عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, October 19,2018 | 1440, صَفَر 9
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
سن ہجری کے آغاز پر لکھی گئی ایک خوبصورت تحریر
:عنوان

منزل دور، سفر دشوار اور پا پیادہ سیدالبشر۔ کعبہ پیچھے اور مدینہ آگے، دل یہاں تو قدم وہاں۔ یہاں کچھ بھی آسان نہ تھا، آگے بڑھانے والا تو بس ایمان تھا۔ ہجرت آسان ہوتی ہے اور نہ اس کا صلہ کمتر۔

. بازيافت :کیٹیگری
ادارہ :مصنف

ہجرت کے پندرہ سو سال بعد!

حافظ یوسف سراج

کون مانے؟
کسے یقیں آئے؟
وہ چار قدم
تاریخِ انسانی کو بدلنے کے لیے
خدا کی سنگلاخ دھرتی پر اٹھے
وہ چار قدم
جبر کو توڑتے، گرد ِراہ کو کاٹتے، عزم سے اٹھتے اور یقین سے زمیں پر آ پڑتے
سوئے منزل رواں وہ چار قدم
ان چار قدموں پر جو مبارک دھڑ اور مقدس سر تھے۔ بشریت کا وہ اعجاز دو بشر تھے۔
بے دری کی حالت، بے سروسامانی کا عالم، مال نہ متاع ، کہیں بسیرا نہ کوئی پناہ، وسائل کافور، مسافر مجبور و مقہور۔
خیر جو بھی تھا، ستم کا سماج اور جبر کا راج بدلنے کو یہ قدم اب بہرحال اٹھ چکے تھے۔

یاحیرت! دنیا بدل دینے کا قصد

اور یہ دو جسد
تنِ تنہا دو نفوس
مگر پر عزم اور پرخلوص
لیکن آخرش تو دو ہی تھے!
پورے نظام اور سماج کے مقابل محض دو لوگ کرتے بھی تو کیا؟
کس کس کا مقابلہ کرتے؟
کیونکر ہدف سے جا ملتے؟
کیاایسا ممکن بھی تھا؟
آدمی سوچ میں پڑ جاتا ہے!
لیکن ذرا سا تھم جائیے،
کم از کم اتنا جان لیجیے
کہ تعداد میں اگرچہ وہ دو ہی تھے،
پر ہرگز معمولی وہ نہ تھے۔
ان کے مباک سینوں میں،
نورِ ایماں کے خزینوں میں،
بڑے اجلے دل دھڑکتے تھے،
کیا نور کے جگنو چمکتے تھے۔

پھر دل کی اک اک دھڑکن سے، صبر و ثبات اور ایمان و استقامت کے مصفا چشمے ابلتے تھے۔ وہ کہ آسمان جن کے بارےکہہ چکا:
'' خدا یہ لکھ چکا کہ بالضرور میں اور میرے رسول ہی غالب ہو کر رہیں گے۔ لاریب اللہ ہی قوی اور زبردست ہے۔''
اور فرمایا:
''جس نے اللہ پر توکل کیا، اس کے لیے تو بس خدا کی نصرت ہی کافی ہے۔ بے شک خدا کو اپنا کام کرنا آتا ہے۔''

اچھا تب آپ کیا کہیں گے، جب تاریخِ انسانی کی اس عظیم ترین شاہراہ پر اٹھنے والے ان چار قدموں میں سے، دو قدم، جمیع مخلوق سے بہتر و برتر اور اعلیٰ و افضل شخصیت کے قدم ہوں۔
وہ کہ احمد و محمدؐ جن کا نام، مجتبیٰ و مصطفےٰ جن کا مقام اور کوثر جن کا جام۔ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر جن کی شان اور ان شانئک ہو الابتر جن کی آن۔ ہر پل ذکرِ خدا جن کا معمول اور و رفعنالک ذکرک جن کی رفعت کا زریں اصول۔ وحی جن کا مکتب اور ابلاغِ دین جن کا منصب۔ معراج جن کی سیر اور براق جن کی سواری۔ خدا جن کا خلیل اور مرسلین جن کے مقتدی۔ اقصیٰ جن کا مصلی اور مقامِ محمود جن کا مکان۔ میری کل محبتیں، کل کائناتیں ان کی گردِ راہ کے کسی نامعلوم ذرے پر قربان، صد جان سے قربان۔
صلی اللہ علیہ وسلم

 

تو یہ تھے دو قدم!
خیال آیا، انھی دو قدموں تک آنا ہی تو انسانوں کا مقصدِ حیات ہے، اسی فاصلے میں تو سارا فیصلہ ہے۔ اپنی کامیابی کے لیے انسانیت نے ان دو قدموں کی طرف دو قدم ہی تو اٹھانے ہیں، بچپن سے بڑھاپے تک یہی دو نقشِ قدم ہی تو پانے ہیں۔ آدمی کی اپنی حیات اور اس کے گرد بکھری اس کائنات کی اس کے سوا کوئی اور قیمت اور قسمت ہی کیا ہے؟ ہر دور کے ہر درد کی ان دو قدموں کے سوا اور دوا ہی کیا ہے؟ یہی دو قدم، ان قدموں کے نقشِ قدم!
اور ان کے رفیقِ سفر!
وہ صدیقِ اکبر، اللہ اکبر
بقولِ اقبال جن کے لیے تو کافی ہے خدا کا رسول بس۔ محبوب کی خوشی، جن کے لیے حاصل ِ زندگی۔ جن کی صداقت قرآن کی عبارت ،جن کا تذکرہ اہلِ ایمان کی تلاوت، مومنوں کی عبادت:
''وہ جو سچائی لایا اور وہ جس نے سچائی کی تصدیق کی۔''
سبحان اللہ کیا راہ تھی اور کیا راہی۔ کیا صاحب تھے اور کیا مصاحب۔ ایک سید الانبیا تو دوسرے بعد از انبیا سیدالبشر۔ یہ فخرِ رسولاں، وہ فخر ِامتاں !

 

ہجرت کی راہ تھی اور یہ چار قدم تھے۔
منزل دور، سفر دشوار اور پا پیادہ سیدالبشر۔ کعبہ پیچھے اور مدینہ آگے، دل یہاں تو قدم وہاں۔ یہاں کچھ بھی آسان نہ تھا، آگے بڑھانے والا تو بس ایمان تھا۔ ہجرت آسان ہوتی ہے اور نہ اس کا صلہ کمتر۔ ہزاروں میل سیدالبشر نے پیدل چل دیے، تاکہ نتیجتا مدینہ سے پھوٹتی انوار کی کرنیں کل عالم کو جگمگا دیں۔ سفر کہاں تھا ابوبکر کے لیے تو یہ البیلی معراج تھی۔ سو پل پل بوڑھے قحافہ کے رقیق بیٹے کی آنکھیں بھیگتی جاتی تھیں۔ یہ ایسی مسرت کے آنسو تھے، کائنات میں جو کبھی کسی دوسرے کو نصیب نہ ہوسکی۔ صحابہ بہت تھے اور اہلِ ایمان بھی رہتی دنیا تک رہیں گے، سفرِ ہجرت کی رفاقت مگر صرف صدیق کے لیے اتری تھی۔ چنانچہ خیرالخلق کلہ کی رفاقت پر صدیق کی آنکھیں ہجرت کے ہر قدم پر اپنے ہونے کا پتہ دیتی جاتی تھیں۔ سفر آسان نہ تھا، دشمن پیچھے تھا تو خطرہ آگے، دلوں میں مگر ایمان کے چراغ فروزاں تھے۔ عالم جب یہ ہو تو کاہے کاخطرہ اور کاہے کا ڈر۔ قرآنی الفاط میں کہیں تو لاضیر۔ کچھ مضائقہ نہیں، چنداں حرج نہیں۔


ہجرت ایک فرد کی کب ہوتی ہے۔ یہ تو ایک امت کی ہجرت تھی۔ ہر ایک کا جس میں ایک کردار تھا۔ مثلاً رفیقِ طریق سیدی و سیدنا صدیق کی عالی ہمت بیٹی سیدہ اسماؓ۔ وہ جو رسول کے صدیق کی بیٹی تھیں اور حواری رسول کی بیوی۔ ہجرت کے کینوس پر کیا سنہرا یہ بھی کردار رقم ہوا۔ ہجرت کے اس ہنگام عجب بپتا پڑی تھی۔ وقت کم تھا اور معاملہ سنجیدہ و سنگیں۔ بروقت سوچنا ہی نہ تھا، کچھ کر دکھانا بھی تھا۔ تو کیا ہوا، صدیق کی فہیم بیٹی ہر طرح کے حالات سے پوری طرح باخبر بھی تھی اور ان سے نمٹنے کو ہرطرح سے تیار بھی، فی الفور کمر بند پھاڑ کے انھوں نے کھانے کی پوٹلی تیار کر دی۔ یہ کھانا قریشیوں کےستائے مہاجروں اور مسافروں تک پہنچنا تھا، سو پہنچا۔ اقبال نے کہا تھا، سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی۔ کسی شاعر کو اس موقع کے لیے بھی کچھ کہنا چاہیے کہ کس طرح ایمان کے پشتیبان گھرانے کی اس لڑکی نے بناتِ امت کے لیے علو ہمتی کی روشن، رفیع اور بلیغ مثال قائم کر دکھائی۔ یقینا تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔ ذرا سوچیے تو! صحرا کا سفر، ایک اکیلی لڑکی، دل میں لیکن اس کے تھا حمایت رسول کا دریا موجزن۔ ایسا ہو تو پھر کاہے کا ڈر، کاہے کا نقصان، وہی قرآنی الفاظ ، لا ضیر، لا ضیر!

ادھر پیچھے مکہ میں، قیامت کی اس گھڑی میں، بسترِ رسول پر چھوٹے عم زاد لیٹ گئے تھے۔ رسول کے راحت رساں چچا ابوطالب کے جری بیٹے علیؓ۔ کیا واقعی یہ اس رات لیٹنے کا ایک عام بستر ہی تھا؟ شاید ہاں، شاید نہیں۔ شاید مقتل، شاید موت کا ساماں۔ کیا ابوطالب کا وہ بیٹا نہ جانتا تھا کہ یہ ان کی آخری نیند بھی ہو سکتی تھی؟ کتنے بے نصیب ہیں جو ایمان کے ہمالیہ کے مقابل بونی عقل لا کھڑی کرتے ہیں۔ کوئی مقابلہ بھی تو ہو! آج لائیں اور سلائیں موت کے اس بستر پر وہ اپنی حرماں نصیب عقل کو۔ میت نہ اٹھ جائے گی ایمان سے عاری عقل کی۔ آخری تجزیے میں، یہ ایمان ہے، جو آگ میں کودتا، نیل میں پھاندتا، چھری تلے مسکراتا اور موت کے بستر پر ہنس کے لیٹ جاتا ہے۔ حیدرِ کرار یہ جانتے تھے کہ موت گھات میں ہے مگر وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ یہ نیند زندگی کی آخری نیند بھی ہو تو غم نہیں۔ یوں بھی ہو تو اس سے بڑا انعام ہی کیا ہو سکتا ہے؟
جی ہاں ،جان جائے تو بھی
لا ضیر، لا ضیر۔
حرج ہی کیا، مضائقہ ہی کیا!
ادھر آگے شاہراہِ ہجرت کے آخری کنارے پر، بلدہ طیبہ، سر زمینِ پاک میں منور دلوں والی وہ پاکیزہ قوم منتظر کھڑی تھی، قرآن نے جن کی حبِ رسول اور ایثارِ مقبول کی گواہی دی۔ کیسے نگینے لوگ! فرمایا:
''ہجرت کرکے آنے والوں سے انھیں بڑی محبت ہے۔ مہاجرین کو کچھ دیا جائے تو کبھی ان کے دل گھٹن کا شکار نہیں ہوتے۔ وہ مہاجرین پر خود کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود محتاج ہی کیوں نہ ہوں۔''
نفرتوں، عداوتوں ، ظلمتوں اور بغاوتوں کے مارے یثربی آج دلوں میں حبِ رسول کے چراغ جلائے انتظار کے علم اٹھائے چشم براہ کھڑے تھے۔ دیکھا کس طرح دو قدموں کے فاصلے نے یثربیوں کو مدنی اور یثرب کو مدینہ کر دیا۔ اللہ اکبر کیا نظر تھی کہ مردوں کو مسیحا کر دیا۔ وہ بصد شوق اور بہزار اشتیاق آنے والے معززین کے منتظر کھڑے تھے۔ والہانہ شوق سے وہ اس نورِ مبین کے منتظر تھے کہ آنے والا جو ان کے لیے لانے والا تھا۔ کیا تحفے آنے والے تھے، قرآن کے یاقوت، حدیث کے موتی۔ ہر صبح بیرونِ شہر آ کےدیدہ و دل فرشِ راہ کیے وہ ٹھہر جاتے اور دلوں پر شام اترتی تو اگلے دن پھر آنے کے لیے لوٹ جاتے۔

 

کیسےلوگ!
خدا جن کو محبت سے جھانک کے دیکھے، بخدا ایسے لوگ
اور آج !
چودہ سو چالیس ہجری میں،
اس واقعہ کے ٹھیک پندرہ ہزار سال بعد۔
عین وہی دن، عین وہی یومِ امت یا یومِ ہجرت، ہم جیسے قطعی دوسری طرح کے
لوگوں پر طلوع ہو رہا ہے۔
آہ! کیسے دن ، کن لوگوں پر طلوع ہو رہے ہیں۔
آسمان سوچتا تو ہوگا،
زمیں دیکھتی تو ہوگی؟
آخر کیوں ہم بالکل بھی ان جیسے نہ ہو سکے، کہ جنھوں نے رسول رحمت کا استقبال کیا تھا۔
وہ ایک مبارک اسم پر مجتمع ہو گئے تھے تو ہمیں ہماری خواہشات و ترغیبات نے ٹکڑوں بلکہ ٹکڑیوں میں بانٹ ڈالا۔
افسوس، صد افسوس!


اچھا، ان کے بارے قرآن بولتا تھا، کیا ہمارے بارے قرآن کچھ نہیں کہتا؟ کیوں نہیں، قیامت تک رہنمائی دیتا قرآن آج کے مومنوں پر بھی تبصرہ فرماتا ہے:
''ان میں سے ایک گروہ خود اپنے آپ پر ظلم ڈھانے والا ہے، کچھ میانہ روی شعار کرنے والے ہیں اور کچھ تو بتوفیقِ ایزدی نیکی کے معاملے میں سب پر سبقت لے جانے والے بھی۔
آہ! امت کا طاقتور اجتماع آج راستوں پر اڑتی دھول کی طرح منتشر اور بے وقعت ہو چکا۔ چنانچہ ظلم و عدوان کے ہرکارے فرزندان ِ توحید پر ٹوٹ پڑے۔ سرکار کے فرمان کے مطابق جیسے بھوکا کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ انھوں نے ان کے گھر بار اور در و دیار با آسانی قبضے میں لے لیے۔عالم یہ ہے کہ امت کا سب کچھ اغیار پر آج حلال ہو چکا۔

تو کیا اس نئے اسلامی سال کے نقطۂ آغاز پر یہ امت ایک بار پھر سے اس ہجرت کو دہرا بھی سکتی ہے؟ تجدید عہد اور تحدیث عزم کا ارادہ باندھ بھی سکتی ہے؟ کیا پدرم ما سلطان بود کی روش چھوڑ کے اور اسلاف کے تذکروں کے سامنے ناسمجھی سے جھومنے کے علاوہ کوئی جاندار کردار پیش کر بھی سکتی ہے؟ کیا اپنی درخشاں تاریخ کے بیکراں سمندر سے یہ عبرت و سبق کے چند گھونٹ پینے کا موقع نکال بھی سکتی ہے؟

کیا ہمارے بڑے اور بیٹے، اس شب بستر ِرسول پر موت کے سائے تلے سوئے شجیع و شجاع سیدنا علیؓ سے نبی کی حرمت و حمیت پہ مر مٹنے کا سبق سیکھ بھی سکتے ہیں؟
کیا ہماری بناتِ امت سیدہ اسما کی قلیل وسائل کے جمیل استعمال جیسی ذہانت سے نصرت دین کے لیے کچھ مثبت قدریں مرتب کر بھی سکتی ہیں؟
سال بدلنے سے کیا ہمارے غافلوں کے حال بدل سکتے ہیں؟ ایسے کہ باہم بیٹھ کے وہ حاصل و وصول کا بھی کچھ حساب لگائیں، کہ آخر ہم میں سے ہر شخص کا اپنے لیے، اپنے اہلِ خانہ کے لیے اور اس امت کے لیے کیا کنٹری بیوشن ہے؟

ہمارے ہر نئے سال کے آغاز پر ہجرت کا واقعہ ایک جگمگاتا استعارہ بن کے ہمارے سامنے طلوع ہوتا ہے۔ تاکہ جو چاہے اس سے اپنا چراغ روشن کر لے اور جو چاہے غفلت کا کمبل اوڑھے پڑا سوتا رہے۔
یہ تدبر کا مقام ہے مگر صرف سوچنے والوں کے لیے۔ ورنہ تو مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر۔ نادان تو یہ کہہ کر جان چھڑا لیں گے کہ ہجرت تاریخ کا ایک واقعہ تھی، واقعہ، جو ہوچکا، جو گزر چکا۔ بیتی باتوں کا اب کیا مذکور، رات گئی بات گئی۔
لیکن ہم تو دائم چشمۂ وحی سے اپنے زمانے سیراب کرتے رہیں گے۔ سیرتِ پر انوار کے قصوں سے ہدایت کی راہیں تراشتے اور تلاشتے رہیں گے۔ ان شاءاللہ، اسی چشمہ صافی سے ہمارے یقین وایمان کے خشک سوتے پھر سے پھوٹ پڑیں گے۔ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔ یہی فرمان ِ الٰہی بھی ہے۔
''اےنبی! انھیں یہ قصے سنائیے کہ شاید یہ تدبر شعار کرسکیں۔''
اور یہ بھی فرمایا،
''اگر تم خدا کے رسول کی مدد کا بیڑا نہیں اٹھاتے تو نہ اٹھاؤ، خدا تو اس وقت بھی اپنے نبی کی نصرت فرما چکا کہ جب کفار نے اسے یوں گھر سے نکال دیا تھا کہ وہ محض دو ہی لوگ تھے ، اور ان دو میں سے دوسرا خدا کا رسول تھا۔ جب وہ غارِ ثور میں پناہ لیے بیٹھے تھے ،تو اس وقت رسولِ خدا نے اپنے ساتھی سے یہ کہا، غم نہ کرو، خدا ہمارے ساتھ ہے۔ خدا نے ان پر سکینت و سکون کا نزول فرما دیا۔ پھر نظر نہ آنے والے لشکروں سے ان کی مدد فرمائی ۔بالآخر کافروں کی بات پست کی اور اللہ ہی کا کلمہ سر بلند رہنے والا ہے۔ اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔''

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
وہ کتنا سایہ دار شجر تھا
بازيافت- سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
وہ کتنا سایہ دار شجر تھا   مہتاب عزیز   کیا ہی زندہ انسان تھا جو آج ہم میں نہ رہا۔ اس سفید ریش بوڑھ۔۔۔
سنگم
بازيافت- سلف و مشاہير
عبد اللہ منصور
سنگم   عبداللہ منصور کوٹ مٹھن سے ذرا پرے پانچ دریاؤں کا سنگم ،پنج ند واقع ہے۔ وادیوں، گلزاروں، میدانوں ۔۔۔
اسلام کی ’اجارہ دار‘ قومیں
بازيافت- تُراث
حامد كمال الدين
اسلام کی ’اجارہ دار‘ قومیں مسلم روہنگیا پر شرق تا غرب دل تڑپتے دیکھے تو وہ احساسات پھر عود کر۔۔۔
عشرذوالحج.. موحدین کے ’’قومی دن‘‘
اصول- عبادت
بازيافت- تُراث
حامد كمال الدين
عشرذوالحج.. موحدین کے ’’قومی دن‘‘ یہ کچھ خاص دن اُس کی بڑائی کرنے کے... کچھ مبارک ایام..۔۔۔
حُنَفَاء کا حج و قربانی.. اور ’انتھروپالوجسٹوں‘ کا شرک
بازيافت- تُراث
ثقافت- علوم طبعى وسماجى
اصول- عبادت
حامد كمال الدين
حُنَفَاء کا حج و قربانی.. اور ’انتھروپالوجسٹوں‘ کا شرک ’کھنڈر پرستی‘ کی ایک عالمی تحریک جس کا ۔۔۔
مطالعہ تاریخ چند مبادیات
بازيافت- تاريخ
ڈاكٹر محمد عبدہ
مطالعہ تاریخ چند مبادیات ڈاکٹرمحمد عبدہ. ترجمہ: محمد زکریا تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری کے سامن۔۔۔
اولمپکس۔ تاریخی و مذہبی پس منظر
بازيافت- تاريخ
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اولمپکس تاریخی و مذہبی پس منظرتحریر: حامد کمال الدین قدیم دنیا کے سات عجوبے اگر آپ کے مطالعہ سے گزرے ہوں، ی۔۔۔
تاریخ کو آگے بڑھانے کےلیے ذہبیؒ اور ابن کثیرؒ کا ڈسکورس
بازيافت-
حامد كمال الدين
v\:* {behavior:url(#default#VML);} o\:* {behavior:url(#default#VML);} w\:* {behavior:url(#default#VML);}۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز