عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 16,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 7
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
:عنوان

جمہوریت کی بنا پر زرداری جیسے لیڈروں کو پاکستان کا نمائندہ قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں عوام کے نمائندے کو چننے کے معاملے میں جمہوریت کو ایک اتفاقی اصول کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جبکہ اسلامی تاریخ میں ایسی

. باطل > فرقے > اعتزال :کیٹیگری
ادارہ :مصنف

ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو دیکھ لوں۔ ویسے غامدی کی ویڈیوں دیکھنا میرے لئے انتہائی مشکل ہے لیکن ان بھائی کے اصرار پر میں نے بادل ناخواستہ دیکھ ہی لیا۔ ان کی ویڈیو دیکھنے کے بعد میرا اس بارے میں جو علمی اختلاف ہے اس کو کچھ نکات کے طور میں یہاں پر بیان کر رہا ہوں۔

ویڈیو لنک یہ ہے۔


۱۔ جہاد کے لئے ایک منظم حکومت کی شرط جہاد کو معطل کرنے کے برابر ہے۔ اقدامی جہاد کے لئے لازمی طور پر ایک منظم حکومت کی شرط ہے لیکن آپ کے گھر پر حملہ ہونے کی صورت میں ایسی کوئی شرط غلط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کی حکومت ٹوٹ گئی تو جہاد معطل ہوجائے گا۔ بالفاظ دیگر اگر کوئی طاقتور قوت آپ کی حکومت کو ختم کردے تو جہاد ناجائز ہوجاتا ہے۔ اس اصول سے تو دنیا کی ہر بڑی اور ظالم حکومت خوش ہی ہوگی۔ تدبیر، پلاننگ اور حکمت علمی ضرور ہونی چاہئے۔ لیکن اس کے لئے ایسی شرائط کا بیان کرنا دراصل جہاد کو معطل کرنے کے برابر۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا عالم اسلام میں اسلام کی کوئی سیاسی قیادت ہے بھی یا نہیں؟ پوری بات میں ایک چیز کو فرض کو کر لیا گیا ہے کہ بعد از استعماروالی مسلمانوں کی سیاسی لیڈرشپ کو حقیقی لیڈرشپ مانا جائے۔ اس پوری جہادی تحریک کے تحت تو سب سے بڑا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ عالم اسلام کے پاس اس وقت قیادت ہی نہیں ہے۔ یہ تو کچھ چہرے ہیں جو استعمار کا ہی تسلسل ہیں۔ آپ عالم اسلام کی پچھلی ساٹھ ستر سال کی تاریخ دیکھیں، جہاں پر بھی اسی استعماری اقتدار کے تسلسل کو توڑنے کی کوشش کی گئی وہاں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ موجودہ صورت حال کو ہم ایسے دیکھتے ہیں کہ ہمارے پاس قیادت ہے نہیں۔ اور کہیں پر قیادت قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دہشت گرد اور بنیاد پرست قرار دے کے انہیں قتل کردیا جاتا ہے۔ بنیادی بحث ہی یہ ہونی چاہئے کہ اگر عالم اسلام کی کوئی حقیقی سیاسی قیادت ہے نہیں تو کیا کیا جائے؟

یہ حقیقی قیادت تو جہاد کے ذریعے سے ہی وجود میں آئے گی!

۲۔ اخلاقی مزاحمت۔ غامدی صاحب نے جہادی تحریکوں کو چھوڑکر اخلاقی مزاحمت کی وکالت کی ہے۔ یہ بات ایک مفروضےکے طور پر بیان ہوئی ہے کہ دنیا کی حکومتیں اپنے آپ کو کسی قسم کے اخلاقی اصولوں کا پابند مانتی ہیں۔ ۔ دنیا کی بڑی قومیں صرف اپنے ملک اور عوام کے معاملے میں کسی اخلاقی اصولوں کو مانتی ہے۔ وہ بھی صرف عوام کے اندر اخلاقی تأثر کو باقی رکھنے کے لئے۔ رہی قومی مفاد کی بات تو یہ قوتیں نہ صرف اپنے آپ کو اخلاقی اعتبار سے مکمل آزاد سمجھتی ہیں بلکہ اس معاملے میں انتہائی بے شرم واقع ہوئی ہیں۔ عراق پر حملے کی خلاف انہیں ممالک میں سب سے بڑے احتجاجی جلوس ہوئے۔ لیکن ان چیزوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ عراق پر حملے کے لئے بش نے جو دو جوازات پیش کئے تھے وہ دونوں غلط ثابت ہوئے اور امریکہ نے اس کا غلط ثابت ہونا تسلیم بھی کرلیا۔ اس کے باوجود امریکی اخلاقی حالت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ بہت سارے امریکی دانشوروں نے امریکی حکومت پر سخت تنقیدیں کیں۔ کوئی فرق پڑا؟ سابقہ امریکی خارجہ سکریٹری میڈیلین البرائٹ کو جب پوچھا گیا کہ عراق پر پابندیوں کی وجہ سے پچاس لاکھ بچے مرگئے تو کیا یہ چیز قابل قبول ہے تو موصوفہ نے کہا کہ ہاں یہ قابل قبول ہے۔

ویتنام پر حملے کے معاملے میں امریکہ پر اندرونی اور بیروبی اعتبار سے سب سے زیادہ دباؤ پڑا۔ اس کے باوجود امریکہ پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ امریکی حکومت پر اخلاقی دباؤ جبھی پڑا جب بکثرت امریکی فوجیوں کے تابوت وہاں پر پہونچنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ اخلاقی دباؤ بڑی قوموں پر جبھی کام کرتا جب قومی پرچم میں لپیٹے ان کے اپنے بیٹوں کی لاشیں ان کے یہاں پر پہونچنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ مغربی ممالک عالم اسلام کے معاملے میں کسی اخلاقی دباؤ کو محسوس کرتے تو بات یہاں تک آتی ہی نہیں۔ غامدی صاحب نے یہ ایک مفروضہ گھڑا ہے کہ یہ لوگ عالمی اور قومی معاملات میں کسی اخلاقی اصول کے پابند بھی ہیں۔ اگر غامدی صاحب مغرب کے اخلاقی اصولوں کو اتنا ہی مانتے ہیں تو پھر جہاد کے معطل کرانے کی ان کی یہ کوشش کم از کم قابل فہم ضرور ہے۔ ایک غلط مفروضے کی بنیاد پر مسلمانوں کو گمراہ کرنا اتنہائی گمراہ کن ہے۔

اخلاقی اور سیاسی مزاحمت کے معاملے میں بار بار قائد اعظم کی جدوجہد کی مثال دے رہے ہیں۔ لیکن قائد اعظم نے برٹش گورنمنٹ کے خلاف کوئی جد و جہد کی ہی نہیں! مزید یہ ہے کہ جب مجاہدین کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں وہاں پر "دیگر عوامل" کا چکر شروع کردیتے ہیں۔ لیکن جب آزادی اور پاکستان بنانے والے پر امن احتجاج کی کامیابی کی بات ہوتی ہے تو دیگر عوامل غائب ہوجاتے ہیں، جبکہ یہاں دیگر عوامل کے ہونے کا احتمال بہت زیادہ موجود ہے۔ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے برٹش گورنمنٹ انتہائی کمزور ہوگئی تھی اور اس کے پاس ان ممالک کو سنبھالنے کے وسائل تھے نہیں۔ دوسرے یہ کہ قائد اعظم کی کامیابی کی اصل وجہ ان کا دیندار نہ ہونا بھی ہوسکتا ہے۔ کم از کم اس معاملے میں برطانیہ کو اس بات کی تسلی تھی کہ قیادت غیر مذہبی قوتوں کے پاس جارہی ہے۔

۳۔ اخلاقی اور سیاسی مزاحمت کرنے کا ایک واضح مطلب یہ ہے کہ آپ مغرب کے اخلاقی اور سیاسی معیارات، جیسے حقوق انسانی، مساوات اور آزادی کے مغربی تصور کو قبول کریں۔ اگر یہی کرنا ہے تو پھر کسی مزاحمت کی ضرورت ہی کیا ہے۔ آپ نے ویسے ہی مغرب کو قبول کیا ہوا ہے۔ آپ اس جہادی جدوجہد کو اس نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم ہورہا اور ہم اس کی مزاحمت کر رہے ہیں۔ جبکہ اس کا ایک خالص نظریاتی پہلو ہے۔ مغرب صرف ہتھیاروں کی طاقت نہیں بلکہ اس کی اصل قوت تو اس کے نظریات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے نظریات کو قبول کرنے کے بعد ہمارے پاس مزاحمت کی بنیاد ہی کیا رہ جائے گی؟ اگر مسلمان بھی انسانوں کے اجتماعی معاملے میں دین کو نکال کر مغرب کے سیکولر نظریات کو قبول کریں، تو میں آپ کو پورا یقین دلاتا ہوں کہ ہمیں مزاحمت کی ضرورت قطعی طور پر نہیں پڑے گا۔ فلسطینیوں کے رہنے کے لئے کوئی اور زمین میسر آجائے گی۔

۴۔ غامدی صاحب اپنی بات کی تائید کے لئے نتائج کی مثال دیتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی جہادی تحریکوں کے کسی مثبت نتیجے کی بات کی جاتی ہے تو فوراً بات کو شرعی حکم اور دیگر عوامل کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ یہ ایک کھلا ہوا تضاد ہے۔ کشمیر میں جب پر امن طور پر سیاسی احتجاج کے باوجود کوئی نتیجہ نہ نکلنے کی بات کرتے ہیں تو بات کو شرعی احکامات کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ یعنی نتائج کو دیکھ کر فیصلہ کرنا جبھی صحیح ہے جب وہ غامدی صاحب کی تائید میں ہو۔

۵۔ جمہوریت کی بنا پر زرداری جیسے لیڈروں کو پاکستان کا نمائندہ قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں عوام کے نمائندے کو چننے کے معاملے میں جمہوریت کو ایک اتفاقی اصول کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جبکہ اسلامی تاریخ میں ایسی کوئی مثال ہمیں ملتی نہیں۔ دوسرے یہ کہ زرداری جیسے لیڈروں کا پاکستان کا قائد بننا خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس نظام کے تحت گھٹیا سے گھٹیا قسم کا شخص قوم کا نمائندہ بنتا ہے۔ انتخابی نظام میں اتنی خامیاں ہیں کہ اسے مغرب میں بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ ایک سیدھی سی مثال ہے، کیا بغیر پیسے کے ایک اچھا فرد انتخاب جیت سکتا ہے؟؟ اسی طرح سے قومی ریاست کو انسانون کو تقسیم کرنے کی بنیاد تسلیم کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ نے مغرب کو بطور دین قبول کیا ہوا ہے۔ جب آپ نے دین مغرب کو قبول ہی کیا ہے تو پھر جہاد کا معطل ہونا قابل فہم ہے۔ جب آپ کسی کو نظریاتی اعتبار سے حریف ہی نہیں مانتے تو جہاد کی تائید کیوں کریں گے؟اس ہوری بحث سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ غامدی صاحب نے مغرب کے اس وقت کے گلوبل اخلاقی معیارات کو دلی طور پر قبول کیا ہوا ہے۔ اور وہ یہاں پر اسلام کو مغرب کے نظریاتی اور فکری فریم ورک میں کہیں فٹ کرنے کے چکر میں ہیں۔ ایسی باتیں کہہ کر کچھ کم علموں کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے اور بس۔ 

۶۔ مادی وسائل حاص کرنے کے لئے وقفے کو بڑھانے کا نکتہ ہے تو بہت ہی جاندار۔ لیکن یہاں پر آپ جن وسائل کی بات کر رہے ہیں وہ سب کے سب مغرب کے پاس ہیں۔ اس کو حاصل کرنے کے لئے آپ کے پاس مضبوط اور آزاد حکومت ہونا چاہئے جو کہ آُپ کے پاس ہے نہیں۔ اور اگر کوئی مغرب سے بے نیاز ہونے کی کوشش کرے تو اس پر پابندیاں اور الزامات لگا کر اسے ختم یا انتہائی کمزور کیا جاتا ہے۔ آ جا کر یہ وقفہ ہی آپ کا "معمول" بن جاتا ہے جو کہ جہاد کے معطل ہونے کا انتہائی اہم ذریعہ ہے۔ اگر آپ خود سے ان وسائل کو بنانے کی کوشش کریں گے تو بھی آپ ہمیشہ ان سے پیچھے رہیں گے۔ اگر انہیں شبہ بھی ہوا کہ آپ ان سے آگے بڑھ سکتے ہیں تو کسی نہ کسی بہانے ایک اور عراق برپا کیا جاسکتا۔ اور عراق نہیں تو ایران تو آسانی کے ساتھ برپا کیا جاسکتا ہے۔ ہے یا نہیں؟

۷۔ مغربی اخلاقیات کے حوالے سے غامدی صاحب کا یہ کہنا ہے کہ اگر افغانستان یا ایران میں ایک منتخب جمہوری حکومت ہوتی تو وہ وہاں ہر حملہ کرنے کی جرأت ہی نہ کرتا۔ میں اس دلیل کو ویسے تو نہیں مانتا۔ لیکن اگر مان بھی لیا جائے تو اس کو دوسرے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ ایک منتخب حکومت اگر مغربی مفادات کے خلاف جائے تو اس پر اتنی پابندیاں لگائی جاتی ہیں کہ اس کے اپنے ملک کے عوام اور کاروباری لوگ تنگ آجاتے ہیں۔ اور حکومت کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی پالیسی مغرب کے حق میں تبدیل کردے۔ ایران کی مثال سامنے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک منتخب حکومت ہونے کی صورت میں مغرب بغیر جنگ کے اپنا مفاد حاصل کرلیتا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس منتخب حکومت کا تختہ پلٹ دیا جاتا ہے اور اپنی مرضی کا ڈکٹیٹر مسلط کردیا جاتا ہے۔ مصر کی مثال سامنے ہے۔

تو جناب غامدی صاحب نے جو اتنی سمجھداری کی باتیں کی ہیں وہ باتیں انہیں ہی اچھی لگتی ہیں جو کہ پہلے سے ہی ان سے متفق ہیں اور غامدی سے آگے سوچنے کے قابل ہیں نہیں۔ کچھ اور نکات ہیں جس پر لکھنے کے لئے دل کر رہا ہے لیکن میری کاہلی اجازت نہیں دیتی۔ موقعہ ملا تو تو شاید مزید لکھوں اس بارے میں۔

آخر میں ایک نکتہ بالکل ہی واضح ہو۔ میں نے اس تحریر میں کہیں پر بھی جہاد کی تائید میں کچھ نہیں لکھا ہے۔ اور میں نے یہاں پر جہاد کے شرائط بھی نہیں لکھے اور نہ ہی یہ واضح کیا ہے کہ کونسا جہاد صحیح ہے اور کونسا غلط۔ اس تحریر کے لکھنے کا مقصد یہ تھا ہی نہیں۔ یہ لکھنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ غامدی صاحب نے جو باتیں کی ہیں مجھے اس سے علمی اختلاف ہے۔ اور میں نے بس صرف اس علمی اختلاف کا اظہار کیا ہے۔

ویسے ایک بات اور واضح کردوں کہ موصوف کی کچھ باتیں قابل غور ضرور ہیں۔ لیکن ان کی اہمیت جبھی ہے جب کہ وہ جہاد کے اصولی بنیادوں  کو تسلیم کر لیں۔ماخوذ
Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
جوازِ اقتدار (لیجی ٹی میسی) اور ہیومنسٹ جاہلیت
باطل- نظام
حامد كمال الدين
ابن تیمیہ کی ’’خلافت و ملوکیت‘‘ پر تعلیق 29[1] جوازِ اقتدار legitimacy  اور ہیومنسٹ جاہلیت یہا۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز