عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, August 20,2019 | 1440, ذوالحجة 18
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-01 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
لَا إِسْـــــــــــــــــــــــــــــــــلَامَ إِلَّا بِجَمَــــــــــــــــــــاعَةٍ
:عنوان

اِس اعلانِ ’’لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ سے اگلے لمحے جس طرح ایک ’’نیا فرد‘‘ وجود میں آتا ہے عین اُسی طرح ایک ’’نئی اجتماعیت‘‘ جنم لے اٹھتی ہے

. اصولمنہج :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

تعلیق 2  [1]     (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ)

اسلام کا مختصر تعارف

لَا إِســـــــــــــــــــــــــــــــــلَامَ إِلَّا بِجَمَــــــــــــــــــــاعَةٍ[2]

ہمارے دین کا نام اور عنوان ہی ’’اسلام‘‘ ہے: یعنی خودسپردگی اور تابع فرمانی، کسی ہستی کا ہوجانا، اور اُس کے اختیار کے آگے اپنا اختیار ختم کرلینا۔

یہ ’’ہستی‘‘  خدا کی ذات ہے، تاہم چونکہ خدا کی شان یہ نہیں ہے کہ اِس دنیا میں وہ ایک ایک انسان سے ہم کلام ہو، لہٰذا وہ اپنے ایک برگزیدہ ترین اور فہمیدہ ترین بندے کوچن کر اس کو اپنا کلام اور اپنی براہ راست راہنمائی اِلقاء کرتا ہے، اور پھر اپنے اُس برگزیدہ بندے کی رسالت پر لاتعداد دلائل اور بینات کھڑے کرکے انسانوں کے مابین اس کو اپنے نمائندے کے طور پر پیش کرتا؛ اور اُس کی ’’مطلق‘‘ اطاعت کا مطالبہ رکھتا ہے۔

یہاں سے؛ خدا کے آگے وہ ’’خودسپردگی‘‘ اور ’’تابع فرمانی‘‘ جوکہ سراسر ’’اسلام‘‘ اور ’’عبادت‘‘ ہے اور جس کےلیے انسان پیدا ہوا، سب کی سب اِس چیز سے متعلقہ ہوجاتی ہے کہ خدا کا وہ ’’کلام‘‘ ہی اور خدا کی وہ ’’براہِ راست راہنمائی‘‘ ہی جو ’’رسول‘‘ کے ذریعے آدمی کو دستیاب ہوتی ہے اِس آدمی کی زندگی کا آئین ہوجائے؛ اس کے جملہ اعمال، احوال، مناسک، معاملات، رشتے ناطے اور اس کی انفرادی وسماجی حیثیتیں سب اس آئین کی روشنی میں طے ہوں؛ اور وہ آئین اس کی زندگی میں باقاعدہ بولے؛ اس کو روکے اور ٹوکے؛ اور اس کےلیے درست ونادرست اور روا و ناروا کا تعین کرے۔

اس لحاظ سے دینِ اسلام دنیا کے کسی بھی ’مذہب‘ یا ’دھرم‘ پر قیاس ہونے والی چیز نہیں۔ یہ قلب کی ایک خاص حالت اور زندگی کے ایک خاص دستور کا نام ہے؛ اور اِن ہردو پہلو سے ’’آسمانی شریعت‘‘ کی روشنی میں ’’خدارُخ‘‘ ہوجانے سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔  خود لفظ ’’دین‘‘ کے معانی میں سے ایک معنیٰ ’’قلب کا کسی ہستی کے آگے ذلت اختیار کرلینا‘‘ اور ایک دوسرا  معنیٰ ’’زندگی کا ایک باقاعدہ آئین ودستور رکھنا‘‘ ہے۔

پس ہر  وہ آدمی جو اپنا دین ’’اسلام‘‘ بتاتا ہے اور اپنے آپ کو ’’مسلم‘‘ اعلان کرتا ہےوہ دنیا کے ہر ’مذہب‘ اور ہر ’دھرم‘ کے پیروکار سے مختلف ایک انسان ہے اور اس منفرد روش پر ہے جو ’’خالق اور مخلوق کے درست تعلق‘‘ کی نشاندہی رکھنے والےانسانوں کے ہاں زمین پر روزِ ازل سے چلا آیا ہےاور خاص آسمان سے نازل ہونے والی مستند راہنمائی کی روشنی میں متشکل ہوتا رہا ہے۔

پس اس سے پہلے کہ اسلام کوئی ’اعمال‘ کا مجموعہ ہو، یا کوئی ’ضابطۂ اخلاق‘ ہو یا کوئی ’سماجی نظام‘ ہو... اسلام ایک ’’عہد‘‘ کا نام ہے، قلب کے ’’اسیر‘‘ ہونے اور زندگی میں ایک ’’آئین‘‘ رکھنے کا نام ہے: ’’عہد‘‘ خدا کی بندگی کا، ’’اسیر‘‘ خدا کی تعظیم اور عبادت کا، اور ’’آئین‘‘ خدا کے اختیار کو تسلیم کرنے اور اس کے غیر کے ہر اختیار کو ناتسلیم کرنے کا؛ بذریعہ رسول کا لایا ہوا کلام اور ہدایت۔

البتہ چونکہ ’’خدا کے اختیار کو تسلیم کرنا اور غیرخدا کے اختیار کو ناتسلیم کرنا‘‘، بیک وقت، ماحول میں تبدیلی کا ایک اعلان بھی ہوتا ہے اور اجتماعی زندگی کے ایک باطل ڈھب کو مسترد کرکے اس کی جگہ پر آسمانی راہنمائی پہ قائم ایک سراسر مختلف نقشہ بھی سامنے لاتا ہے؛ لہٰذا اِس اعلانِ ’’لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ سے اگلے لمحے جس طرح ایک ’’نیا فرد‘‘ وجود میں آتا ہے عین اُسی طرح ایک ’’نئی اجتماعیت‘‘ جنم لے اٹھتی ہے۔ ایسا ’’فرد‘‘ غیرمتصور ہے جب تک اس سے یہ ’’اجتماعیت‘‘ ظہور نہ کرے۔ ایسی ’’اجتماعیت‘‘ غیرمتصور ہے جب تک وہ ایسے ’’فرد‘‘ پر کھڑی نہ ہو۔

پس اس لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے پیداکردہ ’’فرد‘‘ کا اجتماعی ظہور ہی ’’جماعت‘‘ کہلاتا ہے۔ چنانچہ احادیث میں ’’تارکِ دین‘‘ ہونے پر جیسی وعید ہے ویسی ہی وعید ’’مفارقِ جماعت‘‘ ہونے پر ہے؛ بلکہ اہل علم کا کہنا ہے یہ ایک ہی جرم اور ایک ہی وعید ہے، صرف اس کو بیان دو جہتوں سے کردیا گیا ہے۔[3]  یہاں سے سلف کے ہاں یہ مقولہ رائج ہو گیا: لَا إِسْلَامَ إِلَّا بِجَمَاعَةٍ وَلَا جَمَاعَةَ إِلَّا بِإِمَارَةٍ وَلَا إِمَارَةَ إِلَّا بِطَاعَةٍ[4] ’’اسلام کا کوئی تصور نہیں بغیر ایک جماعت (اکٹھ) بننے کے، جبکہ جماعت کا کوئی تصور نہیں بغیر ایک امیر کے، اور امارت کا کوئی تصور نہیں بغیر اطاعت کے‘‘۔ دراصل اسلام کا اپنے آئین پر قائم ایک ’’انسانی وحدت‘‘ (’’جماعت‘‘) رکھنا دین کی ایک ایسی بنیادی حقیقت ہے جس کو اگر آپ نظرانداز کرتے ہیں تو دین کے بہت سے ابواب اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ بلکہ وہ ابواب بھی جو بظاہر سمجھ آتے ہیں، اپنے مفہوم میں مبہم اور اسلام کی پوری تصویر کے لحاظ سے غیرمتعلقہ رہتے ہیں۔ ’’اولی الامر‘‘ کا ذکر جو سورۃ نساء کی اس آیت میں آرہا ہے دراصل ’’جماعت‘‘ کے اس مفہوم کو اجاگر کرتا ہے جس کے بغیر ’’اسلام‘‘ واقعتاً اعمال کے ایک بےجان مجموعہ کے علاوہ کوئی چیز نہیں رہ جاتا۔



[1]  ابن تیمیہ کے متن میں دیکھئے فصل اول، حاشیہ 2

[2]  حضرتعمر﷜ سے منسوب قول۔ الفاظ کی حد تک اِس میں سند کا ضعف پایا جا سکتا ہے۔ تاہم شریعت کی عمومی نصوص اور امہات الحقائق کی دلالت یہی ہے، اور اسی پر سلف تا خلف علمائے اہل سنت کا اتفاق، کہ ’’اسلام‘‘ ایسی عظیم الشان حقیقت بغیر ایک مضبوط ’’اجتماع‘‘ اور ’’وحدت‘‘ اور ’’جتھہ بندی‘‘ کے، زمینی عمل کے حق میں ایک غیرموثر و  ناتمام چیز ہے۔

[3] عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ ‘‘ (صحیح مسلم، رقم 1667) ’عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، کہا: فرمایا رسول اللہﷺ نے: لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دینے والے ایک مسلمان کے خون کی حرمت ساقط نہیں ہوتی مگر تین میں سے کسی ایک چیز کے بموجب: شادی شدہ زانی، جان کے بدلے جان، اور اپنے دین کا تارک جماعت کا مفارق‘‘۔ (تارکِ دین اور مفارقِ جماعت ہونے سے مراد ایک ہے یعنی مرتد ہونا)

[4]  جامع بیان العلم وفضلہٖ، مؤلفہ ابن عبدالبر، باب جامع فی فضل العلم، ج 1 ص 263 ۔ یہ قول حضرت عمر﷜ سے منسوب ہے جو آپؓ نے صحابہ کے بھرے مجمعے کے اندر اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا تھا۔ بعدازاں سلف تا خلف ایک مقولے کے طور پر رائج رہا۔  معنیٰ کے لحاظ سے خود احادیث ہی سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ ’’الجماعۃ‘‘ کے موضوع پر احادیث  ایک الگ تعلیق میں (آئندہ شمارہ)۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز