عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, September 18,2021 | 1443, صَفَر 10
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
کامل خلافت نبوت سے عدولی، ملوکیتی ادوار پر جمہوری فارمیٹ کا قیاس؟
:عنوان

ابن تیمیہ: خلافت نبوت جس کے ہم مامور ہیں، اس سے ہٹنا کسی وقت علم و عمل کی حسنات میں کوتاہی کےباعث ہو گا تو کسی وقت زیادتی کےباعث۔ اور یہ ہر دو امر کسی وقت آپ کی بےبسی سے ہو گا اور کسی وقت قدرت و امکان رکھتےہوئے

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

1

کامل خلافتِ نبوت سے عدولی، ملوکیتی ادوار پر جمہوری فارمیٹ کا قیاس؟

تحریر: حامد کمال الدین

مقدمہ، ابن تیمیہؒ کی ایک تأصیل سے

فیس بک پر میرے نام آنے والا ایک مراسلہ (سرخ رنگ میں):

انتہائی قابل احترام شیخ حامد کمالدین صاحب حفظ اللہ سے رائے درکار ہے، عہد حاضر میں جمہوری راستے سے تبدیلی کی ضرورت کیوں ہے، اور اس کی وجوہات کیا ہیں، ہمارا اس پر نکتہ نظر کیا ہے _

ہمارا نکتہ نظر :

محترم شیخ انتہائی ادب چند گزارشات کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، چونکہ آپ نے اپنے ایک مضمون میں فرمایا کہ ہمارے فقہا اپنے دور کے اعلی ترین سوشل سائنٹسٹ تھے، آپ کے اس استدلال کا جواب خود آپ کے الفاظ کلام میں ہی موجود ہے، مطلب آپ نے اعتراف کیا ہے کہ ہمارے فقہا قرآن و سنہ کے سیاسی احکامات کو کوئ ساکت و جامد شئے نہیں سمجھتے تھے، بلکہ وہ "اپنے دور" کے بہترین سماجی ماہرین تھے، کہ انہوں نے اپنے دور کے بدلے ہوئے حالات کی دستیاب گنجائش کے مطابق اجتہاد کرکے مسلم امت کی موثر ترین اکائ " حکومت و ریاست" سے تعامل کو نئے سرے سے ڈیفائن کیا _

1۔ یہاں یہ امر بھی ضروری ہے کہ خلفائے راشدین کے دور میں کھلے عام ہر ایک کو سوال کرنے کی گنجائش خود حکمرانوں نے دے رکھی تھی، وہی گنجائش عہد بادشاہت میں سکیڑ دی گئی، اسکے بعد عباسی دور اور اسکے بعد کے ادوار جبر میں چونکہ فقہا یہ بات اچھی طرح جانتے تھے، کہ نا ہی ہم ان حکمرانوں سے کھلے عام جنگ کر سکتے ہیں، اور نا ہی کسی خفیہ تدبیر کے ذریعے اتنی جمیعت دستیاب ہو سکتی کہ حکمران کو تبدیل کیا جا سکے، اتنی سکت ہی نہیں تھی، جس کی بنیاد پر وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے عمل سے دستیاب خیر بھی خانہ جنگی میں تبدیل ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں مزید فساد ہی پیدا ہونے کا امکان تھا، اس لیے انہوں نے سوشل سائنٹسٹ بن کر چیزوں کو مینیج کیا نئے اجتہادات کیے تاکہ ممکنہ خیر بھی نا جاتی رہے!

یاد رہے کہ اس دور میں سسٹم کی تبدیلی بغیر تلوار کے ممکن نہیں تھی، یہی صورتحال سیدنا یوسف کے ہاں بھی تھی سیدنا ابراھیم و موسی کی اپنے اپنے حکمران سے لڑ جھگڑ کر انقلاب لانے کے کام کی بجائے دونوں کو ہجرت کرنی پڑی، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جس سوسائٹی سے واسطہ پڑا وہاں بھی ہجرت کے سوا کوئ چارہ کار نہیں تھا، اور یہ عام انسانوں کا نہیں انبیاء تک کا معاملہ تھا، جنہیں براہ راست خدائی مدد حاصل رہتی تھی _

 اب ہم نے بھی اپنے دور میں کہ پرانی منظم ریاستوں سے کئ صدیاں آگے بڑھ کر کہیں زیادہ منظم ہو چکا ہے، وہاں کسی مدینہ جیسی بستی بھی دستیاب ہو جانے کا امکان بھی موجود نہیں ہے، جو کسی بھی قوت کے لیے اسیسیبل نا ہو، نا ہی کوئ ینبع النخل جیسا علاقہ دستیاب ہے، جہاں چھپ کر مشرکین مکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے، جدید ریاستوں کے پاس فضائیہ جاسوسی کے جدید ترین ذرائع سب کچھ دستیاب ہیں، کیونکہ جدید دور میں دنیا کے اندر کوئ ایسی جگہ اور مقام نہیں مل سکتا کہ جہاں ہجرت کرکے کوئی نئی ریاست پیدا کی جا سکے، اور وہ دنیا کی نظروں سے اوجھل رہ کر اتنی زبردست ترقی کر جائے کہ دنیا کو برابر کی ٹکر دے کر شکست سے دوچار کر دے، افغانستان میں یہ امکان نائن الیون کے بعد ختم ہوتے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، صومالیہ میں یہی امکان دوبارہ 2006 میں اسلامک کورٹس کی صورت ایتھوپیا کی بظاہر کمزور ریاست کے ہاتھوں بھی ختم ہوتے دیکھا، داعش اور ٹی ٹی پی سب نے اپنے زمانے کی حرکیات سمجھے بغیر کسی کونے میں اسلامی ریاست بنانے کی کوششیں کر کے دکھا دیں نتیجہ صفر ہی نکلا _

سید مودودی اور ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ نے یہ نئی تبدیلی بہت پہلے دیکھ کر ہی اپنے زمانے کے مطابق اجتہاد کیا تھا کہ اب اس دور میں کسی پرانے دور کے کسی حد تک ممکنہ امکان کی وسعت بھی سکڑ چکی ہے، سیٹلائٹ کے ذریعے دنیا کی ہر جگہ دسترس میں پہنچ چکی ہے، دنیا کے کے کسی کونے یا سمندر میں ایسا کوئی جزیرہ تک بھی موجود نہیں، کہ جہاں کسی نہ کسی ریاست کا قبضہ نا ہو _

اسی لیے انہوں نے محسوس کیا کہ اگر ہم مغربی جمہوری نظام میں قابل عمل حد تک اپنی تہذیب و ثقافت و روایت کی حد تک تبدیلیاں پیدا کرکے اس سے ایک بہتر قابل عمل نظام کا ڈیزائن نا پیش کیا تو یہی جدید ریاستیں مزید مغربی تہذیب و ثقافت کے شکنجے میں جکڑتی چلی جائیں گی،

اسی بات کو پیش نظر رکھ کر انہوں نے اسی نظام کو اسلامی نظام سے انٹرکنیکٹ کر دیا اور اسکی ممکنہ مکمل تصویر سامنے پیش کر دی _

یہ گنجائش اگر ابن تیمیہ یا اس دور کے سلف کو دستیاب ہوتی تو وہ بھی یہی کام کر گزرتے، جیسے انہوں نے بقول آپ کے اپنے حکمرانوں کے ساتھ اس وقت کی گنجائش کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا تھا، کہ جس راستے سے بھی" خیر کا جتنا بھی امکان ممکن تھا" اسے" avail" کیا تاکہ دستیاب ممکنہ خیر بھی ہمارے سسٹم سے کٹے رہنے سے " ضل ضلالا بعیدا" تک نا چلی جائے _ اور یہ ہو بھی چکا ہے، جب ہمارے علماء نے تصویر اور میڈیا حرام کے فتوے لگائے، تو اس سنی ملک کے ابلاغ کی ساری اقلیم پر سوشلسٹ سیکولر اور روافض نے ڈیرے جما لیے، اور نتیجے میں ہم ہر اہم موقعے پر ہاتھ ملتے دکھائی دیتے ہیں _

سوال یہ ہے کہ بنو امیہ کا پورا ریاستی ڈیزائن رومی تھا، لیکن بہ امر مجبوری اسے اسلامی تسلیم کیا گیا، ایسے ہی عباسی ڈیزائن ساسانی تھا، لیکن تسلیم کیا گیا،

اب کچھ سوالات کی جسارت کر رہا ہوں، امید ہے کہ بھر پور رہنمائی فرمائیں گے!

کیا موجودہ دور میں ریاست میں تبدیلی کے دستیاب ٹول "جمہوریت" میں شامل ہوکر اسلام یا اسلامی نظام کے لیے کوشش کرنا منہج سلف یا قرآن و سنہ سے صریح بغاوت کہلائے گی؟

کیا بندوق کے رستے پر چلنے کے نتیجے میں جس طرح مسلم ممالک تباہ و برباد ہو گئے اور اسکے نتیجے میں ریاست کو میسر ارتقائی وسائل یا سٹرکچر پتھر کے زمانے میں چلا گیا،

وہ تدبیر درست ہے کہ، عوام کی بڑی اکثریت کو درست انداز میں ووٹ کے استعمال پر قائل کرکے اس سے پھر آگے بڑھا جانے کا طریقہ کار بالکل فاسد خیال کہلائے گا؟

سوال یہ ہے کہ اگر مسلم اکثریت کو ایک بڑی سطح پر تعلیم و تربیت کے ذریعے اپنے دینی سیاسی حقوق کی اہمیت دلوا کر اس کے نتیجے میں اگر ایک حکومت ہاتھ آ جائے گی تو، آئینی تبدیلیوں کے ذریعے اسے عین خلافت راشدہ کے ڈیزائن کے قریب ترین نظام سے کنیکٹ کرنے کا خیال ایک خیال غلط کہلا سکتا ہے _

جبکہ اس سارے عمل سے کٹے رہنے کی صورت میں کا نتیجہ لبرل اور سیکولر ازم کو مسلسل ریاستی اقلیم پر پھن پھلا کر قابض رہ کر اپنے مطابق قانون و آئین سازی کا اختیار دے چکا ہے _

ایسے حالات میں کہ جب دستیاب ٹول کے علاوہ ہر تبدیلی کی مسلح کوشش ناکام ہو چکی ہے، ہم اس دستیاب گنجائش کو بھی مکمل رد کرکے ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر رہیں کہ کوئی مسیحا آئے گا، اور اتنے میں دوسری قوتیں ہمیں مزید پستی میں گراتی چلی جائیں؟

کیا اسلاف کو ٹھیک اسی طرح کے حالات پیش آتے تو وہ اپنے وقت اور حالات کی دستیابی گنجائش کے مطابق کوئی نئی تعبیر حرام سمجھتے، جسکا نتیجہ مزید گہرے شر کی صورت میں نکلتا؟

کیا کسی عہد کا فقیہ اپنے دور کی دستیاب گنجائش کے مطابق پوری دیانت داری سے اگر کوئی قابل عمل حل پیش کرے جس پر عمل کے نتیجے میں بتدریج اسلامی نظام کی جانب سفر شروع ہو جائے تو وہ حرام کے ضمرے میں شمار کیا جائے گا؟

جبکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب ترکی میں مسلسل کوشش کے ذریعے سے مزاحم قوتوں کو کسی حد تک نیوٹلائز کیا گیا ہے اور پستی سے بہتری کی جانب گنجائش نکلنی شروع ہو گئی ہے، ایسا کوئی بھی طریقہ کار ہمارے ہاں بالکل فاسد خیال کہلائے گا؟

امید ہے کہ اس ساری تمہید پر بہترین رہنمائی سے مستفید فرمائیں گے، اللہ پاک آپ کو دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے اور آپ ایسے ہی امت کی رہنمائی فرماتے رہیں گے _

اس پر میری گزارشات:

مراسلہ کے مجموعی مضمون سے مجھے پورا اتفاق ہے۔ آپ کے ہر سوال میں جو ایک جواب بھی کسی قدر موجود ہے، عین میرا بھی وہی جواب سمجھیے۔ اس لحاظ سے تو میری بات یہیں ختم ہوتی ہے، بغیر کسی تحفظ کے۔ مراسلے کے کچھ نکات پر چند اضافے یا گرہیں کہہ لیجیے جو میں یہاں دوں گا، ابن تیمیہؒ سے ایک اصولی اقتباس دینے کے بعد:

وَقَدْ يَتَعَذَّرُ أَوْ يَتَعَسَّرُ عَلَى السَّالِكِ سُلُوكُ الطَّرِيقِ الْمَشْرُوعَةِ الْمَحْضَةِ إلَّا بِنَوْعِ مِنْ الْمُحْدَثِ لِعَدَمِ الْقَائِمِ بِالطَّرِيقِ الْمَشْرُوعَةِ عِلْمًا وَعَمَلًا. فَإِذَا لَمْ يَحْصُلْ النُّورُ الصَّافِي بِأَنْ لَمْ يُوجَدْ إلَّا النُّورُ الَّذِي لَيْسَ بِصَافٍ. وَإِلَّا بَقِيَ الْإِنْسَانُ فِي الظُّلْمَةِ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَعِيبَ الرَّجُلُ وَيَنْهَى عَنْ نُورٍ فِيهِ ظُلْمَةٌ. إلَّا إذَا حَصَلَ نُورٌ لَا ظُلْمَةَ فِيهِ وَإِلَّا فَكَمْ مِمَّنْ عَدَلَ عَنْ ذَلِكَ يَخْرُجُ عَنْ النُّورِ بِالْكُلِّيَّةِ إذَا خَرَجَ غَيْرُهُ عَنْ ذَلِكَ؛ لِمَا رَآهُ فِي طُرُقِ النَّاسِ مِنْ الظُّلْمَةِ.وَإِنَّمَا قَرَّرْت هَذِهِ " الْقَاعِدَةَ " لِيُحْمَلَ ذَمُّ السَّلَفِ وَالْعُلَمَاءِ لِلشَّيْءِ عَلَى مَوْضِعِهِ وَيُعْرَفَ أَنَّ الْعُدُولَ عَنْ كَمَالِ خِلَافَةِ النُّبُوَّةِ الْمَأْمُورِ بِهِ شَرْعًا: تَارَةً يَكُونُ لِتَقْصِيرِ بِتَرْكِ الْحَسَنَاتِ عِلْمًا وَعَمَلًا وَتَارَةً بِعُدْوَانِ بِفِعْلِ السَّيِّئَاتِ عِلْمًا وَعَمَلًا وَكُلٌّ مِنْ الْأَمْرَيْنِ قَدْ يَكُونُ عَنْ غَلَبَةٍ وَقَدْ يَكُونُ مَعَ قُدْرَةٍ. " فَالْأَوَّلُ " قَدْ يَكُونُ لِعَجْزِ وَقُصُورٍ وَقَدْ يَكُونُ مَعَ قُدْرَةٍ وَإِمْكَانٍ. و " الثَّانِي ": قَدْ يَكُونُ مَعَ حَاجَةٍ وَضَرُورَةٍ وَقَدْ يَكُونُ مَعَ غِنًى وَسَعَةٍ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْ الْعَاجِزِ عَنْ كَمَالِ الْحَسَنَاتِ وَالْمُضْطَرِّ إلَى بَعْضِ السَّيِّئَاتِ مَعْذُورٌ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ} وَقَالَ: {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إلَّا وُسْعَهَا} - فِي الْبَقَرَةِ وَالطَّلَاقِ - وَقَالَ: {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إلَّا وُسْعَهَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ} وَقَالَ سُبْحَانَهُ: {وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ} وَقَالَ: {مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ} وَقَالَ: {يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ} وَقَالَ: {فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إثْمَ عَلَيْهِ} وَقَالَ: وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ.وَهَذَا أَصْلٌ عَظِيمٌ: وَهُوَ: أَنْ تَعْرِفَ الْحَسَنَةَ فِي نَفْسِهَا عِلْمًا وَعَمَلًا سَوَاءٌ كَانَتْ وَاجِبَةً أَوْ مُسْتَحَبَّةً. وَتَعْرِفَ السَّيِّئَةَ فِي نَفْسِهَا عِلْمًا وَقَوْلًا وَعَمَلًا مَحْظُورَةً كَانَتْ أَوْ غَيْرَ مَحْظُورَةٍ - إنْ سُمِّيَتْ غَيْرُ الْمَحْظُورَةِ سَيِّئَةً - وَإِنَّ الدِّينَ تَحْصِيلُ الْحَسَنَاتِ وَالْمَصَالِحِ وَتَعْطِيلُ السَّيِّئَاتِ وَالْمَفَاسِدِ. وَإِنَّهُ كَثِيرًا مَا يَجْتَمِعُ فِي الْفِعْلِ الْوَاحِدِ أَوْ فِي الشَّخْصِ الْوَاحِدِ الْأَمْرَانِ فَالذَّمُّ وَالنَّهْيُ وَالْعِقَابُ قَدْ يَتَوَجَّهُ إلَى مَا تَضَمَّنَهُ أَحَدُهُمَا فَلَا يَغْفُلُ عَمَّا فِيهِ مِنْ النَّوْعِ الْآخَرِ كَمَا يَتَوَجَّهُ الْمَدْحُ وَالْأَمْرُ وَالثَّوَابُ إلَى مَا تَضَمَّنَهُ أَحَدُهُمَا فَلَا يَغْفُلُ عَمَّا فِيهِ مِنْ النَّوْعِ الْآخَرِ وَقَدْ يُمْدَحُ الرَّجُلُ بِتَرْكِ بَعْضِ السَّيِّئَاتِ الْبِدْعِيَّةِ والفجورية لَكِنْ قَدْ يُسْلَبُ مَعَ ذَلِكَ مَا حُمِدَ بِهِ غَيْرُهُ عَلَى فِعْلِ بَعْضِ الْحَسَنَاتِ السُّنِّيَّةِ الْبَرِّيَّةِ. فَهَذَا طَرِيقُ الْمُوَازَنَةِ وَالْمُعَادَلَةِ وَمَنْ سَلَكَهُ كَانَ قَائِمًا بِالْقِسْطِ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ لَهُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ.

مجموع الفتاوى جـ10 صـ365

"سالک کےلیے کسی وقت یہ محال یا پھر دشوار ہوتا ہے کہ وہ ایک خالص مشروع راستہ چلے، اِلَّا یہ کہ ایک قسم کا محدَث (گھڑی گئی شے) بھی اس کے ساتھ ہو۔ اس کی وجہ، مشروع راستے کو علم یا عمل کی سطح پر قائم کرنے والا وہاں میسر نہ ہونا۔ سو جس وقت صاف روشنی دستیاب نہ ہو، اور ہو تو ایسی جو بالکل صاف نہیں، یوں کہ اگر اسے بھی نہ لے تو آدمی اندھیرے ہی میں پڑا رہے، وہاں یہ جائز نہ ہو گا کہ آدمی اس (کو اختیار کرنے) کی عیب جوئی کرےاور ایک ایسی روشنی سے ممانعت کرے جس میں کچھ ظلمت ہے۔ اِلَّا یہ کہ ایسی روشنی میسر ہو جس میں کوئی ظلمت نہیں۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جواس سے گریز کرتے کرتے روشنی سے بالکلیہ محروم ہو گئے۔ اس لیے کہ ان کو لوگوں کے راستے میں کچھ ظلمت نظر آنے لگی تھی۔

اصل میں یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے تا کہ: سلف اور علماء نے اگر کہیں کوئی مذمت کی ہے تو اس کو اس کے صحیح محل پر محمول کیا جائے، اور یہ معلوم ہو کہ خلافتِ نبوت جس کے ہم شرعاً مامور ہیں، اس سے عدولی (ہٹنا) کسی وقت علم و عمل کی حسنات میں کوتاہی ہو جانے کے باعث ہو گا تو کسی وقت علم و عمل کی سیئات کے ارتکاب ایسی زیادتی کے باعث۔ اور یہ ہر دو امر کسی وقت آپ کی بےبسی سے ہو گا اور کسی وقت قدرت و امکان رکھتے ہوئے۔

پس یہ دو باتیں ہوئیں: پہلی یہ کہ: کسی وقت ایسا بےبسی اور نارسائی کے باعث ہوتا ہے تو کسی وقت قدرت اور امکان رکھتے ہوئے۔ دوسری یہ کہ: کسی وقت ایسا حاجت اور اضطرار کے تحت ہوتا ہے اور کسی وقت حالتِ استغناء میں اور وسعت رکھتے ہوئے۔

اب وہ شخص جو کامل حسنات کی تحصیل سے عاجز ہے، اور وہ شخص جو بعض سیئات کو اختیار کرنے کے معاملہ میں حالتِ اضطرار کا شکار ہے، تو یہ ہر دو معذور ہوئے۔ ان سب دلائل کی بنیاد پر:  آیت{فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ"اللہ کا تقویٰ کرو اپنی استطاعت بھرآیت:{: لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إلَّا وُسْعَهَا"اللہ نہیں مکلف کرتا کسی نفس کو مگر اس کی گنجائش بھر"آیت:{وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إلَّا وُسْعَهَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ" اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، جبکہ ہم نہیں مکلف کرتے کسی نفس کو مگر اس کی گنجائش بھر، وہ ہیں جنت والے، جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں"حدیث: {إذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ "جب میں تمہیں کسی امر کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اپنی استطاعت بھر"آیت: {وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ" اور نہیں رکھا اللہ نے تم پر دین میں کوئی حرج"آيت: {مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ "نہیں چاہتا اللہ کہ رکھے تم پر کوئی حرج"آیت: {يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ "اور اللہ تو چاہتا ہے تمہارے ساتھ آسانی، اور نہیں  چاہتا تمہارے ساتھ تنگی"}، {فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إثْمَ عَلَيْهِ "پس جو ناچار ہو، نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے، تو اس پر کوئی گناہ نہیںآیت: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ "اور نہیں کوئی گناہ تم پر جہاں تم سے چوک ہوئی"}۔

اب یہ ایک عظیم قاعدہ ہے۔ اور وہ یہ کہ نیکی کی تم كو فی نفسہٖ نشان دہی ہو، عقیدہ کا مسئلہ ہو یا عمل کا، اور خواہ وہ نیکی واجب کے درجے کی ہو یا مستحب کے درجے کی۔ پھر برائی کی تم کو فی نفسہٖ نشان دہی ہو، عقیدہ میں یا عمل میں، خواہ وہ حرام کے درجے کی ہو یا اس سے کم، حرام سے کم ہونے کی صورت میں اگر اس کو برائی کہا جا سکے۔ جبکہ دین ہے: حسنات اور مصالح کا حصول، اور سیئات اور مفاسد کی تعطیل۔ جبکہ بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی فعل کے اندر، یا ایک ہی شخص کے اندر، یہ دونوں امر (حسنة اور سیئة) بیک وقت پائے جا رہے ہوتے ہیں۔ تو یہاں؛ایک بات کی مذمت اور ممانعت کرنے یا اسے گناہ قرار دینے کا تعلق ہو جائے گا اس(فعل یا شخص) میں پائے جانے والے ایک خاص پہلو سے، درحالیکہ اس میں پائے جانے والے دوسرے پہلو کو بھی نظرانداز نہ ہونے دیا جائے گا۔ اسی طرح ایک بات کی ستائش اور تاکید کرنے یا اسے باعث ثواب قرار دینے کا تعلق ہو جائے گا اس (فعل یا شخص) میں پائے جانے والے ایک خاص پہلو سے، درحالیکہ اس میں پائے جانے والے دوسرے پہلو کو بھی نظرانداز بہرحال نہ ہونے دیا جائے گا۔ کسی وقت آدمی کی تعریف اس بات پر کی جائے گی کہ اس نے بدعات یا گناہوں پر مبنی سیئات سے اجتناب کیا ہے درحالیکہ اسے اس تعریف کے قابل نہ سمجھا جا رہا ہو گا جو کسی دوسرے آدمی کی نیک اعمال پر مبنی حسنات کی ادائیگی پر کرنا بنتی ہو۔

تو یہ ہوا موازنہ اور معادلہ کا طریقہ، جو آدمی اس پر چلا وہ اس  قسط کو قائم کرنے والا ٹھہرے گا جس کےلیے اللہ نے کتاب اور میزان اتاری۔

ابن تیمیہ کا اقتباس ختم ہوا۔

اور اب مراسلہ نگار کی بات پر کچھ گرہیں، میری جانب سے:

مضمون کی اگلی قسط: جمہوری راستہ اختیار کرنے پر، دینداروں کے یہاں دو انتہائیں

________

مضمون: خلافتِ نبوت سے عدولی، ملوکیتی ادوار پر جمہوری فارمیٹ کا قیاس

پہلی قسط: مقدمہ، ابن تیمیہؒ کی ایک تأصیل سے

دوسری قسط: جمہوری راستہ اختیار کرنے پر، دینداروں کے یہاں دو انتہائیں

تیسری قسط: جمہوری پیکیج، "کمتر برائی"… یا "آئیڈیل"؟

چوتھی قسط: جمہوریت… اور اسلام کی تفسیرِ نو

پانچویں قسط: جمہوریت کو "کلمہ" پڑھانا کیا ضروری ہے؟

چھٹی قسط: جمہوری راستہ… اور اسلامی انقلاب

ساتویں قسط: "اقتدار" سے بھی بڑھ کر فی الحال ہمارے پریشان ہونے کی چیز

آٹھویں قسط: دینداروں کے معاشرے میں آگے بڑھنے کو، جمہوریت واحد راستہ نہیں

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
تنقیحات-
احوال-
حامد كمال الدين
کل جس طرح آپ نے فیصل آباد کے ایک مرحوم کا یوم وفات "منایا"! حامد کمال الدین قارئین کو شاید ا۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
’بندے‘ کو غیر متعلقہ رکھنا آپ کے "شاٹ" کو زوردار بناتا! حامد کمال الدین لبرلز کے ساتھ اپنے ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
حامد كمال الدين
"حُسینٌ منی & الحسن والحسین سیدا شباب أھل الجنة" صحیح احادیث ہیں؛ ان پر ہمارا ایمان ہے حامد۔۔۔
بازيافت- تاريخ
بازيافت- سيرت
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
ہجری، مصطفوی… گرچہ بت "ہوں" جماعت کی آستینوں میں! حامد کمال الدین ہجرتِ مصطفیﷺ کا 1443و۔۔۔
جہاد- مزاحمت
جہاد- قتال
حامد كمال الدين
صلیبی قبضہ کار کے خلاف چلی آتی ایک مزاحمتی تحریک کے ضمن میں حامد کمال الدین >>دنیا آپ۔۔۔
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کےلیے یہاں کلک کیجیےمزاحمتوں کی تاریخ میں کونسی بات نئی ہے؟ صلیبی قبضہ کار کے خلاف۔۔۔
حامد كمال الدين
8 دینداروں کے معاشرے میں آگے بڑھنے کو، جمہوریت واحد راستہ نہیں تحریر: حامد کمال الدین ۔۔۔
حامد كمال الدين
7 "اقتدار" سے بھی بڑھ کر فی الحال ہمارے پریشان ہونے کی چیز تحریر: حامد کمال الدین مض۔۔۔
حامد كمال الدين
6 جمہوری راستہ… اور اسلامی انقلاب تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ نبوت سے۔۔۔
حامد كمال الدين
5 جمہوریت کو "کلمہ" پڑھانا کیا ضروری ہے؟ تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ ۔۔۔
حامد كمال الدين
4 جمہوریت… اور اسلام کی تفسیرِ نو تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ نبوت سے۔۔۔
حامد كمال الدين
3 جمہوری پیکیج، "کمتر برائی"… یا "آئیڈیل"؟ تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ نبوت سے عد۔۔۔
حامد كمال الدين
2 جمہوری راستہ اختیار کرنے پر، دینداروں کے یہاں دو انتہائیں تحریر: حامد کمال الدین ۔۔۔
حامد كمال الدين
1 کامل خلافتِ نبوت سے عدولی، ملوکیتی ادوار پر جمہوری فارمیٹ کا قیاس؟ تحریر: حامد ک۔۔۔
حامد كمال الدين
جاہلیت کے سب دستور آج میرے پیر کے نیچے! تحریر: حامد کمال الدین  خطبۂ حجة الوداع، جس کی باز۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نفس کی اطاعت" شرک کب بنتی ہے؟ حامد کمال الدین برصغیر کے فکری رجحانات صوفیت کے زیرِاثر رہے۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ایک "عقیدہ بیسڈ" aqeedah-based بیانیہ جو "اعمال" میں نرمی اور تدریج پر کھڑا ہو حامد ک۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"دلیل ازم" کا ایک ٹپیکل مغالطہ حامد کمال الدین سوال: کیا آپ اس عبارت سے متفق ہیں؟ [ر۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
حامد كمال الدين
تاريخ
حامد كمال الدين
سيرت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
قتال
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز