عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, August 20,2019 | 1440, ذوالحجة 18
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی
:عنوان

اس میں سب کا حصہ اور سب کا خون پڑے گا یہ ایک پاک صاف، نبیؐ کی محبت کا دم بھرتا، اِس خطےکی سواہزارسالہ اسلامی تاریخ سےپھوٹتا ہوا، صالح خون ہے؛ خدارا اس میں اپنےاس ناپاک "پوسٹ کولونائزیشن" کا وقتی زہر مت گھولیے

. احوال :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی

حامد کمال الدین

وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی اور بہنیں پچھلی ستر ایک سالہ تاریخ پر مبنی ’افغانوں‘ کی ’پاکستانیوں‘ اور ’پاکستانیوں‘ کی ’افغانوں‘ کے خلاف ’سازشوں‘ اور ’زیادتیوں‘ سے متعلق دے دے ہلکان ہو رہے ہیں... ان میں سے جو جو بات سچ ہے وہ ’حکومتوں‘ کی سطح کی ہو گی۔ ہر دو طرف کی ’’قوم‘‘ کو اس میں ملوث مت کیجیے۔ ’’پوسٹ کولونائزیشن ایرا‘‘ کی یہاں کچھ تلخ حقیقتیں ہیں؛ خدا را انہیں قوموں کے ’’رگ و پے‘‘ میں تلاش کرنے کی کوشش مت کیجیے۔

اس پوسٹ کولونائزیشن دنیا کا یہ ایک اندوہناک واقعہ ہے کہ حکومتوں کی سطح پر یہاں آپ کا ایک ملک ’’رشین‘‘ بلاک میں تھا اور دوسرا ’’امریکن‘‘ بلاک میں۔ وہ بہت سے ’’حسابات‘‘ جو نبیؐ پر ایمان رکھنے والی اِن دو قوموں کے مابین برابر کروائے جا رہے تھے، ان کا کچھ تعلق ان دو مسلم ’’قوموں‘‘ اور ان کی ’’آبائی خصلتوں‘‘ کے ساتھ نہ تھا۔ (ایک نہایت افسوسناک معاملہ جو مجھے کل سے اپنے کچھ بھائیوں کی سوشل میڈیا مہم سے نظر آیا)۔ آپ محسوس نہ کریں تو، ہر دو یا کسی ایک طرف کی اِن حرکتوں کا تعلق جن ’’آباء‘‘ سے تھا ان کا نام تھا ’’رشیا‘‘ اور ’’امریکہ‘‘ جن کی یہاں کی حکومتوں نے پچھلے چند عشروں سے انگلی پکڑ رکھی ہوئی تھی اور ایک ایک قدم وہ ان کے کہنے سے اٹھا رہی تھیں، جس کےلیے کبھی ان حکومتوں نے اپنی ’’قوم‘‘ سے رائے نہیں لی؛ تاآنکہ آپ اِن ’’قوموں‘‘ کو اُن باہر سے نصب کیے گئے ڈکٹیٹرز کے گناہوں کا بوجھ اٹھوائیں۔ ان قوموں کے آباء، جو وسط تا جنوب ایشیا اسلام کے حق میں بہترین کارنامے انجام دے گئے تھے، قبروں میں پڑے، آپ کے اس ’’پوسٹ کولونائزیشن ایرا‘‘ اور اس میں مسلمانوں کو دیے گئے ’’تیسری دنیا‘‘ کے اِس رول سے قطعی لاتعلق تھے؛ خدا کے واسطے ان ’’قومی خصلتوں‘‘ کو زیر بحث لا کر ان آباء کی روحوں کو تکلیف اور آنے والی نسلوں کو ایک بدصورت مستقبل مت دیجیے۔ میں اس خطہ کےلیے ان شاء اللہ جو مستقبل دیکھتا ہوں وہ وسط  تا جنوب ایشیا ایک مستحکم مسلم قوم ہے (خواہ ان کے انتظامی یونٹ کس بھی شکل کے ہوں)، جو بالآخر ’’مسلم ہند‘‘ کا اعادہ کرنے والی ہے؛ اور شاید اس بار ’’مسلم ہند‘‘ میں کچھ بہت خوب اضافے کرنے والی بھی، میرے رب کے حکم سے۔ اس میں سب کا حصہ اور سب کا خون پڑے گا۔ یہ ایک پاک صاف، نبیؐ کی محبت کا دم بھرتا، اِس خطے کی سوا ہزار سالہ اسلامی تاریخ سے پھوٹتا ہوا، صالح خون ہے؛ خدا را اس میں اپنے اس ناپاک ’’پوسٹ کولونائزیشن‘‘ کا وقتی زہر مت گھولیے۔

حق یہ ہے، پچھلے چند عشروں کی تاریخ اُس معنیٰ میں ہماری تاریخ ہی نہیں ہے جو گزشتہ (اسلامی) ادوار میں موجود رہا۔ مت بھولیے اِن عشروں میں یہاں دو بلاک لڑ رہے تھے۔ پھر ایسے ’حسین مواقع‘ اور ’بہتی گنگا‘ میں آپ کا ازلی دشمن ’’بھارت‘‘ کیسے مل مل ہاتھ نہ دھوتا! یہاں سے یہ معاملہ دو چند ہو جاتا ہے۔ سو وہ روح فرسا صورتحال جو ان دو بلاکوں کی ہمارے سینے پر چلنے والی اس دھینگامشتی سے سامنے آئی، ’’بھارت‘‘ نامی اس اضافی فیکٹر سے وہ کہیں زیادہ اندوہناک ہو جاتی رہی۔ اس میں بہت بہت شرمناک باتیں آئیں گی جنہیں لپیٹنے کی ضرورت ہے نہ کہ بکھیرنے کی۔ تُطوىٰ ولا تُروىٰ۔ (ہاں کسی بدکار حکمران اور اس کے کارندوں کے حوالے سے ان شرمناک باتوں کا ذکر بےشک کیجیے، کیونکہ وہ فی الواقع ان کرتوتوں میں اپنے لوگوں کے ذہن کا آئینہ دار نہ تھا)۔ کم از کم بھی یہ کہ ’’قوموں‘‘ کو ان میں ملوث نہ کیا جائے۔ کسی ایک قوم کی دوسری قوم کے ساتھ زیادتی یہاں ’’قوموں‘‘ کی خواہش اور چاہت کی آئینہ دار ہرگز نہ تھی: یہ نری ’’بلاکوں‘‘ سے وابستہ حکومتوں کی کارگزاری تھی (خصوصاً افغانستان میں تو جہاں حکومت ہی عملاً کے جی بی کی رہی۔ پاکستان کی طرف معاملہ اس برے درجے کا بہرحال نہیں رہا؛ لہٰذا مشرف دور کے ایک خاص عرصے کے سوا ہمارے اِس طرف سے ویسی زیادتیوں کی کوئی تاریخ قابل ذکر موجود نہیں، میری اطلاع کی حد تک)۔ ہاں کسی وقت کوئی احسان ہوا، یا کوئی قابل ستائش تعاون ہوا، بطور مثال سوویت یونین کی اِس خطہ کے مسلمانوں پر چڑھائی کے وقت یہاں کی دو قوموں کے مابین بہترین تعاون اور شراکتِ کار، تو تعاون اور مددِ باہمی کے اس عمل میں بہت بڑی حد تک وہ اسلامی روح ہی بولتی تھی۔ یہاں تک کہ یہ اسلامی روح خاصی حد تک ’’بلاکوں کی جنگ‘‘ پر حاوی ہو جاتی رہی تھی باوجود اس کے کہ وہ ایک سکۂ رائج الوقت مانی جاتی تھی۔ اس اسلامی روح کے زندہ کرنے میں ہر دو طرف کے صالحین کی بہت محنت پڑی تھی، جس سے عالم اسلام کے احیائی عمل میں ایک نیا رنگ آ گیا تھا اور جس کی صدائے بازگشت بہت جلد کشمیر تا فلسطین ایک ’’انتفاضہ‘‘ کی صورت سنی جانے لگی تھی، یعنی مسلمانوں کے ’’عالمی جہاد‘‘ کی تحریک، جس سے ہر دو بلاک کے اوسان خطا ہو گئے؛ اور جو ایک کانٹے کی طرح آج بھی غاصب بھارت کے حلق میں اٹکا ہوا ہے۔ (خود ہمارا دشمن مانتا ہے، اس نئی انتفاضہ کی جڑ ’’جہادِ افغانستان‘‘ سے پھوٹی ہے)۔ حق یہ ہے، دو قوموں کے مابین اخوت، محبت اور تعاون کا یہ صالح رنگ اس خطہ میں امریکہ کے آ جانے کے بعد بھی کچھ ایسا مدھم نہیں پڑا، بشرطیکہ آپ اس خطہ کی تاریخ نرے ’مشرف و  کرزائی‘ کے اندر محصور کر دینے پر بضد نہ ہوں اور اسے کچھ وسیع تر زاویوں سے دیکھ لینے پر آمادہ ہوں۔ ہاں اس مسئلے کی نزاکتیں بےتحاشا ہیں جنہیں ایک جوشیلا سطحی ذہن کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ اس جوشیلے سطحی ذہن کو ’’کیٹر‘‘ cater  کرنا سمجھداروں کےلیے اس وقت ضروری بھی نہیں ہے، خواہ یہ بھڑکیلا ذہن ہمارے ’’اسلامیوں‘‘ کی طرف سے ہماری ہر ہر پوسٹ پر ’’وضاحتیں‘‘ مانگنے آئے یا ’’لبرلوں‘‘ کی طرف سے۔ ان سب حضرات کو ’’دو دو جملوں‘‘ میں اس پورے معاملے کو ’’نمٹانے‘‘ دیجیے خواہ یہ جس بھی رخ پر نمٹانا چاہیں! اصل امتحان ہے یہاں ان مخلص سمجھداروں کا، جو ’’پوسٹ کولونائزیشن‘‘ کے ان تمام تر جھکڑوں کے باوجود اس پورے خطے کی وہی اسلامی تصویر دیکھنے اور دکھانے پر یکسو ہیں جو ہمارے حسین ماضی کو ہمارے امید افزا مستقبل کے ساتھ جوڑتی ہے؛ اور جس کے، ’’ذرا نم ہو تو‘‘، بےپناہ امکانات اللہ کے فضل سے عملاً یہاں موجود ہیں؛ اور جن کو بروئے کار لانا بہرحال ایک جان جوکھوں کا کام۔ یہ سمجھدار، عالی نظر اور وقتی رجحانات کو خاطر میں نہ لانے والے باہمت نفوس ہیں ان شاء اللہ یہاں کا طائفہ منصورہ۔ آج ’میڈیا‘ سے لے کر اس کے ’تماشائیوں‘ تک جو اِس خطہ میں ’’مسلمان‘‘ کو غیر موجود سمجھ بیٹھے اور یہاں پائی جانے والی مخلوق کو پہنائی گئی رنگ برنگی ’’ٹوپیوں‘‘  ہی میں اس مسلمان کی کل شناخت دیکھتے اور اسی کو اس کی دائمی تصویر مانتے ہیں... ان کے طعنوں، پھبتیوں اور چٹکلوں کو ہرگز خاطر میں نہ لائیے۔ وہ بہت کچھ جو یہ پچھلی ستر سالہ تاریخ کے حوالہ سے بیان کر کر کے مسلمانوں کے مابین استعماری زہر کو گہرا کریں گے، اپنی جگہ ’’حقیقت‘‘ ہونے کے باوجود جس ’’سیاق‘‘ میں فٹ ہونا چاہتا ہے وہ ذرا ایک گہری نظر اور ایک حوصلہ چاہتا ہے اور اس سے پہلے شاید عقیدہ اور تاریخ کے کچھ بنیادی اسباق جو ہمارے ان ’قومی نصابوں‘ کے اندر خاصی حد تک نظرانداز کروائے جاتے ہیں۔ پس کیا تعجب، ان جوشیلے ذہنوں نے جو پڑھا اسی کو اپنے ’’تبصروں‘‘ اور ’’تجزیوں‘‘ کے اندر سامنے رکھا اور اسی کو بنیاد بنا کر ہم ’’قدامت پسندوں‘‘ کا محاکمہ شروع کر دیا۔ ان کو عذر دیجیے اور ان قوموں کے اندر ’’مسلمان‘‘ کو بیدار کرنے کے اپنے اس کٹھن دشوار مشن کو جاری رکھیے، وقتی نتائج سے قطعی بےپروا ہو کر، خالص اللہ پر توکل کرتے ہوئے۔

رنگ برنگی ٹوپیوں کے اِس مجمع کو نظرانداز کر کے یہاں ایک ’’امت‘‘ کو دیکھنا اور اسی کے اعادہ پر یکسو ہو جانا ایک ہمت اور نظر چاہتا ہے؛ جو نیشنلزم کے اِس میلے میں نہایت کمیاب ہے۔ ایک نعمت سے محروم لوگ اس کا مذاق اڑائیں تو اس پر افسوس ہو سکتا ہے تعجب نہیں! اور دل چھوڑنا تو ہرگز مسلمان کے لائق نہیں۔

Print Article
  پاک افغان
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت!
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
ڈیل آف دی سینچری… مسئلۂ فلسطین کے ساتھ ٹرمپ کی زورآزمائی
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
ڈیل آف سنچری ، فلسطین اور امریکہ
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز