عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, November 17,2019 | 1441, رَبيع الأوّل 19
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Angrezinizam آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ایک عالمی حقیقت، ’علاقائی‘ لباس میں!
:عنوان

کبھی ہندوؤں، سکھوں اور بُدھوں کی تعداد یہاں کچھ زیادہ ہوتی (خدانخواستہ) تو پھر دیکھتے ’خلافت راشدہ کی شورائیت‘ سے ثابت کیا جانے والا یہ نظامِ (جمہوریت) کیا عجب صورت دھارتا ہے!

. باطلنظام :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

"یہ وہی انگریزی نظام ہے" 6

فصل چہارم

 

’جمہوریت‘ کے نام پر دنیا بھر میں پچھلی ایک صدی سے جو مصنوعات پائی گئیں، خصوصاً تھرڈ ورلڈ میں، ان کا ’پروڈیوسر‘ مغرب کو نہ ماننا ایک کھلی حقیقت کا انکار ہے۔ ایک خاص عمل کے زیر اثر، مغرب کے اندر یہ وجود میں آئی اور پھر مغرب سے دنیا میں ہر طرف برآمد ہونے لگی۔ کسی بھی سیاسی یا معاشی یا سماجی نظام کی طرح یہ باقاعدہ ایک نظام ہے۔ اس کے اسلام کے ساتھ کچھ پہلو مشترک ہیں تو یہ بات کچھ اسی کے ساتھ خاص نہیں۔ کسی بھی سیاسی یا معاشی یا سماجی نظام کے اندر اسلام کے ساتھ کچھ مشترک پہلو پائے ہی جائیں گے۔ بلاشبہ سوشلزم کی کئی باتیں اسلام کے کچھ امور سے مشابہت رکھتی تھیں اور بلاشبہ سرمایہ داری نظام کی کچھ جزئیات بھی اسلام کی کچھ جزئیات سے مماثلت رکھ سکتی ہیں مگر اس بنیاد پر کسی باطل نظام کو ’اسلام‘ نہیں کہا جا سکتا۔

یہ بات کہ اس نظام کا مصدر ومنبع یورپ کی پچھلی چند صدیاں ہیں... اِس قدر واضح ہے کہ محتاج بیان نہیں۔ ہمارا نہیں خیال اِس پر کوئی بھی شخص آپ کے ساتھ اختلاف کرسکتا ہے۔

کہنے کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ کسی چیز پر مغرب کا اجارہ ہونا اور مغرب سے اس کا برآمد ہونا اس کے بجائے خود باطل ہونے کی دلیل نہیں، لہٰذا اس کا ایک معروضی (Objective) جائزہ لئے بغیر ہی اس کو مسترد کر دینا کیونکر درست ہو سکتا ہے اور یہ کہ مغرب کسی اچھائی پر چلتا ہے تو وہ اچھائی ہمارے لئے اس وجہ سے شجر ممنوعہ نہیں ہو جاتی کہ اس پر مغرب بھی عمل پیرا ہے ...

معروضی انداز سے (Objectively) جمہوریت کو دیکھنے پر بھی ہمیں اعتراض نہیں۔ اگرچہ معروضی انداز سے جمہوریت کو دیکھا جائے، جس کی طوالت کا ہمارا یہ مضمون متحمل نہیں، تو بھی جمہوریت کفر ہی قرار پائے گی ... اور اگرچہ اس کے بعض کفریہ پہلو مانند سیکولرزم وسلطانیِ جمہور ہمارے یہاں آگے چل کر کچھ ذکر بھی ہوں گے ... مگر بہرحال یہ ایک اہم سوال رہے گا کہ ہمارے دانشور طبقوں کو جمہوریت کا سراغ ملا کہاں سے؟ کیا، جیساکہ کسی وقت اِن کی زبان پر آتا ہے، یہ ابوبکرؓ و عمرؓ کی سیرت پڑھتے ہوئے ایک دم کہیں سے اِن کے سامنے آکھڑی ہوئی اور اپنی تمام تر جمہوری اصطلاحات اورجمہوری کلچر کے ساتھ، اِن کے سیرتِ صحابہؓ وقرونِ اولیٰ کے مطالعہ کے دوران، آپ سے آپ یہ اِن پر منکشف ہوئی، یا پھر یہ لباس پہلے مغرب کے تن پر پہنا ہوا اِن کو نظر آیا اور سو سال تک مسلسل نظر آتا رہا تو اس میں اِن کو دلچسپی پیدا ہوئی؟ پھر جب آقا کی پوشاک اِن کی نظروں میں بے حد جچی تو پھر اس کے ’دلائل‘ کی رفتہ رفتہ ضرورت محسوس کی گئی اور اُن طبقوں کا اِس پر اعتراض دورکردینے کی احتیاج محسوس کی گئی جو ’طرزِ کہن‘ پہ اڑنے کی ضد کیا کرتے ہیں اور جو کہ ’مساجد پر قابض‘ ہونے کے ناطے بہرحال یہاں لوگوں کی ایک تعداد پر اثر انداز ہوتے ہیں!؟

واقعہ درحقیقت یہی ہے۔ ’پیپر کرنسی‘ کی طرح ’جمہوریت‘ کا بھی دور دورہ ہونے کا ایک وقت تھا۔ یہ وقت کا ایک فیشن ہے۔ جو قومیں ابوبکرؓ اور عمرؓ اور عبدالرحمن بن عوفؓ[1] کو نہیں مانتیں اور جنکی مذہبی کتابوں میں ’شورائیت‘ کا کہیں کوئی ذکر نہیں انکے ملکوں میں بھی اسی نظام کو آنا تھا۔ ہمارے یہاں بھی اسی کو چلنا تھا۔ البتہ ہمارے مغرب کے خوشہ چینوں کی خوش قسمتی کہ اِنکو اسلام سے بھی ’دلائل‘ مل گئے۔ ویسے اگر یہ ’دلائل‘ نہ ملتے تو کیا خیال ہے ’جمہوریت‘ اپنے ہاں نہ آتی!!؟

چنانچہ اب ’جمہوریت‘ کو ہر سمت سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ ’جدید‘ ذہن رکھتے ہیں اور ’روشن خیال‘ کہلاتے ہیں تو اس جمہوریت کا ثبوت آپ کو چرچل اور ابراہیم لنکن سے دیا جا سکتا ہے۔ البتہ اگر آپ ’پرانی‘ طرز کے آدمی ہیں تو اسی جمہوریت کا ثبوت آپ کو ’خلافت راشدہ‘ سے فراہم کیا جا سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں چیز ایک ہی ثابت ہوگی، یعنی جمہوریت۔ اس کا آپ ’اسلامی‘ مطلب لینا چاہتے ہیں تو بے شک لیجئے، ’غیر اسلامی‘ مطلب لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس کی آزادی ہے۔ آپ کی خوشی پر کسی کو کیا اعتراض! مگر جس جمہوریت میں آپ حصہ لیں گے وہ ایک ہی جمہوریت ہے! اب ہر کسی کو اس کی پسند کی جمہوریت ملنے سے تو رہی۔ اتنی جمہوریتیں کہاں سے لائی جائیں کہ ہر شخص خوش ہو جائے۔ ملک ایک ہے تو جمہوریت بھی وہاں ایک ہی ہوگی۔ جہاں سب کو رہنا ہے وہاں سب کو ایک ہی چیز پر اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا جو چیز دستیاب ہے وہ تو ہے ایک ہی البتہ اس کی تفسیر آپ اپنے اپنے انداز سے کر سکتے ہیں۔ اس میں ’تنوع‘ پیدا کرنے کی یہی ایک صورت ہے!

چنانچہ ہر آدمی اس ’جمہوریت‘ سے اپنی مرضی کا مطلب اور مفہوم لے سکتا ہے۔ اس میں اور اپنے ملک کے دستور میں اس بات کی پوری گنجائش رکھی گئی ہے۔ یہ اب آپ پر ہے کہ آپ اس ’اپنے والی جمہوریت‘ کا مطلب کیا لیتے ہیں اور اس کے جواز کی دلیل کہاں سے لیتے ہیں۔ مغرب سے یا مشرق سے، شمال سے یا جنوب سے ... آپ کسی بھی طرف سے اس جمہوریت تک پہنچ سکتے ہیں ... کچھ شک نہیں کہ جمہوریت کے اس عالمی نظام میں اسلام پسندوں کو بھی یہ ’سہولت‘ فراہم کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ اس جمہوریت کا جواز ثابت کرنے کے لئے اسلام پسند اپنا الگ طرز استدلال اپنا سکتے ہیں جبکہ ’غیر مذہبی‘ پارٹیاں عین اسی جمہوریت کو ثابت کرنے کےلیے اپنا الگ طرز استدلال رکھ سکتی ہیں۔ غرض اسلام پسندوں کے ’شرعی دلائل‘ بھی عملاً اسی چیز کو ثابت کر رہے ہوں گے جسے مغرب زدہ طبقوں کے ’غیر شرعی دلائل‘ !!!

اس ’حکمت‘ کا تقاضا یہ ٹھہرا ہے کہ جمہوریت کے پس منظر میں جہاں افلاطون اور یونان کی قدیم عوامی جمہوریتوں کا ذکر ہو اور جہاں چرچل اور لنکن کا حوالہ دیا جائے وہاں __ معاذ اللہ __ ابوبکرؓ و عمرؓ اور عبدالرحمن بن عوفؓ کا بھی ذکر کر دیا جائے بلکہ بعض حلقوں کو قائل کرنے کےلیے تو حوالہ دیا ہی ابوبکرؓ و عمرؓ کا جائے۔ البتہ دلیل جو بھی دی جائے اور حوالہ جو بھی کسی کو دل لگے عملاً اس سے جو چیز ثابت ہو وہ ایک ہی ہو اور ایک ہی ہو سکتی ہے: ملک میں رائج نظام کی حقانیت۔ حتی کہ اگر آپ ایسا پائیں کہ یہ تو پوری جمہوریت نہیں تو اس کو ’پوری جمہوریت‘ بنانے کےلیے اس کو ماننا ضروری ہو اور اگر آپ محسوس کریں کہ یہ نظام تو پورا اسلامی نہیں تو اس کو ’پورا اسلامی‘ کرنے کےلیے اس کا دیا ہوا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہو ... غرض ان سب بحثوں سے عملاً صرف ایک چیز ثابت کرنے کی گنجائش ہو اور وہ ہے تیسری دنیا کو دیے جانے والے اِس ’نظامِ مشقت‘ کے ساتھ خود چلنا اور قوم کو _ یا قوم کے ان طبقوں کو جو آپ کے پیچھے چلتے ہیں _ لشتم پشتم اس کے ساتھ چلانا۔

حتی کہ اس نظام کو بدلنے کےلیے بھی پہلے اس کا حصہ بنئے اور اپنے اوپر باقاعدہ اس کی مہر لگوائیے پھر اس کے مقرر کردہ طریق کار کے مطابق __ جی ہاں صرف اور صرف اسی کے مقرر کردہ طریق کار کے مطا بق اور اس کی نشان کردہ سب راہداریاں گزر کر __ اس میں تبدیلی کی درخواست دیجئے۔ یہ آپ کی اس تبدیلی کی تجویز کو __ جو کہ ظاہر ہے جزوی ہی ہو سکتی ہے ___ رد کر دے تو اس کی مرضی۔ آپ کی کوئی بات اس کو پسند آجائے__ کبھی کبھی شریعت کے حوالے دیے جانا اس کو پسند بھی آتا ہے! __ تو اس کی مرضی۔ بہرحال کچھ تبدیلی ہو یا نہ ہو...  یا یوں کہہ لیجئے کہ جب تک کچھ تبدیلی نہ ہو، آپ کو اس کے ساتھ بہرحال چلنا ہوتا ہے۔

غرض اس گرداب میں آنے کےلیے ہر آدمی اور ہر گروہ الگ الگ دلیل اور الگ الگ بنیاد اختیار کرتا ہے۔ ہر پارٹی کے ہاں اس کے اسباب جدا ہیں مگر عملاً سب کو ایک ہی عمل میں شریک ہونا ہے۔ پاکستان میں بحالی جمہوریت کی تحریک چلانے اور بار بار کی انتخابی مشق کرنے کےلیے غیر مذہبی جماعتیں جو وجوہات رکھتی ہیں وہ یقینا ان وجوہات سے بہت مختلف ہوں گی جو عین اسی محنت کےلیے ہماری مذہبی جماعتیں اپنے پاس رکھتی ہوں گی مگر عملاً دونوں پر ایک ہی قاعدہ قانون کا اطلاق ہوگا اور عملاً دونوں کو ایک ہی قسم کی جمہوریت ملے گی۔ آپ اس کو لیتے ہوئے جو بھی نیت کرتے ہیں وہ آپ کا اپنا معاملہ ہے مگر وہ چیز جو آپ کو بالفعل دی جا رہی ہے صرف ایک ہے خواہ آپ ’اسلام پسند‘ ہیں یا ’ترقی پسند‘ یا ’لادین‘۔ آپ اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اس میں آپ ایک بے دین جماعت سے ضرور مختلف ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ واقعتا ہے کیا، اس پر نقطہ ہائے نظر کا اختلاف عملاً بے فائدہ ہے۔ بلکہ عبث ہے۔ دیکھنے والوں کے اعتبار سے یہ کئی کچھ ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک متعین چیز ہے ... ایک ایسی متعین چیز جو مختلف اطراف سے دیکھنے میں مختلف نظر آتی ہے!

ایسی چیز پر ظاہر ہے سب خوش رہ سکتے ہیں۔ ’سب‘ کو خوش رکھنا اور ’سب‘ کو ساتھ لے کر چلنا جمہوریت کا خاصہ ہے۔ اپنے ہاں بھی اپنا یہ خاصہ برقرار رکھنے میں یہ حیرت انگیز حد تک کامیاب ہے۔ تھوڑی بہت شکایتیں تو ہر کسی کو رہ سکتی ہیں اور ’شکایتیں‘ ہونا بھی جمہوریت ہی کا ایک دوسرا خاصہ ہے مگر ہر آدمی ہی اس کے ساتھ چل ضرور سکتا ہے!

ہر آدمی کا ساتھ چلنا اور ہر طبقے کی نمائندگی ہونا خودبخود معاملے کو کہیں ’بیچ‘ میں لے آتا ہے۔ ہر آدمی خود ہی سمجھ لیتا ہے کہ یہاں وہ اکیلا نہیں بلکہ یہاں ہر شخص کی __ ’ایک خاص حد تک‘ __ سنی جانا ہے۔ ابھی شکر کیجئے کہ یہاں مسلمانوں کی تعداد کوئی اٹھانوے فیصد کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اس لئے لگتا ہے کہ یہ نظام بس ایک مسلمانوں کو ہی ساتھ چلا رہا ہے حالانکہ یہ اس کے ساتھ خوامخواہ کا حسن ظن ہے! خدانخواستہ یہاں کبھی ہندوؤں اور سکھوں اور بدھوں کی تعداد کچھ زیادہ ہوتی پھر دیکھتے کہ ’خلافت راشدہ کی شورائیت‘ سے ثابت کیا جانے والا یہ نظام کیا عجب صورت دھارتا ہے! اگرچہ اس کا ایک اچھا خاصا مظاہرہ پھر بھی دیکھنے میں آ ہی جاتا ہے! یہ وہ نظام ہے جس کے اندر ’اہم معاملات‘ میں تو ’گرگے‘ صرف اپنی ہی چلاتے ہیں اور ان ’اہم معاملات‘ میں اکثریت اور اقلیت سب غیر متعلقہ ہوتے ہیں۔ البتہ عمومی اور غیر اہم معاملات میں یہ بہت سارے مختلف الخیال طبقات کو اکٹھا کرتا ہے جس کے باعث معاملہ خود ہی کہیں ’درمیان‘ میں آرہتا ہے جس سے سب ہی نہ تو پوری طرح خوش ہو سکیں اور نہ ناراض! ہمارے کچھ لوگوں کے نزدیک یہ شورائیت ہے!

پس جہاں تک ’غیر اہم معاملات‘ کا سوال ہے تو یہاں مسئلہ بہت آسان ہے؛ سب کو جمع کر دو اور پھر ان کی اوسط نکال لو۔ جواب جو بھی آئے ’صحیح‘ ہی ہوگا!

مختلف الخیال طبقے خود ہی آپس میں ایک توازن پیدا کر لیتے ہیں۔ بس تھوڑی سی نگرانی کی ضرورت رہتی ہے اور اس کےلیے کئی ادارے اندرون وبیرون ملک کام کرتے ہیں!

چنانچہ آپ دیکھتے ہیں دیندار کیا بے دین، عالم کیا جاہل، عورت کیا مرد، امیر کیا غریب، اسلام پسند کیا غیر اسلام پسند، صنعتکار کیا مزدور، جاگیردار کیا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے، کھلاڑی کیا اداکار ... کونسے طبقے کی یہاں نمائندگی نہیں؟! یہاں تو جوان بہو بیٹیوں کی پوری پوری نمائندگی ہے! یہاں سب اپنی اپنی کہیں گے اور سب کی باری باری سنی جائیگی۔ آپ بھی، باری آنے پر، اسلام نافذ کرنے کا مطالبہ کیجئے۔ البتہ آپکی مانی بھی جائے، اسکے کچھ اپنے قواعد وضوابط ہیں۔ یہ ’عادلانہ نظام‘ ہر کسی کے ساتھ ایک سا پیش آتا ہے! نیک کیا بد، حق کیا باطل، سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے! قلت وکثرت کے سوا کسی اور بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی یا ترجیحی سلوک کرنے کا ذرہ بھر روادار نہیں! ہر فریق کو اپنا مطالبہ سامنے لانے سے پہلے دیکھنا ہوتا ہے کہ اسکے پاس ’سیٹیں‘ کتنی ہیں! (کیا شک ہے کہ اسلام پسند یہاں ابھی تک اسلام نہیں لا پائے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ ان کے پاس ’سیٹیں‘ کافی نہیں تھیں)

آپ اسلام نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں یا کوئی بے دینی کا مطالبہ، آپ صحیح بات کر رہے ہیں یا غلط ... آپ کی بات مانی جانے کےلیے اس نظام کی اپنی شروط ہیں۔ آپ کی بات اگر بالکل درست بھی ہے اور اس پر قرآن کی بیسیوں آیات کی قطعی دلالت تک اگر موجود ہے تو یہ مفروضہ پھر بھی درست نہیں کہ آپ کی بات مانی جانے کےلیے یہ بجائے خود ایک کافی بنیاد ہے کہ آپکے پاس شرعی دلائل ہیں لہٰذا اب تو یہ نظام آپ کی بات ماننے کا پابند ہی پابند ہے! کسی چیز کا فی نفسہ حق یا باطل ہونا یہاں مسئلے کی سرے سے بنیاد نہیں۔ یقین نہ آئے تو تجربہ کر لیجئے۔ کبھی اِسکو خدا کی آیات اور نبی کی احادیث سنا کر دیکھئے، اور توقع کیجئے کہ یہ پارلیمنٹ میں آپ کی ’سیٹوں‘ کی تعداد پوچھنے کی بجائے آپ سے آیات و احادیث سن کر ”حق“ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے گا!!!

سیکولر ازم اور سلطانیِ جمہور کا اصل کفر یہی ہے۔

اسلام کے اندر مسئلے کی بنیاد اس کا حق یا باطل ’ہونا‘ ہے۔ اللہ اور اس کا رسول جو فرما دے، وہ کسی بھی اضافی شرط کے بغیر اور خودبخود قانون تصور ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی شرط ہے تو وہ یہ کہ یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچے کہ واقعی کوئی بات اللہ اور اسکے رسول نے کی ہے اور یہ کہ اس بات سے واقعی اللہ اور رسول کی منشا یہی ہے۔ مگر یہ نظام اس کو یہ درجہ تو خیر کیا دے گا کہ اللہ اور رسول جو فرما دے وہ آپ سے آپ قانون ہو، یہ اس پر توجہ کرنے کا بھی پابند نہیں۔ یہ اس کو جب چاہے گا آپ اپنی مرضی سے درخوراعتنا سمجھے گا نہ چاہے گا تو نہیں سمجھے گا اور فیصلہ بہرحال اکثریت رائے سے کرے گا۔ کوئی شخص ہمارے ساتھ اختلاف نہ کرے گا کہ خدا کے ٹھہرائے ہوئے ’حلال و حرام‘ کو یہاں ’اکثریت‘ حاصل ہوتی تو وہ کب کا ’قانون‘ بن چکا ہوتا۔

چنانچہ آپ کی بات درست ہے یا غلط، حق ہے یا باطل، اس میں قرآنی آیات کے جگہ جگہ حوالے پائے جاتے ہیں یا یہ گمراہی اور بے حیائی کی کھلی دعوت ہے ... اسکے ”پاس“ ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے اور بڑا سادہ۔ یہ ’مساوات‘ پر اس قدر گہرا یقین رکھتا ہے کہ حق اور باطل اس کی نظر میں فی نفس الامر برابر ہیں۔ لہٰذا اس کو دیکھنا یہ نہیں ہوتا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا، اس کو پروا اس بات کی نہیں کہ آسمان سے محمد ﷺ پر کیا اترا اور زمین پر کیا کچھ خانہ سازی ہوئی۔ آیا بات اللہ کی ہے یا غیر اللہ کی۔ اس کو غرض کسی بات سے ہے تو وہ یہ کہ کسی قرارداد کو ووٹ کتنے پڑے۔ حق اور باطل اپنی ذاتی حیثیت میں اس کی بلا سے ایک برابر ہیں۔ حق کا بجائے خود حق ہونا اور باطل کا بجائے خود باطل ہونا اس کے حساب سے قطعی طور پر ایک غیر متعلقہ سوال ہے۔

یہ اس نظام کا صریح ترین کفر ہے۔ یہ مغرب میں ہو یا مشرق میں اس کا یہ کفر ہر جگہ باقی ہے۔ کچھ ’اسلامی شقیں‘ یہاں اگر اس میں شامل کر دی گئی ہیں تو بھی ایسا نہیں کہ اِس کی یہ خاصیت اس سے اب ہمیشہ کےلیے جاتی رہی! حق کا بجائے خود حق ہونا اور باطل کا بجائے خود باطل ہونا اب بھی اس کےلیے فی الواقع ایک غیر متعلقہ سوال ہے۔ اللہ کے ہاں سے نازل ہوا ہونا کسی چیز کے خودبخود ’قانون‘ ہونے کےلیے اب بھی ناکافی ہے۔ خدا کے فرمائے ہوئے کو ’پاس‘ ہونے کےلیے اب بھی اکثریت کے ووٹ چاہئیں... اور اکثریت کے ووٹوں کا انتظار بھی ...!

یہ حقیقت یہاں ہر شخص دیکھ سکتا ہے اور ہر وقت دیکھتا ہے۔ خدا کے احکام کو آسمان سے اترے ہوئے یقینا چودہ سو سال ہو چکے۔ کوئی ہماری مدد کرے اور بتائے، خدا کے اِن اَحکام کو __قانون کا درجہ پانے کےلیے __ اکثریت سے ’پاس‘ ہونے کے سوا اور کس چیز کا انتظار ہے؟؟؟

اور ذرا کوئی ہمیں یہ بھی بتائے کہ ’سلطانیِ جمہور‘ کا شرک اس کے علاوہ کیا کچھ اور بھی ہے؟؟؟

جمہوریت کا یہ عالمی اصول __ یعنی سلطانیِ جمہور بذریعہ نمائندگانِ جمہور __ ہر جگہ رائج ہے اور ہمارا ملک بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ہمارے دانشوروں کو ابھی اصرار ہے کہ مغرب کی بجائے اس نظام کا مصدر ومنبع خلافت راشدہ کو مانا جائے!

سبحان اللہ! خلافتِ راشدہ... اور خدا کے نازل کردہ احکام کا، ’قانون‘ کا رتبہ پانے کےلیے، مخلوق کے ہاتھوں ’پاس‘ ہونے پر موقوف رہنا... یہ کفر تو ہمارے دورِ ملوکیت میں نہیں ہوا!

 

گزشتہ                                             آگے پڑھیے



[1]     کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ حضرت عمر ؓ کی وفات کے بعدنئے خلیفہ کے ’انتخاب‘ کے لیے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ   کو چیف الیکشن کمیشن مقرر کیا گیا تھا !

Print Article
  یہ وہی انگریزی نظام ہے
  جمہوریت
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ!
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز