عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, July 21,2019 | 1440, ذوالقعدة 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Angrezinizam آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ایک نظام ہمیں خلفائے راشدین سے ملا ہے تو اس کو ’اسلامائز‘ کرنے کی ضرورت۔۔۔۔؟!
:عنوان

ہمارا نہیں خیال ہمارے دانشور ’جمہوریت‘ کا وِرد محض اسلئےکرتےہیں کہ یہ ابوبکرؓوعمرؓ کی چھوڑی ہوئی یادگار ہے۔ ورنہ اس عقیدت کا مظاہرہ ہم ابوبکرؓ و عمرؓ کی چھوڑی ہوئی اور یادگاروں کے معاملہ میں بھی دیکھتے!

. باطلنظام :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

"یہ وہی انگریزی نظام ہے" 5

فصل سوم

 

جمہوری نظام کے بارے میں اصولاً ہماری وہی رائے ہے جو تقسیم ہند سے پہلے مولانا مودودیؒ اس کے بارے میں رکھتے رہے ہیں۔ یعنی ہم اس کو شرعاً درست نہیں سمجھتے۔ وقت کا رائج جمہوری یا پارلیمانی نظام جو اس وقت ہمارے بہت سے مسلم ملکوں میں رائج ہے اور خود ہمارے ملک میں بھی قائم ہے، بلاشبہ مغرب کی سوغات ہے۔ جمہوریت اور پارلیمنٹ اور اکثریت کی حکمرانی کا یہ تصور بلاشبہ مغرب سے چل کر یہاں آیا ہے اور ہمارے ’روشن خیال‘ طبقوں کے ہاں اس کا تقدس بھی کچھ اسی وجہ سے قائم ہے۔

ہم نہیں سمجھتے کہ ہمارے بیشتر سیاسی طبقے اور ہمارے بہت سے دانشور ’جمہوریت‘ کا ورد صبح شام محض اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ’خلافت راشدہ‘ کی عملی تقلید ہے یا یہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کی چھوڑی ہوئی یادگار ہے!

ابوبکرؓ و عمرؓ اورصحابہؓ سے ان کو کوئی ایسی ہی غیر معمولی عقیدت ہوتی تو اس کا مظاہرہ ہم ابوبکرؓ و عمرؓ کی چھوڑی ہوئی اور یادگاروں کے معاملہ میں بھی دیکھتے اور ان کو دین کے اور معاملات میں بھی اتنا ہی سنجیدہ اور بے چین پاتے!

اگر تھوڑی دیر کیلئے فرض کر بھی لیا جائے کہ آج جس چیز کو ’جمہوری نظام‘ کے نام سے جانا جاتا ہے وہ ابوبکرؓ و عمرؓ کی شورائیت کا ہی عملی نمونہ ہے پھر بھی ابوبکرؓ و عمرؓ نے اپنے پیچھے صرف ایک ’جمہوریت‘ تو نہیں چھوڑی! کوئی عقیدہ، کوئی شریعت، کوئی سنت، کوئی طرز زندگی، کوئی تہذیب بھی تو آخر حضراتِ ابوبکرؓ و عمرؓ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ پھر ان چیزوں کی یاد بھی اِنکو اسی شدت سے کیوں نہیں ستاتی اور کیوں ایک ’جمہوریت‘ ہی میں _آج کی اس جمہوریت ہی میں_ انکو ابوبکرؓ و عمرؓ کا چہرہ نظر آتا ہے!؟ کیوں یہ لوگ صرف ایک جمہوریت کے معاملے میں ہی ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و علیؓ و عبدالرحمن بن عوفؓ پر فریفتہ ہو جانا چاہتے ہیں!؟ کیا ابوبکرؓ و عمرؓ یا عبدالرحمن بن عوفؓ سے 'inspire'ہونے کے پیچھے کوئی اور عامل تو کارفرما نہیں!؟؟؟ اور کیا یہ شکست خوردگی تو نہیں!؟ یعنی ہمیں اپنے اسلاف کی بھی _بزعم خویش_ وہی بات پسند آئی جو ہمارے دور میں یورپ کے ہاں پائی گئی! تفاسیر، احادیث، تاریخ اور فقہ کی کتب میں کیا ’جمہوریت‘ کے علاوہ بھی اسلاف کا کوئی ورثہ محفوظ ہوا ہے!!؟

کیا ان لوگوں کی جمہوریت میں اِس دلچسپی و تاثر (Inspiration)  کے مصدر اور منبع کا تعین کرنا اتنا ہی مشکل ہے؟ جمہوری نظام ’اسلام سے ماخوذ و مستنبط‘ ہونے کا دعوی کیا کوئی قابل التفات بات ہے جس پر ہمارے علماءان سے باقاعدہ بحث کریں اور ان کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے علمی تصانیف کی ’شدید کمی‘ محسوس کریں!؟ کس کو معلوم نہیں ہماری حکومتوں اور اپوزیشنوں کو جمہوریت کی ’ہدایت‘ کہاں سے ملی؟ کسے معلوم نہیں ہماری حکومتوں اور اپوزیشنوں کو جمہوریت کی طلب کیوں ہوئی اور کب سے ہوئی اورجمہوریت کا ثبوت دینے کیلئے ہمارے لادینوں کی زبان پر خلفائے راشدین کا نام عقیدت اور گرویدگی کے ساتھ کیوں آتا ہے!؟
کہنے والوں نے یہ کہنے کی بہت کوشش کی کہ یہ ’پارلیمانی نظام‘ اور یہ ’سلطانیِ جمہور‘ اور یہ ’اکثریت کے راج‘ کا فلسفہ ،جس کو جمہوریت کہتے ہیں، دراصل رسول اللہﷺ اور خلفائے راشدینؓ کا قائم کردہ ہے (معاذ اللہ) اور یہ کہ بعد ازاں اس پر مغرب نے خواہ مخواہ اپنا اجارہ قائم کر لیا مگر اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ ہمیں بہرحال یہ نظام مغرب سے ہی وصول ہوا ہے۔ ان کا یہ دعوی ذرا دیر کیلئے درست مان لیا جائے تو بھی یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ خلفائے راشدین سے یہ نظام مغرب ہی نے لیاہو تو لیا ہو ہم نے بہرحال یہ خلفائے راشدین سے نہیں لیا۔ ہم نے اسکی تعلیم مغرب ہی سے پائی ہے؛ ہمیں اسکی جڑیں ’اسلام‘ میں اسی وقت نظر آئیں جب مغرب نے سو سال تک ہمیں اپنے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھا سدھا لیا اور بڑی محنت سے کی گئی تربیت کے نتیجے میں وہ ہمیں اس ڈگر پر لے آیا جس پر تیسری دنیا کی قوموں کا لایا جانا اس کے ہاں ٹھہر گیا تھا!

یہ بھی نہیں کہ ایک بار یہ نظام ہمیں مغرب سے موصول ہو گیا تو پھر یہ ہمارا ہو گیا اور یوں اس کے حقوقِ ملکیت میں ہم اور وہ ایک برابر ہو گئے! معاملہ یہ ہے کہ پوری دنیا کے اندر ’جمہوری نظام‘ پر تاحال مغرب ہی کے جملہ حقوق محفوظ تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اس نظام سے متعلقہ ایک ایک اصطلاح ہمارے ہاں اب بھی مغرب کی دی ہوئی چلتی ہے۔ اس کا ہر ہر پروٹوکول مغرب سے درآمد ہوا اور تاحال مغرب سے ہی منسوب ہے۔ جمہوریت کی آبرو پر پوری دنیا میں کہیں دست درازی ہو اس پر غیرت میں آنا اور سیخ پا ہو جانا مغرب ہی کا پیدائشی حق جانا جاتا ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں جمہوریت کے واقعی قائم ہونے کا سرٹیفکیٹ اب بھی مغرب ہی جاری کرتا ہے۔ تیسری دنیا کی حکومتیں اپنے ملک میں ’بحالی جمہوریت‘ کی یقین دہانی خود اپنی قوم سے زیادہ مغرب کو ہی کروانے پر یقین رکھتی ہیں۔ کسی ملک میں جمہوریت کے قیام کا روڈ میپ طلب کرنا اب بھی مغرب ہی کا جائے منصبی شمار ہوتا ہے۔ کہیں پر انتخابات کے ’آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ‘ انعقاد کی شہادت دلوانے کیلئے اب بھی مغربی مبصرین ہی سند مانے جاتے ہیں۔

تیسری دنیا میں جمہوریت اور ’جمہوری اقدار‘ کی پامالی کی، مغرب کے اپنے علاوہ تاحال کسی کو اجازت نہیں۔ جمہوری رسوم اور شعائر سے کسی ملک کو چھوٹ دینا نہ دین...اور جمہوری روایات کے معاملے میں کسی کو سات خون معاف ہونا یا نہ ہونا صرف مغرب کی صوابدید پر منحصر ہے۔

یہ سب باتیں اس قدر واضح ہیں کہ ہمارا خیال ہے شاید ہی کوئی اس پر ہم سے اختلاف کرے۔

یہ سب قرائن اس عالمی نظام کے مصدر و منبع اور اس کی حالیہ مرکزیت کا واضح طور پر پتہ دیتے ہیں مگر ہمارے ماہرینِ سیاسیات کو خلفائے راشدین سے جو ایک ’عقیدت‘ ہو چکی ہے وہ اجازت نہیں دیتی کہ اس بات کا برملا اعتراف کر لیا جائے۔ لیتے اغیار سے رہیے نسبت اسلاف سے کر دیا کیجئے۔ دونوں کا حق ادا ہو جائے گا!!!

پھر سوال یہ بھی ہے کہ یہ جمہوریت اگر اسلام کا کوئی حصہ ہے تو مغرب عالم اسلام میں اسلام کے بس اسی ’حصے‘ پر عملدرآمد کے لئے آخر کیوں بے چین رہتا ہے؟ عالم اسلام میں مغرب اسلام کے صرف جمہوریت والے حصے کا ہی روڈ میپ کیوں مانگتا ہے؟ اسلام کے باقی ماندہ حصوں پر عملدرآمد سے مغرب کو کیوں تکلیف ہونے لگتی ہے اور اسلام کا یہ ایک ’جمہوریت والا‘ حصہ ہی کیوں ایسا ہے کہ اس پر عمل ہونے سے (سوائے الجزائر ایسی ایک آدھ ’ناقابلِ ذکر‘ مثال کے!) مغرب کے سینے میں ٹھنڈ پڑتی ہے!؟

کچھ حقائق اتنے واضح ہیں کہ ’دلائل‘ کی بحث میں پڑنا ایک تکلف معلوم ہوتا ہے۔ ’جمہوریت‘ پر مغرب کے جملہ حقوق کچھ اس انداز سے ’محفوظ‘ ہیں کہ کسی بھی ملک میں کسی بھی موقعہ پر اور کسی بھی قسم کی صورتحال میں جمہوری عمل کی تفسیر کرنا مغرب کا اختیار ہے۔ کسی ملک میں ’مکمل جمہوریت‘ آنے کیلئے کتنے سال لگیں گے، ’مکمل جمہوریت‘ کی منزل مراد پانے کیلئے کسی ملک کی سرزمین کو مغربی افواج کے پاؤں تلے روندا جانا کس حد تک اور کتنے عرصے تک ضروری ہے، کسی ملک میں جمہوریت کا ہدف سر ہونے کیلئے آمریت کا ’عبوری دور‘ کتنا طویل یا کتنا مختصر ہونا چاہیے، جمہوریت کے ’وسیع تر مفاد‘ کیلئے جمہوری عمل کا وقتی خاتمہ کب اور کس ملک میں ہو جانا چاہیے، کب اور کس وقت دنیا کے کسی آمر کو جمہوریت کا قاتل قرار دے دینا یک بیک ضروری ہو جاتا ہے اور کب ضروری نہیں ہوت...یہ سب مغرب کا اختیار ہے۔

’جمہوریت‘ دراصل استعمار کا نیا روپ ہے۔ یہ ’آزادی‘ کا وہ پیکیج ہے جو غلام اقوام کو دیا جاتا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ’جمہوریت‘ ایک ایسا کھیل ہے جو صرف مغرب کی ایمپائری میں کھیلا جاتا ہے۔ مغرب کی اپنی قوموں کے حق میں ضرور یہ کوئی ’نظام‘ ہو گا ہمارے حق میں یہ محض ایک ’کھیل‘ ہے۔ اس پر ’دلائل‘ کے ساتھ بحث کرنا بڑی حد تک ایک اضافی مشق ہے۔ دنیا کی کمزور قوموں کیلئے یہ کھیل ہرگز وارے کا نہیں۔ ایک اصول پسند قوم تو ہرگز اس کی متحمل نہیں۔ اس میں چل چل کر آپ کا ستیاناس ہو جاتا ہے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ البتہ جو ہاتھ میں ہووہ چلا جاتا ہے سنجیدہ کاموں سے آپ کی توجہ جاتی رہتی ہے اور ’عزم الامور‘ سے آپ کی بے دلی اور بے رغبتی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ انتخابی سیاست اصول پسند جماعتوں کو ناکارہ کر کے رکھ دینے کا تاحال ایک مجرب نسخہ ہے۔ ایک ایسی جماعت یا ایک ایسی تحریک جو اپنی انفرادیت قائم رکھنے پر مصر ہے اس کو تو اس کھیل میں اپنے قویٰ تھکانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ آج سے ساٹھ سال پہلے اگر یہ محض ایک مفروضہ تھا تو اب بہرحال یہ نرا مفروضہ نہیں۔ اب یہ محض ’اندیشہ‘ نہیں۔ اس پر عملی شواہد دیکھنا ہوں تو اب انکی ہرگز کوئی کمی نہیں۔

گزشتہ                                             آگے پڑھیے

Print Article
  یہ وہی انگریزی نظام ہے
  جمہوریت
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
ثقافت- خواتين
ثقافت-
Featured-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
Featured-
احوال-
ادارہ
کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال بل جب ٹرمپ نے اق۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز