عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, June 5,2020 | 1441, شَوّال 12
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
EmanKaSabaq آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
شکر ہی تو عبادت ہے!
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

شکر ہی تو عبادت ہے!

 

 

انسان ہوش کی آنکھ کھولتا ہے تو اس کو سب سے پہلی یہ نصیحت ہوتی ہے کہ وہ خدا کا شکر گزار ہو اور خدا کے بعد.... پھر ان دو ہستیوں کا جو اسے دنیا میں وجود دینے کا ذریعہ بنیں:

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ  (لقمان:14)

”اور ہم نے انسان کوا پنے والدین (کا حق پہچاننے) کی خود تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودوھ چھوٹنے میں لگے (اسی لئے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف پلٹنا ہے“

اس کو یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ خدا اس کی کسی چیز سے خوش ہو سکتا ہے تو وہ اس کی شکر گزاری اور اس کا جذبۂ سپاس ہی ہے۔

 

وَإِن تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ   (الزمر: 7)

”اور اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لئے پسند کرتا ہے“

اللہ نے اپنے برگزیدہ خلیل ابراہیم علیہ السلام کی صفت بیان کی تو یہ کہ وہ اس کی نعمتوں کا پاس کیا کرتا اور اس کا شکر ادا کرنے میں لگا رہتا تھا:

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ.  شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ. وَآتَيْنَاهُ فِي الْدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ.  (النحل: 120-122)

”ابراہیم اپنی ذات میں ایک امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور مکمل یکسو۔ جو مشرکوں سے الگ تھلگ تھا۔ اللہ کی نعمتوں کا شاکر۔ اللہ نے اس کو منتخب کرلیا اور سیدھا راستہ دکھایا۔ دنیا میں اس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ صالحین میں سے ایک ہوگا“

سو اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو امت یعنی ایک نمونہ اور معیار قرار دیا، جس کی، خیر کے راستے میں اتباع کرنا ہر شخص پر فرض ہے۔ پھر اسے قانت کہا یعنی مطیعِ فرمان اور حکم آئے کو کبھی ’ناں‘ نہ کرنے والا۔ پھر کہا کہ وہ حنیف تھا۔ یعنی ہر طرف سے رخ موڑ کر وہ ایک اللہ کی طرف رخ کر چکا تھا۔ پھر ان خوبصورت صفات کا ذکر جس بات پر ختم کیا وہ یہ کہ.... وہ ایک شکرگزار بندہ تھا جو نعمتوں کی قدر پہچاننے والا اور ہدیۂ سپاس پیش کرتا رہنے والا تھا۔

سو خلیل اللہؑ کی صفات کی انتہا یہ ہوئی کہ وہ شکر گزار تھا!

اللہ کا ایک کام تخلیق کرنا ہے اور دوسرا حکم دینا اور شریعت اتارنا یعنی خلق اور امر۔ اس خلق اور امر کی غایت یہ ہے کہ دنیا میں اُس کا شکر ہو۔ انسان کی اپنی تخلیق ہوتی ہے تو اس لئے کہ وہ ہوش سنبھالے تو پیدا کرنے اور دینے والے کا شکر ادا کرنے میں لگ جائے:

وَاللّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لاَ تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ. (النحل: 78)

”اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا جب تم کچھ جانتے تھے نہ سمجھتے۔ اس نے تمہیں کان دیئے، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیئے، اس لئے کہ تم شکر گزار بنو“

یہ تو ہوئی خلق کی غایت۔ پھر جہاں تک امر کی غایت ہے:

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ.  (آل عمران: 123)

 ”بدر میں بھی تمہاری مدد اللہ نے ہی کی تھی حالانکہ اس وقت تم بہت کم زور تھے۔ لہٰذا اللہ سے ڈرتے رہو.... تاکہ تم شکر گزار بنے رہو“

چنانچہ اس آیت میں اللہ کا یہ کہنا کہ ”تاکہ تم شکر گزار بنے رہو“ اس کی نصرت کے باعث بھی ہو سکتا ہے جو اس نے بدر میں کی اور (فاتقوا اللہ) تقوی کا حکم دینے کے باعث بھی.... اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان دونوں باتوں کے باعث شکر گزار ہونے کیلئے کہا گیا ہو اور یہی بات ظاہر اور واضح ہے۔ چنانچہ شکر خلق کی غایت بھی ہوئی اور امر کی بھی!

اللہ تعالیٰ نے بہت صراحت سے یہ بتا دیا ہے کہ اُس کی شریعت کے اتارے جانے اور اُس کا رسول بھیجا جانے کا مقصد بھی بندوں سے اپنا شکر کروانا ہے:

كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُواْ تَعْلَمُونَ. فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُواْ لِي وَلاَ تَكْفُرُونِ (البقرہ: 152-151)

”جس طرح کہ ہم نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔ لہٰذا تم مجھے یادر رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرے شکر گزار بنے رہو، کفران نعمت نہ کرو“
صحیحین سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ رب کے حضور میں اتنی اتنی دیر تک کھڑے رہتے اور راتوں کو اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ کے قدم سوج کر پھٹنے کو آجاتے۔ آپ سے عرض کی گئی:

”اللہ آپ کے سب اگلے پچھلے قصور معاف کر چکا، پھر یہ سب کچھ!؟“

تب آپ ایک مختصر اور خوبصورت جواب دیتے ہیں: أفلا أکون عبداً شکوراً ”تو کیا میں شکر گزار بندہ بن کر نہ دکھاؤں“!!!

مسند احمد اور ترمذی میں روایت ہے کہ نبی ﷺ معاذ سے کہتے ہیں:

”معاذ، بخدا تم مجھے بہت پیارے ہو۔ سو جب تم نماز ختم کرو تو کبھی یہ کہنا نہ بھولو: اللھم أعِنّی علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک ”خدایا مجھے توفیق دے کہ میں تجھے یاد کروں، میں تیرا شکر کرتا رہوں اور تیری بندگی میں حسن پیدا کروں“۔

ابن ابی الدنیا نے بیان کیا: بیان کیا، عبداللہ بن عباس سے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”چار چیزیں جس آدمی کو مل گئیں، سمجھو اسے دنیا اور آخرت کی سب خیر مل گئی:

شکر گزار دل

ذکر کی گرویدہ زبان

مصیت پہ صابر بدن

اور بیوی جو اپنی ذات میں یا اس کے مال میں کسی خیانت کی روادار نہ ہو“

ابن ابی الدنیا ہی قاسم بن محمد کی حدیث عائشہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

”اللہ اپنے بندے پر انعام کرتا ہے تو بندہ جب بھی یہ اعتراف کرتا ہے کہ یہ نعمت اس کے پاس اللہ کی دی ہوئی ہے تب اللہ اس کے نامۂ اعمال میں درج کر دیتا ہے کہ بندہ اس نعمت پر اللہ کا شکر گزار ہوا۔ اللہ اپنے بندے کے دل میں اس کے کسی گناہ پر ندامت اور پشیمانی دیکھتا ہے تو وہ اسے بخشش کا سوال کرنے سے بھی پہلے معاف فرما دیتا ہے۔ بندہ جب کوئی اچھا اور مہنگا لباس خرید کر زیب تن کرتا اور ساتھ میں اللہ کی حمد اور تعریف کرتا ہے تو اس کی قمیض اس کے گھٹنوں تک بھی ابھی پہنچنے نہیں پاتی کہ اس کی بخشش ہو چکی ہوتی ہے“!!

صحیح مسلم میں نبی ﷺ سے حدیث ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

”اللہ کو بندے کی یہ بات خوش کر جاتی ہے کہ اِسے ایک بار کا کھانا نصیب ہو یا پینے کا کوئی مشروب اِس کے حلق سے اترے تو وہ اس کی تعریف میں لگ جائے“!!!

دیکھئے اس بندے کو کیا جزا ملی.... اللہ کی خوشی!!! آپ کو معلوم ہے کہ کسی ثواب اور نیک بدلے کی یہ آخری انتہا ہے کہ اللہ کو بندے سے خوشی ہو! یہ عظیم ترین جزاءہے اور اعلیٰ ترین بدلہ۔ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّهِ أَكْبَرُ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۔

یہ عظیم ترین باریابی دیکھئے کس چیز پر ہوئی: چند نوالے کھا کر، یا چند گھونٹ پی کر مالک کی تعریف کرنے میں لگ جانا!!! تعریف، شکر کا بہترین اظہار ہے!!!

ابن ابی الدنیا نے بیان کیا، عطارد قرشی سے: کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”ہو نہیں سکتا کہ اللہ اپنے کسی بندے کو شکر کی توفیق دے اور پھر اسکی اس نعمت میں، جس پر وہ شکر کرتا ہے، اور سے اور اضافہ نہ کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خود کہا ہے: لَئِن شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ کہ ”اگر تم شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا“

حسن بصریؒ کہتے ہیں: ”اللہ جب تک چاہتا ہے بندے کو نعمت سے لطف اندوز ہونے دیتا ہے پھر جب اس سے وہ کوئی شکر نہیں پاتا تو اسی نعمت کو عذاب میں بدل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سے پہلے لوگ شکر کا ذکر ’محافظ اور نگہبان‘ کے نام سے کرتے تھے وہ کہا کرتے تھے، نعمت کا تحفظ کرنے اور نعمت کو بچا رکھنے والی کوئی چیز ہے تو وہ شکر ہے۔ وہ کہا کرتے تھے شکر وہ چیز ہے جو کھوئی ہوئی نعمت کو بھی لوٹا لائے“!!

مطرف بن عبداللہؒ کہا کرتے تھے: ”مجھے عافیت نصیب ہو اور میں اس پر شکر کرتا رہوں، یہ مجھے اس سے کہیں عزیز ہے کہ میں کسی آزمائش میں پڑوں اور اس پر صبر کروں“۔

حسن بصریؒ فرماتے ہیں: ”خدا کی ان نعمتوں کا بہت تذکرہ کیا کرو کیونکہ نعمتوں کا بار بار تذکرہ ہی نعمتوں کا شکر ہے“۔

اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی کو کہا ہے کہ وہ اپنے رب کی نعمت کا تذکرہ کیا کرے: وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ!!!
اللہ تعالیٰ کو خود یہ پسند ہے کہ وہ بندے پر اپنی نعمتوں کے نشانات دیکھتا رہے۔ یہ گویا لسان حال سے خدا کا شکر کرنا ہے۔

علی بن الجعد کہتے ہیں میں نے سفیان ثوری کو یہ کہتے ہوئے سنا: داؤد علیہ السلام ایک بار گویا ہوئے: الحَمٔدُ للّٰہِ حَمداً کما ینبغی لِکَرَمِ وجهه وَعِزِّجَلَالِه ”حمد میرے خدا کی.... ایسی حمد جو اس کے روئے انور کے شایان شان ہو.... ایسی حمد جو اس کی ہیبت وجلال اور اس کی عزت وشان کے لائق ہو“۔

تب اللہ نے داؤد علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی:

”داؤد تم نے یہ تعریف کرکے فرشتوں کو بے بس کردیا“۔

شعبہؒ نے بیان کیا: بیان کیا ہم سے مفضل بن فضالہ نے ابورجاءالعطاروی سے کہ: ایک بار عمران بن حصینؓ گھر سے نکل کر ہمارے پاس آئے تو ایک بیش قیمت قبا زیب تن کئے ہوئے تھے۔ ان کو ایسی قبا پہنے اس سے پہلے کبھی ہم نے دیکھا اور نہ اس کے بعد۔ تب عمران بن حصین کہنے لگے: رسول اللہ نے فرمایا:

اِذا أنعم اللہ علی عبدہ نعمة یحب أن یری أثر نعمته علی عبدہ ”اللہ جب کسی بندے کو نعمت سے نوازے تو اس کو یہ پسند ہے کہ وہ بندے پر اس نعمت کے اثرات بھی پائے“

عمرو بن شعیب کے صحیفے میں، ان کے والد سے، بروایت ان کے دادا(عبد اللہ بن عمرؓ)، روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

”کھاؤ پیو، صدقہ خیرات کرو، البتہ خود پسندی اور فضول خرچی سے بچو، اللہ کو خود یہ پسند ہے کہ وہ اپنی نعمت کے نشانات اپنے بندے پر دیکھے“

سورۂ عادیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو کنود کہہ کر اس کی مذمت فرمائی ہے۔ کنود وہ شخص ہے جو نعمت پر شکر نہیں کرتا۔ حسن بصریؒ کنود کی شرح میں فرماتے ہیں: ”انسان ناشکرا ہے مصیبتوں کا شمار کرتا ہے اور نعمتوں کا ذکر تک نہیں“!

رسول اللہ ﷺ نے خبر دے رکھی ہے کہ دوزخیوں میں عورتوں کی اکثریت بھی اسی وجہ سے ہو گی۔ آپ نے فرمایا: تم اس کے ساتھ زندگی بھر اچھائی کرتے رہو پھر اسے تم سے کوئی برائی دیکھنے کو ملے تو کہہ اٹھتی ہے ’میں نے تو تم سے کبھی کوئی خیر نہیں پائی‘۔ خاوند ایک اچھائی کرتا ہے تو اس پر یہ حال ہے اور اس پر شکر مندی کی اتنی تاکید ہے، حالانکہ خاوند کے ذریعے جو نعمت بھی ملتی ہے وہ دراصل خدا کی ہی دی ہوئی ہوتی ہے.... پھر اس بارے میں کیا خیال ہے کہ آدمی خدا ہی کی نعمت کا شکر ادا کرنے سے ٹلتا رہے!

ظالم انسان! اس ظلم کا خمیازہ تمہارے اپنے سوا کسی اور کو نہیں بھگتنا۔ آخر کب تک تم خدا کے ساتھ یہ رویہ رکھو گے کہ اس کی نعمتیں تمہارے کسی شمار قطار میں ہی نہ آئیں البتہ کبھی مصیبت آپڑے تو اس کا خوب چرچا کرو!

ابن ابی الدنیا ابو عبدالرحمن السلمی کی حدیث شعبی سے بروایت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں کہ:

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

”نعمت کا تذکرہ شکر میں شمار ہوتا ہے اور اس کو ترک کر دینا کفرانِ نعمت ، جو شخص تھوڑے پر شکر نہیں کرنے لگتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہ کر پائے گا۔ جو لوگوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا کا بھی شکر گزار نہ ہوگا، جماعت برکت ہے اور تفرقہ عذاب“

مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں: ”میں نے دو چیزوں پر غور کیا۔ ایک عافیت اور دوسری شکر مندی۔ تب میں نے یہ پایا کہ ان دو چیزوں میں دنیا اور آخرت کی سب خیر سمیٹ دی گئی ہے۔ میں کسی گوشۂ عافیت میں خدا کا شکر بجا لاتا رہوں، یہ بات مجھے کہیں وارے کی ہے کہ میں مبتلائے مصیبت ہوں اور اس پر صبر کروں“۔ 
بکر بن عبداللہ مزنیؒ نے ایک باربردار کو دیکھا کہ وہ بوجھ کمر پر لادے جا رہا ہے اور ساتھ میں الحمدللہ، استغفر اللہ کہتا جاتا ہے، بکر بن عبداللہؒ کہتے ہیں یہ دیکھ کر میں وہیں رک گیا کہ کب وہ اپنا بوجھ زمین پر دھرتا ہے۔ جب اس نے بوجھ اتار کر زمین پر رکھ دیا تو میں نے اسے آزمانے کیلئے پوچھا: بس ان الفاظ کے سوا تمہیں کچھ اور کہنا نہیں آتا! مزدور بولا: کیوں نہیں، خدا کی کتاب پڑھ لیتا ہوں۔ اور بہت کچھ کہہ سکتا ہوں۔ مگر بھائی بات یہ ہے کہ بندہ دو حالتوں سے باہر نہیں ہوتا؛ خدا کی نعمتیں لیتا ہے اور خدا کے حق میں گناہ کرتا ہے۔ خدا کی نعمت کیلئے میں اس کی حمد کئے جاتا ہوں اور اپنے گناہوں کیلئے استغفار۔ تب میں نے خود سے کہا: بکر! یہ بوجھ ڈھونے والا مزدور تم سے کہیں برتر فقیہ ہے“!!!

ترمذی میں جابر بن عبداللہؓ روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہؓ کے پاس حجرے سے نکل کر آئے تو ان کو سورہ الرحمن، اول سے آخر تک تلاوت کرکے سنائی۔ صحابہ خاموشی سے سنتے رہے۔ تب آپ نے فرمایا: جنوں کو بھی میں نے اس رات یہی سورت پڑھ کر سنائی۔ ان کا جواب تم سے بہتر تھا۔ میں جب بھی یہ آیت پڑھتا۔ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ”پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے اور اس کی کس کس قدرت کا انکار کرو گے“ تو وہ ہر بار جواب دیتے: ”خدایا ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، تعریف صرف تیری“۔

امام احمد بن حنبلؓ کہتے ہیں: بیان کیا ہم سے عبدالرزاق بن عمران نے، کہا سنا میں نے وہب بن منبہؓ سے کہ میں نے آل داؤدؑ کی کتاب میں لکھا ہوا پایا:

”مجھے میری بڑائی کی قسم۔ جو میری پناہ میں آیا، اس کے خلاف آسمان وزمین کی سب مخلوقات دشمنی پہ اتر آئیں میں ان سب کے درمیان سے اس کے لئے راستہ نکال دوں گا اور جس نے مجھ سے پناہ اور سہارا نہ مانگا اس کے ہاتھ سے میں آسمان کے سب اسباب چھڑوا دوں گا، اس کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لوں گا اور اس کو فضا میں بے سہارا اس کے اپنے حال پر چھوڑ دوں گا۔ میں اپنے بندے کیلئے بہت کافی سہارا ہوں اور بہترین جائے پناہ۔ میرا بندہ جب میری فرمانبرداری میں لگا ہوتا ہے تو میں اس کے سوال کرنے سے پہلے اسے وہ جو چاہے عطا کردیتا ہوں۔ اس کے دعا کرنے سے پہلے شرف قبولیت بخشتا ہوں۔ مجھے خود اس سے بڑھ کر اس کی ضرورت اور حاجت کا پاس ہوتا ہے“۔

حسن بصریؒ جب کوئی گفتگو شروع کرتے تو پہلے یہ کلمات کہتے:

”حمد وتعریف اللہ وحدہ لا شریک کی،

خدایا تیری حمد اور تعریف۔ تو نے ہمیں اسلام دیا اور قرآن سے نوازا۔ خدایا تیری تعریف۔ ہم اہل وعیال رکھتے ہیں۔ مال ودولت پاس ہے اور تیری بخشی ہوئی عافیت ہے کہ چین اور اطمینان سے گزرتی ہے۔

تو نے دشمن کو ہم سے باندھ کر رکھا۔ رزق ہم کو فراخ دیا۔ امن وسکون کی نعمت تیری عطا کردہ ہے، تیری رحمت ہے کہ عزیزوں سے ملتے اور احباب کو دیکھتے ہیں۔ کتنے مصائب سے تو ہم کو روز بچاتا ہے۔ خدایا تجھ سے جو مانگا تو نے ہم کو اس سے بڑھ کر دیا۔

خدایا تعریف تیری.... بہت ہی زیادہ تعریف۔ خدایا ہر ہر نعمت کے عوض تیری تعریف۔ کوئی نعمت جو تو نے پہلے کبھی کی یا اب کر رہا ہے، تیری نعمت نظر آئے یا نظروں تک سے روپوش رہے، تیری نعمت عام ہو خاص، زندگی کی حالت میں ہو یا مر جانے کے بعد.... خدایا ہر نعمت پر تیری تعریف۔

”خدایا تیری تعریف.... تیری تعریف اس وقت تک جب تو اس تعریف سے راضی ہو.... پھر خدایا جب تو راضی ہو چکے تب بھی تیری تعریف“!!!

ابن ابی الدنیا کہتے ہیں محمود الوراق نے مجھے اپنے اشعار سنائے: (جن کا خلاصہ یہ بنتا ہے)

”خدا کی نعمت کا شکر کر لوں تو یہ شکر کرنا تو خود مجھ پر ایک نعمت ہوئی۔ اب اس نعمت پر بھی تو مجھے اسی کا شکر کرنا چاہئے! سو ہر شکر ہی توایک شکر چاہتا ہے! پھر ایسے میں اس کا شکر کیسے ادا کر پاؤں گا چاہے دن جتنے بھی بڑھ جائیں اور عمر جتنی بھی دراز ہو جائے.... سوائے اس کے کہ بس اس کا فضل ہو جائے!

وہ مجھ کو راحت دے تو خوشیوں سے ڈھانپ دے۔ کبھی تکلیف آنے دے تو پھر اس پر اجر وثواب کی حد کر دے۔ وہ تو دونوں صورتوں میں مجھ پر فضل کرتا ہے۔ اس کے فضل کا اندازہ بحر وبر کی کسی مخلوق کے بس میں نہیں“۔

ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا:

”تم میں سے جو خواہشمند ہو کہ وہ اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کی واقعی قدر کرنے لگے اسے چاہیے کہ وہ اپنے نیچے دیکھے نہ کہ اپنے اوپر“

اس آیت کے بارے میں کہ:

وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (لقمان:20)

”اس نے تم پر اپنی کھلی اور چھپی نعمتوں کی بارش کر دی“

مجاہدؒ کہتے ہیں: یہ آیت تو انسان کے پاس کہنے کو کچھ چھوڑتی ہی نہیں۔

وہبؒ کہتے ہیں: ”ایک عابد زاہد آدمی نے اللہ کی پچاس سال عبادت کی۔ اللہ نے اسے وحی کے ذریعے خبر دلوائی کہ میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ عابد نے دل میں کہا: ”صرف معافی! مجھے تو کوئی گناہ بھی یاد نہیں“ تب اللہ نے اس کی گردن کی ایک نس کو حکم دیا کہ ذرا بگڑ جائے۔ نس کا بگڑنا تھا کہ عابد کی نیندجاتی رہی اور نماز پڑھنے تک کی ہوش نہ رہی۔ کچھ دیر بعد اس کو سکون آیا تو وہ نیند میں چلا گیا۔ تب خواب میں اسے بتایا گیا تمہارا رب فرماتا ہے پچاس سال تک اپنی گردن کی صرف ایک نس سے جو سکون پاتے رہے تمہاری پچاس سال کی عبادت تو اس کا بھی عوض نہیں“۔

ابن ابی الدنیا ذکر کرتے ہیں: داؤد علیہ السلام نے خدا سے دریافت کیا: ”تیری مجھ پر کم سے کم نعمت کیا ہے؟“ تب اللہ نے داؤد علیہ السلام کو وحی کی: ”داؤد، ذرا سانس لو“۔ داؤد علیہ السلام نے سانس لی۔ تب خدا نے فرمایا: ”یہ میری تم پر کم از کم نعمت ہے“۔

اس بات کی روشنی میں ابو داؤد کی اس حدیث کا مطلب واضح ہو جاتا ہے جو کہ زید بن ثابت اور عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ:

”اللہ اگر آسمان اور زمین کی سب مخلوقات کو عذاب دینے پر آئے تو اس کا ایسا کرنا ہرگز ظلم نہ ہوگا۔ اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کا رحم فرمانا ان کے اعمال کرنے سے کہیں برتر ہوگا“

اسی طرح اس صحیح حدیث کا مطلب بھی یہیں سے واضح ہو جاتا ہے:

”تم میں سے کوئی شخص اپنے عمل کے بل پر نجات نہ پائے گا“۔ صحابہ نے عرض کی: ”کیا آپ بھی اے اللہ کے رسول“؟ فرمایا: ”میں بھی نہیں، سوائے یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے“

چنانچہ بندوں کے اعمال خدا کی کسی ایک نعمت کا بھی بدلہ نہیں۔

ابو الملیح کہتے ہیں:

موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے دریافت کیا:

”شکر کی بہترین صورت کیا ہے؟“

جواب آیا:

”یہ کہ ہر حال میں تم میرا شکر کرتے رہو“۔

جریری ابوالورد سے، اور وہ جلاح سے اور وہ معاذ بن جبل سے روایت کرتے ہیں کہ:

رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا: اللھم اِنی أسألک تمامَ النعمۃ ”خدایا مجھ پر نعمت کا اتمام فرما“۔ تب آپ نے اس شخص سے فرمایا: ”جانتے ہو نعمت کا اتمام کیا ہے؟“ آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول بس میری زبان پر یہ دعا آگئی اور میں اِن (الفاظ) سے اپنے رب سے خیر پانے کا خواستگار ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نعمت کا اتمام یہ ہے کہ آدمی دوزخ سے سلامت رہے اور جنت میں داخلہ پائے“

سہم بن سلمہؒ کہتے ہیں: ”مجھے اہل علم سے پتہ چلا ہے کہ آدمی کھانے کے شروع میں اللہ کا نام لے اور کھانا ختم کرکے اللہ کی تعریف کرنے لگے تو اس سے اس کھانے کی نعمت کی بابت سوال نہیں کیا جاتا“۔

عبداللہ بن المبارک کہتے ہیں: بیان کیا ہم سے مثنی بن الصباح نے بروایت عمرو بن شعیب، بروایت ان کے والد، بروایت ان کے دادا، کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:

”دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس انسان میں پائی جائیں اسے خدا کے ہاں صابر اور شاکر لکھ دیا جاتا ہے اور جس آدمی میں یہ نہ پائی جائیں اسے خدا کے ہاں صابر اور شاکر نہیں لکھا جاتا: جو شخص دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر دیکھتا ہے اور اپنے سے بہتر شخص کی اقتدا کرنے لگتا ہے.... اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے دیکھتا ہے اور اپنے سے کم شخص کو نظر میں رکھتا ہے تب وہ اللہ کی تعریف کرنے لگتا ہے کہ مالک نے اس پر کتنا فضل کیا.... ایسے شخص کو خدا اپنے ہاں صابر اور شاکر لکھ لیتا ہے مگر وہ شخص جو دین کے معاملے میں اپنے سے نیچے دیکھتا ہے اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے اوپر دیکھتا ہے اور یہ دیکھ دیکھ کر کفِ افسوس ملتا ہے کہ ہائے اسے دنیا کی فلاں اور فلاں چیز نہ ملی تو ایسے شخص کو اللہ اپنے ہاں صابر اور شاکر نہیں لکھتا“

اسی اسناد سے عبداللہ بن عمروؓ سے ایک موقوف روایت آتی ہے:

”چار باتیں جس شخص میں پائی جائیں اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے:

جس کا بات بات پر سہارا لا الہ الا اللہ کا کلمہ ہو،

جسے مصیبت آئے تو وہ انا للہ وانا الیہ راجعون کہتا ہو،

اسے کچھ ملے تو الحمد للہ کہتا ہو،

کوئی گناہ ہو جائے تو أستغفر اللہ کہنے لگ جاتا ہو۔

ابن ابی الدنیا کہتے ہیں: مجھے کسی دانا کی یہ بات ملی ہے کہ: اللہ اپنی نافرمانی پر کبھی بالکل بھی عذاب نہ دے تب بھی اس کی نعمت کے پاس کا تقاضا ہے کہ اس کی نافرمانی نہ ہو!“۔

 

آدمی خدا کے دو قسم کے حقوق کا اسیر ہے:

 

خدا کے انسان پر دو قسم کے حقوق ہیں اور ان کی قید سے وہ عمر بھر آزاد نہیں ہوتا۔ ایک اس کا امر اور نہی ہے اور جو کہ خدا کا خالص حق ہے جسے ادا کر دینا آدمی کا فرض ہے اور دوسرا اس کی نعمتوں کا شکر کرنا جو کہ وہ انسان پر کرتا ہی رہتا ہے۔

خدا انسان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ

- اس کی نعمتوں کا پاس کرتا اور ان پر شکر گزار ہوتا رہے

- اور اسے جو جو حکم دیا جائے وہ اسے پورا کرے

اور یہ دونوں کام کرنے میں اپنے قصور اور کوتاہی کا برابر اعتراف کرتا رہے.... اور اس بات کا ادراک کرتا رہے کہ ہر دو معاملہ میں وہ بخشش اور مغفرت کیلئے خدا کا ہر دم ہی محتاج ہے اور یہ کہ اگر اس کو خدا نے اپنی رحمت سے نہ سنبھالا تو اس کے تباہ ہو جانے میں کوئی بھی شک نہیں۔ انسان میں دین کی سمجھ اور تفقہ جس قدر بڑھتا ہے اتنا ہی وہ اپنے ان ہردو فرض کا ادراک اور احساس زیادہ کرنے لگتا ہے۔ جتنا اس کا دین میں درجہ بلند ہوتا ہے اتنا ہی وہ اس ادائے فرض میں اپنے قصور کا بڑھ کر اعتراف کرتا ہے۔ دین بس یہی نہیں کہ آدمی ظاہری طور پر گناہوں کو چھوڑ دے۔ دین کا مطلب تو دراصل یہ دیکھنا ہے کہ وہ کونسی بات ہے اور کونسی ادا ہے جو خدا کو خوش کر جائے۔ اکثر دیندار ان باتوں کو بس اتنی ہی توجہ دیتے ہیں جتنی کہ عوام الناس کے ہاں ضروری جانی جاتی ہے!

رہا یہ کہ آدمی جہاد کا فرض ادا کرے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے، اللہ اور رسول کی خاطر خدا کے بندوں سے ہمدردی کرے اور ان کی بھلائی اور نصیحت کیلئے دوڑ دھوپ کرے اور یہ کہ اللہ کی اور اس کے رسول کی اوراس کے دین کی اور اس کی کتاب کی نصرت کرے.... تو یہ فرائض ان کے وہم وگمان تک میں نہیں آتے.... کجا یہ کہ وہ اس کے لئے عزائم جوان رکھتے ہوں اور یہ تو خیر اس سے بھی بڑی بات ہے کہ وہ ان فرائض کی بالفعل ادائیگی میں مصروف ہوں۔

جو شخص دین میں جتنا پیچھے ہو گا اور جتنی اس کی اللہ کے ہاں وقعت کم ہو گی اتنا ہی وہ ان عظیم فرائض کو ترک کرے گا چاہے بظاہر وہ دنیا کا بڑا زاہد کیوں نہ ہو۔ چنانچہ آپ کم ہی یہ دیکھیں گے کہ کسی دیندار کا خدا کی خاطر غصے میں آکر چہرہ لال ہوا ہو یا وہ کہیں اللہ کی نافرمانی دیکھ کر سیخ پا ہوا ہو.... یا یہ کہ اللہ کے دین کو نصرت دینے میں اس نے اپنی عزت پر کوئی حرف آنا گوارا کیا ہو۔ ایسے دیندار سے تو وہ گنہگار اچھے جو اللہ کیلئے خوش ہونا اور اللہ کیلئے غصہ کرنا جانتے ہوں۔ ابو عمر ودیگر اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ اللہ نے اپنے ایک فرشتے کو حکم دیا کہ وہ ایک بستی کو زمین میں دھنسا آئے۔ فرشتے نے عرض کی۔ اے میرے رب وہاں تو فلاں زاہد اور عابد شخص بستا ہے۔ اللہ نے فرشتے کو حکم دیا: ”اسی سے شروع کرو۔ برائی کو دیکھ کر کبھی ایک دن بھی اس کی حالت غیر نہیں ہوئی“۔

یہ تو ہوا امر ونہی کے معاملہ میں بندگی وشکر گزاری کا معاملہ۔ جہاں تک شکر کی دوسری صورت کا تعلق ہے یعنی نعمت کا پاس اور اعتراف کرتے رہنا، تو اعترافِ نعمت کا تقاضا ہے کہ آدمی کی نظر سے اپنی ہر اچھائی اور ہر نیکی روپوش ہو جائے، چاہے اس نے دنیا جہان کے نیک اعمال کیوں نہ کر لئے ہوں.... کیونکہ اللہ کی نعمتیں اس پر ہیں ہی اتنی کہ اس کے اعمال کا اللہ کی ان نعمتوں سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ اللہ کی تو چھوٹی سے چھوٹی نعمت بھی اتنی بڑی ہے کہ آدمی کے بڑے سے بڑے عمل پر ایک وہی بھاری پڑ جائے۔ چنانچہ بندے کا صحیح مقام صرف مقامِ بندگی کا احساس ہے۔ بندے کے لائق بس یہی بات ہے کہ اس کی نگاہ ہر دم خدا کے حق اور اپنے قصور پر ٹکی رہے اور خدا کا حق تو اس کی نظر سے کسی لمحے روپوش نہ ہو۔

چنانچہ اعترافِ نعمت اور احساسِ فرض .... دو ایسی چیزیں ہیں جو بندے کی نظر سے اس کی ہر اچھائی اور ہر نیکی کو روپوش کرا دیتی ہیں۔ آدمی ہر وقت اپنے قصور کا معترف رہتا ہے۔ سب کچھ کرکے بھی معافی کا خواستگار ہوتا ہے اور ہر معاملے میں اپنے نفس کو ملزم ٹھہراتا ہے۔

اعترافِ نعمت اور احساسِ فرض .... آدمی خدا کی رحمت کے کتنا قریب ہوتا ہے جب وہ ان دو خوبصورت احساسات کے بیچ میں بستاہے۔ کچھ کر دینا تو بڑی بات ہے خدا کے حق میں تو احساس کا حق ادا کر لینا بھی آسان نہیں۔

خدایا بس تیرا سہارا!

 

(استفادہ واختصار از: عدۃ الصابرین وذخیرۃ الشاکرین

مؤلفہ امام ابن القیم)


Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
Featured-
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز