عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, July 3,2020 | 1441, ذوالقعدة 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
:عنوان

. احوالامت اسلام :کیٹیگری
ذيشان وڑائچ :مصنف



ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ انہوں نے روس کے ساتھ سمجھوتہ کیوں کیا، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کیوں قائم کئے، ترکی نیٹو کا ممبر کیوں ہے؟ اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ اسرائیل کے شہر حیفہ میں جنگل میں لگی آگ کو بجھانے میں انہوں نے مدد دی۔ ویسے بہت سارے مضمرات کے پیش نظر ایک پکے امیر المؤمنین کے لئے بھی دشمن کے علاقے میں لگی آگ کو بجھانے کے بہت سارے جوازات ممکن ہیں لیکن میں ان پر کئے گئے دوسرے اعتراضات کو سامنے رکھ کر کچھ گذارشات پیش کرنا چاہوں گا۔
اس قسم کی الجھن رکھنے والے پرجوش نوجوان پہلے تو جذباتی انداز میں خواہ مخواہ غلط توقعات وابستہ کر کے انہیں اپنا ہیرو بناتے ہیں اور پھر توقعات پوری نہ ہونے پر مایوس ہو کر ان کی مخالفت شروع کردیتے ہیں۔ پہلے ترکی کی صورت حال کوتو سمجھیں اور پھر یہ طئے کریں کہ طیب اردگان صاحب کیا کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور کیا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ موجود عالمی سیاسی نظام میں ریاست اور حکومت ایک ہی شئے نہیں ہے۔ قومی ریاست ایک اجتماعی اکائی ہوتی ہے جس پر براہ راست بیوروکریسی، عدلیہ، فوج، انتظامیہ، پولیس وغیرہ کا کنٹرول ہوتا ہے۔ ان اداروں کے افراد اہلیت کی بنیاد پر اور انتخاب کے بغیر نامزد ہوتے ہیں۔ انہیں عوام سے کوئی ووٹ لینا نہیں ہوتا۔ چونکہ ریاست کی اہل اور قابل افرادی قوت کی ذہنی تربیت تعلیمی نظام کے ذریعے  تشکیل پاتی ہے اس لیے ریاست کا تعلیمی نظام ان اداروں کی شناخت اور فیبرک کی تشکیل پر دور رس اثر ڈالتا ہے۔ ذرائع ابلاغ بھی اپنے پروپیگنڈے کی قوت کی وجہ سے ریاست پر فوری طور پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک منتخب حکومت اگرچیکہ کافی اہمیت کی حامل ہوتی ہے لیکن مختصر عرصے میں ریاست کے رخ، پالیسی اور شناخت کو تبدیل کر کے رکھ دے یہ ممکن نہیں ہوتا۔ یہ کوئی بادشاہت نہیں ہے جہاں پر بادشاہ کے ایک حکم پر سب کچھ ہوجائے۔ آج کے دور میں اگر کوئی منتخب حکمران ریاست کی فیبرک کو تبدیل کرنے میں تھوڑی سی بھی جلد بازی دکھائے تو فوج اس کو اکھاڑ پھینکتی ہے اور عدلیہ سیکولر فوج کے اس اقدام کو جواز دینے کے لئے تیار رہتی ہے۔ اسی بات کو سامنے رکھ کر آپ الجیریا اور مصر اور پھر حالیہ تناظر میں ترکی کو دیکھ سکتے ہیں۔
آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ ترکی ایک سیکولر ریاست ہے اور جبری سیکولرزم کے ساتھ اس کی تین نسلیں گذر چکی ہیں۔
سیکولر ریاست کے حوالے سے اوپر جو تشریح کی گئی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک سیکولر ریاست میں اسلام پسندوں کے پاس مندرجہ ذیل آپشن ہوتے ہیں۔
اول: چونکہ آپ سربراہ ہو کر بھی ریاست کو اسلامائز نہیں کرسکتے اس لئے سیاست میں حصہ نہ لیں۔ اس طرح آپ کفر کے فیصلہ کرنے سے بچ جائیں گے اور ریاست اپنا کفریہ نظام آرام سے مسلم عوام پر نافذ کرتی رہے گی۔ ایسی صورت میں یہ ہوسکتا ہے کہ آپ پریشر گروپ کے طور پر کام کریں اور احتجاج وغیرہ سے ریاستی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کریں۔ یا پھر کوئی غیر سیاسی ادارہ بنا کر معاشعرے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں اور امید رکھ سکتے ہیں کہ آپ کی یہ خاموش کاوش کسی دن "ریاست" کی فیبرک تبدیل کردیگی۔
دوم: آپ سیاست میں حصہ لیں اور ریاست کو فی الفور تبدیل کرنے کی کوشش کریں اور اس بات کا انتظار کریں کہ بین الاقوامی قوتوں کی حمایت سے فوج اور عدالت مل کر آپ کا تختہ پلٹ دے اور پھر تختہ دار تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اور پھر کوئی دوسرا زندیق حکمران آرام سے آکر عوام پر کفریہ نظام چلاتے رہے۔
سوم: آپ سیاست میں حصہ لیں اور بطور سربراہ مملکت دھیرے دھیرے فوج، عدلیہ اور انتظامیہ پر اثر انداز ہونا شروع ہوجائیں۔ بین الاقوامی معاملے میں مسلمانوں کی تھوڑی بہت حمایت کریں لیکن کھل کر اپنے آپ کو مسلمانوں کے نجات دہندہ کے طور پر پیش نہ کریں۔ ایسا کرتے ہوئے آپ کو بہت سارے ناجائز بلکہ حرام بلکہ کفریہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری کرنی پڑیگی اور آپ چاہنے کے باوجود ان معاہدوں اور قوانین کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے۔ اس کے نتیجہ میں آپ کب اسلامی حکومت قائم کر سکتے ہیں اور آیا کر بھی سکتے ہیں یا نہیں یہ یقینی طور نہیں کہہ سکتے۔ لیکن اس پوزیشن میں رہتے ہوئے بہت سارے بین الاقوامی معاملوں میں مسلمانوں کے حق میں اپنا وزن ڈال سکتے ہیں۔
اب ان تین طرز عمل میں کونسا صحیح ہے اس کا فیصلہ آپ خود کریں۔ طیب ارگان نے تیسرے طرز عمل کو اختیار کیا۔ آپ کو پورا حق ہے کہ آپ ان سے اختلاف رکھیں اور کھل کا اس کا اظہار کریں۔ لیکن ان کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے یا ان سے کسی قسم کی توقع رکھتے ہوئے پوری صورت حال کو سامنے رکھیں۔
یہ تو رہی اس بات کی تشریح کی ایک سیکولر ریاست میں منتخبہ اسلام پسند حکومت کیا کچھ کر سکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ترکی کے عوام کی ایک تعداد نے اسلامی جذبے کی وجہ سے طیب اردگان کو ووٹ دیا ہو، لیکن اردگان ترکی کے ہیرو اس لیے ہیں کیوں کہ انہوں نے ترکی کی معاشی ترقی میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ اس لئے عوام کا اصل ووٹ انہیں معاشی ترقی کے لئے ملا ہے نہ کہ اسلام پسند ہونے کی وجہ سے۔ اگر ہم یہاں پر بیٹھ کر یہ توقع کریں کہ ارگان کی کسی "اسلام پسندانہ مہم جوئی" کی وجہ سے اگر ترکی پر بین الاقوامی سطح پر معاشی پابندی پڑی تو عوام ان کو برداشت کریں گے تو یہ ایک کھلی حماقت ہوگی۔
اب یہی دیکھیں کہ کچھ دنوں پہلے طیب اردگان کی حکومت نے ایک نیا قانون متعارف کروایا جس پر خواہ مخواہ اتنا اعتراض کیا گیا کہ انہیں یہ قانون نافذ کرنے سے پہلے واپس لینا پڑا۔
ترکی میں قانونی اعتبار سے age of consent یا جنسی معاملے میں رضامندی کی عمر اٹھارہ سال ہے۔ اگر کسی مرد نے اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا چاہے وہ آپسی رضامندی سے ہو اور چاہے ان کی شادی بھی ہوچکی ہو تو بھی اس کو ریپ ہی گردانا جاتا ہے۔ لیکن دور دراز کے علاقوں میں جہاں پر لوگوں کو قانون کا پورا پتہ نہیں ہوتا تو لڑکی کی شادی کم عمری میں بھی ہوجاتی ہے۔ اس میں لڑکی اور لڑکے کے والدین کی کم علمی کا بھی مسئلہ ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کی صورت میں معاملہ عدالت میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے لڑکا جیل میں ڈال دیا جاتا ہے جبکہ لڑکے اور لڑکی دونوں کے والدین کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ انہوں نے کوئی قانون توڑا ہے۔ اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میاں بیوی کا بچہ بھی ہوتا اور پھر بعد میں لڑکا لاعلمی کی وجہ سے پابند سلاسل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے خاندان ٹوٹ جاتا ہے اور لڑکی کو سب سے زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔ بقول ترکی کے وزیر اعظم کے اس قانون کا مقصد یہ تھا کہ ایک مختصر عرصے کے لئے اس قانون کو نافذ کر کے جو شادیاں کم عمری میں ہوچکی ہیں ایک بار ان کو قانونی تحفظ دے دیا جائے اور پھر لوگوں کو کم عمری کی شادی سے روک دیا جائے۔ اور پھر اس قانون کو معطل کر دیا جائے۔
اب کوئی سمجھدار شخص جو اس قانون کے مضمرات اور مقصد کو سامنے رکھے گا وہ اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ لیکن ترکی کے لبرلوں نے اور بین الاقوامی میڈیا نے اس قانون کی اس طرح سے تشہیر کی کہ نئے قانون کے مطابق اگر کوئی ریپسٹ لڑکی سےشادی کر لے تو ریپسٹ کی سزا معاف کردی جائے گی۔ اتنا دباؤ پڑا کہ مناسب ہونے کے باجود حکومت کو قانون واپس لینا پڑا۔ بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں ایک تبصرہ نگار نے اس قانون کو اس بات سے تعبیر کیا کہ اردگان ترکی کے قانون کو کچھ نہ کچھ اسلامائز کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس واقعے اور اس پر مبنی پراپیگنڈے سے ہمیں یہ سمجھ جانا چاہئے کہ ترکی میں  ایک لبرل طبقہ اس پر تلا ہوا بیٹھا ہے کہ اردگان کچھ تو ایسا کریں اور پھر وہ ان کے خلاف ایک احتجاجی تحریک شروع کی جائے۔
تو میرے پرجوش اسلام پسند دوستو، اگر ان مجبوریوں کے ساتھ آپ کو ارگان قبول نہیں ہیں تو اس بنیاد پر اردگان کی مخالفت کریں کہ انہوں نے الیکشن لڑ کر ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے۔ لیکن ایک کٹر سیکولر ریاست کے صدر ہونے کے پیش نظر ان سے غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔ بار بار مایوسی ہوتی رہے گی۔ ہاں اگر مجبوری کی وجہ مثالیت پرستی پر سمجھوتہ کر سکتے ہو تو پھر ان کے اقدامات کی تعبیر ان کی مجبوریوں کے پیش نظر کرو۔
Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ
جہاد-
احوال-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت!
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
ڈیل آف دی سینچری… مسئلۂ فلسطین کے ساتھ ٹرمپ کی زورآزمائی
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
ڈیل آف سنچری ، فلسطین اور امریکہ
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ترک حکمران پارٹی سے وابستہ "اسلامی" توقعات اور واقعیت پسندی حامد کمال الدین ذیل میں میری ۔۔۔
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
جہاد- تحريك
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
تحريك
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز