عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
:عنوان

یہاں سے؛ تعیش اور زبان کے مزے کی اشیاء کو ٹیکنالوجی وغیرہ پر قیاس کرنا درست نہ رہا۔ تو اب اس قوم کا حال دیکھو جو دشمن سے جوتے کھانا تو قبول کر لے لیکن زبان کا مزہ اور جسم کی راحت چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو

. احوال . تنقیحات . باطلكشمكش :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان

ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ہتھیار اٹھوانے کی بات کی جاتی ہے تو اعتراضات کا ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے:

·   حضرت یہ جو فیس بک آپ استعمال کر رہے ہیں، یہ بھی ’ان‘ کا ہے، سب سے پہلے تو اس کو چھوڑیے نا!

·   اور وہ جو ٹویٹر ہے اس پر سے بائیکاٹ کےلیے ٹویٹ کرنا، کیسا کھلا تضاد ہے!

·   اور شاید یہ بائیکاٹ کے حق میں آپ لکھ بھی کسی اینڈرائڈ سے رہے ہیں، پہلے اس کو تو چھوڑا ہوتا!

میرے دیکھنے میں، ایسے اعتراضات اٹھانے والے حضرات دو طرح کے ہیں۔ ایک جو اسلامی سیکٹر اور اس کے ایشوز کا مذاق اڑانے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ انہی میں اب ہمارے وہ جدت پسند دیندار بھی آنے لگے جو ہر مسئلے میں لبرلز کو ’اسلامی دلائل‘ فراہم کرنے کا محاذ سنبھالے بیٹھے ہیں اور جو اپنی ’اسلامی‘ بولی سے ہر موقع پر اُن کا کیس مضبوط کرنے کی باقاعدہ کوشش کرتے ہیں۔ میرے نزدیک اس فریق کو تو نظراندا کرنا ہی عوامی سطح پر ایک بہترین پالیسی ہے۔ دوسرا، ہمارا وہ گروہ جو واقعتاً دشمن کو زک پہنچانے میں سنجیدہ ہے، لیکن ’’بائیکاٹ‘‘ کا ہتھیار استعمال کرنے کی بابت اس کے ہاں کچھ اشکالات پائے جاتے ہیں۔ اپنے ان بھائیوں کے ساتھ ہمارا اگر کچھ اختلاف ہو گا تو وہ ’نکتۂ نظر‘ کا ہو گا، خواہ ہم انہیں کسی بات کا قائل کر لیں یا وہ ہمیں۔ زیرنظر مضمون اسی سنجیدہ فریق کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے جو دشمن کو کچھ نہ کچھ نقصان پہنچانے کی ضرورت پر ہمارے ساتھ متفق ہے۔

سب سے پہلی بات اس سلسلہ میں یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ ’’بائیکاٹ‘‘ کوئی شریعت کے منصوص مسائل میں نہیں آتا جو یہ سوال کیا جائے کہ ’’پھر ہم اپنی اشد ضرورت کی چیزیں دشمن سے کیسے خرید کر سکیں گے‘‘!؟ وہ اہل علم جو امت کو یہ ہتھیار اٹھوانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ان کا مستنَد (علمی دلیل) اس باب میں کوئی براہِ راست نص نہیں بلکہ ’’ذرائع اور وسائل‘‘ کا ایک فقہی باب ہے نیز موجودہ دور میں معاشی جنگوں کا ایک مطالعہ جو اپنی فقہی تکییف میں اسی ’’ذرائع و وسائل‘‘ والے مسئلہ ہی کی جانب لوٹتا ہے۔ نص کی جانب اس ضمن میں اگر رجوع ہے تو وہ ایک ضمنی انداز میں ہی (اس کا کچھ بیان ہمارے ایک گزشتہ مضمون کے آخر میں موجود ہے)۔ پس جب یہ ایک منصوص مسئلہ نہیں، اور اس باب میں کل سہارا اسلام کے ان عمومی اصولوں پر ہے کہ دشمن کو زیادہ سے زیادہ ناکارہ کرنے کی کوشش کی جائے اور ہر آدمی اس میں حصہ ڈالنے کی فکر کرے، تو اس سے خودبخود واضح ہے کہ ایسا کرتے ہوئے آپ کو اس حد تک بہرحال نہیں جانا جہاں دشمن سے بڑھ کر خود آپ کا نقصان ہو رہا ہو۔ ٹیکنالوجی وغیرہ آپ کی بنیادی ضرورت ہے، وہ اگر دشمن آپ کو بیچنے پر آمادہ ہے تو خود وہ ’’ذرائع اور وسائل‘‘ کا باب ہی آپ کو اسے لینے سے منع نہیں کرے گا؛ بلکہ اسے حاصل کرنے کی ہدایت کرے گا۔ البتہ خالی تعیش اور مزے کی چیزیں دشمن سے خریدنے کی صورت میں اگر عالم اسلام روزانہ کروڑوں اربوں روپیہ یہودی کی نذر کرتا ہے، جس کا ایک حصہ وہ اپنے صیہونی بندوق بردار کو باقاعدہ چندے میں دیتا ہے، اور جوکہ ایک واقعہ ہے، تو ’’ذرائع اور وسائل‘‘ کا فقہی مبحث یہاں آپ سے کہے گا کہ اپنی اس زبان کے ’’مزے‘‘ پر ذرا کنٹرول کرو اور دشمن کو مضبوط کرنے کے عمل میں وہ حصہ مت ڈالو جس سے تم خود بالکل بھی مضبوط نہیں ہو رہے بلکہ صرف دشمن پل رہا ہے۔ (یعنی ٹیکنالوجی وغیرہ بیچ کر دشمن اگر اپنی معیشت کو مضبوط کر بھی رہا تھا تو اسے خرید کر تم بھی کچھ نہ کچھ مضبوط ہو رہے تھے۔ لہٰذا وہاں معاملے کا ایک پہلو اگر اس ڈیل میں ’’مانع‘‘ تھا تو ایک دوسرا پہلو اس کا ’’موجب‘‘ بھی ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کسی وقت ’’مانع‘‘ ’’موجب‘‘ پر بھاری ہو گا تو کسی وقت ’’موجب‘‘ ’’مانع‘‘ پر۔ ٹیکنالوجی کی اشیاء میں اغلب طور پر ’’موجب‘‘ بھاری ہو گا جبکہ تعیش کی اشیاء میں ’’مانع‘‘)۔ یہاں سے؛ ’’تعیش اور زبان کے مزے‘‘ کی اشیاء کو ’’ٹیکنالوجی‘‘ وغیرہ اشیاء پر قیاس کرنا درست نہ رہا؛ اور ان میں ایک واضح فرق آ گیا۔ تو اب اس قوم کا حال دیکھو جو دشمن سے جوتے کھانا تو قبول کر لے لیکن زبان کا مزہ اور جسم کی راحت چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو خواہ اس سے ان کے بھائیوں کے سینے چھلنی ہونے میں حصہ کیوں نہ پڑ رہا ہو؛ البتہ اسے اس پر توجہ دلائی جائے تو دلیل ’ٹیکنالوجی‘ کی دے!

ہاں ’’بائیکاٹ‘‘ کا یہ جو سبق ہے، حتیٰ کہ چاکلیٹ اور سافٹ ڈرنک لینے سے اجتناب پر مخالف کی یہ چوٹ کہ ’پھر یہ دشمن سے ٹیکنالوجی کی اشیاء بھی کیوں لیتے ہو‘‘... اسے بھی میں تو اپنی قوم کے حق میں مفید ہی دیکھتا ہوں؛ بس اگر ذرا ہم اس میں حمیت اور نظر پیدا کر لیں۔ مخالف کی چوٹیں ان شاء اللہ مجھے اور میری قوم کو مسلسل یہ یاد دلائیں گی کہ کیوں یہ ٹیکنالوجی بھی مجھے دشمن سے لینا پڑ رہی ہے؛ یہ بھی کیوں میری اپنی نہیں ہے۔ یہ ایک آئینہ ضرور ہے جسے بہرحال مجھے دیکھنا ہے۔ اسے دیکھنے میں حرج نہیں؛ بلکہ اس میں بھی فائدہ ہی فائدہ ہے۔ نتیجتاً، ان چوٹوں کا اثر لے کر یہ تو نہیں کہ ہم دشمن کے ساخت کردہ سامانِ تعیش کی اپنے یہاں ریل پیل کر لیں (جوکہ وہ چاہتا ہے)، البتہ اپنی بنیادی ضرورت کی چیزوں میں خود کفیل ہونے کی ایک کسک ضرور ہر دم ہمارے اندر تازہ ہو جائے (جوکہ نظر اور حمیت نہ ہونے کے باعث شاید ہم میں پیدا نہیں ہو رہی)۔ اصل چیز وہ ’’نظر‘‘ ہی ہے جو حاصل ہو تو مخالف کی چوٹیں بھی آپ کو زندگی دے جاتی ہیں۔ اور ہمیں تو بلاشبہ ان چوٹوں کی ضرورت ہے، اللہ انہیں جزائےخیر دے!

*****

ایک اور سوال ہے جس کا جواب آپ کو بھی شاید میرے ساتھ مل کر سوچنا ہو: بائیکاٹ کی یہ صدا اتنی بار لگانے کے باوجود ہمارے یہاں کامیاب کیوں نہیں ہو رہی؟

اس کے جواب میں بہت سی باتیں ہوں گی مگر ایک بات جو میرے ذہن میں آ رہی ہے وہ یہ کہ بائیکاٹ کی ’’آواز‘‘ ضرور کسی خاص موقع پر بلند کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر بائیکاٹ بذاتِ خود کسی خاص موقع پر ’’کروانے‘‘ کی چیز نہیں بلکہ ایک تسلسل کے ساتھ کرکے کوئی نتیجہ دکھانے کی چیز ہے۔ کسی نے اسے ایک کل وقتی پراجیکٹ کے طور پر ابھی تک نہیں لیا۔ اس کےلیے، اگر اتنا ہو جائے کہ اپنی بہت سی جماعتوں میں سے صرف ایک جماعت ایسی ہو جو اس کو وقتی موضوع بنانے کی بجائے اپنا کل وقتی موضوع بنا لے اور اسے اٹھا کر منبر و محراب تک جا پہنچے، اور اپنے کچھ مرکزی مضامین میں اس کو جگہ دے دے (بہتر یہ ہے کہ اس محاذ کو اٹھانے کےلیے کوئی جماعت اپنے یہاں اس کےلیے مختص ایک شعبہ بنا دے جو مسلسل اپنی رپورٹ اور کارگزاری پیش کرے)، تو ان شاء اللہ یہ امت ایسی گئی گزری نہیں کہ دشمن کے خلاف ایسا آسان ہتھیار اٹھانے سے بھی گریز کرے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب بڑی اشیاء ہمارے ہاتھ میں نہیں اور بس کچھ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی ہمارے عام عوام کے کرنے کی رہ گئی ہوں؛ اور جبکہ دشمن اپنے ہاتھ سے وہ مسلسل اسباب ہمیں فراہم کر رہا ہو جو ہماری قوم میں ایک داعیۂ عمل پیدا کرنے کےلیے نہایت کافی ہیں۔ بس عوام کی ایک پوزیشن سمجھنے کی کوشش کریں: عوام ہمیشہ ’’پیچھے چلنے‘‘ کے ہوتے ہیں اور ایک ’’مسلسل عملی توجہ اور راہنمائی‘‘ کے ضرورتمند رہتے ہیں، ویسے خواہ آپ انہیں کتنے ہی فلسفے سنا لیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ’’نکتے‘‘ بتانے والے ہم جیسے بہت ہیں انہیں ’’لے کر چلنے‘‘ والا یہاں کوئی نہیں۔ سب کو موقع پر ہی ایک چیز یاد آتی ہے اور وہ اسے موقع پر ہی داغ کر کسی اور ’موضوع‘ کی طرف چل دیتا ہے۔ پلاننگ اور لیڈرشپ اسے نہیں کہتے۔ اس چیز کا جب تک ہم بندوبست نہیں کر لیتے، عوام سے مایوس ہونا درست نہیں۔

Print Article
  مسلم مقبوضہ جات
  بیت المقدس
  کشمیر
  فلسطین
  بائیکاٹ کا ہتھیار
  بائیکاٹ
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز