عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Monday, August 8,2022 | 1444, مُحَرَّم 9
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
:عنوان

سیگ منٹیشن کی بنیاد بھی طے ہونی چاہئے۔ اور وہ ہے ہر وہ پوائنٹ جہاں سے الحاد اور لبرلزم کو چوٹ لگے یا اس کی پشت پر بیٹھے آپ کے عالمی دشمن کو زک پہنچے۔ مقابلتاً، آپ کا اسلامی کاز ان پوائنٹس پر تقویت پائے۔

. اصولمنہج . تنقیحات :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ایشو ٹو ایشو issue to issue  رکھنا۔ ’’پوری شخصیت‘‘ یا ’’پوری جماعت‘‘ کا پیکیج یہاں خال خال ہی کبھی بنایا جاتا ہے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب اپنے اسلامی کاز کی پوائنٹ سکورنگ point scoring for the Islamic cause  کےلیے آپ یہاں ماشے ماشے کے ضرورت مند ہوں اور واقعے کے کسی ایک بھی جزء کو پورا فائدہ لیے بغیر جانے دینے کے متحمل نہ ہوں۔ ہاں جس زمانے میں آپ اس عیاشی کے متحمل ہوں، اُس وقت بڑا بڑا استغناء کر لیا جاتا ہے اور کسی کی بڑی بڑی خدمتِ اسلام کو بھی وُقعت نہیں دی جاتی تا وقتیکہ وہ واقعتاً کوئی بہت اعلیٰ چیز ہو۔ مگر آپ جانتے ہیں ابھی آپ اُس مقام سے بہت دور ہیں۔

لہٰذا میرے وہ دوست جو اس سے بلند تر ہوں کہ ان کا ہدفِ مخالفت اس ملک میں کوئی ’عمران نیازی‘ یا اُس کی بیوی ہو، یا جن کا صبح شام برسنے کا محل کوئی ’پٹواریوں‘ کی جماعت یا اس کے مخصوص زید بکر ہوں... میرے وہ دوست جن کی کل پریشانی concern   یہاں اسلام و کفر کی جنگ ہے اور جن کا مد مقابل اس ملک میں اللہ کے حقیقی دشمن، اور جن کا اصل معرکہ یہاں الحاد اور لبرلزم کی پیش قدمی کے ساتھ ہے... ان دوستوں کو میرا مشورہ ہے کہ اپنی ہمہ وقت تنقید کےلیے کوئی درست ہدف چنیں۔ یعنی کچھ ایسے لوگ جو واقعتاً یہاں کفر کا سمبل symbol  ہوں۔ اور اگر ایسے ائمۂ کفر آپ کی نظر میں نہیں، یا نام لے کر ان کو نشانۂ تنقید بنانا فائدہ مند نہیں (مثلاً اس سے ان کے خوامخواہ مشہور ہونے کا اندیشہ ہے)، یا کسی وجہ سے خود آپ ان کی مخالفت کے متحمل نہیں، تو بہتر ہو گا کہ اس ’’ہمہ وقت تنقیدی ہدف‘‘ کا خانہ خالی رکھ لیں۔ البتہ اسے کسی ایسے شخص یا جماعت سے پُر نہ کریں جو اس کی ’اہل‘ نہیں۔ نیز اپنی ہمہ وقت تحسین کےلیے بھی (اگر ہو) کوئی ایسا فِگر رکھیں جس کی پروجیکشن کرنا الحاد اور لبرلزم کے ساتھ آپ کی اس جنگ میں واقعتاً لوگوں کو سمجھ آئے اور وہ کفر و اسلام کی اس جنگ میں واقعتاً کوئی ایکویشن equation   بھی بناتا ہو۔

معاملے کی سیگ منٹیشن (جزء کاری) کی بنیاد بھی طے ہونی چاہئے۔ اور وہ ہے ہر وہ پوائنٹ جہاں سے الحاد اور لبرلزم کو چوٹ لگے یا اس کی پشت پر بیٹھے آپ کے عالمی دشمن کو زک پہنچے۔ مقابلتاً، آپ کا اسلامی کاز ان پوائنٹس پر تقویت پائے۔

یوں ہر دو پہلو سے؛ اپنے قد کاٹھ کو ذرا اوپر لے جائیے۔ غیر ضروری اشیاء کو اپنی چڑھائی کےلیے ان فٹ unfit   مانیے۔ تنقید ہو تو وہ بھی ایشو بیسڈ issue-base اور تحسین ہو تو وہ بھی ایشو بیسڈ issue-based ۔ پوری پوری ’’جماعت‘‘ یا ’’شخصیت‘‘ کی نہ مخالفت اور نہ تحسین، تاوقتیکہ کوئی ’’جماعت‘‘ یا ’’شخصیت‘‘ واقعتاً کسی باطل یا حق کا سمبل symbol  ہو گئی ہو۔

*****

شیخ سفر الحوالی اپنی حالیہ کتاب ’’المسلمون والحضارة الغربية‘‘ (مسلمان اور مغربی تہذیب) کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: عالمی ذرائع ابلاغ مجھ فقیر کی گیٹگرائزیشن ’’سعودی اپوزیشن شخصیات‘‘ میں کرتے ہیں۔ یہ میرے ساتھ بہت زیادتی ہے۔ بھائی میں ’’اپوزیشن‘‘ کیوں ہوں گا۔ میں ہوں ’’دین کا داعی‘‘ جس کی مطلق دشمنی باطل کے ساتھ ہے خواہ وہ جہاں پایا جائے۔ میں ہوں اپنی اِس حیثیت میں انبیاء کا وارث جو ’’اپوزیشن‘‘ سے بہت اونچی ایک چیز ہے۔ تم کیا جانو انبیاء کی وراثت۔

*****

ہاں میرے وہ اسلامی دوست اِس مقام پر میرے مخاطب نہیں جو اپنی اعلی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کےلیے بڑی ٹکر کی کسی پارٹی کا انتخاب کر چکے ہیں۔ (ایسی پارٹیوں کو میں اپنی تحریرات میں ’’مین سٹریم پارٹیاں‘‘ کہتا ہوں،  اور ان میں جانا سماجی صلاحیت کے کچھ اسلام پسندوں کے حق میں اندریں حالات نہایت ضروری)۔ ظاہر ہے، ان کو کسی قدر پارٹیوں کے ’آپسی حساب کتاب‘ کا حصہ بننا پڑتا ہے۔ جمہوری عمل میں اس سے مفر نہیں۔ ان کی پوزیشن کو میں پوری طرح سمجھتا ہوں۔ اس کی، ان کےلیے یقیناً گنجائش بھی ہے۔ گو ان (مین اسٹریم پارٹیوں میں موجود اسلام پسندوں) سے بھی توقع کرنی چاہیے کہ اپنی تنقید اور تحسین وغیرہ میں یہ کچھ اعلیٰ رویے اور بلند معیارات قائم کریں۔

یہاں میرے مخاطب وہ اصحابِ دین ہیں جو بڑی ٹکر کی کسی سیاسی پارٹی میں نہیں اور اس پہلو سے بالعموم آزاد independent   ہیں۔ یہ ہیں جن کو یہاں سب سے بڑا رخنہ پُر کرنا اور دین کے کچھ اعلیٰ سٹینڈرڈ دینا ہیں۔ اس ملک میں دین کی ایک کھلم کھلا نظریاتی جنگ دراصل انہوں نے ہی قوم کو لڑ کر دینی ہے۔ ان کےلیے بہت ضروری ہے کہ یہ اپنے اِس محبِ اسلام معاشرے کو الحاد کے ساتھ ایک جنگ لڑوائیں، پراپیگنڈہ کی ایک پوری سٹرٹیجی دیں اور اس میں دانائی، ہوشمندی اور زیرک پن کا اعلیٰ ثبوت دیں۔

’’سیگ منٹیشن‘‘ (جزء کاری) اس سٹرٹیجی کا ایک اہم حصہ ہو گا۔ اس کی رُو سے معاملے کو، جس قدر ممکن ہو، چھوٹے اجزاء میں تقسیم کیا جائے گا اور پھر ہر جزء کے ساتھ اس کے حسبِ حال تعامل کیا جائے گا۔ یوں آپ اپنی عقیدہ بیسڈ aqeedah-based جنگ کو بہت نیچے اور آگے کی سطح تک لے جاتے ہیں؛ اور اس کے نتیجہ میں آپ کا عقیدہ زیادہ سے زیادہ ایشوز میں بولنے لگتا ہے۔ سطح بین کچھ دیر اس پر تعجب کریں گے کہ ایک پل میں آپ نے کسی شخصیت یا پارٹی کی تحسین کی تھی اور اگلے ہی پل اُس پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ لیکن تھوڑی دیر میں اسے سمجھ آ جائے گی کہ اس کے پیچھے آپ کا وہ میزان ہے جو تحسین اور تنقید کےلیے آپ مستقل consistent   طور پر اپنے پاس رکھتے ہیں؛ اور ہر دو صورت یہ ایک ہی عقیدہ بولتا ہے۔ یہ ہے اسلامیوں کی ضرورت۔ وہ نظرِ دقیق جو دو مصرعوں کے ایک شعر کو بھی ’’پورا‘‘ لینے کی بجائے اس کے حق اور باطل حصے کو الگ الگ کر لیتی اور اس میں قدر والی چیز کی قدر کیے بغیر نہیں رہتی اور رد ہونے والی چیز کو رد کیے بغیر نہیں چھوڑتی۔ صحابیِ رسول عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی سوانح میں آتا ہے کہ مکہ میں قریش کی مجلسِ سخن برپا تھی اور لبید شاعر اپنا کلام سنا رہا تھا۔ شاعر نے ایک مصرع پڑھا: ألا كُلُّ شيءٍ ما خلا اللهَ باطلٗ۔ (’’خبردار۔ خدا کے ماسوا ہر شےء بےحقیقت ہے‘‘)۔ اس پر عثمانؓ نے بھی دوسروں کی طرح بڑھ کر داد دی: صدقت۔ (’’تم نے زبردست بات کہی‘‘)۔ لبید نے اگلا مصرع پڑھا: وكُلُّ نعيمٍ لا محالةَ زائلٗ۔ (’’اور ہر نعمت کو، لا محالہ، زوال ہے‘‘)۔ عثمانؓ بولے: کذبت۔ (’’تم نے غلط کہا‘‘)۔ اور پھر فرمایا: جنت کی نعمت کو ہرگز کوئی زوال نہیں۔ اس پر لبید بولا: قریش کے لوگو تمہارے یہاں شعراء کے ساتھ یہ سلوک کب سے ہونے لگا!؟

دقیق ہونا آج ہماری بہت بڑی ضرورت ہے۔ اشیاء کی جزئیات کو یوں الگ الگ کرنا کہ فائدے کے ساتھ نقصان نہ چلا آئے اور نقصان کو دفع کرتے وقت فائدہ بھی ساتھ ہی نہ چلا جائے۔ اس کےلیے صبر بھی درکار ہے اور ذکاوت و بیداری بھی۔ اور سب سے بڑھ کر خدا کی توفیق۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
بربہاریؒ ولالکائیؒ نہیں؛ مسئلہ ایک مدرسہ کے تسلسل کا ہے
Featured-
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
بربہاریؒ ولالکائیؒ نہیں؛ مسئلہ ایک مدرسہ کے تسلسل کا ہے تحریر: حامد کمال الدین خدا لگتی بات کہنا عل۔۔۔
اسلام کے انفرادی شعائر بھی اس وقت کافر کے نشانے پر ہیں
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اسلام کے انفرادی شعائر بھی اس وقت کافر کے نشانے پر ہیں تحریر: حامد کمال الدین گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔
ایک بڑے شر کے مقابلے پر
Featured-
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
ایک بڑے شر کے مقابلے پر تحریر: حامد کمال الدین اپنے اس معزز قاری کو بےشک میں جانتا نہیں۔ لیکن سوال۔۔۔
اہل فساد میں سے کسی کے مرنے پر "اہل صلاح" کا آپس میں فساد کرنا
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اہل فساد میں سے کسی کے مرنے پر "اہل صلاح" کا آپس میں فساد کرنا! تحریر: حامد کمال الدین کچھ ایسے لوگ ۔۔۔
ایک کافر ماحول میں "رائےعامہ" کی راہداری ادا کرنے والے مسلمان
راہنمائى-
احوال-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ایک کافر ماحول میں "رائےعامہ" کی راہداری ادا کرنے والے مسلمان تحریر: حامد کمال الدین چند ہفتے پیشتر۔۔۔
ایک خوش الحان کاریزمیٹک نوجوان کا ملک کی ایک مین سٹریم پارٹی کا رخ کرنا
احوال- تبصرہ و تجزیہ
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
ایک خوش الحان کاریزمیٹک نوجوان کا ملک کی ایک مین سٹریم پارٹی کا رخ کرنا تحریر: حامد کمال الدین کوئی ۔۔۔
سوویت دور کے افغان جہاد متعلق سفرالحوالی کی پوزیشن
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سوویت دور کے افغان جہاد متعلق سفرالحوالی کی پوزیشن حامد کمال الدین "المسلمون والحضارة الغربية" سے ۔۔۔
فيمنيزم كى جيت‘منشيات كى زيادتى سے خواتين كى موت ميں تين گُناہ اضافہ
تنقیحات-
دانيال حقيقت جو
فيمنيزم كى جيت‘منشيات كى زيادتى سے خواتين كى موت ميں تين گُناہ اضافہایک روایتی مسلم معاشرے میں ایک عام پچاس سا۔۔۔
اسلام اتنا لبرل کیوں نہیں؟
تنقیحات-
دانيال حقيقت جو
جب اسلام پر حملے کرنے والے ملحدوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور صیہونیوں کی طرف نظر کریں تو ان کا بنیادی اعتراض یہ ہوت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
بربہاریؒ ولالکائیؒ نہیں؛ مسئلہ ایک مدرسہ کے تسلسل کا ہے تحریر: حامد کمال الدین خدا لگتی بات کہنا عل۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اسلام کے انفرادی شعائر بھی اس وقت کافر کے نشانے پر ہیں تحریر: حامد کمال الدین گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔
Featured-
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
ایک بڑے شر کے مقابلے پر تحریر: حامد کمال الدین اپنے اس معزز قاری کو بےشک میں جانتا نہیں۔ لیکن سوال۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اہل فساد میں سے کسی کے مرنے پر "اہل صلاح" کا آپس میں فساد کرنا! تحریر: حامد کمال الدین کچھ ایسے لوگ ۔۔۔
احوال-
جہاد- مزاحمت
حامد كمال الدين
یاسین ملک… ہمتوں کو مہمیز دیتا ایک حوالہ تحریر: حامد کمال الدین یاسین ملک تم نے کسر نہیں چھوڑی؛&nb۔۔۔
راہنمائى-
احوال-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ایک کافر ماحول میں "رائےعامہ" کی راہداری ادا کرنے والے مسلمان تحریر: حامد کمال الدین چند ہفتے پیشتر۔۔۔
احوال- تبصرہ و تجزیہ
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
ایک خوش الحان کاریزمیٹک نوجوان کا ملک کی ایک مین سٹریم پارٹی کا رخ کرنا تحریر: حامد کمال الدین کوئی ۔۔۔
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سوویت دور کے افغان جہاد متعلق سفرالحوالی کی پوزیشن حامد کمال الدین "المسلمون والحضارة الغربية" سے ۔۔۔
تنقیحات-
دانيال حقيقت جو
فيمنيزم كى جيت‘منشيات كى زيادتى سے خواتين كى موت ميں تين گُناہ اضافہایک روایتی مسلم معاشرے میں ایک عام پچاس سا۔۔۔
تنقیحات-
دانيال حقيقت جو
جب اسلام پر حملے کرنے والے ملحدوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور صیہونیوں کی طرف نظر کریں تو ان کا بنیادی اعتراض یہ ہوت۔۔۔
اصول- منہج
حامد كمال الدين
فقہ الموازنات پر ابن تیمیہ کی ایک عبارت وَقَدْ يَتَعَذَّرُ أَوْ يَتَعَسَّرُ عَلَى السَّالِكِ سُلُوكُ الط۔۔۔
تنقیحات-
احوال-
حامد كمال الدين
کل جس طرح آپ نے فیصل آباد کے ایک مرحوم کا یوم وفات "منایا"! حامد کمال الدین قارئین کو شاید ا۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
’بندے‘ کو غیر متعلقہ رکھنا آپ کے "شاٹ" کو زوردار بناتا! حامد کمال الدین لبرلز کے ساتھ اپنے ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
حامد كمال الدين
"حُسینٌ منی & الحسن والحسین سیدا شباب أھل الجنة" صحیح احادیث ہیں؛ ان پر ہمارا ایمان ہے حامد۔۔۔
بازيافت- تاريخ
بازيافت- سيرت
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
ہجری، مصطفوی… گرچہ بت "ہوں" جماعت کی آستینوں میں! حامد کمال الدین ہجرتِ مصطفیﷺ کا 1443و۔۔۔
جہاد- مزاحمت
جہاد- قتال
حامد كمال الدين
صلیبی قبضہ کار کے خلاف چلی آتی ایک مزاحمتی تحریک کے ضمن میں حامد کمال الدین >>دنیا آپ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کےلیے یہاں کلک کیجیےمزاحمتوں کی تاریخ میں کونسی بات نئی ہے؟ صلیبی قبضہ کار کے خلاف۔۔۔
حامد كمال الدين
8 دینداروں کے معاشرے میں آگے بڑھنے کو، جمہوریت واحد راستہ نہیں تحریر: حامد کمال الدین ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
تبصرہ و تجزیہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
حامد كمال الدين
تاريخ
حامد كمال الدين
سيرت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
قتال
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز