عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 16,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 7
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
مذہبی سیاسی جماعتیں: "اتحاد" سے پہلے ایک "مضبوط کیس" رکھنے کی ضرورت
:عنوان

ایسی مذہبی جماعتیں جو ممتاز قادری کو پھانسی ہو جانے پر بھی حکمران جماعت کے ہاتھوں میں ہاتھ دیے عہدِ وفا نبھانے کے عزم دہراتی چلی آئی ہوں، ان کےلیے یہاں عام آدمی کے ’’مذہبی‘‘ جذبات امڈ آئیںگے، بہت درست توقع نہیں

. احوالتبصرہ و تجزیہ :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

مذہبی سیاسی جماعتیں: "اتحاد" سے پہلے ایک "مضبوط کیس" رکھنے کی ضرورت

مذہبی جماعتوں کا سیاسی اتحاد خوش آئند ہے۔ اصولاً، ہونا چاہئے۔ رہ گیا اس سے کچھ برآمد ہونا، تو وہ ایک الگ بحث ہے۔ خواہش اور توقع میں فرق ضرور ہے۔ سیاست میں موجود مذہبی جماعتوں کو اتحاد سے پہلے ایک مضبوط کیس درکار ہے؛ اور وہ میرا خیال ہے اس وقت ان کے پاس نہیں ہے۔ ابھی میں وضاحت کروں گا، کیسے؟

پچھلے برسوں کے دوران حکمران جماعتوں کا اتحادی رہ چکا ہونا لازمی طور پر آپ کو ان جماعتوں کی نیک نامی یا بدنامی کا حصہ دار بناتا ہے۔ پبلک پرسیپشن public perception  میں، اس سے مفر نہیں۔ انتخابی اکھاڑے میں اترنے کےلیے یہاں آپ کے دو ہی نعرے ہو سکتے ہیں: ایک، مذہبی الائنس ہونے کے ناطے ’’اسلام‘‘ کا نعرہ۔ دوسرا، سکہ رائج الوقت ہونے کے ناطے ’’کرپشن و ناانصافی کا خاتمہ‘‘۔ آئیے ان دونوں کا تھوڑا تھوڑا جائزہ لیں:

جہاں تک پہلے نعرے کا تعلق ہے یعنی ’’اسلام‘‘ اور ’’شریعت کا نفاذ‘‘ وغیرہ، تو بےشک اپوزیشن جماعتیں اس معاملہ میں حکمران جماعت سے زیادہ بدنیت رہی ہوں، لیکن شریعت کو عملداری سے محروم رکھنے کی تیرگی پچھلے پانچ سال میں برسرِ زمین اگر کسی کے حصے میں آئی رہی تو وہ حکمران جماعت ہی ہے۔ پھر یہ گزشتہ ٹرم تو خاص طور پر اہم ہے جب لبرل ایجنڈا یہاں کے سرکاری و نجی عمل پر چھاتا چلا گیا، اور جس کے باعث یہاں کے لبرل ٹولے کو حکومتی شخصیات پر کسی قدر فدا ہوتے دیکھا گیا۔ زیادہ تفصیل میں نہ بھی جائیں، ایسی مذہبی جماعتیں جو ممتاز قادری کو پھانسی ہو جانے پر بھی حکمران جماعت کے ہاتھوں میں ہاتھ دیے عہدِ وفا نبھانے کے عزم دہراتی چلی آئی ہوں، ان کےلیے یہاں عام آدمی کے ’’مذہبی‘‘ جذبات امڈ آئیں گے، بہت درست توقع نہیں۔ ’’شریعت‘‘ کے ساتھ حکمران اتحاد کا پورے پانچ سال تک جو رویہ رہا ہے اُس سے یکسر بیزاری دکھا کر یہ جماعتیں ’’شریعت‘‘ کے نعرہ پر پبلک کو موبلائز کر لیں گی، زیادہ قرینِ توقع نہیں۔ لگانے کو اگرچہ آپ ’’اسلام‘‘ اور ’’اسلامی ایشوز‘‘ کا نعرہ لگائیں گے، لیکن فی الواقع یہ لوگوں کو آپ کی مسیحائی کا معتقد کر لے گا اور وہ اسے دین اور لادینیت کی ایک جنگ کے طور پر لیتے ہوئے تن من دھن کے ساتھ آپ کے پیچھے آ کھڑے ہوں گے، کسی قدر خام خیالی ہو گی۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مذہبی جماعتیں بھی جو گزشتہ ٹرم میں حکمران اتحاد کا حصہ نہیں رہیں، حکمران اتحاد کا حصہ رہ چکی مذہبی جماعتوں کے ساتھ کھڑی نظر آ کر، اپنے اسلامی نعرے کی رہی سہی اپیل ختم کر لیں۔ اس لحاظ سے، صحیح قربانی میرے خیال میں اس مذہبی الائینس کے اندر ان جماعتوں کی ہو گی! یہ پچھلی پوری ٹرم کے دوران اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہیں لیکن الیکشن آیا تو قیمت البتہ وہ دیں گی جو حکمران پارٹی کے حلیفوں کو دینا ہوتی ہے! خصوصاً اسلام کے ساتھ سنجیدگی ایسے مسئلہ پر۔ پس اِس ’’اتحاد میں برکت‘‘ جتنی بھی ہے وہ اس اتحاد کی کچھ ہی جماعتوں کے حصے میں آنے والی ہے۔ بطور مجموعی، یہ الائینس ’’اسلام‘‘ اور ’’شریعت‘‘ کے حوالہ سے عوام میں کچھ خاص اپیل نہ رکھے گا۔ پانچ سال تک نواز شریف کے ساتھ کھڑی رہنے والی کوئی جماعت ’’اسلام‘‘ اور ’’شریعت‘‘ کا کیس اب زور و شور کے ساتھ عوام میں پیش کرنے لگی ہے، لوگوں کےلیے یہ کوئی گرمجوشی کی بات شاید نہ ہو۔

اب آ جاتے ہیں آپ کے دوسرے ممکنہ نعرے پر: ’’کرپشن‘‘۔ یہ ایک اچھا نعرہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ آپ لگائیں گے کس کے خلاف؟ ہر حرام خوری تو ظاہر ہے ’’کرپشن‘‘ نہیں کہلاتی، ورنہ چلیے آپ اپوزیشن پارٹیوں کو بھی کھنگالتے۔ ’’کرپشن‘‘ اس بلا کا نام ہے جس کا تعلق اختیارات کے ناجائز استعمال سے ہو۔ ’’اختیارات‘‘ اِن گزرے برسوں کے دوران کس کے پاس رہے ہیں؟ آپ کے اتحادیوں کے پاس؟ تو ’’کرپشن‘‘ اس دوران اگر تھی تو آپ کہاں تھے؟ اور اگر پچھلی حکومت کرپشن سے پاک تھی تو اس کا مطلب ہے کرپشن اس وقت پاکستان کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے؛ پھر اس پر اتنا شور کیوں!؟ اس لحاظ سے، یہ نعرہ بھی اپنے حق میں آپ نے بےجان کر لیا ہوا ہے، چاہے بجائےخود اس میں کتنی ہی جان ہو۔ پھر بھی اس کی ایک زبردست اپیل دیکھتے ہوئے ’کرپشن‘ کا نعرہ آپ لگائیں گے ضرور، لیکن یہ بالواسطہ یہاں کسی اور کے بیانیے کو مضبوط کرے گا؛ اور آپ کے یہ نعرہ لگانے کا فائدہ بھی فی الحقیقت اُسی کو جائے گا جس کے ہاں گزشتہ برسوں کے دوران ’’حکمرانوں کی کرپشن‘‘ ٹیپ کے مصرعے کی طرح بیان ہوئی ہے۔ غرض یہ نعرہ بھی اس الائینس کو کوئی بُوسٹ boost  دینے والا نہیں۔

باقی کیا بچا جسے آپ لوگوں کو موبلائز کرنے کےلیے بنیاد بنائیں؟ نہ اسلام کے نعرے پر اب لوگ آپ کو سنجیدہ لینے لگے ہیں اور نہ کرپشن وغیرہ ایسے ایشوز آپ کے بیانیے پر کچھ بہت زیادہ جچتے ہیں۔ وہی گنی چنی سیٹیں جو کچھ خاص مذہبی یا مسلکی حوالوں سے، یا کچھ مخصوص علاقوں میں لوگوں کے کام وغیرہ کروانے کے بل پر، آپ کو ملتی آئی ہیں، یہاں آپ کی کل امید ہو سکتی ہیں۔ کیا صرف انہیں بچانے کےلیے یہ سب تدبیر ہے؟ اور جو اصل انتخابی معرکہ ہوتا ہے وہ تو ظاہر ہے اوروں ہی کے مابین ہے!؟

ایک تیسرے نعرے کا بھی جائزہ لیتے چلیں، جسے شاید نون لیگ سب سے بڑھ  کر لگانے والی ہے: ’’جمہوریت‘‘؛ جس کا اصل ترجمہ اِس دی ہوئی صورتحال given situation  میں ’’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘‘ ہے، جبکہ ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ یہاں اپنے اُس وسیع تر معنیٰ میں جس کا فور فیس fore-face  پچھلے دنوں ’’سپریم کورٹ‘‘ اور اس کے کچھ معروف فیصلے بنے رہے ہیں۔ مگر کیا آپ واضح ہیں کہ اس مذہبی الائینس کی سب جماعتیں اپنا بیانیہ ’جمہوریت‘ کے خلاف اُس ’سازش‘ کے گرد اٹھانے لگی ہیں جس کا فورفیس حالیہ ایام میں ملکی عدالتیں رہی ہیں اور جس کا ’بطلِ عظیم‘ نواز شریف نامی ایک شخص چلا آتا ہے (پارٹی بھی نہیں، تاحال صرف ایک شخص)؟ اول تو آپ سب جماعتیں ملکی اداروں کے خلاف ایسے کسی نعرے کی متحمل نہیں۔ اور اگر ہوں بھی، آپ کے حصے میں ’جمہوریت‘ کے اس نعرے کا بھوسہ ہی آنے والا ہے جبکہ اس کے دانے اگر آئے تو وہ ’شہیدِ جمہوریت‘ کے گھر جانے والے ہیں؛ آپ پھر خالی کے خالی۔ اس صورت میں بہتر ہوتا کہ آپ الیکشن میں بھی کسی نہ کسی طرح ’شہیدِ جمہوریت‘ ہی کے ہمرکاب ہوتے تا کہ ’دانوں‘ میں سے ہی کچھ حصہ پا سکتے۔ ’بھوسے‘ پر کیا محنت!

غرض ’جمہوریت‘ کا نعرہ سمجھو نواز شریف کا ہو چکا، خواہ کوئی لگائے اس کی وصولیاں جس قدر ہوئیں اسی کو ہوں گی۔ ’کرپشن‘ کا نعرہ عمران خان کے نام ہو چکا، خواہ کوئی لگائے اس کا ثمرہ بیشتر اسی کو پہنچنے والا ہے۔ رہ گیا ’’اسلام‘‘ کا نعرہ جو ویسے آپ کے لگانے کا تھا، تو ایک مخصوص قسم کی سیاست میں اتنی عمر گزار لینے کے بعد وہ اب آپ کے لگانے کا نہیں رہا۔ یہاں ایک نیا چہرہ، خادم حسین رضوی، تو گھنٹوں کے اندر دیوانگی کی وہ سب تاریں مذہب کے متوالوں میں چھیڑ لیتا ہے جن کے وہ ’نظارۂ دیرینہ‘ کے متلاشی منتظر رہے ہیں، لیکن اپنے اس بھاری بیگیج کے ساتھ جو آپ سیاست میں رکھتے ہیں، وہ تاریں چھیڑنا آپ کے بس میں نہیں۔

کچھ ان وجوہات کی بنا پر ایسا ہوا ہے... کہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کا سن کر اِس بار مجھے کوئی گرمجوشی excitement  نہیں ہوئی۔ شاید ان کے اکٹھا نہ ہونے کی صورت ’’اسلام‘‘ کا کچھ بھرم رہ جائے؛ ہونا تو جو ہے وہ تقریباً معلوم ہے! ظاہر ہے یہ ایک رائے ہے، احباب یقیناً اس سے مختلف رائے رکھ سکتے ہیں۔

*****

ایک چیز پاکستان کی حالیہ سیاست کے بارے میں پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ گو اس جانب میں اپنی ایک گزشتہ تحریر ’’آپ فی الوقت ان دونوں پارٹیوں کے سوتیلے ہیں‘‘ میں کچھ اشارہ کر آیا ہوں۔ مذہبی گیٹ اپ کے ساتھ سیاست میں آنے کی صورت میں یہاں آپ کے لگانے کا نعرہ ’’اسلام‘‘ ہی ہے اور ’’اسلام‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ یعنی ’’اسلام‘‘ کے نام پر ہی آپ یہاں مذہب کے متوالوں میں ایک (مثبت معنیٰ کی) جنونیت پیدا کریں؛ ’’اسلام‘‘ کی بنیاد پر ہی سٹیٹس-کو پارٹیوں کے ساتھ آپ ایک ’’رزمیہ‘‘ کھڑا کریں (’’رزمیہ‘‘ کا کچھ مظاہرہ، جیسا کیسا، آپ کو خادم رضوی صاحب کے حالیہ ایپی سوڈ میں ضرور نظر آیا ہو گا۔ کم از کم اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ’مذہب‘ پر مبنی کچھ شدید اور غیر مفاہمتی لہجے سیاسی طور پر بھی آپ کےلیے ایک برا آپشن نہیں)۔ معلوم ہونا چاہئے، پاکستانی سیاست میں یہ آسامی اِس وقت مکمل طور پر خالی ہے (’’اسلام‘‘ کا نعرہ لگا کر سیاست میں آنا)، خواہ اسے کوئی پُر کر لے، شرط صرف یہ ہے کہ اس کےلیے چہرہ جاندار ہو اور مذہبی جنونیت کے ساتھ ذرا ایک درجہ مطابقت رکھتا ہو۔ اور قابل ترجیح یہ کہ کسی ایک مسلک کی پوری سٹرینتھ لے کر آ سکتا ہو۔ ’جمہوریت‘ اور ’کرپشن‘ وغیرہ کےلیے کراہتے دیکھے جانے والے چہرے البتہ اِس آسامی کےلیے مِس فٹ رہیں گے (کیونکہ مذہب کے متوالوں میں یہ کبھی پزیرائی نہیں پا سکتے لہٰذا ان پر چیخنا چلانا سیاسی طور پر فضول ہے)۔ یہاں وہ چہرہ فٹ رہے گا جو صرف مذہبی ایشوز کےلیے درد ظاہر کرتا رہا ہو۔ (مذہبی شخصیات کے ہاں لوگ اس کے سوا کسی چیز کے متلاشی نہیں؛ یہ ایک واقعہ ہے)۔ غرض ایک ٹھیٹ غیرمفاہمتی مذہبی نعرے کے ساتھ، سیاست میں کسی قدر کامیابی حاصل کر لینے کا امکان موجود تو ہے، اگر آپ میں اس کی ہمت ہو۔ اس کے طلبگار، معاشرے میں مفقود بہرحال نہیں ہیں۔ مذہبی حلیے کے ساتھ سیاست میں جو نعرہ آپ کو سب سے بڑھ کر سوٹ کرتا ہے وہ ’مذہب‘ ہی ہے (بس ہو وہ مذہب کا ایک دیوانہ وار نعرۂ مستانہ؛ جس کے ساتھ ’جمہوریت کا درد‘ وغیرہ ایسی کوئی شےء نتھی نہ ہو؛ کیونکہ مذہب کے نام پر دیوانہ ہو سکنے والے عوامی طبقوں کو فی الحال مذہب کے ساتھ کسی اور چیز کا ٹانکا پسند نہیں ہے، خواہ یہ حقیقتِ واقعہ آپ کو اچھی لگے یا بری)۔ خلاصہ یہ کہ ایک خالص مذہبی نعرے کو بھی کچھ کامیابی یہاں مل ضرور سکتی ہے۔ بالکل خالی رہنے والی بات یہ نہیں ہے۔ خالی وہ رہیں گے جو کسی ایک بھی نعرے کی قیمت دینے پر آمادہ نہیں یا جو کئی نعروں کی بیک وقت قیمت دینا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ، اللہ اعلم، نری مشقت کےلیے ہیں۔ خصوصاً اگر وہ موقع پرست بھی نہیں ہیں، پھر تو سیاست میں ان کا کوئی بھی کام نہیں ہے۔ (یہ یاد رہے، ہر نعرہ ایک لانگ ٹرم انوسٹمنٹ ہوتی ہے، یعنی ایک عرصہ اس کی ایک قیمت دی جاتی ہے اور ذرا محنت اور صبر کے بعد اس کی فصل آنے لگتی ہے)۔

یہ رہا ایک رُوٹ، اگر آپ کو مذہبی فیس religious face کے ساتھ میدان میں اترنا ہے۔

ہاں اگر آپ ’مذہبی ایشوز‘ کی بجائے ’پاپولر‘ نعروں کا روٹ اختیار کرنا چاہتے ہیں، مانند قومی ترقی، انصاف، کرپشن کا خاتمہ، گڈ گورننس، مہنگائی کا خاتمہ، بجلی گیس وغیرہ کے بحران پر قابو، عورتوں کے حقوق یا مسائل وغیرہ، اور جوکہ ایک مین سٹریم پارٹی بننے کےلیے بوجوہ درکار ہے... تو اس صورت میں بہتر یہ ہو گا کہ آپ مذہبی پیکنگ کے بغیر سیاست میں آئیے۔ (یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں، محض زمینی حقائق کے حوالے سے بات ہو رہی ہے)۔ اسی لیے، اپنی اُس گزشتہ تحریر میں ہم یہ کہہ چکے کہ پاکستانی سیاست میں اردگان ٹائپ ایک ڈویلپمنٹ درکار ہے جو اپنا جذبہ aspiration, motivation   تو مذہب سے لے رہی ہو لیکن اپنے ساتھ لوگوں کو چلا سکنے کے حوالے سے وہ معاشرے کے ہر ہر طبقے کی پارٹی ہو۔ خاصے یقین سے کہا جا سکتا ہے، ایسی ایک پارٹی ان شاء اللہ یہاں سب کو کھا جائے گی۔

ہاں البتہ اگر آپ ایسی کسی (پاپولر) چیز کو لانے کے بھی روادار نہیں، یا متحمل نہیں، تو اس صورت میں  اور واضح رہے، صرف اسی صورت میں –  ہم نے یہ کہا تھا کہ عوام الناس کےلیے پُرکشش charismatic ہو سکنے والے ہمارے کچھ باصلاحیت نفوس کے پاس یہ ایک آپشن رہ جاتا ہے کہ وہ یہاں کی مین-سٹریم پارٹیوں میں ممکنہ حد تک اوپر پہنچنے کی کوشش کریں، اگرچہ وہ کچھ غیر مذہبی پارٹیاں کیوں نہ ہوں، مانند پی-ایم-ایل-این اور پی-ٹی-آئی وغیرہ۔ (اس کی کچھ تفصیل آپ ہمارے اُسی مضمون میں دیکھ سکتے ہیں)۔ جب تک آپ خود مین-سٹریم نہیں بن سکتے اُس وقت تک ان مین-سٹریم پارٹیوں کو لبرل ایجنڈا برداروں کے حاوی ہونے کےلیے چھوڑ رکھنا میری نظر میں ہلاکت ہے۔ ان (غیر مذہبی) پارٹیوں کو شجرِ ممنوعہ جانتے ہوئے خاص مذہبی سیاست کے اندر محصور رہنا اندریں حالات درست نہ ہو گا (خصوصاً جبکہ مذہبی سیاست فی الوقت ایک بند گلی ہو اور اس کا منتہائے سعی چند سیٹیں۔ حقیقت یہی ہے، خواہ اسے آپ الفاظ میں لائیں یا چھپائیں)۔ واضح رہے ہم نے کہا دین پسندوں کا مذہبی سیاست کےاندر ’’محصور‘‘ رہنا ایک نادرست بات ہو گی۔ یہ نہیں کہا کہ مذہبی سیاست ’’کرنا‘‘ غلط ہے۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
کشمیر کےلیے چند کلمات
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
قاضی حسین احمدکی وفات پر امارت اسلامی افغانستان کاتعزیتی پیغام
احوال- امت اسلام
ادارہ
قاضی حسین احمدکی وفات پر امارت اسلامی افغانستان کاتعزیتی پیغام  جمع و ترتیب: محمد احمد    ۔۔۔
قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت
احوال- امت اسلام
ادارہ
ایرانی اہل السنۃ کی آفیشل ویب سائٹ: قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت جمع و ترتیب: محمد احمد    ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز