عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-01 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
’’المورد‘‘ کی ذمہ دار شخصیت بسلسلہ ’’پاکستان کی مذہبی بنیاد‘‘:
:عنوان

ایک ملک بنانے والی چیز کونسی ہے؟ وہ تنہا مذہب تھا۔ اس بنیاد کے اوپر پہلی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کا اقدام کرنا ہی نہیں چاہئے تھا۔ پہلی چیز یہ۔ (!!!)

. احوال :کیٹیگری
ادارہ :مصنف

’’المورد‘‘ کی ایک ذمہ دار شخصیت کے خیالات بسلسلہ ’’پاکستان کی مذہبی بنیاد‘‘:

چونکہ ’مذہب‘ کو بنیاد بنایا گیا تھا اس لئے:

 ’’میری تعمیر میں مضمر ہے اِک صورت خرابی کی‘‘!

سماع ٹی وی کا یہ پروگرام بہ عنوان ’’غامدی کے ساتھ‘‘مورخہ  27 دسمبر 2013 کو براڈکاسٹ ہوا۔ اس کا ابتدائی حصہ یہاں من و عن دیا جارہا ہے۔ ذیل میں[1]  اس پروگرام کا ویب لنک بھی دے دیا گیا ہے۔

ہمارے حالیہ شمارہ کا مرکزی موضوع چونکہ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ ہے، جس کی اصل بنیاد ہے ہی ’’دین‘‘ (جس کو غامدی صاحب اور ان کی ہوسٹ خاتون ’مذہب‘ کے نام سے ذکر فرماتے ہیں)... اور چونکہ ہمارے اِن مضامین میں جدید مغربی پیراڈائم سے متاثر ہونے والی اسلامی عقول کا جابجا ذکر ہے... لہٰذا اس کی ایک مثال قائل کے اپنے ہی الفاظ میں یہاں دے دی جانا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ البتہ ہے یہ محض ایک مثال؛ یہ ’’فکر‘‘ بڑی بڑی گندھی عبارتوں میں تقریباً روز ہی پیش کی جارہی ہوتی ہے۔ درمند اصحاب فی الوقت جیو کے ’’امن کی آشا‘‘ سے ہی پریشان رہتے ہیں، ان کو اگر المورد کے اِس فکری پراجیکٹ کی سنگینی معلوم ہو جس کو بیک وقت کئی کئی نشریاتی چینل میسر ہیں، اور جس کا ایک خاصا مرکزی نقطہ ہے ہی یہ کہ ملک کی بنیاد ’مذہب‘ نہیں ہوسکتا... تو ان کو اندازہ ہو کہ ’مذہب‘ کے نام پر بننے والے عالم اسلام کے اِس واحد ملک کو گرانے پر جو بیشمار پراجیکٹ مختلف جہتوں اور مختلف انداز سے اِس وقت سرگرمِ عمل ہیں ان میں خطرناک ترین پراجیکٹ شاید یہی ہو؛ کیونکہ مذہب کو مذہب کی دلیل سے ہی گرا دیا جائےتو وہ ملک جو اپنے وجود میں آنے کی بنیاد ہی ’مذہب‘ بتائے سو فیصد گر جاتا ہے۔

سقوطِ ڈھاکہ اور موجودہ ملکی حالات (سماع ٹی وی):

ہوسٹ خاتون :      السلام علیکم غامدی صاحب

غامدی صاحب:   وعلیکم السلام

خاتون:    غامدی صاحب ویسے تو بہت سارے فیکٹرز ہوں گے جن کی وجہ سے نوبت یہاں تک آئی  کہ انہوں نے علیحدگی کی بات کر دی۔ لیکن اگر ایک مین فیکٹر ہم کہیں جس کی وجہ سے نوبت  یہاں تک آئی تو وہ کیا وجہ تھی؟

غامدی صاحب:   میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ایک بڑی بنیادی چیز  جس کو کہتے ہیں نا:

؎   میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت  خرابی کی

وہ یہ تھی کہ ہم نے جودونوں خطوں کو ملانے کے لئے  وجہ بیان کی وہ مذہب تھا۔ مذہب بڑی مقدس چیز ہے۔  میرا نظریہ ہے، آپ کا نظریہ ہے ، ہم اس کے لئے جان دینے کے لئے بعض اوقات  تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن دنیا میں جینے کے لئے اور باہمی ربط قائم کرنے کے لئے  دنیا کی بعض تلخ حقیقتیں ہیں جن کا ادراک کرناچاہئے۔ 

یعنی جب آپ کسی قوم کے ساتھ معاملہ کر رہے ہوتے ہیں  تو جس طرح فرد اپنی ذاتی شناخت رکھتا ہے ہر قوم بھی اپنی ایک ذاتی شناخت رکھتی ہے۔ میں بحثیت فرد اپنی ذاتی شناخت  کو خدا کے سامنے سرنڈر کرتا ہوں۔  میں جب مذہب کو قبول کرتا ہوں  تو میں یہ مانتا ہوں کہ میرا ایک پروردگار ہے اور  مجھے اسکے ماتحت ہو کر رہنا ہے۔ مجھے اسکی حکومت اپنے اوپر تسلیم کرنی ہے۔  وہ میرا رب بھی ہے، میرا معبود بھی ہے اور میرا بادشاہ بھی ہے۔ لیکن یہ جو میری کیفیت ہے، یہ جو میرا   احساس ہے  یہ کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ اس کو قرآن مجید بیان کرتا ہے نا کہ ایمان کی کیفیتیں اوپر  بھی جاتی ہیں اور نیچے بھی جاتی ہیں۔[2]

خاتون: گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔

غامدی صاحب:   زندگی کی جو تلخ حقیقتیں ہیں وہ اپنی جگہ پر کھڑی رہتی  ہیں ۔ تو میری ذاتی شناخت  یہ جس طرح انفرادی زندگی میں  بنیادی کردار ادا کرتی ہے قوم بھی شناخت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔  وہ بنیادی کردار  زبان سے بھی  ادا ہوتا ہے، لباس سے بھی ، رہن سہن سے بھی، ملنے جلنے سے بھی، معاشرت، تہذیب، ثقافت کے بیشمار مظاہر ہیں  جو مل کر مجھے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔  ایک مظاہر بالکل کنکریٹ ہوتے ہیں، واقعی ہوتے ہیں ، یہ سامنے نظر آرہے ہوتے ہیں ، یعنی نظریاتی پہلو کبھی اوپر جاتا ہے کبھی نیچے جاتا ہے ۔

میری ایمان کی کیفیتیں کبھی اوپر ہوتی ہیں کبھی نیچے ہوتی ہیں ۔ ایک برتر چیز ہے کوئی شک نہیں، مذہب،  لیکن وہ میرے لئے جو بائنڈنگ فورس  کی حیثیت اختیار کرے  یہ ہر وقت ایک صورت میں کر نہیں سکتا۔  اس میں کسی بھی نظریے کو لے  لیجئے...

خاتون: ٹھیک اس میں اور چیزیں بھی آتی ہیں، اس میں کلچر بھی آتا ہے...

غامدی صاحب:   وہ چیزیں بنیادی ہوتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ  وہ میری ذاتی شناخت کا ذریعہ ہیں

خاتون:    حصہ ہیں

غامدی صاحب:   دیکھیں نا  میرا ایک وجود ہے ، میری کچھ جبلتیں ہیں۔ میں کھاتا ہوں ، میں پیتا ہوں ، میرے اندر جنس کے داعیات ہیں اور  بے شمار چیزیں ہیں  یہ تو ہر وقت موجود ہوتی ہیں نا۔ لیکن میں کسی فکر کو مانتا ہوں، کسی نظریئے کو مانتا ہوں ، میرا ایک نقطہ نظر ہے۔ نقطہ نظر استدلال پر مبنی ہو گا، شعور پر مبنی ہوگا۔  اس کی کیفیات بدلتی رہتی ہیں۔

خاتون: صحیح

غامدی صاحب:   یعنی جبلتیں اپنی  جگہ قائم رہتی ہیں  تو جبلی تقاضوں کی بنیاد پر  جو آپ کا رشتہ قائم ہوتا ہے یہ زیادہ قوی ہوتا ہے ہمیشہ۔ اس کو لوگ سمجھتے ہیں کہ  یہ کوئی اجنبی سی بات ہے لیکن  حقیقی بات یہی ہے۔ لہٰذا اس حقیقی بات کی بنیاد پر ہی آپ اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ مذہبی بنیاد آپ کے اندر ایک شعور اخوت پیدا کر سکتی ہے ۔ چنانچہ دیکھئے قرآن مجید میں  بڑی خوبصورت تعبیر اختیار کی ہے ۔ اس نے یہ نہیں کہا  انما المؤمنون قومٌ واحد: مسلمان ایک قوم ہیں۔ یعنی ان کی قومیت ایک ہے یہ نہیں کہا۔ انما المؤمنون اخوة : مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ تو مراکش میں رہتا ہوا آدمی میرا بھائی ہے مذہبی بنیاد پر، بنگلہ دیش میں رہتا ہوا آدمی بھی میرا بھائی ہے  لیکن جو میری  جو بنیادیں رشتے کو قائم کریں گی وہ مادی بنیادیں زیادہ حقیقی ہوں گی۔ یہ انسان کی فطرت ہے۔

  چنانچہ  پہلی چیز یہ ہے کہ ہم نے اس چیز کو نظر انداز کیا۔ ہمارے مقابلے میں اگر آپ دیکھیں  تو ہم ادھر پڑے ہوئے تھے ، شمال مغربی ہندستان میں وہ  بالکل مشرقی حصہ میں پڑے ہوئے تھے۔ انکا کلچر اور تھا ، ان کی تہذیب اور تھی ، انکے سوچنے کے انداز اور تھے ، انکا تعلیمی پس منظر اور تھا۔ بنگال کے لوگ سیاسی لحاظ سے ، تعلیمی لحاظ سے ہم سے بہت آگے تھے۔ ہمارے ہاں جاگیر دارانہ نظام تھا  انکے ہاں یہ چیز اس صورت میں موجود نہیں تھی ، یعنی اگر تھی بھی کہیں تو بہت کمزور تھی۔  اور بے شمار عوامل تھے جو ان کو ہماری شناخت سے  مختلف کر دیتے تھے۔ تو شناخت کی وہ بنیادیں جو بالکل  جبلی بنیادیں ہیں ، یعنی جو انسان کے وجود سے  پھوٹتی ہیں  ان میں اتنا زیادہ تفاوت کے ساتھ آپ کو  قریب لانے والی چیز کون سی ہے ؟ ایک ملک بنانے والی چیز کونسی ہے؟ وہ تنہا مذہب تھا۔

اس بنیاد کے اوپر پہلی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کا اقدام کرنا ہی نہیں چاہئے تھا۔ پہلی چیز یہ۔ لیکن جب  آپ نے کر لیا تو  پھر یہ ضروری تھا کہ ان بنیادوں کو مستحکم تر کیاجائے۔ جو حقیقی بنیادیں ہیں  ان کے درمیان اچھے رابطے پیدا کیے جائیں۔  اور وہ شناخت کی چیزیں  ہمیشہ ملحوظ رہیں کہ ہم ان کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔ چناچہ آپ دیکھئے کہ ان کے ہاں سب سے پہلا مسئلہ ان کی زبان سے پیدا ہوا۔  یعنی وہ ہم سے تعداد میں زیادہ تھے، اس کے باوجود جب ہم نے اس بات پر اسرار کیا کہ اردو ہماری قومی زبان ہو گی تو یہ کوئی حکیمانہ بات نہیں تھی۔  یعنی اپنی جگہ اس کے  بے شمار دلائل دئے جا سکتے ہیں  لیکن اس طرح در حقیقت آپ ایک جبلی تقاضے  کی نفی کر رہے ہیں۔ میری زبان میری شناخت ہے  جس طرح میرا چہرہ میری شناخت ہے ، میرا لباس میری شناخت ہے ، میرا خاندان میری شناخت ہے  بالکل اسی طرح میری زبان میری شناخت ہے۔  میں اپنی تہذیبی روایات کو کم تر ماننےکے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یعنی اس وقت دیکھیں نا دنیا پر مغربی تہذیب کا غلبہ ہے   اس کے باوجود میں یہ کہتا ہوں کہ میری شناخت میری تہذیب، میری ثقافت ، اس کی عزت ہونی چاہئے ہر حال میں۔ 

تو دوسری چیز  کیا بنی، زبان اور زبان کے بعد: ثقافت اور تہذیب کے مظاہر، رہن سہن کے طریقے۔  یہ چیزیں جو ہیں یہ بھی احترام کا تقاضا کرتی ہیں اب ان کو زیادہ احترام ملنا چاہیئے تھا اس کے بعد۔  پھر  حقوق، دیکھیں نا آپ کے سیاسی حقوق ہیں آپ کے معاشرتی  حقوق ہیں  ہم اس وقت جس دنیا میں جی رہے ہیں یہ بادشاہی زمانے کی دنیا نہیں ہے۔  اس کے اندر یہ نہیں ہے کہ ایک بار بادشاہ سلامت  آ گئے ہیں تو اس کے بعد آپ بزور لوگوں کو ایک قاعدے کے اندر رکھیں گے۔ ان کا سیاسی شعور ہم سے بہتر تھا۔ اس کا وہ اظہار کرتے تھے۔  اس سیاسی شعور کے تقاضوں کے ساتھ ہم ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔   اس وجہ سے ایک برتری کا احساس ان کے اندر پیدا ہوا کہ یہ لوگ غالبا ہم پر حکومت کر رہے ہیں۔  اس کو آپ مذہب کا نام دیں کسی اور چیز کا نام دیں  عام طور پر انسان اس کو قبول نہیں کرتا۔ یعنی اگر آپ مذہب کے لحاظ سے بھی غور کریں تو سوال یہ ہے کہ مغربی پاکستان کے لوگوں کو کوئی مذہبی برتری حاصل تھی۔  وہ بھی مسلمان ہی تھے۔

خاتون:    غامدی صاحب مذہب بھی تو  کہتا ہے کہ آپ equality قائم کریں ۔ اگر صرف ہم مذہب کی ہی  بات لے لیں تو مذہب بھی یہ سب کچھ کہتا ہے۔ جس کی ہم بات کر رہے ہیں جدید  دور کے لحاظ سے۔

غامدی صاحب:   مذہب تو دراصل انہی چیزوں کی تبلیغ کرے گا  نا، وہ یہ کہے گا آپ دوسروں کے حقوق ادا کریں۔  دیکھیں مذہب نے جب سیاست پر گفتگو کی ہے تو قرآن مجید نے سیاسی قانون بیان  کرنے سے پہلے کیا کہا؟  پہلے یہ کہا:  أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إلَى أَهْلِهَا۔ یعنی آپ یہ نظام  میرٹ پر قائم کریں گے۔ پہلی بات یہی کہی۔ تو اگر میرٹ کہیں مجروح ہو جائے گا کسی بھی طرح  تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جبلی تقاضے  احتجاج کریں گے ۔ انسان اپنی شناخت کو مجروح محسوس کرے گا۔ جو سبق ہمیں اس سے حاصل ہوتا ہے وہ سبق یہی ہے کہ انسان جیسے کہ وہ ہے پہلے اس کو پہچاننا چاہئے۔  اسکے ساتھ اپنے کوئی معاملہ کرنا ہے ، دو آدمی مل کر کوئی کاروبار کریں ، کوئی گھر بنائیں ، چند آدمی  مل کر کوئی ادارہ بنائیں  اسکے اندر محض یہ بات کافی نہیں ہے کہ آپ کا مذہب ایک ہے۔  وہ مقاصد کیا ہیں؟ کیسے اکٹھے ہوئے ہو؟  کیا آپ کے جبلی تقاضے  ایک جگہ پر آگئے ہیں؟  ان کے درمیا ن کوئی مساوات قائم ہو گئی ہے؟  آپ کے مفادات مجتمع ہو گئے ہیں  ؟ آپ کی سیاسی امنگیں مجتمع ہو گئی ہیں؟ یہ چیزیں دیکھنا ضروری  ہیں۔



[2]   گویا اسلامی ریاست ’مذہبی اپیلوں‘ سے چلتی ہے! (’مذہبی چندوں‘ کی طرح؛ جن کا کچھ پتہ نہیں گھٹ جائیں یا بڑھ جائیں!) پس ثابت ہوا کہ ’مذہب‘ ریاست کی بنیاد نہیں ہوسکتا! اس پر ہم ابن تیمیہ کی ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کی دوسری فصل (جو آئندہ شمارہ میں آرہی ہے) کے تحت تعلیق میں کچھ بات کریں گے، یہاں ہم ساتویں صدی ہجری کے ایک عالم کی ایک مختصر عبارت شیئر کریں گے جو انہوں نے خلافتِ عباسیہ کی بابت دی ہے اور جس سے معلوم ہوگا کہ ’’ریاست‘‘ ایسی سنجیدہ حقیقتیں ہمارے ہاں کیسے دیکھی گئی ہیں:

واعلم- علمت الخير- أنّ هذه دولة من كبار الدّول، ساست العالمَ سياسةً ممزوجةً بالدّين والملك، فكان أخيارُ الناس وصلحاؤهم يطيعونها تديُّناً، والباقون يطيعونها رهبةً أو رغبةً، ثمّ مكثت فيها الخلافة والملك حدود ستمائة سنة

(الفخری فی الأحکام السلطانیۃ والدول الإسلامیۃ، مولفہ محمد بن علی بن طباطبا۔ طبع دار صادر۔ بیروت۔ صفحۃ 140۔ ویب لنک: http://ia601207.us.archive.org/11/items/faadsufaadsu/faadsu.pdf )

جان لو، خدا تمہیں خیر سمجھنے کی توفیق دے، یہ (خلافتِ عباسیہ) نہایت عظیم ریاستوں میں سے ایک ریاست رہی ہے جو اپنی سیاست سے پورے جہان کو چلاتی رہی ہے۔ اس کی سیاست دین اور بادشاہت کا امتزاج تھی؛ جس کا نتیجہ یہ کہ لوگوں میں سے نیکوکار اور صالحین تو اس کی اطاعت کرتے تھے دین اور عبادت سمجھ کر، جبکہ باقی لوگ اس کی اطاعت کرتے کوئی خوف سے تو کوئی طمع سے۔ خلافت اور بادشاہت اس کے ہاں لگ بھگ چھ سو سال چلی۔

’’ایمان کے گھٹنے بڑھنے‘‘ کے مسئلہ سے ’’ریاست‘‘ کے مسئلہ پر دلیل پکڑ کر واقعتاً ان صاحب نے کمال کردیا ہے! ’’جدید ریاست‘‘ کو بھی سمجھا ہوتا تو یہ ’دلیل‘ نہ دیتے۔ یہاں ’’دین‘‘ تو پھر لوگوں کو جوڑنے کی کوئی بنیاد ہے (بلکہ قوی ترین بنیاد ہے) جدید ریاست تو کسی بھی بنیاد کے بغیر لوگوں کو جوڑ تی ہے اور ایک اٹوٹ مملکت کھڑی کرکے دکھا دیتی ہے۔ (مزید دیکھئے اِس شمارہ میں ہماری گفتگو بہ عنوان ’’جبر ایک انسانی ضرورت اور صلاح و فساد کا میدان‘‘) حیرت کی بات ہے، اِس سلسلہ میں ان کو ’’بھارت‘‘ ایسا چوں چوں کا مربّہ نظر نہیں آیا، پنجابی اور بنگالی کو ’’اسلام‘‘ کے رشتے سے جوڑنے پر اعتراض ہوا ہے۔ ’’دین‘‘ تو (جس کو یہ صاحب ’مذہب‘ کہنا پسند کرتے ہیں) ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے کہ ریاستی سطح پر اس کے کم از کم تقاضے بھی پورے کر لیے جائیں تو اس کے مقابلے کا کوئی رشتہ نہیں۔ ہاں ’مذہب‘ کے نام پر ملک بنا کر خود ہی ’مذہب‘ کی خاک اڑائیں اور بدترین گوورننس  the most shameful sort of  governance    دیں تو جس چیز کو مرضی توڑ لیں!

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
کشمیر کےلیے چند کلمات
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
قاضی حسین احمدکی وفات پر امارت اسلامی افغانستان کاتعزیتی پیغام
احوال- امت اسلام
ادارہ
قاضی حسین احمدکی وفات پر امارت اسلامی افغانستان کاتعزیتی پیغام  جمع و ترتیب: محمد احمد    ۔۔۔
قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت
احوال- امت اسلام
ادارہ
ایرانی اہل السنۃ کی آفیشل ویب سائٹ: قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت جمع و ترتیب: محمد احمد    ۔۔۔
مذہبی سیاسی جماعتیں: "اتحاد" سے پہلے ایک "مضبوط کیس" رکھنے کی ضرورت
احوال- تبصرہ و تجزیہ
حامد كمال الدين
مذہبی سیاسی جماعتیں: "اتحاد" سے پہلے ایک "مضبوط کیس" رکھنے کی ضرورت مذہبی جماعتوں کا سیاسی اتحاد خوش۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز