عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, December 13,2018 | 1440, رَبيع الثاني 5
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-01 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
امانات (بسلسلہ خلافت و ملوکیت تعلیقات)
:عنوان

ایک ہی جگہ پر خدا کی صفات کا بیان، وہیں پر ماپ تول اور عہد پورا کرنے کے مسئلے، وہیں پر شرمگاہوں کی حفاظت کا درج ہونا، وہیں پر جہاد اور رسول کی اطاعت۔ "دستور" کے بیان کا یہ اسلوب بھی شاید ہمیں بحال کرانا ہے!

. اصولمنہج :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

تعلیق 3 [1]  (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ)

اَمَانات

إنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا                          (النساء: 58)

اللہ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچا ؤ۔ اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے فیصلہ کرو۔ یقیناً وہ بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ کررہا ہے۔ بےشک اللہ سنتا ہے، دیکھتا ہے۔

ابن تیمیہ﷫ اس آیت کو اپنے بیان کردہ قاعدہ کی بنیاد بناتے ہیں۔ ایک تو اس لیے کہ سورۃ النساء کا یہ مقام اسلام کے ’’آئینی امور‘‘ سے متعلق پورے ایک مضمون کا آغاز ہے۔ دوسرا اس لیے کہ ’’سماجی حقوق و فرائض‘‘کو ’’امانتیں‘‘ قرار دے کر ان کو اللہ کے حکم نامے میں درج کرنے، اور ’’عدل‘‘ سے ان کا رشتہ جوڑنے، نیز اللہ کے ’’سننے اور دیکھنے‘‘ سے ان کا رشتہ قائم کرنے کے حوالے سے یہ آیت بنیاد ہے۔ امام قرطبیؒ کہتے ہیں:

هَذِهِ الْآيَةُ مِنْ أُمَّهَاتِ الْأَحْكَامِ تَضَمَّنَتْ جَمِيعَ الدِّينِ وَالشَّرْعِ 

یہ آیت امہات الاحکام میں سے ہے، اس میں دین اور شرع پورے کا پورا آگیا ہے۔

اس کی تفسیر میں مفسرین نے زیادہ تر امراء کی ذمہ داریاں بحقِ رعایا اور رعایا کی ذمہ داریاں بحق امراء بیان کی ہیں، تاہم اس کی وسعت کا اندازہ اس سے کریں کہ قرطبیؒ حضراتِ براء بن عازب، ابن مسعود، ابن عباس اور اُبی بن کعب﷡ سے یہ تفسیر لاتے ہیں کہ یہ عام ہے ہر امانت کو ادا کرنے میں خواہ اس کا تعلق وضوء سے ہو، نماز سے ہو، زکواۃ سے، جنابت سے، روزہ، ماپ، تول اور لوگوں کو ادا کرنے والی اشیاء ایسے کسی معاملہ سے۔ ابن کثیرؒ حضرت اُبی بن کعب سے یہ قول بھی لے کر آتے ہیں: کہ عورت کو اپنی شرمگاہ کو خاص اپنے خاوند کےلیے جس طرح سنبھالنا ہے، وہ بھی اس ’’امانت‘‘ میں آتا ہے۔

’’ہمارا دستور‘‘ اِسی اسلوب میں بیان کیا جاتا ہے! ایک ہی جگہ پر خدا کی صفات کا بیان، وہیں پر ماپ تول اور عہد پورا کرنے کے مسئلے، وہیں پر شرمگاہوں کی حفاظت کا درج ہونا، وہیں پر جہاد اور رسول کی اطاعت۔ ’’دستور‘‘ کے بیان کا یہ اسلوب بھی شاید ہمیں بحال کرانا ہے!

لفظ ’’امانت‘‘ کے حوالے سے قرآن میں ایک اور مشہور آیت ہے۔ ’’خلافت‘‘ وغیرہ کے باب میں مؤلفین اس آیت کا بھی بکثرت ذکر کرتے ہیں:

إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا                                     (الاحزاب: 72)

بےشک ہم نے امانت کی پیش کش کی آسمانوں کو، زمین کو اور پہاڑوں کو، تو وہ اس کو اٹھانے سے انکار کرگئے، اور اس سے سہم گئے۔ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ بڑا ظلم کرنے والا بڑا جہالت والا ہے۔

اِس کی تفسیر میں ابن عباسؓ اور سعید بن جبیرؒ ودیگر سلف کہتے ہیں: یہاں امانت سے مراد ہے ’’فرائض اور ذمہ داریاں‘‘۔ ابن جریر طبریؒ بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں؛ کیونکہ دیگر تفاسیر اِسی میں فٹ ہوجاتی ہیں۔ ’’مکلف‘‘ ہونا، ’’ذمہ داری‘‘ اٹھانا انسان کے ساتھ خاص ہے، دیگر مخلوقات کا خدا کی ’ڈیوٹی‘ کرنا بالکل اور انداز کا ہے۔ ’’امانت‘‘ کے اندر ’’آزمائش‘‘ کا ایک معنیٰ ہے۔ اس میں ایک طرح کا ’’اختیار‘‘ ہوتا ہے، البتہ یہ مطلق اختیار نہیں بلکہ یہ وہ اختیار ہے جس میں  ایک’’جوابدہی‘‘ ہے اور اس کی بنیاد پر باقاعدہ جزاء و سزاء ہے۔ پس یہاں سے وہ پورا تصور آگیا جو کرۂ ارض پر بنی آدم کے کردار، غایت اور انجام نیز اس کی سرگرمی کی طبیعت اور نوعیت کا تعین کرے، اور جوکہ بنی آدم کی اس جانشینی کو جو ’’إنِّی جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیفَۃً‘‘ میں بیان ہوئی، خوب اُجلا کردیتا ہے۔ سورۃ الاحزاب کی اِس آیت میں ’’ذمہ داری‘‘ اور ’’اختیار جس میں جوابدہی ہو اور جس پر جزاء وسزا ہو‘‘ (الۡأمَانَۃ)  نسبتاً ایک زیادہ عمومی سیاق رکھتا ہے۔ جبکہ سورۃ النساء کی آیت میں جو اس سے پہلے گزری، (الۡأمَانَات) کا سیاق اُن ’’ذمہ داریوں‘‘ اور ’’اختیارات‘‘ سے زیادہ متعلقہ نظر آتا ہے جو جماعت (سوسائٹی) کے آپس ہیں۔ چنانچہ ابن تیمیہؒ نے اسی پر اپنے پورے مقالہ کی بِنا اٹھائی۔

یہ چیز جو قرآن مجید میں ’’امانت‘‘ یا ’’امانات‘‘ کے نام سے ذکر ہوئی، جدید جاہلیت کے مقابلے پر دو پہلوؤں سے ہماری توجہ چاہتی ہے:

1.        پہلی یہ کہ یہ ’’جوابدہی‘‘ ہے۔ یوم الدین۔ بادشاہِ کائنات کے دربار میں زمین کے سب وسائل، مواقع، قوتوں، صلاحیتوں اور اختیارات  کے معاملہ میں حساب کتاب کےلیے پیش ہونا۔ یعنی یہ کوئی آزاد (لبرل) مخلوق نہیں، بلکہ اس کو ایک ایسی جوابدہی کا بار اٹھوا رکھا گیا ہے جس کے تصور سے آسمان، زمین اور پہاڑ کانپ گئے تھے۔ مزید برآں، بادشاہِ عادل کے ہاں جوابدہی اُس وقت تک ناقابلِ تصور ہے جب تک وہ رعایا پر اپنے احکام اور قوانین واضح نہ کرچکا ہو۔  یہاں سے اِس جوابدہی کی بنیاد رسالت ہوگئی (برخلافِ معتزلہ، جو جوابدہی کی بنیاد عقل کو مانتے ہیں)[2]۔ ’’رسالت‘‘ کے سوا ’’قانون‘‘ کا کوئی سرچشمہ نہیں۔ جوابدہی ہوگی تو صرف اس بنیاد پر: قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کافروں کے دوزخ میں داخل ہونے کا منظر دکھایا گیا ہے جہاں داروغے ان کو صرف ایک بات پوچھتے ہیں: ’’کیا خدا کے بھیجے ہوئے تمہارے پاس نہ آئے تھے‘‘؟ پس ’’رسالت‘‘ ہی ’’قانون‘‘ ہے۔ ’’بادشاہ‘‘ ایک رسالت کا نسخ کرکے دوسری رسالت لے آئے  تو جانتے بوجھتے ہوئے پرانی رسالت (یعنی خود اُسی کے دربار سے صادر ہونے والے مگر اب منسوخ قانون)  پر چلنے والے بھی اُس کے ہاں پکڑے جانے والے ہیں (کجا یہ کہ قانون صادر کرنے والا ’’دربار‘‘ ہی وہ زمین پر لےآئیں اور عرش کو اپنے یہاں سے فارغ خطی دے دیں! اس سے بڑا کفر زمانے میں کبھی نہ ہوا ہوگا)۔  پس یہ ’’امانت‘‘ بیک وقت دو پہلو سے ہوئی: ایک خدا کے آگے جوابدہی۔ دوسرا، سب وسائل اور اختیارات میں ’’خدا کے نازل کردہ‘‘ کے مطابق تصرف کرنا۔ ’’امانت‘‘ کا مطلب ہی یہ ہے کہ آدمی بظاہر ایک چیز کا مالک ہو  مگر درحقیقت وہ کسی اور کی ہو جسے وہ کسی وقت واپس لے لینے والا ہو:  وہ ’’انجام‘‘ سے غافل ہو تو اس (امانت) کے معاملہ میں جیسے مرضی گلچھرے اڑائے لیکن ’’انجام‘‘ سے آگاہ ہو تو اس میں اپنا اختیار معدوم جانے۔ پس نعمتوں، آسائشوں، وسائل اور اختیارات سے لدی ہوئی اِس زمین کو، جوکہ درحقیقت ایک پھندا ہے،[3]  کافر کی نظر سے دیکھیں تو اس پر سب سے زیادہ جچنے والا لفظ ’’لبرلزم‘‘ ہوگا (ہمارا اندازہ ہے کافر خدا کی زمین پر اپنے تصرف کےلیے اِس سے زیادہ صریح اور برہنہ لفظ شاید کبھی نہ لاسکے گا)۔  جبکہ وسائل، امکانات اور اختیارات سے لدی ہوئی اِس دنیا کو مومن کی نظر سے دیکھیں تو اس کےلیے ’’امانت‘‘ سے بڑھ کر کوئی لفظ مناسب نہ ہوگا۔ پھر کیوں نہ ہوتا کہ اسے سن کر آسمان اور زمین اور پہاڑ کانپ اٹھتے؛ البتہ انسان کی ہمت کہ اس نے آگے بڑھ کر اسے اٹھا لیا! إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا... لِيُعَذِّبَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَاتِ وَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا۔ یہ وجہ ہے کہ ’’خلافت‘‘ جوکہ زمین کے وسائل اور اختیارات سے بحث کرنے والا ایک مضمو ن ہے، کو ہمارے بہت سے علماء نے اِسی ’’امانت‘‘ کے تحت لاکر بیان کیا ہے۔

2.        دوسری بات یہ کہ:  وہ اشیاء جن کو ہم آج کی مستعمل زبان میں سماجی رشتے،  باہمی حقوق و فرائض، آئینی اختیارات اور قانونی حیثیتیں کہتے ہیں وہ کوئی ’سوشل کونٹریکٹ‘ نہیں۔ یعنی وہ اپنی ’’پابند کن حیثیت‘‘ binding status اِس نقطہ سے نہیں لیتے کہ یہ اشیاء انسانوں نے آپس میں طے کرلی ہیں، بلکہ وہ اپنی یہ ’’پابندکن حیثیت‘‘ اِس نقطہ سے لیتے ہیں کہ یہ خدا کے مقرر ٹھہرائے ہوئے شرعی حقوق و واجبات  اور اُس کے بخشے ہوئے اختیارات ہیں۔  یعنی ’’الأمانات‘‘۔ بلاشبہ خدا نے ایک دائرہ اپنے بندوں کےلیے بھی رکھ چھوڑا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اور اپنی آسودگی کو دیکھ  کر حقوق، فرائض، معاملات اور اختیارات کو آپس میں طے کریں، لیکن اس دائرہ کو بھی ایک تو اس بنیاد پر لینا ہوگا کہ یہ شریعت کا دیا ہوا دائرہ ہے نہ کہ کوئی مطلق دائرہ (’’لبرلزم‘‘ ہر معنیٰ میں کفر ہے اور ہرحال میں واجبِ جنگ)۔ دوسرا،  مسلسل یہ نظر رکھی جائے گی کہ معاملہ کہیں شریعت کی حدوں سے نکل تو نہیں رہا: الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا، وَأحَلَّ حَرَاماً۔[4] 

ہر دو مبحث کو آئندہ تعلیقات میں کھولا جائے گا، ان شاء اللہ



[1]  ابن تیمیہؒ کے متن میں دیکھئے فصل اول، حاشیہ 3

[2]   کم از کم جوابدہی کو مانتے ہیں اور اس جوابدہی سے کسی چیز کو مستثنیٰ نہیں جانتے (’’عقل‘‘ اور ’’رسالت‘‘ کے حوالے سے انکا جدل بھی خاصی حد تک فلسفیانہ ہے، عملاً اور ایک عمومی معنیٰ میں رسالت کا اتباع کرنے والے لوگ ہی ہیں۔ یہ ’انسپائریشن‘ صرف  ’جدید معتزلہ‘ کو ہوئی  کہ وہ اِس ’’جوابدہی‘‘ میں صرف نماز روزہ ایسی چند عبادات ، کوئی دو ڈھائی درجن ’سنتوں‘ اور اخلاق کو رکھ کر باقی معاملات میں اس کو ’’جوابدہی‘‘ سے آزاد کردیں!

[3] إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا  وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا  (الکہف 7، 8) ’’جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لئے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔ آخرکار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں‘‘

[4]  مفہوم: ’’مسلمان اپنے مابین شروط طے کرنے میں آزاد ہیں، سوائے ایسی شرط کے جو حلال کو حرام کرے یا حرام کو حلال‘‘۔ یہ فقہاء کے ہاں متفقہ قاعدہ اور مقولہ تو یقیناً ہے کیونکہ شریعت کے اصولوں کی قطعی دلالت یہی ہے۔ البتہ الفاظ کے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ متعدد روایات میں یہ بطورِ حدیث بھی وارد ہوا ہے۔ (دیکھئے: سنن ابی داوٗد رقم 3594، مسند أحمد 8784، المعجم الکبیر للطبرانی 30،  ۔ البانیؒ نے ان الفاظ کے ساتھ اس کو صحیح کہا ہے:  الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ... الصُّلۡحُ جَائِزٌ بَيۡنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ إلَّا صُلۡحاً أحَلَّ حَرَاماً أوۡ حَرَّمَ حَلَالاً ، دیکھئے: إرواء الغلیل رقم 1303، صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ رقم 3862)

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
اہل سنت کا ’’ایمان‘‘ نہ کہ معتزلہ کا! (بسلسلہ خلافت و ملوکیت
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 10   [1]    (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) اہل سنت کا ’’ایمان‘‘ ن۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز