراد ہے: ’صرف اللہ کی عبادت“۔
پس لاِلٰہ اِلا اللہ اِس خد ائی دستور کا بیان ہے کہ: ”انسان“ نام کی یہ مخلوق زمین پر کیونکر رہے اور ایک دائمی جہان کے اندر جا بسنے کا استحقاق کیونکر پائے؟ کس شرط پر یہ مخلوق ہر د و جہان میں سرخروئی پا کررہے؟ ابد ی فلاح پانے کا یہی وہ مطلق وحتمی قانون ہے جس کو خد ا کی ہر رسالت دنیا میں بیان کرنے آئی، یعنی: ”نہیں کوئی عبادت کے لائق، مگر اللہ“۔ یہ وہ آئین ہے جس پر چلے بغیر یہ جہان وبال ہے اور اگلا جہان مصیبت۔

 

 

لا الٰہ الا اللہ کا بیان

 

پس وہ چیز جو خدا کے بے حد و حساب احسانات اور انعامات کے بدلے میں بندے کو مالک کے حضور پیش کرنی ہے، کلمہ اُس کا تعین کرتا ہے۔ کلمہ کہتا ہے کہ اس چیز کا نام ”بندگی“ ہے۔ پھر کلمہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ”بندگی“ خدا کو کس ادب اور سلیقے سے پیش کی گئی ہو تو اُس کے ہاں قبولیت پاتی ہے۔ اِس ادب اور سلیقے کا نام ”توحید“ ہے۔ پھر اتنا ہی نہیں، یہ کلمہ وہ ترتیب بھی بتاتا ہے جو اِس امر میں ملحوظ رکھی جانی ہے۔ یعنی پہلے توحید اور پھر خدا کی بندگی۔

پس لا الٰہ الا اللہ جس بندگی کو انسان کیلئے دستور ٹھراتا ہے وہ ایک خاص بندگی ہے۔ یہ محض ’خدا کو پوج لینا‘ نہیں، بلکہ یہ وہ ”بندگی“ ہے جس میں کوئی اور خدا کے ساتھ شریک ہی نہ رہنے دیا گیا ہو!!!

اِس ”بندگی“ سے بڑھ کر کوئی جذبہ اور کوئی جوہر انسان کے پاس نہیں۔ کلمہ کا کہنا ہے کہ یہ چیز خدا کو پیش کر دینا انسان کا سب سے بڑا فرض ہے اور اسے خدا کے سوا کسی ذات کو پیش کر دینا سب سے بڑا جرم۔ سو یہ کلمہ انسان کا سب سے بڑا فرض بھی بتاتا ہے اور سب سے بڑا جرم بھی۔

خدا کی یہ چیز اور یہ امانت __ یعنی بندگی__ جو ہر زندہ شخص اپنے وجود میں اٹھائے پھرتا ہے.. خدا کی یہ چیز خدا کو پیش کی جائے تو اِس پر وہ جس قدر خوش ہوتا ہے بلکہ قدردان ہوتا ہے کہ بندے نے مالک کا صحیح حق پہچانا، اِس سے کہیں زیادہ وہ اِس بات پر غضب نا ک ہوتا ہے کہ اُس کی یہ چیز کسی اور سرکار کو پیش کر دی جائے۔ اِس عاجز مخلوق کی اِتنی بڑی جسارت کہ یہ اپنی مرضی سے اُس قوی و برتر ذات کا کسی کو شریک اور ہم مرتبہ کر دے! خدا کی نظروں کے عین سامنے یہ اُس کے سوا کسی اور کو پوجے؟!! یہ بات البتہ وہ کبھی برداشت کرنے والا نہیں۔

پس اب ہمارے پاس ایک نہیں دو باتیں ہو گئیں۔ یہ ”بندگی“، یہ ”پرستش“، یہ ”پوجا“ اور یہ ”‘عبادت“ صرف اُسی کی چیز ہے جو اُس نے اِس مخلوقِ عاقل کی سرشت میں ڈال رکھی ہے اور پھر اِس کو اپنا پتہ بھی دے رکھا ہے، لہٰذا یہ ”بندگی“ اور ”پرستش“ تو لازماً اُسی ذات کو پیش کی جانا ہے جس کو یہ سزاوار ہے۔ مرنے سے پہلے پہلے لازماً یہ امانت اِس کے ”حق دار“ کو پہنچانا ہے اور اِس کے بغیر مر جانا حسرت ہی حسرت ہے اور بربادی ہی بربادی۔ فرائض میں اِس سے اوپر کوئی فرض نہیں۔ البتہ دوسری بات جوکہ اِس سے بھی بڑھ کر اہم ہے، وہ یہ کہ: ”بندگی“، ”پرستش“، ”پوجا“ اور ”عبادت“ ایسی یہ نایاب ترین سوغات اُس ذاتِ کبریائی کے سوا کسی اور کی نذر نہ کر دی جائے۔ جرائم میں اِس سے اوپر کوئی جرم نہیں۔

اُس کے کلام کے ایجاز اور بلاغت پر قربان جائیں، یہ اتنی بڑی بڑی باتیں اُس نے چار لفظوں کے ایک کلمے میں سمو دیں: لاِلٰہ اِلا اللہ۔ پھر اس کی ترتیب بھی ایسی لگائی کہ اِس کے مباحث کی سب ترجیحات آپ سے آپ واضح ہو جائیں!!!

چنانچہ اپنی اِس ”تنبیہ“ کو اُس نے بالکل آغاز میں رکھا اور بات ہی ”لا“ سے شروع کی۔ تاکہ اُس کے بندے ”شرک“ سے تائب پہلے ہوں اور اُس کی ”عبادت“ کے زینے پر قدم بعد میں رکھیں۔ عبادتِ طاغوت کے گڑھے سے پہلے نکل آئیں اور پرستشِ خداوندی کی منزلیں اس کے بعد چڑھیں۔ گندگی سے نکل آئیں تو بندگی کے پہناوے پہنیں۔ خدا کے غضب سے بھاگ لیں تو اُس کے فضل خواستگار ہوں۔ بربادی سے چھٹکارا پا لیں تو نعمتوں اور آسائشوں کو پانے میں زور لگا دیں اور خوش بختی کی راہ میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوں اور اِس میں جتنا آگے جا سکتے ہوں جائیں۔

پس اِس کلمہ میں انسان کا فقر بھی ہے: یعنی آدمی اپنی حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ یہ تو ہے ہی بندہ۔ بندگی کرنا اِس کی سرشت ہے۔ غلامی اِس کی اصل ہے۔ محتاجی اِس کے روئیں روئیں میں ہے۔ یہ ہے ہی عبد۔ عاجز۔ ضرورتمند۔ مانگنا اِس کی صفت ہے۔ ہاتھ پھیلانا اِس کا خاصہ ہے۔ یہ ”فقر“ درحقیقت بندگی کی جان ہے۔ بلکہ ”فقر“ ہی ”بندگی“ ہے۔ انسان محتاج نہ ہو تو کیوں وہ مالک کی بندگی کا دم بھرے؟ بے نیاز ہو تو کیوں وہ معبود کا سہارا چاہے؟ سو یہ ”فقر“ ہی ہے جو ”بندگی“ کی صورت میں اپنا ظہور کرتا ہے۔ پس اِس کا یہ اعتراف کرنا کہ خدا ہی اِس کا الٰہ ہے آپ سے آپ اقرار ہے کہ یہ اُس کا عبد اور مملوک ہے۔ ”پوجا“ درحقیقت ایسے ہی ایک جذبے اور ایسے ہی ایک تعلق کا نام ہے؛ یعنی اپنے فقر کا مداوا خدا کی دین سے کرنا۔ جتنا پھوٹ پھوٹ کر مالک کے آگے اِس کا ”فقر“ ظاہر ہو گا اتنی ہی مالک کے ماسوا ہستیوں سے اِس کی ”بے نیازی“ ہوتی چلی جائے گی!!! جس قدر مالک کے آگے اِس کی کمر دہری ہو گی اتنا ہی غیر ہستیوں کے آگے آپ سے آپ اِس کا سر اونچا ہو گا!!! یوں اِس کو وہ ”دولت“ ملتی چلی جائے گی جو دنیا کے کسی امیر سے امیر شخص کے پاس بھی کبھی نہ پائی گئی ہو گی، اور جوکہ صرف آخرت کے رؤسا کے یہاں ملا کرتی ہے! اِس کو زور لگانا ہے تو اپنے اِسی ”فقر“ کو خدا کے آگے ظاہر کرنے پر، جس کیلئے اُس نے اِسے ”عبادت“ کے ان گنت آداب اور ”بندگی“ کے بے شمار پیرائے سکھا رکھے ہیں!!! یوں.... جتنا ”خدا“ اِس کی ”ضرورت“ بنے گا اتنا ہی اِس کو ”استغنا“ ملتا چلا جائے گا، اور جوکہ اصل ”دولت“ ہے اور جس سے یہ بہشت میں جو چاہے خرید لے! گویا جتنا اِس کا ”فقر“ اُتنی اِس کی ”تونگری“!!!

یہ کلمہ اِنسان کے فقر اور ضرورت کا بیان ہے تو اِس بات کا اعلان بھی کہ اِس کا یہ فقر اور فاقہ کہیں پورا ہونے کا نہیں، سوائے رب العالمین کی بندگی اختیار کر لینے میں۔

بقول ابن قیمؒ، بہت لوگ اپنا فقر مانتے بھی ہیں تو روٹی پانی، کپڑے لتے اور صحت و روزی وغیرہ کی حد تک۔ حالانکہ انسان کا اصل فقر اِس میں پائے جانے والے بندگی اور عبادت کے وہ جذبات ہیں جو ظہور میں آنے کیلئے معبود کا پتہ مانگتے ہیں۔ یہ مطلق طور پر معبود کا ضرورت مند ہے نہ کہ محض روٹی کھانے اور پیاس بجھانے کی حد تک۔ اِس کی سب سے بڑی ضرورت ”پوجنا“ ہے۔ اِس کے بغیر یہ کہیں کا نہیں۔ کسی کی عظمت کو ماننا اور اُس کے آگے اپنی ذلت اور بے بسی رکھنا، اُس کو اپنا آپ دے کر رکھنا، اُس کے آگے اپنی عاجزی اور نا رسائی محسوس کرنا اور اُس سے اِس کا مداوا چاہنا، اُس کو پا لینے میں سب کچھ پا لینا اور اُس کو کھو دینے میں سب کچھ کھو دینا اور اُس کے بغیر اپنے آپ کو ضائع اور تباہ حال جاننا.. یہ سب جذبات وہ اصل ”فقر“ ہیں جو انسان کی سرشت میں ڈال رکھا گیا ہے۔ انسان مجسم فقر ہے۔ اِس کی سب سے بڑی صفت یہی ہے۔ پس یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ صفت اپنا ظہور کرنے میں تاخیر کرے؟ اِس کو لازماً کسی چیز یا کسی ذات کے ساتھ لو لگانا ہے۔ کسی چیز یا کسی ذات کے ساتھ ’وابستہ‘ ہونا ہے۔ کسی نہ کسی معنیٰ میں اُس کو اپنا ولی و کارساز جاننا ہے اور اپنے فاقہ و ضرورت کے لئے اُسی کا قصد اور اُسی کی جانب رخ کرنا۔ ”دعاء“ اور ”پکار“، ”توکل“ اور ”امید“، ”خوف“ اور ”ذلت“ اور ”عاجزی“، ”محبت“ اور ”گرویدگی“ اور ”اطاعت“ اور ”فرماں برداری“ ایسے سب رویے اِسی ”فقر“ کی ہی ایک بے ساختہ زبان ہیں۔ پس ”بندگی“ اور ”عبادت“ درحقیقت انسان کے ہاں پائے جانے والے ”فقر“ کا ہی ایک بے ساختہ بیان ہے۔ اِسی لئے اپنے اِس عجز کو غیر اللہ کے آگے رکھنا انسان کے حق میں سب سے سنگین جرم ہے اور غیر اللہ کے آگے اپنی اِس عفت کو بچا کر رکھنا اِس پر سب سے بڑا فرض۔

نیز جہاں یہ کلمہ: ”اپنی حیثیت“ پہچان لینا ہے کہ خدا کے سامنے میری اوقات کیا ہے اور میرے اِس فقر و فاقہ کی حقیقت کیا ہے.... وہاں یہ کلمہ: ”جملہ مخلوقات کی حیثیت“ کو جان لینا ہے کہ وہ نرے عاجز ہیں اور سراسر ناقابل التفات۔ ”کلمہ“ پڑھتے وقت انسان باقاعدہ طور پر یہ کہتا ہے کہ اِس کا یہ فقر (کہ یہ کسی ذات کو پوجے، اُسی کو ٹوٹ کر چاہے اور اُسی کی ہیبت دل پہ محسوس کرے، اُسی کے آگے ذلت کا اظہار کرے اور اُسی کی اطاعت کا دم بھرے، اُسی سے مانگے اور اُسی کے سہارے جئے).. اِس کا یہ فقر کہیں سے پورا ہونے کا نہیں مگر ایک خدائے رب العالمین سے۔ یہ پوجے گا تو اُسی کو اور دم بھرے گا تو ایک اُسی کا۔

انسان پر اپنا ”فقر“ اور ”بندگی“ واضح ہو جائے کہ یہ تو میری اساسی ترین صفت ہے.... تو یہ کلمہ مالک کے در کو پہچاننے کا نہایت خوبصورت پیرایہ بنتا ہے۔ ”نہیں کوئی پرستش کے لائق، مگر اللہ“.. یہ لفظ کہنے والا، عین اپنے معبود تک جا پہنچنے کا اعلان کرتا ہے۔ راہ میں.. نہ تو کسی کا کر و فر اِس کو مرعوب کر سکا اور نہ کسی کی بڑائی اِس کی نگاہ میں جچی۔ نہ کسی کی قوت اِس کی راہ میں حائل ہو پائی۔ نہ کسی کی سطوت نے اِس کو اپنا اسیر کیا۔ نہ کوئی روشن سے روشن چیز اِس کی نگاہ کو خیرہ کر سکی اور نہ کوئی حسین سے حسین صورت اِس کا دل لے سکی۔ نہ کسی کا لطف و احسان اِس کے دل پر قبضہ جما سکا اور نہ کسی کی خوبی اِس کو اپنا بندہ بنا سکی۔ کہیں بھی تو اِس کا دل نہیں بٹا اور یہ پورے کا پورا اپنے اصل معبود پر فدا ہونے کیلئے باقی رہا!!! یہ سالم کا سالم اپنے معبود کی عظمت پر نچھاور ہونے کیلئے پس انداز رہا!!! اِذ جاءربہ بقلبٍ سلیم!!!!! ایک صاف، خالص، مکمل اور غیر منقسم دل یہ اپنے مالک کو پیش کر دینے کیلئے پاس رکھتا تھا اور پھر ایسے دل کے ساتھ یہ مالک کی چوکھٹ پر آ جھکا.... ”نہیں کوئی عبادت کے لائق، مگر اللہ“!!!

یہی وجہ ہے کہ لا اِلٰہ اِلا اللہ کو ”کلمۃالاِِخلاص“ کہا گیا ہے۔ اِخلاص یعنی ”بندگی“ اور ”پرستش“ ایسی نفیس چیز کو کسی کیلئے نہ رہنے دینا، سوائے اللہ کے۔ اِس کو منقسم تک نہ ہونے دینا۔ اِس کو سالم ثابت رکھنا۔ اِس پر خالصتاً اللہ کا حق ماننا اور اللہ کیلئے اِس کو پورے کا پورا پیش کر دینا۔ اِس کو عین اُس ساخت پر باقی رکھنا جس پر اول سے اِس کی آفرینش ہوئی، یعنی ”فطرت“۔ کیونکہ انسان کے پاس یہ ایک ہی قیمتی چیز ہے جو مالک کو پیش کر دینے کی ہے؛ یہ اُس کو من و عن پیش کی جانی ہے اور اِس پوری کی پوری پر مالک کا حق ہے۔ اِس میں کسی رد وبدل کا پھر یہ روادار کیونکر ہو؟! اِس کو اِس کی اصل پر باقی رکھنا، یعنی انسان کا ”فطرت“ پر قائم رہنا اور ماحول میں پائے جانے والے ’خداؤں‘ کو اِس سے کوئی حصہ نہ لینے دینا اِس کی زندگی اور وجود کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ مالک کا ایک ایسا وفادار جو کسی کو ”مالک کی چیز“ کو ہاتھ لگانے دینے کا روادار نہیں! ایک سالم یک سُو دل جو صرف خدا کے آگے جھکنا جانتا ہے! کہ یہ اُس ایک کے سوا ہر معبود سے بیزار ہے! ”حنیفاً مسلماً“ کمال کا ایک وصف ہے جو انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کو رشکِ خلائق کر دیتا ہے:

اَصْبَحْنَا عَلیٰ فِطرۃِ الْاِسْلَامِ، وَکَلِمَۃِ الْاِخْلَاصِ، وَعَلیٰ دِیْنِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ، وَعَلیٰ مِلَّۃ أبِیْنَا اِبْرٰیِیْمَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً وَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔(1)

پس جہاں یہ ”کلمہ“ مالک کا در پہچاننا ہے وہاں یہ اُس کے سوا ہر در کو پہچاننے سے انکاری ہو جانا ہے۔ جہاں یہ رب العالمین کی خدائی تسلیم کرنا ہے وہاں یہ رب العالمین کے ماسوا ہستیوں کی خدائی کو مسترد کرنا ہے۔ بلکہ باطل ہستیوں کی خدائی کا انکار پہلے ہے اور حق تعالیٰ کی خدائی کا اقرار اُس کے بعد۔ ”کلمہ“ کے الفاظ کی اپنی ہی ترتیب صاف صاف ہمیں یہ بتلاتی ہے۔پس اِس ”کلمہ“ کی رو سے: آدمی کو غیر اللہ کی عبادت کا بطلان پہلے کرنا ہے؛ اللہ کی عبادت پر عمل پیرا ہونے کا مسئلہ اس کے بعد ہی آتا ہے؛ اور اگر پہلے آئے تو ناقبول رہتا ہے۔

چنانچہ اسلام کا سب سے پہلا عمل یہ ٹھہرا کہ آدمی اِس ”کلمہ“ کی صورت میں اپنی زندگی کا ایک رخ متعین کرے۔ نماز و روزہ، حج و زکات، ذکر و اذکار اور صدقہ و خیرات وغیرہ ایسے دین کے جملہ ’اعمال‘ سے پہلے یہ خدا کے ساتھ باقاعدہ ایک رشتہ اور ایک عہد استوار کرے.... وہ ”رشتہ“ اور وہ ”عہد“ جس کو ”بندگی“ اور ”یکسوئی“ کہا جاتا ہے اور جس کی رو سے خدا کے ماسوا پوجی جانے والی ہستیوں سے اِس کو برأت اور بیزاری کرنا ہوتی ہے اور اُس کے سب شریکوں کا صاف صاف کفر کر دینا، اپنے پورے وجود کو اُس کے آگے جھکا دینا اور اپنا آپ اُس کی غلامی میں دے دینا، نیز خدائے وحدہ لا شریک کی بندگی کی اِس راہ میں محمد ﷺ کو اپنا راہبر اور مقتدا تسلیم کر لینا.... اپنی زندگی اور سرگرمی کی سمت کا یہ واضح اور صریح تعین کر لینا دین کا وہ پہلا عمل ہے جس سے پہلے کوئی عمل نہیں۔ یہ ”کارروائی“ جو اسلام کا ”رکن اول“ کہلاتی ہے پورے دین کی جان اور اساس ہے۔ ”کلمہ“ پڑھنا درحقیقت یہی ہے۔

إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (الانعام: 79)

”میں نے اپنا سب کا سب رخ کیا اُس ذات کی طرف، جو آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والی ہے، یک سو ہو کر، اور نہیں ہرگز میں مشرکوں میں سے ہونے کا“(2)

پس یہ ”کلمہ“ ہے: انسان کا خدا کی جانب یک رخ ہو جانا۔ اپنا چہرہ خدا کو سونپ دینا۔ حنیفاً: اُسی ایک کیلئے یک سو ہو کر۔ یعنی اُس کے سوا سب معبودوں اور سب راستوں سے اچاٹ ہو کر اور اپنا راستہ ان کے راستوں سے الگ تھلگ کر کے اور صرف خدا کے راستے کو ہی اپنا راستہ مان کر۔

خدا کے ہاں قبول ہونے کی واحد صورت یہی ہے:

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ۔ (الروم: 30- 32)

”پس تو ایک طرف کا ہو کر اپنا چہرہ اِس طریقِ بندگی کیلئے سیدھا کر دے۔ اللہ کی اُس فطرت کے مطابق ، جس پر اُس نے سب لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی پیدا کی ہوئی (اِس) سرشت کو ہرگز نہیں بدلنا۔ یہی ٹھیٹ دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اُسی ایک کی طرف رجوع (اِنابت) کرتے ہوئے۔ اور اُسی سے ڈرتے رہو۔ اور صلوٰۃ قائم کرو۔ اور شرک کرنیوالوں سے نہ ہو جاؤ۔ اُن لوگوں سے جنہوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور کئی گروہ ہو گئے۔ ہر گروہ اُسی پر جو اُس کے پاس ہے، اترائے چلا جاتا ہے“۔

وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ  (یونس: 105)

”اور یہ کہ تو اپنا رخ اِسی طریقِ بندگی کیلئے سیدھا کر لے، یکسو ہو کر اور مشرکوں سے ہرگز نہ ہو“۔

خدا کی جانب اِس انداز میں ”یکسو“ ہو جانا___ یوں کہ اُس کے ما سوا سب معبودوں سے آدمی نے منہ موڑ لیا ہو اور اپنی زندگی کا تمام رخ ایک اُسی کی جانب پھیر دیا ہو اور اِس کے سوا سب ملتوں سے بری و بیزار ہو کر ایک اسی کی ملت میں اپنا آپ گم کر لیا ہو ___ ”حَنِیْفِیَّت“ کہلاتا ہے اور اِس وصف کے حامل لوگوں کو قرآن کی اصطلاح میں ”حَنِیْف“ یا ”حُنَفَاء“ کہا جاتا ہے۔ صاحبو! اِس ”حَنِیْفِیَّت“ کے بغیر.... ’خدا کو پوجنا‘ بے معنی ہے اور ’خدا کو ماننے‘ کا زعم رکھنا نرا نفس کا بہکاوا اور شیطان کا فریب۔ اِس اَدائے ”حَنِیْفِیَّت“ کے بغیر خدا کو پانے کی امید سراسر نادانی ہے۔

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلاَّ مَن سَفِهَ نَفْسَهُ (البقرۃ: 130)

”کون ہے جو ابراہیم کے (اِس) راستے سے منہ موڑے، مگر وہی جو اپنے آپ کو نادانی میں رکھے ہوئے ہے....؟“

ہاں وہ لوگ جو انبیاءکے طریقے پر خدا کے ساتھ لو لگانا سیکھتے ہیں، وہ البتہ اِس ”حَنِیْفِیَّت“ میں وہ لطف اور وہ مزہ پاتے ہیں جو دنیا کی کسی بات میں نہیں۔ تب ان کے ہر عمل میں اِسی ”حَنِیْفِیَّت“ کا رنگ اور اِسی کا اثر ملتا ہے۔ اِس وصف کے حامل لوگ یعنی ”حُنَفَاء“ جب یہ لفط بولتے ہیں کہ ”نہیں کوئی عبادت کے لائق، مگر اللہ“، تو اُن کیلئے وہ باقاعد ایک معنیٰ اور مفہوم رکھتا ہے اور ان کی زندگی کو ایک متعین شکل دے رہا ہوتا ہے، بلکہ اُن کے ذریعے پوری دنیا کو باقاعدہ ایک دھارا اختیار کر لینے کا نہایت واضح پیغام دے رہا ہوتا ہے۔

حُنَفَاء لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ!!! (الحج: 31)

یہی ”حَنِیْفِیَّت(3) در حقیقت ”ملتِ ابراہیمؑ“ کہلاتی ہے؛ اُس ابراہیمؑ کی ملت جس نے خدا کا ایک گھر بنانے سے پہلے باطل خداؤں کا ایک گھر مسمار کیا تھا! خدا کیلئے ایک شہر بسانے سے پہلے جس نے باطل کی پوری ایک دنیا کو خیر باد کہہ ڈالا تھا اور توحید کے رشتے کے سوا سب رشتوں کو پس پشت ڈال دینے کی ریت پورے جہان کے اندر متعارف کرائی تھی! خدا کی جانب قبلہ رخ ہونے سے پہلے جس نے ’قوم‘ اور ’قبیلے‘ اور ’باپ دادا‘ اور ’ملک‘ اور ’وطن‘ ایسی سب جاہلی بنیادوں سے بیزار ہو کر اور اِن سب باطل ’قبلوں‘ سے رخ پھیر کر دکھایا تھا۔ ”خدا کو پوجنے“ کیلئے جس نے دنیا میں ”باطل معبودوں کے ساتھ کفر“ کرنے کی مثال اور اسوہ و نمونہ بن کے دکھایا تھا۔ تب یوں ہوا کہ خدا نے اپنی بندگی اور عبادت کے معاملہ میں ابراہیمؑ کو ہی ”مثال“ اور ”اسوہ“ اور ”نمونہ“ ٹھہرا دیا:

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً (النحل: 120)

”یقینا ابراہیمؑ ایک قابل تقلید نمونہ تھا“

اور تو اور، یہ تک فرما دیا کہ جو شخص ابراہیمؑ کے اِس راستے سے منہ موڑے وہ اپنے آپ ہی کو نادانی اور بے خبری میں رکھے ہوئے ہے:

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلاَّ مَن سَفِهَ نَفْسَهُ (البقرۃ: 130)

”کون ہے جو ابراہیم کے (اِس) راستے سے منہ موڑے، مگر وہی جو اپنے آپ کو نادانی میں رکھے ہوئے ہے....؟“

یہ ”حَنِیْفِیَّت“ ہی در حقیقت ”خدا کو پانا“ ہے؛ اِس کے سوا ”خدا تک پہنچنے“ کا کوئی راستہ نہیں۔ اِس کو چھوڑ کر ”خدا کو پانے“ کے جتنے تصورات اور جتنے فلسفے تاریخ کے اندر دیکھے یا پڑھے پڑھائے گئے ہوں گے.... اِس ”حَنِیْفِیَّت“ کو بنیاد بنائے بغیر جتنے بھی ’شیریں بیاں‘ خطبے ”خدا سے لو لگانے“ کے موضوع پر آپ کو سننے اور جتنے بھی ’دلنشیں‘ مضمون ”روح کو ترقی دینے“ کے باب میں پڑھنے کو ملے ہوں گے.. وہ رسولوں کی دعوت سے سراسر ناوافقیت کی دلیل ہیں اور یا پھر ’خدا کو پانے‘ کی بابت رسولوں کے دیے ہوئے تصور سے سیدھا سیدھا اعراض:

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلاَّ مَن سَفِهَ نَفْسَهُ....!!!(البقرۃ: 130)

جہاں ہم یہ جانتے ہیں کہ ہر نبی کی دعوت یہی ”لا الٰہ الا اللہ“ تھی وہاں قرآن نے ہم پر یہ بھی نہایت واضح کر دیا کہ ہر دور میں خدا کا مطالبہ یہی رہا کہ ”حَنِیْفِیَّت“ اور صرف ”حَنِیْفِیَّت“ کی صورت لوگ اپنی بندگی اور نیاز کو خدا کیلئے خالص ومختص کر کے رہیں؛ اور جو کہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کی ہی حقیقی و عملی تفسیر ہے:

وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ  (البینۃ: 5)

”اور نہیں حکم دیا گیا تھا اُن کو مگر یہی کہ عبادت کریں اللہ کی، اطاعت کیشی و فرماں برداری کو اُسی ایک کیلئے خالص کر رکھتے ہوئے، یک سو ہوکر، اور صلوۃ قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، اور یہی تھا وہ (اصل) ٹھیٹ طریقِ بندگی“۔

وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ  ...!!! ”یہی تھا وہ (اصل) ٹھیٹ طریقِ بندگی“!!!

”لا الٰہ الا اللہ“ کا مطلب زندگی میں ایسا ہی ایک رخ اختیار کر لینا ہے جس کو قرآن کی اصطلاح میں ”حَنِیْفِیَّت“ کہا گیا ہے۔ ”کلمہ گو“ ہونے کا مطلب بھی درحقیقت یہی ہے؛ یعنی ایسا ”کلمہ گو“ ہونا جس کا خدا کے ہاں اعتبار ہے۔ انبیاءکا اپنی قوموں کو ”کلمہ“ پڑھوانا فی الواقع یہی معنی اور مراد رکھتا تھا۔ محض ’الفاظ‘ کہلوا دینا انبیاءکا مطمح نظر بہر حال نہیں تھا....!

اِس کلمہ کو ایسی ہی کوئی ’ہلکی پھلکی‘ چیز سمجھ لینا جو بس زبان سے کہہ ڈالی جائے اور اس کے سوا اِس کے معتبر ہونے کی کسی شرط سے آدمی واقف تک نہ ہو.... یہ خدا کی کتابوں اور خدا کے رسولوں کے اُس واضح مطالبہ سے جو وہ ”انسان“ کے سامنے رکھتے رہے، آخری حد تک بے خبر ہونے کی دلیل ہے!

صاحبو! محض ایک ”کلمہ“ پر جنت اور دوزخ ایسے دائمی جہانوں کا دار ومدار ہونا اور اِسی کی بنیاد پر ترازؤوں کا نصب ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ اِس کیلئے ”سنجیدگی“ کی وہ کم از کم سطح مطلوب ہے جو اِس کلمہ کو محض ’الفاظ‘ تک محدود جاننے سے مانع ہو!!!

دوستو! ”کلمہ“ ایک میثاق اور ایک عہد نامہ ہے۔ ایک ”میثاق“ اور ایک ”عہد نامہ“ کسی حدود اور قیود کے بغیر بھلا کب پایا گیا ہے؟!

 

***********

 

میثاقِ لا الٰہ الا اللہ.. اور شیاطین کی رہزنی

 

لازم ہے یہ بات بھی بیان کر دی جائے کہ لا الٰہ الا اللہ کے اِس ”میثاق“ میں شیطان سب سے بڑھ کر کہاں نقب لگاتا ہے اور وہ کونسا مقام ہے جہاں پر بیشتر ’خدا کے پجاری‘ شیاطین کے ہاتھوں لٹ کر جاتے ہیں....!

شیطان، کہ خوب جانتا ہے یہ ”فطرت“ اپنی پوجا اور اپنے اظہارِ فقر کیلئے صرف اور صرف خالق کا پتہ مانگتی ہے اور نیاز و فرماں برداری کیلئے ہمیشہ آسمان کی جانب رخ کرتی ہے، بکثرت یہ تدبیر کرتا رہا کہ اپنی کمین گاہیں یہ ”آسمان“ کی طرف جانے والی راہوں میں ہی نصب کر کے رکھے۔ چنانچہ شیطان نے یہاں پر کچھ ایسے ’واسطے‘ اور ’درمیانی انتطامات‘ کھڑے کر دیے کہ آسمان کی طرف جانے والی ”چیز“ بیچ میں ہی اُچک لی جائے....! یوں ”بندگی“ کرنے والوں کا زعم بھی قائم رہا کہ وہ ’خدائے واحد‘ کو پوجتے ہیں البتہ خدا کی چیز ”خالص حالت“ میں خدا کو پہنچنے سے بھی صاف روک لی گئی! خدا کے نام پر ”عبادت“ کا جذبہ بھی ابھار لیا گیا اور پھر ”عبادت“ کا وہ سب نفیس مادہ، جوکہ ”انسانیت“ کا اصل جوہر ہے، خدا کے ماسوا ہستیوں کے قدموں میں بھی ڈھیر کروا دیا گیا!

انسانی فطرت روادار نہیں کہ ”خدا“ کو مقصود بنائے بغیر ہی ”عبادت“ ایسے نفیس جذبات و احساسات اِس سے برآمد ہوں۔ شیاطین نے جب یہ جانا کہ ”پرستش“ ایسے والہانہ رویے جب بھی انسان کے وجود سے پھوٹیں گے اِن کو ”خدا“ سے ہی کوئی نہ کوئی نسبت درکار ہوگی، تو اِس نسبت کو ختم کرا دینا شیاطین نے بڑی حد تک غیر ضروری جانا۔ تب وہ اِسی بات کو غنیمت جاننے لگے کہ ’آخری مقصود‘ تو بے شک خدا کی ذات رہے، البتہ بیچ میں کچھ ایسے ’واسطے‘ کھڑے کر دیے جائیں کہ ”عبادت“ اور ”اطاعت“ کی صورت میں خدا کو جو کچھ پہنچانا مقصود ہے پہلے وہ اِن کو پہنچے گا تو پھر یہ اُس کو خدا تک پہنچائیں گے!

اِس سے بڑھ کر رہزنی کر لینا بالعموم شیطان کے بس میں نہیں۔ چنانچہ اپنا سارا زور اس کو اِسی نقطے پر صرف کرنا تھا اور یہی اس کی سرگرمی کا ایک بڑا محور رہا ہے۔

بہت کم کسی دور میں ایسا ہوا ہو گا کہ ”انسان“ صاف صاف اور پورے دھڑلے کے ساتھ خدا کو اپنی ”عبادت“ اور ”بندگی“ سے بے دخل کر دے اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ اِس پر غیروں کا حق تسلیم کرتا پھرے۔ اتنی سی شرم ”انسان“ کی آنکھ میں بالعموم باقی رہی ہے کہ وہ مالک کو لائقِ عبادت مانتا ضرور رہے، بلکہ ’مستقل بالذات‘ معنی میں مالک کے سوا کبھی بھی کسی کو لائقِ عبادت نہ مانے!!! ایسا حوصلہ بہت کم لوگ پاتے ہیں کہ وہ غیر ہستیوں کو عین اُسی ’حیثیت‘ میں پکاریں جس ’حیثیت‘ میں خدا کو پکارا جاتا ہے! مخلوقات کو مدد اور حاجت روائی کیلئے عین اُسی ’اعتقاد‘ کے ساتھ آواز دیں جس ’اعتقاد‘ کے ساتھ خدا کو آواز دی جاتی ہے! مخلوقات کو عین اُسی معنی میں پیشوا مان لیں اور ان کیلئے انسانی معاشروں کو حلال و حرام کے ضابطے اور روا و ناروا کے دستور صادر کر دینے کا عین وہی حق تسلیم کریں جیسا ’مستقل بالذات‘ حق خالق کو سزاوار ہے!!!

اِس کیلئے شیطان انسان کو یہ سبق پڑھاتا ہے کہ خدا کے ماسوا ہستیوں کو ’غیر مستقل بالذات‘ سمجھ کر پوجو اور اِسی ’بے ضرر‘ سی حیثیت میں ان کو پکارتے رہو۔ اور نہیں تو چلو اِسی ’ثانوی‘ حیثیت میں ہی اِن ہستیوں کے حضور کسی وقت اپنی جبین نیاز کو رکھ اؤ۔ اِسی حیثیت میں ان کے آگے اپنی ذلت اور نارسائی رکھو۔ اِن کی اِسی ’غیر مستقل بالذات‘ حیثیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہی اِن ہستیوں کی ہیبت اور ان کا خوف کھاؤ۔ اِن سے دب کر رہو اور اِن کے التفات کے طلبگار بنو۔ اِسی ’غیر مستقل بالذات‘ حیثیت کو مدنظر رکھ کر ان مخلوقات سے امیدیں اور آرزوئیں رکھو اور ان پر تکیہ اور بھروسہ کرو، اور اِسی ’معمولی سی‘ حیثیت میں ان سے اپنی مرادیں پوری کراتے چلے جاؤ۔ بس اِسی ’عطائی‘ حیثیت میں ہی ان کو پیشوا اور ان کے فرمائے کو حرف آخر مان لو، یعنی یہ اعتقاد کہ: آپ اپنے زور پر نہیں تو خدا کے نام پر ہی ان کو اپنی چلانے کا کوئی اختیار حاصل ہو چکا ہے! غرض.. خدا کے غیر کو پوجو ضرور، لیکن ’غیر مستقل بالذات‘ سمجھ کر....! ”عبادت“ کے سب افعال ان کیلئے حسب منشا بجا لاؤ، بس اتنا کرو کہ ’غیر مستقل بالذات‘ کا سابقہ یا لاحقہ ان ہستیوں کے ساتھ ضرور لگا رہے۔ مخلوقات کے آگے سر جھکانے میں بھی ’خدا‘ ہی کو اپنا حتمی مطلوب و مقصود مانو؛ یعنی یہ اعتقاد رکھو کہ ’تمہاری ان کے آگے اور ان کی خدا کے آگے‘....!!!

اِس طریقے سے.. یعنی ’ذاتی‘ اور ’عطائی‘ کے مابین تمیز کا ایک من گھڑت فلسفہ پیش کر کے، مخلوق کو پوجنے کی راہ کے سب بند کھلوا دیے گئے!!! شیاطین نے اپنے اِس حربے سے کام لے کر خدا کے ماسوا ہستیوں کی سرکار میں ہدیہ کئے جانے والے ”عبادت“ اور ”نیاز“ کے کئی ایک مظاہر ’حق‘ کے پردے میں ہی پیش کر ڈالے.. کہ یوں لوگ خدا کے ساتھ بے تحاشا شرک بھی کریں اور اِس شرک پر اُس کے ہاں اجر و ثواب پانے کا برتہ بھی رکھیں! بلکہ اُس کو خوش کرنے ہی کیلئے اور اُس کے ہاں قبول ہونے ہی کیلئے اُس کے ماسوا ہستیوں کو پوجیں اور برابر یہ سمجھتے رہیں کہ اِس طریقے سے وہ اِن کی خوب سنے گا، بلکہ یہ مانیں کہ اِس کے بغیر وہ اِن کی سنے گا ہی نہیں!!!

یوں شیاطین نے بنی آدم کے ساتھ نہایت زبردست ہاتھ کیا؛ ’ذاتی‘ اور ’عطائی‘ کے مابین تمیز کے اِس ’فلسفہ‘ پر خدا نے اپنی کسی کتاب اور اپنی کسی شریعت میں کبھی کوئی سند نہیں اتاری تھی۔ خدا کے کسی ایک بھی نبی نے ’ذاتی‘ اور ’عطائی‘ کے مابین فرق کروانے کا یہ ’نکتہ‘ کبھی بیان نہیں کیا تھا؛ جو کہ آج آپ کو صرف ہندو سادھؤوں سے ہی نہیں، دورِ آخر کے بعض نام نہاد ’مسلم‘ شاستروں سے بھی بکثرت سننے کو مل جاتا ہے!

کون نہیں جانتا.... جو بھی نبی آیا اُس نے مطلق طور پر غیر اللہ کو پوجنے اور پکارنے سے روکا، جبکہ اِن ’نکتہ وروں‘ کی طرح بڑی آسانی کے ساتھ وہ لوگوں کو ’ذاتی‘ اور ’عطائی‘ کا فرق کروا سکتا تھا، خصوصاً جبکہ بہت سے نبیوں کی قومیں شیاطین کو نہیں بلکہ صالحین کو ہی پوجتی اور پکارتی تھیں! بڑے ہی آرام کے ساتھ ہر نبی ان کو کہہ سکتا تھا کہ ان نیک روحوں کو پوجتے اور پکارتے ضرور رہو مگر ’غیر مستقل بالذات‘ سمجھ کر! تب ’غیر اللہ کو پوجنے اور پکارنے‘ کے مظاہر کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہی انبیاءکے یہاں پیش نہ آتی! صاف ظاہر ہے، تب انبیاءکامشن شرک کے وہ مظاہر ختم کئے بغیر ہی نہایت خوبی کے ساتھ پورا ہو جاتا، جن کو ختم کرانے میں انبیاءکی پوری پوری زندگیاں صرف ہوئیں، اور خلقت کہیں آسانی کے ساتھ ’خدا کو ماننے‘ لگتی!!! معاذ اللہ، یوں ’غیر اللہ کو پوجنے‘ کی راہ سے ہی انسان کو ’خدا تک پہنچنے‘ کی راہ دکھا لی جاتی!!!

کسی نبی کی شریعت میں ایسا ہوتا تو ’عطائی‘ اور ’غیر مستقل بالذات‘ سمجھ کر نہ صرف ان صالحین کو پوجنے کی تلقین ہوتی، بلکہ نبی اپنے پیچھے یہ ’وصیت‘ تک کر کے جاتا کہ خود اُس کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد لوگ پرانے صالحین کو ہی پکارنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ خود اُس نبی سے بھی بے دریغ حاجتیں پوری کروایا کریں! یہی نہیں، اپنی نذریں اور چڑھاوے پہنچانے کیلئے خود اس نبی کے شایانِ شان ایک ’درگاہ‘ بنائیں.... آخر نبی سے بڑھ کر تو کوئی خدا کے قریب نہیں ہو سکتا!!!

خدا کو پانا اگر صالحین کے آگے سر نیاز خم کر کے ممکن ہے تو سب سے بڑھ کر منطقی بات تو یہ تھی کہ انبیاءلوگوں کو اپنے آگے جھکاتے اور اپنے آپ کو پکارنے کی ہی زیادہ سے زیادہ تلقین کر کے دنیا سے جاتے! مگر دیکھ لیجئے، انبیاءسے فریاد اور استغاثہ کرنے والے دنیا میں پیدا ہوئے بھی تو انبیاءکے دنیا سے چلے جانے کے صدیوں بعد کہیں جا کر!!!

قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى آللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ (النمل: 59)

پس وہ مقام جہاں ’خدا کو پوجنے‘ کا زعم رکھنے والی بہت سی خلقت شیاطین کے آگے اپنا آپ لٹاتی ہے اور ’خدا تک پہنچنے‘ کے جھانسے میں غیر ہستیوں کی عبادت کی راہ پر ڈال دی جاتی ہے، چاہے یہ عبادت ”دعاء“ اور ”نذر“ کی صورت میں ہو، اور چاہے ”خوف“ اور ”گرویدگی“ کی صورت میں، اور چاہے ”تعظیم“ اور ”اطاعت“ کی صورت میں.. وہ ہے ’عطائی‘ اختیارات کے حامل کچھ ایسے ’واسطے‘ اور ’وسیلے‘ کھڑے کرنا جن کو خدا تک پہنچنے کیلئے پوجنا اور پرنام کرنا ضروری باور کرایا جاتا ہے۔

’عطائی‘.. یعنی آپ اپنی ذات میں تو یہ ہستیاں مخلوق ہیں اور ایک اُسی کے در کی سوالی ہیں، اور یہ کہ ’ذاتی‘ طور پر اور ’ازل‘ سے تو ان کی یہ صفت نہیں، مگر خدا نے مہربان ہو کر کسی وقت ان کو کوئی ایسی عجیب صفت ’بخش‘ دی ہے کہ ان سے اب سوال بھی کیا جا سکتا ہے، ان کے آگے اب اپنی ذلت اور عاجزی کا پردہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے، ان کے در کا طواف بھی ہو سکتا ہے، ان کے نام کی نذر بھی دی جا سکتی ہے، ان کے نام کی جے بھی پکاری جا سکتی ہے، ان کا غضب بھڑک اٹھنے سے ڈر کر رہنا اور ان کے آگے دم سادھ کر رہنا بھی انسان پر واجب ہے اور ان کو رام کرنے کے جس قدر جتن ہو سکیں وہ بھی اس کے حق میں بے حد ضروری! یہ ہستیاں خدا کے ساتھ جیسا معاملہ کریں، یہ خود ہی جانیں، البتہ ہمیں خدا سے کچھ لینا ہے تو اِن کے ذریعے، اور خدا کو راضی کرنا ہے تو اِن کی وساطت، اور خدا کی اطاعت کرنی ہے تو اِن کی تحلیل اور تحریم کا پابند اور اِنہی کے دائرۂ اختیار میں قید رہ کر اور اِنہی کو اپنی عبادت اور گرویدگی کا حقدار جان کر!!!

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ۔أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ ۔ (الزمر: 2-3)

”بے شک ہم نے تجھ پر کتاب اتاری، واضح حق کے ساتھ، پس تو پوج ایک اللہ کو، تمام تر دین (اطاعت و بندگی) کو ایک اُسی کیلئے خالص کر دیتے ہوئے۔ خبر دار رہو! اطاعت اور بندگی خالصتاً ایک اُسی کی ہے۔ رہے وہ لوگ جو اُس کے سوا ہستیوں کو اپنی عبادت و وابستگی کا حقدار بنا چکے، (وہ کہتے ہیں): ’ہم ان کو نہیں پوجتے مگر اِس لئے کہ یہ ہمیں خدا کے قریب کر دیں‘، بے شک اللہ ہی ان کے مابین فیصلہ کرنے والا ہے اُس میں جو یہ اختلاف کرتے ہیں۔ بے شک اللہ نہیں ہدایت دیا کرتا ایسے شخص کو جو بڑا جھوٹا ہو اور حد درجہ نا شکر گزار“۔

شیاطین کی اِس واردات کا سد باب اِسی طرح کیا جا سکتا تھا کہ آسمانی شرائع میں ’خدا تک پہنچانے والے‘ واسطوں اور وسیلوں کا تصور ہی ختم کر کے رکھ دیا جاتا۔ چنانچہ انبیاءکی دعوت میں یہ مضمون بکثرت درج ہوا کہ: غیر اللہ کو کسی بھی حیثیت میں پوجنا اور پکارنا خدا کے غضب کو صاف دعوت دینا ہے.. اور یہ کہ: غیر اللہ کی اطاعت اور عبادت مطلقاً باطل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن نے بڑی تکرار کے ساتھ ان مشرکین کا رد کیا جو غیر اللہ کے آگے افعالِ بندگی بجا لاتے اور اس کی تفسیر اپنے تئیں یہ کرتے کہ ان کے اِس عمل میں بھی درحقیقت خدا ہی ان کا مقصود ہے۔ اور یہ کہ وہ اپنے اِس فعل سے در اصل خدا تک ہی پہنچنا چاہتے ہیں۔ اور یہ کہ خدا کے کسی مقرب کے ہاں ان کا درخواست دے کر آنا فی الواقع خدا کے ہاں ہی درخواست دینا ہے؛ یعنی وہ نیک ہستیاں جن کو یہ پکارتے ہیں خدا کے ہاں محض اور محض اِن کے سفارشی ہیں:

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَضُرُّهُمْ وَلاَ يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـؤُلاء شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللّهَ بِمَا لاَ يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلاَ فِي الأَرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ۔ (یونس: 18)

”اور یہ پوجتے ہیں اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کو جو ان کا نقصان کر سکتی ہیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکتی ہیں، اور کہتے یہ ہیں کہ اللہ کے ہاں یہ ہمارے سفارشی ہیں۔ کہو: کیا تم اللہ کو وہ بات سمجھاتے ہو جسے نہ وہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں؟! پاک ہے وہ اور نہایت بلند ہے اس سے جو یہ (اُس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں“۔

قرآنی مباحث کا ایک بڑا حصہ اِسی ”سفارشیوں“ والے مشرکانہ تصور کا رد کرتا ہے۔ پیرائے بدل بدل کر ”مَا لَكُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ“ کا مضمون لے کر آیا جاتا ہے اور اِس پر انذار اور وعید کی حد کر دی جاتی ہے۔ بار بار خدا کے ماسوا ”شفعاء“ پکڑنے سے خبردار کیا جاتا ہے اور صاف صاف اِس کو شرک کہا جاتا ہے۔ قرآنی مباحث کے اِن مقامات پر جس ”شفاعت“ یا ”شفعاء“ کی نفی کی جاتی ہے اور اِس کو ”شرک“ سے جوڑا جاتا ہے، یہ وہی ”شفیع“ ہیں جن کی بابت مشرکین کا تصور تھا کہ ”ہماری ان کے آگے اور ان کی خدا کے آگے“۔ یہ ”سفارشیوں“ کا وہی تصور ہے جس کی رو سے یہ اُن کو پوجتے اور پرنام کرتے، اور اعتقاد رکھتے کہ خدا تک اپنی درخواست پہنچانے کا یہی قاعدہ اور طریقہ ہے۔ یہ ’درباریوں‘ کا وہی فلسفہ ہے جو مشرکین کے خیال میں کائنات کے بادشاہ کے ہاں کوئی ’اثر و رسوخ‘ رکھتے ہیں۔ یہ ’سیڑھیوں‘ کا وہی ڈھکوسلہ ہے جس کے بغیر خدا تک پہنچنے کا خیال ذہن میں لانا مشرکین کے نزدیک بے ادبی اور گستاخی باور ہوتا ہے۔ عرش کے مالک کی بابت ان کا خیال ہے کہ وہاں پر بھی ’سفارشیں‘ چلتی ہیں لہٰذا ”بندگی“ اور ”گرویدگی“ کی گرہ سے بہت کچھ ان ’سفارشیوں‘ کو بھی دینا دلانا پڑتا ہے!

قرآن کے یہ مباحث پڑھ لیجئے، آپ یہ ماننے میں ادنیٰ تامل نہ کریں گے کہ ”شفاعت“ کا یہ تصور جو اوپر کے پیرے میں ذکر ہوا اور جس کی جانب سورۂ یونس کی آیت (18) کے اندر اشارہ ہوا، رب العالمین کے ساتھ صریح شرک ہے۔ ایسے ”واسطے“ اور ”وسیلے“ اور ”سیڑھیاں“ جن کے لئے عبادت کا کوئی ذرہ بھر عمل بجا لایا جائے، چاہے یہ ”پکارنے“ کی صورت میں ہو، یا ”نذر“ اور ”نیاز“ کی صورت میں، چاہے ”ذبیحہ“ اور ”طواف“ کی صورت میں، چاہے ”پوجا“ اور ”تعظیم“ کی صورت میں اور چاہے ”اطاعت“ اور ”گرویدگی“ کی صورت میں.. یعنی وہ واسطے اور وسیلے جو عبادت کے اِن سب افعال اور رویوں کو اللہ رب العزت کے لئے خاص نہ رہنے دیں.... ایسے سب ”واسطے“ اور ”وسیلے“ اور ”سیڑھیاں“ عین وہ ”شفعاء“ ہیں جنہیں پکڑنے پر قرآن کے اندر شرک کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔یہ شیطان کی وہ کمین گاہیں ہیں جنہیں وہ اپنی رہزنی کیلئے نصب کرتا ہے اور جہاں پر ڈھیروں خلقت کھیت ہوتی اور بالآخر جہنم کا ایندھن بنا دی جاتی ہے۔ قرآن پڑھنے سے پتہ چلتا ہے؛ بیشتر لوگ مرتے ہیں تو یہیں پر۔

رب العالمین کے سوا کسی کو ’مستقل بالذات‘ سمجھ کر کون پوج سکتا ہے؟! لہٰذا یہاں ’پوجا‘ کی ہی ایک اور صنف متعارف کرا دی گئی اور وہ یہ کہ ان کو ’غیر مستقل بالذات‘ سمجھ کر پوجتے اور پکارتے رہو، آخر جب تم نے ان کو ’قادرِ مطلق‘ جان کر نہیں پکارا تو یہ خدا کے ہم سر کیسے ہوگئے....؟!

اب یہ ’دوسرے درجے کی پوجا‘ ہر طرف ہوتی ہے۔ دنیا ان ’دوسرے درجے کے معبودوں‘ سے بھری پڑی ہے۔ ”بندگی“، ”اطاعت“، ”تعظیم“ اور ”گرویدگی“ ایسا انسانی جوہر اِن کے چرنوں میں ہر طرف خاک آلود ہوتا ہے۔ اور کبھی پوچھیں تو جواب ملے گا کہ خدا کا جو مقام ہے وہ ہم ان کو کب دیتے ہیں؟! مگر کبھی یہ نہ بتا سکیں گے کہ ابراہیمؑ اور محمد ﷺ کے طریقے پر خدا کو پوجنا وہ کیا ہوا کہ مانگو تو ایک اُسی سے اور مانو تو ایک اُسی کی؟! خدا کو براہِ راست پکارنا اگر صرف ’پہنچے ہوؤں‘ کو سزاوار ہے تو پھر محمد رسول اللہ ﷺ تو عام گناہگاروں ہی کو کیا مکہ کے مشرکوں کو کہتے رہے تھے کہ پوجو تو صرف خدا کو اور پکارو تو صرف خدا کو، تعظیم کرو تو خدا کی اور ذکر کرو تو خدا کا، سب تسبیح اُسی کی اور تمام تعریف اُسی کے لئے، سجدہ و رکوع بھی اُسی کو اور کبریائی کے سب صیغے بھی اُسی ایک کے لئے، اُسی کا خوف اور اُسی کی خشیت، ذلت بھی اُسی کے آگے اور تمام تر وارفتگی بھی اُسی کیلئے، اطاعت بھی اُسی کی اور حکم اور دستور بھی اُسی کا، لَو بھی اُسی سے اور وابستگی بھی، امید بھی اُسی سے اور بھروسہ بھی اُسی پر!!!

اُس ایک کے سوا کسی اور کا کبھی کوئی ذکر تو ہوا ہو؟؟؟ قرآن میں اُس ایک کے سوا کیا کسی اور کو پوجنے اور پکارنے کا کیا کوئی اشارہ تک ملتا ہے.... خواہ وہ کسی بھی ’حیثیت‘ میں ہو؟؟؟

کیا محمد ﷺ سے یا کسی بھی رسول سے یہ بات ملی کہ ”عبادت“ کے یہ رویے اور مظاہر چلیں ’کسی نہ کسی حیثیت‘ میں اوروں کے آگے پیش کر لئے جائیں؟؟؟

وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ (الزخرف: 45)

”پوچھ لے ان سب رسولوں سے جو تجھ سے پہلے ہم بھیج چکے، اُس مہربان ذات کے سوا کیا کبھی ہم نے اور بھی عبادت کی سزاوار ہستیاں ٹھہرائیں کہ جنہیں پوجا جائے؟“

اندازہ کر لیجئے، وہی بات جس کے رد سے قرآنی مباحث پُر نظر آتے ہیں آج اِس امت کے ایک کثیر طبقے کے ہاں بھی آپ کو سننے کو ملی کہ اِن ’پہنچے ہوؤں‘ کو واسطہ اور وسیلہ مان کر پکارنے میں آخر کیا حرج ہے؟! بلکہ یہ کہ ان ’واسطوں‘ اور ’وسیلوں‘ اور ’سیڑھیوں‘ کے بغیر خدا تک پہنچنا بھلا کب ممکن ہے، یہ نہیں تو عرش کے مالک تک ہماری بات کون پہنچائے گا؟!!

وَيَقُولُونَ هَـؤُلاء شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللّهِ (یونس: 18)

”کہتے ہیں،یہ خدا کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں“!

انبیاءنے جس عرش کے مالک کا ہم کو پتہ لے کر دیا ہے وہ وہی ذات ہے جس کا کوئی مثل نہیں اور جس کو اِس دنیا کے کسی عاجز فانی بادشاہ اور اُس کے آدابِ شہنشاہی پر قیاس کرنا ظلم بھی ہے اور کفر بھی۔ انبیاءنے جس معبود کی ہم کو پہچان کرائی اُس کی تو صفت ہی یہ ہے کہ وہ ہر کسی کی سنتا ہے اور ہر ایک سے بڑھ کر مہربان ہے! بلکہ یہ صفت ہی ایک اُس کی ہے کہ وہ ہر کسی کی سنتا ہے اور ہر تائب کو باریاب کرتا ہے!!! گناہگار سے گناہگار بھی اُس کی بارگاہ میں آئے تو وہ اپنی اُس رحمت کے ساتھ جو ہر چیز پر وسیع ہے، اُس کا استقبال کرتا ہے۔ یہی تو وہ مقام ہے جہاں خالق کی یکتائی تسلیم کی جانا ہے کہ اُس جیسا کوئی نہیں! انبیاءنے جس معبود کا ہم کو دامن تھمایا وہ وہی تو ہے جو بندے کو اکیلا کافی ہے! اُس سے بڑھ کر مہربان آخر کون ہے؟ اُس سے بڑھ کر شنوائی کہاں ہوتی ہے؟ اُس سے قریب تر، آدمی کیلئے آخر ہے کون؟ کون ہے جو اُس کے سننے سے پہلے بندے کی بات سن لے اور پکارنے والے کو اُس سے بڑھ کر جواب دے؟! کیا اِس سے بڑھ کر کوئی نادان ہو سکتا ہے جو اُس تک آواز پہنچانے کیلئے پہلے کسی اور کو آواز دے؟! کیا کوئی محرومی سی محرومی ہے کہ آدمی اُس ذات میں کوئی کمی دیکھے اور اس کی تلافی کیلئے کسی اور طرف کا رخ کرے؟!!! ’واسطوں‘ کی ضرورت تو تب پڑی جب کسی بد بخت کو وہ دروازہ بند نظر آیا!!!!!

”شرک“ جس مصیبت کا نام ہے بالعموم وہ اِسی صورت میں پائی گئی ہے۔ اِس سے بڑھ کر کوئی چیز مالک کو چیلنج کر دینے والی نہیں، تو مومن کو چیلنج کر دینے والی بھی اِس سے بڑھ کر کوئی بات نہ ہونی چاہیے۔ مومن کا ”کلمہ“ جو اِس کو پورے جہان سے منفرد کرتا ہے ”لا الٰہ الا اللہ“ ہو، یعنی ”نہیں کوئی پرستش کے لائق، مگر اللہ“.... لیکن مومن کے ٹوٹنے اور جڑنے اور جوش میں آنے اور سرگرم ہونے کی بنیادیں کچھ اور باتیں ہوں؟!!!

یہاں ضروری ہو جاتا ہے کہ ’بیچ کی مخلوق‘ middle man کو بندے اور مالک کے درمیان سے ہٹا دیا جائے۔(4) ”بندگی“ وہی جو خدا کی براہ راست تعظیم ہو۔ ”عبادت“ وہ چیز ہی نہیں جو کسی ’واسطے‘ سے خدا تک پہنچائی جائے۔ ”اطاعت“ اور ”گرویدگی“ خدا کا اخص الخاص حق ہے اور اِس میں کوئی اور ذات کسی بھی ’حیثیت‘ میں حصہ دار نہیں کی جا سکتی۔ وہ ذلت جس کو ”عبادت“ کہا جاتا ہے کسی اور کے آگے رکھی ہی نہیں جا سکتی۔ یہ وہ تعلق ہی نہیں کہ بیچ میں کوئی اور ذات آئے۔ آدمی خالص خدا کا اور خدا کے لئے ہو جائے، یہ ”اسلام“ کا وہ اصل وصف ہے جو انسان میں سب سے پہلے مطلوب ہے۔ ”اسلام“ کا مطلب ہی یہ ہے کہ آدمی اپنا آپ پورے کا پورا خدا کو دے دے، یعنی خود سپردگی۔ یہ شخص تو اپنا سب کچھ خدا کو دے چکا، غیروں کو دینے کیلئے اِس کے پاس ہے کیا، سوائے ایک ”لا“ کے جسے یہ اپنے کلمہ کے عین شروع میں پڑھتا ہے! یہ ہے وہ شخص جس نے توحید انبیاءسے پڑھی ہے۔ یہ ہے وہ وصف جو انبیاءکی اتالیقی اختیار کرنے سے ملتا ہے اور یہی ہے وہ وصف جو عرش پر اِس مخلوق کی قدر کرواتا ہے۔ تمام تر پیغمبر دنیا میں آتے رہے تو وہ انسان کے اندر یہی جوہرِ نایاب پیدا کرانے کیلئے اور کتابیں اترتی رہیں تو وہ اِسی مقصد سے۔ یہ ”حنیفیت“ ہی انبیاءکے پیروکاروں کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ یہ ”موحدانہ طرزِ بندگی“ ہی انبیاءسے نسبت رکھنے والوں کا سب سے بڑا تعارف ہے۔ انبیاءنے اپنے پیچھے کچھ چھوڑا تو یہی بات:

وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الزخرف: 28)

”ابراہیمؑ اپنے پیچھے اِسی کلمہ کو دائمی کر کے چھوڑ گیا کہ وہ (اِسی کی طرف) لوٹ آتے رہیں“

اِس پہچان سے دستبردار ہونا یا ”اسلام“ کے اِس اخص الخاص وصف پر کوئی حرف آنے دینا ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے والے ایک شخص کی زندگی میں خارج از سوال ہے۔ اِس کے بغیر ”لا الٰہ الا اللہ“ کا کوئی معنی اور مطلب ہی نہیں رہ جاتا۔

 

***********

 

إِنَّا بُرَاء مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ (الممتحنۃ: 4)

ہم بیزار ہوئے تم سے اور ان سے جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو

 

آج بھی مظاہرِ کائنات کو پوجنے والوں کو آپ خدا کی بے حد و حساب تعریفیں کرتا ہوا دیکھیں گے اور ان کو یہ کہتا ہوا پائیں گے کہ اِن مظاہر میں درحقیقت وہ ”خدا“ کو پوجتے ہیں!!! ایسے لوگ گلوبلائزیشن کے اِس دور میں کچھ بڑھ ہی رہے ہوں گے، کم نہیں ہو رہے۔ اِن مظاہر کی پوجا میں وہ خدا کو پانے کے ایسے ایسے ’روح پرور‘ محسوسات بیان کریں گے اور اِس عمل کے ذریعے خدا کی طلب اور جستجو کے ایسے ایسے حیرت انگیز مطالب زبان پر لائیں گے کہ آدمی ان کے سحر میں کھو کر رہ جائے۔ واجب ہے کہ آدمی کہہ دے: میں نے کفر کیا تمہارے اِن معبودوں سے اور تمہارے اِن راستوں سے جنہیں تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے۔ میرا معبود وہ ہے جس نے اپنی عظمت کی تجلی اپنی وحی کے ذریعے صرف انبیاءپر کی ہے اور جس کا پتہ دنیا میں صرف انبیاءدے سکتے ہیں۔ انبیاءسے بیگانہ ہو کر تم خدا تک پہنچنے کے دعویدار ہو تو تمہارا ہادی و رہبر صرف شیطان ہو سکتا ہے۔ رسولوں کے پیچھے چلے بغیر خدا تک پہنچ لینے کا زعم، اور مخلوق کی پوجا کے ذریعے خالق کو پالینے کا وہم تم پر ایسے ہی کسی شیطان کی وحی ہے۔ تمہاری اِس عبادت اور تمہارے اِن معبودوں سے ہمیں کفر کرنے کا حکم ملا ہے، خواہ اپنے ان ’مظاہر‘ کے ذریعے جن کو تم پوجتے ہو ”خدا“ تمہارا کتنا ہی بڑا مقصود ہو اور ”خدا“ کو خوش کرنا تمہارا کتنا ہی بڑا ہدف۔ تمہارا یہ راستہ شرک ہے اور تمہاری منزل جہنم۔

ایسا صاف دوٹوک موقف اگر کسی کی زبان پر نہیں آتا، تو وہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کو آج تک سمجھا ہی نہیں ہے۔

کتنے ہی لوگ ایسے نظر آئیں گے جو کچھ نیک فوت شدگان کو پوجنے اور پکارنے میں خدا کے تقرب کے متلاشی ہیں۔ کوئی اولیاءکو آوازیں دیتا ہے اور کوئی نبیوں کو۔ کوئی ’یسوع مسیح‘ کو پکار کر پار لگنا چاہتا ہے، کوئی ’علی مولا‘ یا ’پنجتن پاک‘ کو، کوئی ’غوث‘ تو کوئی ’داتا‘ تو کوئی ’غریب نواز‘ یا ایسی ہی کسی ذات کو جو یہاں کے شہروں اور محلوں میں بڑی دیر سے روپوشِ خاک ہوئی بیٹھی ہے.... جبکہ الحی القیوم ”عرش والے“ کا یہ حق کہ یہ اظہارِ نیاز صرف اور صرف اُس کے روبرو ہو اور آدمی اپنا یہ فقر اور اپنی یہ ذلت اُس کے سوا کسی کے آگے رکھنے کا روادار نہ ہو، ”عرش والے“ کا یہ حق گویا ہے ہی نہیں! غرض یہ اِنہی نیک ہستیوں کو وسیلہ مان کر خدا تک پہنچنا چاہتے ہیں بلکہ اِن سے دعاءو استغاثہ کرنے کو ”خدا“ کی ہی عبادت مانتے ہیں۔ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ خدا کو چھوڑ کر جس کو پکارا جا رہا ہے وہ کوئی نبی ہے یا کوئی ولی یا کوئی فرشتہ، ’مستقل بالذات‘ سمجھ کر پوجا جا رہا ہے یا ’غیر مستقل بالذات‘ مان کر.... ان کا شرک عین وہی ہے جس کو مٹانے کیلئے انبیاءمبعوث ہوتے رہے۔ اِس پر اِس قدر صریح اور دوٹوک ہونا اُسی شخص پر ’حد سے زیادہ گراں‘ گزرے گا جس کے ہاں ”لا الٰہ الا اللہ“ ’حد سے زیادہ بے وزن بات‘ ہو اور جس کے دل پر ”نہیں کوئی پرستش کے لائق، مگر اللہ“ کے الفاظ کوئی ہیبت نہ رکھتے ہوں۔ البتہ جس کے دل پر کلمۂ توحید کے یہ الفاظ ثبت ہوں وہ تو اِس شرک کی نفی کئے بغیر چین ہی نہ پائے گا۔ اُس کو تو صرف اِس بات سے غرض ہو گی کہ روئے زمین کے کچھ نادانوں نے اِس کلمہ کی حقیقت پر جو خاک انڈیل دی ہے، یہ اس کے چہرے سے وہ میل ہٹائے اور ایک صاف ستھری اجلی نکھری شہادتِ لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ ہی یہ اپنے مالک سے ملے۔ دنیا میں خدا کے ساتھ شرک ہو تو اس پر ایک ایسی بے چینی اور اضطراب اِس کے روئیں روئیں میں دیکھی جائے جس کو اِس کا پورا ماحول محسوس کئے بغیر نہ رہ سکے۔ میثاقِ لا الٰہ الا اللہ کا مطلب زندگی میں ایسا ہی ایک رویہ رکھنا ہے اور باطل معبودوں کی نفی کرنے کا ایسا ہی ایک دستور۔

کتنے ہی انتظام دنیا میں ایسے پائے گئے ہیں کہ خدا کے نام پر جس چیز کو چاہیں حلال ٹھہرا دیں اور جس چیز کو چاہیں حرام ٹھہرا دیں۔ ان کے ہاں کچھ ایسے فلسفے گھڑ لئے گئے ہیں کہ خدا ان کو بہت سے اختیارات دے کر معاذ اللہ فارغ ہو چکا ہے۔ یہ اب جس چیز کو چاہیں دستور ٹھہرا دیں اور جس چیز کو چاہیں نا دستور۔ احبار اور رہبان ہیں، پوپ اور پادری ہیں جن کی بات آئین ہے اور جن کا فرمایا ہوا دستور، جس کو خدا کی شریعت میں چیک کرنا اور خدا کے فرمائے ہوئے کی روشنی میں جانچنا فرض ہی نہیں ہے! صدیوں تک ان کی یہ پیشوائی قائم رہی اور لوگوں پر فرض تھا کہ ان سے صادر ہونے والے الفاظ کو ہی قانون مانیں۔ پھر ایک وقت آیا کہ اِن پوپوں اور پادریوں نے اپنی یہ پیشوائی ’پارلیمانوں‘ کو بیچنے کا فیصلہ کیا اور اپنا ’حقِ اطاعت‘ صرف ’مذہبی معاملات‘ تک محدود کر لیا۔ اب ”انسانوں“ پر واجب ہے کہ ’غیر مذہبی معاملات‘ میں پارلیمانوں کی اطاعت کریں اور ’مذہبی معاملات‘ میں پوپوں اور پادریوں کی! ’جدید معاشروں‘ کی بنیاد اسی چیز پر رکھی گئی ہے۔ خدا نے جو بھی فرما دیا ہے، یہ پیشوا جانیں اور ان کا کام۔ ایک عام شہری کا فرض ہے تو بس یہی کہ وہ دیکھیں اِن سیاسی و مذہبی پیشواؤں نے کیا چیز ان کیلئے صادر کی ہے اور کیا چیز ان پر فرض ٹھہرائی ہے! ’پیشوا‘ اپنے فیصلے کب تبدیل کرتے ہیں اور کب نہیں،یہ وہ خود ہی جانیں، البتہ ’عام شہری‘ پر فرض ہے کہ یہ انہی سے صادر ہونے والے فیصلوں پر چلیں جب تک کہ وہ ان کی جگہ کوئی نئے فیصلے نہیں کر دیتے! خدا کا جو بھی کوئی حقِ اطاعت ہے وہ انہی پیشواؤں کے فیصلوں میں کہیں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ خدا نے جو بھی فرما دیا ہے اور خدا کا فرمایا ہوا جتنا بھی واضح ہے مخلوق کو چلنا ہے تو اب انہی پیشواؤں کے دیے ہوئے ’پروسیجرز‘ کا پابند رہتے ہوئے اور انہی کے ’سسٹمز‘ کی پیروی کرتے ہوئے!

حتی کہ خدا کے فرمائے ہوئے کو ’قانون‘ کا مرتبہ دلانا ہے تو بھی اِنہی کے ہاں درخواست دائر ہو گی اور اِنہی کے فیصلے کا انتظار!!!

یہ شرک مغرب میں پایا گیا ہو یا اب مشرق میں درآمد کر لیا گیا ہو، صاف صاف خدا کی ہمسری ہے اور رسولوں کے دین کے ساتھ نہایت صریح تصادم۔ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ (الاعراف: 54)تخلیق اُس کی تو حکم بھی اُسی کا۔ مالک وہ ہے تو اطاعت بھی اُسی کی۔ میثاقِ لا الٰہ الا اللہ اِن سب نظاموں کے ساتھ کفر کر دینا ہے اور اِن کو ہلاکت اور بربادی کی راہ جاننا۔

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ  (الشوریٰ: 21)

”کیا ان کے کوئی شریک ہیں جو ان کے لئے طریقِ زندگی صادر کرتے ہیں، کہ جس کی خدا نے کہیں منظوری ہی نہیں دے رکھی“

 

***********

 

قُوْلُوْا َلاِلٰہَ اِلَّا اللہ تُفْلِحُوْا..!!!

 

”نہیں کوئی پرستش کے لائق، مگر اللہ“ کو اپنا دستور ماننا اور اِسی کو دنیا کی سب قوموں، سب ملتوں، سب جماعتوں، سب نظاموں اور سب دستوروں کے رو برو اپنا مایۂ امتیاز بنا رکھنا.. یعنی اِس کی بنیاد پر دنیا کی ان سب قوموں، سب ملتوں، سب شریعتوں، سب نظاموں اور سب دستوروں کے ساتھ اپنا ایک بنیادی ترین اختلاف سامنے لانا.. اور اِس اختلاف پر آخری درجے کا اصرار کر کے دکھانا اور اِسی کو اپنے جڑنے اور ٹوٹنے کی اساس بنا کر رکھنا اور اپنا جینا اور مرنا اِسی کیلئے کر لینا، یہاں تک کہ یہی اس کی پہچان ہو اور یہی اس کا تعارف .... صاحبو! یہ وہ پہلا اور بنیادی کام ہے جو انبیاءکے پیروکار اِس دنیا میں کر کے جاتے ہیں۔ رسولوں کا مشن اصل میں یہی ہے۔ صالحین اور مصلحین کے عمل کا نقطۂ ابتدا یہی ہے۔ اِس سے بڑھ کر سعادت کا کام دنیا میں کوئی نہیں۔ شریعت میں اِس سے بڑا کوئی فرض نہیں۔ عرش کے مالک کے ساتھ دوستی اور وابستگی کی اِس سے اعلیٰ تر کوئی صورت نہیں۔

پس میثاقِ لا الٰہ الا اللہ یہی ہے کہ دنیا بھر میں غیر اللہ کی پرستش کے ساتھ اللہ کے ایک وفادار کی جنگ چھڑ جائے۔ ”عبادتِ غیر اللہ“ ہزار ہا لبادے میں اُس کے سامنے لے آئی جائے تو بھی اُس کی نگاہِ توحید شناس اُس کو پہچاننے میں دیر نہ کرے اور صاف صاف اُس کا کفر کرے۔ وہ ’کلمہ گو‘ کیا ہوا جس سے ہزارہا پیغام ’اسلام‘ کے نام پر نشر ہوں مگر طاغوتوں اور اللہ کے شریکوں کے ساتھ عداوت کا لہجہ اُس کی ”دعوت“ ہی نہیں خود اُس کے ”فہم اسلام“ ہی میں عنقا ہو؟! شرک کا کوئی ملک اُس کی آنکھ میں کھٹکے اور نہ کوئی ملت۔ شرک کا کوئی عقیدہ اُس کو دعوتِ مبارزت دیتا ہو اور نہ کوئی نظام اور نہ کوئی دستور۔ شرک کے شعارات سے دنیا بھری پڑی ہو مگر ’عبادت‘ کے نام پر اُس کو اپنے ورد اور وظیفوں ہی سے غرض ہو اور اللہ کے ساتھ محض اپنے ’قلبی تعلق‘ ہی کی فکر!!!

دنیا باطل معبودوں سے اٹی پڑی ہو، اور اس کو کوئی فکر ہو تو ’خیر سگالی‘ کی! خدا کے حق پر ڈاکے پڑتے ہوں اور اِس کو فکر ہو تو ’مسکراہٹیں‘ بکھیرنے کی! شرک پر اِس کا چہرہ کبھی غصے کے ساتھ تمتمائے اور نہ خدا کی گستاخی ہونے پر یہ اپنے آپ کو چیلنج ہوتا ہوا محسوس کرے! الحاد کے ساتھ اِس کو کوئی پرخاش اور نہ عبادت غیر اللہ کے ساتھ اِس کا کوئی جھگڑا!!! ہزارہا بار یہ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ پڑھ کر گزر جائے گامگر اِس کو ”اسلام کی ڈپلومیسی“ کا کوئی مفہوم اِس کے اندر سے نہ ملے گا! ہزاروں سیرت کی کتابیں اِس کی نظر سے گزریں گی، ’سیرت پروگراموں اور کانفرنسوں‘ کے بغیر اِس کی زندگی کا کوئی سال نہ گزرا ہوگا، یہاں تک کہ ’سیرت‘ کی ایک ایک ’ڈی ٹیل‘ اِس کو ازبر ہو گی، مگر یہ معلوم نہ ہوگا کہ وہ ساری ہجرتیں، وہ سارے غزوے، وہ ساری جدوجہد، وہ سب مخالفت، وہ سب اذیتیں اور تکلیفیں اور دشمنیاں جو اِس نبی اور اس کی مٹھی بھر جماعت کو پیش آئیں، اُس کی نوبت آخر آئی کیوں تھی؟ آخر وہ کونسا اسلوب تھا کہ ”نہیں کوئی پرستش کے لائق، مگر اللہ“ کے الفاظ کہنا ایک ’جرم‘ بن جاتا تھا؟!! ’انبیاءکے واقعات‘ بھلے مانس کو اِس دِقت اور تفصیل سے یاد ہوں گے کہ ’انسائیکلوپیڈیا‘ کی شاید ہی کمی محسوس ہو، مگر انبیاءدنیا میں آئے کیوں تھے اور رسولوں کا اپنی قوموں کے ساتھ اصل جھگڑا کیا تھا، یہ ایک بات البتہ ’علم‘ میں آنے سے رہ گئی ہو گی....! وجہ یہی کہ دین کی ہر بات سمجھی، مگر لا الٰہ الا اللہ کو نہیں سمجھا!!! دین کا ہر سبق لیا مگر دین کا پہلا سبق لئے بغیر چھوڑ دیا!!!

جاہلیت کو آج بطورِ خاص ایسے ’کلمہ گوؤں‘ کی ضرورت پڑگئی ہے جو اِس کلمہ کے ’لا‘ سے صرفِ نظر کر کے آگے گزر جائیں، اور پھر خدا کو جتنا مرضی پوجیں! یہاں تک کہ ’خدا کو ماننے‘ کی دعوت بھی پھر جس قدر مرضی دیں! جہان میں اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی باقاعدہ پوجا اور پرستش ہو لیکن ہمارے اِن ’کلمہ گوؤں‘ کو دیگر ادیان کے ساتھ صرف ’مشترک‘ نکات کی تلاش ہو!!!(5)رسولوں کی دعوت تو اُس نزاع کو کھڑا کرنے سے شروع ہو جو خدا کے ساتھ اوروں کو شریک کرنے سے متعلق ہے اور اِن ’کلمہ گوؤں‘ کی دعوت عین اِسی نزاع کو روپوش کرانے سے شروع ہو! اللہ کو پوجنے کیلئے رسولوں کی ہمیشہ یہ پیشگی شرط رہی ہے کہ غیر اللہ کی پوجا کا انکار ہو۔ دعوتِ اسلام کی یہ اخص الخاص پہچان ہے۔ انبیاءنے قوموں کے سامنے اپنی پہلی بات ہی یہ رکھی ہے، جبکہ ’مشترک نکات‘ سامنے لانے کی گنجائش انبیاءکے پاس بھی کچھ ایسی کم نہ تھی اور اِس اسلوب کے ’فوائد‘ بھی ان کی نظر سے اوجھل نہ تھے! لیکن اللہ کی تعظیم اور توقیر اِس کے سوا کچھ ہے ہی نہیں کہ سب سے پہلے ’شریکوں‘ اور ’ہم سروں‘ کی غلاظت ہی اُس کی بندگی کے تصور سے ہٹا کر رکھ دی جائے اور سب سے پہلے اُس کے نام اور اُس کے مقام کی یکتائی ہی تسلیم کروائی جائے۔ آخر وہ کونسا اسلام ہے جس میں اللہ کی تعظیم اور توقیر کی یہ اولین شرط ہی پس منظر میں لے جائی جائے؟! ”اسلام“ کی اِس اخص الخاص پہچان کے بغیر ہی دنیا میں اسلام کی کوئی ’پہچان‘ کرا لی جائے؟! اور ”خدا کو ماننے“ کے اِس بنیادی ترین تصور پر اصرار کئے بغیر ہی کسی کا ’خدا کو ماننا‘ قابل اعتناءجان لیا جائے؟! اسلام کے داعی اِسی کو غنیمت جاننے لگیں کہ چلیں لوگ خدا کو مانتے تو ہیں! اِس ’مشترک نکتے‘ پر اِس قدر فریفتہ ہوں کہ ”متنازعہ“ نکات کو ’مذاہب کا اندرونی مسئلہ‘ مان کر خاموش ہو جائیں....؟! کون نہیں جانتا دعوتِ رسل کے خنجر کا رخ ہمیشہ مذاہب کے اِسی ’اندرونی مسئلہ‘ کی جانب رہا ہے اور کسے معلوم نہیں کہ جاہلیت کا سب واویلا اِسی بات پر ہوا ہے؟!! ’مشترک نکات‘ کے سُروں پر معاذ اللہ اگر انبیاءاور ان کے پیروکار بھی سر دھننے لگتے تو جاہلیت کہیں بڑھ کر اُن کے پیر چومتی اور آج کے تقاربِ ادیان کے ’مسلم‘ داعیوں کی نسبت کہیں بڑھ کر اُن کو ’تمغے‘ اور ’پرائز‘ دیتی!!!

مگر یہ انبیاءتھے جو جانتے تھے، خدا کے تمغے جاہلیت کے تمغے ٹھکرانے کی قیمت پر ملتے ہیں اور آخرت کی داد و تحسین دنیا میں خدا کی خاطر دشنام سننے کا انعام ہے! کہاں وہ مکہ کے کچھ بدبختوں کے بیہودہ آوازے اور دریدہ دہنی و ہرزہ سرائی اور کہاں آج آدھی دنیا میںاَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ کا ورد!!!!

حضرات! جاہلیت آج صدیوں کی محنت کے بعد ’گلوبلائزیشن‘ کی صورت میں جس تیاری اور جس مشرکانہ ایجنڈا کے ساتھ میدان میں اترنے جا رہی ہے، امکان ہے کہ پوری دنیا عنقریب وہی ’مکہ‘ بن جائے اور ”ایمان“ کے ویسے ہی امتحان پھر سے ہونے لگیں۔ ”نہیں کوئی پرستش کے لائق، مگر اللہ“ کہنے والوں کا ’زمانہ‘ دنیا میں کبھی بھی ختم نہیں ہوا لیکن اِس ”میثاقِ لا الٰہ الا اللہ“ کے ساتھ میدان میں اترنے والوں کا تو زمانہ آج خاص طور پر منتظر ہے....

جاہلیت پورے جہان کو شرک کے ایک ہی جل تھل میں غرق کرا چکی، صرف ’اسلام‘ کا وہ ’ایڈیشن‘ درکار ہے جو جاہلیت کی جانب سے چھوڑے گئے ’مذاہب‘ کے خانوں میں سے کسی ایک ’خانے‘ میں فٹ ہو سکے اور جو اِس گلوبل ولیج کیلئے ایسے ’سدھائے ہوئے‘ باشندے بڑی تعداد میں فراہم کرنے کا اجارہ لے جو ’پرسنل لائف‘ میں ہی خدا کو پوجیں البتہ اس سے باہر کسی چیز سے تعرض نہ کریں! جو بڑے اخلاص کے ساتھ خدا کا حق خدا کو دیں اور ’قیصر‘ کا حق ’قیصر‘ کو! جن کے ذہن تک میں کبھی یہ سوال کھڑا نہ ہو کہ مسجدوں کی ’چاردیواری‘ سے باہر اِن شہروں اور اِن ملکوں میں کون پوجا جاتا ہے اور کروڑوں اربوں کی ان آبادیوں پر شرق تا غرب کس کا قانون چلتا ہے؟ جو ’خدا کی عبادت‘ کو بس قلبی واردات کا ہی محل جانیں اور اس کا دائرہ ’اخلاقیات‘ سے باہر ہرگز نہ جانے دیں۔ رہے ’معاشرے‘ اور ان کے چلائے جانے کی سمت تو ’نمازی‘ اور ’روزہ دار‘ مخلوقات اس کو طاغوتوں کا ہی پیدائشی حق سمجھیں اور انہی کی دائمی جاگیر۔ ’مذہب‘ کا وہ ایڈیشن یہاں شدت کے ساتھ درکار ہے جو ’مسجدوں‘ سے بڑے پیمانے پر ایسے ’عبادت گزار‘ پیدا کر کے دے جو کفر کے محکوم معاشروں میں ناک کی سیدھ چلیں اور صرف اور صرف اپنی ’روحانی ترقی‘ کی فکر کریں! ہر ’مذہب‘ کو آج ایسے ہی پیروکار پیدا کرنا ہیں جن کے ’دین‘ کا فرق ’عبادت خانوں‘ کے اندر جا کر ہی پتہ چلتا ہو۔ رہی ’عبادت خانوں‘ سے باہر کی دنیا، تو یہاں سب کا ’دین‘ ایک ہو!

اِس کا نام مجرمینِ قریہ کی زبان میں ’گلوبلائزیشن‘ ہے! اس ’ولیج‘ کا کوئی نقشہ اس کے سوا آج ان کے ذہن میں نہیں!

صرف اسلام ہے جو اِس عالمی ایجنڈا کے مقابلے پر کھڑا ہے، کیونکہ اِس کا کلمہ ’لا‘ سے شروع ہوتا ہے اور ” اِلا اللہ“ کا ادا ہونا اِس ”لاِلٰہ“ کے متحقق ہو جانے کے بعد ہی کوئی اعتبار رکھتا ہے اور ” اِلٰہ“ کا مفہوم اِس قدر جامع اور مکمل کہ زندگی کا کوئی نشاط ”عبادت“ کی تعریف سے باہر نہیں۔ آج صرف اسلام ہے جو دنیا کو ’مذہب‘ کا وہ ’اسٹینڈرڈ ایڈیشن‘ دیے جانے کے اندر مانع ہے۔ ایک طرف پوری دنیا کی زمام ایک ہی عالمی ایجنڈا کے ہاتھ میں آچکی ہے، جوکہ تاریخ عالم کا ایک نہایت انوکھا واقعہ ہے۔ دوسری جانب پوری انسانیت کی مزاحمت دم توڑ چکی ہے اور مقابلے میں صرف ”اسلام“ باقی رہ گیا ہے۔ ایسی مڈ بھیڑ تو صدیوں میں کبھی نہ ہوئی ہو گی! عالمی شرک کو لازماً ’اسلام‘ کا اب ایک نیا ایڈیشن چاہیے جس کے کلمہ میں ’لا‘کو ختم نہیں کرایا جا سکتا تو اوجھل ضرور رکھا جا سکتا ہے۔ عالمی شرک کو ایک ایسا ’اسلام‘ چاہیے جو ’تقاربِ ادیان‘ کی میز پر بیٹھ سکتا ہو اور جو ’مذاہب‘ کے ساتھ ’مشترک نکات‘ پر اپنے پیروکاروں کی تمام تر توجہ مرکوز کرا کر رکھ سکتا ہو۔ جاہلیت کا سب سے بڑا کوئی پراجیکٹ اِس وقت ہے تو وہ یہی۔ پس عنقریب آپ یہاں ’اسلام‘ کے داعیوں کی ایک فوج ظفر موج دیکھیں گے جو ”اسلام“ کے مسلمات کو پوری بے رحمی کے ساتھ بلڈوز کرتے چلے جائیں اور جن کے ’اسلامی‘ سر تال نہایت باریکی کے ساتھ جاہلیت کے عالمی دجالی سُروں کے ساتھ مل کر وہ ’عالمی ترانہ‘ تشکیل دیں جس کیلئے بڑی دیر سے ریہرسل جاری ہے اور جس کے لئے جاہلیت آخری حد تک بے صبر ہوئی جاتی ہے!

اِس کشمکش میں کوئی ایک بھی بات نئی نہیں۔ جاہلیت کو اپنی سرشت بھول سکتی ہے اور نہ موحدین کو اپنی پہچان۔ دنیا ہمیشہ ہی شرک سے بھری رہی ہے اور موحدین کے چین کرنے کو یہ جہان بنا ہی نہیں۔ اِس کشمکش میں اصل رنگ ہمیشہ اُن سعادت مند نفوس کے آنے سے پڑتا ہے جن کی زندگی اِس لا الٰہ الا اللہ کی شہادت ہوتی ہے۔ اِس ”شہادت“ کی جہاں اور بے شمار جہتیں ہیں وہاں یہ بھی باقاعدہ طور پر مطلوب ہے کہ آدمی اللہ کے حق کو غیر اللہ کے زیر استعمال دیکھے تو اس کو اپنی غیرت کا امتحان جانے۔ آدمی جب بھی یہ کلمہ پڑھے وہ شرک کی پوری ایک دنیا سے اپنے آپ کو الگ تھلگ ہوتا محسوس کرے۔ غیر اللہ کی پرستش پر قائم ملکوں کے ملک اُس کو ایک حرفِ غلط کی طرح نظر آئیں۔ وہ ہر اُس قوم، ہر اُس ملک، ہر اُس گروہ، ہر اُس نظام اور ہر اُس دستور سے اپنا آپ جدا ہوتا ہوا محسوس کرے جو اِس لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ تصادم روا رکھے ہوئے ہو۔

نہایت واضح ہو ایک فرد کا لا الٰہ الا اللہ کہنا افراد کے بالمقابل ایک معنیٰ رکھتا ہے تو ایک قوم کا لا الٰہ الا اللہ کہنا اقوام کے بالمقابل، اور ایک ملک کا لا الٰہ الا اللہ کہنا ملکوں کے بالمقابل اور ایک امت کا لا الٰہ الا اللہ کہنا امتوں کے بالمقابل۔ ہر ہر سطح پر شہادتِ لا الٰہ الا اللہ کی الگ الگ ایک جہت ہے۔ لا الٰہ الا اللہ کے اقرار اور اعلان کے حوالے سے ایک فرد کو جو چیز کفایت کرتی ہے وہ ہرگز ایک جماعت کو کفایت کرنے والی نہیں۔ جماعتوں اور گروہوں کو جو چیز کفایت کرتی ہے وہ ہرگز ایک ملک اور ایک قوم کو کفایت نہیں کرتی۔ ہر کسی کو اپنی اپنی دنیا میں اور اپنی اپنی حیثیت میں لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دینا ہے۔

ایک ’جماعت‘ کو یہ کافی نہیں کہ اُس کے افراد لا الٰہ الا اللہ پڑھتے ہیں! نہ اُس کی بابت صرف یہ دیکھا جانا ہے کہ اِس میں پائے جانے والے افراد اپنی ذاتی حیثیت میں ’صحیح عقیدہ رکھتے ہیں اور شرک میں بھی ملوث نہیں‘ ! دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ شہادتِ لا الٰہ الا اللہ کا مضمون ’جماعتی حیثیت‘ میں اس سے کہاں تک نشر ہوتا ہے۔ ایک ملک کو اپنے باشندوں کا لا الٰہ الا اللہ پڑھنا کافی نہیں، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اپنے اجتماعی نظام میں کہاں تک وہ ملک لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہے اور اقوام کے بالمقابل وہ کہاں تک شرک اور توحید کے فرق کو سامنے لاتا ہے اور کہاں تک دنیا کے باطل معبودوں سے کفر اور بیزاری کر کے دکھاتا ہے۔ ’فرد‘ سے آگے جوں جوں معاملہ بڑھتا ہے، یہاں ہر ہر سطح پر ایک نئی جہت سامنے آتی ہے اور ”نہیں کوئی پرستش کے لائق، مگر اللہ“ کی اِس شہادت میں ہر ہر مرحلے پر ایک نیا باب کھلتا ہے۔

 

***********

 

پس یہ ”میثاقِ لا الٰہ الا اللہ“ وہ سر تا پیر تبدیلی ہے جو ایک ’فرد‘ کا نقشہ بھی پیش کرتی ہے، ایک ’جماعت‘ کا بھی، ایک ’معاشرے‘ کا بھی، ایک ’قوم‘ کا بھی اور ایک ’امت‘ کا بھی اور ایک پوری ’دنیا‘ کا بھی۔ یہ ہر ہر سطح پر انسان کے کردار کا ایک نہایت صحیح اور دقیق تعین ہے۔ انسانی عمل کی ہر ہر جہت اِس سے پھوٹ کر سامنے آتی ہے اور زندگی اور وجود کا کوئی پہلو اِس سے چھوٹتا نہیں۔ نہ ’آخرت‘ پس منظر میں جاتی ہے اور نہ ’دنیا‘ اِس کے دائرہ سے باہر رہ پاتی ہے۔ یہاں خدا کا مقام بھی متعین ہوتا ہے اور مخلوق کی حیثیت بھی۔ یہ حق کا اثبات بھی ہے اور باطل کی نفی بھی۔ ولاءبھی ہے اور براءبھی۔ طاغوت کا کفر بھی ہے اور اللہ کے ساتھ وابستگی بھی۔ یہ نفس کو بھی خدا کے آگے جھکانا ہے اور سماج کو بھی۔ یہ قلب کی بندگی بھی ہے ، عقل کی تسلیم اور رضا بھی، زبان کی عبادت بھی اور جوارح کی فرماں برداری بھی.... غرض ایک کامل میثاق، جس کا صلہ دنیا کی کامیابی ہے اور آخرت کی سرخروئی۔

اور توفیق دینے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں!

 


(1) پوری حدیث اِس طرح ہے:

کَانَ یُعَلِّمُنَاِذَا أصْبَحَ أحَدُنَا أنْ یَقُوْلَ: اَصْبَحْنَا عَلیٰ فِطْرَۃ الْاِسْلَامِ، وَکَلِمَۃ الْاِخْلَاصِ، وَعَلیٰ دِیْنِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلیٰ مِلَّۃ أبِیْنَا اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً وَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ

”رسول اللہ ﷺ ہمیں سکھاتے کہ ہم میں سے کوئی شخص صبح کرے تو کہے:

”صبح کی ہم نے اسلام والی فطرت پر۔ اور اخلاص والے کلمہ پر۔ اور اپنے نبی محمد ﷺ والے دین پر۔ اور اپنے باپ ابراہیم والی ملت پر، کہ جو تھا حنیفا مسلما (یکسو موحد، فرماں بردار مسلم) اور ہرگز نہ تھا مشرکوں میں سے“۔

اِس حدیث کو صحیح قرار دیتے ہوئے محدث البانی لکھتے ہیں:

أخرجہ النسائی فی الیوم واللیلۃ۔۔ وکذا ابن السنی۔۔ والدارمی۔۔ والطبرانی فی الدعاء۔۔ وابن أبی شیبۃ۔۔ و أحمد من طرق کثیرۃ صحیحۃ۔۔۔ (السلسلۃ الصحیحۃ: 6: 1230)

(2) سورۃ الانعام میں ابراہیم علیہ السلام کے یہ کلمات اُس موقعہ پر ذکر ہوتے ہیں جب وہ اپنی قوم کے خداؤں کا ایک ایک کر کے انکار کرتے چلے جاتے ہیں اور اپنے ہدایت پا جانے کا اعلان کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں فرماتے ہیں: يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ۔ یعنی: ”اے میری قوم، میں بری و بیزار ہوں اُس سے جو تم شرک کرتے ہو“۔ اِس کے بعد ابراہیمؑ اپنے وہ الفاظ کہتے ہیں جو آج بھی ہم کئی ایک مسنون اذکار میں پڑھتے ہیں اور جوکہ اوپر متن میں نقل ہوئے ہیں، یعنی إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ۔۔۔یعنی: ”میں نے اپنا سب کا سب رخ کیا اُس ذات کی طرف، جو آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والی ہے، یک سو ہو کر، اور نہیں ہرگز میں مشرکوں میں سے“.... جس کے ساتھ ہی قوم کے ساتھ وہ ’کبھی ختم نہ ہونے والا جھگڑا‘ کھڑا ہو جاتا ہے....:

وَحَآجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللّهِ وَقَدْ هَدَانِ۔۔ (الأنعام: 80)

”اور اُس کی قوم اُس کے ساتھ جھگڑا کرنے لگی۔ ابراہیم نے کہا: کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو اللہ رب العزت کی بابت، جبکہ اُس نے مجھے راہ دکھا دی ہے“....؟!

رسول اللہ ﷺ سے تہجد کے استفتاح کے اندر، نیز قربانی کا ذبیحہ کرتے وقت کے جو اذکار مروی ہوئے ہیں، ہم دیکھتے ہیں ان میں ابراہیم علیہ السلام کے بولے ہوئے یہ خوبصورت الفاظ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ۔۔۔ بھی شامل ہیں، کہ درحقیقت یہ لا الٰہ الا اللہ کا ہی ایک خوبصورت بیان ہے!

(3) واضح رہے یہ لفط ”حَنِیْفِیَّت“ ہے جو کہ نسبت ہے ”حَنِیْف“ سے، جو کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ذکر ہوا اور ابراہیم علیہ السلام کے تعارف کیلئے بالخصوص اور ہر دور کے موحدین کیلئے بالعموم استعمال ہوا، اور جس کا تذکرہ پچھلے چند صفحات کے اندر ہمارے اِس مضمون میں ہوا ہے۔ یہ وضاحت اِسلئے ہوئی کہ ”حَنِیْفِیَّت“ کے اِس لفط کو کہیں ”حَنَفِیّت“ سے خلط نہ کر دیا جائے، جو کہ نسبت ہے ”حَنِیْفَۃ“ (امام ابو حنیفہؒ کی کنیت) سے اور جو کہ اسلام کے معروف فقہی مذہب میں سے ایک فقہی مذہب یا ایک فقہی نسبت کے طور پر مستعمل ہے۔ چنانچہ ”حَنَفِیّت“ تو ایک فقہی مذہب ہے جبکہ فقہی مذاہب اسلام کے اندر اور بھی ہیں جیسے شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری اور اہل الحدیث وغیرہ۔ البتہ ”حَنِیْفِیَّت“ تمام اہل اسلام کا متفقہ طریقہ بندگی ہے جس میں حنفی موحدین کیا شافعی و مالکی و حنبلی و اہل حدیث موحدین سب مشترک ہیں، بلکہ ”حَنِیْفِیَّت“ نہ صرف تمام امتِ اسلام بلکہ جملہ آسمانی امتوں کا طریقہ و طرزِ عبادت ہے۔

(4) یہاں کچھ مذہبی چالبازوں نے قرآن میں ذکر ہونے والے لفظ ”وسیلہ“ (المائدۃ: 35)کا ایک من گھڑت مفہوم بیان کر کے بھی بہت سے کم علم طبقوں کو گمراہ کیا ہے۔ اِس کی تفصیل کسی اور مقام پر کی جائے گی، البتہ یہ واضح ہو کہ علمائے توحید نے ”وسیلہ“ کا وہ مفہوم جس پر نبی ﷺ، صحابہؓ و دیگر اَداورِ سلف سے دلیل اور سند ملتی ہے، نہایت کھول کر بیان کر دیا ہے۔ مختصراً، وہ وسیلہ جو خدا کے ہاں مقبول ٹھہرتا ہے اور جس پر نبی ﷺ اور صحابہؓ سے سند ملتی ہے وہ تین امور ہیں:

1) مخلوق اُس کو اُسی کی عظمت اور اُسی کی صفات کا واسطہ دے کر پکارے اور اُسی کے اسمائے حسنیٰ کے وسیلے دے دے کر اُس کے حضور اپنی درخواست رکھے،

2) مخلوق اُس کو خود اپنی بندگی اور عاجزی کے واسطے دے۔ اُس کے حضور اپنی درخواست رکھتے وقت، اپنی گرویدگی اور اطاعت کے بعض اعمال بھی اُس کے آگے رکھے۔

3) کسی زندہ مخلوق سے آدمی اپنے لئے دعا کروائے۔ ایک دوسرے سے اپنے لئے دعاءکروانا صحابہ سے بکثرت ثابت ہے، حتیٰ کہ خود نبی ﷺ کا عمر رضی اللہ عنہ سے خانہ کعبہ میں اپنے لئے دعاءکی فرمائش کرنا کتب میں وارد ہوا ہے۔
یہ وسیلہ کی مشروع قسم ہے۔ علمائے توحید نے باقاعدہ طور پر وسیلہ کی تین اقسام بیان کی ہیں، ایک مشروع وسیلہ، دوسرا بدعتی وسیلہ، اور تیسرا شرکیہ وسیلہ:

الف) مشروع وسیلہ: جو کہ وسیلہ کی وہ صورت ہے جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ سے ثابت ہے اور جوکہ اوپر بیان ہوئی۔

ب) بدعتی وسیلہ: مثلاً آدمی پکارے تو خدا کو ہی، مگر اُس کو کسی کی جاہ کا واسطہ دے، یعنی اُس کے حضور کسی نیک مخلوق کے مرتبہ و مقام کا وسیلہ رکھے۔ اِس کو شرکیہ وسیلہ نہیں کہا جائے گا کیونکہ اِس شخص نے اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارا۔ البتہ اس کو پکارنے کی ایک ایسی صورت اختیار کی ہے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ نے کبھی اختیار نہیں کی۔ اللہ کے آگے کسی کا مرتبہ و مقام رکھنے کا اسلوب اُس کی عظمت سے میل نہیں کھاتا اور پھر یہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت بھی نہیں اور سلف سے بھی اِس پر کوئی سند نہیں ملتی۔ (گو چند ایک اہل علم نے بعض ضعیف آثار کو صحیح باور کرتے ہوئے اِس میں اختلاف بھی کیا ہے)۔ لہٰذا اِس سے منع کیا جائے گا اور اِس کو دین میں ایک نیا کام جانا جائے گا ۔ البتہ اِس کو شرک نہیں کہا جائے گا۔

ج) شرکیہ وسیلہ: یعنی آدمی مخلوق کو پکارے، اِس اعتقاد کے ساتھ کہ وہ مخلوق جس کو پوجا اور پکارا جا رہا ہے اِس کی بات خدا تک پہنچائے گی۔ یہ صاف صاف شرک ہے، نہ کہ محض بدعت۔ اوپر مضمون کے متن میں وسیلہ کی یہ شرکیہ قسم ہی ہمارے زیر بحث آئی ہے۔

(5) ”گلوبلائزیشن“ کی ضرورتوں کیلئے پریشان ’تقاربِ ادیان‘ کے داعی یہاں پر قرآن کی آیت قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلَمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (آل عمران: 64) سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیگر مذاہب کے ساتھ ’مشترک نکات‘ ہی کو نمایاں کرنا اور سب گروہوں اور فریقوں کو ایسے ہی کچھ ’مشترک نکات‘ پر آنے کیلئے کہنا دین کا ایک مشروع عمل ہے! قرآن خدا کے فضل سے وہ کتاب ہے کہ باطل نہ سامنے سے اِس کے اندر راہ پا سکتا ہے اور نہ پشت سے۔ اِس موضوع پر تفصیل سے بات کسی اور مقام پر ہو گی، لیکن مختصراً یہاں یہ چند نکات بیان کردیے جانا ہی اللہ کے حکم سے کفایت کرے گا:

1) سورۂ آل عمران کی یہ آیت توحید کی نہایت صریح اور واشگاف دعوت ہے اور خدا کے ماسوا پوجی جانے والی ہستیوں سے برگشتہ ہو جانے اور شرک سے دستبردار ہو جانے کا ایک ”شدید حد تک“ صریح مطالبہ:

أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ

”یہ کہ ہم (ہر دو فریق) نہ پوجیں مگر اللہ کو۔ اور یہ کہ نہ شریک کریں اُس کے ساتھ کچھ بھی۔ اور یہ کہ نہ پکڑے ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو ارباباً من دون اللہ

(دیکھئے آل عمران کی یہی آیت 64، جس کا یہ تقارب ادیان کے داعی حوالہ دیتے ہیں)

 

بتائیے اِس سے زیادہ صریح دعوت باطل معبودوں کی نفی کے باب میں کیا ہو سکتی ہے؟

 توحید کا اِس سے زیادہ قوی بیان کیا ہو سکتا ہے؟ کیا اِس آیت کا مطلب واضح نہیں کہ ہمارا اشتراک ہو سکتا ہے تو باطل خداؤں کی نفی پر اور خدا کی بلا شرکتِ غیرے عبادت پر، جوکہ موسی علیہ السلام کی بھی دعوت تھی اور عیسی علیہ السلام کی بھی، بلکہ خدا کے ہر نبی اور ہر رسول کی دعوت، جسے ان کے نام لیوا آج چھوڑ بیٹھے ہیں؟ ”اشتراک“ کی بنیاد کوئی ہو سکتی ہے تو انبیاءکی دعوت کے اُن حصوں کو سامنے لا کر جنہیں اہل کتاب نے شرک کا شکار ہو کر اب طاقِ نسیاں میں رکھ چھوڑا ہے۔ یعنی ”اشتراک“ کی کوئی بنیاد ہو سکتی ہے تو انبیاءکی دعوت کے وہی حصے جن کو اپنے شرک کے باعث اہل کتاب اب ’متنازعہ‘ کر چکے ہیں۔ پس یہ تو ایک ”تنازعہ“ کو ریکارڈ پر لانا ہے نہ کہ اُس کو روپوش کرا دینا۔ اور بفضلہ تعالیٰ یہ بات قرآن کی اسی آیت سے واضح ہے جسے یہ لوگ اپنی گمراہی کے ثبوت کیلئے لاتے ہیں۔

2) پھر اِس آیت کا سیاق بھی قابل غور ہے۔ سورۂ آل عمران کی یہ آیت اُن آیات کے متصل بعد آتی ہے جن میں اہل کتاب کو مباہلہ کی دعوت دی گئی ہے۔ مفسرین آپ کو بتائیں گے کہ یہ وفد نجران کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا وہ مناظرہ ہے جس میں نجران کے پادریوں کو جواب دینے سے آپ کو اس لئے روک دیا گیا تھا کہ ان کا جواب خود قرآن کو دینا تھا، اور تب سورۂ آل عمران کی یہ آیات اتری تھیں! خود اِس آیت کو دیکھئے اور اِس سے متصل پہلے گزرنے والی آیت مباہلہ کو دیکھئے، دونوں آیتوں کا اختتام فاِن تولوا ”اگر یہ منہ موڑیں“ کے الفاظ پر ہوتا ہے، جس سے واضح ہے کہ آیتِ مباہلہ اور اِس زیر نظر آیت کا ایک ہی سیاق ہے اور ایک ہی تسلسل۔

3) پھر یہ بھی واضح ہے کہ وفد نجران نے آپ کی اِس دعوت کو قبول کرنے سے منہ موڑ لیا تھا۔ نہ مباہلہ کرنا قبول کیا جو کہ پہلی آیت میں ان کو کہا گیا، اور نہ اِس ’کلمۃ سواء‘ پر آنا قبول کیا جو کہ اِس زیر بحث آیت میں مذکور ہوا۔ جس پر وہ جزیہ دینا قبول کر کے نجران واپس لوٹ گئے، گو واپسی میں ان میں سے کچھ لوگ مشرف بہ اسلام بھی ہوئے۔ کوئی تقاربِ ادیان کے اِن داعیوں سے سوال کرے، اِس آیت میں وہ کونسے ’مشترکہ نکات‘ تھے جو وفد نجران کو جزیہ دے دینے سے بھی بڑھ کر ناقابل قبول تھے؟

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز