عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-01 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
’’جماعت‘‘ کا اسلامی تصور... اور’’ہیومنسٹ‘‘ جاہلیت
:عنوان

جماعت (سوسائٹی)جو "ہدایت" سےتشکیل پائےشریعتوں اور نبوتوں کا اصل محور ہے۔ اگر آپ غور فرمائیں تو قرآن کا پورا خطاب کسی"فرد"سے نہیں ہے۔ قرآن کا خطاب اول تا آخر ایک"جماعت"کی تشکیل کرتا اور"جماعت"سےہم کلام ہوتا ہے

. اصولمنہج :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

تعلیق 9  [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ)

’’جماعت‘‘ کا اسلامی تصور... اور’’ہیومنسٹ‘‘ جاہلیت

ذٰلِكَ خَيْرٌ ’’یہ بہت بہتر ہے‘‘[2]

تفسیرِ قرطبی:

 یعنی یہ (عند النزاع معاملے کو کتاب و سنت کی جانب لوٹانا) بہت بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ تمہارے مابین نزاع رہے۔

کیونکہ انسانوں کے مابین ’’نزاع‘‘ رہے گا تو وہ ’’جماعت‘‘ (اجتماع) مفقود رہے گا جو شرائع کا مقصود ہے؛ نتیجتاً وہ ’’جاہلیت‘‘ کلی یا جزوی طور پر برقرار رہے گی جو ’’شریعت‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی ضد ہے اور جس کو قرآن کے اکثر مقامات پر ’’اختلاف‘‘ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔[3]  پس یہ ’’اختلاف‘‘ ’’جاہلیت‘‘ ہے اور ’’جاہلیت‘‘ ’’اختلاف‘‘:

انسانی فلسفوں کو آپ ہزار سال پڑھتے رہیں، اگرچہ کہیں کہیں اس میں آسمان سے تارے کیوں نہ توڑ لائے گئے ہوں، کیونکہ انسانی دماغ ایک ایسی زرخیز زمین ہے جس میں ایک باقاعدہ آسمانی کاشت “cultivation” نہ بھی کی جائے تو اس کے جھاڑ جھنکاڑ میں بڑی بڑی کام کی چیزیں پھر بھی پائی جاسکتی ہیں مگر رہے گا وہ ’’جھاڑ جھنکاڑ‘‘ ہی؛ جس کو انبیاء کے دیے ہوئے نقشے پر ایک باقاعدہ ’’کاشت‘‘ cultivation  سے پہلے لازماً تلف ہی کرایا جائے گا... غرض انسانی فلسفوں کو آپ ہزار سال پڑھتے رہیں اور پھر آپ کو ان سب پر ایک لفظ میں اپنا تبصرہ کرنا پڑے تو آپ کہیں گے ’’اختلاف‘‘۔ انسانی فکر و فلسفہ پر اس سے بڑھ کر کوئی لفظ نہ جچے گا۔ پس جاہلیت کی سب سے بڑی توصیف description  اگر کوئی ہے تو وہ ’’اختلاف‘‘ ہے۔ یہاں تک کہ خود قرآن مجید کو جانچنے کی جہاں ایک کسوٹی دی گئی کہ آیا یہ واقعی خدا کا کلام ہے یا کوئی ’انسانی فکری سفر‘ تو وہاں عین اِسی چیز کو بنیاد بنایا گیا: أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء: 82) ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے‘‘۔

پس ’’جاہلیت‘‘ اور ’’اختلاف‘‘ لازم و ملزوم ہیں بلکہ بڑی حد تک مترادف۔  اس کے مقابلے پر ’’اھتداء‘‘ (ہدایت پانا) اور ’’اتباع‘‘ جوکہ انبیاء کا دامن تھامنے سے تشکیل پاتا ہے، اور جس کو قرآن میں ’’خدا کی رسی تھامنے‘‘ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے، لازماً ’’جماعت‘‘ (اجتماع) کو وجود دیتا ہے؛ وہ ’’جماعت‘‘ جس پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے (يَدُ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ) اور جو خدا کی رحمت کی حقدار ٹھہرتی ہے (وَلَا يَزَالُوْنَ مْخْتَلِفِيْنَ إلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ)۔

یہاں سے ’’اتباع‘‘ اور ’’جماعت‘‘ لازم و ملزوم ہوجاتے ہیں۔ ’’اسلام‘‘ بغیر ’’جماعت‘‘ متصور ہی نہیں۔ ’’توحید‘‘ اور ’’عبادت‘‘ بغیر ’’جماعت‘‘ ممکن نہیں؛  (وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ ... وَمَا أنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ... ثُمَّ کَانَ مَنَ الَّذِیۡنَ آمَنُوۡا... وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مِنَ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَکَانُوۡا شِیَعاً کُلُّ حِزۡبٍ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ... وَقالَ إنَّنِیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ... کُونُوا مَعَ الصَّادِقِیۡنَ... وَأدۡخِلۡنِی فِی الصَّالِحِیۡنَ... وَمَن یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ وَالَّذِیۡنَ آمَنُوا فَإنَّ حِزۡبَ اللّٰہَ ھُمۡ الۡغَالِبُونَ

چنانچہ جہاں ’’حَبۡل اللّٰہ‘‘ کا ذکر ہوا وہاں ’’جَمِیعاً‘‘ اور ’’وَلَا تَفَرَّقُوا‘‘ کا ذکر بھی ساتھ ہی لازم ٹھہرا؛ اور قرآن کے اسی مقام (سورۃ آل عمران کا رکوع 11) سے فرقہ ناجیہ (نجات پانے والے گروہ) کی وہ پوری توصیف بھی سامنے آئی: ’’اھل السنۃ والجماعۃ‘‘۔[‌أ] ’’السنۃ‘‘: یعنی آسمانی ہدایت کی اتباع۔ اور ’’الجماعۃ‘‘: یعنی اِس آسمان سے اتری ہوئی ہدایت اور اُس کے اتباع پر اہل زمین کی وحدت اور اکٹھ۔ نہ صرف فرقۂ ناجیہ کا وصف سامنے آیا  بلکہ برباد ہونے والے ٹولوں کا وصف بھی سورۃ آل عمران کے اسی مقام سے سامنے آیا: اھلُ الاھواء والفُرقۃ۔ یا اھلُ البدعۃِ والفُرقۃ۔ یعنی اھواء یا بدعت بمقابلہ حبل اللہ، اور فُرقۃ بمقابلہ الجماعۃ؛آپ دیکھتے ہیں اہل بدعت کے یہی دو نام کتب عقیدہ میں سب سے زیادہ مستعمل ہیں: اھل الاھواء اور اھل الفُرقۃ۔

پس ’’جماعت‘‘ society  جو ’’ہدایت‘‘ سے تشکیل پائے شریعتوں اور نبوتوں کا اصل محور ہے۔ اگر آپ غور فرمائیں تو قرآن کا پورا خطاب کسی ’’فرد‘‘ سے نہیں ہے۔ قرآن کا خطاب اول تا آخر ایک ’’جماعت‘‘ کی تشکیل کرتا اور ’’جماعت‘‘ سے ہم کلام ہوتا ہے: ’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا‘‘۔ یہاں وہ ’’فرد‘‘ تو کہیں ملتا ہی نہیں جو ایک آسمانی اجتماعیت کے علاوہ کسی بھی اجتماعیت میں گم ہوسکتا ہو۔ یہاں تو وہ ’’فرد‘‘ ہے جو ایک آسمانی ’’جماعت‘‘ کی تشکیل کرتا اور قدم قدم پر زمینی ’جماعتوں‘ سے الجھتا ہے۔ }’زمینی جماعتوں‘ کےلیے صحیح لفظ، قرآنی اصطلاح میں، ’فرقے‘ یعنی ’ٹولے‘ ہے چاہے وہ کتنے ہی بڑے اور ’لاکھوں مربع میل‘ پر مشتمل کیوں نہ ہوں: وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مِنَ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَکَانُوۡا شِیَعاً کُلُّ حِزۡبٍ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ ’’ اور مشرکوں سے نہ ہو، ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہوگئے گروہ گروہ، ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اسی پر خوش ہے‘‘... جبکہ آسمانی ہدایت پر قائم عمل کو ’’جماعت‘‘ کہا جاتا ہے اگرچہ وہ بلحاظِ تعداد و حجم کتنی ہی چھوٹی ہو (عبداللہ بن مسعودؓ    کا مشہور) اثر: الجماعۃُ ما وافقَ الحقَّ ولو کنتَ وحدَكَ ’’جماعت وہ جو حق کی موافقت میں ہو چاہے تم اکیلے کیوں نہ رہ جاؤ‘‘{۔ پس ’’جماعت‘‘ قرآن کے مرکزی ترین مضامین میں سے ایک مضمون ہے؛ البتہ اس کی بنیاد ’’توحید‘‘، ’’عبادتِ خداوندی‘‘ اور ’’نبی‘‘ کی مرکزیت ہے۔ لہٰذا ’’فَرُدُّوہُ إِلَى اللّٰہِ والَّرسُول‘‘ بیک وقت ’’ہدایت‘‘ بھی ہے اور ’’جماعت‘‘ بھی۔

انسانی ’’تہذیب‘‘human culturing  اور ’’اجتماع‘‘ society   کا اسلامی تصور اصل میں یہ ہے۔ ’’جماعت‘‘  کا تذکرہ شرعی مصادر میں ہمیں جابجا ملتا ہے۔ اس پر پیچھے کچھ کلام ہو آیا ہے (دیکھئے اس فصل میں ہماری دوسری تعلیق ’’لا اســـــــــــــــــــلام اِلا بجمـــــــــــــــــــاعۃ‘‘) اور کچھ شرعی نصوص اِس پر دوسری فصل کی ایک تعلیق میں لے کر آئیں گے۔ اسلام کی یہ اصطلاح ’’جماعت‘‘ بڑی حد تک وہ چیز ہے جس کو جدید زبان میں عمرانی و نظریاتی پہلو سے ’’سوسائٹی‘‘ اور تنظیمی پہلو سے ’سٹیٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ ’’جماعت‘‘ کےلیے ضروری ہے  -   خواہ یہ ’’سوسائٹی‘‘ کے معنیٰ میں ہو یا ’’سٹیٹ‘‘ کے معنیٰ میں –  کہ یہ ’’خدا اور رسول‘‘ کی مرکزیت پر قائم ہو اور اپنے ’’دستور‘‘ اور اپنی ’’بنیادی پہچان‘‘ کےلیے صرف اِس ایک حوالہ کے سوا ہر حوالے سے بیگانہ ہوجائے؛ تاکہ یہ جہان میں اپنی تخلیق کا مقصد پورا کرے؛ اور اس کے نتیجے میں دنیا کی خیر و فلاح اور آخرت کی نجات و سرخروئی سے ہمکنار ہو۔

یہاں سے؛ ’’ہیومن ازم‘‘ تاریخ انسانی کی سب سے بڑی جاہلیت کے طور پر سامنے آتا ہے جو ’’انسان‘‘ کی مرکزیت پر یقین رکھواتا ہے۔  اس کا منشو ر  manifesto ہی رُدُّوہُ إِلَى اللّٰہِ والَّرسُول‘‘ کے مقابلے پر ’’رُدُّوہُ إِلَى الۡإنۡسَان‘‘ ہے۔ آج کی ڈیموکریسی، سیکولرزم اور سرمایہ داری وغیرہ دراصل اِس شرک پر قائم ہیں۔ ’’معبود‘‘ کا ایک باقاعدہ مفہوم یہ ہے کہ جملہ نزاعات و معاملات کو اس کی جانب لوٹایا جائے؛ اور اِس ’’معاملات کو اُس کی جانب لوٹانے‘‘ کو ہی اپنے حق میں فساد کا خاتمہ، نزاع کا ازالہ، صلاح کا حصول اور اطمینان کا باعث مانا جائے۔  آپ حیران رہ جاتے ہیں؛ ’’ہیومن اسٹ‘‘ فکر آپ کو ہو بہو یہ بات اس طرح  بتاتا ہے کہ زندگی کے معاملات کے ایک بڑے حصے کو ’’انسان‘‘ کی جانب لوٹانے میں ہی ’’انسانی اختلافات‘‘ کا خاتمہ ہے اور یہی واجب اور درست طریق کار؛ اور ’اطمینان‘ کا موجب؛ اور یہ کہ معاملاتِ زندگی کو کسی اَن دیکھی ہستی (یا ہستیوں!) کی جانب لوٹانا ’’اختلاف‘‘ اور ’’نزاع‘‘ کا ایک لامتناہی سلسلہ کھڑا کردینے کے مترادف ہے! یعنی جس چیز کو اسلام ’’اختلاف‘‘ اور ’’نزاع‘‘ division and dispute کہتا ہے [‌ب]  اس کو یہ دینِ ہیومن ازم ’’جماعت‘‘ unity  اور ’’فصلِ نزاع‘‘ settlement of dispute  کہتا ہے، مراد ہے اس کا مذہبِ ’’رُدُّوہُ إِلَى الۡإنۡسَان‘‘۔ اور جس چیز کو اسلام ’’فصلِ نزاع‘‘ کہتا ہے یعنی ’’َرُدُّوہُ إِلَى اللّٰہِ والَّرسُول‘‘، اُس کو یہ دینِ ہیومن ازم ’’عین نزاع‘‘ بلکہ ’’نزاع کی جڑ‘‘ قرار دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ ہیومن ازم کے بطن سے برآمد ہونے والی اِن مصنوعات کو جو آپ کے ہاں تعلیم سے لے کر سیاست، معیشت اور ’’تعلقاتِ افراد و اقوام‘‘ تک ہر طرف چھائی ہوئی ہیں، ’اسلام سے ہم آہنگ‘ کرنے کی تحریک جو اس وقت عالم اسلام میں زور و شور سے جاری ہے یہاں پر کیا کیا گل کھلانے والی ہے۔ ایک کھلا الحاد ہے جو سب بند توڑ کر آپ کے ہا ں گھس آیا چاہتا ہے۔ اس سے کھلی بیزاری اور اس کی ایک ایک چیز کو رد کرنے کی ایک غیرمبہم روش اختیار کرنے میں آپ جتنی تاخیر کریں گے، اور اس کے ساتھ ’ہم آہنگی‘ کی جس قدر گنجائش چھوڑیں گے، اتنا ہی اپنی نسلوں کو کھونے کا اندیشہ بڑھاتے چلے جائیں گے۔[‌ج]

چنانچہ ’’فَرُدُّوهُ إلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ‘‘ اِن چار لفظوں پر مبنی بنیادی اسلامی دستور کو بیان کردینے کے بعد ایک بات یہ فرمائی کہ: ’’إنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‘‘ تاکہ اس آئین کی دنیوی و اخروی جہتیں واضح ہوجائیں  اور اس کا دائرہ زمین کے اِس چھوٹے سے کرے سے نکل کر آفاق سے جڑ جائے اور ’’کائنات‘‘ میں رہنے کا استحقاق اِس کائنات کے مالک کی شرطوں پر پورا ہو، بلکہ اپنے وجود ہی کی غایت پوری ہو؛ یعنی ایمان۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ: ’’ذٰلِكَ خَیۡرٌ‘‘۔  یعنی خود تمہارے حق میں بھی یہی بہتر ہے۔  تمہاری تقویم اور سرشت کے لائق بھی صرف یہی شیوہ ہے۔ تمہاری اپنی فلاح اور سعادت بھی یہی ہے۔ دفعِ فساد، رفعِ نزاع اور حصولِ صلاح بھی عین اسی میں ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 



[1]   ابن تیمیہ کے متن میں دیکھئے فصل اول، حاشیہ 9

[2]  سلسلۂ  کلام (قرآن میں) اس طرح ہے: فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ ’’پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو لوٹاؤ اُسے اللہ اور رسولؐ کی طرف اگر تم ہو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے۔ یہ بہت بہتر ہے‘‘

[3]  اس پر تعلیق 11 میں کچھ گفتگو آ رہی ہے



[‌أ] دیکھئے تعلیق 11 کا حاشیہ أ

[‌ب]   دیکھئے اِس فصل کی تعلیق 11

[‌ج] ہیومن ازم کی بابت مزید جاننے کےلیے دیکھئے ہمارا پمفلٹ ’’فتنہ ہیومن ازم‘‘۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
اہل سنت کا ’’ایمان‘‘ نہ کہ معتزلہ کا! (بسلسلہ خلافت و ملوکیت
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 10   [1]    (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) اہل سنت کا ’’ایمان‘‘ ن۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز