عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
دیوالی کی مٹھائی
:عنوان

اس وقت مسلمانوں کو اگر دنیا کے کسی مذہب سے خطرہ ہے تو اسی الحادی سیکولرازم سے ہے ۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور دیکھیں۔ مسئلہ محض " مٹھائیوں" کا نہیں رہ گیا۔ بات دیوالی منانے اور گنپتی بٹھانے تک پہنچ گئی ہے ۔

. باطلاديان :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

دیوالی کی مٹھائی

تحریر: سرفراز فیضی
(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی )

*سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا اور اس کی مٹھائیاں کھانا صحیح ہے ؟
*جواب* : اگر دیوالی منانا صحیح ہے تو اس کی مبارک باد دینا بھی صحیح ہے اور اس کی مٹھائیاں کھانا بھی درست اور اگر منانا ہی غلط ہے تو غلط کام پر مبارک باد دینا اور مٹھائیاں کھانا صحیح کیسے ہوسکتا ہے ؟
ایک بندہ شرک کررہا ہے ۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کو اس کے شرک سے روکیں. آپ بجائے روکنے کے الٹا مبارک باد دے رہے ہیں اور خوشی میں مٹھائیاں کھارہے ۔ یہ کیا بات ہوئی؟ ذرا غور کریں یہود تو اہل کتاب میں سے تھے ۔ دو تین نبیوں کو چھوڑ کر وہ ان سارے انبیاء کو ماننے والے تھے جن کو مسلمان مانتے تھے ۔ دوسرے مشرکین کی بنسبت مسلمانوں سے ان کی قربت ایک درجہ زیادہ تھی۔ پھر وہ عاشورہ کا روزہ بھی کوئی دیوی دیوتاؤں سے کی عبادت یا عقیدت کی وجہ سے نہیں رکھتے تھے ۔ ان کا روزہ ایک نبی کی فتح اور طاغوت کی شکست پر اللہ کے لیے شکرانہ تھا۔ مسلمانوں کے لیے یہود سے "بھائی چارگی " "محبت" " تالیف قلب" اور "تقارب" کے لیے اس بہتر موقع کیا ہوسکتا تھا۔ لیکن شریعت نے یہاں اس "نیکی" میں بھی یہود سے مسلمانوں کی مشابہت قبول نہیں کی ۔ قوم رسول ہاشمی کی ترکیب خاص کی حدیں ہمیشہ کفار سے ، ان کے "کفر" سے ،ان کی "تہذیب" ، "ثقافت" اور ان کی "عیدوں" اور "تہواروں" سے صاف صاف الگ ہونی چاہیے ۔ تو حکم دیا گیا کہ اس امر میں یہود سے مشابہت نہیں ہونی چاہیے اس لیے ایک دن پہلے بھی روزہ رکھو کہ ان کہ مخالفت ہو۔ 
اب آئیے دیوالی کی طرف!!!
دیوالی کیا ہے؟ ایک ایسی مشرک قوم کا تہوار جس کے معبودوں کی گنتی شمار سے باہر ہے ۔
منائی کسی لیے جاتی ہے یہ دیوالی ؟ لکشمی دیوی کی تعظیم اور عبادت میں جو ان کفّار کے عقیدہ کے مطابق مالداری اور خوشحالی بانٹنے والی دیوی ہے ۔ دیوالی میں ہوتا کیا ہے؟ لکشمی کی پوچا ۔ یعنی اللہ کے ساتھ کھلم کھلا کا شرک۔ ربوبیت کا بھی الوہیت کا بھی۔ 
اب شرک کے مقابلہ میں مسلمان کا ردّ عمل کیا ہونا چاہیے؟
پہلا ردّ عمل تو یہ ہونا چاہیے کہ اللہ نے طاقت دی ہو تو اس شرک کو اس کی بنیادوں سے اکھاڑ کر پھینک دو۔ لیکن وہ ہم کرنہیں سکتے کیونکہ موجودہ صورت حال میں اس کی نہ گنجائش ہے نہ اجازت۔ اس کے بعد "دوسرا مرحلہ" ہے کہ زبان سے اس کا ردّ کرو اور حجّت قائم کردو۔ وہ بھی نہیں کرسکتے تو کم سے کم دل میں اس عمل سے گھن کھاؤ ، برا جانوں اور تکلیف محسوس کرو۔ یہ ایمان کا آخری درجہ ہے ۔ 
اب جب اس شرک کی خوشی میں بنٹنے والی مٹھائی چٹخارے لے لے کر کھائیں گے تو یہ ایمان کا آخری درجہ بھی بچا؟ 
مالکم کیف تحکمون!

🔲 مغلوب قوم کے تحفّظات 🔲
ایک بات یہ بھی یاد رکھیں! مغلوب قوموں کے احکام غالب قوموں سے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔اس وقت مسلمانوں کو اگر دنیا کے کسی مذہب سے خطرہ ہے تو اسی الحادی سیکولرازم سے ہے ۔ 
اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور دیکھیں۔ مسئلہ محض " مٹھائیوں" کا نہیں رہ گیا۔ بات دیوالی منانے اور گنپتی بٹھانے تک پہنچ گئی ہے ۔ 
اس کھلے شرک اور کفر تک پہنچنے کے راستے اسی "مٹھائی" سے کھلتے ہیں ۔ لہذا ضروری ہے کہ یہ "پہلا دروازہ" ہی بند کردیا جائے ۔ لہذا سدّ ذریعہ بھی ایک بڑی وجہ ان "تحائف" کی حرمت کی ہیں ۔

🔲 "خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی" 🔲 
تہوار کسی بھی ملّت کی ثقافت و تہذیب کے نمائندہ اور اس کی اقدار اور روایات کے ترجمان اور اس قوم کا شعار ہوتے ہیں ۔ اسلام کیونکہ ایک مستقل دین ہے لہذا اس کی اپنے تہوار ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کی بعثت کے بعد جب اسلام نے جاہلیت کو ختم کیا تو اس کے تہواروں پر بھی خط تنسیخ کھینچ دی ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ دورِ جاہلیت میں مدینہ کے لوگ سال میں دو تہوار منایا کرتے تھے۔جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے تو (صحابہ کرام سے) فرمایا: (وقد أبدلکم الله بهما خيرا منهما: يوم الفطر و يوم الأضحی) (صحیح سنن نسائی؛ ۱۴۶۵)
”اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دونوں تہواروں کے بدلہ میں دو اور تہوار عطاکردیئے ہیں جو ان سے بہتر ہیں اور وہ ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔“
اسلام کا مزاج اس بات کو قبول ہی نہیں کرتا کہ اس کے ماننے والے کسی دوسری قوم کے ساتھ ان کے تہواروں میں کسی بھی طور پر شریک ہوں. کفّار کے ان تہواروں میں کسی بھی طرح کی شرکت ان کی مشابہت ہے جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم نے سختی سے منع فرمایا ہے. ارشاد ہے: " جس نے بھى كسى قوم سے مشابہت اختيار كى وہ انہي ميں سے ہے "
(سنن ابو داود كتاب اللباس حديث نمبر ( 3512 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 3401 ) ميں اسے حسن صحيح قرار ديا ہے.)

🔲 سعودی عرب کی دائمی فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ 🔲

*ہندؤوں کے تہوار کے موقع پر دکان سے خرید کردی جانے والی مٹھائیوں کا حکم*

*سوال* : ہندستان میں ہندؤں ( بت پرستوں) کے بہت سارے تہوار ہوتے ہیں ۔ جن میں وہ اپنے پڑوس میں مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں جیسے ہمارے یہاں عیدالفطر میں تقسیم کی جاتی ہیں ۔ اس مسئلہ میں وہاں اختلاف ہے ۔ بعض حضرات اس کو حلال بتاتے ہیں کیونکہ وہ ذبیحہ نہیں ہے ۔ اور بعض حضرات اسے حرام قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ غیراللہ کے نام کا ہے ۔ یہ واضح رہے کہ یہ مٹھائیاں گھر میں نہیں بنائی جاتی بلکہ دکان سے خرید کر دی جاتی ہیں ۔ اس مسئلہ میں شرعی حکم کیا ہے بتائیں !
*جواب* :بت پرست اور دیگر کفّار اپنے تہواروں میں دینی مناسبت سے جو تحفے دیتے ہیں ان کا قبول کرنا اور ان سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ *ان تحفوں کے قبول کرنے کا مطلب ان کے باطل کو تسلیم کرلینا اور ان کے اعمال سے راضی ہوجانا ہے۔*
لہذا مسلمان کو ان سے بچنا چاہیے اور اپنے دین کے معاملہ میں محتاط رہنا چاہیے ۔ 
اللہ ہی توفیق دینے والا ہے ۔ درود ہو ہمارے نبی محمّد صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلّم 
*اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والافتاء فتویٰ نمبر: 20400*

الرئیس: عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز 
نائب الرئیس :عبدالعزیز آل الشیخ
عضو :عبداللہ بن الغدیان ، عضو : صالح الفوزان عضو :بکر ابوزید

🔲 *بعض آثار کی تحقیق* 🔲

کفّار کے تہوار کے مواقع پر ان کے تحائف قبول کرنے سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملنے والی بعض روایات سے ان تحائف کے قبول کرنے کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے. *اس حوالہ سے جو بھی روایات صحابہ سے ملتی ہیں ان میں سے کوئی بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے.* ان آثار کی تحقیق محترم دوست فاضل محقق *شیخ کفایت اللہ سنابلی* کے قلم سے ملاحظہ فرمائیں:
*(۱)اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کا اثر 
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
*حدثنا جرير ، عن قابوس ، عن أبيه ؛ أن امرأة سألت عائشة قالت : إن لنا أظآرا من المجوس ، وإنه يكون لهم العيد فيهدون لنا ؟ فقالت : أما ما ذبح لذلك اليوم فلا تأكلوا ، ولكن كلوا من أشجارهم*
قابوس بن ابی ظبیان اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھتے ہوئے کہا: ہماری کچھ مجوسی پڑوسن ہیں ، اوران کے تیوہار کے دن ہوتے ہیں جن میں وہ ہمیں ہدیہ دیتے ہیں ، اس کا کیا حکم ہے؟ تو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اس دن جو چیز ذبح کی جائے اسے نہ کھاؤ ، لیکن ان کی طرف سے سزی اور پھل کی شکل میں جو ملے اسے کھالو۔[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 8/ 87]
یہ روایت ضعیف ہے اس کی سند میں موجود *”قابوس بن أبي ظبيان الجنبي“ضعیف راوی ہے۔*
امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
ليس هو بذاك وقال سئل جرير عن شيء من أحاديث قابوس فقال نفق قابوس نفق[العلل ومعرفة الرجال لأحمد، ت وصي: 1/ 389]

امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
ضعيف الحَديث لين، يكتب حَديثه، ولا يحتج به[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 7/ 145]
امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
كان رديء الحفظ يتفرد عن أبيه بما لا أصل له [المجروحين لابن حبان: 2/ 216]
امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
ضعيف، ولكن لا يترك[سؤالات البرقاني للدارقطني، ت الأزهري: ص: 121]

بعض ائمہ نے اس کی توثیق کی ہے لیکن اس کی تضعیف ہی راجح ہے ۔
نیزاس اثر کے راوی جریربن عبدالحمید کہتے ہیں:
أتينا قابوس بعد فساده[التاريخ الكبير للبخاري: 7/ 193 واسنادہ صحیح]
اس سے معلوم ہواکہ جریر نے جس حالت میں اس سے روایت لی ہے اس حالت میں یہ ضعیف تھے ۔
لہٰذا یہ اثر ہر حال میں ضعیف وغیرمقبول ہے۔
(۲) *ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کا اثر:*
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
*حدثنا وكيع ، عن الحسن بن حكيم ، عن أمه ، عن أبي برزة ؛ أنه كان له سكان مجوس ، فكانوا يهدون له في النيروز والمهرجان ، فكان يقول لأهله : ما كان من فاكهة فكلوه ، وما كان من غير ذلك فردوه* 
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے کچھ مجوسی پڑوسی تھے جو انہیں نیروز اور مہرجان کے تیوہاروں میں ہدیہ دیتے تھے ، تو آپ اپنے گھروالوں سے کہتے تھے کہ : میوے کی شکل میں جوچیز ہو اسے کھالو اور اس کے علاوہ جو ہو اسے لوٹادو[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 8/ 88]
یہ روایت بھی ضعیف ہے کیونکہ *”الحسن بن حکیم“ کی ”والدہ“ کا تعارف اور ان کی توثیق کہیں نہیں ملتی لہذا یہ مجہولہ ہیں۔*

(۳) *علی رضی اللہ عنہ کا اثر:*

امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
*أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب , ثنا الحسن بن علي بن عفان، ثنا أبو أسامة، عن حماد بن زيد، عن هشام، عن محمد بن سيرين، قال: أتي علي رضي الله عنه بهدية النيروز فقال: ما هذه؟ قالوا: يا أمير المؤمنين هذا يوم النيروز , قال: فاصنعوا كل يوم فيروز. قال أبو أسامة: كره أن يقول نيروز. قال الشيخ: وفي هذا كالكراهة لتخصيص يوم بذلك لم يجعله الشرع مخصوصا به*

محمدبن سیرین کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس نیروز کا ہدیہ لایا گیا تو آپ نے کہا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ نیروز کا دن ہے ۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر ہردن ”فیروز“ مناؤ ۔ راوی ابواسامہ کہتے ہیں کہ : علی رضی اللہ عنہ نے اس بات کو ناپسند کیا کہ ”نیزوز“ کہیں ۔ امام بیہقی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس میں گویا کہ کراہت ہے کہ کسی ایک دن کو اس کام کے لئے مخصوص کرلیا جائے جسے شریعت نے مخصوص نہیں کیا ہے۔[السنن الكبرى للبيهقي: 9/ 392]
یہ روایت بھی ضعیف ہے کیونکہ *اس کی سند میں انقطاع ہے محمدبن سیرین کا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔* 
مزید یہ کہ اس روایت میں اس بات کی وضاحت نہیں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے یوم نیروز کا ہدیہ قبول کیا تھا ۔بلکہ ظاہری الفاظ سے تو یہی لگتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اسے ناپسند کیا ۔
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
*قاله لنا موسى بن إسماعيل، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن سعر.وحدثنا آدم، حدثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن السعر التميمي؛ أتي علي بفالوذج، قال: ما هذا؟ قالوا: اليوم النيروز، قال: فنيروزا كل يوم.*
سعرتمیمی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس فالوذج لایاگیا تو انہوں نے پوچھا: یہ کیاہے؟ تو لوگوں نے کہا: آج نیزوز کادن ہے۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا:پھر نیروز ہردن ہوناچاہئے[التاريخ الكبير للبخاري: 4/ 200]
یہ روایت بھی ضعیف ہے ۔ 
*”سعرالتمیمی“ کو ابن حبان کے علاوہ کسی نے ثقہ نہیں کہا ہے۔*
اور *”علی بن زیدبن جدعان“ ضعیف ہے.* دیکھئے ہماری کتاب یزیدبن معاویہ پرالزامات کا تحقیقی جائزہ :ص 571۔
علاوہ بریں *اس سے قوی تر سند سے علی رضی اللہ عنہ ہی سے منقول ہے کہ کہ وہ غیرمسلموں کے تیوہار پر ان کی ہدیہ قبول نہیں کرتے تھے* چنانچہ :
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
*أيوب بن دينار.عن أبيه؛ أن عليا كان لا يقبل هدية النيروز.حدثني إبراهيم بن موسى، عن حفص بن غياث.وقال أبو نعيم: حدثنا أيوب بن دينار، أبو سليمان المكتب، سمع أباه، سمع عليا بهذا*
ایوب بن دینار اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نیروز کا ہدیہ قبول نہیں کرتے تھے۔[التاريخ الكبير للبخاري: 1/ 414]
اس کی سند کا کوئی راوی مجروح نہیں ہے اور سب کی توثیق موجود ہے لیکن ایوب بن دینار اوران کے والد کے توثیق میں ابن حبان منفرد ہیں ، اگر ان کی تائید مل جائے تو یہ اثر صحیح ثابت ہوگا۔

Print Article
  تقارب ادیان
  شرک کے تہوار
  شرک
  کرسمس
  دیوالی
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
جوازِ اقتدار (لیجی ٹی میسی) اور ہیومنسٹ جاہلیت
باطل- نظام
حامد كمال الدين
ابن تیمیہ کی ’’خلافت و ملوکیت‘‘ پر تعلیق 29[1] جوازِ اقتدار legitimacy  اور ہیومنسٹ جاہلیت یہا۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز