عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, October 19,2018 | 1440, صَفَر 9
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
:عنوان

خدا اپنی کسی حکمت کےتحت انبیاء کےمعاندین کو کچھ نہ کچھ ایسا دیتا ہےجس سےوہ اپنی’دلیل‘کی بھوک مٹائیں اور اہل ایمان کو جواب دینےکی اپنی وہ دلوں میں مدفون’حسرت‘پوری کریں جبکہ فی الحقیقت اس میں دلیل نام کی کوئی چیز

. باطلجدال . Featured :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام!

تحریر: حامد کمال الدین

پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہوا۔ گاؤ پرستی کو ظاہر کرتی چار تصویریں، ساتھ اس قدر عبارت: ’’الحمد للہ علىٰ نعمۃ الاسلام‘‘۔ دوسرے کسی مذہب کا اس میں نام لیا گیا اور نہ کسی شخص کا۔ تصویریں بس خود جو کہیں سو کہیں۔ تصویریں البتہ یہ کوئی ’ڈرا‘ کیے ہوئے کارٹون یا کوئی خیالی اسکیچ نہیں بلکہ گاؤ پوجا سے متعلق کچھ حقیقی اِمیج تھے۔ اس پر ’’الحمد للہ علیٰ نعمۃ الاسلام‘‘ کہنے سے ہمارا مقصد: اللہ نے اسلام دے کر ہماری پیشانیاں کسی مخلوق کے آگے پرستش کی ذلت سے بچائیں اور صرف اپنے حضور سر بسجود ہونے کا اعزاز بخشا۔ اسلام نہ ملتا تو ہم بھی اِسی برصغیر میں، جہاں مظاہر پرستی عام ہے، کیسے کیسے خبط مارتے؛ جانوروں کے بول و براز تک کی تقدیس کرتے اور کیسی کیسی کمتر مخلوقات کی رضا جوئی میں اپنی فلاح ڈھونڈتے۔

یہ وضاحت بھی اب کی جا رہی ہے۔ ٹویٹ میں صرف مسلمان ہونے پر شکر تھا۔

مگر اس دور کا کیا کیجے؛ جہاں اسلام کی برتری کا ذکر کچھ ’مسلمانوں‘ کے جذبات مجروح کرتا ہے! جی آپ نے صحیح سنا، کوئی دوسرا نہیں بلکہ مسلمانوں کا ایک طبقہ جو اسلام کو ادیانِ عالم کے مقابلے پر برحق کہنے سے رنجیدہ ہو جاتا اور اس پر اپنا  احتجاج ریکارڈ کروانے آتا ہے! سوشل میڈیا پر تو اس طبقہ کے ’جذبات‘ کا آپ کو باقاعدہ خیال رکھنا ہوتا ہے! مجھے نہیں معلوم اِس 2018 کے پاکستان کو میں کیا نام دوں، پرویز مشرف کی باقیات؟ ٹی ٹی پی اور داعش ایسی قبیح بلاؤں کا آفٹر میتھ after-math؟ یا کیا؟ لیکن دور بلاشبہ ایسا ہے: اسلام کو دنیا کا واحد سچا دین کہہ کر دیکھیے کہاں کہاں سے لوگ آپ کی خبر لینے پہنچتے اور اس پر کیسا کیسا واویلا کر جاتے ہیں! اور خیر سے سب مسلمان! ساتھ آپ کے ایسے ایک ایک جملے کا پوسٹ مارٹم جس سے یہ ’مطلب‘ نکلتا ہو کہ آپ نے اِن معترضین کو اسلام سے خارج جان رکھا ہے!

’’مسلمان‘‘ کی ہزار ہا قسم اس سے پہلے ہمیں معلوم تھیں۔ لیکن یہ ایک قسم بالکل آج پیدا ہوئی، جس کےلیے اسلام کی عقائدی برتری کا ذکر سوہانِ روح ہے۔ اسلام کا کوئی امتیاز بیان کیجئے، یہ آپ کو ’آئینہ‘ دکھانےکی پوری جستجو کریں گے۔ گائے یا حتیٰ کہ چوہوں، بندروں اور سانپوں کو معبود کا درجہ دے رکھنے والے عقائدی رجحانات کے مقابلے پر اسلام کو برتر کہہ دیجیے، آپ پر ’جوابی حملے‘ ایک لمحے سے پہلے: اپنے آپ کو دیکھا ہے حضرتِ مسلمان! سارے مذہب ایک سا ڈھکوسلہ ہیں اور سب کا عقل کے ساتھ ایک سا برتاؤ! تم خود کیا حجرِ اسود کو نہیں چومتے؟ خانہ کعبہ کے گرد پھیرے نہیں لگاتے؟ اور وہ جو جمرات پر کنکریاں مارنے پہنچتے ہو، کیا ہوتا ہے وہاں؟ اور نماز میں بھی تم زمین پر ہی تو جھک جاتے ہو، یعنی مٹی پر ڈھیر! گویا اُن سب مظاہر کی پوجا کی بھی جو ایک مشرک کے ہاں ہوتی ہے، اِن ذہین ’قیاس آراؤں‘ کی نظر میں، عین وہی حیثیت ہے جو ایک موحد کے طوافِ بیت اللہ الحرام، یا سعیِ صفا و مروہ، یا رمیِ جمرات کی! (انالوجی ورک!)۔  اور اس پر دعویٰ عقل کا اور اجارہ ریشنلزم کا!

بہت بار میں نے ایک بات پر غور کیا: انبیاء کے معترضین کو ’’پوائنٹ مارنے‘‘ کی صلاحیت ملنا! اور ایسے ’’پوائنٹ‘‘ پر کچھ نفوس کا پھڑک اٹھنا اور سر دھنتے چلے جانا، گویا کسی نے کلیجہ ٹھنڈا کر دیا اور کوئی اندر بیٹھی ’’حسرت‘‘ تھی جو پوری کر دی گئی! ایک باقاعدہ  داعیہ جو اپنی تسکین کےلیے بڑے بڑے جتن کرتا اور بہتوں کو بےچین اور بےآرام رکھتا ہے! دینِ انبیاء کے مقابلے پر، خدا ایسا کیوں ہونےدیتا ہے؟ رسالتِ آسمانی کے ماننے والوں کو ’’خاموش‘‘ کرانے کی خواہش، یہ آخر کیا جذبہ ہے اور کیوں کچھ لوگوں کو اس میں ’سرگرمی‘ بخشی جاتی ہے؟ اس کا جواب مجھے سورۃ الانعام کی اس آیت سے ملا:

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ وَلِتَصْغَى إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُمْ مُقْتَرِفُونَ (الأنعام: 113)

’’اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن کیے ہیں آدمیوں اور جنوں میں کے شیطان، جو بناوٹ کی باتیں ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہیں، فریب ڈالنے کو۔ اور اگر تیرا رب چاہتا تو یہ ایسا نہ کر سکتے۔ لہٰذا انہیں ان کی افترا پردازی پر چھوڑ دو۔ اور تاکہ اس پر کان لگا لیں وہ دل جن کا آخرت پر ایمان نہیں، اور اس پر راضی ہو لیں، اور جو کرتوت کرنے ہیں کر لیں‘‘۔

غرض ’’ڈھیل‘‘ ملنے کی یہ آخری حد ہے: اہلِ ایمان کو خاموش کرا دینے کا برتہ! انبیاء کے مقابلے پر دلیل رکھنے کا زعم! خدا انہیں ایسا کرنے دیتا ہے۔ ’’ تاکہ اس پر کان لگا لیں وہ دل جن کا آخرت پر ایمان نہیں، اور اس پر راضی ہو لیں، اور جو کرتوت کرنے ہیں کر لیں‘‘۔

یہ محض اسلام کو ’’جواب‘‘ دینے کی ایک ناتمام خواہش اور حسرت ہے جو ایسے ’’نکتوں‘‘ پر پھڑک اٹھتی اور کچھ دیر کےلیے ’’آسودہ‘‘ ہو جاتی ہے کہ دینِ انبیاء کو دنیا کا واحد سچا مذہب ماننے والوں کے مقابلے پر چلیں کچھ تو کہا جا سکا۔ ورنہ کہاں اللہ کی عبادت پر مشتمل اعمالِ توحید اور کہاں گائے یا شجر و حجر وغیرہ کی پوجا پر مشتمل افعالِ شرک!

جہاں تک طوافِ بیت اللہ الحرام یا حجر اسود کو بوسہ دینے ایسے مناسکِ توحید کا تعلق ہے... تو ’’معبود‘‘ اگرچہ اِن حضرات کے تخیل سے فزوں تر ایک حقیقت ہے لیکن ’’محبوب‘‘ کا تصور چونکہ ان کے ہاں موجود ہے اور اس پر ان کے ہاں ڈھیروں ادب تخلیق ہوتا ہے لہٰذا ہم ان سے یہی پوچھ لیتے ہیں کہ محبوب کی ایک ایک چیز سے لگاؤ کیا محبوب ہی کے ساتھ لگاؤ کا اظہار نہیں؟ محبوب کے ’’گھر‘‘ یا محبوب کی ’’گلی‘‘ کے ساتھ کیا کیا جذبات وابستہ نہیں ہوتے، اور کیا کیا کچھ دنیا کے شعر و نثر نے اس سلسلہ میں محفوظ نہیں کر رکھا؟ ’’محبوب‘‘ سے نسبت یافتہ ایک ایک چیز کو آنکھوں سے لگانا اور دل کا اس پر فدا ہو ہو جانا کونسی حیران کن بات ہے؟ لہٰذا ’’معبود‘‘ ان کےلیے اجنبی سہی، بس یہ سمجھ لیں ہمارا ’’معبود‘‘ ان کے ’’محبوب‘‘ سے کہیں آگے کی ایک حقیقت ہے۔ معبود کے گھر (بیت اللہ) کا طواف کرنا، اُس کے پسندیدہ ترین مقام (حجرِ اسود) کو اُس کی محبت میں بوسہ دینا، یا کسی وقت وہاں آنسو ٹپکا آنا، اُس کے آگے سجدہ ریز ہونے کےلیے مٹی پر ڈھیر ہو جانا، اُس کے عبد اور خدمتگار کے طور پر، اور اُس کے باقاعدہ حکم پر، صفا و مروہ کے مابین تیز قدموں سے بھاگنا اور بایں صورت وفا کو اپنے وجود میں مچلتا دکھانا... یہ ایک فریفتگی اور وارفتگی تو ہے، مگر کونسی بات ان اعمال میں سے ایسی ہے جو معبودِ برحق اللہ مالک الملک کی عبادت کے معنیٰ سے ہٹی ہوئی ہے اور اس میں ان اشیاء (بیت اللہ یا حجر اسود یا سجدے میں ماتھا ٹیکنے کی جگہ وغیرہ ’’مخلوقات‘‘) کی اپنی ہی پوجا اور منتا کا کوئی معنیٰ آ گیا ہوا ہے؟ دنیا میں کوئی ایک مسلمان، یارو، جس کی پرستشِ خداوندی میں کعبہ یا حجرِ اسود یا صفا  مروہ یا سجدے کی جگہ کو ’’پوجنے‘‘ کا معنیٰ پایا گیا ہو؟ ایسا زبردست انکشاف!!!

کسے معلوم نہیں، عبادت کے اِن تمام اعمال میں مسلمان کا معبود صرف اور صرف اللہ ہوتا ہے اور یہ سب مناسک خالص اُس ایک کی عبادت اور براہِ راست اُس سے محبت اور لگاؤ کا اظہار۔ خانہ کعبہ،یا حجرِ اسود، یا صفا مروہ، یا جمرات میں عبادت کسی کی ہو رہی ہے تو وہ ایک اللہ ہے، زمین اور آسمان کو بنانے والا، ہر ہر نعمت کا خالق، حقیقی سچا معبود، الٰہِ برحق، جس کے ساتھ کسی اور کو پوجنا اِس مسلمان کے نزدیک سب سے بڑا پاپ ہے۔ (إن الشركَ لَظُلمٌ عظيمٌ)۔ دوسری جانب دیکھیے، پجاری خود کہتا ہے کہ وہ گائے کی پوجا کرنے میں لگا ہے۔ چوہوں یا بندروں کی آتما کی رضا جوئی پوجا کے ان افعال کے ذریعے آدمی کا باقاعدہ مقصود ہوتی ہے۔ دیویوں دیوتاؤں اور بتوں کی منتا میں خود ان اشیاء کے اندر نفع نقصان پہنچانے کا ایک اعتقاد پجاری کے ہاں موجود ہوتا ہے خواہ وہ اسے ان مخلوقات کا ’مستقل بالذات‘ اختیار مانے یا خدا کا ’تفویض کردہ‘، (’ذاتی‘ یا ’عطائی‘)، لیکن ان مخلوقات میں ’اختیار‘ اور ’کرنی والا ہونے‘ کا ایک تصور وہ (مشرک) بہرحال رکھتا ہے اور اسی جذبے کے تحت ان کو پرنام کرتا ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کو پوجنے والے، اِن اَجرام کے اندر اپنی قسمت کے احوال پر تاثیر کرنے کی کسی نہ کسی قوت کو مانتے ہیں؛ اور ان سے خیر پانے کےلیے ان کے آگے سجدہ بجا لاتے ہیں۔ اِدھر ہمارے ہاں دیکھیے۔ کوئی مسلمان حجرِ اسود کو ’راضی‘ کرنے کے جذبے سے سرشار نہیں ہوتا؛ ایک ایسی روشن بیِّن حقیقت جسے اللہ کے فضل سے ایک اندھا بھی ملاحظہ کر سکتا ہے۔ کعبہ کی ’آشیرواد‘ لینے کا کوئی خیال تک کسی مسلمان کے ہاں نہیں پایا جاتا۔ صفا و مروہ کی ’رضا جوئی‘ کا محمدﷺ کے کسی پیروکار کے ہاں تصور تک نہیں۔ وہ مٹی جس پر موحد اپنے خالق زمین و آسمان کے مالک کو سجدہ کرنے کےلیے ماتھا دھرتا ہے خود اُس مٹی کی پوجا و پرستش کا کوئی تصور اس کے یہاں موجود نہیں۔ کسی بھی صورت اور کسی بھی معنیٰ میں نہیں۔ یہاں تک کہ بعض مخصوص جگہوں پر اور بعض مخصوص اوقات میں اُس ایک سچے معبود – اللہ وحدہٗ لا شریک  کو سجدہ کرنا تک منع کر رکھا گیا ہے محض اس اندیشے سے کہ اس میں مخلوقات کو سجدہ کرنے والے (مشرکین) کے ساتھ ایک گونہ مشابہت ہے۔ یعنی مخلوقات کو سجدہ تو درکنار، مخلوقات کو ہونے والے سجدہ کے ساتھ ’’ظاہری مشابہت‘‘ تک شریعت میں منع ٹھہرا دی گئی۔ مسلمان کو اللہ کی عبادت میں اِس حد تک واضح ہونا ہوتا ہے۔

اب یہ کونسی ’’عقل‘‘ ہے جو اُس سجدے کو جو ہوتا ہی کسی گائے یا پتھر یا درخت یا مورت یا بت یا سورج یا چاند یا ستارے کو ہے، اُس سجدے کے برابر کر دے جو زمین آسمان کے مالک کو کیا جاتا ہے!؟ اس سے زیادہ ’’عقل‘‘ تو ان مشرکین کی ہوئی جنہیں خوب معلوم تھا انبیاء انہیں کس چیز سے منع کر کے کس چیز کا حکم دے رہے ہیں۔ ورنہ وہ بھی یہ ’’نکتہ‘‘ اٹھاتے کہ کیا فرق ہے بتوں اور دیویوں کو ہونے والے اُس سجدے میں جس سے انہیں ’’روکا‘‘ جا رہا ہے اور قبلہ رُو ہو کر خدائے واحد کو بجا لائے جانے والے اِس سجدے میں جس کی طرف ان کو ’’بلایا‘‘ جا رہا ہے! اُس میں بھی ’سامنے‘ کوئی مخلوق ہی ہوتی ہے اور اِس میں بھی! اندازہ کر لیجیے، عرب کا وہ اَن پڑھ بدُّو تو پیغمبرِ اسلامﷺ کی اس دعوت کو سمجھ لیتا ہے کہ یہ غیر اللہ کی عبادت ترک کر دینے اور ایک اللہ کی بندگی میں آ جانے کا واضح دوٹوک مطالبہ ہے جو اس سے کیا جا رہا ہے؛ پھر پیغمبرِ اسلامﷺ کی یہ دعوت قبول کر لینے کے بعد فی الواقع اُس بدُّو کی زندگی سر تا پیر بدل جاتی اور مخلوق کی عبادت سے برگشتہ ہو، خالص اللہ کی عبادت بن جاتی ہے۔ لیکن اِدھر ہمارے یہاں ’’عقل‘‘ کی اجارہ داری یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ خالق کو ہونے والے سجدے اور مخلوق کو کیے جانے والے سجدے میں خیر سے فرق ہی کیا ہے!

کیا یہ ہے وہ ’’عقل‘‘ جسے پوجنے کی اِس دور میں منادی کروائی جا رہی ہے!؟

*****

گاؤ پوجا سے متعلق اس مذکورہ ٹویٹ میں، گائے کے بول و براز (پیشاب اور گوبر) کی تقدیس کے بھی کچھ مناظر تھے۔ خود پوجا کرنے والے اس پر شرمساری محسوس کریں نہ کریں، ہمارے وہ ’مسلمان‘ ضرور کریں گے جو مذاہبِ عالم پر اسلام کی برتری اور حقانیت کی بات بڑی ہی مجبوری اور ناگواری سے سنتے ہیں۔ یہاں ضروری تھا کہ اسلام میں بھی یہ ویسا ہی کوئی عیب نکال دکھائیں! ما شاء اللہ پڑھتے خوب ہیں۔ بخاری تک کھنگال رکھی ہے۔ (کاش ہدایت کی تلاش میں اس کا دسواں حصہ محنت کر لی ہوتی، مگر قسمت!)۔ حوالہ لانے میں دیر نہیں ہوئی: تمہاری فلاں حدیث میں بھی تو یہ آیا ہے کہ قبیلہ عُرَینہ کے لوگ جب مدینہ آئے اور یہاں کی فضا انہیں راس نہ آئی، جس سے وہ جِلد کی کسی وباء کا شکار ہوئے، تو نبیﷺ نے بطورِ علاج انہیں اونٹوں کے دودھ اور پیشاب کا استعمال تجویز فرمایا، جس سے وہ عُرَینہ کے آدمی شفایاب ہو گئے تھے۔ تو ہو گئے نا دونوں برابر!

وہی بات۔ خدا اپنی کسی حکمت کے تحت انبیاء کے معاندین کو کچھ نہ کچھ ایسا دیتا ہے جس سے وہ اپنی ’دلیل‘ کی بھوک مٹائیں اور اہل ایمان کو جواب دینے کی اپنی وہ دلوں میں مدفون ’حسرت‘ پوری کریں، جبکہ فی الحقیقت اس میں دلیل نام کی کوئی چیز نہ ہو۔ وَلِتَصْغَى إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ، وَلِيَرْضَوْهُ، وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُمْ مُقْتَرِفُونَ ’’تاکہ اس پر کان لگا لیں وہ دل جن کا آخرت پر ایمان نہیں، اور اس پر راضی ہو لیں، اور جو کرتوت کرنے ہیں کر لیں‘‘۔

اب ظاہر ہے ہمارے تنفر کا اصل پہلو تو یہ تھا کہ گائے ایسا چار ٹانگوں کا ایک جانور جب کسی قوم کا معبود ہوا (جوکہ اصل درماندگی ہے)، اور پوجا تو ظاہر ہے پوجا ہے، انسان میں پایا جانے والا وہ نہایت اعلیٰ اور نفیس جذبہ جو فی الحقیقت اُس ذاتِ والا کےلیے خاص ہے جو اِسے پیدا کرنے اور ہزارہا نعمت سے نوازنے والی ہے، اور جو ہر عیب سے پاک، ہر اعلیٰ صفت سے متصف، بنی آدم کے تخیل سے بھی بلند، عرشِ بریں کی مالک، حسن و لطف کی خالق ہے... ادھر ایسی بلند و بالا ہستی کےلیے مخصوص اس ’’پوجا‘‘ اور ’’عبادت‘‘ کو ایک ناقدر شناس مشرک زمین پر اوندھا چلنے والے ایک چوپائے کی نذر کرنے چلا، تو اس پجاری کا آخر انجام یہ ہوا کہ وہ اپنی اس معبود کے پیشاب پر فریفتہ ہوتا اور ’’پوجا‘‘ کے اپنے اس اعلیٰ جذبے کے تحت ایسے گھٹیا حیوانی فُضلے کی تقدیس کرتا دیکھا جائے! وہ جس چیز کو انسان کے مراد پانے اور سرخرو ہونے کی معراج جانے طبیعتِ انسانی اس پر ابکائی محسوس کرے! پس اصل عبرت سامانی تو اس کے اندر ’’پوجا‘‘، ’’پرستش‘‘، ’’عبادت‘‘، ’’عقیدت‘‘، ’’تقدیس‘‘ اور ’’تعظیم‘‘ ایسے نفیس و برگزیدہ مطالبِ عُلیا کا (معاذ اللہ) ’’پیشاب‘‘ کے درجے تک گر جا نا تھا۔ یہاں؛ ہم نے کہا: ’’الحمد للہ علىٰ نعمۃ الإسلام‘‘۔ کہاں اُس اعلیٰ ترین صفات کے مالک ربُّ العرشِ العظیم کی عبادت جو ہمیں نصیب ہوئی، سبحانہٗ وتعالیٰ...  اور کہاں یہ ’’پوجا‘‘، استغفر اللہ!

اب آپ ’’عبادت‘‘، ’’پرستش‘‘، ’’عقیدت‘‘ اور ’’تقدیس‘‘ کے باب سے نکل آئیے اور بحث کیجیے ’’دوا دارو‘‘ اور ’’علاج معالجے‘‘ پر، جوکہ ایک بالکل الگ موضوع ہے اور جس کا تعلق اونٹوں والے واقعے سے ہے۔ ذرا ہمارے یہ دوست کسی پنساری اور حکیم کے ہاں پائے جانے والے نسخوں پر ایک نظر ڈال لیں، دوائیں اور ٹوٹکے اِس جہان میں بھلا کیسی کیسی اشیاء، کیسے کیسے حیوانات اور ان کے کیسے کیسے اعضاء اور اجزاء سے حاصل نہیں کر لیے جاتے، اونٹ تو ان کے مقابلے پر بڑا صاف ستھرا نظر آئے گا! اور صرف قدیم پنسار کی بات نہیں، جدید دواسازی شاید اس معاملہ میں اُس سے دو ہاتھ آگے ہو؛ ذرا پتہ تو کیجیے یہ آپ کےلیے ادویات کے اجزاء کہاں کہاں سے کشید کر کے لاتی ہے؛ ’’پیکنگ‘‘ تو بالکل آخر میں کر دی جاتی ہے! اس معاملہ میں سنسنی اٹھانے کی کیا بات؟ نہیں جی چاہتا نہ لیں، درد پر صبر کر لیں، کسی نے مجبور تو نہیں کیا۔ اشکال آخر ہے کہاں؟ اعتراض ہی ہے تو فارمیسی کے وہ بہت سے ابواب معطل ٹھہرا دیتے ہیں جن کا تعلق طبیعت کو گھن آنے والی اشیاء سے ہے۔ کہیے قبول ہے؟ لیکن ’’عقل‘‘ کا معبود شاید خود ہی آپ کو اس بات سے روک دے اور کہے کہ برخوردار طب تو طب ہے تمہیں نہیں پسند تو نہ لو درد سہتے چلے جاؤ، دوسروں کو کیوں ایک فائدے سے روکنے چلے فارمیسی کی ابجد سے ناواقف دیہاتی! ناک بھوں چڑھانا بھلا  کیا ایسے معاملات میں داناؤں کا کام ہے، زندگی اس سے کہیں زیادہ سیریس چیز ہے! ایسے شخص کو تو میڈیکل کے احاطے میں کوئی قدم نہ رکھنے دے جو قطع و برید کے آلات کے ساتھ مینڈک کے پاس جاتے ہوئے گھن کھائے اور وہاں طرح طرح کے سین scene   کرنے لگے! اور طبابت تو تم جانتے ہو نرا ایک پیشہ نہیں بلکہ پیشن passion   ہے، یعنی مزاج میں سرایت کر جانے والی ایک چیز! اب چونکہ یہ ’’عقل‘‘ دیوتا کا فتویٰ ہے اس لیے وہ سب ناز نخرے بر طرف؛ منفعتِ انسانی بہرحال مقدم ہے؛ اور جان تو ہر ہر چیز سے پیاری! ’’صحت‘‘ کےلیے کیا ہے جو اِس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا...!!! چلیے قدم زمین پر تو لگے!

اب ایک بات طے ہے: اونٹوں والا واقعہ ’’تداوی‘‘ treatment  کے باب سے ہے، جو عقلاء کے ہاں اصولاً قبول ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ اونٹوں کے پیشاب میں کیا کوئی ایسی طبی خاصیت ہے جو اکیسویں صدی کی فارمیسی سے ناآشنا ایک دور افتادہ ریگستان کے اندر جلد کی کسی وباء میں گرفتار آدمی کو کام دے دے؟ اِس سوال کے، ہمارے ہاں دو جواب ہیں۔ ایک: ہاں اگرچہ طب اس چیز کی اِفادیت تاحال دریافت نہ کر پائی ہو، کیونکہ یہ ایک نبیؐ کی خبر ہے جو دنیا کی لیبارٹریوں سے ہزارہا سال آگے کی اطلاع دے سکتا ہے۔ دوسرا جواب: ہاں، خود یہ آپ کی طب بھی اس کی اِفادیت کے کئی ایک پہلو دریافت کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، یہ لیجئے ایک ڈاکومنٹ اور اس میں متعدد میڈیکل رپورٹوں کے حوالے پڑھ لیجئے، اصولی اعتراض تو اس پر پہلے ہی ختم ہو چکا۔

*****

چھوٹی سی ایک وضاحت اور:

یہ ایک بےبنیاد تصور ہے کہ حج میں جمرات پر ماری جانے والی کنکریوں کا تعلق فی الواقع آدمی کے ’’شیطان کو پیٹنے‘‘ سے ہے۔ ہمارے علمی مصادر میں کہیں یہ بات نہیں آئی۔ اہل علم نے جا بجا بیان کیا کہ شیطان کو جمرات پر ’’مشخص‘‘ جاننا (گویا وہ وہاں پر بٹھا رکھا گیا ہے جہاں ہر کنکری ’سیدھی اس کو جا کر لگتی ہے‘) نری بےعلمی ہے؛ اور اس جذبے کے تحت اگر ایک جاہل شیطان کو ’اور بھی زور سے مارنے‘ کی کوشش کرے یا ’بڑے سائز‘ کی کنکری اٹھائے تو یہ اور بھی حماقت اور حج کے مقصود سے تجاوز ہے۔ احادیث میں باقاعدہ اس پر زور دیا گیا کہ کنکری ’’حصى الخذف‘‘ سے زیادہ نہ ہو۔ جس کی شرح میں محدثین نے کہا: لوبیا کے دانے یا گٹھلی برابر جو صرف دو انگلیوں (انگشت شہادت اور انگوٹھے) کے بیچ پکڑنے میں آئے۔ ابن عباسؓ کی روایت میں تو یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ نبیﷺ نے (جمرات پر پھینکنے کےلیے) مجھ سے کنکریاں طلب فرمائیں۔ میں نے ’’حصى الخذف‘‘ ایسی (چھوٹی چھوٹی) آپﷺ کے ہاتھ میں تھمائیں تو آپﷺ نے فرمایا: بأمثالِ هؤلاء، وإياكم والغلو في الدين، فإنما أهلك من كان قبلكم الغلو في الدين ’’بس ایسی کنکریاں۔ اور خبردار دین میں غلو سے بچنا۔ کیونکہ تم سے پہلوں کو جس چیز نے برباد کیا وہ دین میں ان کا غلو کرنا تھا‘‘۔ (السلسلۃ الصحیحۃ للألبانی رقم 2144)۔ غرض یہ (رمیِ جمرات) تو صرف مناسکِ ابراہیمؑ (بندگی کی وہ ادائیں جو ابراہیمؑ کو اول اول عطا ہوئیں) کے احیاء میں ذکرِ خداوندی کی اقامت ہے، جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا۔ اس کے سوا اسے کوئی معنیٰ یا تصور پہنانا درست نہیں۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز