عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Monday, September 23,2019 | 1441, مُحَرَّم 23
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2013-07 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
کچھ ہمارے مضمون ’’درمیانی مرحلے کے بعض احکام‘‘ کے حوالے سے
:عنوان

اس موضوع پر اپنا علمی مرجع اگر کسی عالم کو مانا ہے تو وہ عالم اسلام کے صرف وہ اہل علم واہل فکر ہیں جنہوں نے ڈیموکریسی کو کسی بھی حوالے سے ’اسلامی‘ ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا

. تنقیحات :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

قارئین کے سوالات

کچھ ہمارے مضمون ’’درمیانی مرحلے کے بعض احکام‘‘ کے حوالے سے

اپریل 2013 کے ایقاظ میں شائع ہونے والے ہمارے مضمون ’’درمیانی مرحلےکے بعض احکام‘‘ (جوکہ ڈیموکریسی کے موضوع پر اس شمارہ کا کوئی واحد مضمون نہیں تھا!)  پر اٹھنے والے کچھ اشکالات کے حوالے سے یہاں ہم چند گزارشات رکھنا چاہیں گے:

حقیقت یہ ہے کہ... ہمارا یہ مضمون اُن حضرات کےلیے تو تھا ہی نہیں (اور نہ ہوسکتا ہے) جو ڈیموکریسی کے شرک پر ہماری اُس پوری کیمپین کو توجہ دینے پر تیار نہیں جو ہم نے اس موقع پر یہاں توحید کی آگہی پھیلانے کے لیے لانچ کررکھی رہی ہے، اور جس پر ہمارا لٹریچر ہمارے کسی قاری سے مخفی نہیں، بےلحاظ اس سے کہ ڈیموکریسی پر ہماری اس کیمپین کو درخورِ اعتناء نہ جاننے والے اور خاص اپنے ’مطلب‘ کی بات نکالنے والے یہ حضرات جمہوریت کے حامی طبقے سے ہوں یا جمہوریت کے مخالف طبقے سے۔

نہ ہی ہمارا یہ مضمون اُن حضرات کےلیے ہے (اور نہ ہوسکتا ہے) جو ڈیموکریسی کی بیخ کنی کے موضوع پر ہماری اُس ساری تحریری محنت کے علی الرغم جو ہم پورے تسلسل کے ساتھ کررہے ہیں، ہمارے اِسی ایک مضمون کو پڑھ کر یہ رائے اختیار کرنے چل دیں گے کہ یہاں ہم جمہوریت کے داعی بننے چلے ہیں! جن حضرات کی قوتِ استنباط بس اسی حد تک ہے اُن کے ’اشکالات‘ کا جواب دینا یقیناً ہمارے بس میں نہیں ہے۔ یہ حضرات ہمیں جس انداز میں موضوع بنانا چاہیں شوق سے بنائیں۔

ایک بات ہم اپنے اسی مضمون میں کہہ آئے ہیں:

ہاں وہ حضرات جو سمجھتے ہیں کہ وہ اِن موضوعات کے تمام یا بیشتر جوانب کا احاطہ کرچکے ہیں وہ اپنا موقف اختیار کرنے میں یا ہمیں غلط ٹھہرانےمیں پوری طرح آزاد ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں ہمارے قارئین کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو ان موضوعات میں مطلوبہ پختگی کی جستجو میں ہی ایقاظ کو توجہ دیتا ہے۔ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہمارے یہی قارئین ہیں اور انہی کی ضرورت ہماری نظر میں سب سے بڑھ کر مقدم۔

تاہم وہ احباب جو اس موضوع پر ہماری تحریری محنت کو جو ہم نے اس پورے شمارے میں آپ کے سامنے رکھی ہے، توجہ دیتے ہیں اور اس مسئلہ کی اساس کو وہیں سے سمجھتے ہیں، ان کے فائدے کےلیے ہم اپنے اُس مضمون کے حوالے سے چند گزارشات رکھیں گے:

الف:  مضمون میں ہم واضح کرچکے کہ نظامِ رائج کے ساتھ تعامل اختیار کرنے کے حوالے سے ہمارا مرجع وہ علماء نہیں رہیں گے جو ان دو مصائب میں ملوث ہیں

1.    ’’ڈیموکریسی‘‘ نام کی آفت کو ’اسلامی‘ کہنا، یا اسلام میں اس کو درآمد کرنا، یا پہلے سے اسلام میں ’ڈیموکریسی‘ پائے جانے کا انکشاف کرنے ، یا جمہوریت میں ’اسلام‘ کی نشاندہی کرنے کا منہج اختیار کرنا۔ درحقیقت یہ مغرب کے ساتھ ری کونسائل ہے اور دو ملتوں کا فرق مٹانے کی ایک اندوہناک کوشش، جوکہ ہرہر پہلو سے رد ہونی چاہئے۔

2.    ڈیموکریسی کی امپورٹ پر مبنی نظاموں کو، جوکہ کئی ایک مسلم ملکوں میں ’ڈسپلے‘ کیے گئے ہیں ’اسلامی‘ یا ’اسلام سے ہم آہنگ‘ ماننا، اہل اسلام سے ان نظاموں کےلیے وفاداریاں حاصل کرتے پھرنا اور شرک سے ان کی نسبت کرنے کو ’انتہاپسندی‘ قرار دینا۔

یہ دو آفتیں ہمارے نزدیک، (درحقیقت ہمارے معتمد علماء کے نزدیک) ’’اختلافِ سائغ‘‘ میں نہیں آتیں (یعنی وہ اختلاف نہیں جس کےلیے گنجائش تسلیم کی جائے)۔ یہ ایک بنیادی اور اصولی اختلاف ہے نہ کہ کوئی جزوی اختلاف یا فرعی اختلاف۔

 ظاہر ہے اس مسئلہ میں ہمارامرجع وہ علماء رہیں گے جو ان دو مصائب میں گرفتار نہیں ہیں۔ یہی وہ علماء ہیں جن کا وصف مضمون میں ہم نے یوں بیان کیا:

’’ایسے اصحابِ علم اور اصحابِ نظر جو مسائل کو اُن کی سب قدیم وجدید جہتوں سے جاننے والے ہوں، تقویٰ، خداخوفی، پرہیزگاری، صاف گوئی، حق پرستی، حرمتِ علم کا پاس اور سلاطین سے استغناء رکھنے میں ایک معلوم شہرت رکھتے ہوں اور امت کا درد رکھنے میں بھی قابل لحاظ حد تک معروف ہوں۔ وقت کے باطل نظاموں کے ساتھ ان کی جنگ اور خدا کے دشمنوں کے ساتھ ان کی محاذآرائی زبان زدِعام ہو۔‘‘

 ب:       پھر ایسے جمہوریت بیزار علماء (جو ہمارا مرجع رہیں گے) کی بابت ہم عرض کرچکے کہ:

·      ایسے علماء نے وقت کے ان جدید مسائل پر یا تو اتفاق کررکھا ہوگا، اس صورت میں ان کے اتفاق کی پابندی ہونی چاہئے۔

·      یا ان میں اختلاف ہوگا، ایسی صورت میں انکے اختلاف کو معتبر جاننا چاہیے۔ (اختلاف کو معتبر جاننے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ان میں سے کسی ایک رائے کا قائل ہونے کے باوجود اسکے مخالف رائے کو ’گمراہی‘، ’جہالت‘، ’ظلم‘ یا ’انحراف‘ قرار نہیں دےگا، بلکہ اُس رائے پر چلنے والے کو اپنا بھائی اور اپنا حلیف سمجھےگا اور اس اختلافِ رائے کے باوجود امت کی شیرازہ بندی میں بلاتردد اُس کا ساتھ دےگا اور کفر کے خلاف اپنی اور اُس کی جنگ میں اس کو تعاون دے گا اور اس سے تعاون لےگا)

 اس کے بعد ہم نے بطورِ مثال جن چند علماء کا ذکر کیا (کہ جن کو ہم اس موضوع پر مرجع کے طور پر لےسکتے ہیں)، آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ ان میں ہم نے مودودی صاحب جیسی شخصیت تک کو شامل نہیں کیا۔ وجہ یہ کہ مودودی صاحب ان مفکرین میں آتے ہیں جو جمہوریت کو اسلامائز کرنے کے عمل میں شریک رہے ہیں اور اس حوالہ سے اسلامی پیراڈائم کا خالص پن برقرار نہیں رکھ سکے۔ ظاہر ہے قرضاوی ایسے نام بھی یہاں نہیں آسکتے جوکہ مغرب کے ساتھ فکری وعقائدی ری کونسائل کی ایک وسیع تاریخ رکھتے ہیں۔

غرض ہم نے اس موضوع پر اپنا علمی مرجع اگر کسی عالم کو مانا ہے تو وہ عالم اسلام کے صرف وہ اہل علم واہل فکر ہیں جنہوں نے ان مغربی درآمدات کو کسی بھی پہلو سے کبھی بھی سندِ اعتبار نہیں دی؛ جنہوں نے ڈیموکریسی کو کسی بھی حوالے سے ’اسلامی‘ ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا۔

حضرات اگر آپ ہمارے ان مذکورہ بالا مقدمات سے ہی متفق نہیں ہیں تو آپکے ساتھ گفت و شنید کسی اور موقع پر ہوسکتی ہے۔ البتہ اگر ان مقدمات سے متفق ہیں تو ہمارے اور آپکے مابین اس کے بعد اگر کوئی اختلافِ رائے باقی رہ جاتا ہے تو وہ نہایت محدود ہے (الا یہ کہ آپ کسی موقع پر یہ دیکھیں کہ ہم نے علماء کی آراء سامنے لانے میں کہیں غلط بیانی سے کام لیا ہے)۔

 ہمارے علمی مراجع (علمائے توحید جو مغربی درآمدات کے ساتھ ری کونسائل کو یکسر رد کرتے ہیں) ان نظاموں کے ساتھ معاملہ کرنے میں ظاہر ہے ایک رائے پر نہیں۔ پس اس باب میں ہم اگر ان اہل علم کی آراء میں سے کوئی ایک رائے پیش کرتے ہیں تو یہ کوئی ’’انکشاف‘‘ نہیں ہوگا کہ آپ ہماری اختیارکردہ اس رائے کے خلاف والی کسی رائے پر مشتمل فتویٰ پیش کردیں گے!!! بھائی ہم تو خود کہتے ہیں کہ یہاں ایک تعددِ آراء پایا جاتا ہے۔ اس میں اگر آپ ہماری رائے پر نہیں ہیں تو ہرگز ہرگز کوئی مسئلہ نہیں۔ آپ اُس دوسری رائے کا پرچار کرتے ہیں اور اُس پر کوئی فتویٰ لےکر آنا چاہتے ہیں تو اس میں حرج کی کیا بات ہے۔ ایسا علمی اور فقہی اختلاف ہمیشہ سے ہی اہل سنت کے ہاں باقی رہا ہے۔ اس ایک مسئلہ میں کوئی اختلاف ہوجائے گا تو بھی کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ 

پس اس دائرے کے اندر اندر... جہاں ہم اپنی کوئی رائے رکھتے ہیں وہاں آپ بھی اپنی رائے رکھئے اور اسے کھل کر بیان کیجئے۔ 

 البتہ اگر آپ اپنی اُس رائے کو ’اہل توحید کی متفق علیہ رائے‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس وجہ سے آپ ہمارے اس کے مخالف رائے پیش کرنے پر برہم ہیں تو یہاں ہم آپ کی اس خواہش کو پورا کرنے سے معذرت کریں گے۔  پس آپ اس کو علمائے توحید کی آراء میں سے ایک رائے کے طور پر جتنا مرضی پیش کریں، اس میں مسئلہ نہیں، لیکن اسے علمائے توحید کی متفقہ رائے کے طور پر پیش کریں گے تو یہ غلط ہوگا۔

ہمیں معلوم ہے ایقاظ اس حوالے سے خاصا گردن زدنی قرار دیا جانے والا ہے کہ وہ اُس وسعت کو جو علمائے توحید کے ہاں اختیار کی جاتی ہے کیوں یہاں نوجوانوں کے سامنے لےآتا ہے؟ (اور گویا اس نے یہ وسعت خود اپنے پاس سے پیدا کرلی ہے!) ایقاظ نوجوانوں پر یہ بات کیوں کھولتا ہے کہ ایک مسئلہ پر ہمارے ان بھائیوں کی رائے سے ہٹ کر بھی علمائے توحید کے ہاں کوئی رائے پائی جاتی ہے؟

مسئلہ تو صرف اتنا ہے۔ آپ اس کو علمائے توحید کی آراء میں سے ’’ایک رائے‘‘ کے طور پر پیش کریں، مسئلہ ہی کوئی نہیں۔ آپ جانتے ہیں ہم بھی اسے ’’آراء میں سے ایک رائے‘‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ گڑبڑ صرف وہاں ہوتی ہے جب آپ ایک رائے کو ’’اہل توحید کی واحد رائے‘‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ ظلم شاید ایقاظ نہ ہونے دے۔ اور یہی شاید اسکا جرم ہے!

حضرات آپ ایک کام کیجئے۔ ایقاظ یہاں جن آراء کو پیش کرتا ہے آپ انکی بابت صرف یہ دعویٰ فرمادیجئے کہ یہ آراء علمائے توحید میں سے کسی کی اختیارکردہ نہیں!

اپنی ’چنانچہ اگرچہ‘ لگانے سے پہلے۔۔۔ ہمارے کسی ایک جملے کی نشاندہی براہِ کرم ضرور کردیجئے  جس میں آپ کے خیال میں ہم نے:

1.       علماء کی رائے کو غلط نقل کیا ہے، یا

2.       علماء کی رائے کو صحیح طرح سمجھے بغیر بیان کردیا ہے، یا

3.       علماء کی بات سے غلط مطلب کشید کرلیا ہے، یا

4.       علماء کی بیان کردہ کسی بات کو اُس کی حد سے بڑھا دیا ہے۔

البتہ شرط یہ ہے کہ ان چار حوالوں سے آپ پہلے ہمارے کسی جملے کی نشاندہی کریں نہ کہ اپنے کشیدکردہ مطلب سے ہی گفتگو کا آغاز فرمائیں۔

*****

 یہاں مجھے ایک مماثلت یاد آرہی ہے۔ یہاں کے ایک سرگرم اہل حدیث داعی جو ہمیشہ امام احمد بن حنبل کا  یہ قول اپنے خطبوں میں نقل کرتے ہیں کہ إن لم یکونوا أصحاب الحدیث فلا أدری من ھم؟ (یہ طائفہ منصورہ اگر اصحاب الحدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ پھر وہ کون ہیں)... ایک مجلس میں ہمارے ساتھ بیٹھے جب یہ ’ناقابل یقین‘ خبر سنی کہ امام احمد ایسے ’’اصحاب الحدیث‘‘ جہری نماز میں فاتحہ خلف الامام کے قائل نہیں، نیز ابن تیمیہ بھی اسکے قائل نہیں، نیز اس دور کے ایک عظیم اہل حدیث نام البانی بھی اسکے قائل نہیں، تو ہمیں فرمانے لگے: بھائی جو تم کہتے ہو ٹھیک ہوگا، مگر پاکستان میں یہ بات بیان نہ کرنا کہ امام احمد، ابن تیمیہ اور البانی جہری میں فاتحہ خلف الامام کے قائل نہیں، یہاں ہم نے بڑی محنت کی ہے لوگ یہ سن کر کنفیوز ہوجائیں گے!!

 حضرات تسلی رکھیے، ہم علمائے توحید کے اقوال میں سے بھی کوئی شاذ قسم کا قول آپکے سامنے نہیں رکھ رہے (یعنی کوئی ایسا قول جو کوئی موحد عالم ہی کہہ تو بیٹھا ہو مگر وہ کوئی ہزار میں سے ایک عالم ہو، باقی سب علماء اس قول کے غلط اور قابل ترک ہونے پر متفق ہوں)!... خاطر جمع رکھیے، یہاں ہم نے جو فقہی آراء پیش کی ہیں علمائے توحید کے حوالے سے ان کی بابت یہ کم از کم کہا جاسکتا ہے کہ یہ جمہور کی رائے ہے۔ 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
لفظ "شریعت" اور "فقہ" انٹر چینج ایبل ہو سکتے ہیں
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
اناڑی ہاتھ درایت
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
’مسلک‘ اور ’تنظیم‘ کا خوب و بد.. والله يعلم المفسدَ من المصلح
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
"اقوالِ سلف" کا ایک متناقض اطلاق: نظام ڈیموکریسی اور احکام خلافت کے!
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی
تنقیحات-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز